30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 30:41–45

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں (ان کے کفر و شرک کی وجہ سے) فساع پھیل گیا جو کچھ ان کے ہاتھوں نے کمایا ۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض کئے ہوئے کاموں کا مزہ چکھا دے۔ شاید کہ وہ باز آجائیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (تم سے) پہلے (نافرمان) لوگوں کا انجام کیسا ہوا۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ اپنے چہرے کو دین قیم (نہایت درست اور بہتر دین) کی طرف ہی رکھیئے۔ اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے (مقرر) ہے اور ٹلنے والا نہیں ہے۔ اس دن سب لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس نے کفر کیا اس کا (وبال) اسی پر ہے اور جس نے عمل صالح (بہترین اعمال) کئے تو اس نے اپنے نفع کے لئے سامان (راحت) تیار کرلیا ہے

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے اور عمل صالح کئے اپنے فضل و کرم سے بدلہ عطا کرے۔ بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

(لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 45 ( ظھر (ظاہر ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بحر (تری۔ دریا۔ سمندر) ۔ کسبت (اس نے کمایا) ۔ یذیق (وہ چکھاتا ہے) ۔ سیروا (تم چلو پھرو) ۔ دین القیم (بہترین اور مستحکم دین) ۔ لا مرد (ٹلنے والا نہیں ہے) ۔ یصدعون (الگ الگ ہوجائیں گے) ۔ یمھدون (وہ ہدایت حاصل کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 41 تا 45 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر کے کسی کو اس کا شریک نہ ماننا، اسی کی عبادت و بندگی اور اعمال صالحہ کی روش پر چلنا، ہر طرح کے گناہوں اور برے اعمال سے رک جانا دین فطرت ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کفروشرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتا آنا خلاف فطرت ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے جس کی اس دینا میں اور آخرت میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں دنیا میں سزا کی مختلف سورتیں ہیں مثلاً بارش کی کمی سے قحط اور وباؤں کا پھوٹ پڑنا، کھیتوں اور باغات کی پیداوار کا کم ہونا، آندھی اور طوفانوں اولوں اور بگولوں کا آ کر تباہی مچا دینا، پانی کے سیلاب سے گھروں کا اجڑ جانا، مویشیوں میں بیماریوں کا پھیل جانا، دنیا پر حکمرانوں کا مظلوم انسانوں کی گردنوں پر مسلط ہوجانا، آپس میں الفت و محبت اور اتحاد و اتفاق کے جبائے اس انداز سے انتشار کا پھیل جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے میں شرم و حیا کا اٹھ جانا، طرح طرح کی بیماریوں کی کثرت، آمدنی میں بےبرکتی اور اخراجات کا بڑھ جانا، بےحیائیوں، گناہوں اور گانے بجانے کا بڑے پیمانے پر پھیل جانا، بڑوں اور بزرگوں کا ادب احترام اٹھ جانا، والدین کی نافرمانی کرنا، زنا اور بدکاری، شراب نوشی اور نشے کی چیزوں کا عام ہونا، چوری ڈکیتی، مکروفریب، دھوکے بازی اور رشوت کا وبا کی طرح پھیل جانا یہ سب اللہ کے عذاب کی اور اس کی طرف سے سزاؤں کے دینے کی مختلف شکلیں ہیں جن سے انسانی اعمال کی وجہ سے ہر طرف تباہی و بربادی، بےسکونی اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ نافرمانی اور کفروشرک کی آخرت میں سزا کس قدر پھیانک ہوگی اس کا تو تصور اس عنیا میں کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا اور آخرت کے ان عذابوں اور سزاؤں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے واسطے سے پوری نسل انسانی کو بتایا ہے کہ سب مل کر اس دین قیم (درست، مستحکم اور مضطوط دین) کو اپنالیں تو ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی لیکن اگر اللہ کا فیصلہ آگیا تو وہ نہ ٹلنے والا ہے اور نہ کوئی اس کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگذری ہوئی قوموں کے کھنڈرات کو دیکھیں کہ عظیم قوموں کی طاقت وقوت، بلند وبالا بلڈنگیں، مال و دولت کی کثرت اور عیش و عشرت کے سامان، تہذیب و تمدن کی ترقیات اس وقت ان کے کسی کام نہ آسکیں جب ان پر اللہ کا فیصلہ اور عذاب آگیا تھا۔ لہذا وہ دن جب نیک اور بد دونوں الگ کردیئے جائیں گے۔ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو ان کا بہترین بدلہ عطا کیا جائے گا اور برے اعمال رکھنے والے لوگوں کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ اگر آخرت کے اس دن کے آنے سے پہلے ہی اپنی اصلاح کرلی جائے تو بہتر ہے ورنہ اس کے عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ہے۔
Ayahs 30:46–50

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ (بارش سے پہلے) خوش خبری دینیوالی ہوائیں بھیجتا ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھا دے (فائدے عطا کر دے) تاکہ کشتیاں (جہاز) اس کے حکم سے چلیں اور تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر ادا کرو۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

یقینا ہم نے آپ ﷺ سے پہلے ان کو قوم کی طرف بہت سے رسول بھیجے تھے جو ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ پھر ہم نے (نافرمانیوں کے سبب) مجرموں سے انتقام لیا۔ اور مومنین کی مدد کرنا (ان کو غالب کرنا) ہماری ذمہ داری ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو آسمان (بلندیوں) میں پھیلا دیتا ہے اور وہ ان بادلوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے بارش برسنا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے تو وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں۔

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان کے برسنے سے پہلے مایوس ہوچکے تھے۔

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تم اللہ کی نشانیوں کی طرف دیکھو کہ وہ اپنی رحمت سے مردہ ہوجانے والی زمین کو کس طرح زندہ (ترو تازہ) کردیتا ہے۔ بیشک وہی مردوں کو (دوبارہ ) زندہ کرے گا۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات آیت نمبر 46 تا 50 مبشرات (کوش خبری دینے والیاں) ۔ اجرموا (جنہوں نے جرم کیا) ۔ حق (حق ہے۔ ذمہ داری ہے) ۔ تشیر (وہ پھیلاتا ہے) ۔ سحاب (بادل) ۔ کسف (ٹکڑا۔ تقسیم کرنا ) ۔ ودق (بارش) ۔ اثر (اثر) (نشایاں) ۔ تشریح : آیت نمبر ( 46 تا 50) اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے خزاں کے بعد بہار، مصیبت کے بعد راحت، دکھ کے بعد آرام و سکون اور ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح کفرو شرک اور اللہ کی نافرمانیاں جب حد سے برھ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاکیزہ نفوس انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجتا ہے جو اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے کفر و شرک اور نافرمانیوں کو نہ چھوڑا تو اللہ کا عذاب آئے گا جو تمہاری تمام ترقیات کو مٹاکر رکھ دے گا۔ اس طرح گویا کفروشرک کی وجہ سے جو خزاں کا موسم طاری ہوجاتا ہے وہ موسم بہار سے بدل جاتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے نبی کریم ﷺ تک بیشمار انبیاء اور رسول تشریف لائے جنہوں نے راستے سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم پر چلایا۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب قیامت تک آپ کی امت کے علماء کرام اس فریضے کو پورا کرتے رہیں گے اور جب بھی لوگ کفروشرک میں مبتلا ہوں گے ان کی اصلاح کر کے ان کے سکون کا انتظام فرماتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ بارش سے پہلے خوش خبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے جن سے گرمی میں جھلسے ہوئے لوگ اس تصور کے ساتھ خوش ہوجاتے ہیں کہ اب گرمی کا موسم ختم ہوجائے گا اور اس کی شدت سے نجات مل جائے گی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ یہ خوش گوار ہوائیں جب دریا اور سمندر میں چلتی ہیں تو چھوٹے اور بڑے جہاز اور کشتیاں ایک جگہ سے دوسری جگہ چلی جاتی ہیں جن سے اللہ کا فضل و کرم اور تجارتی لین دین میں ترقی ہوتی ہے اور اس طرح بہت سے لوگوں کو اپنا رزق حاصل کرنے میں سہولت میسر آجاتی ہے۔ یہ اللہ کا اتنا پڑا کرم ہے کہ اس پر ہر ایک کو اس اللہ کا شکر گذار ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح جب کسی قوم میں اللہ کی نافرمانیوں کو وجہ سے کفر وشرک پھیل جاتا ہے تو وہ اپنے رسولوں کو بھیجتا ہے تاکہ ان کی زندگیوں میں رونق، بہار، نئی زندگی اور تروتازگی آجائے۔ جو لوگ ان کی بات مان لیتے ہیں تو اللہ نے اپنے ذمے لیا ہے کہ ایسے ایمان والوں کی وہ ہر حال میں مدد فرمائے گا لیکن جو لوگ ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ستاتے ہیں اور ان کا کہا نہیں مانتے ان سے اللہ انتقام لے کر چھوڑتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت کی زندگی برباد ہو کر وہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ بارش سے پہلے وہ اللہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کو بھیجتا ہے وہی بادلوں کو ہواؤں کے دوش پر اٹھاتا ہے جو تہہ درتہہ بادلوں کی شکل میں زمین کے مختلف ٹکڑوں کی طرف چلتے ہیں۔ جہاں وہ بادل برستے ہیں وہاں کے لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں حالانکہ وہ اس سے پہلے اس قدر مایوس ہوچکے ہوتے ہیں کہ جیسے ان پر کبھی بارش برسے گی ہی نہیں۔ اس طرح اللہ اس زمین کو جو خشک اور بنجر ہونے لگتی ہے اس کو بارش کے برسنے سے ایک نئی تازگی اور زندگی عطا کردیتا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح بارش کے برسنے سے مردہ زمین دوبارہ تروتازہ ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ کی یہ قدرت کاملہ ہے کہ وہ تمام ان لوگوں کو جو مر کر گل سڑ گئے ہوں گے ان کو اپنی رحمت خاص سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح بارش نہ برسنے سے زمین خشک، بنجر اور بےرونق ہوجاتی ہے لیکن بارش برستے ہی اس میں ایک نئی تروتازگی اور رونق آجاتی ہے اسی طرح جب انسانی ذہنوں کی دنیا بےرونق اور اجاڑ ہوجاتی ہے تو اللہ کے انبیاء کرام (علیہ السلام) آکر ان کو دنیا اور آخرت کی ایک نئی اور کامیاب زندگی سے آشنا کرتے رہے ہیں۔ کفار مکہ کو بھی اشارۃ بتایا جارہا ہے کہ ان کی زندگیوں کی بےرونقی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل ایمان لا کر عمل صالح زندگی اختیار نہ کی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مکہ کے ان لوگوں نے جو خوف، بھوک اور باہمی جگھڑوں کی وجہ سے مردہ ہوچکے تھے جب نبی کریم ﷺ کے دامن رسالت سے وابستگی اختیار کی تو ان کو ایک ایسی زندگی مل گئی جس میں ہر طرف امن و سکون، خوش حالی اور دین و دنیا کی بھلائیوں کی رونقیں تھیں۔ صحابہ کرام ؓ کی کوششوں سے ساری دنیا کا موسم تبدیل ہوگیا اور ساری دنیا جو بےرونق ہوچکی تھی اس میں ایک نئی زندگی اور تروتازگی پیدا ہوگئی تھی۔ آج بھی مسلمانوں کو ترقی اور زندگی کی بہاریں بنی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے اسوہ حسنہ کے ذریعہ ہی نصیب ہو سکتی ہیں۔
Ayahs 30:51–54

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور البتہ اگر ہم (ان پر) ایسی ہوائوں کو بھیجیں جن سے ان کی کھیتیاں زود دکھائی دیں تو وہ اس کے بعد شکری کرنے لگیں گے۔

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

بیشک آپ ﷺ مردوں کو نہیں سنوا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جارہے ہوں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

نہ آپ ان لوگوں کو (جواندھے بنے ہوئے ہیں) گم راہی سے نکال کر راہ ہدایت دکھا سکتے ہیں۔ آپ ان لوگوں کو ہی سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے اور فرماں برداری اختیار کرتے ہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ضعیف اور کمزوری کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر اس نے تمہاری کمزوری دور کر کے تمہیں طاقت وقوت بخشی۔ پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا طاری کیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جاننے والا اور قدرت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 54 مصفر (زرد) ۔ مدبرین (پیٹھ دکھانے والے) ۔ شیبتہ (بڑھاپا) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے) تشریح : آیت نمبر (51 تا 54) ” گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ جب بارش سے پہلے خوش خبری دینے والی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ اس تصور سے پھولے نہیں سماتے کہ بارش کے بعد موسم کی شدت کم ہوجائے گی اور ان کی کھیتیاں ہری بھری ہوجائیں گی درختوں پر رونق آجائے گی ایسے لوگ خوش تو ہوتے ہیں مگر اس اللہ کا شکرادا نہیں کرتے جس نے اپنے کرم سے بادل بھیج کر ان سے ان کو سکون عطا کیا ہے۔ اس کے برخلاف اگر ان کی ہری بھری کھیتیوں پر سخت سردی، شدید گرمی یا خشک اور جھلسا دینے والی ہوائیں چل پڑتی ہیں جن سے ان کی کھیتیاں بےرونق اور زرد پڑجاتی ہیں تو وہ ناشکری پر ارت آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے ان پر یہ ظلم کیوں کیا۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو ہر وقت اپنے فائدے میں لگے رہتے ہیں اور اپنی ہی ذات میں گم رہتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں تو اے نبی ﷺ ! اگر یہ آپ کی باتوں کی ناقدری کرتے ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ اصل میں نبی کریم ﷺ اس بات سے سخت رنجیدہ رہتے تھے کہ مکہ والے ان کی سچی باتوں پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اگر وہ میری بات مان لیں تو ان کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو حق دکھا سکتے ہیں جو آنکھیں رکھتے ہوں۔ آپ ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو کان رکھتے ہوں لیکن وہ لوگ جو آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے بنے ہوئے ہوں اور کان رکھنے کے باوجود بہرے بنے ہوئے ہوں آپ ان کو نہ تو حق دکھا سکتے ہیں اور نہ سنا سکتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کر کے اللہ کی فرماں برادری میں لگے ہوئے ہیں وہی آپ کی بات سمجھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں لہذا اپنا مشن اور مقصد جاری کھئے یہی اہل ایمان ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ ناشکرے لوگ صرف اتنا غور کرلیتے کہ جب وہ پیدا ہوئے تھے کس قدر کمزور تھے اور بڑھاپے میں جاکر پھر انتہائی کمزور اور ضعیف ہوجائیں گے۔ زندگی کی ان دو کمزوریوں کے درمیان جوانی اور طاقت کا جو زمانہ انہیں نصیب ہوتا ہے اس پر اترانے اور فخر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ جوانی اور اس کی طاقت بھی آخر کار کمزوری میں بدل جائے گی ۔ اللہ نے جو بھی طاقت اور جوانی عطا کی ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ورنہ جب زندگی کی کھیتی زرد پڑجائے گی تو پھر عمل کا وہ وقت باقی نہیں رہے گا جو آج حاصل ہے۔
Ayahs 30:55–60

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی وہ مجرم قوم کھا کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ اس طرح وہ (دنیا کی زندگی میں) دھوکے میں پڑے رہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق حشر تک (پڑے سوتے) رہے۔ یہی ہے وہ جی اٹھنے کا دن جسے تم جانتے نہ تھے۔

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پھر اس دن ان ظالموں کو ان کی معذرت نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی کے لئے کہا جائے گا ۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں۔ اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ بھی) لے کر آئیں گے تو وہ یہی کہیں گے کہ تم جھوٹ پر قائم ہو۔

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اس طرح اللہ لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو سمجھ نہیں رکھتے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس آپ صبر کیجئے۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60 الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔ کبھی کہیں گے کہ ہم دنیا میں بہت کم ٹھہرے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم صرف ایک گھنٹہ دنیا میں رہ کر آئے ہیں اگر ہمیں اور موقع دیا جاتا تو ہم گناہوں سے توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ کفارو مشرکین جس مختصر مدت کی قسم کھا کر یہ کہہ رہے ہیں اس سے مراد عالم برزخ یا قبر ہے جس کے متعلق وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں۔ یہ ان کی بےتکی اور بہکی باتیں ہوں گی جن کے جواب میں اہل علم واہل ایمان کہیں گے کہ تم اللہ کے علم اور لکھے ہوئے کے مطابق قیامت میں دوبارہ اٹھنے تک سوتے رہے ہو ۔ اللہ نے جتنی مدت اور وقت دیا تھا وہ سوچنے، سمجھنے اور نیک اعمال کے لئے کافی تھا۔ اب تو وقت گذر چکا ہے۔ اب تو وہ دن ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور اپنے رسولوں کے ذریعہ جس کی خبر دی گئی تھی مگر تم نے رسولوں کی باتوں اور قرآن مجید پر غورو فکر نہیں کیا۔ اگر تم غور سے سنتے اور سمجھتے تو تمہارا یہ حال نہ ہوتا۔ مگر تم تو دنیا کے دھندوں اور دنیا کی چمک دمک میں ایسے لگے رہے کہ کسی سچی اور حق بات کو سننا گواراہی نہ کرتے تھے آج تم کسی عذر کو پیش کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ اور تم سے کسی معذرت کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن مجید کو تمام انسانیت کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے جس میں ہر طرح کی مثالوں کو مختلف انداز سے باربار پیش کیا ہے۔ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آپ کوئی نشانی یا معجزہ بھی لا کر دکھا دیں تب بھی یہ لوگ اس کا انکار کر کے کہیں گے کہ آپ جھوٹ پر قائم ہیں۔ سچائی آنے کے بعد جو لوگ انکار پر انکار کرتے چلے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہریں لگا دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ صبر و تحمل سے کام کیجئے اور اپنے مشن اور مقصد کی کامیابی کے لئے جدوجہد کرتے رہیے اللہ نے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ برحق ہیں اور پورے ہو کر رہیں گے۔ آپ اپنے مقصد اور گفتگو میں حلم و تحمل ، برداشت اور عزم و ہمت پر قائم رہیے۔ آپ کی بھاری بھر کم شخصیت کے سامنے آخر سب کو جھکنا پڑے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال اور مدنیہ منورہ میں دس سال تک انتہائی نازک موڑ آئے لیکن آپ یا آپ کے جاں نثار صحابہ کرام مصائب اور پریشانیوں کے آگے نہیں جھکے بلکہ آپ نے اپنی با عظمت سیرت کے ذریعہ ساری دنیا میں نہایت مختصر مدت میں ایک ایسا عظیم انقلاب پیدا فرما دیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ الحمدللہ سورة الروم کی آیات کا ترجمہ اور اس کی تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین