42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 42:30–43

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور تمہیں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ اور بہت سی خطائوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں بھاگ کر اس کو بےبس نہیں کرسکتے اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی حمایتی ہے اور نہ مدد گار

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے وہ جہاز ہیں جو پہاڑ کی طرح بلند نظر آتے ہیں

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے۔ تو ٹھہرا دے اور وہ جہاز سمندر کی پیٹھ پر کھڑے رہ جائیں ۔ بیشک اس میں ہر صبر اور شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا اگر وہ چاہے تو جہاز والوں کے اعمال کی وجہ سے ان جہازوں کو تباہ کر دے اور بہت سے آدمیوں سے در گزر کرے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں جھگڑے پیدا کرتے ہیں ان کے بھاگنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ محض دنیاوی زندگی میں برتنے کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر اور باقی رہنے والا ہے ۔ وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لے آئے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو وہ خطاء کرنے والے کو معاف کردیتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے ، نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا ہر کام باہمی مشورے کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

برائی کا بدلہ اسی برائی جیسا ہے پھر جس نے در گزر کیا اور آپس میں صلح صفائی کرلی تو اس کا اجر وثواب اللہ کے ذمے ہے۔ بیشک وہ ظالم ( زیادتی کرنے والوں) کو پسند نہیں کرتا ۔

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو اپنے اوپر ظلم کیے جانے کے بعد مناسب بدلہ لیتا ہے تو اس پر کوئی الزام نہیں ہے

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے اور ملک میں ناحق شرارتیں کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب ہے

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور بیشک جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو یقینا یہ بڑے عزم و حوصلے کی بات ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ ہمیں جو بھی مشکل پریشانی یا مصیبت پہنچتی ہے اس کے پیچھے یا تو نیت کی خرابی ، کوتاہی ، غفلت ، گناہ اور بےعملی ہوتی ہے یا دین اسلام کی سربلندی ، اس کے فروغ کی جدوجہد اور پر خلوص ایثارکا جذبہ ہوتا ہے ۔ اگر ایمان ، عمل صالح ، تقویٰ ، پرہیز گاری اور دیانت و امانت کی وجہ سے مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ ایک مومن کے گناہوں کا کفار ہ ، درجات اور آخرت کی کامیابی کا سبب بن جاتی ہیں لیکن اگر محض دنیاوی لالچ ، خود غرضی ، دنیاپسندی اور گناہوں کی وجہ سے مصائب آتے ہیں تو یہ ان کے اعمال کی سزا ہوتی ہے۔ کبھی تو اس کی سزا دنیا میں مل جاتی ہے لیکن آخرت میں تو یقینی سزا ہے۔ حضرت حسن بصری ؓ سے روایت ہے کہ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس شخص کو کوئی لکڑی کی خراش لگتی ہے یا اس کی رگ پھڑکتی ہے یا اس کے قدموں میں لغزش پیدا ہوتی ہے تو یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے ( یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ) وہ ہر گناہ پر اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ جو گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہوتے ہیں جن پر سزا دی جاتی ہے۔ ہمارا دین ہمیں عمل ، حسن عمل اور جدوجہد سے نہیں روکتا بلکہ اس بات کو ذہنوں میں بٹھانا چاہتا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے لئے اللہ نے ایسے قوانین مرتب کردیئے ہیں جن کو اپنانے سے کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی سخت ناکامی مثلاً آدمی رزق تلاش کرنے کے لئے سمندر کے سینے کو چاک کرتا ہوا اس میں جہاز اور کشتیاں چلاتا ہے ، سڑکوں پر دوڑتا اور ہواؤں کے دوش پر اڑا پھرتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا ہے کہ اللہ نے قوانین فطرت کو اس کے لئے مسخر کردیا ہے اور فضاؤں کو ہواؤں کو اس کا تابع بنا دیا ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو ان ہواؤں اور فضاؤں کو روک دیتا جس سے آدمی کی ساری کوششیں اور بھاگ دوڑ دھری کی دھری رہ جاتیں اور وہ دو قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یہ پورا نظام کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جب اور جیسے چاہتا ہے اپنے نظام کو چلاتا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والوں کو کبھی راحت و آرام ملتا ہے کبھی تکلیفیں اور مشکلات ، کبھی صحت و تندرستی اور کبھی بیماری آزادی ، کبھی خوش حالی اور کبھی بد حالی اور فقر و فاقہ ۔ پوری جدوجہد اور کوششوں کے باوجود کبھی کبھی نتیجہ بالکل الٹا نکلتا ہے کیونکہ ہر چیز کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور بہتر لوگ وہ ہیں جو ہر حال میں صبر و شکر کا دامن تھامے رہتے ہیں ۔ انہیں اس بات پر پورا یقین و اطمینان ہوتا ہے کہ بیشک جدوجہد اور کوشش کرنا آدمی کا کام ہے لیکن اس کا بہتر یا بدتر نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی اور اس کے اسباب محض وقتی ، عارضی اور زندگی گزارنے کا ذریعہ ہیں لیکن اصل زندگی اور کامیابی آخرت کی زندگی ہے۔ یہی وہ حقیقی جذبہ ہے جس سے اس کو سکون وقلب کی دولت نصیب ہوتی و ہے اور اس انقلابی فکر سے اس کو صاف ستھری نکری ہوئی شخصیت ابھر کر دنیا کے سامنے آتی ہے۔ تکبر ، غرور ، ظلم ، سرکشی ، ضد اور ہٹ دھرمی کی بجائے اس میں تواضع ، انکساری اور عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے اجتماعی معاملات میں دوسروں کے مشوروں سے فائدے حاصل کرتا ہے اور وہ اپنی رائے اور شخصیت کے رعب کو دوسروں پر ٹھونسنے کے بجائے لوگوں سے بہتر سلوک کو رواج دیتا ہے ۔ وہ دوسروں کے حقوق چھیننے کے بجائے دوسروں کے حقوق کا محافظ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک چونکہ اس طرح کے لوگ پسندیدہ شخصیات ہیں اس لئے ان کی چند خصوصیات بتائی گئی ہیں مثلاً (1) وہ اللہ سے اپنی امیدوں کے پورا ہونے کی توقع کر کے صرف اس کی ذات پر مکمل بھروسہ ، اعتماد اور توکل اختیار کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک ترقی ، عزت اور سر بلندی دینے والا اللہ ہوتا ہے اور وہی ان کی مشکل کشائی کرتا ہے۔ (2) وہ صغیرہ ، کبیرہ ، ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی بےحیائی اور گناہ کے کاموں کے قریب جانے سے گھبراتے ہیں۔ (3) جب ان کو کسی بات پر غصہ اور طیش آجاتا ہے تو اپنے اوپر قابو رکھتے ہوئے اور اس کا بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود وہ انتقام نہیں لیتے بلکہ اپنی عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں۔ (4) انہیں جب بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے کوئی حکم پہنچتا ہے وہ ان کے مزاج اور حالات کے مطابق ہو یا نہ ہو تو وہ اس کے کرنے میں بےتابا نہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں وہ حکم کی تعمیل میں کسی سستی ، کاہلی یا بےعملی کو قریب نہیں آنے دیتے۔ (5) وہ ” قیام صلوٰۃ “ کا حق ادا کرنے کے لئے نمازوں کے فرائض ، واجبات ، سنتوں اور مستحب باتوں کا پورا اہتمام کرتے ہیں۔ (6) آپس کے اجتماعی معاملات میں وہ ہمیشہ ” باہمی مشورہ “ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور مشورہ کے بعد جو بھی فیصلہ ہوجائے خواہ ان کی رائے کے بر خلاف ہی کیوں نہ ہو تو وہ اس پر عمل کرنے کے لئے تن ، من اور دھن سے پر خلوص جدوجہد کرتے ہیں ۔ ’ ’ مشاورت “ دراصل اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے جس کے احادیث میں بہت فضائل آئے ہیں اور جب تک اہل ایمان نے باہمی مشورے کا طریقہ اختیار کیا اس وقت تک وہ زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھتے چلے گئے اور کامیابیاں ان کے قدم چومتی رہیں لیکن جب ہم نے اس طرز زندگی کو چھوڑ دیا تو ہم میں سے ہر شخص اپنی رائے کو اجتماعی مفادات سے زیادہ بلند سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہوگیا اور ملت کا شیرازہ بکھر گیا اور زندگی کے معاملات کا فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جن کی زندگیاں نیکی اور تقویٰ سے خالی ہوتی ہیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بعض مرتبہ ایسے معاملات اور امور پیش آجاتے ہیں کہ ان کا کوئی حکم قرآن کریم میں نہیں ہوتا ( اس وقت ہم کیا کریں) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو میری امت میں سے عبادت گزار بندوں کو جمع کر کے مشورہ کرلینا اور اس پر عمل کرنا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی ایک ایسی ہی روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اہل عقل سے مشورہ کرلیا کرو تم راہ پا جائو گے اور مشورے سے جو بات طے پا جائے اس کی مخالفت نہ کرو ورنہ ندامت و شرمندگی اٹھائو گے۔ (7) وہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے نیک اور بھلے کاموں میں اپنا مال خرچ کر کے دلی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ (8) وہ لوگ اچھے یا برے حالات میں صبر و شکر کا دامن تھامے رہتے ہیں اور کسی موقع پر بےصبری اور نا شکری کے بجائے بڑے عزم و حوصلے اور جواں مردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کے ان سچے اصولوں پر عمل کر کے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 42:44–46

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہی گمراہ کر دے تو اسکے بعد اس شخص کا کوئی حمایتی نہیں ہے ( اے نبی ﷺ آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب وہ اپنی کھلی آنکھوں سے عذاب الٰہی کو دیکھیں گے تب کہیں گے کہ کیا یہاں سے واپس جانے کا کوئی راستہ ہے۔

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ دپکھیں گے کہ جب وہ جہنم کے سامنے لائے جائیں گے تو ذلت کے احساس سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور کن انکھیوں سے ( آگ کو) دیکھتے ہوں گے۔ اس وقت اہل ایمان کہہ اٹھیں گے کہ بیشک حقیقی نقصان اٹھانے والے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیا ہے۔ سنو ! کہ یہ ظالم ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور وہاں اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا جسے اللہ ہی نے بھٹکا دیا اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 44 تا 46 : مرد (لوٹ جانے کی جگہ) طرف خفی (چھپی نظر ، کن انکھیوں سے دیکھنا) مقیم ( قائم رہنے والا) سبیل ( راستہ) تشریح : آیت نمبر 44 تا 46 : اہل ایمان پر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے زندگی کی راہوں میں ہدایت و رہنمائی کے لئے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب عطاء فرمائی اور اطاعت و فرماں بردری کے لئے خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک اور بہترین نمونہ زندگی عطاء فرمایا ۔ یہ ایسی سچائی ہے کہ اگر کوئی اس کو آنکھ سے دیکھ کر بھی ایمان قبول نہیں کرتا اور وہ کفر و شرک کی جس زندگی کو اختیار کئے ہوئے ہے اس سے توبہ نہیں کرتا تو اللہ بھی بےنیاز ذات ہے وہ اس کو اس گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے کیونکہ جو شخص خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ دنیا کی زندگی کے عیش و آرام میں اس کو برے انجام کا اندازہ نہ ہو لیکن آخرت میں اپنے کئے ہوئے اعمال کو عذاب کی شکل میں دیکھے گا تب وہ کہہ اٹھے گا کہ واقعی اس نے دنیا کے عیش و آرام میں آخرت کو بھلا رکھا تھا ۔ وہ اس بات کی تمنا کرے گا کہ اگر اس کو دنیا میں جانے کا ایک اور موقع دے دیا جائے تو وہ حسن کا پیکر بن جائے گا ۔ لیکن اس کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکے گی ۔ ان کو اپنے جرم کا پوری طرح احساس ہوجائے گا جس سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے۔ ذلت و ندامت کے آنسو بہا رہے ہوں گے اور کن انکھیوں سے اس عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے جو انکی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہوگا ۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے اللہ ہی نے ہماری رہنمائی فرمائی تھی کہ ہم اس ذلت و رسوائی سے بچ گئے ورنہ ہمارا انجام بھی یہی ہوتا ۔ وہ ہدایت سے محروم ظالموں پر ملامت کرتے ہوئے کہیں گے کہ اصل خسارہ اور نقصان تو در حقیقت ان کا ہوا ہے جو خود بھی ذلت و رسوائی کے سمندر میں ڈوب گئے اور انہوں نے اپنے اہل و عیال اور گھر والوں کو بھی ڈبو دیا ۔ اللہ کی رحمت سے خود بھی محروم رہے اور اپنے متعلقین کو بھی محروم کردیا ۔ کیونکہ وہاں کوئی کسی کو سہارا نہ دے گا اور نہ حمایت و مدد کرسکے گا ۔ واقعی جو لوگ اللہ کی رحمت کی قدر نہیں کرتے اور گمراہی میں زندگی گزارتے ہیں اور اسی پر اصرار کرتے ہیں تو اللہ بھی ایسوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۔ ہدایت تو ان کو ملتی ہے جو اس روشنی کو حاصل کرنے کی تڑپ اور تمنا رکھتے ہیں۔
Ayahs 42:47–50

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

لوگو ! اس دن آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ہے۔ نہ اس دن کوئی پناہ حاصل کرنے کی جگہ ہوگی اور نہ تمہارے واسطے اللہ سے روک ٹوک کرنے والا ہوگا۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ! ) اگر وہ منہ پھیر لیں تو تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا ۔ بس آپ کے ذمے ( ہمارے احکامات کو) پہنچا دینا ہے۔ جب ہم آدمی کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتا ہے ۔ اور اگر وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جو وہ کرچکے ہیں کوئی مصیبت آجاتی ہے تو آدمی نا شکری کرنے لگتا ہے۔ بیشک آدمی ہے بڑا نا شکرا

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اسی کی ملکیت ہے۔ جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے وہ بیٹیاں دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دے دیتا ہے۔

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا جس کے لئے وہ چاہتا ہے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں جمع کردیتا ہے یا وہ جس کو چاہتا ہے بےاولاد کھتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے ۔ بیشک وہی بہت جاننے والا اور قدرت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 : ملجائ ( ٹھکانہ ، پناہ کی جگہ) نکیر ( مکر جانا) اذقنا ( ہم نے چکھایا) فرح (خوش ہوگیا) کفور ( بہت زیادہ نا شکرا) یھب ( وہ دیتا ہے) اناث ( بیٹیاں ، لڑکیاں) الذکور (بیٹے ، لڑکے) یزوج ( وہ جوڑے بنا دیتا ہے) عقیما (بانجھ ، اولاد سے مایوس) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 : دین اسلام نے توحید کا یہ بنیادی تصور پش کیا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اور آخرت کے ہر فیصلے میں صرف ایک اللہ کو مکمل اختیار حاصل ہے اس کے سوا کوئی اس کے اس اختیار میں شریک نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کے بنانے بگاڑنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ وہ اپنی رحمت اور فضل و کرم ہے جس کو جتنادینا چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے ۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ۔ کسی کو اولاد نرینہ دیتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیاں دیتا ہے ، کسی کو لڑکا اور لڑکی دونوں عطاء کرتا ہے اور کسی کو اس طرح بانجھ بنا دیتا ہے کہ میڈیکل کی ہزاروں ترقیات کے باوجود اولاد سے محروم ہوتا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح اس دنیا کے تمام معاملات اسی کے اختیار میں ہیں اسی طرح آخرت کے ہر فیصلے کا اختیار بھی ایک اللہ کو حاصل ہے۔ انسان کی سعادت یہ ہے کہ وہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے سچے دل سے توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا چلا جائے اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق چل کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لے۔ اللہ نے اس زندگی کے میدان کو اسی لئے عطاء فرمایا ہے کہ وہ اس میں نیک اور بھلی زندگی کو اختیار کرکے نجات کا سامان کرلے کیونکہ آخرت میں نہ تو عمل کا وقت ہوگا اور نہ وہاں سے دوبارہ دنیا میں آ کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملے گا ۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لوگو ! قیامت کے اس دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو ایسا دن ہوگا جو کسی کے ٹالنے سے ٹل نہ سکے گا ۔ نہ اس دن اللہ کی پناہ کے سوا پناہ کی جگہ مل سکے گی اور نہ اس دن تمہارے واسطے اللہ سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہوگا ۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیجئے ۔ ماننانہ ماننا یہ ہر انسان کا اپنا فعل ہے ۔ نہ ان کو سیدھے راستے پر چلانے کی آپ کی ذمہ داری ہے نہ آپ کو ان کا نگراں بنا کر بھیجا گیا ہے نہ آپ سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ کس نے ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کیا اور کس نے کفر و شرک کا کیونکہ ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے آپ کا کام دین کی سچائیوں کو ہر شخص تک پہنچانا ہے اور بس۔ فرمایا کہ اب یہ تو انسان کا اپنا مزاج ہے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے نواز دیتا ہے تو وہ شکر ادا کرنے کی بجائے نا شکری کرنے لگتا ہے اور اپنے مال و دولت پر اترانے لگتا ہے اور اگر اپنے ہاتھوں سے کئے گئے اعمال کی وجہ سے اس پر کوئی مصیبت یا تنگی آجاتی ہے تو بےصبرے پن پر اتر آتا ہے۔ لیکن لوگوں کو یہ بات ذہن میں رکھ لینی چاہیے کہ وہ اللہ اگر کسی کو بہت کچھ عطاء فرماتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے اس کو چھین بھی سکتا ہے اور اس کو ہر طرح کی نعمتوں سے محروم بھی کرسکتا ہے ۔ جس طرح وہ کسی کو بیٹیاں دے دیتا ہے تو وہ بیٹوں کے لئے ترستا ہے اور بیٹے ہی بیٹے دے دیئے جائیں تو وہ بیٹی کی تمنا کرنے لگتا ہے کسی کو وہ بیٹا اور بیٹی دونوں نعمتوں سے نواز دیتا ہے اور کوئی اولاد کی نعمت ہی سے محروم رہتا ہے اور دونوں میں سے کسی کو یا دونوں کو بانجھ بنا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہی ہر بات کی مصلحت کو سمجھتا ہے اور اسی کو سارا اختیار حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسن عمل کی اور ہر نعمت پر شکر کی توفیق عطاء فرما دے اور ہماری دنیا اور آخرت کو بہتر بنا کر عذاب جہنم سے محفوظ فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 42:51–53

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے ( مگر تین طریقے پر) یا تو وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے جو اللہ کے حکم سے اس پیغام کو پہنچا دے جو کچھ اللہ چاہتا ہے۔ بے شک وہ برتر اور بڑی حکمت والا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ہم نے اس طرح آپ کی طرف اس قرآن کو وحی کیا ہے کہ آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ آپ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے ؟ لیکن ہم نے اس ( قرآن کو) ایسا نور بنایا ہے کہ اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی رہنمائی عطاء کردیتے ہیں۔

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اور بیشک آپ صراط مستقیم کی طرف ہدایت و رہنمائی کرنے والے ہیں اس اللہ کے راستے کی طرف ( ہدایت دینے والے ہیں) جس کے لئے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملکیت ہے۔ سنو ! کہ تمام کام اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 53 یکلم (وہ کلام کرتا ہے) وراء حجاب (پردے کے پیچھے) روح ( جان ( فرشتہ) ماتدری (تو نہیں جانتا) تصیر الامور (کاموں کو لوٹنا) تشریح : آیت نمبر 51 تا 53 : قرآن کریم میں متعد مقامات پر کفار و مشرکین کے وہ بہت سے اعتراضات نقل کر کے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں جو وہ نبی کریم ﷺ پر کرتے تھے ان ہی میں سے یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر پیش کر رہے ہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے۔ کفار کہتے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کلام کو خود سے گھڑ لیا ہے کیونکہ نہ تو آپ نے اللہ کو دیکھا نہ وہ آپ کے پاس آتا ہے نہ آپ اس کے پاس جاتے ہیں پھر وہ کون سا ذریعہ ہے کہ آپ کے پاس اللہ کا کلام آتا ہے۔ وہ کہتے کہ اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو فرشتے خود آ کر یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو ہم یقین کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ ہم نے ہی اسکو نازل کیا ہے۔ یہی وہ نور ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو راہ ہدایت دکھائی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ جس کلام کو پیش کر رہے ہیں وہ ان کا نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اس کلام کے نازل ہونے سے پہلے ان کے ذہن کے کسی گوشے میں اس کا تصور اور خیال تک موجود نہ تھا کہ آپ کو کوئی کتاب ملنے والی ہے ۔ اور وہ اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود ایمان کی تمام کیفیات سے بھی پوری طرح واقف نہ تھے لہٰذا اس کے کلام اللہ ہونے میں کسی طرح کا شک و شبہ کرنا پر لے درجہ کی جہالت ہے۔ فرمایا کہ آخرت میں تو انسان کی آنکھوں میں وہ طاقت و قوت آجائے گی جس سے وہ اللہ کو کھلی آنکھوں سے دیکھ سکے گا لیکن اس دنیا میں اصولی طور پر کوئی اس کو دیکھ نہیں سکتا ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیدار الٰہی کی درخواست کی تو اللہ نے فرمایا تھا ” لن ترانی “ اے موسیٰ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ اس جگہ یہ فرمایا گیا کہ کسی بشر کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ سے براہ راست بات کرے ۔ اگر وہ کلام کرتا ہے تو اس کے تین طریقے ہیں۔ (1) بغیر کسی ذریعہ کے اللہ کا کلام دل پر القاہو جائے یا خواب میں اشارہ کردیا جائے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر وحی کی ابتداء خوابوں کے ذریعہ ہوئی ہے ( بخاری و مسلم) اسی طرح بہت سی احادیث میں بھی وحی کی ابتداء خوابوں سے بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک پر براہ راست بغیر کسی واسطے کے بہت سی باتیں القاء کی گئی ہیں جن میں آپ یہ فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ ایسی احادیث کو احادیث قدسیہ کہا جاتا ہے جن کی تعداد چھ سو تک پہنچتی ہے۔ ظاہر ہے جس بات میں آپ یہ فرما دیں کہ یہ اللہ نے فرمائی ہے وہ یقینا اللہ کی طرف سے ہے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہ باتیں اللہ نے براہ راست آپ کے قلب پر نازل فرمائی ہیں اس کو القاء کہتے ہیں ۔ اگر یہی باتیں حضرت جبرئیل یا کسی اور واسطے سے ہوتیں تو وہ قرآن کریم کہلاتیں۔ (2) وحی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پردے کے پیچھے سے آواز تو سنائی دے لیکن شکل نظر نہ آئے جس طرح وادی مقدس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا جہاں ان کو چاروں طرف سے آتی ہوئی آواز سنائی دے رہی تھی یا جس طرح شب معراج نبی کریم ﷺ سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے کلام فرمایا اور اگر بعض حضرات کی یہ بات مان لی جائے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ کا دیدار کیا ہے یعنی اپنی کھلی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کیا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں دیکھنے نہ دیکھنے کا ذکر اس دنیا کے متعلق آ رہا ہے اگر نبی کریم ﷺ نے اللہ کا دیدار فرمایا ہے تو وہ اس دنیا میں نہیں بلکہ اللہ کے دربار میں دیدار فرمایا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے۔ (3) وحی کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اپنا پیغام اپنے خاص فرشتے ( حضرت جبرئیل امین) کے ذریعہ بندوں تک پہنچائے۔ جس طرح تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور خاص طور پر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر تئیس سال تک حضرت جبرئیل اللہ کی وحی کو لاتے رہے۔ ان تین صورتوں کے علاوہ دنیا کے متعلق یہ قانون ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ کلام نہیں کرسکتا لہٰذا کفار کا یہ اعتراض نہایت لغو اور فضول ہے کہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے جب کہ آپ نے نہ تو اللہ کو دیکھا ہے نہ اس سے ملاقات ہوئی ہے اور نہ وہ آپس کے پاس آتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ اپنا کلام اسی طرح سارے نبیوں پر بھیجتا رہا ہے اور آخر میں اللہ نے اپنے آخری نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی اپنا کلام حضرت جبرئیل کے واسطے سے بھیجا ہے جو بھی اس کتاب ہدایت پر ایمان لائے گا وہ زندگی کا سیدھا سچا راستہ پالے گا ورنہ زندگی بھر اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا ۔ فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا سب اسی کی ملکیت ہے ۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے اور اسی کا بتایا ہوا راستہ صراط مستقیم ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔ ۔۔ ۔