Ayahs 34:39–45لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45
یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے
تتلی : تلاوت کی گئی
یصد : وہ روکتا ہے
افک : جھوٹ
مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا
یدرسون : وہ پڑھتے ہیں
بلغوا : وہ پہنچے
معشار : دسواں حصہ
نکر : عذاب
تشریح آیت نمبر 39 تا 45
اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با امر لوگ ہیں لیکن جو لوگ نا شکری کرتے ہوئے کفر و شرک کی روش اختیار کرتے ہیں وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنے ہی کامیاب کیوں نہ سمجھے جاتے ہوں وہ اللہ کے نزدیک ناکام لوگ ہیں ۔ جن کو آخرت میں سوائے ناکامی اور حسرت کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا ۔ لہذا ایمان والوں کا اس بات پر یقین کامل ہوتا ہے کہ رزق کی وسعت یا رزق کی تنگی سب اللہ کی طرف سے ہے ۔ اگر وہ تنگی کے باوجود اللہ کی راہوں میں خرچ کریں گے تو ان کو پورا پورا بدلہ دیاجائے گا کیونکہ اللہ ہی وہ ہے جو بہترین رزق عطا کرنے والا ہے ۔
شیطان جو انسان کا ازلی اور کھلا ہوا دشمن ہے وہ لو گوں کو گمراہی کے راستے پر ڈالنے کے دو طریقے اختیار کرتا ہے
سب سے پہلے تو لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اگر وہ اللہ کا قرب چاہتے ہیں تو و ہ ( نعوذ باللہ ) اللہ کی بیٹوں یعنی فرشتوں کی عبادت و بندگی کریں اسی میں ان کی کامیابی ہے۔ تاریخی انسانی گواہ ہے کہ شیطان کے جال مین پھنس جانے والے نادانوں نے فرشتوں کے بت بنا کر ان کو معبود کا درجہ دیا تھا اور ان کی عبادت و بندگی شروع کردی تھی۔ جو فرشتے اللہ کے حکم سے بارش برسانے پر مقرر کئے گئے تھے ان کو رزن اور بارش کو دیوتا ، جو فرشتے ہواؤں اور فضاؤں پر متعین تھے ان کو ہواؤں اور فضاؤں کا دیوی دیوتا مان کر ان کے سامنے سر جھکانا اور ان کو مشکل کشا ماننا شروع کردیا ۔ جنانچہ قیامت کے دن فرشتوں کے سامنے جھکنے والوں ، ان کو اپنا سفارشی ماننے والوں اور ان کی عبادت و بندگی کرنے والوں کو بےنقاب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے سوال فرمائیں گے کہ کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ وہ تمہیں اپنا معبود اور سفارشی سمجھ کر تمہاری عبادت و بندگی کریں ؟ فرشتے نہایت ادب و احترام سے عرض کریں گے الہی ! آپ کی ذات اس عیب سے پاک ہے کہ آپ کی شان معبود اور سفارشی سمجھ کر تمہاری عبادت و بندگی کریں ؟ فرشتے نہایت ادب واحترام سے عرض کریں گے الہی ! آپ کی ذات اس عجیب سے پاک ہے کہ آپ کی شان معبود یت میں کسی کو شریک یا برابر کا سمجھا جائے۔ ہمارا ایسے لوگوں سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے۔ ہم تو آپ کے فرماں بردار بندے اور غلام ہیں ہم اس بات کا کیسے دعوی کرسکتے ہیں کہ آپ کو چھوڑا کر وہ ہمیں اپنا معبود سمجھیں ۔ ہمارے سامنے سر جھکائیں اور ہماری اطاعت ، عبادات اور بندگی کریں۔ اصل یہ لوگ ہمارا نا م لے کر شیطان کی عبادت کرتے تھے جس نے ان کے ذہنوں اور دلوں میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑا کر اس کے عاجز و بےبس بندوں کو اپنا معبود اور مشکل کشا مان لیں گے تو وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ فرشتوں کے اس صاف، واضح اور ٹوک جواب کے بعد اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا اور نہ نقصان پہنچانے کے قوت رکھتا ہے۔ تم نے جن ہستیوں کو یا فرشتوں کو اپنا معبود اور مشکل کشا مان رکا ہے وہ اس کے سامنے محتاج اور عاجز بندے ہیں جو اپنی مر ضی اور خوشی اپنے لب بھی نہیں ہلا سکتے اور کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ چونکہ تم نے کفر اور شرک اختیار کیا ہے اس لئے اب تمہیں جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ اور اس مشکل وقت میں کوئی تمہارا ساتھ نہ دے سکے گا۔
(2) شیطان کے گمراہ کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب عام لوگوں کے سامنے اللہ کی صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان پر ایمان لانے کے بجائے الٹی سیدھی اور فضول باتوں پر اتر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگو ! اس شخص (حضرت محمد ﷺ کی باتوں میں مت آنا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ وہ معبود جن کی تمہارے باپ اور دادا عبادت و بندگی کرتے آئے ہیں ان سے تمہیں روک دے۔ وہ یہاں تک کہہ ڈالتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ جس قرآن کو اللہ کا کلام کہتا ہے وہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ جب عام لوگ ان کے مکروہ اور بےبنیاد پروپیگنڈہ کے باوجود قرآن کریم کی سچائیوں کو دل سے قبول کرکے آگے بڑھتے تو کہنے لگتے کہ یہ قرآن ایک جادو ہے یا جادو کی کتاب ہے جس نے لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں جادو کے زیر اثر کہہ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی لچر اور فضول باتوں کی بجائے نبی کریم ﷺ اور ان پر اتاری گئی آیات کو ایک نعمت کو طور پر قدر کرنا چاہیے تھی کیونکہ جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی ہدایت کے لئے کتابیں دی گئی تھیں سیکڑوں سال سے جزیرہ نمائے عرب والوں کو نہیں دی گئی تھیں جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے اور اسی طرح صدیوں سے ان کے پاس کوئی ڈرانے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والا نبی اور رسول آیا۔ ان کفار مکہ کو ان نعمتوں کی دل سے قدر کرانا چاہیے تھی کیونکہ جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی ہدایت کے لئے کتابیں دی گئی تھیں سیکڑوں سال سے جزیرہ نمائے عرب والوں کو نہیں دی گئی تھیں جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے اور اسی طرح صدیوں سے نہ ان کے پاس کوئی ڈرانے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والا نبی اور رسول آیا۔ ان کفار مکہ کو ان نعمتوں کی دل سے قدر کرنا چاہیے تھی کیونکہ اسی میں ان کی فلاح اور کامیابیکا راز پوشیدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ والے جو اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور معمولی سے مال دولت پر فخر کرتے ہیں انہیں ان گوگوں کے حالات کا علم نہیں آیا جب ان خوش حال قوموں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا تو اللہ کا زبردست قہر نازل ہوا ۔ ان کے مال دولت اور ترقیات ان کے عذاب سے نہ بچا سکیں اور وہ دنیا سے اس طرح مٹ گئے کہ آج ان کی زند گیا قصہ اور کہانی بن کر رہ گئیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ مال و دولت اور دنیاوی اسباب کوئی فخر کی چیز نہیں ہیں کیونکہ یہ تو اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہیں ۔ وہ کسی کو خوب مال و دولت اور راحت و سکون کے اسباب سے نواز دیتا ہے اور کسی کو فقر و فاقہ کی زندگی دے دیتا ہے بعض لوگ مال و دولت کو جہنم کے انگار بنا لیتے ہیں اور بعض لوگ ہر حال میں اللہ کے بندوں پر خرچ کرکے اس بات کی امید اور توقع رکھتے ہیں کہ ہم اللہ کے بندوں پر جتنا بھی خرچ کریں گے اس سے دلی سکون وا طمینان اور خوشی و مسرت کی دولت ہاتھ آئے گی اور اللہ ایسا بہترین رزق عطا کرنے والا مہر بان آقا ہے کہ وہ اس کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرماتا ہے۔
ایک مومن کو اس بات پر یقین کامل ہوتا ہے کہ اللہ ہی سب کی مشکلوں کو آسان بنانے والا ہے اس کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں ہے اس نے اپنی ذات سے مانگنے کے طریقے خود ہی بتا دیئے ہیں لہذا اس سے مانگنے کے لئے مختلف واسطوں اور وسیلوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جب آدمی اللہ سے براہ راست مانگنے کے بجائے وسیلوں کے چکر میں پڑجاتا ہے تو وہ اور اس کی آئندہ نسلیں سب کچھ بھول کر ان وسیلوں ہی کو معبود کا درجہ دے دیتے ہیں جس طرح کفا رم کہ بتوں اور فرشتوں کو اللہ سے مانگنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
البتہ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی آدمی اس طرح اللہ سے مانگتا ہے کہ ” اے اللہ فلاں بزرگ جو تیرے نیک اور متقی بندے تھے آپ نے جس طرح ان پر کرم فر مایا تھا اسی طرح میرے اوپر بھی عنایت فر مادیجئے۔ اس طرح کا وسیلہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسی طرح دعا کرنے کو لازمی نہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے بغیر دعا کرنے سے اس کی دعا قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ تمام انبیاء کرام اور اللہ کے نیک بندے صرف اللہ ہی سے مانگتے تھے ۔ ہمیں بھی یہی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سے پہلے بھی اس بات کی اچھی طرح وضاحت کردی گئی ہے کہ جزیرہ العرب کے رہنے والوں کو اگرچہ مختلف انبیاء کرام کی تعلیمات تو پہنچتی تھیں لیکن جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کتابیں دی گئیں تھیں اس طرح عرب والوں کو براہ راست کوئی کتاب نہ دی گئی تھی۔ نیز اسی طرح سینکڑوں سا ل سے ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہ آیا تھا۔ کفاری مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ تمہارا کتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمہیں اللہ نے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ اور ان کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید جو آخری کتاب ہے وہ نعمت کے طور پر عطا کی ہے انہیں اس کی قدر کرنا چاہیے۔ وہ ایسے عظیم المرتبت نبی ہیں جن پر کائنات کا ذکر ذرہ ناز کرتا ہے عرب والوں کو ان کی قدر کرتے ہوئے ایمان لانا چاہیے اسی میں ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
نبی کریم ﷺ سے پہلے بہت زبردست اور طاقت ورقو میں گذری ہیں جو اپنی دولت اور بلند وبالا بلڈنگوں اور اپنے تہذیب و تمدن پر ناز کیا کرتی تھیں لیکن انہوں نے نافرمانی کی بھی حد کردی تھی ان کو انبیاء کرام کے ذریعہ ہر طرح آگاہ اور خبر دار کیا گیا لیکن جب وہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور کفر شرک کے طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوئے تو ان پر اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اللہ نے ان کی بستیوں اور ان کے تہذیب و تمدن کو اس طرح تباہ کردیا کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت کو نہ ماننے والے عرب جن کو گذشتہ قوموں کا دسواں حصہ بھی نہیں دیا گیا اگر وہ اسی طرح نافرمانی میں لگے رہے تو ان کا انجام بھی گذشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا کیونکہ جب اللہ کے رسول اور اس کی تعلیمات کو جھٹلایا جاتا ہے تو پھر اللہ کے فیصلے اور قہر سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔
Ayahs 34:46–54لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54
اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں
مثنی : دو دو
فرادی : ایک ایک
صاحب : ساتھی
یقذف : وہ پھینکتا ہے
ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا
فزعوا : وہ گھبرا گئے
التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا
یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں
تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54
اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی حماقتوں پر اہل عرب کو اغاہ کیا تو دل جان سے عزت و احترام کرنے والوں نے آپ ْ کو شاعر ، جادوگر اور دیوانہ کہنا شروع کردیا کیونکہ وہ اپنے باپ دادا کی رسموں کی توہین برداشت نہ کرسکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ اپنے تمام مخالفین سے کہ دیجئے کہ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم سب مل کر یا الگ الگ ذرا اس بات پر غور کرو کہ حق و صداقت کی دعوت دینے والا کیا مجنوں یا دیوانہ ہو سکتا ہے جب کہ وہ ایک طویل عرضہ تک تمہارے درمیان رہا ہے ۔ جو تمہارے ہی شہر کا رہنے والا ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تمہارے سامنے ہے۔ دن رات کا کوئی گوشہ تم سے پوشیدہ نہیں ہے جو ، تمہیں قیامت کے آنے والے شیدید عذاب سے آگاہ اور خبردار کرنے والا ہے ۔ جس کا یہ حال ہے کہ وہ تم سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھتا ہے ۔ کیا ایسا شخص مجنوں یا دیوانہ ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حق و صداقت کی آواز ہے جو آخر کا ساری دنیا پر غالب آکر رہے گی کیونکہ جب بھی حق نکھر کر سامنے آتا ہے تو باطل اپنی جڑوں سے اکھڑ جاتا ہے اور اپنی حیثیت کھو بیٹھتا ہے ۔ فرمایا کہ آپ بھی کہہ دیجئے کہ باطل اور جھوٹ نہ کسی چیز کی ابتداء کرتا ہے نہ کسی چیز کو دوبارہ پیدا کرنے کی اس میں صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔ نیز آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ اگر میں تمہارے غلط گمان کے مطابق راہ سے بھٹکا ہو ہوں تو اس کا نقصان مجھے ہی پہنچے گا اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر میں ہدایت اور سچائی پر ہوں تو اسکی وجہ یہ کہ میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے وہی قریب اور دور سے ہر ایک کی بات سننے والا اور ہر ایک کی دعا قبول کرنے والا ہے ۔ فرمایا کہ یہ لوگ آج بڑی بڑی باتیں بنا رہے ہیں کل قیامت میں ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ عذاب الہی سے بچنے کے لئے گھبرائے ہوئے کسی کونے میں چھپ جانے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن وہ جہاں بھی جائیں گے تو اللہ کے فرشتے انہیں اسی جگہ سے پکڑ کرلے آئے گے اور جہنم میں جھونک دیں گے اور وہ عذاب الہٰی سے کسی حال میں بچ نہ سکیں گے اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور کہیں گے اب ہم اس نبی پر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گذرا وقت کسی کے ہاتھ میں نہیں آتا ۔ جو چیز اس کے ہاتھ سے نکل جائے اس کو لوٹانا ممکن نہیں ہوتا۔ جب وہ اپنی خطائوں کا اقرار کرلیں گے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ ایمان کا مقام ان سے بہت دور جاچکا ہے اب اس پر پچھتانے اور شرمندگی کا اظہار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ایمان اس اس وقت تک معتبر تھا جب تک وہ دنیا کے دارلعمل میں تھے لیکن جب انہوں نے اس وقت کو گنوادیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دولت ایمان کو ہاتھ برھا کر اٹھالیں گے اگر وہ دنیا میں شک اور کشمکش میں زندگی نہ گذارتے تو یقینا ان کو راہ نجات حاصل ہو سکتی تھی لیکن وقت نکلنے کے بعد اس اعتراف و اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا میں اپنے گناہ سے معافی مانگنے اور حسن عمل کو توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں ہر طرح کی رسوائیوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
الحمد للہ ان آیات کے ساتھ سورة سبا کا ترجمہ اور اس کی تشریح مکمل ہوئی
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین