41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 41:41–46

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے قرآن (کا سچا پیغام) آنے کے باوجود اس کا انکار کیا ( وہ اپنا انجام بہت جلد دیکھ لیں گے) بیشک ( قرآن ) ایک زبردست کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

جس کے سامنے اور پیچھے سے باطل نہیں آسکتا ۔ کیونکہ یہ حکمت والے ہر طرح کی تعریفوں کے مستحق اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ سے یہ کفار ( مشرکین) جو کچھ کہہ رہے ہیں ان میں سے ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو آپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں سے نہ کہی گئی ہو۔ ( پھر بھی) بیشک آپ کا رب بہت معاف کرنے والا ہے لیکن جب وہ ( کسی فریاد یا قوم کو پکڑنے پر آجاتا ہے تو پھر ) وہ سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر اس قرآن کو عجمی زبان میں نازل کیا جاتاتو وہ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہ نازل کی گئیں ( وہ یہی کہتے کیسی عجیب بات ہے کہ) کتاب عجمی اور ( اس کے مخاطب) عربی ہیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ ایمان لائے یہ ان کے لئے ہدایت و شفاء ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان کے کانوں کی ڈاٹ ہے۔ یہ ان پر اندھا پن مسلط ہے۔ انہیں ایسا لگتا ہے جیسے انہیں بہت دور سے پکارا جا رہا ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی لیکن لوگوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ کی گئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ اور بیشک وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

(یاد رکھو) جس نے حسن عمل کیا وہ اس کے اپنے لئے ہے اور جس نے برا عمل کیا اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ ( اور اے نبی ﷺ آپ کا پروردگار اپنے بندوں پر ظلم و زیادتی کرنے والا نہیں ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 26 : ذوعقاب ( سزا دینے والا) اعجمی (جو عربی نہ ہو ، عجمی ہو) ظلام (بہت زیادہ ظلم کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اصل میں جو لوگ زندگی کے معاملات میں سنجیدہ اور سمجھ دار ہوتے ہیں وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں لیکن غیر سنجیدہ لوگ جن میں تدبر کی کمی ہوتی ہے وہ ہمیشہ حق و صداقت کی بات کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ گھٹیا اور غیر سنجیدہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ کی زبان عربی ہے اس میں کسی کلام کو گھڑ لینے میں کیا دیر لگتی ہے ( نعوذ باللہ) اگر یہ کتاب اور کلام کسی عجمی زبان میں ہوتا تو ہم سمجھتے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ ان لوگوں کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں یہ ان سے بھی ایسی ہی غیر سنجیدہ باتیں کرچکے ہیں ۔ فرمایا کہ آپ اللہ کے اس کلام کو جو بڑی عزت اور شان والا ہے جس کے آگے اور پیچھے جھوٹ ٹک نہیں سکتا آپ لوگوں تک حق و صداقت کی باتیں پہنچاتے رہیے۔ اس راستے میں آپ کو شدید ذہنی اذیتیں پہنچیں گی مگر آپ ان کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیجئے کیونکہ اگر یہ لوگ آپ کو ایذاء اور تکلیفیں دینے سے باز رہے تو پروردگار ان کی خطاؤں اور لعزشوں کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ اللہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے لیکن اگر یہ اسی روش پر قائم رہے تو وہ ان کو دنیا اور آخرت میں شدید ترین سزائیں دے گا جن سے بچنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ وہ اللہ صرف مغفرت کرنے والا ہی نہیں بلکہ سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ قرآن کسی اجنبی زبان میں نازل کردیا جاتا جس کو عرب کے لوگ نہ سمجھتے تو کہتے کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ رسول تو عربوں میں آیا ہے اور اپنی تعلیمات عجمی زبان میں لے کر آیا ہ۔ پھر یہ اس کو نہ سمجھنے کا عذر کرنے لگتے ۔ فرمایا کہ آپ ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کیجئے کیونکہ ان کا کام پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ وہ اللہ کے دین سے بھاگنے کے راستے تلاش کرتے ہیں اس لئے اللہ کا کلام ان کے کانوں پر ایک بوجھ جیسا ہے اور انہوں نے سچائی کی ہر روشنی سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور حق و صداقت سے اندھے بنے ہوئے ہیں جب ان سے بات کی جاتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کسی کو دور سے پکار رہا ہے جس کی کوئی بات سمجھ نہیں آتی ۔ فرمایا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب ہدایت عطاء کی تھی اس وقت کے لوگوں نے اس میں بھی اختلافات پیدا کردیئے تھے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اپنے اوپر یہ لازم کرلیا ہے کہ وہ لوگوں کی خطاؤں پر سارے فیصلے اسی دنیا میں نہیں کرتا بلکہ ان کو آخر تک مہلت اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔ فرمایا کہ یاد رکھو جس نے بھی کوئی عمل صالح کیا اس کا فائدہ اس کو ہوگا لیکن جس نے بد عملی کی زندگی گزاری اس کا نقصان خود اسی کو ہوگا اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ خود انسان ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے پر تیار بیٹھا رہتا ہے۔
Ayahs 41:47–54

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کب ( واقع ہوگی) اس کا علم اللہ کو ہے ( اسی کی طرف) اس علم کو لوٹایا جاسکتا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کون سا پھل اپنے غلاف سے باہر نکلتا ہے ، کون سی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور کون سی مادہ ( بچہ) جنتی ہے۔ اور وہ دن جب اللہ لوگوں کو پکار کر کہے گا کہ وہ میرے شریک کہاں ہیں ؟ جنہیں تم میرے سوا پکارا کرتے تھے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہم میں سے کوئی ( ان کی عبادت کا) دعویٰ نہیں کرتا

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور وہ جن معبودوں کو وہ اس سے پہلے ( دنیا میں) پکارا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے۔ اور کافر اس کو ( اچھی طرح) جان جائیں گے کہ اب فرار ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہے

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان ( کا یہ حال ہے کہ) وہ بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا۔ اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ناامید ہو کر آس توڑ بیٹھتا ہے۔

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچتی تھی اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میں اس کا مستحق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ کبھی قیامت آئے گی۔ اور اگر میں اپنے رب کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی میری عیش ہوگی۔ حالانکہ ہم کفار کو ان کے کئے ہوئے اعمال کے سبب پوری طرح آگاہ کردیں گے۔ اور جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ہم اس کے بدلہ میں بد ترین عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم کسی آدمی پر انعام و کرم کردیتے ہیں تو وہ منہ موڑ کر اپنا پہلو پھیرنے لگتا ہے۔ اور جب اس پر کوئی مصیبت پڑی جاتی ہے تو پھر وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ بتائو تو سہی اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ( نازل کیا گیا ) ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کرتے ہو تو اس سے بڑا گمراہ اور کون ہو سکتا ہے جو ( اللہ اور اسکے رسول) کی مخالفت میں بہت دور نکل گیا ہے ؟

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

بہت جلد ان کفار کو آفاق میں اور خود ان کے وجود میں سے بہت سی نشانیاں دکھائیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ بیشک یہ ( قرآن) پیغام حق و صداقت ہے۔ ( اے نبی ﷺ کیا آپ کے رب کی یہ بات ( ان کے لئے ) کافی نہیں ہے کہ اللہ ہر چیز پر شاہد و گواہ ہے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

سنو ! کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے ہر چیز کو ( اپنے دامن قدرت میں) سمیٹ رکھا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا) تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک گئے۔ اللہ نے ایسے ہی منکرین کی ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے کہ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا البتہ وہ دن ساری چیزوں کی حقیقت کو کھول کر رکھ دے گا اور وہ لوگ جنہوں نے جھوٹی بنیادوں پر اپنی تمناؤں کے محل تعمیر کر رکھے ہیں وہ سب کے سب ڈھے جائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کے کوئی کام نہ آسکیں گے۔ ان لوگوں کو قیامت کے آنے کی باتیں کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اس دن کی ہولناکی سے بچنے کی تدبیریں کریں۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کہیں سفر میں تشریف لے جا رہے تھے راستے میں ایک شخص نے پکار کر کہا اے محمد ﷺ ! آپ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ اس نے پوچھا قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قیامت تو آ کر رہے گی ۔ یہ بتائو تم نے اس کی کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ ( بخاری مسلم) ۔ نبی کریم ﷺ نے دو جملوں میں ساری بات ارشاد فرما دی کہ قیامت تو آ کررہے گی اس کو کوئی نہ روک سکے گا یعنی کب آئے گی اس کا علم تو اللہ کو ہے مگر قیامت کے دن جو مشکلات پیش آئیں گی ان کے لئے جس نے تیاری کر رکھی ہے وہی کامیاب و بامراد ہوگا اور جو اسی میں لگا رہا کہ قیامت کب اور کیسے آئے گی تو اس کو اس کی بےعقلی اور بےعملی کی سخت سزا مل کر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور وہی اس کی حقیقت اور صحیح کیفیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ فرمایا کہ کوئی پھل اپنے خول سے ، کوئی دانہ اپنے خوشے سے ، کوئی میوہ اپنے وجود سے باہر ظاہر نہیں ہوتا لیکن اس کے متعلق اس کو پورا علم ہوتا ہے۔ کسی عورت کا حمل اور کسی جانور کے پیٹ کا بچہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق اللہ کو علم نہ ہو غرضیکہ درختوں سے ایک پتہ بھی گرتا ہے تو اس کا علم اللہ کو ہوتا ہے جب کہ ساری دنیا کو اس کے متعلق اندازہ تک نہیں ہوتا ۔ اسی طرح قیامت کب آئے گی اس کے متعلق اللہ کے سوا کسی کو کوئی علم نہیں دیا گیا ۔ البتہ قیامت کے آنے کی کچھ نشانیاں انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بتائی گئی ہیں جو انہوں نے اپنی امت کو بتائی ہیں۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو قیامت کی سب سے زیادہ نشانیاں بتا دی گئی تھیں جن کی تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا اور میدان حشر قائم ہوگا تو اس دن مشرکین جنہوں نے اپنے ان معبودوں پر بڑا ناز تھا کہ وہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے وہ سب کے سب ان سے غائب ہوجائیں گے اور پھر وہ مشرکین طرح طرح سے اپنی بےگناہی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان کی ان باتوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا اور وہ عذاب الٰہی سے نہ بچ سکیں گے۔ کفار و مشرکین کی اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ہر وقت ہر طرح کی بھلائی ، خوشحالی ، تندرستی ، رزق میں کشادگی ، اپنی اور اپنی اولاد کی سلامتی اور عافیت مانگنے سے نہیں تھکتے لیکن اگر ان کو کسی طرح کی تکلیف یا مصیبت پہنچ جائے تو وہ اس طرح مایوس ہوجاتے ہیں کہ امید کی ہر آس کو توڑ بیٹھتے ہیں۔ اس کے بر خلاف اگر ان کو راحت و آرام کے اسباب مل جاتے ہیں تو ان پر شکر کرنے کے بجائے اترانا اور اکڑنا شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب ہماری محنتوں اور تدبیروں کا نتیجہ ہے۔ غرضیکہ راحتوں میں تکبر اور غرور اور مصیبتوں میں ہاتھ پھیلا پھیلا کر لمبی چوڑی دعاؤں میں لگے رہتے ہیں ۔ ان کی بےوقوفی اور غلط فہمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ قیامت ہی کا انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں امید نہیں ہے کہ قیامت کبھی آئے گی اور اگر آ بھی گئی تو جس طرح ہم یہاں عیش و آرام سے ہیں وہاں بھی عیش و آرام کے راستے نکال کر مزے اڑائیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی خوش فہمی ہے حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ اللہ کے سخت ترین عذاب سے بچ نہ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفار و مشرکین سے یہ سوال کیا ہے کہ یہ قرآن کریم جو ان کی اصلاح اور انکی روحانیت کی تسکین کا سامان ہے اگر اللہ کی طرف سے ہے اور یقینا اللہ کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا اقرار نہ کیا اور نہ اس کو قبو ل کیا تو کیا تمہیں اس کا کچھ اندازہ ہے کہ اس کا تمہیں کتنا شدیدنقصان اٹھانا پڑے گا ؟ اللہ نے فرمایا کہ ہم تمہیں ” آفاق “ اور ” انفس “ میں اپنی بہت سی نشانیاں دکھائیں گے۔ یعنی دنیا میں ہزاروں ان نعمتوں کی طرف توجہ دلائیں گے جو انسان کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں اور خود اس کے اپنے وجود میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں ۔ اگر اس نے ان میں غور و فکر سے کام لیا تو اس کی کامیابی ہے ورنہ اللہ کی سخت ترین سزاؤں سے بچنا ممکن نہ ہوگا ۔ فرمایا کہ آخرت کے متعلق کفار و مشرکین جس شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کو اللہ سے ملاقات کا یقین نہیں ہے وہ ساری حقیقت بہت جلد ان پر کھل جائے گی۔ الحمد للہ سورة حم السجدہ کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوا ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین