Ayahs 22:39–41لغات القرآن 39 تا 41 :
اذن (اجازت دے دی گئی) ‘ یقتلون (وہ لڑتے ہیں) دیار (دار) (گھرے مکانات) ‘ دفع (دور کرتا ہے) ‘ ھدمت (ڈھادیئے گئے) ‘ صوامع (صومعۃ) ترک دنیا کرنے والوں کی عبادت گاہ ‘ بیع (بیعۃ) (نصاری کے گرجا گھر) ‘ صلوات (یہودیوں کے عبادت خانے) ‘ یذکر (یاد کیا گیا۔ یا کیا جاتا ہے) ‘ مکنا (ہم نے غلبہ دیا۔ ہم نے جمائو عطا کردیا) ‘ عاقبۃ (انجام)
تشریح : آیت نمبر 39 تا 41 :
سورۃ الحج کی ان آیات میں چند بنیادی اور اہم مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کی تشریح سے پہلے اگر اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی منشا کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ پس منظر یہ ہے۔
اعلان نبوت کے بعد مکہ مکرمہ میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام ؓ کو مسلسل تیرہ سال تک اس طرح ستایا گیا اور ظلم و زیادتی کی انتہا کردی گئی جس کے تصور سے روح کا نپ اٹھتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ کو مارنا ‘ پیٹنا ‘ گرم تپتے پتھروں اور جسم کو جھلسا دینے والے ریت پر ننگے بدن لٹاکر اوپر سے سینے پر بھاری پتھر رکھ دینا۔ کنکر یلے پتھروں پر گھسٹینا ‘ کھانے پین کی چیزوں کو روکنا ‘ میل جول چھوڑ دینا اور طرح طرح کے طعنے دینا وغیرہ۔ ان سنگین حالات میں صحابہ کرام ؓ کو حکم تھا کہ وہ کفار کے ہر ظلم و ستم کے جواب میں تحمل ‘ صبر اور برداشت سے کام لیں۔ دوسری طرف خود نبی کریم ﷺ کو کفار ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ جب آپ دین حق کی طرف بلانے کی جدوجہد کرتے تو قریشی نوجوان اور بچے شور ہنگامہ کرتے تاکہ آپ کی بات کسی کے کانوں تک نہ پہنچنے پائے۔ جب آپ طائف تشریف لے گئے تو وہاں آپ کی بات سننے کے بجائے اتنے پتھر برسائے گئے کہ آپ لہو لہان ہوگئے۔ جب مکہ کی سرزمین صحابہ کرام ؓ کے لئے تنگ ہوتی چلی گئی تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی جیسے ہی صحابہ کو اس کا علم ہوا تمام جاں نثاران مصطفیٰ مدینہ منورہ پہنچ گئے اور اس طرح تمام مومنین نے مدینہ منورہ کو اپنا مرکز بنا لیا۔ مفسرین نے حضرت صہیب رومی ‘ حضرت ام سلمہ ؓ اور ان کے شوہر ابو سلمہ ؓ اور حضرت عباس ابن ربیعہ ؓ وغیرہ کے واقعات کو نقل کر کے بتایا ہے کہ خاص طور سے ان حضرات کو اس بری طرح ستایا گیا جو ناقابل تصور ہے اور اس طرح وہ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے کفار قریش نے مدینہ منورہ میں بھی آپ کو چین سے نہ بیٹھنے دیا اور کئی جنگیں مسلط کردی گئیں۔
6 ہجری میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ چودہ سو صحابہ کرام ؓ ذوالحلیفہ سے احرام باندھ کر عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے تو عرب کے دستور کے مطابق ایک ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں لیا گیا۔ آپ کے ساتھ قربانی کے جو جانور تھے آپ نے ان کو قلادے پہنائے اور اونٹ کے کوہانوں کو چیر کر اس بات کا نشان بنا دیا کہ یہ جانور اللہ کے گھر میں قربانی کے لئے جارہے ہیں۔ جب قریش کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بوکھلا اٹھے۔ مجلس شوری منعقد کر کے یہ فیصلہ کیا کہ آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکاجائے۔ جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے عام راستہ چھوڑ کر ایک دوسرا پر پیچ راستہ اختیار کیا اجو پہاڑی گھاٹیوں کے درمیان سے ہو کر گذرتا تھا۔ اور اسی طرح آپ ﷺ حدیبیہ کے مقام پر مقیم ہوگئے ۔ آپ ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ ہم صرف زیارت بیت اللہ کے لئے آئے ہیں لڑنے کے لئے نہیں آئے۔ قریشیوں کی ہر کوشش ناکام ہوگئی۔ قریشیوں نے صورت حال کی نزاکت محسوس کر کے سہیل بن عمرو کو صلح کے معاملات طے کرنے کے لئے روانہ کردیا اور یہ تاکید کردی کہ صلح میں لازمی طور پر یہ بات طے کی جائے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ اس سال واپس چلے جائیں اور اگلے سال تین دن کے لئے بغیر اسلحہ لئے ہوئے آئیں۔ عمرہ اداکریں اور واپس چلے جائیں۔ کافی طویل گفتگو کے بعد کچھ نکات طے پا گئے۔ شرائط یہ تھیں (1) اس سال مسلمان واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ اداکریں۔ (2) یہمعاہدہ دس سال کے لئے ہوگا۔ جس میں جو جس کے ساتھ ملنا چاہتا ہے وہ مل لے اور ایک دوسرے پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ (3) جو شخص اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر بھاگ کر مدینہ آئے گا اس کو واپس کیا جائے گا لیکن جو شخص مدینہ سے قریش کے پاس آجائے گا وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے اس معاہدہ کو تحریر کرایا اس معاہدہ کے بعد آپ ﷺ نے احرام کھول دیا۔ جانور ذبح کئے اور سرمنڈایا۔ آپکے صحابہ اس معاہدہ کو اپنی شکست سمجھ رہے تھے دل ہی دل میں گھٹن بھی محسوس کررہے تھے مگر جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کے عمل کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے احرام کھول دیئے۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ معاہدہ درحقیقت کفار مکہ کی زبردست شکست تھی۔ وجہ یہ ہے کہ معاہدہ ہمیشہ دو برابر کی طاقت اور حیثیت والوں کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ اس معاہدہ کے ذریعہ کفار نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو برابر کی طاقت تسلیم کرلیا تھا جب کہ اس سے پہلے وہ مسلمانوں کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہ تھے یہی وجہ ہے کہ اس سفر سے واپسی کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورة فتح کی آیات نازل کر کے ان کو فتح مبین قرار دیا۔ صلح حدیبیہ درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کی زندگی میں ایک نئی اور خوش گوار تبدیلی کا آغاز تھا کیونکہ قریش جو مسلسل جنگیں مسلط کررہے تھے جب وہ میدان جنگ میں پسپا ہو کر امن و سلامتی کی طرف آگئے تو بت پرستوں اور یہودیوں کے جذبات ٹھنڈے پڑے گئے اور ان کی طاقت تقسیم ہو کر رہ گئی۔ چونکہ دین اسلام امن و سلامتی کا نظریاتی دین ہے اس لئے امن و سلامتی کا موسم ہی اس کو راس آتا ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد اہل ایمان کو دین اسلام کی دعوت کو پھیلانے اور تبلیغ دین کا ایک اہم موقع ہاتھ آگیا۔ چناچہ مدینہ پہنچتے ہی اہل ایمان کی سرگرمیوں میں ایسی تیزی آئی کہ مسلمان افواج جن کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ ہو کسی تھی محض دو سال میں فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ اس عرصہ میں دو اور زبردست کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
(1) آپ نے دنیا بھر کے حکمرانوں اور بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر دعوت اسلام پیش کی جس کے جواب میں کسی نے اسلام قبول کیا کسی نے نہیں کیا لیکن اس سے یہ فائدہ ہوا کہ کافروں کی توجہ اس طرف ہوگئی اور ان کے نزدیک آپ ﷺ کا دین اور آپ ﷺ کا نام جانا پہنچانا بن گیا۔
(2) دوسرا فائدہ یہ پہنچا کہ خیبر جو مدینہ منورہ سے شمال کی جانب ایک سو میل کے فاصلے پر ہے وہ یہودیوں اور منافقین کی سازشوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ ہر طرف مسلمانوں کے خلاف آگ بھڑکا رہے تھے۔ کفار مکہ کے حملوں کے وقت بنو قریظہ کے یہودیوں نے میثاق مدینہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غداری کی اور در پر دہ کفار کی مدد کی اور غزوہ خندق میں کفار کو مدینہ پر حملہ کی ترغیب بھی بنو قریظہ والوں نے دی تھی۔ وہ مسلسل اس سازش میں لگے ہوئے تھے کہ اگر بنو غطفان اور دیہاتی بدوان کے ساتھ مل جائیں تو وہ مسلمانوں کو گھیر کر ختم کر ڈالیں گے۔ دوسری طرف رائیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی مسلسل خیبر کے یہودیوں کو اکسارہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کردیں اور مسلمانوں کی قوت کو تہس نہیس کردیں۔ یہ وہ تمام حالات ہیں جو نبی کریم ﷺ کے پیش نظر تھے۔ ابھی تک اللہ کی طرف سے اپنا دفاع کرنے کی اجازت تھی لیکن کفر کی طاقت کو توڑنے کے لئے خود سے تلوار اٹھانے کی اجازت نہ تھی لیکن سورة الحج کی ان آیات میں اہل ایمان کی مظلومیت کو دیکھتے ہوئے تلوار اٹھانے کی اجازت دے دی گئی۔ کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ آیات نازل فرمائیں جن میں کفر کو ایک فتنہ قرار دے کر اس کو مٹا ڈالنے کا حکم دیدیا گیا۔ نبی کریم ﷺ جب قریش سے معاہدہ کرنے کے بعد اس سے مطمئن ہوگئے کہ جنوب سے ان پر حملہ نہ ہوگا۔ تب آپ نے پہلی مرتبہ خیبر کی طرف پیش قدمی فرمائی۔ آپ نے حدیبیہ سے واپس آکر ذی الحجہ اور محرم کے چند دن گذار کر خیبر کی طرف چلنے کا حکمدیدیا۔ یہودیوں اور منافقین کی ساری کوششوں کے باوجود بہت تھوڑے عرصے میں اہل ایمان نے خیبر کے پورے علاقے کو فتح کرلیا اور اللہ نے جس صلح حدیبیہ کو ” فتح مبین “ قرار دیا تھا اس کی حقیقت سب کے سامنے کھ کر آگئی۔ اگر دیکھا جائے تو درحقیقت صلح حدیبیہ ہی دین اسلام کے فروغ کا ذریعہ بنی ہے جب کہ دین اسلام ایک علاقائی سطح سے ابھر کر عالمی سطح پر آگیا تھا اور اسلامی سلطنت مدینہ تک نہیں بلکہ ایک سو میل دور تک قائم ہوچکی تھی۔ اب اس پس منظر میں ان آیات کو ملاحظہ کیجئے تو پوری بات نہایت آسانی سے سمجھ میں آسکے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے۔
جن لوگوں (صحابہ کرام ؓ پر جنگ مسلط کی گئی تھی ان کو (پیش قدمی کرنے اور تلوار اٹھانے کی ) اجازت دیدی گء ہے کیونکہ ان پر ظلم و زیادتی کی گئی تھی۔ ان کو ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے صرف اس لئے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اللہ ان لوگوں کی مدد کرنے پر پوری قدرت و طاقت رکھتا ہے۔ اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعہ ہٹاتا نہ رہتا تو راہبوں ‘ خانقاہوں ‘ نصاری کے گرجا گھر ‘ یہودیوں کے عبادت خانے اور وہ مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نا لیاجاتا ہے وہ ڈھادی جاتیں۔ یقیناً اللہ ان لوگوں کی ضرور مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشک و شبہ اللہ بڑی طاقت وقوت والا ہے۔
وہ لوگ جنہیں ہم اگر زمین میں تمکن (طاقت و قوت ‘ حکومت و اقتدار) عطاکریں گے تو وہ نمازیں قائم کریں گے۔ زکوۃ اداکریں گے نیک اور بھلے کاموں کا حکم دیں گے اور ہر طرح کی برائیوں سے روکیں گے لیکن ہر کام کا انجام اللہ ہی کے اختیار وقدرت میں ہے۔
ان آیات میں بیان کیے گئے چند مضامین کی وضاحت یہ ہے۔
(1) آپ نے آیات کے پس منظر میں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ مکہ کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کا کوئی ایسا پہلو نہ تھا جو کفار مکہ نے چھوڑ دیا ہو۔ مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی اور مدینہ منورہ کی ابتدائی زندگی میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نے اطاعت رسول کے عظیم جذبہ کے تحت کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ہر طرح کے ظلم وس تم کو سہتے رہے۔ انتہائی صبر و تحمل ‘ برداشت اور اطاعت رسول ﷺ کی عظیم مثال قائم کردی۔ جب کفار مکہ نے اہل ایمان کو مدینہ منورہ میں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا اور سنگین جارحیت کا مظاہرہ کیا اور اپنی سازشوں کا جال مدینہ کے کفار و مشرکین اور یہودیوں تک پھیلا دیا جو میثاق مدینہ کے پابند تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تلوار اٹھانے کی اجازت دیدی اور کچھ عرصہ بعد وہ آیات نازل فرمائیں جن میں قتال و جہاد اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی اجازت دیدی گئی ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ
یہ سب سے پہلی آیت ہے جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ کفار کو منہ توڑ جواب دیں حالانکہ اس سے پہلے ستر آیات میں قتال کی ممانعت فرمائی گئی تھی۔ (ترمذی ‘ مسند احمد)
(2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اللہ کو اس بات کی پوری قدرت حاصل ہے کہ وہ ان مظلوموں کی مدد فرمادے لیکن اللہ کا یہ قانون ہے کہ اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔ بتایا یہ گیا ہے کہ قیامت تک آنے والے اہل ایمان اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ اگر انہوں نے اللہ کے دین کی مدد نہ کی یعنی انہوں نے سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا اور دین کے فروغ سے غفلت اختیار کی تو پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو ! تم ہی غالب رہوگے بشرطیکہ تم مومن ہوگے۔
(3) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جدوجہد اور مظلومیت کو سند عطا فرمادی ہے اور فرمادیا گیا ہے کہ جن اہل ایمان کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا تھا یا ان کو نکالا گیا تھا اور اپنا سب کچھ دین اسلام کے لئے مٹا کر ہجرت کرگئے تھے اللہ نے ان کے ایثار و قربانی کو اپنی بار گاہ میں قبول فرما لیا ہے اور ان کی ہر طرح مدد کی جائے گی۔
(4) چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ اہل ایمان کے اس جذبے کو انہوں نے ” جرم “ بنا دیا تھا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب ایک اللہ ہے۔ وحدانیت کا اقرار کرنے والوں کو انہوں نے جس طرح اپنی ملامت کا نشانہ بنا رکھا تھا وہ بھی ایک طرح کا ظلم ہی تھا کیونکہ کفار قریش جنہیں ابراہیمی ہونے پر بڑا ناز تھا ان کو تو اس توحید کے درس کو سب سے پہلے حاصل کرنا چاہیے تھا کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر وی زندگی درس توحید اور عملی جدوجہد کرتے رہے تھے ۔ جب انہوں نے ان مشرکین کو ان کے شرک پر آگا کیا تو انہوں نے اپنی سی کوشش کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک زبردست آگ میں جھونک دیا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں بھسم کردیا۔ لیکن اللہ کو ایک ماننے والوں کو اللہ اسی طرح بچا لیا کرتا ہے۔
(5) پانچویں بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص یا قوم پر خلوص دین داری ‘ پر عزم جدوجہد اور سر فروشی کے اپنے آپ کو سچائی کا پیکر بنا لیتی ہے تو وہ اگر چہ کمزورہی کیوں نہ ہو وہ دنیا میں تنہا اور بےبس نہیں ہوتی بلکہ جب ظالم اپنے ظلم کی انتہاؤں پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ مظلوموں کے بازؤں میں وہ طاقت بھر دیتا ہے۔ اور حالات کو ان کے موافق بنا دیتا ہے کہ پھر ظالموں کا جینا دو بھر کردیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ نظام نہ ہوتا تو دنیا ظلم سے بھر جاتی اور کسی کا اقتدار اور کسی کی مذہبی جگہیں محفوظ نہ رہتیں۔ عیسائی راہبوں کی خانقاہیں ‘ نصاری کے گرجا گھر ‘ یہودیوں کے عبادت خانے اور اللہ کی وہ مسجدیں جہاں بڑی کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے سب کے سب برباد ہوجاتے۔ لہٰذا اللہ مظلوموں کے ذریعہ ظالموں کو ختم کرتارہتا ہے۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو ظالم و مظلوم کی یہ کشمکش ہر دور میں رہی ہے اللہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ ہٹا تا رہا ہے۔ ایسے سیکڑوں واقعات تاریخ کے صفحات میں مل جائیں گے کہ جب ظالموں نے ظلم کی انتہا کردی تو مظلوم اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ظالموں کے ایوانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ اگر ہم بر صغیر ہی کی تاریخ کو سامنے رکھ لیں تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ صرف ایک سو سال میں دو بڑی سلطنتوں کا زبردست عروج اور زوال ہوا۔ سلطنت برطانیہ جو یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سے شروع ہوئی اور بتدریج اس نے دنیا کے اہم ملکوں پر قبضہ کرلیا اور وہ دنیا کی عظیم سلطنت اور طاقت بن کر ابھری۔ سلطنت برطانیہ کی وسعت اور پھیلائو کا یہعالم تھا کہ ان کی سلطنت میں سورج ڈوبتا ہی نہ تھا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے لئے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ایسے ایسے ظلم کئے جن کے تصور سے دل دہل جاتے ہیں اور انسانیت تڑپ کر رہ جاتی ہے۔ انسانیت کے نام کی مالا جپنے والے لوگوں کے سفید تھے لیکن ان کے دلوں کی سیاہی نے ہر طرف اندھیر مچا کر رکھ دیا تھا۔ ہندوستان میں خاص طور پر چونکہ مسلمانوں سے سلطنت چھینی گئی تھی اس لئے مسلمانوں پر وہ ظلم کئے جس کا تصور مہذب دنیا کر ہی نہیں سکتی۔ سات دن تک برابر قتل عام کیا جاتا رہا ایک ایک گھر کی تلاشی لی گئی۔ پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عام شاہراہوں سڑکوں پر پھانسی کے تختے لگا دیئے گئے۔ یہ جگہیں جہاں پھانسیاں دی جارہی تھیں انگزیزوں کی ترفریح اور دلچسپی کا مرکز بن گئیں تھیں جہاں وہ پھانسی پانے والوں کے سسکنے اور دم توڑنے کا لطف لیا کرتے تھے سگریٹ کا کش لگاتے۔ آپس میں باتیں کرتے۔ جب پھانسی کا کام مکمل ہوجاتا اور وہ مظلوم شخص آخری ہچکی لیتا تو ہنسی او مسکراہٹ کے ساتھ اطمینان کا اظہار کیا جاتا۔ ان بدنصیبوں میں بڑے بڑے ذی وجہاہت اور شان والے لوگ تھے۔ بعض مسلم محلے اس طرح تباہ و برباد کرکے رکھ دیئے گئے کہ پورے محلے میں کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ بچ سکا۔
ستائیس ہزار اہل اسلام نے پھانسی پائی۔ عورتوں اور بچوں تک کی لاشیں سڑکوں پر کھینچی گئیں۔ باپردہ خواتین اور شریف خواتین کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جس کا تصور ممکن نہیں ہے اور اس کا خیال کر کے دل دھل جاتا ہے۔ (قیصر التواریخ ص 454 )
میلی سن لکھتا ہے۔
ہمارے فوجی افسر ہر قسم کے مجرموں کو مارتے پھرتے تھے۔ اور کسی درد اور افسوس کے بغیر انہیں پھانسیاں دے رہے تھے گویا وہ کتے تھے یا گیڈر یا نہایت ادنی قسم کے کیڑے مکوڑے (میلی سن ص 177 ج 2)
فیلڈمارشل لارڈ ابرٹس نے 21 جون 1857 ئ کو اپنی والدہ کو خط لکھا کہ
سزائے موت کی سب سے زیادہ موثر صورت یہ ہے کہ مجرم کو توپ سے اڑا دیا جائے۔ یہ بڑا ہی خوفناک نظارہ ہوتا ہے۔ لیکن وجودہ وقت میں ہم احتیاط پر کار بند نہیں ہو سکتے ہمارا مقصد ان بد معاش مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ اللہ کی مدد سے انگریز اب ہندوستان کے مالک رہیں گے۔ (ایڈورڈ تھامسن ص 40۔ 1926 )
یہ اور اسی قسم کے وہ بیشمار واقعات ہیں جو ایک انسان کو لرزا کر رکھ دیتے ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں پر معاش اور روزی کے دروازے بند کردیئے۔ ان کے اوقاف و جائید ادوں کو بحق سرکار ضبط کرلیا گیا۔ جن علما نے سر اٹھانے کی کوشش کی ان کو زنگی بھر کی سزادے کر کالے پانی بھیج دیا گیا۔ اسلامی مدارس کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ایک زبردست مہم چلائی گئی تاکہ ان کے من پسنداداروں کو ترقی ملتی رہے۔ غر ضی کہ کوئی ایسا ظلم نہ تھا جو انگریزوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے خلاف نہ کیا ہو۔ اس ظلم کے بعد دنیا کی مظلوم قوموں نے ایک انگڑائی لی۔ بیداری کی لہر اٹھی جو سلطنت برطانیہ کو بہا کرلے گئی۔ برطانیہ سمٹتے سمٹتے اپنے جزیرے تک محدود ہو کر رہ گیا۔ جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا آج یہ عالم ہے کہ ان کی سلطنت میں سورج ہی نہیں نکلتا۔
یورپ کے ظلم و ستم کے ردعمل کے طور پر دنیا میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں روس ایک طاقت ورملک بن کر ابھرا اور وہ دنیا کی عظیم طاقت بن گیا۔ اس نے بھی اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنا شروع کیا اور خاص طور پر مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے میں کسر اٹھا نہ رکھی کیونکہ روس درحقیقت اپنے لئے اسلام ہی کو سب سے بڑا حریف سمجھتا تھا لہٰذا اس نے مسلمانوں اور دینی اداروں کو تباہ کرنے میں پوری طاقت جھونک دی۔ دوسری طرف امریکہ بھی ابھر کر سامنے آگیا اور پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوگئی ایک کمیونسٹ بلاک اور دوسرا سرمایہ دار گروپ۔ دونوں کی کشمکش نے ایک مرتبہ پھر دنیا میں ظلم و زیادتی کا سلسلہ شروع کردیا۔ آخر کار امریکی سازشوں سے روس جیسی سپر پاور کو افغانستان میں اس طرح دھنسا دیا گیا کہ روس کی اکانومی اس طرح تباہ و برباد ہوگئی کہ روس کی طاقت کے اور ملک کے ٹکڑے اڑ گئے۔ اب اس وقت دنیا میں صرف امریکہ سپر پاور کے طور پر ابھر چکا ہے مگر اس نے مغربی مزاج کے مطابق پوری دنیا کو اپنے قدموں میں رکھنے کے لئے ساری دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھ لیا ہے۔ پوری دنیا کے حکمران ‘ مملکتیں حتی کہ اقوام متحدہ بےجان ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب امریکہ بھی انسانیت کا نام لے کر تباہی و بربادی مچائے ہوئے ہے۔ افغانتسان اور عراق کی جائز حکومتوں کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد اللہ کا نظام کیا ہے وہی بہتر جانتا ہے لیکن امریکیوں کے ظالمانہ رویئے اور پانی طاقت کے گھمنڈ پر ناز کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی فرعونیت بہر حال رنگ لاکر رہے گی اور قرآنی فیصلہ اس پر نافذ ہو کر رہے گا۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید اب آئندہ ہندو اور یہودی یا چین سپر پاور کے طور پر سامنے آئیں گے۔ ایک دفعہد نیا پھر سے ظالموں کے ہاتھوں میں پھنس جائے گی۔ مگر افسوس یہ ہوتا ہے کہ صدیوں سے کفار کے ظلم و ستم سہنے کے باوجود مسلم قوم بد ستور سورة ی ہے اور وہ آنکھیں کھول کر حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ اگر ہم اب بھی اپنے خواب غفلت سے نہ جاگے تو آئندہ سودوسو سال تک مسلمانوں پر کفار و مشرکین کا مکمل غلبہ ہوجائے گا۔ جب سر سے پانی اونچاہوجائے گا تب ہم اٹھنے کی کوشش کریں گے۔ مگر اس وقت تک گاڑی نکل چکی ہوگی۔ کاش امت مسلمہ ایک دفعہ پھر ابھر کر دنیا کو ظلم سے نجات دلائے اور دنیا میں امن و سکون کا نظام قائم کرے جو صرف قرآن و سنت کے مطابق قوانین ہی سے ممکن ہے۔
(6) چھٹی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ” تمکن فی الارض “ (حکومت و سلطنت اور اقتدار وقوت) کی پیش گوئی اس وقت فرمائی جب ان کو مدینہ منورہ کے چند علاقوں پر بھی مکمل اقتدار و قوت حاصل نہ تھا۔ ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان اہل ایمان کو دنیاوی سلطنت و حکومت اور قوت اقتدار عطا کیا جائے گا تو وہ دنیا کے فاتحین کی طرح غرور وتکبر ‘ نفس پرستی ‘ ظلم و زیادتی ‘ ذاتی شان و شوکت اور عیش پرستی کے بجائے وہ اقتدار اللہ کی امانت سمجھ کر نہایت عاجزی و انکساری سے ہر وہ کام کریں گے جسے ان کا پروردگار پسند کرتا ہے وہ اقتدار و حکومت کے ذریعہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ ‘ ظلم و زیادتی اور بےانصافی کے بجائے دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیں گے۔ دین اسلام کو ایک نئی زندگی دینے کے لئے نمازوں کے نظام کو قائم کریں گے اور زکوۃ کے عاد لانہ نظام کے ذریعہ نیکیوں اور بھلائیوں کو فروغ دیں گے اور ہر برائی اور گناہ کے کاموں کو مٹانے اور دبانے کی بھر پور جدوجہد کریں گے۔ تاکہ دنیا کے بلکتے سسکتے انسانوں کو دین اسلام کے سائے میں امن و سلامتی مل سکے ۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ان آیات کے نزل ہونے کے بہت تھوڑے عرصے میں اسلام کا جھنڈا خیبر اور فتح مکہ سے شروع ہو کر ساری دنیا پر لہراتا چلا گیا۔ اور اس جھنڈے تلے انسانوں کو انسانی ظلم و ستم سے نجال مل گئی۔ اسلام کا عاد لانہ نظام دنیا بھر پر چھا گیا اور دنیا کے تمام لوگوں کو حقیقی امن و سلامتی نصیب ہوگئی۔ آج ایک مرتبہ پھر دنیا ظلم و جبر سے بھر گئی ہے۔ ہر طرف دنیا پرستی اور زر پرستی نے انسانی اقدار کو دولت اور لالچ کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔ کیونکہ دنیا کا اقتدار قوت اور حکومت ان مشرکین و کفار کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی ہے جو اس کے اہل نہ تھے۔ اہل ایمان کو پوری طاقت و قوت سے ابھر کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تا کہ دین اسلام کے سچے اصولوں کی روشنی سے دنیا کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور ایک نئی صبح طلوع ہوجائے۔
Ayahs 22:42–48لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 :
کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔
تشریح آیات نمبر 42 تا 48 :
آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی کریم ﷺ کو طرح طرح سے ستاتے اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب آپ ان کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے ڈراتے اور یہکہتے کہ اگر تم نے یہی طرز عمل اختیار کیا تو اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔ کفارو مشرکین کہتے کہ اگر ہم اسی قدر بد عمل ہیں اور ہم پر اللہ کا عذاب آکر رہے گا تو پھر دیر کس بات کی ؟ وہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ کفار کی ان باتوں سے بشری تقاضے کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو سخت رنج ہوتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو تسلی دیتے ہئے فرمایا کہ آج کفارو مشرکین جس طرح آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آپ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے بلکہ آپ سے پہلے بھی اللہ کے ہر نبی اور ہر رسول کا اسی طرح مذاق اڑایا گیا اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا۔ چناچہ آپ سے پہلے قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم عاد نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو قوم ثمود نے حضرت صالح کو عراق والوں نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو مدین والوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو فرعون اور قوم بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؐ کو اسی طرح جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔ اللہ نے ان کی قوموں کے لوگوں کو سوچنے ‘ سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت اور ڈھیل دی مگر جب وہ اپنی حرکتوں اور گناہوں سے باز نہیں آئے تو تب اللہ نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کی قوموں کو تباہ بر باد کر کے رکھ دیا۔
فرمایا کہ ان قوموں کے کھنڈرات کو دیکھئے جن کی چھتیں بھی دیواروں کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ ان کی بلند وبالا عمارتیں ریت کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ ان کے کنویں خشک پڑے ہیں۔ اونچے اونچے مضبوط قلعے کھنڈر بن گئے ہیں نہ آج بلند وبالا قلعے محفوظ اور نہ ان کی دولت کی ریل پیل باقی ہے۔ ہر طرف سوائے ایک ویرانیکے کچھ بھی نہیں ہے۔ حالانکہ وہ اپنے اپنے زمانے میں بڑی قوتیں اور عظمتیں رکھتے تھے مگر آج وہ کہاں ہیں ؟ اگر واقعی انکے سینوں میں دھڑکتے دل بےحس اور اندھے نہ ہوگئے ہوں تو قوموں کا یہ برا انجام ان کے لئے اپنے اندر عبرت و نصیحت کا بہت سامان رکھتا ہے۔ ذراہ وہ ان کھنڈرات اور ویرانوں میں جا کر دیکھیں کہ جب اللہ کسی قوم کے نافرمانوں پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے ‘ ان پر قابو پا لیتا ہے۔ اور گرفت کرلیتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت اس کو بچا نہیں سکتی۔ ان کا یہ کہنا کہ عذاب جلد ازجلدآجائے ان کے منہ سے اچھا نہیں لگتا کیونکہ جو اللہ کا وعدہ ہے تو پورا ہوکر رہے گا۔ لیکن جو لوگ اس فرصت سے فائدہ اٹھاکر اپنے اعمال کی اصلاح نہیں کررہے ہیں وہ سراسر نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ کیا ان کے پاس وہ دل نہیں ہیں جن سے وہ سوچ سکیں یا ان کے کان نہیں کہ وہ انکانوں سے حق و صداقت کی بات سن سکیں۔
واقعی انسان آنکھوں سے اندھا نہیں ہوتا بلکہ اصل اندھا پن دلوں کا اندھا پن ہے جو انسان کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ دل ہی اندھا وہجائے تو انسان کو کوئی بھی صحیح بات نہیں سوجھتی بلکہ سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کے ہاں کا ایک دن تمہارے ہزار سال کے دنوں کے برابر ہے۔ مراد یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب آئے گا تو اسکی انتہا کوئی نہیں ہوگی۔ تمام اہل بصیرت کو اس مہلت عمل سے فائدہ اٹھا کر نیک اعمال اختیار کرنے چاہئیں تاکہ دنیا اور آخرت بہتر ہو سکے۔ علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ قیامت میں ایک دن شدت اور سختی کی بنا پر ایک زار سال کے برابر ہوگا یا درازی مدت کے لحاظ سے ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ سچائیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باجود اس سے نصیحت حاصل نہ کریں وہ اللہ کی نظر میں اندھے ہیں جن کو کوئی سچائی نظر نہیں آتی۔
Ayahs 22:49–57لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57
نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔
ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی اختیار کرتے ہیں ان کے لئے اللہ کے ہاں مغفرت کا سامان ہے بلکہ (دنیا اور آخرت میں) عزت و آبرو کے ساتھ ان کو اتنا کچھدیا جائے گا جس کا اس دنیا میں تصورممکن نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ حق و صداقت کو جھٹلانے نیچا دکھانے اور حق کی آواز کو دبانے کے لئے بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں انکا ٹھکانا جہنم ہے۔
نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا جارہا ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول اور نبی گذرے ہیں جب انہوں نے آنے والی حقیقی زندگی جس کو کفار نے بےحقیقت سجھ کر نظر انداز کیا ہوا تھا اس کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور حق و صداقت کی باتوں کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں تو شیطان ان کی باتوں میں شبہ پیدا کرنے کے لئے اپنی طرف سے ملاوٹ کی کوشش کرتا ہے تاکہ رسول اور نبی کی باتوں کو توڑ مروڑ کر لوگوں کے کانوں تک پہنچایا جائے۔ بہت سے لوگ اس کے فریب اذر دھوکے میں آکر کہہ دیتے ہیں کہ واقعی اس کا وہی مطلب ہے جو شیطانوں کی طرف سے بیان کیا جارہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کے اس فریب کے پردے کو چاک کرنے کے لئے وحی (خفی) نازل کرتا ہے تاکہ شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کے پیکر ہوتے ہیں وہ تو شیطانکے پرو پیگنڈے اور ملاوٹ کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے وہ الفاظ کے فریب اور اس کے ظاہری پہلوؤں میں اٹکنے کے بجائے باتوں کی گہرائی اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو علم ‘ عقل ‘ اور فہم و فراست سے کورے ہوتے ہیں وہ شیطان کے مکرو فریب میں پھنس جاتے ہیں۔ ان کی نفسانی خواہشات ان کو چاروں طرف سے اس طرح جکڑ لیتی ہیں کہ ان کے دلوں کے روگ اور مزاجوں کی سختی ان کو ہر صحیح بات کو سمجھنے سے روک دیتی ہے اور ان کو صحیح راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ وہ ہمیشہ شک میں پڑے رہتے ہیں فرمایا کہ یا تو ان پر اچانک قیامت آجائے گی یا ان پر ایک ایسے دکا عذاب نازل ہوجائے گا جس سے جان چھڑا ناممکن نہ ہوگا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن دور نہیں ہے۔ یہ وہ دن ہوگا۔ جس میں ساری طاقت و قوت اور حکومت و سلطنت صرف ایک اللہ کی ہوگی جو ان کے درمیان فیصلہ فرمادے گا۔ جو ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے ہیں وہ تو راحت بھری جنتوں میں داخل کئے جائیں گے اور کفر و نکار کی روش پر چلنے والے اور جو اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے ہوں گے ان پر ذلت والا عذاب مسلط کیا جائے گا۔
Ayahs 22:58–66لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66
ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر 58 تا 66 :
جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر بار ‘ وطن ‘ رشتہ دار ‘ دوست احباب اور کاروبار زندگی چھوڑ کر اپنی زندگی کا نذرانہ تک پیش کرنے میں آگے آگے ہیں اور وہ ہر طرح کی مصیبتیں برداشت کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کردیئے گئے ہیں یا طبعی وفات پا گئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ جو بہترین رازق ہے اس نے ایسی جنتوں اور ان کی راحتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے وہ ان کو عطا کی جائیں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
ان آیات میں یہ بھی فرمادیا گیا کہ بیشک اطاعت رسول میں صحابہ کرام ؓ کو طاقت کا جواب طاقت سے دینے کی ممانعت کی گئی ہے لیکن اگر کسی جگہ ایسے حالات پیش آگئے ہوں جہاں مظلوم بھڑک اٹھے ہوں اور محض اپنے دفاع کے لئے انہوں نے ان کفار سے ایسا ہی بدلہ یا انتقام لیا ہو جیسا کہ ان پر ظلم و زیادتی کی گئی تھی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کا رنہ تھا۔ اللہ تاعلیٰ ایسے چھوٹی موٹی لغزشوں کو معاف کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ آج وہ جس حق و صداقت کی سر بلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب اور مشکلات کو جھیل رہے ہیں۔ اور ان پر چاروں طرف سے ظالموں نے ظلم و ستم کی انتہا کررکھی ہے یہ حالات اسی طرح نہیں رہیں گے بلکہ بہت جلد وہ انقلاب آکر رہے گا جس سے حالات بالکل اسی طرح تبدیل ہوجائیں گے۔ جس طرح روشن دن کی روشنی کو رات کی تاریکی اس طرح ڈھانپ لیتی ہے جیسے روشنی کا وجود مٹ گیا ہو۔ لیکن جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اندھیرے چھٹنے اور سمٹنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اور پھر پوری طرح روشنی پھیل کر اندھیروں کے وجود پر چھا جاتی ہے یا جیسے زمین کا سبزہ گرمی کی شدت سے جھلس جاتا ہے۔ اور چورا ہو کر بکھرجاتا ہے۔ مٹی خشک اور ویران سی لگنے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس میں کبھی زندگی ہی نہ تھی لیکن جب بارش ہوتی ہے تو زمین پھول کر ابھرتی ہے اور اسی خشک مٹی میں تروتازگی پیداہو جاتی ہے۔ کھیت لہلانے لگتے ہیں ‘ درختوں پر ایک نئی زندگی کی پھبن چمکنے لگتی ہے۔ پھولوں کے کنج سے خوشبو مہکنے لگتی ہے۔ ہر طرف سر سبزی و شادابی کی حکمرانی نظر آنے لگتی ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ وہ اس گمان اور گھمنڈ میں نہ رہیں کہ ظلمو زیادتی کی یہ رات اور تاریکی اسی طرح قائم رہے گی بلکہ دین اسلام کا سورج بہت جلد طلوع ہونے والا ہے جو ہر طرح کے اندھیروں پر چھا جائے گا اور پھر امن و سلامتی اور انسانیت کی ایک ایسی روشن صبح طلوع ہوگی جس میں ہر سچائی صاف نظر آنا شرو ہوجائے گی۔ فرمایا کہ وہ اللہ جو دن رات کے الٹ پھیر اور موسموں میں تبدیلی لاتا ہے کیا اس کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے۔ کہ وہ ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کو اٹھا کر ایک انقلاب برپاکردے۔ اور آج جو مظلوم ہیں اور کفار کی اذیتوں اور مصائب کا شکار ہیں ان کو وہ طاقت و قوت ‘ حکومت اور سلطنت عطا کردی جائے جس سے کفار کے ایوانوں میں زلزلے آجائیں گے۔ فرمایا کہ یہ انقلاب تو آ کررہے گا۔ اور پھر جس طرح اللہ نے اس پوری کائنات کو انسان کی خدمت میں لگا دیا ہے۔ گہرے سمندروں میں کشتیاں اور جہاز اسی کے حکم سے چلتے اور لوگوں کو منزل مراد تک پہنچاتے ہیں۔ انسانی وجود ‘ زندگی ‘ موت اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا ان سب باتوں کا اختیار اللہ ہی کا ہے اسی نے پوری کائنات کے ذرے ذرے کو انسانی خدمتوں پر لگا کر اس کے لئے مسخر کررکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے دنیا میں الٹ پھیر کرسکتا ہے اس کی قدرت کے سامنے کسی کا بس نہیں چلتا۔ یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں جن کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔ اہل ایمان ان نعمتوں کی قدر کرتے ہیں لیکن وہ کفار ان نعمتوں کی قدر نہ کرکے ابدی راحتوں سے محروم ہوتے چلے جارہے ہیں۔
Ayahs 22:67–72لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 72 :
امۃ (امت۔ جماعت) ‘ منسکا (طریقہ عبادت و بندگی) ‘ ناسکون (وہ اس (طریقہ) پر عبادت کرتے ہیں۔ عبادت کرنے والے) ‘ ینازعن (وہ جھگڑا کرتے ہیں) ‘ ادع (بلائیے۔ دعوت دی جئے) ھدی (ہدایت) ‘ جادلو (وہ جھگڑنے والے ہیں) ‘ یسیر (آسان) ‘(لم ینزل ( نہیں اتارا) ‘ سلطان (سند۔ دلیل) ‘ المنکر (ناگوار) ‘ یکادون (وہ قریب ہوتے ہیں) ‘ یسطون (وہ حملہ کرتے ہیں) ‘ انبئی (میں بتاتا ہوں) ۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 72 :
اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے رسول بھیجے انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنی امتوں کو طریق عبادت سکھایا۔ خاتم الانبیا حضرت مصطفیٰ ﷺ کو بھی اللہ نے عبادت کے طریقے سکھائے تاکہ ساری دنیا کے مسلم ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور ان کی زندگی کے ہر کام میں ایسا خلوص پیداہو جائے جس سے ان کا ہر کام صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوجائے۔ اللہ کو یاد کرنے کے یہ طریقے مختلف ضرور ہو سکتے ہیں لیکن ایک بات پر سب کا اتفاق رہا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لئے ہوجائے۔ اللہ کو یاد کرنے کے یہ طریقے مختلف ضور ہو سکتی ہیں لیکن ایک بات پر سب کا اتفاق رہا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لئے ہوئی ہے۔ لہٰذا جب اس بات کو بنیاد بنا لیاجائے گا تو پھر کسی طرح کا اختلاف نہ رہے گا۔ لیکن اختلاف جس عبادت میں ہوتا ہے وہ طریقہ بندگی ہے جس میں غیر اللہ کو شامل کیا جاتا ہے۔ جب وہ لوگ غیر اللہ کی عابدتو بندگی میں شریک کرنے لگتے ہیں تو اس کے ماننے والوں کے سامنے اگر غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منع کیا جاء تو وہ اپنے بےحقیقت معبودوں اور ان شخصیتوں کے خلاف سننے کو تیار ہیں ہوتے جو ان کے نزدیک محبوب ہوتے ہیں۔ جب وہ علمی بات کا جواب علم و دلیل کی روشنی میں دینے سے اپنے آپ کو بےبس محسوس کرتے ہیں تو وہ ان لوگوں پر ٹوٹ پڑتی ہیں جو حق و صداقت کے علم بردارہوتے ہیں اور وہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکنے میں اپنی ساری صلاحیتوں کو لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اسی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ اللہ نے ہر (رسول کی) امت کو ایک طریق عبادت و بندگی عطا کیا تھا اور اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی عطا کیا گیا ہے لہٰذا اس میں اختلاف کرنے او جھگڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہیے کیونکہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ آپ بالکل سیدھے اور سچے راستے پر ہیں۔ اگر پھر بھی وہ اختلاف کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے اللہ تمہارے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ قیامت دور نہیں ہے اس دن اس بات کا بھی فیصلہ کردیا جائے گا کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے ان کی اصل حقیقت کیا ہے۔ آسمانوں اور زمین کا ایک ذرہ بھی اس کی نگاہوں سے چھپا ہوا یا پوشیدہ نہیں ہے۔ بلکہ ہر بات اللہ کے ریکارڈ میں موجود ہے جس کو ریکارڈ کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا اللہ کے لئے ذرا بھی مشکل یا دشوار نہیں ہے۔
فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن (بتوں ‘ چیزوں ‘ اور شخصیتوں کی) عبادتو بندگی کر رہے ہیں نہ تو اللہ نے اس کے لئے کوئی دلیل اور نشانی بھیجی ہے اور نہ اس کی کوئی علمی بنیاد ہے ایسے بےانصاف لوگوں کا کوئی حمایتی اور مدد گار نہیں ہے۔ ان کا یہحال ہے کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ ان کے سامنے اللہ کی آیات کو پوھتے اور سناتے ہیں تو ان کافروں کی تیوریوں پر بل پڑنے شروع ہوجاتے ہیں۔ جب وہ اس سچی اور حقیقی بات کو سن کر اس کا ٹھوس جواب نہیں دے سکتے تو آگ بگولا ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ سچائی بتانے والوں پر حملہ کرکے ان کو تباہ وبرباد کردیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے جو آیات قرآنی کو سننا گوارا نہیں کرتے کہہ دیجئے کہ مرنے کے بعد سب سے بد ترین ٹھکانا اور بدترین آگ جہنم کی آگ ہے۔ تمہاری دشمنی تمہیں آخرکار اس آگ میں جھونک دے گی۔ اور اس طرح اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کررہے گا۔
Ayahs 22:73–78لغات القرآن : آیت نمبر 73 تا 78 :
ضرب (بیان کیا گیا۔ مارا گیا) ‘ استمعوا (غور سے سنو) ‘ لن یخلقوا (وہ ہرگز پیدا نہ کریں گے۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتے) ‘ ذباب مکھی۔ کوئی ایک مکھی) ‘ یسلب (وہ کھینچ لیتا ہے۔ وہ چھین لیتا ہے) ‘ لایستنقذوہ (وہ نہ چھڑا سکیں گے) ‘ الطالب (چاہنے والا) ‘ مطلوب (چاہا گیا) ‘ یصطفی (وہ منتخب کرتا ہے) ‘ افعلوا (تم کرو) ‘ الخیر (بھائی ۔ نیک کام) ‘ اجتبی (اس نے چنا۔ منتخب کیا) ‘ حرج (تنگی) ‘ سمی (اس نے نام رکھا) ‘ شھید (گواہ) ‘ اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) ‘ مولی (مالک) ‘ نعم المولی (بہترین مالک) ‘ نعم النصیر (بہترین مدد گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 78 :
اللہ وہ ہے جو کائنات کے ذرے ذرے کا خالق ومالک ‘ تمام طاقتوں ‘ قوتوں اور عزت و احترام اور تمام عبادتوں کا مستحق ہے۔ ہر شخص اس کا محتاج ہے لیکن وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں کے تمام حالات ‘ جذبات ‘ احساسات اور ضروریات سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ اپنے بندوں کی بھلائی رہبری اور رہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں اپنے پاک نفس پیغمبروں کو بھیجتا رہا ہے وہ سب کا مشکل کشا اور ہر طرح کی نعمتوں سے نواز نے والا ہے۔ رکوع ‘ سجدے اور تمام عبادتوں کے لائق صرف اسی کی ذات ہے۔ وہ ہر آن ہر ایک کے کام آنے والا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی گواہی دے رہا ہے لیکن کفر اور انکار کی روش پر چلنے والے انسانوں کی جہالت ‘ بےوقوفی اور نادانی کی انتہا یہ ہے کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر ہر کمزور اور بےبس چیز کو طاقت ور سمجھ کر اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور اسی کو اپنا مشکل کشا مان لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ پتھر کے بےجان اور بےبس و مجبور معبود جو ایک مکھی جیسا حقیر جانور بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ اگر ان کے سامنے سے وہ مکھی کچھ لے اڑے تو اس سے واپس لینے کے لئے اس سے چھین نہیں سکتے۔ جن کی بےبسی کا یہ عالم ہے جو خود اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ دوسروں کی مشکلات کیسے دور کرسکتے ہیں۔ ان سے کسی طرح کی امید رکھنا محض ایک تصوراتی عیاشی اور بچوں کے بنائے ہوئے ریت کے گھر وندوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
لوگوں کو اللہ کی قدر اس طرح کرنی چاہیے کہ اس کا حق ادا ہوجائے۔
تمام لوگوں کو اور ان کے تمام کاموں کو آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
رکوع ‘ سجدے ‘ تمام عبادتیں صرف ایک اللہ کے لئے ہیں۔
ہرخیر و فلاح اور بھلائی کا کام محض اللہ کے لئے کیا جائے ‘ اسی میں کامیابی ہے۔
اللہ نے امت محمدی کو اپنے دین کی حفاظت کے لئے منتخب کرلیا ہے۔
اس نے دین میں کسی طرح کی تنگی اور مشکل پیدا نہیں کی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر تمام اہل ایمان کو جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہم سب کا نام ” مسلم “ رکھا ہے۔
اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی زندگی کو اہل ایمان اور پوری کائنات کے لئے مشعل راہ بنایا ہے۔
اللہ نے پوری امت محمدی کو یہ شرف و عزت عطا فرمایا ہے کہ وہ تمام انبیاء کی امتوں کی گواہ بنے گی لہٰذا تمازوں کے نظام کا قیام ‘ زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر اللہ کے دین کی بنیادیں قائم کی جاسکتی ہیں۔ لیکن ان بینادوں کو چھوڑ کر جس بنیاد کو بھی اپنا یا جائے گا وہ انتہائی کمزور اور ناقابل بھروسہ بنیادیں ہوں گی۔
وہ اللہ سب سے اچھا مالک اور سب سے بہترین مدد گا رہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرنے ‘ رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی و رسول مانتے ہوئے ان کی اطاعت و فرماں برداری اور حقیقی محبت کی توفیق عطا فرمائے اور کتاب الہیٰ کے تمام احکامات پر پوری طرح عمل کرنے کی سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین
الحمد للہ سورة الحج کی تمام آیات کا ترجمہ اور تفسیر و تشریح مکمل ہوگئی۔
واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین