17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 17:36–39

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور اس کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم (معلومات) نہ ہو۔ بیشک کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے (قیامت کے دن) سوال کیا جائے گا۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

زمین پر اکڑ کر (اترا کر) مت چلو۔ بیشک نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکتے ہو۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

یہ تمام برائیاں تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو آپ کے رب نے آپ پر وحی کی ہیں۔ تم اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ ورنہ تم جہنم میں ملامت زدہ اور رحمت سے محروم کر کے جھونک دیئے جاؤ گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 39 لاتقف پیچھے نہ پڑو۔ لیس نہیں ہے۔ الفواد دل۔ لاتمش نہ چل۔ مرح اکڑنا، اترانا۔ لن تخرق تو ہرگز نہ پھاڑ دے گا۔ لن تبلغ تو ہرگز نہ پہنچے گا۔ الجبال پہاڑ، (پہاڑوں) ۔ طول بلندی، لمبائی۔ مکروہ ناپسندیدہ۔ تلقی ڈالا جائے گا۔ مدحور ہر رحمت سے محروم کیا ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 39 سورۃ الاسراء کے تیسرے اور چوتھے رکوع کی پندرہ آیات میں بہت سے نیک کام کرنے اور بہت سی برائیوں سے بچنے کے احکامات ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں چند اور بنیادی خرابیوں کی طرف متوجہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہر مومن کی بدگمانی بدظنی، غرور وتکبر اور بےجا ضد سے بچنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ باتیں اللہ کو سخت ناپسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ذمہ دار مخلوق بنایا ہے۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ اور جملے کو بہت ذمہ دارانہ ہونا چاہئے محض سنی سنائی باتوں پر ایک تصور گھڑل ینا اور اسی کو حقیقت سمجھ کر اس پر عمل کرنا مناسب نہیں ہے۔ ہر بات جو وہ کان سے سنتا، آنکھوں سے دیکھتا اور دل سے سوچتا ہے اس کی ہر بنیاد پر غور کر کے فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ جس بات کو سوچ رہا ہے وہ سرے سے لغط اور بےبنیاد ہو اور وہ بدظنی کر کے کسی بڑے گناہ میں مبتلا ہوجائے کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ہر شخص کو یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ کل قیامت کے دن اس کے کانوں سے سنے گئے آنکھوں سے دیکھے گئے اور دلوں سے سوچے گئے ہر خیال کا اللہ کا جواب دینا ہے۔ فرمایا گیا کہ اے مومنو ! تمہیں جس بات کی تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو کیونکہ آنکھ، کال اور دل ہر ایک سے سوال کیا جائے گا۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اللہ کو عاجزی اور انکساری بہت پسند ہے جب کہ تکبر اور غرور کو وہ سخت ناپسند فرماتا ہے۔ زمین پر اکڑ کر چلنا کس طرح منساب نہیں ہے۔ اللہ کے بندے تو جب زمین پر چلتے ہیں اس میں ایک وقار، سنجیدگی اور متانت ہوتی ہے وہ اس طرح نہیں چلتے کہ جیسے وہ زمین کو پھاڑ ڈالیں گے اور گردنیں اکڑا کر پہاڑوں سے اونچے ہوجائیں گے بلکہ عاجزی، انکساری اور تواضح ان کا مزاج ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توریت کی ساری اخلاقی تعلیمات کو سورة الاسراء کی پندرہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مومن پر لازمی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل برائیوں سے بچتے ہوئے نیکیوں اور بھلائیک و قائم کرے کیونکہ یہ تمام برائیاں جن کو بیان کیا گیا ہے تمہارے رب کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہیں۔ بیان کئے گئے تمام اخلاقی اصولوں کا خلاصہ یہ ہے کہ (1) اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو۔ (2) ماں باپ کی اطاعت و فرماں برداری کرو۔ (3) رشتہ داروں مسکینوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرو۔ (4) اگر کسی ضرورت مند کو فی الحال دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو اس سے ترشیا ور سختی کے بجائے نرمی سے کہہ دو ۔ (5) مال کے خرچ کرنے میں نہ تو کنجوسی کرو اور نہ اس قدر فراخ دل بن جاؤ کہ خود ہی دوسروں کیم حتاج بن کر رہ جاؤ، اعتدال کا راستہ سب سے اچھا راستہ ہے۔ (6) اپنی اولاد کو غربت و افلاس اور ناداری کے خوف سے قتل نہ کرو۔ (7) زنا اور بد کاری کے ہر راستہ سے بچو کیونکہ یہ بدترین راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔ (8) بےحیائی کے کاموں سے دور رہو۔ (9) ناحق دوسروں کا خون نہ بہاؤ۔ (10) یتیم بچوں کے مال کی حفاظت کرو اور اس میں بےجا تصرف نہ کرو۔ (11) عہد و پیمان کو پورا کرو۔ (12) ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (13) سنی سنائی بےتحقیق باتوں کے پیچھے نہ لگو۔ (14) زمین پر اکڑ کر نہ چلو کیونکہ نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں سے اونچے ہو سکتے ہو یعنی عاجزی و انکساری اختیار کرو۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! یہ جتنی باتیں ہم نے وحی کی ہیں ان کی بنیاد حکمت و دانئای ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور زندگی کا صحیح راستہ تلاش کر کے اس پر چلا جائے۔ انسان کی سب سے بڑی عقل مندی اور سمجھ داری یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کو ماننے والا، شرک سے دور اور اسی کی عبادت و بندگی کرنے والا ہو جس نے اس کو پیدا کیا ہے کیونکہ اگر کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا جائے گا تو وہ بدعملی اس کو جہنم کے اس گڑھے میں لے جا کر پھینک دے گی جہاں اللہ اور اس کے فرشتوں کی صرف لعنت ہوگی اور وہ آخرت میں سوائے ذلت و رسوائی کے دھکوں کے اوپر کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا۔
Ayahs 17:40–44

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

کیا تمہارے رب نے تمہیں بیٹوں کے لئے چن لیا ہے اور اپنے لئے فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے۔ بیشک تم نے نہایت بدترین بات کہی ہے

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ مگر اس سے ان کی نفرت ہی بڑھتی ہے۔

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر اس اللہ کے ساتھ اور کئی معبود ہوتے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو عرش کے مالک کی طرف ضرور کوئی راستہ ڈھونڈھ نکالتے ۔

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

اس کی ذات پاک ہے اور اس سے بہت بلندو برتر ہے جو وہ (اللہ کے لئے) کہتے ہیں۔

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے۔ ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کرتی ہے البتہ تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے بیشک وہ بہت برداشت کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 44 اصفی اس نے چن لیا، منتخب کرلیا۔ بنین بیٹے۔ اناث بیٹیاں۔ فرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ نفور نفرت۔ علو بلند تر۔ لاتفقھون تم نہیں سمجھتے۔ تسبیح پاکیزگی، تسبیح۔ حلیم برداشت کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 40 تا 44 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار دھرایا ہے کہ اس کائنات کا خلاق ومالک صرف ایک اللہ ہے۔ اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو نظام کائنات تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ وہ اللہ اس نظام کائنات کو چلانے میں نہ کسی کا محتاج ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ جس طرح دنیا کے بادشاہ اور حکمران اپنی مملکت، حکمرانی اور وراثت کے لئے اپنی اولاد، بیوی اور مددگاروں کے محتاج ہوتے ہیں وہ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ کفار و مشرکین کو جس بات نے گمراہی میں پھنسا دیا تھا وہ ان کی یہی سوچ تھی کہ وہ اللہ کو بھی اپنے جیسا سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کر رکھی تھیں چناچہ جس طرح وہ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا بنا کر پیش کرتے تھے ان کی گستاخی کی حد یہ تھی کہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گستاخانہ انداز کا مذاق اڑاتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے لئے تو بیٹے تجویز کر لئے اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے لیا۔ حالانکہ اللہ بیٹے اور بیٹیوں سے بےنیاز ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کتنی عجیب بات ہے کہ جب ان کفار کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ان کے چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گھر میں ایک لڑکی نہیں بلکہ مصیبت آگئی ہے۔ لڑکیوں کو نہایت برا سمجھتے ہیں اور جب کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے تو وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا فرمایا کہ اپنے لئے تو انہوں نے بیٹے بنا رکھے ہیں اور اللہ کے لئے انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا کر پیش کیا ہے۔ فرمایا کہ انہوں نے اللہ کی شان میں بڑی گستاخانہ بات کی ہے لیکن یہ ان کی سمجھ کا ایک پھیر ہے جس کو وہ خود بھی نہیں سمجھتے۔ اگر ان کو سمجھایا جائے تو ان کی نفرت میں اضافہ ہی ہوتا ہے وہ اپنی اصلاح کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ فرمایا کہ وہ اللہ ایک ہے اگر ایک معبود کے سوا دوسرے معبود ہوتے تو یہ لوگ تو وہاں بھی اپنی خواہشوں کی کمند پھینکنے سے باز نہ آتے۔ اس کے بعد اللہ نے ایک اصولی بات ارشاد فرمائی ہے کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی اگر اس کی حمد وثناء نہ کریں تو وہ اس میں بھی بےنیاز ہے کیونکہ اس پوری کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی حمد و ثنا کر رہا ہے۔ عام لوگ ان کی حمد وثناء کو سمجھ نہیں سکتے لیکن زمین و آسمان، پہاڑ، دریا، سمندر، چرند، پرند، درند اور شجر و حجر ہر وقت اس کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز ادراک و شعور رکھتی ہے اور ہر چیز اس کی تعریف میں لگی ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی جن، انسان ، درخت ، پتھر اور مٹی کا ڈھیلا ایسا نہیں ہے جو موذن کی آواز سنتا ہو اور قیامت کے دن اس کے ایمان اور نیک ہونے کی شہادت و گواہی نہ دے گا۔ (مسند امام احمد، موطا امام مالک) احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں چند کنکریاں تھیں جو اللہ کی تسبیح کر رہی تھیں اور صحابہ کرام نے بھی ان کی تسبیح کو سنا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ یعنی ہم نے (داؤد کے لئے) پہاڑوں کو تابع کردیا تھا اور وہ پہاڑ صبح و شام اس اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ یعنی یہ لوگ اللہ کے لئے بیٹا تجویز کرتے ہیں (اور ان کے کلمہ کفر سے) پہاڑوں پر بھی خوف طاری ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم کی آیات اور احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ تکوینی طور پر ہر چیز اللہ کی حمد و ثنا کر رہی ہے۔ لہٰذا جس طرح وہ بیوی ، بچوں کا محتاج نہیں ہے اسی طرح وہ کسی کی حمد و ثنا اور عبادت کا بھی محتاج نہیں ہے۔ وہ اللہ حی وقیوم ہے یعنی زندہ ہے اور پوری کائنات کو خود ہی سنبھال کر چلا رہا ہے اس میں وہ کسی کا محتاج نہیں اور نہ وہ اس کی حفاظت سے تھکتا ہے ۔ اسی حقیقت کو ان آیات میں اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیا اللہ نے تمہیں تو بیٹوں کیلئے چن لیا ہے اور اپنے لئے فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے۔ یہ ایک نہایت بدترین بات ہے۔ حالانکہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں دے کر سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر وہ لوگ نصیحت حاصل کرنے کے بجائے نفرتوں کو اور بڑھا رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان نادانوں سے کہہ دیجیے کہ اگر ایک اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے (جیسا وہ کہتے ہیں) تو وہ عرش کے مالک کی طرف ضرور کوئی راستہ ڈھونڈ نکال لیتے۔ فرمایا کہ اس کی ذات پاک بےعیب ہے اور اس سے اللہ بہت بلندو برتر ہے جو وہ اللہ کے لئے کہتے ہیں۔ فرمایا کہ ساتوں آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اس کی پاکیزگی اور حمد و ثنا کر رہی ہے یہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہ سمجھ سکو لیکن ہر چیز اس کی ثنا خواں ہے۔ فرمایا کہ یہ تو اللہ کا حلم و برداشت اور مغفرت و معافی کا غلبہ ہے ورنہ ان گستاخانہ باتوں پر کڑی سے کڑی سزا بھی دی جاسکتی تھی۔
Ayahs 17:45–48

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جب آپ قرآن پھڑتے ہیں تو ہم آپ کے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں پر ایسے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ سمجھتے نہیں ہیں اور ہم ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں اور جب آپ یکتا پروردگار کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ آپ کی باتوں کو کس غرض سے کان لگا کر سنتے ہیں اور (ہمیں معلوم ہے) جب وہ (چپکے چپکے) سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب وہ ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک سحر زدہ شخص کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ذرا دیکھیے وہ آپ کے لئے کیسی مثالیں چسپاں کرتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ بھٹک گئے ہیں اور انہیں کوئی راستہ نہیں ملتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 48 قرات تو نے پڑھا۔ حجاب پردہ۔ مستور چھپا ہوا۔ اکنۃ پردہ۔ وقر گرانی، ڈاٹ۔ وحدہ یکتا۔ ایک اللہ۔ ولو وہ پلٹ گئے۔ بھاگ گئے۔ اد بار (دبر) پیٹھ۔ یستمعون وہ غور سے سنتے ہیں۔ نجوی چپکے چپکے باتیں کرنا۔ سرگوشیاں۔ مسحور جادو کیا گیا۔ ضربوا وہ مارتے ہیں۔ چسپاں کرتے ہیں (چسپاں کیا) ۔ لایستطیعون وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 48 عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کی دولت اور نور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنے دل کو تسلی اور نگاہوں پر فریب کے پردے ڈال کر ایسی بےبنیاد باتوں کو گھڑ لیتے ہیں جن کی کوئی اصل اور حقیقت نہیں ہوتی اور انداز فکر کے زاویئے اتنے بدل جاتے ہیں کہ ان غلط باتوں کو صحیح سمجھ کر اپنی پوری زندگی گذار دیتے ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت تھی جب نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت فرماتے تھے اور اس میں توحید و رسالت، فکر آخرت، اہل ایمان کی کامیابی اور کفار و منافقین کی ناکامی کی مثالیں بیان فرماتے تھے۔ کفار و منافقین کو یہ باتیں پسند نہ آتی تھیں اور وہ بہانے بنا کر آپ کی مجلس سے اٹھ جاتے اور پہلو بچانے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر وہ کسی بات کو سنتے تو اس میں ان کی بد نیتی یہ ہوتی تھی کہ شاید کوئی ایسا پہلو یا بات مل جائے جس کو سامنے رکھ کر نبی کریم ﷺ اور تعلیمات قرآن کا مذاق اڑانے کا موقع ہاتھ آجائے۔ چناچہ کفار و منافقین ہر سچائی کو موڑ توڑ کر پیش کرتے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے اور کہتے رہتے کہ ایک ایسے شخص کیب ات کیا سننا جو (نعوذ باللہ) جادو کے زیر اثر ہے اور بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ وہ اسلام کی سچی تعلیمات سے دوری کو بد نصیبی سمجھنے کے بجائے اس پر فخر کرتے اور یہ بھی کہتے کہ یہ نبی کوئی بات بھی کہیں ہمارے دلوں پر اس کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے دلوں پر ایسے غلاف چڑھے ہوئے ہیں کہ ہمارے اوپر کسی کی بات کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ سورة حم السجدہ میں ایسے لوگوں کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے۔ یعنی اے محمد ! آپ جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کے لئے ہمارے دل بند ہیں اور ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا ہے۔ تو آپ اپنا کام کیجیے اور ہم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور موقع پر اس کا جواب عنایت فرمایا کہ جس بات پر یہ فخر کر رہے ہیں وہ ایک نحوست اور اللہ کی لعنت ہے جس کو یہ فخر یہ بیان کر رہے ہیں۔ فرمایا اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل تو غلاف میں ہیں (اللہ نے فرمایا نہیں) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی لعنت ہے (جو ان کے اعمال کے سبب ان پر مسلط کردی گئی ہے) فرمایا کہ یہ فخر اور خوشی کی بات نہیں ہے بلکہ اپنی بدقسمتی پر ماتم کرنے کی چیز ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ! جب آپ اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک رکاوٹ ڈال دیتے ہیں اور ان کے دلوں پر ایسے غفلت کے پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ ایک سامنے کی چیز اور حقیقت کو سمجھنے سے بھی محروم رہتے ہیں ان کے کانوں میں ایسی گرانی پیدا ہوجاتی ہے کہ جب ان کے سامنے یکتا پروردگار کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کی طرف مائل ہونے کے بجائے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر وہ آپ کی مجلسوں میں آپ کی بات سنتے بھی ہیں تو ان کا مقصد اپنی اصلاڈح نہیں ہوتی بلکہ سرگوشیوں میں اور اشاروں میں باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کی بات سن کر اس کی پر یوی کرنا حماقت ہے جو خود کسی جادو کے زیر اثر بہکی بہکی باتیں کرتا ہے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فمایا کہ اے نبی ! یہ آپ کے متعق کیسی بےحقیقت اور فضول مثالیں گھڑتے ہیں اور آپ کے خلصو کی قدر نہیں کرتے کیونکہ یہ ذہنی و فکری اعتبار سے اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ انہیں اس گمراہی سے نکلنے کا راستہ بھی نہیں ملتا اور وہ اپنی گمراہی کے گڑھے میں گرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ آپ ان کی فکر نہ کیجیے۔ اللہ کا دین پہنچاتے رہیے جو سعادت مند اور خوش نصیب ہیں وہ دین کی سچائیوں پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرت سدھار لیں گے اور زبردست کامیابیاں حاصل کرلیں گے۔
Ayahs 17:49–52

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا پھر سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے ؟

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں اس سے بھی سخت ہو (تب بھی وہ تمہیں دوبارہ زندہ کریگا) ۔ پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں لوٹا کر کون لائے گا ؟ آپ کہہ دیجیے کہ جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا (وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ ) تو پھر وہ اپنے سر ہلا ہلا کر کہیں گے اچھا تو یہ کب ہوگا ؟ آپ کہہ دیجیے شاید (وہ وقت ) بہت قریب ہے۔

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے (قبروں سے نکل آؤ گے) اور تمہارا یہ گمان ہوگا کہ تم دنیا میں بہت تھوڑی مدت رہے ہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 52 عظام ہڈیاں۔ رفات ریزہ ریزہ ہوجانا۔ کونوا ہوجاؤ۔ حجارۃ پتھر۔ حدید لوہا۔ یکبر بڑا ہو۔ یعید لوٹائے گا۔ فطر کم جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ سینغضون ہلائیں گے۔ روس (راس) سر۔ متی ھو وہ کب ہوگا۔ ؟ ۔ تستجیبون تم جواب دو گے۔ تظنون تم گمان کرو گے۔ ان لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ قلیل تھوڑا۔ تشریح : آیت نمبر 49 تا 52 کفار مکہ اور مشرکین اللہ کے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں میں کم حیثیت ظاہر کرنے کے لئے طرح طرح کے سوالات اور آپ کی ذات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ کبھی کہتے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسی جادو کے زیر اثر کر رہے ہیں۔ کبھی آپ کو جادوگر، شاعر، کاہن اور مجنوں تک کہہ دیتے تھے۔ کبھی کہتے کہ بھلا یہ بھی کوئی عقل کی بات ہے کہ جب انسان مرنے کے بعد چورا چورا ہوجائے گا، اس کا وجود تک مٹ جائے گا وہ کس طرح دوبارہ زندہ ہوگا۔ ۔ متعدد مقامات پر کفار کے اس سوال کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نقل کر کے ایک ہی جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف الفاظ میں کہہ دیجیے کہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے جب انسان ذروں کی شکل میں بکھر جائے گا تو ان ذروں کو جمع کر کے پھر سے انسان کو اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ فرمایا کہ یہ تو انسانی وجود کے ذروں کے بکھرنے کی بات ہے اگر انسانی ذرے لوھا اور پتھر بھی بن جائیں گے تو اللہ ان ہی چیزوں کے ذرات سے انسان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا کیونکہ یہ بات اس اللہ کے لئے ناممکن کیسے ہو سکتی ہے جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور مٹی کے ذرات کو جمع کر کے اس کو جیتا جاگتا انسان بنا دیا تھا۔ کسی چیز کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور بنانا مشکل ہوتا ہے اسی کو دوبارہ بنانا مشکل اور ناممکن نہیں ہوتا۔ فرمایا کہ اے نبی ! یہ لوگ اس حقیقت کو اچھی طرح جان لینے کے باوجود مذاق اڑانے کیلئے سر کو ہلا ہلا کر کہیں گے کہ اچھا ایسا کب ممکن ہے ؟ اچھا تو اگر یہ ممکن ہے تو پھر یہ واقعہ کب ہوگا۔ ؟ فرمایا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ اس حقیقت پر سے پردہ اٹھائیں گے وہ وقت دور نہیں ہے جب سارے انسان اللہ کے کمالات اور شان و عظمت کے گن گاتے ہوئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کی زبانوں پر یہ جملہ ہوگا۔ کہ واقعی دنیا میں جو مہلت اور وقت دیا گیا تھا وہ بہت ہی کم تھا کاش ہم اس وقت کا فائدہ اٹھا سکتے ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ کفار و مشرکین اسی طرح مذاق اڑاتے رہیں گے مگر آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ یہ حقیقت اور سچائی بہت جلد ظاہر ہو جائی گی اور ان میں سے ہر شخص اللہ کی حمد و ثنا خوبیاں اور کمالات بیان کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔
Ayahs 17:53–55

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ (ہمیشہ) وہ بات کہیں جو سب سے بہتر ہو۔ بیشک شیطان ان کے درمیانف ساد ڈال دیتا ہے۔ بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب تمہیں اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر رحم فرما دے یا اگر وہ چاہے تو عذاب دے دے اور ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ اسے اچھی طرح جانتا ہے اور یقینا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 55 احسن بہترین۔ ینزغ فساد ڈالتا ہے۔ عدو دشمن۔ مبین کھلا ہوا۔ اعلم زیادہ جانتا ہے۔ یرحم وہ رحم کرتا ہے۔ یعذب وہ عذاب دیتا ہے، عذاب دے گا۔ فضلنا ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی۔ تشریح : آیت نمبر 53 تا 55 شیطان جو انسان کا کھلا ازلی دشمن ہے اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ دو بھائی آپس میں محبت پیار اور میل ملاپ کے ساتھ نہ رہیں بلکہ اختلافات اور جھگڑوں میں الجھے رہیں تاکہ اس جگہ سے اللہ کی رحمتیں اٹھ جائیں۔ اختلافات کی ابتداء ہمیشہ غیر سنجیدہ گفتگو سے ہوتی ہے جوب ڑھتے بڑھتے اپنی انتہاؤں تک پہنچ جاتی ہے اور ایک دوسرے کو قتل تک کرنے سے باز نہیں آتے اور اس طرح اصلاح و تربیت کا جو بھی پروگرام ہوتا ہے وہ چوپٹ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ہمیشہ صبر و تحمل کے ساتھ سنجیدہ اور باوقار گفتگو کریں تاکہ شیطان ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو۔ یہ آیات اس وقت میں نازل ہوئیں جب نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں شروع شروع تو محض مذاق اڑانے اور ذہنی اذیتیں پہنچانے کی حد تک بات رہی لیکن بعد میں تو انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثاروں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کی انتہا کردی اور بد زبانی اور بد اخلاقی میں بہت آگے بڑھ گئے تھے۔ چونکہ ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کا معاملہ تھا۔ ممکن تھا کہ صحابہ کرام بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے اور اصلاح اور رشد و ہدایت کی جو تحریک چل رہی تھی اس میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی اس لئے یہ آیات نازل کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ کسی کو ہدایت دینا، رحم کرنا یا عذاب دینا یہ اللہ کا کام ہے۔ اہل ایمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی سی کوشش میں لیگ رہیں اس کا طریقہ یہی رہا کہ اللہ کے نبی آتے رہے لوگوں کی اصلاح کرتے رہے ایک سے بڑھ کر ایک نبی آئے حضرت داؤد بھی زبور لے کر آئے سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ وہ لوگ جو اللہ کی ہدایت و رہنمائی کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں وہ اپنا بھولا ہوا سبق دوبارہ یاد کرلیں اور اپنی آخرت کو سنوار لیں۔ فرمایا کہ اب یہی ذمہ داری آخری نبی اور آخری رسول کے امتیوں کی ہے کہ وہ شیطان کے ہر مکر و فریب سے بچتے ہئے اپنی زبانوں پر قابو رکھیں اور ہمیشہ وہ بات کہیں جس میں سنجیدگی ، وقار اور متانت ہو اور ہر اختلاف کی جگہ سے بچتے ہوئے اصلاح کے کام کو آگے بڑھائیں۔
Ayahs 17:56–58

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ تم اگر ان کو پکارو گے جنہیں تم اللہ کے سوا (اپنا معبود) سمجھتے ہو تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کرنے، بدلنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ جنہیں پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ قریب ہوتا ہے۔ یہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک آپ کے رب کا عذاب ہی ڈرنے کی چیز ہے

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم (نافرمانیوں کی وجہ سے) ہلاک نہ کردیں یا اس کو عذاب نہ دیں۔ یہ سب کچھ کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 58 ادعوا پکارو۔ لایملکون وہ اختیار نہیں رکھتے۔ کشف کھولنا۔ دور کرنا۔ الضر تکلیف، مصیبت۔ تحویل بدلنا۔ یبتغون وہ تلاش کرتے ہیں۔ الوسیلۃ ذریعہ۔ اقرب زیادہ قریب۔ محذور ڈر کی چیز۔ مسطور لکھا ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 58 اللہ کے ساتھ اس کی ذات، صفات اور قدرت میں کسی اور کو شریک سمجھنایا شریک کرنا اس قدر بدترین اور گھناؤنا جرم ہے جس کی کسی حالت میں معافی نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد فرما دیا کہ شرک ایک بہت بڑی بےانصافی اور ظلم ہے اسی لئے فرمایا کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے علاو وہ بہت کچھ معاف کر دے گا جس کے لئے چاہے “ وجہ یہ ہے کہ شرک درحقیقت اللہ کی ذات پر براہ راست حملہ ہے۔ جس طرح وہ بیٹا جس نے ہمیشہ اپنی ماں کی نافرمانی کی ہوا گر پچاس سال کے بعد بھی وہ ماں کے قدموں میں سر رکھ کر معافی مانگے گا تو ماں اپنے بیٹے کو گلے لگا کر یہی کہے گی کہ بیٹا میں تو ہمیشہ تجھے یاد کرتی تھی اور وہ بیٹے کی برسوں کی نافرمانی کو اسط رح بھول جائے گی جیسے اس نے کبھی نافرمانی نہ کی ہو۔ لیکن اگر وہی بیٹا ماں کی آبرو پر حملہ کر دیگا تو وہ اس کو کبھی معاف نہ کرے گی۔ بلاتشبیہ اسی طرح کوئی اللہ کا بندہ برسوں نافرمانی کرنے کے بعد ایک دن سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ اس کے سارے گناہوں کو معاف فرما دے گا لیکن شرک کرنا اللہ کی ذات پر حملہ کرنا ہے اس لئے وہ اس کو معاف نہیں کرسکتا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اگر کوئی شخص کفر و شرک سے توبہ کرلے تو وہ اس کی توبہ کو ضرور قبول فرما لے گا کیونکہ اس نے اپنے بندوں پر رحم و کرم کرنے کو فرض قرار دے لیا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت کے لوگوں نے نہ صرف سارے عرب میں اپنے ہاتھوں سے گھڑے ہوئے بتوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا بلکہ جنتا اور فرشتوں کو بھی اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو نہ تو وہ تمہاری مشکلات کو دور کرنے والے ہیں اور نہ تمہارے حالات کو بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ یہ تو خود اللہ کو پکارتے ہیں اور اس کا قرب تلاش کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کرلے اور وہ اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں ان سے کوئی نافرمانی نہ ہوجائے جس سے اللہ کا عذاب نازل ہوجائے۔ فرمایا کہ اس کائنات میں ساری قوت و طاقت صرف ایک اللہ کی ہے وہی سب کا مشکل کشا اور کار ساز ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے جو تمہارے کسی کام آسکے گا۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو دنیا کی نعمتیں حاصل کرنے کے بعد یا بڑی بڑی بلڈنگیں اور شہر بنانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمیشہ رہیں گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ یہ ساری بستیاں اور آبادیاں یا تو لوگوں کی نافرمانی اور گناہوں کی وجہ سے مٹا دی جائیں گی یا قانون قدرت کے تحت قیامت کے دن ان سب آبادیوں اور بستیوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ یہ چیزیں باقی رہنے والی نہیں ہیں اس کو اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے بلکہ باقی رہنے والی چیزیں صرف انسان کے اچھے یا برے اعمال ہیں جو اس کو جنت یا جہنم تک پہنچائیں گے۔
Ayahs 17:59–60

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

ہمیں نشانیاں (معجزات) بھیجنے سے جس چیز نے روکا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ان سے پہلے لوگوں نے (دیکھنے کے باوجود) ان کو جھٹلایا ہے (جس کی وجہ سے ان پر عذاب آیا ہے) ہم نے قوم ثمود کو ایک اونٹنی دی جو ان کے لئے بصیرت کی چیز تھی مگر انہوں نے اس کے ساتھ زیادتی ہی کی ہے اور ہم نشانیاں اس لئے بھیجتے ہیں کہ لوگ اس سے ڈریں

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ یاد کیجیے جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ بیشک آپ کا پروردگار (کفار کو) گھیرے ہوئے ہے اور جو کچھ ہم نے آپ کو دکھایا اس کو اور تھوہر کے اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ایک آزمائش بنایا ہے ۔ جب ہم ان کو ڈراتے ہیں تو ان کی سرکشی میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 60 مامنعنا ہمیں نہیں روکا۔ نرسل ہم بھیجتے ہیں۔ مبصرۃ دیکھنے کو، ذریعہ بصیرت۔ تخویف ڈرانے کو۔ احاط گھیر لیا، قابو کرلیا۔ الرؤ یا خواب ، دکھاوا۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ الملعونۃ لعنت کی گئی۔ طغیان سرکشی، نافرمانی۔ تشریح : آیت نمبر 59 تا 60 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے کبھی کہتے کوہ صفا کو سونے کا بنا دیا جائے کبھی کہتے مکہ کے چاروں طرف جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹا کر صاف اور کھلا ہوا میدان بنا دیا جائے تاکہ کھیتی باڑی کی جاسکے، کبھی کہتے کہ ہمارے وہ رشتہ دار جو مر چکے ہیں ان کو زندہ کردیا جائے تاکہ ہم ان سے باتیں کریں اور آپ کی نبوت کی تصدیق کر کے ایمان لانے کی کوشش کریں وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! یہ لوگ جن معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو دکھانے میں ہمارے لئے کوئی رکاوٹ یا مانع نہیں ہے۔ ہم نے پہلے نبیوں کو معجزات دیئے ہیں آپ کو بھی دے سکتے ہیں لیکن اگر ان لوگوں نے ان معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان قبول نہ کیا تو پھر اللہ کے عذاب آنے میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہ بن سکے گی اور اس آخری امت کے لئے ایسا کرنا ہماری مصلحت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم ثمود نے اپنے نبی حضرت صالح سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایک گابھن اونٹنی سامنے چٹان سے نکلے، بچہ دے اور ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ اللہ نے ان کا مطالبہ پورا کردیا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے نہ صرف اس معجزہ کا انکار کردیا بلکہ اللہ کی اس نشانی کو قتل کردیا اور نا فرماین کی انتہا کردی۔ آخر کار اللہ کا عذاب قوم ثمود پر ٹوٹ پڑا شدید زلزلے اور خوفناک گرج چمک نے ان کو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیا جیسے اس بستی میں کوئی کبھی آباد ہی نہ تھا۔ فرمایا کہ ایمان و یقین لانے والے تو کبھی کسی معجزہ کا مطالبہ نہیں کرتے اور نہ ان کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت ہوتی ہے بلکہ وہ نور بصیرت سے سچائی کو پہچان کر اس پر ایمان لاتے ہیں جس طرح فرعون کے بھرے دربار میں تمام جادوگروں کے سامنے سچائی آگئی تو انہوں نے فرعون کی دھمکیوں کے باوجود ایسے عزم و یقین کا اظہار کیا جس کو قرآن کریم نے نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی حیدر کرار، حضرت خدیجہ الکبری اور حضرت زید نے اور تمام صحابہ کرام نے نہ کسی معجزہ کو دیکھا نہ مطالبہ کیا نہ ان کو ضرورت تھی کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی عظیم سیرت پاک قرآن کریم کی پر عظمت تعلیمات، معراج نبوی ﷺ کو اچھی طرح دیکھا تھا جو کسی معجزہ سے کم نہیں تھے مزید کسی معجزہ کا مطالبہ ایک بچکانہ فرمائش سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا تھا۔ تمام صحابہ کرام تو ہر روز آپ کی ایک ایک صفت کو معجزہ ہی سمجھتے تھے۔ معراج النبی کے موقع پر جب کفار مکہ نے آپ کا مذاق اڑایا اور بعض نئے نئے مسلمان ہونے والے بھی پیچھے ہٹ گئے تھے اس وقت ابوجہل نے یہ سمجھ کر کہ اگر حضرت ابوبکر بھی آپ سے پیچھے ہٹ جائیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی اور نبی کریم ﷺ کی تحریک کی جان نکل جائے گی۔ جب ابوجہل نے واقعہ معراج کا ذکر حضرت ابوبکر سے کیا تو ان کا جواب تھا کہ ہم تو ہر روز فرشتوں کی آمد و رفت اور وحی کی کیفیات کو دیکھتے رہتے ہیں اگر آپ یہ فرماتے ہیں کہ میں رات کو معراج پر گیا اور اسی رات سب کچھ دیکھ کر واپس آگیا تو اس میں مہارے لئے تعجب کی کوئی بات نہیں ہے آپ نے جیسا فرمایا میں اس کیت صدیق کرتا ہوں۔ حضرت ابوبکر کی اس تصدیق نے انہیں بارگاہ نبوی سے ’ صدیق “ کا لقب دلا دیا۔ اس سے یہ اصلی حقیقت سامنے آگئی کہ جو لوگ نور بصیرت رکھتے ہیں انہیں باہر کی کسی روشنی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی تمام صحابہ کرام کا حال تھا کہ ان کو اللہ کے سچے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی پر پورا پورا اعتماد اور بھروسہ تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی دلیل، برھان یا معجزہ دکھانے میں اگر کوئی رکاوٹ تھی تو وہ یہی تھی کہ اگر ان کے مطالبہ پر معجزہ دکھا دیا گیا اور پھر وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ضرور آئے گا اور اس قوم کو قوم ثمود کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ چونکہ آخری نبی کی یہ آخری امت ہے اس لئے ان کو ان کے مطالبہ پر معجزات نہیں دیئے گئے کیونکہ اب اسی امت کو قیامت تک تمام دنیائے انسانیت کی رہنمائی و رہبری کے فرائض انجام دینے ہیں۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر اللہ سے مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کی بقا کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ الٰہی اگر تیرے ماننے والوں کی یہ مٹھی بھر جماعت مٹ گئی تو پھر (قیامت تک) تیرے دین کی ذم داری کون اٹھائے گا۔ اے اللہ اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہوگئی تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آج کے بعد آپ کی عبادت نہ کی جائے۔ آپ اس قدر عاجزی اور محویت کے ساتھ دعا فرما رہے تھے کہ آپ کے کاندھے سے چادر بار بار پھسل جاتی اور حضرت ابوبکر صدیق آپ کی چادر کو آپ کے کاندھوں پر ڈالتے جاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی نبوت و رسالت کی طرح یہ امت بھی آخری امت ہے اب کسی نے نئے نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہیں ہے۔ اس لیئے اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جب تک آپ ان میں موجود ہیں ہماری یہ شان نہیں ہے کہ ہم ان پر عذاب کو نازل کریں۔ چونکہ نبی کریم ﷺ دنیاوی حیات کے بعد اپنی قبر مبارک میں آج بھی حیات ہیں اور قیامت تک آپ کی لائی تعلیمات اور فیض جاری رہے گا اسی لئے آپ کی امت پر وہ عذاب نہ آئیں گے جیسے عذاب گزشتہ قوموں پر آئے تھے۔ یہاں ایک بنیادی بات کو سمجھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم کی ان آیات کا سہارا لے کر منکرین حدیث نے ” معجزات نبوی “ کا انکار کردیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ آپ کو کوئی معجزہ عطا نہیں کیا گیا۔ میں یہ عضر کروں گا کہ منکرین حدیث نے ان آیات کے ظاہری پہلو کو سامنے رکھ کر اپنی بےعقلی اور جہالت کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ اگر وہ ذرا بھی غور کرتے تو ایسی بچکانہ اور احمقانہ بات کبھی نہ کرتے وجہ یہ ہے کہ ان آیات میں اللہ نے معجزات کا انکار نہیں کیا بلکہ کفار کے مطالبہ کو بچکانہ قرار دیا ہے کیونکہ اگر ان کا مطالبہ مان لیا جاتا اور وہ یقینا اس پر ایمان نہ لاتے تو اللہ کے عذاب آنے میں کوئی رکاوٹ نہ رہتی اور یہ امت مٹا دی جاتی جب کہ اللہ کے فیصلے اور مصلحت کے تحت اس امت کو قیامت تک باقی رہنا تھا اور رہے گی انشاء اللہ۔ رہے وہ معجزات جو نبی کریم ﷺ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں جن کی تفصیلات کے لئے معجزات نبوی پر امت کے علماء کرام کی سینکڑوں کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں جو معتبر ترین احادیث سے ثابت ہیں۔ ان کا انکار ممکن ہی نہیں ہے لیکن جنہوں نے اپنی آنکھوں پر انگریزوں کے چشمے لگا رکھے ہیں ان کو نظر نہ آنا کوئی تعبج کی بات نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنے ان مصنوعی چشموں کو اپنی آنکھوں پر سے اتار کر دیکھیں گے تو نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ان کو معجزہ نظر آئے گا جس کا انکار ممکن ہی نہیں ہے۔ ان آیات میں معراج النبی اور شجر معلونہ کو آزمائش قرار دیا گیا ہے اس کی کچھ تفصیل عرض ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے معراج کی صبح کو ارشاد فرمایا کہ آج رات میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصی اور پھر واں سے ساتوں آسمانوں، جنت و جہنم اور اللہ کی ذات وصفات کو دیکھ کر آیا ہوں تو کفار کو یقین نہ آیا اور وہ لوگ جنہوں نے بیت المقدس کو دیکھا تھا ان کو بلایا گیا۔ اللہ نے بیت المقدس کو آپ کے سامنے کردیا۔ کفار پوچھتے گئے اور آپ بیت المقدس کی ایک ایک بات تفصیل سے بتاتے گئے۔ اس سب کے باوجود انہوں نے ان واقعات اور حقائق کو مذاق میں اڑا دیا حالانکہ اگر غور کیا جائے تو یہ خود ایک معجزہ تھا مگر جو لوگ نور بصیرت اور سنجیدہ غور و فکر نہیں رکھتے ان کے لئے بڑی سے بڑی سچائی بھی ایک بےحقیقت چیز ہو کر رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک تو معراج النبی ان کے لئے آزمائش تھی دوسرے ” شجر ملعونہ “ جس کو ” زقوم “ بھی فرمایا گیا ہے یہ بھی کفار کے لئے ایک آزمائش کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کیونکہ جن کو اللہ کی قدرت پر یقین کامل ہے ان کو یقین تھا کہ اللہ کی یہ قدرت ہے کہ وہ کسی درخت کو آگ میں پیدا کرسکتا ہے اور آگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیونکہ آگ اور درخت دونوں ہی اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو آگ سلامتی کے ساتھ حضرت ابراہیم پر گل و گلزار بن سکتی ہے پانی میں راستے اور صحرا میں چشمے جاری ہو سکتے ہیں تو آگ میں وہ درخت جو جہنمیوں کی غذا کے طور پر ان کو کھانے کیلئے دیاجائے گا وہ اللہ کی قدرت سے کیوں باقی نہیں رہ سکتا ۔ یہ درخت جو دوزخیوں کیلئے ہوگا۔ اس تلخ ، بد مزہ، قابل نفرت، کانٹے دار درخت ہوگا۔ جس کو کھانے پر وہ مجبور ہوں گے۔ روایات میں آتا ہے کہ ” زقوم “ دوزخ کی تہہ میں پیدا ہوگا۔ جب دوزخی بھوک کی شدت میں اس پر اپنا منہ ماریں گے تو وہ تڑپ کر رہ جائیں گے کیونکہ وہ ان کے پیٹ میں ایسی آگ لگا دی گا جیسے پانی ان کے پیٹ میں کھول رہا ہے۔ اس پر لعنت کی گئی ہے یعنی جس طرح جہنمی اللہ کی رحمت اور کرم سے دور ہوں گے اسی طرح یہ درخت یعنی دوزخیوں کی غذا بھی اللہ کی رحمت سے دور قابل لعنت ہوگی۔ جب قرآن کریم میں یہ بتایا گیا کہ دوزخیوں کو دوزخ میں کھانے کیلئے زقوم دیا جائے گا تو ابوجہل نے کہا ہمارے لئے مکھن اور کھجوریں لاؤ۔ جب یہ چیزیں آگئیں تو اس نے لوگوں کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی اور کہنے لگا ہمارا زقوم تو یہ ہے۔ یعنی اس نے معراج النبی اور آگ میں درخت کا مذاق اڑایا اسی لئے قریش کہا کرتے تھے کہ ابو کبشہ کے لڑکے کو دیکھو وہ ہم سے عجیب باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جہنم کی آگ ایسی ہوگی جو پتھروں تک کو جلا ڈالے گی۔ پھر کیا یہ ممکن ہے کہ اس میں ایسا درخت بھی ہو (اور آگ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے) خلاصہ یہ ہے کہ جس کو ایمان لانا ہوتا ہے اس کو نبی کی بات ہی کافی ہوتی ہے لیکن جس کو ایمان نہیں لانا اس کے لئے سو بہانے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی ایک ایک بات پر ایمان و یقین لانے کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 17:61–65

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب (فرشتوں) نے سجدہ کیا۔ کہنے لگا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے۔

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

بھلا بتائیے کیا (یہ اس قابل تھا) کہ اس کو میرے اوپر فضیلت (عزت) دی جائے۔ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو سوائے کچھ لوگوں کے سب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اچھا تو جا۔ ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا تجھ سمیت سب کو جزا کے طور پر جہنم میں ڈالوں گا اور یہ ان کی بھرپور سزا ہوگی۔

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

تو ان میں سے جس جس پر تیرا بس چلتا ہے ان کو اپنی آواز سے پھسلا لے اور تو ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا کرلے آ۔ ان کے مالوں اور جانوں میں شرکت کرلے۔ ان سے (خوشنما) وعدے کرلے۔ حالانکہ شیطان کے وعدے دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

یقینا میرے (مخلص) بندوں پر تجھے غلبہ حاصل نہ ہو سکے گا اور بھروسہ کے لئے صرف تیرا رب ہی کافی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔ تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة کہف، سورة طہ اور سورة ص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے لوگوں اور قیامت تک آنے والوں کو اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ شیطان انسان کا پہلے دن سے دشمن ہے۔ اس نے اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن محض اپنے تکبر و غرور، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں اور ان کے سردار شیطان سے یہ فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو اس نے نہایت غرور وتکبر کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں انسان کے سامنے نہیں جھک سکتا کیونکہ میں اس سے کہیں برتر اور اعلیٰ ہوں اور کہنے لگا کہ اگر مجھے قیامت تک مہلت دی جائے تو میں اس کو ثابت کر کے دکھا سکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے کر قیامت تک کے لئے اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور فرما دیا کہ اے شیطان تیرا قابو اور تیرے فریب کا جادو ان لوگوں پر نہ چل سکے گا جو میرے فرماں بردار اور نیک بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرما دیا کہ تجھے مکمل آزادی ہے کہ جس پر بھی تیرا بس اور قابو چلتا ہے اس پر اپنے لشکروں کو چڑھا کرلے آ۔ لوگوں کے جان و مال میں شرک کے ہزاروں انگارے بھر دے لیکن تو دیکھے گا کہ میرے مخلص بندے تیرے جال سے صاف نکل جائیں گے اور ساری دنیا کو چھوڑ کر جب وہ میرے اوپر بھروسہ کریں گے تو میری رحمت ان گرتے ہوئے لوگوں کو سنبھلا لے گی کیونکہ میرے علاوہ بھروسہ کرنے کے لئے کوئی دوسری ذات نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ زندگی کے دو ہی راستے ہیں ایک تو حق و صداقت کی راہ میں چلنے کا اور اس میں ہمت و طاقت سے صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کرنا اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرنا ہے اور دوسرا راستہ شیطان کا وہ راستہ ہے جس میں وہ جھوٹ اور فریب کے بہت خوش نما جال پھیلا کر انسانوں کو صراف مستقیم سے دور کردیتا ہے۔ اللہ نے ایمان اور کفر کے دونوں راستے کھلے رکھ دیئے ہیں۔ اب یہ انسانوں پر ہے کہ وہ ان دونوں راستوں میں سے کس راستہ کو اختیار کر کے اپنے لئے جنت یا جہنم کو چنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو راستے دکھا دیئے ہیں اب اگر وہ چاہے تو شکر (ایمان و عمل صالح) کا راستہ اختیار کرلے اور چاہے تو انکار (کفر و شرک اور گناہوں کا) کی راہ پر چل پڑے۔ لیکن دونوں راستوں کو دکھانے کے بعد دونوں کا انجام بھی بتا دیا کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح اور شکر و اطاعت کے راستے پر چلیں گے ان کے لئے نہ صرف آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں ہیں بلکہ ان لوگوں کی دنیا بھی درست ہوجائے گی اور آخرت بھی۔ اس کے برخلاف جن لوگوں نے کفر و شرک اور گناہوں کے راستے کا انتخاب کرلیا وہ حق اور سچائی کے راستے سے اسی قدر دور ہو کر اپنے ہاتھوں اپنی آخرت اور دنیا دونوں کو ضائع کر بیٹھیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں جدوجہد کر کے دنیا کے اسباب راحت کو اپنے آس پاس جمع کرلیں لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ اللہ کے بندوں کی دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہوجائیں۔ لیکن اللہ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں کو شیطان کے جال سے بچانے کے لئے اپنے نیک بندوں کو ان کی اصلاح کے لئے ہر زمانہ میں بھیجتا رہا ہے۔ اللہ نے پہلے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا پھر جب اللہ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیج دیا تو اب آپ کے بعد کوئی اور نبی اور رسول نہیں آئے گا لیکن اللہ کی اطاعت و فرماں برداری پر چلانے کے لئے علماء امت کو امت کی اصلاح کے لئے اٹھاتا رہے گا۔ چونکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی حفاظت کا اللہ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ قیامت تک خود ان کی نگرانی اور حفاظت فرمائے گا اس لئے اب کسی نئے نبی اور رسول کی ضروتر باقی نہیں رہی صرف وہ تعلیمات جن کو نبی مکرم ﷺ لے کر آئے ہیں ساری دنیا میں پھیلانے کے لئے علماء امت اور بزرگان دین اپنی اپنی ہمت کے مطابق خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علماء امت نے ہر دور میں اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کا مقابلہ کیا ہے اور انشاء اللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سربلندی کی یہ سعادت عطا فرمائے اور ہم سے دین کی عظمت کا کام لے لے۔
Ayahs 17:66–69

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لئے سمندر میں کشتی (جہاز) چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ بیشک وہ تمہارے اوپر نہایت مہربان ہے

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب سمندر میں تمہارے اوپر کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ سب گم ہوجاتے ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ پھر جب اللہ تمہیں بچا لیتا ہے اور تم خشکی پر آجاتے ہو تو تم (اللہ سے) منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کی طرف لے جا جکر زمین میں دھنسا دے یا تمہارے اوپر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے۔ پھر تم اپنے لئے کوئی بچانے والا نہ پاؤ گے ۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا تم اس اندیشہ سے بےفکر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اسی سمندر میں لے جاؤ۔ پھر تم پر طوفانی ہوا کا تیز جھونکا بھیج دے۔ پھر تمہیں ناشکری کے بدلے میں غرق کر دے۔ پھر تم اپنے لئے نہ پاؤ جو ہم سے باز پرس کرنے والا ہو۔

لغات القرآن آیت 66 تا 69 یزجی وہ چلاتا ہے۔ الضر مصیبت، نقصان۔ افامنتم کیا پھر تم مطمئن ہوگئے ؟ ۔ یخسف وہ دھنسا دیتا ہے۔ حاصباً پتھر برسانے والی آندھی۔ تارۃ اخری دوبارہ۔ قاصف سخت طوفانی ہوا۔ یغرق وہ غرق کرتا ہے۔ لاتجدوا تم نہ پاؤ گے۔ تبیع پیچھا کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 69 اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے ” اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (دی گئی نعمتوں میں) اور اضافہ کرتا چلا جاؤں گا۔ اس کے برخلاف اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی گئی تو پھر میری گرفتا ور پکڑ بہت سخت ہے۔ واقعتاً اگر غور کیا جائے تو انسانی وجود کی ابتداء سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک اللہ اتنی نعمتوں سے نوازتا ہے جن کو شمار کرنا مشکل ہے۔ سورة رحمن میں ان بیشمار نعمتوں کو گنوا کر اکتیس (31) مرتبہ اس آیت کو دھرایا گیا ہے کہ ” اے جن و انسان تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ “ سورۃ الاسراء کی ان آیات میں بھی چند نعمتوں کا ذکر کر کے اللہ نے یہی سوال کیا ہے کہ ایک زبردست سمندر جس میں بڑے بڑے جہازوں کی حیثیت تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی اس میں موافق ہوائیں چلا کر ایک کنارے سے دور سے کنارے تک ان کشتیوں اور جہازوں کو کون چلاتا ہے ؟ اگر اللہ کی طرف سے یہ سہولتیں نہ ہوتیں تو انسان سمندر کے ذریعہ سامان تجارت ادھر ادھر کیسے لے جاسکتا تھا اور وہ نفع اور فائدے کیسے حاصل کرسکتا تھا جس پر قوموں کی زندگی کا دار و مدار ہے۔ فرمایا کہ انسان اگر اس پر ذرا بھی دیانت داری سے غور کرے تو اس کا دل پکار اٹھے گا کہ یہ سب کچھ اس اللہ کا کرم ہے جس کے ہاتھ میں کائنات کی ہر قوت و طاقت ہے۔ فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی سمندر کی بپھری ہوئی موجوں میں گھر جاتا ہے اور اس کو اس طوفان بلاخیز سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تب وہ اپنے بتوں کو بھول کر صرف اللہ ہی کو پکارتا ہے اور پھر اللہ ہی اس طوفان سے نجات عطا فرماتا ہے۔ لیکن جب وہی انسان خشکی پر آجاتا ہے تو اللہ کو بھول کر پھر ” غیر اللہ “ سے اپنی امیدیں باندھ لیتا ہے اور شرک کرنے لگتا ہے۔ فرمایا یاد رکھو خشکی ہو یا تری ، فضا ہو یا ہوا ہر جگہ اسی ایک اللہ کی حکمرانی اور طقت و قوت ہے۔ اس کے علاوہ کسی کی کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو ناشکرے انسان کو بڑی سے بڑی سزا دے سکتا ہے۔ وہ زمین کے اندر دھنسا سکتا ہے کوئی آفت بھیج سکتا ہے۔ ایسی آندھی اور تیز ہوائیں بھیج سکتا ہے جس سے کنکر اور پتھر برسنے شروع ہوجائیں۔ پانی کے طوفان، زلزلوں اور آفتوں سے انسان کے بنائے ہوئے پورے نظام کو درہم برہم کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی عذاب یا مصیبت کو بھیجنا چاہے تو اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ تو اس اللہ کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ہر بات پر اسی وقت گرفت نہیں کرتا بلکہ سنبھلنے، سوچنے اور صحیح فیصلہ کرنے کا موقع دیتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان اللہ کی نافرمانیوں اور ناشکریوں کی حد تک ردیتا ہے تب اللہ کا قہر لمحوں میں سب کچھ تباہ و برباد کردیتا ہے اور انسان کی ساری تدبیریں مٹی کا ڈھیم ثابت ہوتی ہیں۔ خلاصیہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے ہزاروں نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اسے اس اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اگر اس نے ناشکری کی روش اختیار کی تو اللہ اس سے نعمتوں کو چھین کر اس پر طرح طرح کے عذاب بھیج سکتا ہے۔ انسان کو اس سے بےفکر نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اللہ ایک مصیبت سے نکال کر دوسری مرتبہ اسی مصیبت میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ وہی سمندر جس میں ایک شخص اللہ سے دعائیں مانگ کر طوفان سے بچ کر خشکی پر آجاتا ہے وہ ان کی موجوں کو اس پر چڑھا کر یا اس کو سمندر میں دوبارہ لیجا کر اس کی ناشکری کی سزا دے سکتا ہے۔ وہ اپنے فیصلوں میں دوسروں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے فیصلے کرتا ہے اور وہ اپنے فیصلوں کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہے۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور البتہ یقیناً ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے اور انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کی ہیں اور ہم نے ان کو پاکیزہ رزق دیا ہے اور اپنی بہت سی مخلوق پر بڑی فضیلت عطا کی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 70 کرمنا ہم نے عزت بخشی۔ حملنا ہم نے سوار کیا۔ البر خشکی، زمین البحر تری، سمندر۔ الطیبت پاکیزہ چیزیں۔ فضلنا ہم نے فضیلت دی۔ تفضیل بڑائی دینا۔ بڑائی۔ فضیلت ۔ تشریح آیت نمبر 70 اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی چار عظمتوں کا ذکر کیا ہے۔ (1) حضرت ادم کی اولاد کو عزت عطا کی۔ (2) خشکی اور تری میں سوار کیا۔ (3) اس کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ (4) اور دنیا کی بہت سی مخلوقات پر اس کو فوقیت عطا فرمائی۔ اسی طرح قرآن کریم میں انسان کی تین اہم کمزوریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ (1) انسان بہت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (2) وہ جلد باز ہے اور ہر چیز کا نتیجہ فوری طور پر حاصل کرنے کے لئے بےچین رہتا ہے۔ (3) نعمت مل جاتی ہے تو فخر و غرور کرنے لگتا ہے اور ذرا سے حالات ناموافق ہوتے ہیں تو مایوس ہوجاتا ہے۔ انسان کی ان خصوصیات سے معلوم ہوا کہ اللہ نے جہاں اس کو بہت سی عظمتیں نصیب فرمائی ہیں اور وہ خشکی اور تری کو روندنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں اس میں بہت کچھ بنیادی کمزوریاں بھی ہیں جن کے سامنے وہ ڈھیر ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ مایوس ہو کر کفر و شرک تک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان دونوں طرح کی صلاحیتوں کا ذکر کرنے کے بعد اس کا علاج بھی بتا دیا ہے کہ انسان اگر اس کائنات میں اور آخرت میں عزت و عظمت کا اعلیٰ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو اپنی بنیادی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا ۔ اگر اس نے اپنی جلد بازی میں اپنے آپ کو بےجا خواہشات کے نیچے دبا لیا تو وہ دنیا اور آخرت میں ناکام ہوجائے گا اور اگر اس نے ” تزکیہ “ کرلیا یعنی زندگی کی بری خواہشات سے اپنے دامن کو بچا کر اپنے نفس کی اصلاح کرلی تو پھ ردنیا کی اور آخرت کی کامیابیاں اس کے قدم چو میں گی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی آدمی کو عقل و شعور، فہم و فراست، رشد و ہدایت کی روشنی دی اس کے سرپر خلافت کا تاج رکھ کر اس پر بروبحر اور اپنی بہت سی مخلوقات پر شرف و عظمت عطا فرمائی جو کسی اور مخلوق کو حاصلن ہیں ہے۔ انسان اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر خشکی اور تری میں دوڑتا پھرتا ہے۔ زمین کی گہرائیوں، سمندر کی پنہائیوں، پہاڑوں کی بلندیوں ، فضاؤں اور ہواؤں کی طاقت کو اپنے تابع کر کے ان پر حکمرانی کرتا ہے اور علم و تحقیق، سائنس اور نئی نئی ٹیکنالوجی کے ذریعہ حیرت ناک چیزیں ایجاد کر رہا ہے۔ وہ ہزاروں تصورات اور خیالات جو آج سے سو دو سو سال پہلے قصے کہانیوں سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے ان کو حقیقت کا روپ دے کر دنیا کو حیرت و تعجب میں ڈال رہا ہے اور ناممکن چیزوں کو ممکن بنا رہا ہے۔ ٹیلیفون ، ٹیلیویژن، ریڈیو، ہوائی جہاز، کاریں، ریلیں اور ہزاروں مشینیں ایجاد کر رہا ہے اور اب موجودہ دور میں کمپیوٹر کی ایجاد نے تو ساری دنیا کے انداز فکر، علم و تحقیق اور معلومات کے ذریعہ دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کو اس قدر مختصر کردیا ہے کہ ہزاروں میل پر بیٹھ کر نہ صرف ایک دوسرے کی آواز، صورت شکل اور حرکات و سکنات کو دیکھ سکتا ہے بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ انسان علم و تحقیق کے ذریعہ ہر روز ایک نئی چیز ایجاد کر رہا ہے۔ نجانے بیس پچیس سال میں دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گی۔ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ راحت و سکون کے ایسے ایسے اسباب اور وسائل ایجاد کر لئے گئے ہیں جن کا تصور آج سے پہلے ناممکن تھا دنیا میں روشنی اور چکا چوند اتنی بڑھ چکی ہے کہ اندھیروں کا تصور ماند پڑ رہا ہے۔ لیکن اتنی ترقیاتی اور روشنی کے باوجود انسان کا قلب بےنور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے دل میں بد اخلاقی کے اندھیروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ترقیات نے انسان کو بہت سی سہولتیں دیدی ہیں مگر اس کے دل کا سکو ن لٹ گیا ہے۔ اس کا گھریلو ماحول اس سے چھین گیا ہے۔ اس دور کا انسان جتنا دکھی ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ بموں، میزائلوں کی ایجاد نے انسان کو بارود کے ڈھیر پر لا بٹھایا ہے۔ نجانے کب کون طاقت کے نشے میں چور ایک بٹن دبا کر اس بارود کے ڈھیر میں آگ لگا دے گا اور دنیا کی ساری ترقیات اور انسان راکھ کا ڈھیر بن کر رہ جائیں گے۔ اس موقع پر قرآن حکیم نے ہماری پوری طرح رہنمائی فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ انسان کی کامیابی اور سکون قلب ان اسباب، ذرائع، وسائل اور ایجادات میں نہیں ہے بلکہ اللہ کی یاد اور ہر آن اسی ذات کا احترام انسان کو سکون کی دولت سے مالا مال کرسکتا ہے محض یہ اسباب سکون نہیں دے سکتے۔ اگر موجودہ دور کا انسان ان ترقیات کے ساتھ اللہ کے بھیجے ہوئے دین اور رسول اللہ ﷺ کو اپنا رہبر و رہنما بنا لے تو یہ ترقیات انسانوں کے کام آئیں گی لیکن اگر اللہ کے دین کو نظر انداز کیا گیا تو پھر دنیا کبھی سکون نہ پا سکے گی ۔ سائے تو بڑھ جائیں گے لیکن انسان گھٹتے چلے جائیں گے۔ تاریخ کے حوالے سے میں یہ بات عرض کروں گا کہ جب تک دنیا کی باگ ڈور اور علمی ترقیات مسلمانوں کے ہاتھوں میں رہیں اس وقت تک انسان اس قدر ہوس اور دولت پرستی کی بیماری میں مبتلا نہ ہوا تھا لیکن اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب دنیا میں ترقی کا آغاز انقلاب فرانس سے ہوا اور اقتدار اور قوت کی باگ ڈور عیسائیوں اور یہودیوں ہندؤں کے ہاتھوں میں آئی ہے اس وقت سے دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ اگر مسلمان غفلت میں مبتلا نہ ہو تو دنیا میں ظلم و جبر کا یہ نظام قائم نہ ہوتا، یہ ہماری غلطیوں اور غفلتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ آج بھی اگر دنیا کو ترقیات کے ساتھ امن و سکون نصیب ہوگا۔ تو وہ صرف دامن مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ اہل ایمان کے ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ اب قیامت تک دنیا پر حکمرانی کا حق امت محمدی ؐ کا ہے۔ اگر اہل ایمان بیدار نہ ہوئے تو دنیا کی موجودہ ترقیات انسانوں کو نگل جائیں گی اور یہ دنیا تباہ و برباد ہو کر عبرت کا نشان بن جائے گی۔