17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 17:71–77

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

یاد کرو جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ پس جس کو اس کی کتاب (اعمال نامہ) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گی تو وہ لوگ اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر ظلم نہ ہو گا

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو کوئی (اس دنیا میں) اندھا بن کر رہا ہو آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ اور بھی زیادہ بھٹکا ہوا ہوگا۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ کو اس چیز سے جو ہم نے وحی کی ہے ہٹانے کی کوشش میں تھے۔ تاکہ آپ اس حکم کے سوا ہماری طرف غلط چیز کی نسبت کردیں۔ ایسی حالت میں یہ آپ کو خالص دوست بنا لیتے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ ان کی طرف مائل ہو سکتے تھے۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کو اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں دوہرا عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلے میں کسی کو (اپنا) مددگار نہ پاتے

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور یہ آپ کے قدم اکھاڑنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کو (مکہ سے) باہر نکال دیں۔ اگر ایسا ہوا تو آپ کے بعد یہ بھی بہت عرصے تک نہ رہ سکیں گے۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

آپ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے ہیں ان کے ساتھ ہماری یہی سنت (قانون) رہا ہے اور آپ ہمارے قانون (سنت) میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77 اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 77 اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار مکہ کبھی تو کہتے کہ اے محمد ! دراصل ہم آپ کے پاس آ کر آپ کی بہت سی باتیں سننا چاہتے ہیں لیکن چند باتیں ایسی ہیں جو ہمارے قدموں کو روک لیتی ہیں مثلاً آپ کے پاس معاشرہ کے نچلے طبقے کے غریب و نادار لوگ یا غلام بیٹھے رہتے ہیں ہم ان کے برابر بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اگر آپ ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ کے پاس آ کر آپ کی باتیں سن سکتے ہیں۔ کبھی کہتے کہ آپ جس قرآن کو پڑھتے ہیں اس میں ہمارے رسم و رواج اور ہمارے معبودوں کی برائی ہوتی ہے یا تو آپ ان کو قرآن سے نکال دیں یا ان کی اصلاح کردیں یا جس طرح آپ حجر اسود کو ہاتھ لگاتے ہیں ہمارے بتوں کو بھی کبھی ہاتھ لگا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم مل جل کر اتحاد و اتفاق کی کوئی راہ نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے آپ کو ثابت قدم رکھا ورنہ ان کفار نے تو آپ کو راہ حق سے بھٹکانے کا پوری طرح انتظام کرلیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اگر آپ نے ان کی باتوں پر دھیان دیا ہوتا تو یہ آپ کی محبت کا دم بھرنے لگتے اور آپ کو اپنا پکا دوست بنا لیتے لیکن اس وقت آپ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتے اور یہ ایک ایسانا قابل معافی جرم بن جاتا کہ اس پر آپ کو دنیا اور آخرت میں دگنا عذاب دیا جاسکتا تھا لیکن لیکن اللہ نے ان کفار کے مقابلے میں آپ کو ثابت قدم رکھا اور اسی نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ ان کفار کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ ہو سکتا ہے یہ کفار اس حد تک چلے جائیں کہ جب آپ ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کریں تو آپ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کی تدابیر کریں۔ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجیے کہ شروع ہی سے اللہ کا یہ قانون رہا ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے نبی کو نکال دیتی ہے تو وہ قوم بھی بہت عرصہ تک اپنی جگہ چین اور اطمینان سے نہیں رہ سکتی یعنی اس بستی پر اللہ کا عذاب آ کر رہتا ہے۔ لہٰذا اگر کفار مکہ نے ایسا کیا تو یہ خود بھی بہت عرصہ تک اس سر زمین پر نہ رہ سکیں گے اور ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جائے گی۔ فرمایا ان لوگوں کو اپنی آخرت کی فکر کرنا چاہئے جب ہر شخص اپنے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا ۔ کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ ہوگا۔ جس کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ تو بہت خوش ہوگا۔ اور دوسروں کو بھی دکھائے گا لیکن جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے گا وہ نہایت شرمندہ اور ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائے گا۔ انسانوں کے نامہ اعمال کس طرح ان کے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اس کی تفصیل معتبر احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ جب لوگوں کو میدان حشر میں جمع کرلیا جائے گا تو تمام لوگوں کے اعمال نامے عرش الٰہی کے نیچے جمع کئے جائیں گے۔ پھر ایک ایسی ہوا چلے گی کہ وہ اعمال نامے اڑ ا اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے یہ ایک محسوس علامت ہوگی کہ آئندہ کس کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے چناچہ جو لوگ صاحب ایمان ہوں گے ان کے داہنے ہاتھ میں اور جو کفار ہوں گے ان کے بائیں ہاتھ میں ان کے اعمال نامے پہنچ جائیں گے۔ ان آیات سے چند اصولی باتیں معلوم ہوئیں۔ (1) جتنے بھی اولین و آخرین انسان ہیں وہ سب کے سب ایک ایسے میدان میں جمع ہوں گے جس کو میدان حشر یا انصاف کا دن قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اس دن کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ بلکہ اس نے جیسے اعمال کئے ہوں گے اس کو اچھی یا بری جزا دی جائے گی۔ (2) جو حق و صداقت کی روشنی سے دنیا میں محروم رہا اور وہ حق دیکھتے ہوئے بھی اس سے اندھا بنا رہا قیامت میں بھی اندھا ہی رہے گا یعنی یہ شخص آخرت میں بھی ہر خیر اور بھلائی کے دیکھنے سے محروم رہے گا جو بڑی بدقسمتی ہوگی۔ (3) فرمایا کہ اے نبی ! یہ لوگ آپ کو وحی الٰہی سے ہٹانے کی فکر میں تھے تاکہ آپ اس حکم کے سوا ہماری طرف بعض غلط چیزوں کو منسوب کردیں اور وہ آپ کو دوست بھی بنا لیتے۔ ممکن تھا کہ آپ ان کی طرف کچھ مائل ہوجاتے اور غریبوں کو اپنی محفل سے نکال دیتے لیکن اللہ نے آپ کو ثابت قدم رکھا اور وہ کفار اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی وساطت سے ساری امت کو یہ بات بتا دی کہ اگر وہ کفار کے جھانسے اور چال میں آ کر کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے جس سے اللہ کے دین کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو اس پر اللہ کی طرف سے دوگنا عذاب اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی مسلط کردی جائے گی۔ (4) اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی اس سازش کو کھول کر اپنا قانون ارشاد فرمادیا۔ فرمایا کہ اے نبی ! وہ لوگ جو آپ کی دشمنی میں حد سے آگے بڑھ رہے ہیں اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ کا یہ قانون اور دستور ہے کہ جب بھی کسی بستی سے اللہ کے نبی کو نکالا گیا تو پھر اس بستی کے لوگ بھی زیادہ عرصہ تک اپنی جگہ نہ ٹھہر سکے۔ فرمایا کہ اگر مکہ والوں نے ایسا کیا تو پھر وہ خود بھی اس سر زمین پر نہ رہ سکیں گے اور اللہ کا وہ قانون نافذ ہو کر رہے گا جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور مکہ والوں کو ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے واسطہ پڑ کر رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو مکہ والے شدید مشکلات میں گرفتار ہوگئے۔ ان پر اتنا شدید قحط پڑا کہ وہ کتے، بلیاں اور پتے تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ پھر اللہ نے بنی کریم ﷺ کی دعا سے اس عذاب کو دور فرمایا۔ اس موقع پر یہ عرض کروں گا کہ کفار مکہ نے ایسے حالات پیدا کردیئے تھے کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ سے نکل جائیں۔ ان کے لئے مکہ کی سر زمین کو تنگ کردیا گیا تھا لیکن انہوں نے سازشوں کے باوجود آپ کو نکالا نہیں تھا بلکہ اللہ کے حکم سے آپ نے ہجرت فرمائی تھی اسی لئے ان پر وہ عذاب نہیں آیا جو پہلی قوموں پر آیا تھا لیکن قحط اور بلاؤں میں گرفتار ہونا یہ بھی ایک عذاب ہی تھا۔
Ayahs 17:78–84

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز قائم کیجیے اور فجر کے قرآن کا اہتمام کیجیے بیشک صبح کا قرآن (پڑھنے میں) فرشتے حاضر ہوتے ہیں

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصہ میں تلاوت قرآن کے ساتھ بیدار رہیں یہ آپ کے لئے زائد (عبادت) ہے قریب ہے کہ شاید آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہئے کہ میرے پروردگار مجھے جہاں بھی لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا اور مجھے جہاں سے بھی نکالے حق کے (ساتھ نکالے گا) اور مجھے مدد دینے والا غلبہ عطا فرما

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور (اے نبی) کہہ دیجیے کہ حق آگیا باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے کے لئے ہی ہے۔

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

ہم قرآن کو نازل کر رہے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالمو کے حق میں سوائے خسارے کے کچھ اضافہ (نہیں) ہو گا

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ اپنے منہ کو اور پہلو کو پھیرلیتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ہر ایک اپنے طریقے پر کام کرتا ہے۔ آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ صحیح راستے پر ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 78 تا 84 دلوک ڈھلنا، زوال۔ غسق اندھیرا۔ تھجد بیدار رہے۔ ذھق مٹ گیا۔ انعمنا ہم نے انعام کیا۔ اعرض منہ پھیرلیا۔ اعراض کیا۔ نا پہلو پھیرلیا۔ شاکلۃ طریقہ۔ اھدی زیادہ صحیح راستہ۔ تشریح : آیت نمبر 78 تا 84 ان آیات میں جو مضامین ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو سمھنے کے لئے اس اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب زندگی ہے جس کے اصول، انوارات اور طریقے کامل و مکمل ہیں لیکن اللہ کی مراد اور انوارات اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آسکتے جب تک نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ہم خود اس کو سمجھ لیں گے ہمیں احادیث رسول کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو اس سے زیادہ غلط اور نامناسب بات اور کوئی نہیں ہوس کتی کیونکہ نہ تو ہم اہل زبان ہیں اور نہ ہمارے سامنے نبی کریم ﷺ کے ارشادات گرامی ہیں تو ہم محض لغت کو سامنے رکھ کر اس حقیقت تک کیسے پہنچ سکتے ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو بھیجا اور آپ نے تئیس سال میں ہر آیت کی تشریح اور وضاحت کر کے صحباہ کرام کی زندگی کا حصہ بنا دیا تھا جس نے ان صحابہ کرام کو آسمان نبوت کے جگمگاتے چاند، سورج اور ستارے بنا دیا تھا اگر یہ بات صحابہ کرام کہتے تو یہ ان کا مقام بھی تھا کیونکہ عربی زبان ان کی مادری زبان تھی بلکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہ کر وہ سب کچھ سیکھ لیا تھا جو اللہ ان کو سکھانا چاہتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات اور عمل کو دیکھنے والے لاکھوں کی تعداد میں صحابہ کرام تھے جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کی ایک ایک بات اور عمل کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔ نیز یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ عربی زبان دنیا کی سب سے وسیع ترین زبان ہے جس کے ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں۔ اگر آج ہم نے لغت کے سہارے کسی ایک لفظ کے ایک معنی کردیئے تو کل کوئی دوسرا شخص اٹھ کر دوسرے معنی کر دے گا اور اس طرح ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع شروع ہوجائے گا کہ قرآن کریم کا مفہوم ہی کہیں سے کہیں تک پہنچ جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ منکرین حدیث کا بنیادی مقصد نظام قرآن کو بتاتا نہیں ہے بلکہ قرآن کریم نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے عمل نے جو ہمیں نظام زندگی دیا ہے اس کو نہایت چالاکی سے تباہ و برباد کردینا چاہتے ہیں اور جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں اس سلسلہ میں چند باتیں عرض ہیں جن کو نہایت توجہ اور احتیاط سے سننے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ (1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ (2) نماز قائم کرنا۔ (3) زکوۃ ادا کرنا۔ (4) حج کرنا۔ (5) رمضان کے روزے رکھنا ۔ یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن پر اسلام کی عمارت تعمیر کی گئی ہے لیکن قرآن کریم میں ان اصولوں کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں نماز قائم کرنے کا حکم ایک جگہ نہیں بلکہ لاتعداد مقامات پر دیا گیا ہے۔ رکوع ، سجدہ، تلاوت اور تسبیحات وغیرہ کا حکم ہے مگر کسی جگہ بھی یہ لفظ موجود نہیں ہے کہ نمازیں پانچ وقت پڑھی جائیں، ظہر ، عصر، عشاء میں چار چار رکعات مغرب میں تین فجر میں دو جمعہ میں دو وغیرہ یہ سب باتیں ہمیں نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل اور حکم سے سکھائی ہیں جس پر پوری امت کا مسلسل عمل موجود ہے جس کے ہر زمانے میں کروڑوں مسلمان گواہ رہے ہیں اور ہیں اور ساری دنیا میں چند فقہی اختلافات کے باوجود بنیادی اختلافات کہیں نہیں پائے جاتے۔ مثلاً قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ ترجمہ :- اے نبی ! سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز قائم کیجیے اور فجر کے قرآن (نماز فجر) کا اہتمام کیجیے۔ کیونکہ فجر کے وقت (فرشتوں کی) حاضری کا وقت ہوتا ہے۔ ”’ لوک “ کے معنی جھک جانا، مائل ہوجانا ہے جس سے مراد زوال آفتاب ہے کیونکہ اس وقت سورج زوال کی طرف جاتا اور ڈھل جاتا ہے۔ اسی طرح فجر کے قرآن یعنی نماز فجر کے اہتمام کا حکم دیا گیا ہے۔ امت کے تمام علمائ، فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت میں پانچ وقت کی نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، ظہرہ ، عصر، مغرب، عشاء اورف جر اسی بات کو سورة ہود میں اسطرح فرمایا گیا ہے۔ ترجمہ :- نماز قائم کیجیے دن کے دونوں کناروں پر (یعنی فجر اور مغرب) اور کچھ رات گذرنے پر (یعنی عشائ) اسی طرح فرمایا گیا۔ ترجمہ :- اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے طلوع آفتاب سے پہلے (نماز فجر) اور غربو آفتاب سے پہلے (نماز عصر) اور رات کے اوقات میں پھر تسبیح کیجیے (نماز عشائ) اور ان کے دونوں سروں پر (فجر، ظہر، مغرب) اللہ تعالیٰ نے سورة روم میں فرمایا ہے ترجمہ :- اللہ کی تسبیح کیجیے جب کہ تم شام کرتے ہو (مغرب) اور جب صبح کرتے ہو (فجر) اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد و ثنا ہے اور دن کے آخری حصے میں (نماز عصر) اور جب تم دوپہر (ظہر) کرتے ہو (روم آیت نمبر 17، 18) ان آیات سے رات دن میں پانچ نمازوں کے احکامات ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ تہجد کی نماز آپ پر فرض تھی لیکن امت کے لئے سنت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں پانچ نمازوں کا ذکر موجود ہے مگر ان کو کب، کیسے پڑھا جائے گا اس کو نبی کریم ﷺ ہی اللہ کے حکم سے متعین کر کے بتا سکتے تھے۔ کیونکہ ان نمازوں کی ترتیب اور اوقات اللہ نے حضرت جبرئیل کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کو بتائے ہیں چناچہ ابو داؤد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ ابن عباس کی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جبرئیل نے مجھے دو مرتبہ بیت اللہ شریف کے قریب نماز پڑھائی (1) ظہر کی نماز ایسے وقت میں پڑھائی جب کہ سورج ڈھل چکا تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ نہ تھا۔ (2) پھر عصر کی نماز پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر تھا۔ (3) پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ (4) پھر عشاء کی نماز شفیق غائب ہوتے ہی پڑھائی۔ (5) اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار پر کھاناپینا حرام ہوجاتا ہے۔ (1) دوسرے دن انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا۔ (2) اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا۔ (3) اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ (4) اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گذر جانے پر (5) اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیلنے پر پڑھائی۔ پھر جبرائیل نے پلٹ کر عرض کیا اے محمد ! ! یہی وہ اوقات ہیں جن پر انبیاء کرام نے نمازیں پڑھی ہیں اور نمازوں کے اوقات ان دونوں وقفوں کے درمیان میں ہیں (یعنی پہلے دن ہر نماز کا ابتدائی وقت اور دوسرے دن ان نمازوں کے انتہائی اوقات بتائے گئے ہیں) قرآن کریم کے احکامات کی تشریح جس طرح حضور اکرم ﷺ کے عمل اور احادیث سے ثابت ہے اب قیامت تک ان پر ہی عمل کیا جائے گا۔ اس میں تبدیلی کا اختیار نہ کسی کو دیا ہے اور نہ کبھی کسی کو اس کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح میں نے نماز کے متعلق تفصیل عرض کی ہے اسی طرح اسلام کے دوسرے ارکان کی تشریح بھی نبی کریم ﷺ نے جس طرح ارشاد فرما دی اس پر اسی طرح سے عمل کیا جائے گا۔ پانچوں نمازوں اور تہجد کا ذکر کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کو مکہ مکرمہ کے شدید ترین حالات میں جہاں یہ بتا دیا گیا کہ اس تنگ اور مصیبت کے وقت میں اللہ کی عبادت و بندگی ہی سکون قلب کا ذریعہ ہے وہیں ہجرت مدینہ، باطل کے مٹ جانے، مقام محمود پر فائز کرنے کی خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ قرآن کریم جہاں اہل ایمان کے لئے شفا اور رحمت ہے وہیں کفار و منکرین کے ضد اور ہٹ دھرمی میں اضافے کا بھی سبب ہے ۔ اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب بھی اس پر مشکل وقت آپڑتا ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔ فرمایا کہ یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ جب اس پر انعام و کرم کی بارش کی جاتی ہے تو وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو بد حالی سے خوش حالی نصیب فرمائی اور وہ شکر ادا کرنے کے بجائے بےنیازی کے طریقے اپنا کر منہ پھیر کر چلتا ہے اور جب اسی پر مصائب اور مشکلات کا ہجوم ہوتا ہے تو وہ مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ اپنا مشن اور مقصد جاری رکھئے اللہ تعالیٰ آپ کو نہ صرف اس دنیا میں عزت و آبرو کا مقام عطا فرمائے گا اور باطل کو مٹا کر حق کو قائم کر دے گا بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقام پمحمود پر فائز فرما دے گا جہاں آپ اپنی پوری امت کی سفارش شفاعت فرمائیں گے۔ دنیا کی بھلائی اور خیر بھی آپ کی ہے اور آخرت کی عزت و عظمت بھی آپ ہی کی غلام ہے۔ روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو قیامت کے دن گیارہ چیزیں بطور خاص عطا فرمائیں گے۔ (1) سب سے پہلے بنی کریم ﷺ اپنے روضہ مبارک (قبر مبارک) سے بیدار ہوں گے۔ (2) میدان حشر میں جہاں کوئی سوار نہ ہوگا۔ اس دن نبی کریم ﷺ سواری پر سوار ہوں گے۔ (3) آپ کے دست مبارک میں ” لواء حمد “ ہوگا۔ جس جھنڈے کے نیچے سارے انبیاء اور رسول ہوں گے۔ (4) آپ کو وہ حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا (جس کا پانی پی کر پھر کسی کو پیاس نہ لگے گی) (5) مقام محمود پر آپ ساری امت کی شفاعت فرمائیں گے جس کو شفاعت کبریٰ کہا گیا ہے۔ (6) ساری امتوں سے پہلے آپ کی امت کا فیصلہ ہوگا۔ ۔ (7) پل صراط پر بھی آپ سب سے پہلے گذر جائیں گے اور اس کو طے فرمائیں گے۔ (8) سب سے پہلے جنت میں نبی کریم ﷺ داخل ہوں گے۔ (9) مقام وسیلہ جو اللہ کی خاص رحمتوں والی جنت ہے وہ آپ کو عطا کیا جائے گا۔ (10) سب امتوں سے پہلے آپ کی امت جنت میں داخل ہوگی۔ (11) وہ اہل ایمان جن کے لئے جہنم کا فیصلہ کرلیا گیا ہوگا۔ آپ کی سفارش و شفاعت پر ان کو جہنم سے نجات مل جائے گی۔ (تفسیر ابن کثیر)
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ وہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ روح آپ کے رب کا ایک حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 85 یسئلون وہ پوچھتے ہیں۔ سوال کرتے ہیں۔ امر حمک۔ ما اوتیتم تمہیں نہیں دیا گیا۔ قلیل تھوڑا۔ تشریح : آیت نمبر 85 قرآن کریم فلسفہ اور منطق کی کتاب نہیں ہے جس میں ذرا ذرا سی باتوں پر طویل بحثیں کی جائیں بلکہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب زندگی ہے جو انسان کو فلسفیانہ انداز فکر سے ہٹا کر عمل کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ درحقیقت عمل ہی سے انسان کی زندگی جنت یا جہنم بنتی ہے۔ وہ لوگ جو پوری زندگی صرف اسی میں لگے رہتے ہیں کہ یہ کیا ہے وہ کیا ہے ؟ روح کیا ہے ؟ امر کیا ہے اور عمل پر آمادہ نہیں ہوتے ایسے لوگ فلسفے کے بیمار تو لگتے ہیں لیکن ان کی زندگیاں عمل سے دور رہتی ہیں اور وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے اور وہ سوچتے سوچتے ہی اس دنیا سے گذر جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کر کے اپنی روح کی تابانی کو بڑھاتے رہتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی کامیاب و بامراد رہیں گے۔ ایسی بحثیں اور باتیں جن کا تعلق عمل سے نہ ہو قرآن کریم ان کو کھینچ کر پھر عمل کی طرف موڑ دیتا ہے جیسے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اے نبی ﷺ وہ لوگ آپ سے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں (یعنی وہ کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے) اے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ وہ (چاند) لوگوں کو وقت اور حج کے متعلق بتانے کا ذریعہ ہے۔ ملاحظہ کیجیے لوگوں نے چاند کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے کبھی کھجور کی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے کبھی موٹا اور کبھی غائب ہوجاتا ہے اس میں حج یا ماہ وسال کا سوال نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کا رخ عمل کی طرف موڑ کر فرمایا کہ وہ چاند کیسا ہے اس کی منزلیں کیا ہیں یہ ہر شخص کے غور کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ دیکھو کہ اللہ نے چاند کو کس مقصد کے لئے بنایا ہے۔ بنی اسرائیل جن کو اللہ نے اپنی لاتعداد نعمتوں سے نوازا تھا ان کی بےعملی اور بربادی کا سبب یہ بھی تھا کہ وہ بےت کے سوالات اور بحثوں میں الجھے رہتے تھے۔ طرح طرح کے سوالات کرنا، بات بات پر جھگڑنا ان کا مزاج بن چکا تھا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ زندگی بھر سوالات ہی کرتے رہے اور جب عمل کا وقت آتا تو وہ بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام نے آپ کے فیض تربیت سے یہ بات سیکھ لی تھی کہ بےت کے سوالات کرنا پانی زندگی کو برباد کرنا ہے چناچہ تمام امتوں میں سب سے کم سوالات نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام سے نقل کئے گئے ہیں کیونکہ جو کام کرتا ہے عمل کرتا ہے اس کو سوال کرنے کی فرصت کہاں ہوتی ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت یہود و نصاریٰ نے آپ کی مخالفت اور دشمنی کی انتہا کردی تھی اور ہر وقت اس سازش میں لگے رہتے تھے کہ کس طرح اہل ایمان کو بھی بےعملی کی راہوں پر ڈال دیں چناچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کسی جگہ تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ تھا کچھ شریر قسم کے یہودیوں نے آپ کو روک کر پوچھا کہ اے محمد ! یہ روح کیا چیز ہے ؟ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کی اس کیفیت کو محسوس کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے چناچہ آپ نے ان یہودیوں کے سامنے اس آیت کو پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ! یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ روح امر رب ہے اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ۔ اس آیت میں ان یہودیوں کی شرارت اور سوال کا رخ کس طرح دوسری طرف پھیر دیا کہ انسان کو بہت کم علم دیا گیا ہے یعنی وہ صرف اسی بات کو سمجھ سکتا ہے جو اس کے احاطہ علم میں آسکتا ہے لیکن جو اس کے بس سے باہر ہے وہ اس کو کیسے سمجھ سکتا ہے دوسرے یہ کہ ان بحثوں میں پڑنے سے کیا فائدہ جس کا تعلق عمل سے نہ ہ۔ اس گتھی کو سلجھانے میں پوری زندگی گذارنے سے بہتر ہے کہ اپنی کم علمی اور جہالت کا اعتراف کر کے حقیقت کو تسلیم کرلیا جائے۔ میں اس موقع پر اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی علم و تحقیق کا تعلق اس سے ہوتا کہ کسی گتھی کو سلجھانے میں غور و فکر کیا جائے کوئی عمل کی بہتر راہ میسر آسکے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی بحثیں چھیڑنا جو صرف کام و دھن کی لذت کیلئے ہوں وہ بری راہیں ہیں لیکن اگر علم و تحقیق کے لئے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا چاہئے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آج کل کچھ لوگوں کا مشغلہ یہ ہے کہ ان کا زور خطابت صرف اس پر ختم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نور تھے یا بشر ؟ عالم الغیب تھے یا نہیں ؟ مردے ہماری بات اور فریاد کو سنتے ہیں یا نہیں وغیرہ وغیرہ ؟ غور کیجیے کیا حضور اکرم ﷺ اسی لئے تشریف لائے تھے کہ ان کی سیرت پاک ان کی مبارک زندگی جو ساری کائنات کے لئے قیامت تک کے لئے نمونہ عمل ہے اور نمونہ زندگی ہے اس کو تو نظر انداز کردیا جائے اور صرف پوری زندگی اسی بحث میں گذدار دی جائے کہ وہ نور تھے یا بشر یہ تو یہود و نصاریٰ کا مزاج تھا جس پر چل کر وہ قوم تباہ و برباد ہوگئی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب یہودیوں نے آپ سے روح کے متعلق سوال کیا تو اتنا فرمایا گیا کہ روح امر رب ہے یعنی اللہ کی مخلوق ہے لیکن عام مخلوق جیسی نہیں ہے بلکہ اس کے حکم ” کن “ کے نتیجہ میں یہ ” امر رب “ وجود میں آیا ہے چونکہ انسان کا علم بہت محدود اور قلیل ہے اس لئے صرف اتنا سمجھنا کافی ہے کہ اللہ نے اس کو اپنے حکم سے پیدا کیا ہے اور وہی اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayahs 17:86–89

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر ہم چاہیں تو ہم نے آپ پر جتنی بھی وحی بھیجی ہے اس کو سلب کرلیں پھر ہمارے مقابلے میں آپ کسی کو حمایتی بھی نہ پائیں گے۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ آپ کا رب (آپ پر) رحمت فرما دے۔ بیشک آپ کے اوپر اس کا بہت بڑا فضل و کرم ہے۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ار انسان اور جنات مل کر بھی اس قرآن جیسا لے کر آنا چاہیں تو وہ اس جیسا نہ لاسکیں گے۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

یقینا ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی (مثالوں) سے سمجھ لیا ہے مگر اکثر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 86 تا 89 لئن البتہ، اگر۔ شئنا ہم نے چاہا۔ لنذھبن البتہ ہم چاہیں گے۔ (لے جائیں گے۔ ) اوحینا ہم نے وحی کی۔ کبیر بڑا۔ اجتمعت جمع ہوگئی۔ ان تاتوا یہ کہ وہ لے آئیں۔ لایاتون وہ لا نہ سکیں گے۔ ظھیر مددگار۔ ابی انکار کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 86 تا 89 اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے قرآن جیسی کتاب وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر نازل فرمائی جس میں تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ موجود ہے۔ اس کتاب ہدایت پر عمل کرنے سے ایک نئی روحانی اور دنیاوی زندگی حاصل کرنا انسانی سعادت ہے۔ لیکن انسان کی یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے اس کے انکار پر جمع کر بیٹھ جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ان دشمنان اسلام سے فرمایا جا رہا ہے جنہوں نے قرآن کی ابدی تعلیمات سے منہ موڑ کر اور ناقدری کر کے اپنے آپ کو دنیاوی آخرت کی ہر بھلائی سے محروم کرلیا ہے۔ فرمایا کہ ان کی ناقدری کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ زندگی کی راہوں میں بھٹکنے اور کفر و شرک پر قائم رہنے والوں کو بھٹکنے کے لئے اسی طرح چھوڑ دیا جاتا اور اس قرآن کو سلب کرلیا جاتا لیکن نبی کریم ﷺ پر اللہ کا یہ خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے دنیا کو اس کتاب ہدایت سے محروم نہیں فرمایا بلکہ منکرین کی تمام تر حماقت و جہالت کے باوجود اللہ نے اس کی تعلیمات کو مکمل فرمایا۔ قرآن کریم ایک معجزہ ہے جس کے سامنے تمام دنیا کے انسان اور جنات تک اس قرآن جیسا لانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ سامنے کی بات ہے کہ عرب کے کفار جو پانی زبان دانی پر فخر و غرور میں ساری دنیا کو عجمی یعنی گونگا کہا کرتے تھے جب قرآن کریم نازل ہوا تو یہ سارے لوگ قرآن کے سامنے گونگے بن کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة بقرہ، سورة یونس، سورة ہود، سورة بنی اسرائیل اور سورة طور میں اس بات کا چیلنج کیا ہے کہ اللہ کے سوا کائنات میں جتنے بھی لوگ ہیں یا جنات ہیں وہ سب مل کر بھی اس قرآن جیسا بنا کر نہیں لاسکتے۔ ایسی ہدایت کی قدر نہ کرنا اور ناشکری اور ناقدری کا طریقہ اختیار کرنا سوائے بدنصیبی کے اور کیا ہے۔ کفار مکہ طرح طرح کے سوالات کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ (نعوذ باللہ) نبی کریم ﷺ نے اس قرآن کو خود ہی گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی زبان پر ناز کرنے والے جنات جن کو وہ غیبی طاقتوں کا پیکر سمجھتے تھے وہ سب مل کر بھی قرآن جیسی کتاب نہیں لاسکتے تو وہ بنی کریم ﷺ جنہوں نے ان کفار کے درمیان پوری زندگی گذاری ہے ہر شخص جانتا تھا کہ آپ نے کبھی کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ آپ ” امی “ لقب ہیں۔ پھر وہ کام جو ساری دنیا مل کر نہیں کرسکتی ایک نبی امی کیسے کرسکتے ہیں۔ حقیقتاً ان کی آنکھوں پر پردے پڑگئے ہیں کہ اتنی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے اور اپنی ضد ہٹ دھرمی، فخر و غرور میں ایک سچائی کا انکار کے اللہ کی رحمت سے محروم ہوگئے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ کی دو سب سے بڑی نعمتیں ہیں ایک تو قرآن کریم اور دوسری نعمت نبی مکرم خاتم النبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی ۔ چونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا اتنا زیادہ فضل و کرم ہے کہ اس نے کفار و مشرکین کی مخالفت اور ناقدری کے باوجود اس قرآن کو آپ کے قلب مبارک پر جمع فرمایا اور اس کی وضاحت کے ذریعہ ساری انسانیت کو راہ ہدایت عطا فرما دی اور بھٹکنے سے بچا لیا۔
Ayahs 17:90–93

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ (اے نبی ﷺ ہم آپ کی بات کو اس وقت تک ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جب تک ہمارے لئے زمین سے ایک چشمہ جاری نہ کردیں۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا آپ کے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک ایسا باغ ہو جس میں آپ نہریں بہا دیں۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا آپ اپنے گمان کے مطابق آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دیں۔ یا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے آجائیں۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا آپ کے لئے سونے کا بنا ہوا ایسا گھر ہو جس میں آپ چڑھ جائیں اور ہم آپ پر اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک ہمارے سامنے ایک ایسی کتاب نہ لے آئیں جسے ہم پڑھیں۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے میرا رب پاک بےعیب ہے۔ میں کون ہوں ؟ سوائے ایک پیغام لانے والے بشر کے ؟

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93 تفجر تو بہا دے۔ جاری کردے۔ ینبوع چشمہ۔ نخیل کھجور کا درخت۔ عنب انگور۔ تسقط تو گراتا ہے۔ زعمت تو نے گمان کیا۔ کسف ٹکڑے ٹکڑے۔ قبیل سامنے۔ بیت گھر۔ زخرف سونا، سنہرا۔ ترقی تو چڑہ گیا۔ رقی چڑھنا۔ نقروہ جس کو ہم پڑھیں گے۔ بشر انسان۔ تشریح : آیت نمبر 90 تا 93 اللہ تعالیٰ نے کفار کے بےجا مطالبات اور معجزات کی فرمائش پر ہمیشہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ کی طاقتور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ چاہے تو ان کفار کی ہر فرمائش کو پورا کر دے لیکن یہ باتیں اللہ کی مصلحت کے خلاف ہیں۔ ان آیات میں بھی کفار و مشرکین کی ان ہی باتوں کو نقل کیا گیا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اے محمد ! ہم آپ کو اس وقت تک نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے جب تک آپ (1) ہمارے سامنے زمین کو پھاڑ کر اس میں سے ابلتے پانی کا چشمہ جاری نہ کردیں (2) یا آپ کے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک ایسا باغ ہو جس میں آپ پانی بہا دیں۔ (3) کبھی کہتے کہ جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مطابق آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو ۔ (4) ان کا مطالبہ ہوتا کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں کو ہمارے سامنے لا کر کھڑا کر دو ۔ (5) تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور وہاں سے کوئی ایسی کتاب لکھی ہوئی لے آؤ جسے ہم پڑھ سکیں۔ جب ایک تسلسل کے ساتھ کفار مکہ یہ باتیں کہتے تو نبی کریم ﷺ رنجیدہ ہوجاتے اور وحی کا انتظار فرماتے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ جس طرح تمام نبی اللہ کے بندے اور بشر تھے ایسے ہی میں بھی ہوں کسی بشر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے جب چاہے معجزات دکھا دے۔ نہ یہ اس کی شان ہوتی ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے لوگوں کی ان بچگانہ فرمائشوں کی درخواست کرے۔ انبیاء کرام دنیا میں اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچا کر ان کی اصلاح کردیں اور جس راستہ سے وہ بھٹک گئے ہیں ان کو صراط مستقیم پر چلا دیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیجیے کہ میں ایک بشر ہوں اور اللہ کے حکم سے اپنا فرض رسالت ادا کرتا رہوں گا۔ معجزات دکھانا یا نہ دکھانا یہ اللہ کی حکمت و مصلحت ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ رسول کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ہو اس دنیا میں آئے اور اللہ کا پیغام سنا کر واپس چلا جائے بلکہ پیغمبر کا کام ہے کہ پیغام الٰہی کے مطابق انسانی زندگی کی اصلاح کرے۔ وہ خود اپنی زندگی کو ایک مثال اور نمونہ بنا کر پیش کرے تاکہ اس کے مخاطب اور آنے اولی نسلیں اس سے فائدہ حاصل کرسکیں اور اس کے مطابق عمل کرسکیں۔ اگر اللہ کے کلام کے ساتھ کسی نبی کی ضرورت نہ ہوتی تو اس کے لئے فرشتے ہی کافی تھے جو اس دنیا میں آتے اور نہایت دیانتداری سے اللہ کا پیغام پہنچا کر چلے جاتے۔ اس کے برخلاف چونکہ نبی بشر ہوتے ہیں اس لئے ان پر ایسی کیفیات طاری کی جاتی ہیں جو ان کی امت کے لئے نمونہ عمل بن جاتی ہیں۔ یہ کام فرشتے کرتے تو بات صرف پیغام پہنچانے کی حد تک رہتی ان کی زندگی پر نہ بشری کیفیات آتیں اور نہ ان کی زندگی انسانوں کے لئے کوئی اسوہ یا نمونہ بنتی۔
Ayahs 17:94–96

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

ہدایت کے آجانے کے بعد لوگوں کو ایمان لانے سے اس چیز کے سوا کسی نے نہیں روکا کہ وہ کہتے ہیں کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے اگر زمین میں اطمینان اور سکون سے فرشتے چل پھر رہے ہوتے تو ہم آسمان سے کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر ضرور بھیجتے۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک اللہ کی گواہی کافی ہے۔ بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور دیکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96 مامنع نہیں منع کیا۔ نہیں روکا۔ ابعث کیا بھیجا ہے ؟ ۔ یمشون وہ چلتے ہیں۔ مطمئنین اطمینان سے رہنے والے۔ ملک فرشتہ۔ کفی کافی ہے۔ شھید گواہ۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 96 گزشتہ آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کفار مکہ کو جس بات نے ایمان عمل صالح اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے سے روک رکھا ہے ان کا یہ خیال ہے کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لئے کسی کو بھیجنا تھا تو ایک بشر کو کیوں بھیجا کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیج دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر فرشتے ہی ہوتے تو ممکن تھا ان کو اگر ہدایت کی ضرورت ہوتی تو وہ کسی فرشتے کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجتا۔ جب اس روئے زمین پر انسان رہتے ہیں تو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے اس میں نہ تو کسی تعجب اور حیرت کی ضرورت ہے اور نہ عقل سلیم ہی اس کی اجازت دیتی ہے۔ فرمایا گیا کہ اگر ہم انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی فرشتے کو بھی بھیجتے تو وہ انسانی شکل ہی میں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ عمل کی راہوں سے بھاگتے ہیں ان کو باتیں بنانے کیلئے کسی موضوع کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ ان کفار و مشرکین کی عقل و سمجھ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اس لئے وہ فضول باتیں کر کے اپنے آپ کو مطئمن کرتے رہتے تھے اور نبی کریم ﷺ پر اعتراض کر کے اپنی قابلیت کا سکہ اپنے آس پاس کے لوگوں پر جمانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ! آپ ان لوگوں کے اعتراضات اور سوالات کے جواب میں صرف اتنا کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان صرف اللہ ہی گواہی کے لئے کافی ہے جس نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے وہ اپنے بندوں کی ہر ایک حالت کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔ اگر اس قدر واضح اور سچی بات کے بعد بھی وہ لوگ اپنی ضد، ہٹ دھرمی پر جمے رہتے ہیں تو یہ ان کی بدنصیبی ہے۔
Ayahs 17:97–100

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے پس وہ اس (اللہ) کے سوا کسی کو مددگار نہ پائے گا۔ ہم ان کو قیامت کے دن اوندھے منہ کھینچ کرلے آئیں گے ۔ اندھے، گونگے اور بہروں کی طرح ہوں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب کبھی اس کی آگ بجھنے لگے گی تو ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ اس چیز کا بدلہ ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تب ہمیں نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وہ ان جیسوں کو پیدا نہیں کرسکتا ؟ اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں شک نہیں ہے۔ پھر وہ ظلم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ (

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم میرے پروردگار کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم خرچ ہونے کے خوف سے روک کر رکھ لیتے۔ واقعی انسان بہت تنگ دل واقع ہوا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100 نحشر ہم جمع کریں گے۔ وجوہ چہرے۔ عمی اندھے۔ بکم گونگے۔ صم بہرے۔ خبت بجھے گی (بجھ گئی) ۔ سعیر بھڑکانا۔ تشریح : آیت نمبر 97 تا 100 حقیقت یہ ہے کہ انسان کو نہ تو بھٹکتے دیر لگتی ہے اور نہ ہدایت حاصل کرنے میں۔ صرف اللہ کی توفیق اور دستگیری سے انسان راہ پر حق پر چل کر منزل مراد تک پہنچتا ہے۔ اللہ کا نظام یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے لیکن جو شخص ایک دفعہ راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے تو اگر اللہ اس کی دستگیری نہ فرمائیں تو پھر ہدایت پر آنے کے لئے کوئی اس کا مددگار نہیں بنتا اور نہ اس کے کام آتا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو راہ ہدایت سے بھٹک گئے ہیں وہ قیامت کے دن اندھے، بہرے اور گونگوں کی طرح سے آئیں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ایسی جہنم کہ اس کی آگ جب بھی بجھنے لگے گی اور اس کی تپش اور گرمی میں کمی آنے لگے گی تو اس کو پھر سے بھڑکا دیا جائے گا اور اس جہنم سے وہ کس طرح باہر نہ نکل سکیں گے۔ یہ درحقیقت ان کی سخت ترین سزا ہوگی کیونکہ ان کا ذہن اور عقیدہ یہ بن گیا تھا کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہم ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر بکھر جائیں گے تو ہمارے یہ جسمانی اجزاء دوبارہ کیسے آپس میں مل جائیں گے اور ہم دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے فرمایا کہ وہ اللہ جو آسمانوں اور زمین میں ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے جس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی اپنی قدرت کا ملہ سے ان کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا یہ اس کے لئے کوئی بھی مشکل یا ناممکن کام نہیں ہے۔ فرمایا کہ یہ انسان کا ناشکرا پن اور اس کے ذہن کی تنگی کی بات ہے کہ وہ اپنے وجود پر شکر کرنے کے بجائے طرح طرح کی بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے اور زندگی کے ہر معاملے میں تنگ دلی کا انداز اختیار کرتا ہے اور اس کے احسانات کو بھول جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اس اللہ نے تمہاری ناشکریوں اور ناقدریوں کے باوجود ہر طرح کی نعمتوں سے تمہیں نواز رکھا ہے وہ تمہاری نافرمانیوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تم اس سے جو بھی مانگتے ہو وہ عطا کرتا ہے۔ وہ اس میں کبھی کمی نہیں کرتا وہ دونوں ہاتھوں سے لٹاتا ہے لیکن اگر یہ مال و دولت کے خزانے انسانوں کے ہاتھوں میں ہوتے تو وہ دوسروں کو بھوکا مار دیتے کیونکہ انسان بڑا ہی تنگ دل واقع ہوا ہے۔ جب وہ اپنی تنگ دلی پر رب کو قیاس کرنے لگتا ہے تو یہ اس کے بھٹکنے کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ انسان تنگ دل، کنجوس اور خود غرض ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف تمام انسانوں کا پروردگار ہر انسان کو خواہ وہ شکر گزار ہے یا نافرمان ہر ایک کو رزق اور زندگی کی سہولتیں عطا کرتا رہتا ہے۔
Ayahs 17:101–109

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ کو کھلی ہوئی واضح نو عدد نشانیاں (معجزات) عطا کی تھیں آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے کہ جب موسیٰ آئے تو فرعون نے کیا کہا تھا۔ (اس نے کہا تھا کہ) اے موسیٰ میرا گمان یہ ہے کہ تم پر جادو کردیا گیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

(موسیٰ نے ؛ ) کہا تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو بصیرت اور نصیحت کے لئے آسمانوں اور زمین کے رب نے نازل کیا ہے اور اے فرعون میرا خیال یہ ہے کہ تو ہلاک و برباد ہوجانے والوں میں سے ہے۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پھر جب فرعون نے ان کو زمین سے اکھاڑنے (مصر سے نکالنے) کا ارادہ کیا تو ہم نے اس کو (فرعون کو) اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس سر سزمین میں رہو بسو لیکن جب آخرت کے وعدے کا وقت پورا ہوجائے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کرلے آئیں گے۔

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اس قرآن کو ہم نے حق اور سچائی کے ساتھ ہی نازل کیا ہے اور ہم نے آپ کو اس لئے بھیجا ہے کہ آپ خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو پہلے سے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہہ اٹھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک اور بےعیب ہے اس کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے روتے گر پڑتے ہیں اور اسے سن کر ان میں عاجزی و انکساری اور بڑھ جاتی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109 تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 109 انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے جن کو دیکھ کر بنی اسرائیل اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ایمان قبول کرلینا چاہئے تھا مگر انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ان معجزات کا انکار کیا اس کے برخلاف جنہوں نے حضرت موسیٰ کے معجزات دیکھ کر ایمان قبول کرلیا تھا اللہ نے ان کو نجات عطا فرما دی اور فرعون اور اس کے ساتھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ان کو عبرت ناک سزا دی گئی۔ فرعون اور اس کے ماننے والوں میں غرق کردیا گیا۔ جب حضرت موسیٰ نے اللہ کے دین کی طرف دعوت دی تو انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ حضرت موسیٰ کے معجزات کو جادو قرار دے کر ملک کے تمام نامی گرامی جادو گروں کو حضرت موسیٰ کے مقابلے میں لاکھڑا کردیا۔ لیکن وہی جادوگر جو انعام و اکرام کے لالچ میں اپنے جادو کے کمالات دکھا رہے تھے جب انہوں نے عصائے موسیٰ کے معجزے کو دیکھا تو انہوں نے فرعون کے بھرے دربار میں اپنے ایمان کا اعلان فرما دیا۔ جب فرعون نے اس نافرمانی کے انجام سے ڈرایا تو وہ ڈٹ گئے اور انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اے فرعون ہم نے اسلام قبول کرلیا اب اس کا انجام کچھ بھی ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھرے دربار میں ایک مرتبہ پھر فرعون کو للکارا اور کہا کہ اگر تو نے ان معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان قبول نہ کیا تو تیرا انجام بہت ہی زیادہ خراب ہونے والا ہے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کی اس دعوت کو ہنسی مذاق میں اڑا دیا اور پھر سے اپنی سازشوں میں لگ گیا اور حضرت موسیٰ کو شکست دینے کے طریقوں میں غرق ہوگیا۔ وہ نو معجزات جن کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہیں۔ (1) ید بیضا (2) عصا (3) طوفان (4) ٹڈیوں کا عذاب (5) مینڈکوں کا عذاب (6) جوؤں کا عذاب (7) خون کا عذاب (8) ثمرات کی کمی (9) چچڑیوں کا پیدا ہونا (سورۃ اعراف) ترمذی میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ یہود نے آپ سے پوچھا کہ وہ نو معجزات کیا تھے ؟ فرمایا وہ نو احکامات ہیں ۔ (1) شرک نہ کرو (2) چوری نہ کرو (و) زنانہ کرو (4) ناحق خون نہ بہاؤ (5) جادو نہ کرو (6) سود مت کھاؤ (7) بےگناہ کو نہ پکڑواؤ کہ حاکم اس کو قتل کر دے (8) پاک دامن عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ (9) جہاد سے نہ بھاگو ۔ فرمایا کہ یہ نو احکامات تھے لیکن یہودیوں کے لئے ایک مخصوص حکم تھا کہ تم ہفتہ کے دن حد سے نہ بڑھو ۔ اہل یہود نے آپ کی اس بات کی تصدیق کی۔ قرآن کریم اور حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو نو نشانیاں دیں اور نو ہی احکامات بھی دیئے۔ جب فرعون اور آل فرعون نے مسلسل نافرمانی کی اور حضرت موسیٰ پر ایمان نہ لائے تو اللہ نے فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلا کر فرعونیوں کی بستیوں میں ان کو آباد کیا۔ حضرت موسیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو سمجھایا کہ وہ فرعون کی طرح نافرمانی اختیار نہ کریں کیونکہ اللہ کو نافرمانی کسی کی بھی پسند نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر تم نے بھی گزشتہ لوگوں کی طرح کفر و شرک اور نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو اس سر زمین پر آباد کر کے نصیحت فرمائی کہ تم اس سر زمین پر رہ، کھاؤ، پیو، بسو لیکن جب آخرت کا فیصلہ آجائے تو اللہ اس پروری کائنات کو سمیٹ کر رکھ دے گا۔ فرعون اور آل فرعون کی بات کرنے کے بعد کلام کا رخ نبی کریم ﷺ اور آپ کے اوپر ایمان والوں کی طرف پھیر کر فرمایا کہ اللہ نے جس چیز کے کرنے اور جس چیز کے نہ کرنے کا حکم دیا ہے اس کو اسی طرح کیا جائے اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ اس کی تعلیمات سے آپ اپنی امت کو اچھی طرح آگاہ کردیجیے۔ آپ کا کام خوش خبری دینا بھی ہے اور برائیوں کے برے انجام سے ڈرانا بھی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ پر اس قرآن کو آہستہ آہستہ نازل کیا گیا ہے آپ بھی اس قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے آداب کا خیال رکھیے اور اس کو آہستہ آہستہ تلاوت فرمائیے تاکہ یہ قرآن دلوں میں اترتا چلا جائے۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ سب کو بتا دیجیے کہ جس اللہ نے یہ کلام نازل کیا ہے اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو تمہارے حق میں بہتر ہے لیکن اگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی تو اس سچائی کی روشنی میں ذرا بھی کمی نہ آسکے گی۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کے ایک اچھے طرز عمل کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا کلام تلاوت کیا جاتا تھا تو اللہ کے احکامات کی عظمت کے سامنے ان کی گردنیں جھک جایا کرتی تھیں اور ان کی زبان پر یہی بات آتی تھی کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ کی ذات پاک بےعیب ہے یقینا آپ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور اس طرح وہ اپنی ٹھوڑیاں جھکا نہایت ادب و احترام سے اللہ کی طرف روتے گڑگڑاتے ٹھوڑیوں کے بل گر پڑتے تھے اور وہ اسلام کی سچائی کو دل سے قبول کرتے تھے۔