39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 39:38–41

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے (پیدا کیا ہے) آپ ان سے یہ بھی پوچھ لیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاروں جنہیں تم پکارتے ہو اور اللہ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا ( تمہارے یہ بت اور معبود) مجھے نقصان سے بچا سکتے ہیں ؟ یا مجھ پر اللہ رحم کرنا چاہیے تو کیا یہ اس کو روک سکتے ہیں ؟ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے میرا اللہ ہی کافی ہے ۔ بھروسہ کرنے والے تو اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

آپ کہئے کہ تم اپنی جگہ کام کئے جائو ۔ میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں ۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملے گی جو کسی کو ٹالنے سے ٹل نہ سکے گی

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے تمام انسانوں کے لئے یہ بر حق کتاب نازل کی ہے (اس کے بعد) جو بھی سیدھا راستہ اختیار کرے گا وہ اس کے اپنے ( فائدے) کے لئے ہوگا اور جو بھٹکے گا اس کا ( وبال) اسی پر پڑے گا ۔ آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 : سالت (تو نے پوچھا) کاشفت ( کھولنے والے) ممسکت ( روکنے والے) حسبی ( مجھے کافی ہے) یخزی (ذلیل و رسوا کرتا ہے) یحل ( حلال ہوتا ہے) عذاب مقیم ( نہ ٹلنے والا عذاب) وکیل ( کام بنانے والا) تشریح آیت نمبر 38 تا 41 :۔ جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ کفار و مشرکین نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے یہ معبود ناراض ہو کر آپ کو کوئی شدید نقصان پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ان کفار سے یہ پوچھئے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے اس نظام کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کیا اس اللہ نے پیدا نہیں کیا جس کے ہاتھ میں ہر طرح کے نفع اور نقصانات کے مکمل اختیارات ہیں ؟ اگر اللہ ہی کسی کو نقصان پہنچانا چاہے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس کے سوا کوئی اور ہے جو اس مصیبت کو دور کرسکے ؟ لہٰذا اگر میں اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاروں گا جنہیں تم پکارتے ہو اور اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ تمہارے معبود مجھے اس نقصان سے بچا سکتے ہیں ؟ یا اگر اللہ مجھ پر رحم و کرم کرنا چاہے تو کیا دنیا کی کوئی طاقت ہے جو اس رحمت کو مجھ سے روک سکے گی ؟ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ آپ وضاحت سے کہہ دیجئے کہ مجھے میرا اللہ ہی کافی ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں جس پر ہر ایک کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اتنا سمجھانے کے باوجود بھی اپنی روش زندگی میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو تم اپنی جگہ اپنی جہالتوں میں مبتلا رہو ۔ مجھے میرے پروردگار کا جو حکم ہے میں تو اسی پر چلتا رہوں گا ۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب آ کر رہے گا اور کسے وہ سزا ملے گی جس کو اگر کوئی اپنے اوپر سے ٹالنا چاہیے گا تو ٹال نہ سکے گا ۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے تمام لوگوں کے لئے اس کتاب بر حق کو نازل کیا ہے اس کے بعد اگر کوئی سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اس سے اسی کو فائدہ پہنچے گا لیکن اگر کسی نے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا تو اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت جان نکالتا ہے اور جو شخص ابھی مرا نہیں ہے اس کی روح نیند میں بھی قبض کرلیتا ہے پھر جس پر وہ موت طاری کرتا ہے تو اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک مقرر وقت تک کے لئے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے ( عبرت و نصیحت کے لئے) بڑی نشانیاں موجود ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 42 :۔ یتوفی ( وہ موت دیتا ہے) حین ( اس وقت ، جس وقت) لم تمت (نہیں مرا) منام ( نیند ، خواب ) قضی (فیصلہ کرلیا) یرسل ( وہ بھیجتا ہے) یتفکرون (وہ غور و فکر کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 42 :۔ یہ تو ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد آدمی نیند کی طرف مائل ہوتا ہے تا کہ وہ ایک نیند لے کر تازہ دم ہوجائے اور اگلے دن کام کاج کے قابل ہو سکے لیکن اس جگہ اللہ نے نیند کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ یہ نیند درحقیقت موت ہی کا ایک حصہ ہے جو اس پر ہر روز طاری کی جاتی ہے۔ جس طرح کوئی شخص اس سے ناواقف ہے کہ اس کی موت کب اور کہاں آئے گی اسی طرح ایک آدمی سو جانے کے بعد اس سے قطعاً بیخبر ہے کہ وہ جس نیند کے مزے لے رہا ہے وہ اس نیند سے بیدار ہوگا یا ہمیشہ کی نیند سو جائے گا۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ سوتے ہوئے ہی اس دنیا سے گزر جاتے ہیں اور ان کو اس کا اندازہ تک نہیں ہوتا کہ ان کی زندگی کی یہ آخری نیند ہے۔ اصل میں انسان زندگی اور موت کے بارے میں قطعاً بےبس اور عاجز ہے۔ یہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اس نے جس انسان کی جتنی زندگی کا فیصلہ کیا ہے وہ اس سے ایک لمحہ بھی زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ جب انسان سو جاتا ہے تو اس کا فہم و ادراک اور ارادہ و اختیار سب معطل ہو کر رہ جاتے ہیں لیکن اس کا شعور اور لا شعور دونوں جاگ پڑتے ہیں اور انسان جس ماحول میں زندگی گزارتا ہے اسی کے تجربات کی روشنی میں وہ خواب دیکھتا ہے یہ خواب کبھی تو سچے ہوتے ہیں اور کبھی فضول اور بیکار خواب ہوتے ہیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے خواب تو وحی کا ایک حصہ ہوتے ہیں اس لئے ان کے خواب تو بالکل صحیح اور سچے ہوتے ہیں لیکن عام آدمی کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے سارے خواب سچے ہوں۔ ایک دن حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ کچھ لوگ سوتے ہوئے خواب میں کچھ ایسی چیزیں دیکھ لیتے ہیں جو ان کے تصور میں بھی نہیں ہوتیں ( اور پھر بیدار ہوتے ہی سامنے آجاتی ہیں) ان کا خواب اس قدر صحیح اور واقعی ہوتا ہے جیسے ہاتھ سے کسی چیز کو پکڑ لیا ہے اور بعض لوگوں کے خواب کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے کہا اے امیر المومنین میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا النح “ یعنی اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے ۔ جب یہ روحیں اللہ کے قرب میں آسمان پر ہوتی ہیں تو جو کچھ دیکھتی ہیں وہ سچاخواب ہوتا ہے اور جب ان کو جسموں کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس میں ان کا سامنا شیطانوں سے ہوتا ہے تو شیطان ان سے کچھ چھوٹی باتیں کہہ دیتے ہیں بس یہ جھوٹا خواب کہلاتا ہ۔ حضرت عمر ؓ کو حضرت علی ؓ کی یہ بات سن کر تعجب ہوا ۔ ایک جگہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے فرمایا کہ سونے کے وقت انسانی جسم سے روح نکل جاتی ہے صرف اس کی ایک شعاع جسم کے اندر باقی رہتی ہے اس وجہ سے وہ خواب دیکھتا ہے پھر جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح ایک پل بھر سے بھی پہلے بدن کی طرف لوٹ آتی ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت انسانوں کی جان کو نکالتا ہے اور جو شخص ابھی زندہ ہے اس کی روح کو وہ نیند میں قبض کرلیتا ہے۔ پھر جس پر وہ موت طاری کرتا ہے تو اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک مقرر وقت تک کے لئے واپس بھیج دیتا ہے ، یقینا اس میں ان لوگوں کے لئے عبرت و نصیحت کا سامان موجود ہے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔
Ayahs 39:43–46

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا سفارشی بنا رکھا ہے ( اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا وہ سفارش کریں گے جن کے ہاتھ میں نہ تو کوئی چیز ( کوئی اختیار) ہے اور نہ وہ عقل و سمجھ رکھتے ہیں۔

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ شفاعت و سفارش سب کی سب اللہ کے اختیار ( قدرت) میں ہے۔ اسی کے لئے زمین و آسمان کی ملکیت ہے ، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

جب آخرت پر یقین نہ رکھنے والوں کے سامنے اللہ واحد کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ اپنے دلوں میں کڑھنے لگتے ہیں اور جب دوسروں ( غیر اللہ) کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اے آسمانوں اور زمین کے خالق ، حاضر اور غائب کے جاننے والے میرے اللہ آپ ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے کہ جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 46 : شفعائ ( شفیع) (سفارش کرنے والے ، شفاعت کرنے والے) اشمازت (وہ کڑھنے اور جلنے لگے) فاطر ( پیدا کرنے والا) تحکم (تو فیصلہ کرے گا) تحکم ( تو فیصلہ کرے گا) عباد (بندے) تشریح : آیت نمبر 43 تا 46 :۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرما دیا ہے کہ زندگی اور موت یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی زندگی دیتا ہے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو موت آتی ہے۔ کفار و مشرکین بھی اس بات کو سمجھتے تھے مگر زبان سے نہیں کہتے تھے بلکہ اپنے بےحقیقت بتوں کے متعلق ان کا گمان یہ تھا کہ وہ کل قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے اللہ کے عذاب سے انہیں بچا لیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ اس کی بارگاہ میں اس وقت تک کسی کو سفارش کرنے یا لب ہلانے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک اجازت نہ دے دی جائے۔ پتھر، لکڑی اور مٹی سے بنائے گئے ان بتوں کی کیا مجال ہے کہ یہ اللہ کی بارگاہ میں کسی کی سفارش بھی کرسکیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو تو پہلے ہی جہنم کا ایندھن بنا دیں گے لیکن ان بد عقیدہ لوگوں کے نزدیک سب کچھ یہی بت ہیں حالانکہ اس کائنات میں ساری کی ساری سلطنت صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہر جگہ اللہ کا حکم چلتا ہے، تمام انسانوں کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے جہاں وہ عدل و انصاف کے ساتھ ہر ایک کے درمیان سارے فیصلے فرما دے گا ۔ فرمایا کہ وہ زبان سے تو اللہ کا نام لیتے ہیں مگر انہوں نے بتوں کو اس طرح سب کچھ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ان کے سامنے ایک اللہ کا ذکر کیا جائے جو سب کا معبود ، خالق اور مالک ہے تو غم و غصے سے ان کے چہرے سکڑ جاتے ہیں اور پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں اور جب ان کے جھوٹے معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جب یہ کفار و مشرکین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور غیر اللہ کی بندگی میں لگے رہتے ہیں اور اسی میں مگن ہیں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں بلکہ اپنے رب سے یہ دعا کیجئے کہ اے آسمان و زمین کے رب اور کھلے چھپے کے جاننے والے پروردگار آپ ہی قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں میں فیصلے فرمائیں گے جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
Ayahs 39:47–52

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اگر ان ظالموں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور اتنی ہی اور بھی تو قیامت کے بد ترین عذاب سے نجات کے لئے سب کا سب بدلہ میں دینے کے لئے تیار ہوجائیں گے ۔ وہاں ان کے سامنے اللہ کی طرف سے ان کے کئے ہوئے وہ برے اعمال ظاہر ہوں گے جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

وہاں ان کے کئے ہوئے سارے بد ترین اعمال ان کے سامنے آجائیں گے اور جس بات کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی چیز ان کو گھیر لے گی۔

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پھر جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ ہمیں ہی پکارتا ہے اور جب ہم اس کو اپنی نعمت سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو مجھے علم کی بنیاد پر دیا گیا ہے ( اللہ نے فرمایا) بلکہ یہ آزمائش ہے مگر اکثر لوگ وہ ہیں جو جانتے نہیں

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

اسی طرح کی باتیں ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی کی تھیں مگر ان کی کمائی ان کے کام نہ آسکی ۔ پھر انہوں نے اپنے کئے ہوئے ( برے اعمال) کی سزا پائی ، اور ان لوگوں میں سے جو ظالم ہیں وہ بہت اپنی کمائی تک پہنچیں گے

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

اور وہ سب ( مل کر بھی اللہ کو) عاجز اور بےبس نہ کرسکیں گے

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کھول دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے ان ( باتوں میں) نشانیاں موجود ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 52 : بدا ( ظاہر ہوا) یحسبون (وہ گمان کرتے ہیں) کسبوا (انہوں نے کمایا) حاق ( چھا گیا) ما اغنی ( کام نہ آیا) یصیب ( پہنچے گا) معجزین ( عاجز اور بےبس کرنے والے) یبسط ( وہ کشادہ کرتا ہے ، کھولتا ہے) یقدر ( وہ تنگ کردیتا ہے) تشریح : آیت نمبر 47 تا 52 :۔ قیام کے ہولناک دن جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان ، عمل صالح اور نیکی اختیار کرنے والوں اور کافروں اور مشرکین کے بےبنیاد عقیدوں اور عمل سے متعلق فیصلے فرمائیں گے تو ان میں سے ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بوکھلا جائیں گے اور اگر انکے پاس زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زیادہ خزانے ہوں گے تو وہ اس عذاب سے بچنے کے لئے سب کچھ دینے پر تیار ہوجائیں گے ۔ ان کے سامنے وہ تمام عذاب موجود ہوں گے جن کا وہ دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ مگر انہوں نے اس دنیا میں جو کچھ کیا ہوگا اس کا پورا ریکارڈ ان کے سامنے آجائے گا اور وہ دنیا میں جس طرح دین اسلام کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس کا وبال ان پر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑے گا اور ان کو گھیرلے گا ۔ فرمایا کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کائنات میں اصل اللہ ہی کی ذات ہے وہی سب کا کار ساز ہے چناچہ جب ان پر کوئی مصیبت یا آفت پڑجاتی ہے تو وہ ایک اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور جب ہم ان پر کرم کردیتے ہیں اور ہر طرح کی مصیبتوں کو ٹال دیتے ہیں تو وہ ان پر ٹکر کرنے کے بجائے اتراتے ہوئے کہنے لگتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہماری کوشش اور جدوجہد کا نتیجہ ہے اور یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ یہ سب کچھ تو ہمارے علم اور تدبیر کی وجہ سے ہوا ہے اگر ہم فلاں تدبیر اور کوشش نہ کرتے تو اس مصیبت سے نجات حاصل نہ کرسکتے حالانکہ یہ سب نعمتیں جو اللہ نے عطاء فرمائی ہیں ایک آزمائش اور امتحان ہیں کہ انسان نعمتیں پانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا ناشکرے پن کے طریقے اختیار کرتا ہے ، اگر وہ شکر ادا کرتا ہے تو اللہ اس کو اور نعمتیں دیتا چلا جاتا ہے اور اگر نا شکری کرتا ہے تو اللہ اس کو سخت مصیبت میں ڈال دیتا ہے۔ فرمایا کہ ایسا بہت پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے لیکن ان کا نا شکرا پن ان کے کسی کام نہ آسکا اور وہی چیزیں جن پر انہیں ناز تھا ان کے کسی کام نہ آسکیں گی۔ جس طرح قارون جو نہایت مال دار شخص تھا اور کہتا تھا کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ میری تدبیر اور علم کی وجہ سے ملا ہے حالانکہ رزق میں کشادگی اور تنگی دونوں قدرت کے فیصلے ہیں مگر جب قارون نے اتران شروع کیا تو اللہ نے اس کو اس کے مال و دولت اور اس کے لائو لشکر کو زمین میں دھنسا کر ختم کردیا جس کا آج کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان تمام واقعات میں عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے بیشمار مواقع موجود ہیں مگر ان سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جن کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہے۔
Ayahs 39:53–63

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ بیشک اللہ سارے گناہ معاف فرمادے گا ۔ بیشک وہ تو بہت مغفرت کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

(لوگو ! ) اپنے رب کی طرف پلٹ آئو ، اور اس کے فرماں بردار بن جائو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اور کہیں سے تمہاری مدد نہ کی جا سکے

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلوئوں کی پیروی اختیار کرو اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

اور پھر بعد میں کوئی شخص بڑی حسرت سے یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ میں اللہ کے حضور زیادتیاں کرتا رہا اور میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

(یا وہ کہنے لگے کہ) کاش اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں میں سے ہو جاتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا وہ عذاب دیکھنے کے بعد یہ کہنے لگے کہ کاش مجھے دوبارہ ( دنیا میں جانے کا) موقع مل جاتا تو میں نیک عمل کرنے والوں میں سے ہوجاتا۔

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ) کیوں نہیں ، میری آیات تیرے پاس آئیں ، تو نے ان کو جھٹلایا ، غرور وتکبر کیا اور تو کافروں میں سے ہوگیا ۔

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ قیامت کے دن انکار کرنے والوں کے چہرے تاریک اور سیاہ دیکھیں گے ( اور کہا جائے گا کہ) کیا جہنم میں تکبر کرنے والوں کے لئے کافی جگہ موجود نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

(اس کے بر خلاف) وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کی ہوگی ان کو نجات ملے گی ، نہ ان کو عذاب چھوئے گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

( یاد رکھو ! ) اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ اور آسمانوں اور زمین کے ( خزانوں کی) چابیاں اسی کے پاس ہیں۔

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے ہیں وہی سب کے سب نقصان اٹھانے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہے کہ اگر آدمی موت کے فرشتے سامنے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلے تو اس کے برسوں کے گناہ بھی معاف ہو سکتے ہیں ۔ اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ جنہوں نے دور جہالت میں بعض کبیرہ گناہ کر لئے تھے جیسے بتوں کی پرستش ، قتل یا زنا وغیرہ وہ اس تصور سے سخت پریشان تھے کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد کیا ان کے یہ بڑے بڑے گناہ معاف ہوجائیں گے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! میرے ان بندوں سے جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے ( گناہ کئے ہیں) کہہ دیجئے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ بلا شبہ اللہ ان کے سارے گناہ معاف فرما دے گا وہ بہت معاف کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر مجھے ساری دنیا کی ہر چیز مل جاتی تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حاصل ہوئی ہے ( مسند احمد) یعنی جس میں گناہ گاروں کے سارے گناہ معاف کرنے کی خوش خبر دی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ کا یہ قول بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ آیت گناہ گاروں کے لئے قرآن کریم کی سب آیتوں سے بڑھ کر امید افزاء ہے۔ اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ 1۔ لوگو ! اپنے رب کی طرف پلٹ آئو ، اس کے فرماں بردار بندے بن جائو ۔ اس سے پہلے کہ تم پر وہ عذاب آجائے جس میں کوئی کسی کی مدد اور حمایت نہ کرسکے گا ۔ 2۔ تمہارے اپنے پروردگار کی طرف سے بھیج گئی کتاب ( قرآن مجید) کے تمام حسین اور بہترین پہلوؤں کی پیروی اختیار کرو اس سے پہلے کہ وہ عذاب آجائے جس کی تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔ 3۔ ابھی وقت ہے کہ تم اپنی زیادتیوں اور دین اسلام کا مذاق اڑانے سے باز آ جائو ورنہ کل تم یہ کہنے پر اپنے آپ کو مجبور اور بےبس پائو گے کہ واقعی ہم اللہ کے حضور بہت زیادتیاں کر رہے تھے اور دین اسلام کا مذاق اڑانے میں سب سے آگے تھے۔ 4۔ یا تم اپن شرمندگی اور ندامت سے بچنے کے لئے یہ کہنے لگو کہ اگر ہمیں اللہ کی طرف سے بر وقت رہبری و رہنمائی مل جاتی تو ہم حسن عمل میں سب سے آگے ہوتے ۔ 5۔ یا تم قیامت کے دن یہ کہنے پر مجبور ہو جائو کہ اگر ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو ہم نیک عمل اختیار کریں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ یہ تمام کفار و مشرکین اور گناہ گار اللہ سے معافی مانگ کر صراط مستقیم پر چلنا شروع کردیں لیکن اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر سوائے ندامت ، شرمندگی اور پچھتاوے کے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا ۔
Ayahs 39:64–70

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان سے کہئے کہ اے جاہلو ! مجھے تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت و بندگی کے لئے کہتے ہو ؟

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

(آپ اس اصول کو بیان کر دیجئے کہ) جس طرح آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے ( انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی نازل کی گئی تھی ( ان سے صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ) اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا ہر عمل ضائع ہوجائے گا اور تم نقصان اٹھانے والے بن جائو گے۔

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اللہ ہی کی عبادت و بندگی کیجئے اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جائیے

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی وہ قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ( کاغذ کی طرح) لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس کی پاک اور بےعیب ذات اس شرک سے بلندو برتر ہے جس کو وہ کرتے ہیں۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور وہ دن جب کہ صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ سب کے سب مر کر ڈھیر ہوجائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ ( زندہ رکھنا) چاہے گا۔ پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو اچانک سب اٹھ کر ( حیران و پریشان نظروں سے چاروں طرف) دیکھنے لگیں گے۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی ۔ نامہ اعمال ( لوگوں کے) سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور تمام انبیاء اور گواہ حاضر کئے جائیں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کی جائے گی

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو اس کے ہر عمل پر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کیا ہوگا۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا) تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! تم مجھے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کے لئے کہتے ہو ؟ جو ایک نہایت جاہلانہ اور احمقانہ بات ہے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے قابل نہیں ہے وہی ایک پروردگار سب کا خالق ومالک ہے اسی نے میری طرف وحی کر کے یہ حکم دیا ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کروں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ سے پہلے جن پیغمبروں پر وحی ناز ل کی گئی تھی ان سے بالکل واضح اور دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا گیا تھا کہ اگر (فرض کرلیا جائے کہ) تم نے اللہ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا تو تمہارے سارے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے اور تمہیں شدید نقصان پہنچے گا ۔ فرمایا گیا کہ آپ صرف اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کیجئے اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیے۔ دراصل اللہ کے پیغمبر ہر طرح کے گناہوں اور کفر و شرک کے ہر طریقے سے معصوم اور محفوظ ہوتے ہیں ، نہ وہ کسی طرح کا گناہ کرتے ہیں اور نہ کسی گناہ کی نسبت ان کی طرف کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واسطے سے پوری امت سے خطاب کر کے بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور اللہ کی وہ عظمت کریں جس کے وہ لائق ہے۔ لوگوں کا یہ حال ہے کہ انہوں نے اللہ کی وہ قدر نہ کی جیسا کہ اس کی عظمت کا حق تھا یعنی انہوں نے دوسروں کو اس کے ساتھ شریک کیا ۔ غیر اللہ میں ایسی صفات کو مانا جو صرف اللہ ہی کی صفات ہو سکتی ہیں ۔ نہ اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ اس کا حق تھا نہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جیسا کرنا لازم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن یہ ساری زمین اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ایک کاغذ کی طرح لپٹے ہوئے ہوں گے ، یعنی ساری طاقت و قوت ایک اللہ کے ہاتھ میں ہوگی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ جن غیر اللہ کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں وہ غیر اللہ بےحقیقت چیز تھے۔ فرمایا کہ قیامت کا وہ ہولناک دن جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو سوائے ان لوگوں کے جنہیں وہ زندہ رکھنا چاہے گا کائنات کی ساری مخلوق مر کر ڈھیر ہوجائے گی لیکن جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سارے مردے زندہ ہو کر حیران و پریشان اٹھ کر چاروں طرف دیکھنے لگیں گے۔ اس دن زمین اپنے پروردگار کے نور تجلی سے جگمگا اٹھے گی ۔ سب کے نامہ اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ تمام پیغمبروں کو گواہ کے طور پر بلایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان اس طرح فیصلہ کردیا جائے گا کہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہوگی ۔ ہر ایک کو اس کے کئے کا پھل پوری طرح دیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں چند احادیث سے ان آیات کی تشریح ملاحظہ کرلیجئے۔ ٭حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے۔ ایک دن ایک یہودی عالم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا ۔ اے محمد ﷺ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا ، ایک انگلی پر زمینوں کو ، ایک انگلی پر پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر پانی اور زمین کی تہہ کو اور باقی مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر وہ ( ان پانچوں انگلیوں کو) حرکت دے کر گھمائے گا ( جس طرح گیند یا لٹو کو گھمایا جاتا ہے) اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں اور میں ہی تمہارا معبود اللہ ہوں۔ ( مسند احمد ، نسائی ، ابن ماجہ) بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو لپیٹ کر کے اپنے داہنے ہاتھ میں ( کاغذ کی طرح) لے لے گا اور فرمائے گا کہ آج میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کو اپنی مٹھی میں لے کر فرمائے گا ۔ میں ہوں اللہ رحمن و رحیم ، میں ( ایسا) بادشاہ ہوں کہ ( تمام عیبوں سے) پاک ہوں ۔ میں امن دینے والا ہوں ، میں نگرانی کرنے والا ہوں ، میں غالب ہوں ، میں بڑی طاقتوں والا ہوں ، میں بڑائی والا ہوں ، میں نے ہی دنیا کو ابتداء میں پیدا کیا تھا جب کہ وہ کچھ نہ تھی اور میں ہی اس کو دوبارہ پیدا کر رہا ہوں ۔ آج دنیا بھر کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ اور بڑی طاقتوں والے کہاں ہیں ؟ ( بخاری و مسلم) ٭قیامت میں پہلے صور کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا بعض روایات کے مطابق ان کے درمیان چالیس دن کا فصل ہوگا ۔ ٭جب اللہ تعالیٰ دنیا کو دوبارہ پیدا فرما دیں گے تو اللہ جلوہ گر ہوں گے۔ جس طرح کھلے آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اسی طرح وہ نور رب کو کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ٭ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال پر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اللہ کو ہر انسان کے ایک ایک عمل کی خبر ہے وہ لوگوں کے بتانے سے نہیں بلکہ اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے کیونکہ اللہ سے کوئی بات اور انسانوں کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayahs 39:71–75

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کی جماعتوں کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ اور وہ ( فرشتہ) جو اس جہنم پر متعین ہوگا وہ کہے گا کہ کیا تمہارے پاس تمہارے اندر سے ایسے پیغمبر نہیں آئے تھے جنہوں نے تمہارے سامنے تمہارے رب کی آیات تلاوت کر کے تمہیں اس سے ڈرایا تھا کہ تمہیں یہ ( بد ترین) دن دیکھنا پڑے گا ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں وہ پیغمبر آئے تھے۔ اور اس طرح ان کافروں پر عذاب ثابت ہو کر رہے گا ۔

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم جہنم کے دروازوں سے داخل ہو جائو ۔ اب تمہیں یہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے ، تکبر کرنے والوں کا یہ بد ترین ٹھکانہ ہے۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ہوگا ان کی جماعتوں کو جنت کی طرف ( عزت و احترام سے) لے جایا جائے گا۔ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو ان کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ان جنتیوں پر مقرر فرشتہ کہے گا ” تم پر سلامتی ہو ، تمہیں مبارک ہو ، اب تم ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائو “۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اہل جنت کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا اور ہمیں ( جنت کی زمین کا) مالک بنا دیا ۔ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں اپنا ٹھکانہ بنا لیں گے۔ ( دیکھو) ایسے نیکو کاروں کا کتنا بہترین بدلہ ہے۔

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور آپ دیکھیں گے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے حمد و تسبیح کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا ۔ اور کہا جائے گا کہ ساری حد وثناء رب العالمین کے لئے ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75 : وسیق (اس نے کھینچا ، گھسیٹا) زمر (جماعت ، گروہ) خزنۃ (نگران ، دیکھ بھال کرنے والا) حقت (ثابت ہوگئی) طبتم (تمہیں مبارک ہو) اور ثنا (ہمیں مالک بنا دیا) نعم ( بہترین) حافین (گھیرنے والے) حول العرش (عرش کے اردگرد) تشریح : آیت نمبر 71 تا 75 : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے میدان حشر کا نقشہ کھینچ کر بتا دیا تھا کہ یہ وہ انصاف کا دن ہوگا جس میں ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ کفار و مشرکین کو اس دن ذلت و رسوائی اور اہل ایمان کو عزت و عظمت نصیب ہوگی چناچہ مشرکین ، کفار اور منافقین کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر جہنم کے دروازوں تک پہنچا دیا جائے گا اور اہل ایمان کو نہایت عزت و احترام سے ہمیشہ کے لئے رہنے والی جنتوں تک پہنچایا جائے گا ۔ قیامت کے دن کفار و مشرکین اور منافقین کو جانوروں کی طرح گھسیٹ کر لایا جائے گا ۔ وہ اس دن بھوکے ، پیاسے ، بہرے، گونگے اور فرشتوں کی جھڑکیاں کھاتے ہوئے منہ کے بل گھسیٹ کر لائے جائیں گے۔ داروغہ جہنم ان سے پوچھے گا کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ کیا تمہیں اللہ کی آیات پڑھ کر نہیں سنائی گئی تھیں جن میں اس دن کے برے انجام سے آگاہ کیا گیا تھا ؟ وہ نہایت شرمندگی کے ساتھ اس بات کا اقرار کریں گے کہ ہاں ہاں وہ پیغمبر آئے تھے مگر یہ ہماری بد قسمتی تھی کہ ہم نے ان کی باتوں پر دھیان نہیں دیا۔ اس اعتراف و اقرار کر کے بعد ان پر کفر و انکار کف فرد جرم عائد کردی جائے گی ۔ ان کو جہنم کے اس جیل خانہ میں داخل کرنے کے لئے دروازے کھلوا دیئے جائیں گے جن میں ان سے کہا جائے گا کہ اب تم اس جہنم میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائو ۔ اللہ کے مقابلے میں تکبر اور بڑائی اختیار کرنے والوں کا یہ بد ترین ٹھکانہ ہے۔ دوسری طرف وہ صاحبان ایمان وتقویٰ ہوں گے جنہوں نے اللہ کی فرماں برداری میں زندگی گزاری ہوگی ، جنہوں نے اللہ کے خوف اور اس کی رضا کے لئے ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کی ہوگی ان کو نہایت خوبصورت اور بہترین سواریوں پر بٹھا کر نہایت عزت و احترام کے ساتھ جنت کی طرف لایا جائے گا ۔ اس وقت جنت میں داخل ہونے والوں کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے دمکتے ہوں گے۔ ان کے لئے جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھول دیئے ہوں گے اور وہ حسب مراتب جنت کے ان دروازوں سے داخل ہوں گے۔ جنت کے آٹھ دروازے ہوں گے جن میں فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور اہل جنت کی آمد پر ان کو مبارک باد دیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں جس جماعت کا داخلہ سب سے پہلے ہوگا وہ ستر ہزار افراد ہوں گے۔ جنت کا ہر دروازہ اہل جنت کی آوازیں دے گا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جس کو ہر دروازہ اپنی طرف آنے کے لئے پکارے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ایک ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر مجھے وہ دروازہ دکھایا گیا جس سے میری امت کے ( خاص خاص لوگ) داخل ہوں گے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کاش میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتا ( تا کہ اس دروازے کو دیکھ لیتا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوبکر ؓ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میری امت میں سب سے پہلا شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ تم ہو گے۔ جب داروغہ جنت اہل جنت کو مبارک باد دے کر یہ کہیں گے کہ اب تم اس جنت میں داخل ہو جائو جس میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے اس وقت یہ اہل جنت اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ الحمد للہ ہم سے اللہ نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ کر دکھایا اور ہمیں ان جنتوں کا مالک بنا دیا کہ ان میں ہم جس طرح چاہیں گے رہیں گے اور نیک کام کرنے والوں کا یہی بہتر انجام اور اجر ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اس وقت آپ دیکھیں گے کہ عرش کے چاروں طرف فرشتے حلقہ بنائے اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد وثناء کر رہے ہوں گے۔ تمام لوگوں میں فیصلہ کردیا جائے گا اور ہر ایک کی زبان پر یہی ایک ترانہ ہوگا ۔ الحمد رب العالمین۔ جنت کیا ہے ؟ اس کے لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا اور نہ اس کا تصور کسی دل پر گزرا ہے۔ مراد یہ ہے کہ جنت اتنی خوبصورت اور حسین و جمیل ہوگی کہ دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ تا ہم قرآن کریم کی آیات اور احادیث میں جنت کی خوبصورتی کے لئے جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٭جب اہل جنت اپنی اپنی جنتوں میں داخل ہوں گے تو وہ جنت میں خوبصورت بلند وبالا عمارتیں دیکھیں گے جن کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں کی ہوں گی جو مشک اور زعفران کے گارے سے چنی گئی ہوں گی۔ ٭اس کی روشیں اور راستے زمرد ، یاقوت اور بلور کی ہوں گی۔ ٭ان جنتوں میں ایسی صاف شفاف نہریں بہہ رہی ہوں گی جن کے کنارے جواہرات سے مزین ہوں گے کوئی نہر شہد کی ہوگی کوئی دودھ اور خوش ذائقہ شراب کی۔ ٭جنت کے فرش نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل ہوں گے۔ ٭ایسی حوریں ہوں گی جو ان کی ہم عمر اور خوبصورت ہوں گی ، ان کے لباس ایسے نازک اور باریک تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے کہ ستر تہوں میں بھی بدن جھلکتے ہوں گے۔ ٭نہ وہاں سردی ہوگی نہ گرمی ، نہ سورج کی تیز و تند شعاعیں ہوں گی نہ تاریکی بلکہ ایسا وقت لگے گا جیسے صبح کو سورج نکلنے سے پہلے کا سہانا وقت ہوتا ہے۔ ٭وہاں نہ کوئی بیمار ہوگا ، نہ گندگی ہوگی نہ محنت اور نہ مشقت ٭سیر و تفریح کے لئے ایسی تیز رفتار سواریاں ہوں گی ، ایسے تخت ہوں گی جو ہواؤں پر اتنی تیزی سے اڑیں گے کہ ایک مہینے کا سفر ایک گھنٹے میں طے کریں گے۔ ٭جنتی جس چیز کی خواہش کریں گے تو وہ ان کو اسی وقت مل جائے گی اگر ان کو کسی درخت کا پھل پسند آئے گا تو اس کی شاخیں خود بخود اس کی طرف جھک جائیں گی اور وہ بغیر کسی محنت مشقت کے اس کا پھل توڑ سکے گا ۔ ٭بہترین اور خوبصورت تکیئے لگائے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوں گے۔ ٭اہل جنت کے لئے مشک و عنبر کے ٹیلے ہوں گے۔ ٭جب ہوا چلے گی تو درخت طوبیٰ کے ہر پتے سے بہترین نغمے سنائی دیں گے جس سے سننے والوں پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجائے گی۔ جنت کی حوریں بھی اپنی خوش الحانی سے اپنے شوہروں کا دل لبھائیں گی۔ ٭وہاں سب سے بڑی نعمت دیدار الٰہی ہوگا ۔ دیدار الٰہی کے وقت بعض خوش الحان بندوں حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اور حضرت دائود (علیہ السلام) سے کہا جائے گا کہ وہ اللہ کی پاک بیان کریں ۔ اس وقت ایسا عجیب سماں ہوگا کہ سننے والوں پر وجد طاری ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی جنت کی یہ نعمتیں عطاء فرمائیں۔ آمین۔ ان آیات کے ساتھ ہی الحمد للہ سورة زمر کی آیات کا ترجمہ ، اس کی تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔