51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 51:24–46

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی جب وہ اس کے پاس آئے۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

پھر انہوں نے سلام کیا۔ اس نے بھی سلام کا جواب دیا۔ وہ سمجھا کہ یہ کچھ اجنبی (مسافر) ہیں۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر ابراہیم خاموشی سے اپنے گھر گئے اور بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر اس کو (مہمانوں کے) سامنے رکھا اور کہا کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پھر ابراہیم نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا اور وہ (اجنبی مہمان یعنی فرشتے) کہنے لگے کہ آپ نہ ڈریئے اور انہوں نے ان کو ایک بیٹے کی خوش خبری سنائی جو بڑا عالم ہوگا۔

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

ابراہیم کیب یوی (حیرت سے چیختی ) آئی اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ کیا میں بڑھیا اور بانجھ (اولاد جنوں گی)

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

ان (فرشتوں نے) کہا کہ آپ کے رب نے اسی طرح فرمایا ہے۔ بیشک وہی علم و حکمت والا ہے۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

(پھر (ابراہیم نے) پوچھا کہ اے فرشتو ! کیا معاملہ درپیش ہے۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم (گناہ گار، نافرمان) قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ہم ان مجرموں پر پکی مٹی کے کنکر برسائیں۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

آپ کے رب کی طرف سے حد سے نکل جانے والوں کے لئے (ان کنکروں پر) خاص نشانات پڑے ہوئے ہیں۔

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر ہم نے (قوم لوط کی) اس بستی میں سے جو ایمان لے آئے تھے ان سب کو نکال لیا۔

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی اور گھر پایا ہی نہیں۔

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

ہم نے ان (تباہ حال بستیوں) میں ایسے لوگوں کے لئے نشانی چھوڑی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب موسیٰ کو ہم نے فرعون کی طرف کھلے ہوئے معجزے کے ساتھ بھیجا۔

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے (فرعون نے) اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اس سے منہ پھیرا اور کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (فرعون) کو اور اس کے لشکر کو پکڑا اور اس کو دریا میں غرق کردیا اور اس نے کام ہی ملامت کے کئے تھے

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد (کے واقعہ میں بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پر ایک ایسی آندھی بھیجی جو ان کے لئے کوئی اچھی چیز نہ تھی۔

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ آندھی جس چیز پر سے گذرتی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیتی تھی

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود (کے واقعہ میں بھی سامان عبرت ہے) جب ان سے کہا گیا کہ تم چند روز تک اور فائدہ اٹھا لو۔

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پھر انہوں نے (اس کے باوجود) اپنے رب کی نافرمانی کی۔ پھر ان کو (اچانک) ایک ہولناک کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر وہ نہ تو کھڑے ہو سکے اور نہ آپ اپنی مدد کر سکے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی (ہم ہلاک کرچکے تھے) کیونکہ وہ بھی بڑی فاسق وفا جر قوم تھی۔

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ، حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت لوط اور ان کی نافرمان قوموں کے بدترین انجام خصوصاً قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ (1) حضرت ابراہیم کے واقعہ کی تفصیل اس سے پہلے سورة حجر میں گذر چکی ہے یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت ابراہیم کے واقعہ کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے پاس کچھ اجنبی مہمان آئے۔ حضرت ابراہیم نہایت آہستگی سے اٹھے اور گھر میں گئے اور ان کو جو چیز یعنی بچھڑا میسر تھا اس کو ذبح کر کے اور بھون کر مہمانوں کے پاس لے آئے۔ حضرت ابراہیم نے ان سے کہا کہ جو کچھ حاضر ہے اس کو کھائیے۔ حضرت ابراہیم نے محسوس کیا کہ اصرار کے باوجود انہوں نے نہیں کھایا۔ قبائلی زندگی میں کسی اجنبی مسافر کا کھانے سے پرہیز اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ جو مہمان آیا ہے وہ کسی اچھے ارادے سے نہیں آیا۔ جب مہمانوں نے حضرت ابراہیم کے اس خوف کو محسوس کیا تو انہوں نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے عرض کیا اے ابراہیم ! اللہ کی طرف سے ایک مجرم قوم (یعنی قوم لوط) کیط رف بھیجے گئے فرشتے ہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ہم اللہ کی طرف سے آپ کو ایک بیٹے کی خوشخبری دینے کے لئے بھی بھیجے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی سورة ہود اور سورة حجر میں تفصیل سے عرض کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنے آبائی ملک عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی تو اس وقت آپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط تھے۔ بعد میں حضرت ہاجرہ سے آپ کا نکاح ہوا۔ حضرت ہاجرہ سے حضرت اسماعیل پیدا ہوئے مگر اس وقت تک حضرت سارہ کے بطن سے کوئی اولاد نہ ہو ہوئی تھی۔ جب یہ فرشتے انسانی شکل میں آئے اس وقت اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم کی عمر ایک سو سال اور حضرت سارہ نوے سال کی تھیں۔ فرشتوں کی زبان سے یہ سن کر اولاد کی تمنا میں بوڑھی ہوجانے والی حضرت سارہ حیران و پریشان رہ گئیں اور انہوں نے حیرت سے چلا کر پوچھا کہ میں جب کہ بوڑھی ہوچکی ہوں اور بانجھ بھی ہوں میرے گھر اولاد کیسے ہوگی ؟ فرشتوں نے عرض کیا اس میں تعجب اور پریشان ہونے کوئی باتن ہیں ہے کیونکہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے جو ہم نے آپ تک پہنچا دیا ہے۔ اسی طرح ان فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق کیپ یدائش کی خوش خبری دی۔ حضرت ابراہیم نے پوچھا کہ اب تمہارا کیا ارادہ ہے۔ (فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم ان پر کنکر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے رب نے حد سے بڑھ جانے والے مجرموں کے کنکروں پر خاص نشان ڈال دیئے ہیں۔ حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ فرشتے حضرت لوط کی قوم کو تباہ کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے قوم لوط پر عذاب کا حال سن کر فرمایا کہ وہاں تو لوط بھی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ہمیں حکم ہے کہ ہم ان کو اور مومنوں کو بچا لیں۔ یہ بھی بتایا چونکہ ان کی بیوی کافرہ ہے اور کفار کا ساتھ دیتی رہی ہے لہٰذا اس کے علاوہ سب کی نجات کا حکم دیا گیا۔ چناچہ حضرت لوط جن کا گھرانہ مومن گھرانہ تھا اس کو اور اہل ایمان کو بچالیا بقیہ ساری قوم کو تباہ و برباد کردیا گیا ۔ اس اللہ نے ان بستیوں اور وہاں کے رہنے والوں کو نشات عبرت بنا دیا۔ بحرمر وار (Dead Sea) جس کا جنوبی علاقہ اس تباہی و بربادی کا منہ بولتا ثبوت آج بھی موجود ہے۔ (2) حضرت لوط کی نافرمان اور مجرم قوم کے بدترین انجام کے بعد حضرت موسیٰ کی اس جدوجہد کا ذکر فرمایا گیا ہے جب انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان کی بات سننے کے بجائے ان کو جادو گر اور دیوانہ قرار دے کر ان کی قوتوں کی توہین کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو سمندر میں اس طرح غرق کردیا کہ آج فرعون کے بدن کے سوا کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ وہ فرعون جس کا جسم بھی ہر نافرمان قوم اور اس کے سربراہوں کے لئے نشان عبرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو بچا لیا جو حضرت موسیٰ کی دعوت پر ایمان لا چکے تھے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے قوم عار کا ذکر فرمایا جن کی اصلاح کے لئے حضرت ہود کو بھیجا گیا تھا۔ قوم عاد دنیا کی ترقی یافتہ اور مال دار رقم تھی جس نے سینکڑوں سال تک دنیا پر حکومت کی تھی لیکن جب ان کا کفر و شرک اور ظلم و زیادتی بڑھتی ہی لچی گئی تو ان پر ا لہ کا عذاب آیا اور ان کو اس طرح تیز آندھی سے تباہ و برباد کردیا گیا کہ آج ان کا وجود تک منٹ چکا ہے وہ ایسی خطرناک اور زبردست آندھی تھی کہ جس چیز سے گذرتی تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کردیتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کو بچا لیا۔ (4) قوم ثمود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان کی اصلاح کے لئے بہت سے انبیاء کرام کو بھیجا گیا مگر یہ قوم اپنی ترقیات اور مال و دولت اور اونچی اونچی بلڈنگوں میں ایسی بدمست ہوچکی تھی کہ انہوں نے اللہ کے پیغمبروں کی بات تک سننے سے انکار کردیا اور آخر کار اللہ کا عذاب ایک ہیبت ناک آواز کی صورت میں ظاہر ہوا اس طرح کہ وہ قوم اپنے گھروں میں اوندھی پڑی رہ گئی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے۔ (5) حضرت نوح جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اللہ کے دین کی طرف بلانے کی جدوجہد فرمائی۔ نافرمان قوم کو اپنی سرکشی ظلم و زیادتی اور کفر و شرک سے بچنے کی تلقین کی مگر اس قوم نے ان کی ایک بات نہ مانی۔ آخر کار اللہ نے حضرت نوح کو ایک کشتی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ ایک مقررہ وقت پر آپ اپنے اہل خانہ ایمان لانے والوں اور جانوروں کے ایک ایک جوڑے کو لے کر اس کشتی میں سوار ہوجائیے۔ چناچہ ایسا زبردست پانی کا طوفان آیا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ لینے والے بھی اس طوفان سے نہ بچ سکے۔ صرف وہی تین سو تیرہ اہل ایمان بچ سکے جو حضرت نوح کی اس کشتی میں سوار تھے۔ ان تمام واقعات کو بیان کرنے کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب خواہ وہ اس زمانہ کے اہل مکہ ہوں یا قیامت تک آنے والے انسان ہوں وہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ال لہ کا یہ دستور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا جب بھی دنیا میں کفر و شرک اور ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے گی اور نافرمان توبہ نہ کریں گے تو اللہ کا عذاب ان کی طرف متوجہ ہو کر رہے گا اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔
Ayahs 51:47–55

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمان کو ہم نے اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور بیشک ہم بڑی وسیع قدرت رکھنے والے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور ہم نے ہی زمین کو بچھایا ہے اور (دیکھو) وہ کیا اچھا بچھانے والا ہے

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا ہے تاکہ تم دھیان دے سکو۔

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پھر تم اللہ ہی کی طرف دوڑو اور (اے نبی ﷺ آپ کو دیجیے کہ) بیشک میں تمہیں (تمہارے برے اعمال کے بدترین نتائج سے) صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہ بنائو۔ (آپ کہہ دیجیے) بیشک میں تمہارے لئے اللہ کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جس طرح یہ لوگ آپ کو (برا بھلا کہتے ہیں) اسی طرح اس سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں نے ہر آنے والے رسول کو جادو گر اور مجنون کہا ہے۔

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا یہ ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آ رہے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ سرکش و نافرمان ہیں۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پھر آپ ان سے بےرخی اختیار کیجیے (یعنی پرواہ نہ کیجیے) آپ پر اس کا کوئی الزام نہیں ہے۔

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور آپ لوگوں کو (حق و صداقت کی بات) سمجھاتے رہیے کیونکہ آپ کا سمجھانا مومنوں کو نفع دے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری قدرت کے بیشمار نمونے موجود ہیں اس میں انسانوں کے لئے راحت و آرام کے ہر طرح کے اسباب پیدا کئے گئے ہیں۔ نر اور مادہ، مرد اور عورت، مثبت اور منفی ہر طرح کے جوڑے بنا کر اس تخلیق کی تکمیل کر رہے ہیں تاکہ قیامت تک اس کائنات کا پھیلائو بڑھتا ہی چلا جائے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ ایک آدمی کائنات کی سچائیوں پر غور و فکر کر کے اس کائنات کے مالک پر ایمان لے آئے۔ فرمایا اے لوگو ! ایسے خالق ومالک اللہ ہی کی طرف دوڑو یعنی تمہاری زندگی کی دوڑ صرف دنیا ہی تک نہ ہو بلکہ توبہ کر کے اللہ کی طرف آ جائو۔ حضرت ابن عباس نے اس جملے کا مطلب یہی بتایا ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگ کر اسی ایک خالق ومالک اللہ کی طرف دوڑو۔ حضرت ابوبکر و راق اور حضرت جنید بغدادی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ نفس و شیطان گناہوں کی طرف دعوت دے کر آدمی کو بہکاتے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ شیطان سے بچ کر اللہ کی پناہ حاصل کرلے تاکہ اللہ اس کو ہر ایک شر سے بچا لے۔ (قرطبی) نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تمہیں اللہ کے عذاب سے اگٓاہ کردیا ہے اور کھول کھول کر یہ بتا دیا ہے کہ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ دوسرے معبود نہ گھڑو۔ یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ برسوں سے اپنے غلط عقیدوں پر چمٹے ہوئے لوگوں سے آپ یہ فرما دیں کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کریں۔ اس کے ساتھ اس کی ذات اور صفات میں کسی کو کسی طرح شریک نہ کریں اس پر وہ آپ کو ستائیں گے اور جس طرح آپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کو جادوگر اور دیوانہ کہتے تھے آپ کو بھی اسی طرح کہیں گے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے جس طرح آپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کو جادوگر اور دیوانہ کہتے تھے آپ کو بھی اسی طرح کہیں گے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ کفار اور گذرے ہوئے نافرمان لوگوں کی ذہنیت ایک جیسی ہے گویا وہ ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سب کھچ اس لئے ہے کہ وہ اللہ کے نافرمان ہیں آپ ایسے لوگوں کی پرواہ نہ کیجیے۔ ان نادانوں سے اپنے آپ کو الگ رکھئے اور آپ ان کی باتوں پر کسی طرح کا رنج و غم نہ کیجیے آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اللہ کا دین ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش اور جدوجہد کرتے رہیے۔ اس سے فائدہ تو وہی اٹھائیں گے جو اہل ایمان ہیں۔ کفار و مشرکین کی یہ بدنصیبی ہے کہ وہ ہر سچائی کو جان بوجھ کر ٹھکراتے ہی رہیں گے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے یہ فرما رہے ہیں کہ اگر آپ نے ان کی باتوں پر دھیان دیا اور مایوس ہو گئیت و اس سے ان کفار کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ اہل ایمان جو فرماں برداری میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ مایوس ہوجائیں گے لہٰذا آپ اپنے مقصد اور مشن کو اسی طرح جاری رکھئے۔
Ayahs 51:56–60

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنات اور انسانوں کو سوائے اپنی عبادت کے اور کسی چیز کے لئے پیدا نہیں کیا۔

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

نہ میں ان سے رزق کی خواہش کرتا ہوں اور نہ میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلایا کریں۔

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بیشک اللہ بہت رزق دینے والا ہے اور زبردست طاقت و قوت والا ہے۔

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

ان ظالموں کے لئے بھی سزا مقرر ہے جس طرح ان سے پہلے گناہگاروں کے لئے مقرر تھی تو آپ (ان پر عذاب آنے کی) جلدی نہ کریں۔

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

پھر ان کافروں کے لئے اس دن بڑی خرابی ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 60 ما ارید میں نہیں چاہتا۔ یطعمون وہ کھلاتے ہیں۔ ذنوب پانی کا ڈول۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 60 انسانوں کی طرح جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر ایک مخلوق کا دائرہ عمل اپنا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن جنات اور مومن انسانوں کی پیدئاش کا بنیادی مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور سا کے ساتھ کسی کو سکی طرح شریک نہ کریں۔ عبادت یہ ہے کہ اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ اور بندوں کے تمام حقوق کو احسن طریقے سے پورا کیا کریں۔ نہ حقوق اللہ میں کمی کریں نہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے تمام احکامات کی پابندی کریں، اس کے سوا کسی کے سامنے اپنی پیشانی کو نہ جھکائیں، کسی دوسرے کے لئے بھوکے نہ رہیں، اس کے سوا کسی اور کے نام کی نذر و نیاز نہ کریں۔ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ کو سمجھیں اس کے سوا کسی کو نفع نقصان کا مالک نہ سمجھیں۔ اللہ کے سوا کسی سے مدد طلب نہ کری۔ دعا کے لئے صرف اسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ اسی بےنیاز ذات کو ساری کائنات کا خلاق ومالک سمجھیں وغیرہ وغیرہ۔ بندوں کے حقوق یہ ہیں کہ ایک دوسرے پر جتنے حقوق ہیں ان کو احسن طریقے پر بجا لائیں، اولاد پر والدین کے حقوق ہیں اسیر طح والدین پر اپنی اولاد کو بہترین تربیت کے ذریعہ ان کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا اور معاشرہ کا بہترین فرد بنانا بیوی بھائی بہن رشتہ دار اور غریبوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور اللہ نے جو ان کے حقوق مقرر کئے ہیں ان کو ادا کرنا۔ اگرچہ حقوق انسان کی تو ایک طویل فہرست ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے بندوں کے تمام حقوق ادا کرنا عبادت و بندگی ہے۔ کسی کے حق میں کمی نہ کرنا یہی کمال بندگی ہے۔ جنات اور انسانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے یہ سب کچھ تمہیں عطا کیا ہے جو تمہارے فائدے کے لئے ہے۔ اللہ تو ہر چیز سے بےنیاز ہے ساری مخلوق بھی اس کی بندگی چھوڑ دے تو اس کی کائنات میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر اللہ ہی ان سے رخ پھیر لے تو وہ ہر سعادت سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ فرمایا کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہر گناہ گار اور خطا کار کو سزا دے کر رہتا ہے۔ جب اللہ کی نافرمانیاں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو پھر ظالم قوم پر اللہ کا عذاب آ کر رہتا ہے۔ یہ اس کا ایسا قانون ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ آپ کفار کے لئے کسی عذاب کی جلدی نہ کیجیے کیونکہ ظالموں کے لئے اللہ نے ایک دن مقرر کر رکھا ہے اور جب وہ دن آجائے گا تو یہ اپنے برے انجام سے نہ بچ سکیں گے اور وہ دن کفار و منکرین کے لئے بڑا ہیبت ناک ہوگا۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین