35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 35:38–41

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو سینوں میں چھپی ہوئی باتوں سے بھی واقف ہے۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں ( خلیفہ بنایا) آباد کیا ۔ جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا ( وبال) اسی پر ہے۔ اور کافروں کا انکار ان کے رب کے نزدیک ناراضگی بڑھانے ہی کا سبب رہا ہے ۔ اور منکروں کے لئے ان کا انکار سوائے نقصان کے کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتا ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہو مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ؟ یا ان کی آسمانوں میں کیا حصہ داری ( ساجھا ہے) یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس کی وجہ سے وہ ( اپنے ہر شرک پر) کوئی سندر رکھتے ہیں بلکہ ( حققت یہ ہے کہ ) یہ ظالم ایک دوسرے کو وعدوں کے جال میں پھنسا رہے ہیں ۔

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اس طرح سنبھال رکھا ہے کہ وہ گر نہ پڑیں ۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس اللہ کے سوا کون ہے ان کو تھامنے والا ؟ بیشک اللہ بہت برداشت کرنے والا بخشنے والا ہے۔

لغات القرآن :۔ آیت نمبر 38 تا 41 :۔ ذات ( والا) مقت ( عذاب) خسار ( نقصان ، گھاٹا) ارونی ( مجھے دکھائو) یمسک (وہ سنبھالتا ہے) ان تزولا ( یہ کہ وہ دونوں ڈھلک نہ جائیں) تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا نظام ایسا بنایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر راز اور بھید سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اس زمین و آسمان کی تمام مخلوق کی نیتوں ، خواہشوں ، اعتقاد ات اور دلوں کا حال جاننے والا ہے اور وہ قیامت میں ان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کا قولی یا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل یا سند بھی نہیں ہے تو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود ان کے کفر اور آخرت کے نقصان میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے بلکہ وہ کفر و شرک میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں۔ فرمایا کہ ( اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھائو وہ کون سے تمہارے معبود ہیں جو تمہاری ہر حاجت اور ضرورت کو پورا کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فرمایا کہ کہئے اللہ نے تو سب کچھ پیدا کیا ہے لیکن تمہارے ان جھوٹے معبودوں نے کائنات کے کس ذرے کو پیدا کیا ہے یا انہوں نے اللہ کے ساتھ مل کر اس کائنات کے بنانے میں کیا شرکت کی ہے ؟ یقینا ان کے دل اور ضمیر چیخ اٹھیں گے کہ واقعی یہ سب کچھ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے جس کی تخلیق میں وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ فرمایا کہ ( اے نبی ﷺ ان سے پوچھئے کہ یہ سب باتیں کہنے کے لئے تمہارے پاس وہ کون سی کتاب نازل کی گئی ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ اللہ کے سوا یہ بےبس اور عاجز و محبوربت بھی اللہ کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ فرمایا کہ ان ظالموں نے لوگوں کو کتنے بڑے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ان آسمانوں اور زمین کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ وہ ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اگر وہ اس پورے نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے نہ ہوتا تو زمین و آسمان ایک دوسرے سے ٹکرا کر ختم چکے ہوتے ۔ فرمایا کہ اللہ ان کافروں کی فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ ان کو اپنے حلم و برداشت اور معاف کردینے کی عادت کی وجہ سے نظر انداز کر رہا ہے ۔ اگر اللہ ان کو ہر گناہ پر اسی وقت پکڑ لیا کرتا جب یہ کوئی گناہ یا خطا کرتے تو یہ روئے زمین پر ایک دن بھی نہ ٹھہر سکتے۔
Ayahs 35:42–45

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور ان ( کفار و مشرکین نے) بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہا تھا کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آگیا تو وہ ( دنیا کی) ہر قوم سے بڑھ کر زیادہ ہدایت حاصل کرنے والے ہوں گے لیکن جب ان کے پاس خبردار کرنے والا آگیا تو ان کی نفرت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا ۔

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

یہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والوں اور بد ترین چالوں ( والے لوگوں کی وجہ سے) ہوا ۔ حالانکہ بری چالوں ( کا وبال) صرف اس کے کرنے والے پر ہی پڑتا ہے۔ کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں ان کے ساتھ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں جیسا معاملہ کیا جائے ( تو یاد رکھو کہ) تم اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہ پائو گے اور نہ اللہ کی سنت کو بدلنے والا پائو گے۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگ جو قوت و طاقت میں بہت آگے تھے ان کا انجام کتنا بھیانک ہوا ۔ (یاد رکھو) زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ کو ( بےبس اور) عاجز کر دے۔ بیشک وہ بہت علم والا اور بہت قدرت والا ہے۔

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگوں کے اعمال پر ( ان کو فوراً ) ہی پکڑ لیا کرتا تو زمین پر ایک جان دار کو بھی نہ چھوڑتا ۔ وہ ان کو ایک مقرر مدت تک ( سنبھلنے اور سمجھنے کی) مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب وہ مدت آجائے گی تو اللہ اپنے بندوں کو خود ہی دیکھ لے گا ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد (آگے بڑھ گیا) ایمان ( یمن) (قسمیں) اھدی (زیادہ ہدایت والا) السیی ( برائی ، گناہ) لا یحیق ( نہیں گھبرا تا ہے) عاقبۃ ( انجام) یو اخذ ( وہ پکڑتا ہے) اجل ( مدت) بصیر (بہت دیکھنے والا) تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 :۔ یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں اپنی عملی برتری کا اظہار کرنے کے لئے کفار عرب کو طعنے دیتے تھے کہ تم گمراہ ہو اور تمہاری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ تمہارے اندر تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا اور نہ تمہیں کوئی کتاب ہدایت دی گئی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلو تمہاری نجات اسی میں ہے کیونکہ ہم صاحب کتاب ہیں ۔ کفار مکہ یہود و نصاریٰ کے طعنے سن سن کر جب عاجز آگئے تو بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہنے لگے کہ اگر ہمارے اندر کوئی نبی اور رسول آیا تو ہم ان کا کہا مان کر حسن عمل کا ایسا پیکر بن کر دکھائیں گے کہ دنیا بھر کی امتیں حیران رہ جائیں گی اور تہذیب و شائستگی میں ساری دنیا سے آگے نکل جائیں گے۔ یہ تو ان کے زبانی دعوے تھے لیکن جب اللہ نے کئی ہزار سال کے بعد ایک ایسے عظیم نبی حضرت محمد ﷺ کو ان کی ہدایت کے لئے بھیجا جن کی عظمت و شان سے بڑھ کر کوئی نہ تھا تو انہوں نے کہا ماننے کے بجائے نہ صرف ان کی اطاعت و فرماں برداری سے انکار کردیا بلکہ اپنے آپ کو اعلیٰ و برتر اور بڑا سمجھنے والی متکبرین نے اپنی سازشوں کا جال اس طرح پھیلا دیا کہ جو بھی دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کی طرف قدم بڑھاتا تو اس کو شدید ترین مکرو فریب کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے آخری نبی اور رسول اور آخری کتاب (قرآن مجید) دے کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا ہے تا کہ قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کا سامان ہوجائے ۔ اب اگر کفار مکہ نے ان کی اطاعت و فرماں برداری اختیار نہ کی تو پھر اللہ کا وہ دستور سامنے آجائے گا جو نہ تو تبدیل ہوتا ہے اور نہ ٹلتا ہے۔ فرمایا کہ ان نافرمانوں کو ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا چاہیے جو ان سے پہلے گزری ہیں جن کے کھنڈرات سے یہ لوگ گزرتے ہیں اور ان گمراہوں کی تاریخ اور انجام سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ساری دنیا کی طاقتیں اور قوتیں مل کر بھی اللہ کو بےبس اور مجبور نہیں کرسکتیں وہ جب چاہتا ہے اپنے حکم سے بڑی سے بڑی طاقت و قوت کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ یہ تو اللہ کا حلم و برداشت ہے کہ وہ انسانوں کے گناہوں پر فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ ان کو سنبھلنے اور سمجھنے کا موقع دیتا ہے اور برداشت سے کام لیتا ہے البتہ اس نے انجام کے لئے ایک مدت مقرر کی ہوئی ہے لیکن جب وہ فیصلے کی گھڑی آجائے گی تو پھر اس کے فیصلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا اور لوگ اپنے انجام کی پہنچ جائیں گے۔ اللہ نے ہر ایک کو اپنی نظروں میں رکھا ہوا ہے وہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے اچھی طرح واقف ہے۔ الحمد للہ ان آیات کے ساتھ سورة فاطر کا ترجمہ و تشریح تکمیل تک پہنچی واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین