Ayahs 25:35–44لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔ وہ لوگوں کو جدھر چلانا چاہیں لوگ اسی طرف چلیں۔ ہر جگہ ہر موقع پر اس کی ہر بات کو مانا جائے۔ لیکن اگر اس کے بر خلاف وہ تو وہ غرور وتکبر کا پیکربن کر بےکس و بےبس لوگوں کو زبردستی اپنے سامنے سرجھکا نے پر مجبور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس خواہش کو وپرا کرنے اور اپنے اقتدار و قوت کو بچانے کے لئے ننھے اور معصوم بچوں کو ذبح کرنا پڑے تو اس میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا ۔ وہ لوگوں کی گردنوں پر سواررہنے کے لئے کبھی جھوٹے معبودوں کبھی چاند ‘ سورج ‘ ستاروں اور پتھر کے بےجان بتوں کے سامنے جھکا نے کی کوشش کرتا ہے۔ آگ کی پرستش اور شجر وحجر کو ان کا معبود بنادیتا ہے۔ بادشاہ بن بیٹھتا ہے اور اقتدار کے نشے میں خود ہی معبود بن جاتا ہے۔
لیکن ایسے لوگ وقتی خوش حالیوں میں ایسے بد مست ہوجاتے ہیں کہ ان کو اپنا انجام یاد نہیں رہتا۔ وہ ہر اس تحریک کو کچل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی خواہشوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔ غرضیکہ وہ مال و دولت اور حکومت و سلطنت کے حاصل کرنے کے لئے جانوروں کی سطح سے بھی نیچے پہنچ جاتے ہیں۔
جب نبی کریم ﷺ نے جہالت میں ڈوبی ہوئی قوم کو دین اسلام کی سچائیوں کی طرف بلانے کی جدوجہد کی تو ابتدا میں کفار مکہ نے آپ کا اور آپ کے ارشادات کا مذاق اڑایا۔ آپ پر پھبتیاں کسیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ ان پر کسی جن یا جادو کا اثر ہوگیا ہے جس سے یہ بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آج یہ کفار جو کچھ کررہے ہیں یا کہہ رہے ہیں وہ ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ جو اس سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) سے نہ کہی گئی ہو۔ ایسا ہوتارہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا کیونکہ حق و صداقت کی ہر آواز سے باطل پرستوں کے ایوانوں میں زلزلے آجاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ نبیوں کی سچی بات سن لی گئی تو پھر ہماری سرداریوں اور چودھراہٹوں کا کیا ہوگا۔
فرمایا کہ اہل مکہ تو شام و فلسطین جاتے ہوئے ان بستیوں کے کھنڈرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جو کبھی آباد تھیں ‘ لوگوں کی چہل پہل تھی ‘ مال و دولت کے ڈھیر تھے ‘ لوگ خوش حالیوں میں مست تھے لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہاء کردی تب اللہ نے ان کی بستیوں کو ان کی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے مٹی کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا اور آج ان شہروں کے کھنڈرات عبرت کا نمونہ بنے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی یہ کفار اس سچائی پر غور فکر نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے ان ہی سب باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی کتاب عطا فرمائی اور ان کی بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبی بناکر انکا مدد گار بنایا۔ دونوں ہمارے حکم سے فرعون کے دربار میں پہنچے فرعون کو سمجھایا مگر وہ اپنے اقتدار کی مبد مستی میں حق و صداقت کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوا اور اس نے ہر طرح کے ظلم و ستم کی انتہاء کردی۔ آخر کار اللہ کا وہ فیصلہ آگیا جو نافرمان قوموں کا مقدر ہوا کرتا ہے اور اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمادی اور فرعون ‘ اس کے ساتھیوں اور قوت اقتدار کو سمندر میں غرق کر کے نشان عبرت بنادیا۔
حضرت نوح ؐ نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اللہ کے دین اور اس کی سچائیوں کو دلوں میں اتارنے کی جدوجہد فرمائی۔ آپ نے ہر طرح اپنی قوم کو سمجھایا مگر وہ کسی بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہوتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک بڑی کشتی بنانے کا حکم دیا جس میں تمام اہل ایمان کو اور ہر جانور کے ایک ایک جوڑے کو رکھنے کا حکم دیا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں کل تین سو تیرہ اہل ایمان سوار ہوئے بقیہ تمام لوگوں کو پانی کے اس طوفان میں غرق کر کے مقام عبرت بنادیا۔
قوم عاد نے دنیا پر ایک ہزار سال کت حکومت کی۔ قوم ثمود نے اپنے معیار زندگی کو انتہائی بلند کیا۔ وہ صنعت و حرفت میں بہت آگے جا چکے تھے اور بیس بیس منزلہ بلڈنگیں پہاڑ کاٹ کاٹ کر بنایا کرتے تھے ۔ بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان کی اصلاح کرنا چاہیمگر جب یہ قومیں بھی اللہ کو بھول گئیں اور انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کو جھٹلانا شروع کیا تو اللہ کا قہرو غضب ان قوموں پر نازل ہوا اور ان کو جڑ و بنیاد سے کھود کر رکھ دیا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل مکہ سے قوم لوط کی برباد بستیاں اور کھنڈرات دور نہیں ہیں وہ جب بھی شام و فلسطین کا سفر کرتے ہیں تو راستے میں قوم لوط کی بستیاں بھی پڑتی ہیں جن کو الٹ کر پتھروں کی بارش کی گئی تھی۔ آج انکی آباد بستیوں کی جگہ ایک ایسا بےجان ( بحرمردار) سمندر ہے جو اپنے اندر کسی جان دار کو برداشت تک نہیں کرتا ۔
اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ان کو اس بات پر یقین نہیں ہے جب یہ مرجائیں گے تو پھر ان کو دوبارہ زندہ بھی ہونا ہے اگر ان کو اس بات کا یقین ہوتا کہ جب یہمرجائیں گے تو پھر ان کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور زندگی کے ایک ایک لمحے کا جواب دینا ہے تو ان کی یہ کیفیت نہ ہوتی۔ آج وہ کفار مکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا تو یہ ہیں وہ جن کو اللہ نے اپنا رسول بنا کرب بھیجا ہے ؟ یہ تو اچھا ہوا کہ ہم اپنے معبودوں پر جمے بیٹھے ہیں ورنہ اگر ہم اپنی جگہ سے ذرا ہل جاتے اور ان کا کہنا مان لیتے تو نجات ہمارا اور ہمارے معبودوں کا کیا انجام ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دراصل یہ لوگ اپنی خواہشوں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی خواہشات ہی ان کی معبود ہیں۔ جب یہ حالت ہوجائے تو ان خواہش پرستوں سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے جو دیکھ کر سن کر بھی سچائی کو قبول نہیں کرتے تو وہ ان چوپایوں اور جانوروں سے بھی بدتر ہیں جو کم ازکم کہیں تو اپنی گردن جھکا دیتے ہیں۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ ان میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا کوئی جذبہ ہی باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا انجام گذشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ بلکہ اگر انہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت وفرماں برداری نہ کی تو ان کی زندگیاں بھی مقام عبرت بن جائیں گی۔
Ayahs 25:45–50لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 50 :
مد (پھیلایا) ‘ الظل (سایہ) ‘ ساکن (ٹھرا ہوا) ‘ دلیل (نشانی۔ راستہ بتانے والا) ‘ قبضنا ( ہم نے سمیٹ لیا) ‘ سبات (آرام و راحت کی چیز) ‘ الریاح ( ہوائیں) ‘ طھور (پاکیزہ۔ صاف ستھرا) ‘ بلدۃ ( بستی ۔ شہر) ‘ انعام (جو پائے جانور) ‘ ابی (انکار کیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 :
اللہ تعالیٰ کا نظام و انتظام ایسا ہے کہ وہ ہر آن اس کا ئنات کی کیفیات اور حالات کو تبدیل کرتارہتا ہے تاکہ انسان یکسانیت سے اکتانہ جائے کبھی دن کبھی رات ‘ کہیں بہار اور کسی جگہ خزاں ‘ کبھی سردی کبھی گمی یا برسات۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی کیفیت رکھتا تو زندگی بےکیف ہو کر رہ جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے سائے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک سایہ ہوتا ہے جو گھٹتا بڑھتارہتا ہے اور جب دن کا پورا اجالا پھیل جاتا ہے تو سایہ تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ سائے کا پیدا ہونا ‘ گھٹنا ‘ بڑھنا اور سکڑنا سورج کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر آسمان پر بادل چھا جائیں تو سورج ہونے کے باوجود سائے کا وجود نہیں ہوتا۔ اس طرح کائنات پر مختلف کیفیات آتی رہتی ہیں۔ اللہ کو اس بات پر پوری قدرت حاصل ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ سایہ ایک ہی طرح رہتا مگر اس نے ہر جگہ اپنی قدت کا مظاہرہ فرمایا ہے تاکہ ہر شخص اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے اور ذہن میں بٹھا لے کہ یہ سب کارخانہ قدرت اللہ کے قبضے اور اختیار میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دوسری مثال رات اور دن کے آنے جانے کی بیان کی ہے۔ فرمایا کہ دن اور رات کے آنے اور جانے میں بھی اللہ کی قدر تیں صاف نظر آرہی ہیں۔ فرمایا کہ نیند اس لباس کی طرح ہے جو انسانی وجود کو ڈھانپ لیتی اور اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے۔ جب یہ نیند آتی ہے تو انسان کتنا ہی تھکا ماندہ ہو وہ کچھ دیر میں پر سکون اور تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس کے اعضا کو سکون ملتا ہے۔ اگر دن ہی دن ہوتا تو آدمی تھک کر اپنا وجود کھو بیٹھتا۔ معلوم ہوا کہ رات دن کی تبدیلی میں انسان کے لئے معاشی اور جسمانی سکون ہے جو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
تیسری مثال بارش سے دی گئی ہے کہ جب آدمی زمین کی خشکی اور گرمی سے نڈھال ہوجاتا ہے تو اللہ ایسی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں بھیجتا ہے جو طبعیت میں سکون پیدا کردیتی ہیں اور اس بات کی علامت بھی ہوتی ہیں کہ اب بارش ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش کی ذریعہ نہ صرف مردہ زمین کو ایک نئی زندگی عطا فرماتے ہیں بلکہ بارش کا صاف ستھرا اور پاکیزہ پانی جو ہر طرح کی گندگی سے پاک و صاف ہوتا ہے وہ زمین میں ہی نہیں بلکہ پیاسے انسانوں اور جانوروں میں بھی ایک نئی زندگی پھون دیتا ہے۔ پھر پانی کو بھی اللہ تعالیٰ ایسے اندازے اور مقدار سے برساتے ہیں کہ جہاں جتنی ضرورت ہے اتنا ہی پانی برستا ہے تاکہ یہ انسانوں کے لئے باعث سکون ہو کیونکہ بہت زیادہ پانی کا برس جانا بھی ایک مشکل اور مصیبت بن جاتا ہے۔ یہ سب اللہ کی قدرت کے نشانات ہیں۔
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل سے بادلوں کے متعلق پوچھا۔ حضرت جبرائیل نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں پر جس فرشتے کو مقرر کیا ہے وہ حاضر ہے۔ آپ اس سے جو چاہیں پوچھ سکتے ہیں۔ فرشتے نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس جب اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں بستی میں اتنے اتنے پانی کے قطرات پہنچا دو تو ہم اللہ کے حکم کے مطابق اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سمجھنا کہ یہ بارش فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی ہے بہت غلط ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ لمبے لمبے سائے ‘ دن اور رات کا بدل بدل کر آنا ‘ نیند کے ذریعے سکون اور دن کے اجالے میں فکر معاش اور بادلوں کا اٹھنا ان کا برسنا یہ سب چیزیں اللہ کو پہچاننے کی نشانیاں ہیں۔ اگر انسان ذرا بھی غور فکر سے کام لے تو کائنات میں بکھری ہوئی یہ تمام حقیقتیں ایک اللہ کی قدرت کو پہچاننے کی نشانیاں ہیں۔
Ayahs 25:51–60لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 :
لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :
اللہ تعالیٰ نے راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر چلانے کے لئے ہر زمانہ اور ہر ملک میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجا ہے جو ساری انسانیت کے خیر خواہ ‘ غم خوار ‘ مخلص ‘ مصلح اور بد اعمالیوں کے برے انجام سے ڈرانے اور نیکیوں پر ابدی جنت اور اس کی راحتوں کے عطا کئے جانے کی خوش خبریاں سنانے آتے ہیں۔ جن کی کوئی دنیاوی غرض اور لالچ نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کی مخلوق کے لئے دن رات مخلصانہ جدو جہد کرتے رہتے ہیں تاکہ ان کو شیطان کے راستے سے بچا کر رحمن کا بندہ بنادیں۔ تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں اللہ نے اپنی رحمت خاص سے حضرت محمد ﷺ کو اپنا آخری نبی بنا کر بھیجا ہے تاکہ ساری انسانیت پر اللہ کے پیغام کی تکمیل ہوجائے اور ان کی امت ان کی لائی ہوئی ہدایت سے قیامت تک ساری انسانیت کی رہنمائی کا فرض سر انجام دیتی رہے۔ انبیائی کرام (علیہ السلام) ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچادیتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک پتہ بھی اس وقت تک نہیں ہلتا جب تک اس خالق ومالک اللہ کی طرف سے حکم نہیں آجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ نرمی اور محبت سے اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیئے اور کسی کی پر ورانہ کیجئے کیونکہ یہ روشنی پھیلنے کے لئے ہے اگر اس میں کوئی رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے تو آپ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔
ان ہی باتوں کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے۔
اے نبی ﷺ ! اگر ہم چاہتے تو آپ کی مدد کے لئے ہر بستی میں ایک مدد گار اور ڈرانے والے کو بھیج دیتے لیکن یہ بات اللہ کی مصلحت کے خلاف ہے۔ اس لئے آپ ان کی کسی بات کو نہ مانیئے ‘ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہئیے ‘ اور پوی قوت و طاقت سے کفر و شرک کر ڈٹ کا مقابلہ کیجئے۔ یہ اس اللہ کا دین ہے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اس کے انتظام کو وہ بغیر کسی کی شراکت کے چلارہا ہے۔ اس نے پوری دنیا کے نظام کو پوری طرح تھام رکھا ہے جو اس کی قدرت کی نشانی ہے ۔ اس نے دودریا بنائے جن میں سے ایک دریا کا پانی میٹھا ہے جس سے انسان اور جانور فائدہ حاصل کرتے اور اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ دوسرا دریا کھارے یا کڑوے پانی کا ہے دونوں دریا اس طرح بہہ رہے ہیں کہ میٹھا اور کھارا پانی آپس میں نہیں ملتا۔
علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں سیکڑوں ایسے مقامات ہیں جہاں دو مختلف پانی بہہ رہے ہیں مگر وہ آپس میں نہیں ملتے اور دونوں دریاؤں کی تمام خصوصیات اپنی جگہ برقراررہتی ہیں۔ فرمایا کہ ان کو سنبھالنے والا کون ہے ؟ اگر اللہ کی قدرت و طاقت نہ ہوتی تو انسان کو میٹھا پانی تک نصیب نہ ہوتا کیونکہ سمندروں اور کھارے پانی کے دریا میٹھے پانی میں اس طرح مل جاتے کہ میٹھے پانی کا وجود تک مٹ جاتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ خود انسان کا وجود اللہ کی ایک نشانی ہے۔ اللہ نے اسکو ایک معمولی قطرے سے جیتا جاگتا انسان بنا دیا۔ وہ جوان ہو کر شادی کرتا ہے جس سے اس کو سکون ملتا ہے ‘ بیوی ‘ بچے ‘ نسبی اور سسرالی رشتہ داریاں بنتی چلی جاتی ہیں جس سے انسان معاشرہ کا ایک بہترین اور معزز فرد بن کر ابھرتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کا ملہ سے ہوتا ہے اس میں انسانی کوششوں کو دخل نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس کی عبادت و بندگی کرنی چاہیے مگر بعض ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی قدرت کو جانتے بوجھتے جب اس کے سامنے سر جھکانے اور بندگی کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے حقیقی مالک اللہ کو بھول کغیر اللہ کی عبادت و بندگی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ ” غیر اللہ “ نہ تو ان کو کوئی نفع پہنچانے کے قابل ہیں اور نہ ان کو کسی طرح کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وہ لوگ درحقیقت بتوں کی نہیں بلکہ شیطان کی پیروی کرکے اس کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں وہ شیطان جو انسان کا کھلا ہوا ازلی دشمن ہے۔
فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ نہایت وضاحت سے اس بات کا اعلان کردیجئے کہ میں تمہارا مخلص ہوں تاکہ تمہیں خیر خواہی کے ساتھ سیدھے راستے کی ہدایت کروں۔ اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے میں تم سے دین اسلام کا پیغام پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ نہیں چاہتا۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ سب مل کر اس راستے پر چلیں جو ان کو جہنم سے بچا کر جنت کی راحتوں سے ہم کنار کر دے۔
فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ تمام معاملات میں اس اللہ پر بھروسہ کیجئے جو زندہ ہے جس کو موت نہ آئے گی۔ وہی تمام حمد وثنا کا مستحق ہے آپ اسی کی حمد وثناکیجئے۔ وہ اپنے تمام بندوں کے حالات اور خطاؤں کو جاننے کے لئے کافی ہے۔ اللہ وہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کا ہے۔ اسی نے چھ دن میں اس دنیا کو پیدا کیا اور پھر اس نے نظام کائنات کو خود سنبھال کر بیغر کسی شرکت اور مدد کے وہ خود اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جس کو ہر باخبر آدمی اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ اللہ رحمن و رحیم ہے جو تمام عبادتوں کا مستحق ہے۔ لیکن ان کفار کا یہ حال ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ رحمن کو سجدہ کریں تو وہ پوچھتے ہیں کہ یہ رحمن کون ہے ؟ وہ کفار کہتے ہیں کہ کبھی آپ کہتے ہیں کہ اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور کبھی کہتے ہیں کہ رحمن کی بندگی کرو کیا آپ کے کئی کئی معبود ہیں اور کیا ہم اسی لئے رہ گئے ہیں کہ آپ جس کی بندگی کرنے کے لئے کہیں ہم اسی کی بندگی شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان عقل کیا ندھوں سے یہ فرمایا ہے کہ اللہ اور رحمن یہ دو ذاتیں نہیں ہیں بلکہ اللہ ایک ہی ذات ہے اور رحمن اس کی سب سے اعلیٰ صفت ہے۔ لیکن ان کفار کا تو یہ عالم ہے کہ جب ان سے اللہ رحمن رحیم کی عبادت و بندگی کے لئے کہا جاتا ہے تو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان کی نفرتوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی اور سجدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
Ayahs 25:61–66لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 66 :
بروج (برج) (قلعہ۔ بڑے بڑے ستارے) ‘ سراج (چراغ۔ سورج) ‘ قمرمنیر (روشن چاند) ‘ خلفۃ (ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے) ‘ عباد الرحمن ( اللہ کے بندے۔ رحمن کے بندے) ‘ یمشون ( چلتے ہیں) ‘ ھون ( وقار۔ آہستہ اور نرمی) ‘ خاطب (خطاب کیا۔ گفتگو کی) ‘ سلام (سلام۔ سلامتی) ‘ یبیتون ( رات گزارتے ہیں) ‘ اصرف ( دور کردے پھیردے) ‘ غرام ( لپٹ جانا۔ چمٹ جانا) ‘ ساءت (برا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 66 :
آپ نے اس سے پہلی آیات میں کفار کا یہ انداز ملاحظہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کو بھول کر بےحقیقت چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ رحمن کی بندگی کریں تو وہ اس سے منہ پھیر کر نفرت و حقارت سے کہتے ہیں کہ کون رحمن ؟ ہم تو نہیں جانتے کہ رحمن کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی مختلف نشانیوں کو بیان کر کے فرمایا کہ رحمن وہ و ہے جس نے اس پورے نظام کائنات کو سنبھال رکھا ہے۔ وہ بڑی برکت و رحمت والی ذات ہے جس نے نہ صرف زمین و آسمان کو پیدا کیا بلکہ اس نے بڑے بڑے ستارے اور سیارے بنائے۔
چاند اور سورج سے زمین و آسمان کے اندھیرے دور کرکے روشنیاں پیدا کی ہیں۔ اس نے دن اور رات کے نظام کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ رات کو دن کے پیچھے اور دن کو رات کے پیچھے لگادیا ہے جو لگا تار ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ اس طرح انسان دن میں محنت مزدوری کرکے اپنی روزی پیدا کرتا ہے اور دن بھر تھکنے کے بعد رات کو آرام کرتا ہے جس سے وہ تازہ دم ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے چاند اور سورج کی منزلیں بنائی ہیں جن میں یہ سیارے حرکت کررہے ہیں جس کے نتیجے میں دن اور رات کے علاوہ موسم پیدا ہوتے ہیں کبھی سردی کبھی گرمی کبھی جاڑا اور کبھی براسات اور یہ نظام بھی اس طرح مرتب انداز پر چل رہا ہے کہ دنیا کی گھڑیاں اور حساب غلط ہوسکتے ہیں لیکن اللہ نے چاند ‘ سورج کے لئے جو بھی وقت مرتب کردیا ہے اس میں ایک سیکنڈ کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ سورج کس رفتار سے چل رہا ہے ‘ چاند کن منزلوں سے گذررہا ہے ‘ سیارے کس رقتار سے گھوم رہے ہیں ‘ موسم بننے کے اسباب کیا ہیں اگر ان چیزوں کو مشینوں کی آنکھوں سے دیکھا جائے تو انسان بےساختہ پکارا ٹھتا ہے ” وہ ذات بڑی برکتوں والی ہے جو پیدا کرنے میں سب سے بہتر ذات ہے “ ان تمام چیزوں میں اللہ نے انسان کے لئے بڑے فائدے رکھے ہیں گر فائدے حاصل کرتے وقت وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ یہ سب کچھ کس نے پیدا کیا ہے اور شیطان کے بہکائے میں آکر بےحقیقت مٹی ‘ پتھر اور لکڑی کے بتوں کو اپنا مبعود سمجھنے لگتا ہے۔
اگر ان تمام چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے ذرا بھی اس بات پر دھیا دے لے کہ ہمارا مالک و آقا صرف اللہ ہے تو یہی توحید ہے اسی کا نام علم و عرفان ہے۔ لیکن اگر انسان کائنات کی ان نشانیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود چمگادڑ کی طرح آنکھیں بند کرلے تو وہ بڑی سے بڑی حقیقت پر گذرنے کے باوجود ان سے لا علم اور بیخبر رہتا ہے۔ فرمایا کہ یہ کائنات میں ہر طرح کی تبدیلیاں اس لئے ہیں تاکہ انسانوں کو فائدہ پہنچے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر اداکر سکے۔
کفار نے پوچھا تھا کہ رحمن کون ہے ؟ اللہ نے اس کا جواب دے دیا تھا۔ یہاں فرمایا کہ رحمن کے بندے کون ہیں ؟ ان کی کیا صفات اور خصویات ہیں۔
(1) فرمایا کہ رحمن کے بندے وہ ہیں کہ جب وہ زمین پر چلتے ہیں تکبر ‘ غرور اور بڑائی کے انداز پر نہیں بلکہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان کی ہر ادا میں تواضح اور عاجزی ہوتی ہے۔
(2) فرمایا کہ وہ جاہلوں سے الجھنے کے بجائے یہ کہہ کر گذر جاتے ہیں کہ بھائی تم پر سلامتی ہو مراد یہ ہے کہ رحمن کے بندے تو خود کوئی جہالت و نادانی کا کام کرتے ہیں اور نہ جاہلوں کی سطح پر اتر کر بات کرتے ہیں بلکہ نہایت وقار ‘ عاجزی اور انکساری سے اللہ کے بندوں میں رلے ملے رہتے ہیں اور جب کوئی جاہل اپنی جہالت کی سطح پر اتر کر بات کرتا ہے تو اسے سے الجھنے کے بجائے یہ کہ کر گذر جاتے ہیں کہ میں تمہارے لئے سلامتی چاہتا ہوں۔
(3) تیسری صفت رحمن کے بندوں کی یہ ہے کہ وہ راتوں کو اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرتے ہیں اور طویل رکوع و سجود کرکے اپنی راتوں کو زندہ کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ راتوں کو اس طرح اللہ کے سامنے قیام فرماتے تھے کہ طویل قیام کیوجہ سے پاؤں پر ورم آجاتا اور کبھی کبھی تو وہ ورم پھٹ کر رسنے لگتا تھا۔ آپ کے سجدے طویل ترین ہوتے تھے یہاں تک کہ ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ کبھی کبھی تو میں یہ سمجھتی کہ کہیں آپ کی روح پرواز تو نہیں کرگئی۔ میں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر دیکھتی تو اطمینان ہوتا تھا۔ کاش نبی کریم ﷺ کی اس سنت اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہم بھی راتوں کو اللہ کی بار گاہ میں کھڑے ہو کر اور سجدے کر کے رحمن کے سچے بندے بن جائیں۔
(4) وہ رحمن کے بندے اللہ سے یہی دوخراست کرتے ہیں کہ الیہ ! ہمیں اس جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھئے گا جو ہمیشہ کی تباہی اور بدترین ٹھکانا ہے۔
رحمن کے بندوں کی یہ چار صفات ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ بقیہ صفات کا ذکر اس کے بعد کی آیات میں فرمایا گیا ہے۔