Ayahs 29:41–44لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 44) ۔
العنکبوت (مکڑی) ۔ اتخذت (بنایا) ۔ اوھن (سب سے کمزور۔ کمزور ترین) ۔ خلق (اس نے پیدا کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (41 تا 44) ۔ ” ابتدائے کائنات سے نبی کریم ﷺ تک جتنے بھی بیشمار انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے عقیدہ کی گندگیوں میں ملوث لوگوں کی اصلاح کے لئے بتایا کہ اللہ ہی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا، سب کو رزق دینے والا اور سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے وہ صرف ایک اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی ہر ایک کا محافظ و نگران، نفع اور نقصان کا مالک اور ہر ایک کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے وہ اگر کسی پر اپنی رحمتوں کو نازل کرتا ہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے اور اگر نہ دینا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس کو دلوا نہیں سکتی۔ ایسا مضبوط اور پائے دار عقیدہ رکھنے والے صرف اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرکے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اور کسی خیر اور فلاح سے محروم نہیں رہتے۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کرتے ہیں وہ در حقیقت مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور اور ناپائیدار چیز پر اعتماد اور بھروسہ کئے ہوئے ہیں جو دنیا اور آخرت میں کسی کام نہ آسکے گا۔ کیونکہ مکڑی جو ایک خوبصورت گھر بناتی ہے وہ مکھی اور بھنگے جیسے کیڑوں کو پکڑ کر اپنے جال میں تو پھنسا لیتی ہے لیکن وہ گھر اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ اگر ایک بچہ بھی اس کو پھونک ماردے یا ہاتھ لگا دے تو پورا جالا ٹوٹ کا اس کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ گھرنہ اپنی حفاظت کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کی۔ اسی طرح جو لوگ غیر اللہ کی عبادت و پرستش کرتے ہیں وہ اس سے بھی کمزور عقیدہ اور ذہن پر چل رہے ہیں۔ اس کے بر خلاف اللہ پر اعتماد اور یقین و ایمان ایک ایسی قوت و طاقت کا نام ہے کہ جب وہ کسی کے دل میں جم جاتا ہے تو پھر ساری دنیا کی طاقتیں اور ان کا ظلم و ستم بھی اس خیال اور جذبہ کو اس کے دل سے کھرچ کر نہیں نکال سکتیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) ، ان کی امتوں اور نافرمان قوموں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
جن لوگوں نے اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں کو اپنا سب کچھ بنا رکھا ہے ان کی مثال اس مکڑی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا لیکن اس حققیت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوا کرتا ہے۔ کاش وہ لوگ اس حققیت پر کبھی غور و فکر کرتے۔
فرمایا کہ اللہ ان سب لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ وہ اللہ زبردست حکمت رکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ مثالیں جنہیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں ان پر وہی غورو فکر کرسکتے ہیں اور اس کو پوری طرح جان سکتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے۔ اسی پر یقین رکھنے والوں کے لئے ان میں عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلو موجود ہیں۔
Ayahs 29:45–47لغات القرآن آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔
اتل (پڑھ۔ تلاوت کر) ۔ اوحی (وحی کی گئی) ۔ اقم (قائم کر) ۔ تنھی (روکتا ہے) ۔ لا تجادلوا (تم نہ جھگڑو ) ۔ ما یجحد (وہ انکار نہیں کرتا) ۔
تشریح : آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ کو خطاب کرتے ہوئے درحققیت آپ کی پوری امت کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ہمت و جرات سے آگے بڑھتے رہنا اور حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود مایوس نہ ہونا سنت انبیاء ہے۔ کیونکہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام گذرے ہیں ان کی امتوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تھی وہ ان کا مذاق اڑاتے، پھبتیاں کستے اور طرح طرح سے ستاتے تھے مگر انبیاء کرام اور ان پر ایمان لانے والوں نے مخالفین کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لیا۔ جب انکار کرنے والے حد سے گذر گئے تو اللہ نے ان پر ایسے ایسے عذاب بھیجے جس سے وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔
ان آیات میں نبی کریم ﷺ کے واسطے سے پوری امت سے فرمایا گیا ہے کہ وہ تلاوت کلام اللہ، نماز اور اللہ کے ذکر سے اپنے دلوں کو روشن ومنور کرتے جائیں اور اگر راہ حق میں اہل کتاب کی طرف سے خاص طور پر کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں جو تمہیں باگوار گذریں تو ان سے الجھنے کے بجائے احسن طریقے سے جواب دے دیا جائے یعنی اگر کوئی سخت بات کہی گئی ہو تو اس کا جواب نرم لہجے اور تہذیب و شائستگی سے دیا جائے غصہ اور انتقامی جذبات کا جواب صبر و تحمل سے اور جاہلانہ باتوں کا جواب وقار اور سنجیدگی سے دیا جائے تاکہ راہ سے بھٹکے ہوئے لوگ بات اور گفتگو میں اجنبیت کے بجائے اپنائیت محسوس کریں۔ البتہ نرمی اور شرافت میں اعتدال کی روش اختیار کی جائے تاکہ وہ لوگ جن کا کام زیادتی ہی کرنا ہے وہ نرمی اور شرافت کو اہل ایمان کی کمزوری نہ سمجھ لیں۔ ہر ایک کو سمجھا دیا جائے کہ آئو ہم سب مل کر ان سب کتابوں پر ایمان لے آئیں جو پہلے سے نازل کی جا چکی ہیں اور جو کچھ نبی کریم ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اس پر بھی ایمان لائیں۔ کیونکہ تمہارا اور ہمارا پروردگار ایک ہی ہے ہمیں صرف اسی کا فرماں بردار ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جن لوگوں کو پہلے سے تاب دی گئی ہے وہ ضرور ایمان لے آئیں گے لیکن جن لوگوں کو انکار کرنا ہے وہ کسی بات کو تسلیم نہ کریں گے۔ ان تمام باتوں کو ان آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے اے نبی ﷺ ! آپ کی طرف کتاب میں سے جو کچھ وحی کی جائے اس کی تلاوت کیجیے۔ تلاوت قرآن کریم سے مراد ان آیات کو پڑھ کر سنانا اور سمجھانا ہے اور وحی کی تبلیغ بھی ہے یعنی قرآن کریم کا پڑھنا، پڑھانا، سمجھنا اور سمجھانا اس کے احکامات پر پوری طرح عمل کرنا ضروری ہے تاکہ یہ آیات ہر مومن کے دل کا نور بن جائیں۔
دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اے نبی ﷺ ! نماز کو قائم کیجیے۔ نماز کیا ہے ؟ نماز سب سے اہم عبادت ہے، پانچوں نمازوں کو ان کے وقت کے ادر ادا کیا جائے کیونکہ مسجدوں میں پانچ وقت کی نمازوں سے یہ تصور ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ نماز پڑھنے والا اللہ کا بندہ ہے۔ اس کے بتائے ہوئے احکامات کا پابند ہے۔ وہ جو بھی عمل کر رہا ہے اس کو پوری برح علم صرف اللہ کو ہے۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان کوئی دوسرا نہیں ہے۔ وہ اس اللہ کی عبادت و بندگی کر رہا ہے جو دلوں اور نیتوں کے تمام احوال سے اچھی طرح واقف ہے۔ جس بات کو ساری دنیا سے چھپایا جاسکتا ہے اس کو اپنے اللہ سے نہیں چھپایا جاسکتا۔ نمازوں سے اس کا یہ خیال بھی پختہ ہوتا جاتا ہے کہ اس کو ایک دن اسی طرح اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہے۔ نماز ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر اس میں تواضع اور انکساری پیدا کرتی ہے۔ نماز سے انسان ہر برح کے فحش اور منکرات سے محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے۔
(فحشا) ہر وہ کام یا بات جس کی برائی انکار نہیں کرتا اس میں یہ شرط نہیں کہ وہ آدمی مومن ہے یا کافر ایک انسان کی حیثیت سے وہ ان باتوں کو برا سمجھتا ہے جیسے زنا، بدکاری، قتل ناحق، چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، غیبت اور چغل خوری وغیرہ۔
(منکر) ہر وہ کام اور بات جس کے ناجائز اور برا ہونے کا فیصلہ شریعت کے مطابق کیا گیا ہو۔ نماز فحشا اور منکر سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔ در حقیقت ان دو لفظوں میں تمام ظاہری اور باطنی گمروہیوں اور بیماریوں کی تفصیل آجاتی ہے۔ یعنی یہ دو باتیں ساری دنیا میں فساد کر جڑ ہیں اور ہر نیک کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر فحشا اور منکر ختم ہوجائیں تو دنیا بھر کے لوگوں کو امن و سکون نصیب ہوجائے۔ فرمایا کہ یہ سکون تلاوت قرآن اور اقامت صلوۃ سے نصیب ہوتا ہے۔
البتہ اگر ایک شخص تلاوت کلام اللہ اور اقامت صلوۃ کے فریضے کو بھی ادا کرتا ہے اور دنیا بھر کی خرافات میں بھی مبتلا رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بری عادتیں اقامت صلوۃ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جو نمازوں کا پابند ہے اور زمین فساد بھی مچاتا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اس نے نمازی کو صورت تو بنالی ہے مگر وہ اپنے اندر اس روح کو پیدا نہ کرسکا جو نمازوں کے قائم کرنے کا مقصد تھا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے ایسے نمازیوں کے متعلق ناپسند یدگی کا اظہار فرمایا ہے۔ حضرت عمر ان ابن حصین ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء و المنکر “ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اس کی نماز نے فحشا اور منکر سے نہ روکا اس کی نماز کچھ نہیں (ابن ابی حاتم) ۔ اس حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوا کہ نماز کے منع کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر طرح کے گناہوں سے بچتا رہے کیونکہ نماز کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے پڑھنے والوں کو گناہوں سے بچنے کی توفیق مل ہی جاتی ہے۔ اور جس کو یہ توفیق نصیب نہ ہو وہ اس بات کو سمجھ لے کہ اس کی نماز میں کوئی خاص کمی ہے اور اس نے اقامت صلوۃ کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔
ان آیات میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑھ کر ایک سچائی ہے۔ ذکر اللہ اور اللہ کی یاد یہ ہے کہ ایک مومن کو اللہ کی طرف سے جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کی جائے اور جس چیز سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جائے اللہ کو یاد بھی رکھاجائے اور اللہ کو یاد بھی کیا جائے کیونکہ ذکر اللہ بلا شبہ ایک اعلی ترین عبادت ہے اللہ کی یاد سے انسان کو اس کی معرفت نصیب ہوتی ہے۔
چوتھی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اب ان کو اہل کتاب سے واسطہ پڑے گا۔ ہو سکتا ہے وہ کچھ ایسی باتیں کر گذریں جن سے اہل ایمان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو تو فرمایا کہ اگر وہ کوئی سخت انداز اختیار کریں تب بھی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ جواب میں الفاظ اور لہجہ دونوں نرم ہوں۔ غصہ اور انتقام کی باتوں کا جواب تحمل اور برداشت سے دیا جائے۔ جاہلانہ باتوں کا جواب وقار اور سنجیدگی سے دیا جائے۔ اگر الفاظ اور گفتگو میں شائستگی اور نرمی اختیار کی جائے تو راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح آسان ہوجاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام اپنے ماننے والوں سے تہذیب و شائستگی، شرافت و معقولیت، حلم و تحمل اور وقار و سنجیدگی کی توقع رکھتا ہے البتہ جو لوگ ظلم و زیادتی کرتے ہیں ان کے ساتھ ظلم کو نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے تاکہ دشمنان اسلام اہل ایمان کی نرم مزاجی کو ان کی کمزوری نہ سمجھ بیٹھیں۔
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور کفار سے بحث و مباحثہ کے وقت بہترین رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ لوگ جو مسلمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں ان کے اخلاق کریمانہ سے وہ دین اسلام کے قریب آجائیں۔ ارشاد ہے۔
اپنے رب کے راستے کی طرف بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور لوگوں سے مجادلہ (بحث و مباحثہ) کرو تو اس میں احسن طریقہ اختیار کرو۔ (النحل آیت نمبر 125) ۔
فرمایا۔ بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں (دین اسلام کا دفاع اس طرح کرو) جو بہترین طریقہ ہو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جو دشمن تھا وہ ایک گہرا اور گرم جوش دوست بن جائے گا (حم السجدہ۔ آیت نمبر 34) ۔
فرمایا گیا کہ (لوگو ! ) تم معافی اور درگذر کی روش اختیار کرو۔ بھلائی کی تلقین کرو۔ اور جاہلوں کے منہ نہ لگو ۔ اگر شیطان تمہیں (غلط) جواب دینے پر اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگتے رہو۔ (الاعراف۔ آیت نمبر 199) ۔
آخر میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے یہ کتاب (قرآن مجید) آپ پر نازل کی ہے۔ جن لوگوں میں (اہل کتاب میں سے خاص طور پر) ایمان لانے کی صلاحیت ہے وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ (اور یہ مکہ والے بھی) اس پر یقین رکھتے ہیں (لیکن زبان سے اقرار نہیں کرتے) بہرحال وہ لوگ جو کافر ہیں وہی اس سچائی کا انکار کرسکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان کا جذبہ ہے وہ قرآن کریم جیسی سچائی کا انکار نہیں کرسکتے۔
Ayahs 29:48–55لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔
لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔
تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں
نے اپنی دنیاوی مقاصد کے لئے بیشمار ان باتوں کو شامل کرلیا تھا جو اللہ نے نازل نہیں کی تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس کتاب (قرآن مجید) کو نازل فرمایا جو قیامت تک ساری انسانیت کی رہبری کرتی رہے گی۔ اہل کتاب میں سے جو بھی حق و انصاف پر قائم ہیں وہ ان آیات اور سچائیوں کی تصدیق کریں گے اور بغیر کسی رکاوٹ کے ایمان لے آئیں گے۔ لیکن وہ لوگ جو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں وہ صرف طرح طرح کے اعتراضات تو کریں گے مگر ہر سچائی سے آنکھیں بند کئے رہیں گے۔ اب اس سے بڑی سچائی کیا ہوگی کہ نبی کریم ﷺ جن کی زندگی کے چالیس سال ان اہل مکہ کے سامنے گذرے تھے جو اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ نے نہ کسی سے پڑھا، سیکھا اور نہ کبھی قلم ہاتھ میں لیا جس سے کچھ تحریر کیا جاتا ہے بلکہ آپ ” امی “ تھے۔ آپ کا امی ہونا ہی آپ کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے کیونکہ ایک چھوٹے سے معاشرہ میں عام طور پر ہر شخص ایک دوسرے کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوا کرتا ہے۔ بیخبر نہین ہوتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چالیس سال جو زندگی کا ایک اچھا خاصا طویل وقت ہوتا ہے اس میں نہ تو آپ نے ان باتوں کا اظہار کیا جن سے گذشتہ انبیاء کرام کے حالات زندگی اور مختلف مذہبوں کے عقیدے اور ان کا اچھا یا برا انجام سامنے آتا ہے۔ نہ قوموں کی تاریخ ، ان کی تہذیب، تمدن، معاشرت، معیشت اور اخلاق کا بیان کیا ۔ اچانک یہ علوم کے دریا جاری ہوگئے جن کے حاصل ہونے کا ذریعہ محض وحی الہی ہے اور دوسرا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے، آپ کے پڑھانے والے استاد ہوتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ انہوں نے ہم سے پڑھا ہے اور آج یہ پیغمبر بن بیٹھے ہیں۔ اول تو سارے عرب میں چند لوگ ہی پڑھے لکھے تھے۔ پورے مکہ میں بڑی تعداد میں اہل کتاب بھی نہیں تھے جو ان کو سکھا دیتے۔ لہذا وحی الہی کے سوا کوئی دوسرا ویسا ذریعہ نہیں تھا جس سے یہ علوم حاصل ہوتے۔ ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے آن آیات میں واضح فرمایا ہے۔ ارشاد ہے۔
اے نبی ﷺ ! اس کتاب سے پہلے نہ تو آپ پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ ایسا ہوتا تو یہ جھوٹے لوگ آپ پر طرح طرح کے شبے کرسکتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ کلام ان کے دلوں میں موجود ہے جنہیں علم و بصیرت دیا گیا ہے وہ ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرسکتے کیونکہ ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو ظالم اور بےانصاف لوگ ہیں۔ فرمایا کہ وہ کفار یہ کہتے ہیں اگر یہ نبی ہیں تو گذشتہ انبیاء کی طرح ان کو معجزات کیوں نہ دیئے گئے جن کو دیکھ کر ہم ایمان لے آتے ؟ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ معجزات دکھانا یہ اللہ کے قبضہ قدرت اور اختیار میں ہے۔ معجزہ دکھانا میا کام نہیں ہے میں تو برے کاموں کے برے انجام سے ڈرانے اور باخبر کے لئے آیا ہوں۔ فرمایا کہ کیا ان لوگوں کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر ایک ایسی کتاب کو نازل کی ہے جس کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ یقینا اہل ایمان ہی اس رحمت اور نصیحت سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کی بات کو نہیں مانتے تو ان سے کہہ دیجے کہ میرے اور تمہارے درمیان صرف اللہ کی گواہی کافی ہے۔ وہ اللہ جو زمین اور آسمانوں کی ہر بات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔ فرمایا کہ نضر ابن حارث جیسے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ! اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان سے پتھ برسا دو اور وہ دردناک عذاب لے آئو جس کی دھمکیاں سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے ہاں اس کا ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو کبھی کا عذاب آچکا ہوتا۔ اور یقینا وہ عذاب اس
طرح اچانک آئے گا کہ ان کو اس کی خبر تک نہ ہوگی۔ فرمایا کہ وہ جس عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں کبھی انہوں نے اس بات پر غور کیا ہے ان کے کرتوتوں کے سبب اللہ کا عذاب ان کو تیزی سے چاروں طرف سے گھیر تا چلا جا رہا ہے۔ جب ان کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے عذاب آئے گا تو اس وقت وہ اپنے آپ کو بچانہ سکیں گے۔ اور اللہ کے فرشتے اعلان کریں گے کہ تم جو کچھ کرتے تھے آج اس عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayahs 29:56–60لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 60) ۔
ارضی (میری زمین) ۔ واسعتہ (وسیع۔ پھیلی ہوئی) ۔ ذائقتہ (چکھنے والی) ۔ نبوء ن (ہم ضرور ٹھکا نا دیں گے) ۔ غرف (کمرہ۔ بالا خانہ) ۔ نعم اجر (بہترین بدلہ) ۔ کاین (کتنے ہی۔ بہت سے) ۔ دابتہ (جانور۔ جان دار) ۔ لا تحمل (نہیں اٹھاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ انسان زندگی گذارنے کے لئے ایک گھر بنا کر اپنے بیوی، بچوں اور گھر والوں کے ساتھ رہتا بستا ہے۔ کنبہ، خاندان اور برادری کے تعلقات بنتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر گذار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو جاتا ہے۔ رشتہ داریاں اور تعلقات اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہوتے ہیں۔ موت کے ساتھ ہی تمام رشتے منقطع ہوجاتے ہیں۔ یہ موتو حیات کا سلسلہ ابتدائے کائنات سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ کوئی شخص اور اس کی بنائی ہوئی چیزیں ہمیشہ نہیں رہتیں۔ البتہ اس دنیا میں ہمیشہ کی زندگی صرف ان خوش نصیبوں کو ملتی ہے جو دین اسلام کی سر بلندی اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنی جان اللہ کے راستے میں قربان کردیتے ہیں۔ اگرچہ وہ موت کے دروازے سے گذر کر آخرت میں پہنچتے ہیں۔ لیکن ان کی موت کو وہ عظمت حاصل ہوتی ہے جہاں ان کو ” مردہ “ تک کہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان کو حیات برزخی حاصل ہوتی ہے جس میں ان کو اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور وہ اسی میں مگن رہتے ہیں۔ اسی لئے ایک مومن موت سے نہیں ڈرتا بلکہ وہ اس ہمت و جرات کا پیکر ہوتا ہے۔ جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہے۔ بیوی، بچے، خاندان، ملک، وطن اور اپنی جان سے زیادہ اس کو اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر رہتی ہے۔ وہ اپنے ایمانی تقاضوں کے سامنے دنیا کے ہر تقاضے کو قربان کرنے کو سعادت سمجھتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ایمان، عمل صالح اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتے ہیں۔ اے میرے بندہ ! کہہ کر خطاب فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے مومنو ! دین اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے کی وجہ سے تم پر زمین کو تمہارے لئے وسیع اور کشادہ کردیا ہے۔ وہ دنیا میں کسی بھی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین اور ایمان کی حفاظت ہو سکتی ہو۔ فرمایا کہ اگر تم نے اپنے ایمان کی حفاظت کے مقابلے میں اپنے گھر بار، بیوی بچوں، مال و جائیداد اور ملک و وطن کو اہمیت دی اور اس دائرہ سے نکلنے کی جدوجہد نہ کی تو ایسے لوگ یاد رکھیں کہ موت کا مزہ ہر شخص کو چکھنا ہے۔ موت کے ساتھ ہی یہ تمام رشتے اور تعلق ختم ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کو جنت کے اونچے اونچے مکانوں میں بسایا جائے گا۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو لوگ ایمان، عمل صالح، صبر اور اللہ پر توکل والے ہیں یہ جنتیں ان کا انعام ہوں گی۔ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرتے وقت جب ان کو سب کچھ ان سے چھوٹ جائے گا تو وہ اس کی فکر نہ کریں کہ ان کا اور ان کے بچوں کا گذر بسر کیسے ہوگا کیونکہ رزق دینے والا وہ اللہ ہے جس کے ہاتھ میں کائنات کے تمام وسائل اور ذرائع ہیں وہ ہر ایک کے رزق کا ذمہ دار ہے۔ ایک محسوس مثال سے سمجھایا ہے کہ ایسے لوگ ان چرند، پرند، درند اور کیڑے مکوڑوں کو دیکھیں کہ جب صبح کو وہ اٹھتے ہیں اور اپنے اپنے ٹھاکانوں سے روانہ ہو کر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں تو وہ بھی شام کو پیٹ بھرے واپس لوٹتے ہیں۔ کیا وہ لوگ جو اللہ کہ راہ میں تکلیفیں اٹھاکر اپنا سب کچھ قربان کر کے اس کی راہوں میں نکلیں گے کیا وہ مہربان اللہ ان کو بھوکوں ماردے گا۔ اللہ جو سب کا رازق ہے وہ سب کا پیٹ بھرتا ہے اور کسی کو بھوکا نہیں سلاتا۔ وہ اللہ سب کی فریاد سنتا ہے اور ہر ایک کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد ” صحابہ کرام ؓ “ جن کو مکہ مکرمہ میں طرح طرح کے ظلم و ستم کر کے ان پر مکہ کی سر زمین کو تنگ کردیا گیا تھا، اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے حبش کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ اس کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرماگئے تو وہ صحابہ کرام ؓ جو ملک حبش کی طرف ہجرت کر گئے تھے آہستہ آہستہ مدینہ منورہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے ۔ اور اس طرح وہ تمام اہل ایمان جنہوں نے اللہ کی رضاو خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا ان کو مدینہ منورہ میں ٹھکا نا مل گیا اور مدنیہ منورہ میں ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کی بنیاد پڑگئی اور پھر وہی ریاست ایک ایسی عظیم سلطنت بن گئی جس کے سائے میں ساری دنیا نے امن و سکون اور محبت و اخوت کا درس سیکھا۔
یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ اس کی راہ میں ایثار و قربانی کرنے والے صحابہ کرام ؓ کو جنت میں کتنے بلند مقامات اور عظمتیں عطا کی جائیں گی لیکن تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ان اہل ایمان نے قرآن و سنت پر عمل کر کے اپنے حسن اخلاق سے ساری دنیا کے اندھیرے دور کردیئے تھے۔ اور دنیا کو محبت، پیار، ایثار، قربانی اور امن و سلامتی کا جنتی نمونہ بنادیا تھا۔
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا ۔ آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
Ayahs 29:61–64لغات القرآن آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔
سالت (تو نے پوچھا) ۔ سخر (اس نے تابع کردیا۔ مسخر کردیا) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یوفکون (الٹے پھرے جاتے ہیں) ۔ لھو (کھیل۔ کود) ۔ لعب (کھیلنا کودنا۔ اچھلنا) ۔ الحیوان (زندگی) ۔
تشریح : آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔ ” قرآن کریم کے اولین مخاطب مکہ مکرمہ کے لوگ تھے جو اللہ کو اور بیت اللہ کو مانتے تھے مگر جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تم ایک اللہ کی عبادت و بند گی چھوڑ کر ان تین سو ساٹھ بتوں سے امیدیں کیوں باندھتے ہو ؟ اور ان سے کیوں مانگتے ہو ؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ ہی کو ما نتے ہیں لیکن یہ بت اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اگر یہ ہماری سفارش نہ کریں تو اللہ بھی ہماری نہیں سے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ چاند اور سورج کو انسانوں کی خدمت کے لئے کس نے مسخر اور تابع کیا تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان سے کہئے کہ پھر تم اللہ کے سوا کدھر پلٹ کر جارہے ہو ؟ کیا یہ پتھر کے بت تمہارے رازق ہیں یہ تمہیں رزق دیتے ہیں یا وہ اللہ جو جس کے لئے جتنا چاہے رزق میں کشادگی پیدا کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق کو محدود کردیتا ہے وہی تمہارا رازق ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ آپ ان سے پوچھئے کہ آسمان سے وہ پانی کون برساتا ہے اور وہی ایک ایسی زمین کو دوبارہ سر سبزو شاداب کردیتا ہے جو بارش نہ ہونے سے خشک اور بنجر نظر آتی تھی۔ فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ یقینا وہ ایک اللہ ہی ساری تعریفوں کا مستحق ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، چاند اور سورج کر گردش عطا کی، بارش کو برسایا اور زمین سے طرح طرح کے نباتات کو اگایا۔ لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو عقل و فکر سے کام نہیں لیتے اور دنیا کی بےحققیت زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ وہ دنیا کی محبت، مشغولیت اور انہماک میں اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ جیسے یہی سب کچھ ہو حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ دنیا کی زندگی محض دل کا بہلاوا اور کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور اس کی لذتیں وقتی لذتیں ہیں جو ہمیشہ نہیں رہیں گی لیکن صل آخرت کی زندگی ہے جہاں کی راحتیں بھ ہمیشہ کے لئے ہوں گی۔ کاش وہ اس حقیقت پر کبھی غور و فکر کرلیتے۔
اگر غور کیا جائے تو آج ہم میں سے بھی بہت سے لوگ وہ ہیں جو کفار مکہ سے ملتے جلتے عقیدے اور ذہن و فکر رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کسی بزرگ گا وسیلہ نہ لیا جائے تو اس وقت تک اللہ ہماری بات نہیں سنتا حالانکہ اللہ تو ہر انسان کے دل کی پکار کو بھی سنتا ہے اس کو جہاں اور جیسے پکارا جائے وہ اس کی پکار کو سن کر اس کی فریاد کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقیدے کی اس کمزوری سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Ayahs 29:65–69لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 69) ۔
رکبوا (وہ سوار ہوئے) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ البر (خشکی) ۔ حرم (حرم۔ قابل احترام) ۔ یتخطف (وہ اچک لے گا) ۔ نھدین (ہم ضرور ہدایت دیں گے) ۔ المحسنین (نیک کام کرنے والے۔ نیکو کار) ۔
تشریح : آیت نمبر (65 تا 69 ) ۔ ” اللہ نے کفر و شرک کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ جب تم کسی جہاز یا کشتی پر سوار ہوتے ہو اور تمہاری کشتی کسی طوفان میں پھنس جاتی ہے جہاں سے زندہ نکلنا دشوار اور مشکل نظر آتا ہے تو اس وقت تم کس سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتے ہو ؟ فرمایا اس وقت صرف ایک اللہ کی ذات کو پکارا جاتا ہے لیکن جب تم اس طوفان سے نجات پا لیتے ہو اور خشکی پر آجاتے ہو تو فوراً ہی اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے لگتے ہو اور شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو۔ اور اس طرح احسان ماننے کے بجائے ناشکری کا راستہ اختیار کرتے ہو۔ فرمایا کہ وہ جن بد مستیوں میں لگے ہوئے ہیں ان کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے کتنا بڑا ظلم اور زیادتی کی ہے۔
فرمایا کہ یہ لوگ اس بات پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اس اللہ نے اپنے گھر کی بدولت تمام مکہ کے لوگوں کو امن وامان اور سلامتی کے ساتھ یہ عزت عطا فرمائی ہے کہ وہ اللہ کے گھر والے کہلائے جاتے ہیں کہ مکہ والے اللہ کے گھر کے محافظ و نگران ہیں تو ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا حالانکہ آس پاس کی بستیوں کے لوگ محفوظ نہیں ہیں ان پر آئے دن چڑھائی ہوتی رہتی ہے۔ اس اتنی بڑی نعمت پر تو انہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس گھر کو اور اس کے نگرانوں کو اللہ ہی نے عزت عطا فرمائی ہے۔ یہ بڑی زیادتی کی بات ہے کہ وہ سامنے کی ایک حقیقت کو اس طرح جھٹلا رہے ہیں۔ جب ان کے پاس نبی کریم ﷺ حق اور سچائی کا پیغام لے کر آگئے ہیں تو انہیں اس پیغام حق کو قبول کر کے سب سے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ اگر وہ اللہ کا دین قبول کر کے اس کے لئے جدوجہد کریں گے اور ہر طرح کی مشقتیں اٹھائیں گے تو اللہ ان کا ساتھ دے گا اور وہ ان کو سر بلندی عطافرمادے گا۔ جدوجہد وہ کریں گے اور ہر خیرو بھلائی کا راستہ ان کو ہم دکھائیں گے کیونکہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو اس کے دین کی سر بلندی کی ہر ممکن جدوجہد کرتے ہیں۔ یہی اس کی نعمت کا سب سے بڑھ کر شکر ادا کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں اس کی قدر کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ہر طرح کا مجاہدہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
الحمدللہ ان آیات پر سورة العنکبوت کی آیات کا ترجمہ و تشریح تکمیل تک پہنچی۔
واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین