38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 38:41–44

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ (میرے پروردگار ) مجھے شیطان نے ( وسوسوں کے ذریعہ) ایذا اور دکھ پہنچا رکھا ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے کہا کہ) اپنا پائوں زور سے زمین پر مارو غسل کرنے اور پینے کے لئے میٹھا اور ٹھنڈا پانی (نکل آئے گا)

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اسی جیسے ( اور بھی اہل خانہ) عطاء کئے۔ یہ ہماری طرف سے خاص رحمت اور عقل و فہم رکھنے والوں کے لئے نصیحت تھی ۔

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کا مٹھا ( یا کھجور کی ایک شاخ جس میں سو شاخیں ہوں) لے کر اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑ و ۔ بیشک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا بہت اچھا اور رجوع کرنے والا بندہ پایا ۔

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نصب ( بیماری ، تکلیف ، مشقت) ارکض (ہلا کر زور سے مارو) رجل ( پاؤں) مغتسل ( نہانے کا پانی) شراب ( پینے کی چیز ، مشروب) اول الالباب ( عقل و فہم والے) ضغثا (تیلیوں یا سینکوں کا مٹھا) لاتحنث (قسم نہ توڑ) تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ ” واصبر علی مایقولون “ یعنی جو کچھ لوگ باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے ان کی مثال بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے خوش حالی کے زمانہ میں شکر اور شدید مشکلات اور بیماریوں میں صبر کا دامن تھا مے رکھا ۔ شیطان نے ہر طرح وسوسے ڈالنے اور ان کی خدمت گزار بیوی کو گمراہ کرنے کی کوششیں کیں لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے ان کو شیطان کی گمراہیوں سے محفوظ رکھا۔ اسرائیلی روایات سے قطع نظر قرآن کریم میں اس جگہ کے علاوہ تین اور مقامات پر حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کے صبر و شکر کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اللہ نے خوش حالی ، گھر کا سکون ، بچوں کی رونق اور مال و دولت سے نواز رکھا تھا لیکن اچانک میں ایسی زبردست تبدیلی آئی کہ ان کا گھر بار ، مال و دولت ( اور ان کی بیوی کے سوا) ساری اولاد ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد وہ شدید بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ۔ تمام رشتہ داروں اور دوستوں نے ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور وہ شہر سے باہر کسی جھونپڑی میں رہنے پر مجبور ہوگئے سوائے ان کی بیوی جن کا نام رحمت تھا وہ ان کے ساتھ رہ گئیں اور انہوں نے دن رات بےمثال خدمات سر انجام دیں ۔ ایک دن شیطان نے انسانی شکل میں آ کر ان کی بیوی سے یہ کہا کہ میں ایک طبیعت ہوں تمہارے شوہر کو شفاء حاصل کرنے کی دادا دے سکتا ہوں اس پر میں تم سے کوئی اجرت نہیں لیتا بس اتنا چاہتا ہوں کہ جب تمہارے شوہر کو شفاء مل جائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی ، چونکہ سخت تنگی اور بد حالی کے زمانہ میں آدمی کے ذہن میں صرف ایک ہی بات رہتی ہے کہ بیماری کو شفاء مل جائے۔ جب اس بات کا ذکر انہوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کیا تو انہیں اس سے سخت رنج اور تکلیف اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب مجھے شفاء مل جائے گی تو تمہاری اس حرکت پر تمہیں سو لکڑیاں ماروں گا ۔ ادھر شیطان نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرنے شروع کردیئے۔ اگرچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) صبر و شکر کے پیکر تھے مگر ان تمام حالات کے بعد انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ الٰہی اب تو شیطان نے بھی مجھے تکلیف اور رنج و غم دینا شروع کردیا ہے مجھے ان حالات سے نکالئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں آپ موجود ہیں وہاں زمین پر زور سے پاؤں ماریئے آپ دیکھیں گے کہ وہاں سے پانی کا ایک چشمہ ابلنے لگے کا وہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہوگا اس سے غسل کیجئے اور بیجئے۔ چنانچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا جب ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ بہہ نکلا تو آپ نے اس سے پیا اور غسل کیا جس سے تمام بیماریاں ختم ہوگئیں اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرا کرم یہ کیا کہ صحت و شفاء حاصل ہونے کے بعد ان کے تمام گھر والے جو مر گئے تھے نہ صرف ان کو زندہ کردیا بلکہ اس سے زیادہ ان کو اولاد اور دولت و حشمت عطاء فرما دی جس سے پہلے جیسی چہل پہل شروع ہوگئی۔ بیماری کے دوران حضرت ایوب (علیہ السلام) نے جو اپنی بیوی کو سو لکڑیوں سے مارنے کی قسم کھائی تھی اس کے لئے فرمایا کہ آپ اپنی قسم پوری کریں اور اپنی قسم کو نہ توڑیں لیکن ان کی بیوی کی عظیم خدمات تھیں اس لئے فرمایا کہ سو سینکوں کا ایک گٹھا بنا لیں یا کھجور کی ایک ایسی شاخ لے لیں جس میں سو لکڑیاں ہوں ان کی ایک ہی دفعہ ماریں تو اس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کی قسم پوری ہوگئی۔ اس مرحلہ پر فقہاء کرام (رح) نے فرمایا ہے کہ اب ہر شخص کو اس طرح کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خصوصی طور پر معاملہ کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تمام حالات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے جس طرح صبر اور برداشت کا دامن تھامے رکھا وہ اپنی جگہ ایک بہترین مثال ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ سے فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے شدید حالات میں بھی صبر ، برداشت اور اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کی بارگاہ میں جھگ کر مانگا تو ان کو پہلے سے زیادہ عطاء کیا گیا ۔ ہر شخص جو اللہ کے دین کی سر بلندی اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے صبر و شکر کرتا رہے گا اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی کامیابی اور عظمتوں سے ہم کنار کرتا جائے گا لیکن جو بےصبری اور نا شکری کا طریقہ اختیار کرے گا اور شیطان کے بہکائے میں آ کر غلط سلط راستہ اختیار کرے گا اس کو دنیا میں اور آخرت میں تو خاص طور پر ذلتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
Ayahs 38:45–64

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ ہمارے بندے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جو قوت والے اور بصارت رکھنے والے تھے۔

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص کیا تھا اور وہ ( صفت) آخرت کے گھر کو یاد کرنا تھا۔

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بیشک وہ سب ہمارے نزدیک بہت اچھے اور چنے ہوئے منتخب لوگوں میں سے تھے۔

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور آپ اسماعیل (علیہ السلام) ، السیع (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیجئے جو بہترین منتخب لوگوں میں سے تھے۔

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ( ان کا ذکر) ایک نصیحت ہے اور پرہیز گاروں کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے ،

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے ہوئے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور وہاں کھانے کے لئے کثرت سے میوے اور پینے کی چیزیں ( مشروبات) طلب کر رہے ہوں گے۔

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی ( شرم و حیاء کی پیکر) ہم عمر عورتیں ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا حساب والے دن میں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا ۔

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

(اس کے بر خلاف) وہ لوگ جنہوں سے سر کشی ( ضد ، ہٹ دھرمی) اختیار کی تھی

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

ان کا بد ترین ٹھکانہ ہوگا ۔ وہ ٹھکانہ ختم ہوگا جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہاں ان کے لئے بہت گھٹیا ( بہت بری) آرام کی جگہ ہو گی

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے جہنم جس میں کھولتا ہوا پانی اور بد بو دار سڑی ہوئی چیزیں ہوں گی اور کہا جائے گا کہ اس کو چکھو

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور ان کے علاوہ عذاب کی اور مختلف شکلیں ہوں گی

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

ایک اور جماعت تمہارے ساتھ عذاب میں شریک اوپر تلے گھسی چلی آرہی ہوگی ۔ ان کے لئے کوئی خوش خبری نہ ہوگی ۔ اور بیشک یہ لوگ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

جواب دیں گے کہ تمہارا ستیا ناس ہوجائے تم ہی یہ مصیبت ہمارے آگے لے کر آئے ہو جو بد ترین ٹھکانہ ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جو بھی ہمارے آگے مصیبت کو لایا ہے آپ جہنم میں اس کو دوگنا عذاب دیجئے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ کیا بات ہے ہم ( اس جہنم میں) ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم برا سمجھتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

اور ہم نے ان کا مذاق بنا رکھا تھا ( یہ سب کچھ صحیح ہے یا) ہماری آنکھیں خطاء کر رہی ہیں

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک جہنم والوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل بر حق ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی جانے والی سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر خیر کیجئے جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے یعنی جنہیں اللہ تعالیٰ نے جسمانی قوت و طاقت اور فہم و فراست اور ذہنی بصیرت کی دولت سے مالا مال کیا تھا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کے لوگ تھے۔ اللہ نے ان کو جو صلاحتیں اور عظمتیں عطاء کی تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو دنیا کی حقیر اور عارضی لذتوں کی طرف مائل تھے نہ وہ دنیا کی راحتوں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے بلکہ ان کا ہر عمل ، کوشش اور جدوجہد اللہ کی رضا و خوشنودی اور ان کی ساری بھاگ دوڑ صرف آخرت کے اس گھر کی طرف تھی جس کی ہر نعمت ہمیشہ کے لئے ہوگی ۔ فرمایا کہ اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت الیسع (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جو سب کے سب اللہ کے منتخب بندے تھے جو ہر بات کو حقیقی نظر سے دیکھ کر فیصلے کیا کرتے تھے جو بالکل صحیح تھے۔ فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والے ایسے لوگوں کے لئے جنت کو بہترین ٹھکانہ بنایا گیا ہے ۔ کہ ایسی راحتوں سے بھر پور جنتیں ہوں گی جن کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔ وہ تکیہ لگائے بہترین مسہریوں پر بیٹھے ہوئے مشروبات اور طرح طرح کے مزیدار میوے اور پھلوں سے دل کو بہلا رہے ہوں گے ان کے چاروں طرف شرم حیاء کی پیکر نیچی نگاہیں رکھنے والی ہم عمر نہایت حسین و جمیل حوریں ہوں گی ۔ اس حساب والے دن ان کو ہر وہ چیز دی جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ نعمتیں دنیا کی وقتی اور عارضی نعمتیں نہیں ہوگی جن کے ختم ہوجانے کا ڈر اور خوف لگا رہتا ہے بلکہ جو چیز بھی دی جائے گی وہ ہمیشہ کے لئے ہوگی جس میں کبھی کسی طرح کی کمی نہیں آئے گی ۔ نہ ان کو وہاں کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک اور گناہوں میں زندگی گزاری ہوگی ، جنہوں نے سر کشی ، ضد اور ہٹ دھرمی کرتے ہوئے انبیاء کرام کی تعلیمات کو جھٹلایا ہوگا ان کو جہنم جیسی بد ترین جگہ کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس میں کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو پیپ ان کی غذا ہوگی بلکہ اس جیسی بہت سے عذاب کی شکلیں ہوں گی جن میں انہیں جھونک دیا جائے گا ۔ جب یہ اہل جہنم دیکھیں گے کہ کچھ لوگوں کی جماعتیں جہنم کی طرف آرہی ہیں تو وہ ان کو پہچان کر کہیں گے کہ یہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اور وہ اوپر تلے گھستے ہی چلے آئیں گے۔ وہ آنے والوں کا استقبال کرنے کے بجائے ان پر لعنتیں بھیجتے ہوئے کہیں گے کہ تمہارا ستیا ناس ہوجائے تم نے دنیا میں ہمیں گمراہ کیا اور ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ آج ہمیں جو بھی عذاب دیا جا رہا ہے اس میں مبتلا کرنے والے تم لوگ ہو جنہوں نے ہمیں جہنم جیسی بد ترین جگہ تک پہنچا دیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے الٰہی ! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈال دیا تھا ان کو جہنم کی دوگنی سزا دیجئے۔ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ جب وہ دوگنی سزا کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جو لوگ راستے سے بھٹک گئے ہیں اور جنہوں نے بھٹکایا تھا دونوں کو برابر سزا ملے گی۔ اسی دوران انہیں ان اہل ایمان کا خیال آجائے گا جنہیں وہ دنیا میں ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے گھٹیا اور حقیر شمار کر کے دن رات ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں ؟ بعد میں انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو جنت کی ابدی راحتوں میں مگن اور خوش ہیں اور اللہ نے ان کو ان کے نیک اعمال کا اجر عظیم عطاء فرمادیا ہے۔ اس طرح وہ کفار حسرتوں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے اور جھگڑتے رہیں گے۔ فرمایا کہ ان دونوں کافر گروہوں کا آپس میں لڑنا بر حق ہے اور ایسا ہی ہوگا اور اہل جنت ابدی راحتوں میں ہوں گے۔