17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 17:11–15

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

انسان شر (برائی) کو اس طرح مانگتا ہے جیسے اسے خیر مانگنی چاہئے۔ انسان بہت جلد باز ہے

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ ہم نے رات کی نشانی کو مٹا کر دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ اور برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کی قسمت کو اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے اور ہم اس کے اعمال نامے کو قیامت کے دن اس کے سامنے نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(فرمایا جائے گا) اپنا نامہ اعمال پڑھ۔ آج تو خود اپنے اوپر اپنا حساب جانچنے کے لئے کافی ہے۔

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جس نے ہدایت پائی اس نے صرف اپنے لئے ہدایت پائی اور جو کہ کوئی گمراہ ہوا اس کی گمراہی کا وبال اس کے سرپر ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ جب تک ہم کوئی رسول نہ بھیج دیں اس وقت تک ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں۔

لغات القرآن آیت 11 تا 15 یدع دعا کرتا ہے۔ پکارتا ہے۔ عجولاً بہت جلد باز۔ محونا ہم نے مٹا دیا۔ مبصرۃ روشن ، دکھانے والی السنین (سن) سال، کئی سال۔ الزمنا ہم نے لٹکا دیا۔ ہم چمٹا دیا۔ طائرۃ پرندہ، اس کی قسمت، شگون۔ عنق گردن۔ منشور کھلا ہوا۔ حسیب حساب دینے والا ۔ وازرۃ بوجھ۔ معذبین عذاب دینے والے۔ حتی نبعت جب تک ہم بھیج نہ دیں۔ رسول پیغام بر، بھیجا ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 15 اللہ جو اس کائنات کا خلاق ومالک ہے اس نے اپنی قدرت سے اس کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رکھا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ نہایت احسن طریقے پر چل رہی ہے۔ یہ نظام نہ تو کسی جلد بازی کا نتیجہ ہے نہ اس میں کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی میں کیا جاتا ہے بلکہ ہر چیز کے ہونے اور مکمل ہونے کا ایک وقت مقرر ہے جو آہستگی سے رواں دواں ہے۔ ہر روز سورج اپنے مقرر وقت پر نکلتا ہے۔ اپنی چمک دمک سے دن کو روشن کرتا چلا جاتا ہے۔ رات کی تاریکی میں چاند اپنی ٹھنڈی کرنوں کو بکھیر تا رہتا ہے۔ ستارے چمک کر رات کی تاریکی میں بھٹنکنے والوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ رات اور دن کے آنے جانے سے ماہ و سال بنتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں طرح طرح کے انقلاب سے کوئی بن رہا ہے کوئی بگڑ رہا ہے، کوئی سنور رہا ہے کوئی مٹ رہا ہے لیکن کائنات کے نظام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دنیا اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی قدرت جب چاہے گی اس کو مٹا کر ایک نیا جہاں بنا دے گی۔ جب تک یہ دنیا اور اس کا نظام قائم ہے انسان اس سے فائدے حاصل کرتا رہے گا۔ کیونکہ اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے تاکہ وہ ایک وقت تک اس کو استعمال کرلے اور انے لئے کسی خیر یا شر کے راستے کو اختیار کرلے۔ لیکن انسان اس کائنات کے چند معمولی فائدے کو حاصل کر کے اپنے خلاق ومالک کو بھول جاتا ہے اور وہ غیر اللہ کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ ظلم و زیادتی، گناہ اور خطاؤں کی دلدل میں اس طرح دھنس جاتا ہے کہ اس چکر سے نکلنا اس کے لئے مشکل بن جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود قدرت اس کو سنبھلنے، سنورنے اور سدھرنے کے مواقع اور مہلتیں دیتی چلی جاتی ہے تاکہ یہ راستے سے بھٹکا ہوا انسان راہ ہدایت پر آجائے اور اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہو کر توبہ کرلے اس کے لئے و اپنے ایسے پاکیزہ نفس انسانوں کو بھیجتا ہے جو ان کی وراہ ہدایت دکھاتے ہیں تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اگر دنیا کی بدمستی میں وہ انبیاء کرام کو جھٹلاتے ہیں اور ان کی اطاعت نہیں کرتے تب ان پر اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے اور وہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ اگر اللہ کی ہر صفت پر اس کی صفت رحم و کرم، عفو و درگزر اور حلم و برداشت غالب نہ ہوتی تو وہ ہر گناہ پر انسان کو فوراً ہی پکڑ لیا کرتا لیکن وہ انسان کو سنبھلنے کی مہلت دیتا رہتا ہے ۔ اس کے برخلاف انسان اس قدر جلد باز ہے کہ وہ ہر چیز کے نتیجے کو فوری طور پر اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے خواہ وہ اس کے حق میں بہتر ہو یا نہ ہو۔ انسان کی اس جلد بازی کی عادت کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ انسان کس قدر جلد باز ہے کہ وہ خیر مانگنے کے بجائے برائی (عذاب الٰہی) کی جلدی مچاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ اگر تو نے کسی عذاب کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے فیصلہ کر دے اور عذاب نازل کر دے تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے برائی اور عذاب الٰہی کا مطالبہ کرنا یہ انسان کی جلد بازی کا مزاج ہے جس پر وہ غور کئے بغیر نتیجہ سے بےپرواہ ایک غلط چیز کا مطالبہ کرتا ہے۔ حالانکہ وہ خیر اور بھلائی کا راستہ اختیار کر کے اپنی دنیا اور آخرت کی بہتری کا سامان بھی کرسکتا تھا۔ فرمایا کہ انسان اگر رات اور دن کے آنے جانے اور ماہ و سال کے نظام پر غور کرلے تو اس کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ اللہ اس نظام کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق چلا رہا ہے وہ اس نظام کو چلانے میں جلد بازی نہیں کرتا اور وہ انسانوں کے ہر گناہ پر فوراً گرفت نہیں کرتا فرمایا کہ یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ لوگ کی نافرمانیوں اور گناہوں پر فوری طور پر سزا دینے کے بجائے ان کو مہلت پر مہلت دے رہا ہے۔ دنیاوی زندگی کی ہر سہولت دے را ہے تاکہ وہ شکر گذاروں کا راستہ اختیار کرسکیں لیکن اگر انہوں نے یہی روش قائم رکھی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کو اپنے کئے ہوئے اعمال پر نہ صرف شرمندہ ہوناپڑے گا بلکہ کڑی سے کڑی سزا بھی بھگتنا پڑے گی۔ اور کسی طرف سے ان کی مدد نہ کی جاسکے گی۔ فرمایا کہ انسان کو ناشکری کا راستہ چھوڑ کر فکر آخرت اختیار کرنا چنا ہے کیونکہ اس دنیا کی زندگی تو نہایت مختصر وقت کے لئے ہے مگر آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جس نے آخرت کی فکر اختیار کرلی وہی کامیاب و بامراد ہے وہی ہدایت پر ہے لیکن جس نے آخرت کی فکر نہ کی اور گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا تو اس کا نقصان خود اسی کو بھگتنا پڑے گا اور وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا بلکہ ہر انسان کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔
Ayahs 17:16–17

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم (فیصلہ) بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں نافرمانی کرتے ہیں۔ تب ان پر عذاب کا فیصلہ آجاتا ہے۔ پھر ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد کتنی بستیوں کو ہلاک کردیا اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لئے کافی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 17 نھلک ہم ہلاک کرتے ہیں۔ قریۃ بستی، شہر (ملک) ۔ مترفین خوشحال، عیش پسند، دمرنا ہم نے برباد کردیا۔ ہم نے اکھاڑ دیا۔ القرون (قرن) جماعتیں، قومیں۔ ذنوب (ذنب) گناہ، خطائیں۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 17 اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک یا برباد نہیں کرتا جب تک وہاں کے رہنے والوں کی ہدایت کے لئے کسی رسول یا اصلاح کرنے والے کو نہیں بھیج دیتا۔ جو ان لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی طرف سے دی ہوئی مہلت اور ڈھیل کی پروا نہیں کرتے اور فسق فجور، دنیا طلبی، عیش پرستی اور آخرت سے غفلت کو اپنا شعار بنا کر قانون قدرت کو توڑتے چلے جاتے ہیں اور وہ مال و دولت میں مست ہو کر کفر و شرک کی انتہا کردیتے ہیں، انبیاء کی مخالفت اور جھٹلانے میں آگے آگے ہوتے ہیں ایسے عیش پسند لوگوں کو توبہ کرنے کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوتی وہ اللہ کے شدید عذاب کی گرفت میں آجاتے ہیں اور اللہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پیھنکتا ہے۔ ایسے لوگ چونکہ دنیاوی اعتبار سے معاشرہ کے معزز لوگ سمجھے جاتے ہیں اس لئے غریب و نادار طبقہ ان کی نقل کر کے بگاڑ کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ تب اللہ کا قانون متوجہ ہوتا ہے اور اس قوم کا فیصلہ کر دیاجاتا ہے۔ اس موقع پر اللہ نے مثال کے طور پر حضرت نوح اور ان کے بعد آنے والی نسلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت نوح نے سینکڑوں سال تک اپنی قوم کے لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا اور خاص طور پر ان عیش پسندوں کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی جو اپنی شرارتوں میں انتہا کو ہپنچ چکے تھے لیکن وہ اپنی حرکتوں اور شرارتوں سے باز نہیں آئے۔ آخر کار پوری قوم کو سزا دی گئی ان کی تہذیب، مال و دولت اور اونچی اونچی بلڈنگوں کو پانی کے طوفان میں ڈبو دیا گیا کہ ان کی زندگیاں دوسروں کے لئے مقام عبرت و نصیحت بن گئیں۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی تھی اللہ نے ان کو اس طوفان بلا خیز سے نجات عطا فرما دی۔ چونکہ ان آیات کے سب سے پہلے مخاطب کفار مکہ تھے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اب نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ تو ختم ہوگیا۔ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ تشریف لا چکے ہیں اب آپ کے بعد کوئی اور نبی اور رسلو نہ آئے گا اس لئے ہدایت حاصل کرنے کا آخری موقع ضائع نہ کیا جائے اور دامن مصطفیٰ ﷺ سے وابستگی اختیار کر کے اپنی نجات کا سامان کرلیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت کا حق ادا کیا ان کو نہ صرف نجات عطا کی گئی بلکہ ان کو ساری دنیا پر غالب کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی کرم ہے کہ اس نے اس دنیا کو نازل کر کے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اپنے اوپر ہی رکھا ہے وہ اس دین (قرآن حکیم) کی حفاظت جس طرح اور جس قوم سے چاہے لے لیتا ہے۔ لہٰذا یہی دین و شریعت قیامت تک رہیں گے۔ جب کسی نئے قانون اور شریعت کی ضرورت نہیں ہے تو کسی نئے نبی یا رسول کی بھی ضرورت باقی نہیں ہی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آیا ہے تو وہ گویا اللہ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ قرآن کریم اور اس کی تعلیمات محفوظ نہیں ہیں۔ اس لئے حضور اکرم ﷺ نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا ” لانبی بعدی “ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ الئے نبی کریم ﷺ پر صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ آپ کی ” ختم نبوت “ پر ایمان اور اس کا اقرار بھی لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص اس بات کا قائل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی کوئی کسی قسم کا نبی آیا ہے یا آسکتا ہے تو وہ کائنات کا سب سے جھوٹا انسان ہے اور جس کا بھی یہ عقیدہ ہوگا۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گزشتہ قوموں کی نافرمانیوں اور گناہوں کے ہر انداز سے محفوظ فرمائے اور نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھنے کی توفیق سے محروم نہ فرمائے۔ آمین
Ayahs 17:18–22

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو کوئی جلدی ملنے والی چیز (دنیا کا عیش و آرا) مانگے گا تو ہم اس کو جتنا دینا چاہیں گے دے دیں گے۔ پھر ہم نے ایسی جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ملازمت زدہ اور رحمت سے محروم کر کے ڈالا جائے گا

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت (انجام کامیابی) چاہے گا اور اس کے لئے وہ ہر طرح جدوجہد کرے گا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اس کی جدوجہد قبول کی جائے گی۔

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم آپ کے پروردگار کی بخشش ان کو بھی اور ان کو بھی ہر ایک کچھ دیا کرتے ہیں اور آپ کے رب کی عطا و بخشش کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھیے ہم نے ایک دوسرے پر کیسی فضیلت دی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے درجات تو اور بھی بلند اور سب سے بڑھ کر ہیں۔

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اے مخاطب) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنا لینا ورنہ ملامت زدہ اور بےبس ہو کر رہ جاؤ گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 22 العاجلۃ جلد ملنے والی، (دنیا کا عیش و آرام) ۔ یصلی وہ ڈالے گا، داخل کریگا۔ مذموم ملامت زدہ، بےحال۔ مدحور رحمت سے دور ، دھوکا دیا گیا ہے۔ مشکور مقبول ، کامیابی ۔ نمد ہم دیتے ہیں۔ محظور روکی گئی۔ انظر دیکھو۔ فضلنا ہم نے بڑائی دی۔ تفضیل بڑائی ، فضیلت ، تقعد تو بیٹھے گا۔ مخذول بےکس، ذلیل ۔ تشریح آیت نمبر 18 تا 22 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس نے سورج کی چمک چاند کی ٹھنڈک ہوائیں، فضائیں، شجر و حجر ہر چیز کو انسانی ضرورت کے لئے بنایا ہے اور ہر انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے خواہ وہ اللہ کا فرماں بردار وہ یا نافرمان۔ ان شخص جتنی محنت کرتا ہے اسی قدر بہتر نتائج حاصل کرتا چلا جاتا ہے لیکن کامیاب کون ہے اور ناکام کون ہے ؟ انسان اس کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو وقتی فائدوں اور عیش و آرام کی طلب میں ساری زندگی محنت کرتے ہیں اور ہر چیز کے بہتر نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاخیر کو پسند نہیں کرتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ حاصل کرنا ہے و جلد از جلد مل جائے ایسے لوگ پرہیز گاری، نیکی اور آخرت کی بھی پروا نہیں کرتے ان کے پیش نظر بس دولت مند بننے کا خواب ہوتا ہے جسے وہ زندگی بھر پورا کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ہم بہت کچھ اسی دنیا میں دے دیتے ہیں لیکن وہ آخرت کی ابدی راحتوں سے محروم رہیں گے اور دنیا میں سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود وہ آخرت میں خالی ہاتھ ہوں گے۔ دنیا کی محبت میں ڈوب جانے والوں کو مرنے کے بعد آخرت کے دھکوں، ذلتوں اور بد حالیوں کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا استعمال کے لئے ہے محبت اور دل لگانے کے لئے نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہمیں آخرت ملے یا نہ ملے جو کچھ حاصل کرنا ہے وہ جلد از جلد اسی دنیا میں مل جائے تو ایسے لوگوں کی آخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوگا اور ان کو آخرت میں جہنم کا ایندھن بننا پڑے گا۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آخرت کی زندگی اور بہتر انجام کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ اسی جدوجہد اور کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہماری آخرت درست ہوجائے خواہ دنیا میں کسی طرح کی تنگی اور پریشانی برداشت کرنا پڑے تو فرمایا کہ اللہ نے ان سے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ ان کو پورا کر کے رہے گا۔ ایسے لوگوں کی ہر کوشش کو قبول کیا جائے گا اور آخرت میں راحت و آرام، سکون ، سکون و اطمینان سے بھرپور زندگی عطا کی جائے گی نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ تعالیٰ جب کسی کو کچھ دینا چاہتا ہے تو پھر ایسا کوئی نہیں ہے جو اس کی عطا و بخشش کو روک سکے۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ سامنے کی بات ہے کہ اس دنیا میں بعض لوگ خوب جدوجہد کرتے ہیں۔ حالات بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ ڈھیروں دولت کما کر خوش حال بھی ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو اپنی محنت میں تو کمی نہیں کرتے لیکن ساری زندگی بڑے نپے تلے انداز سے زندگی گذارتے ہیں اور انہیں خوش حالی نصیب نہیں ہوتی۔ ایک خوش حال اور دوسرا بدحال کہلاتا ہے۔ حالانکہ محنت دونوں کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کی راہوں میں محنت دونوں کرتے ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ جتنا ایک شخص کو ملا ہے اتنا ہی دوسرے کو مل جائے۔ فرمایا کہ آخرت کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ اگر کوئی آخرت کے لئے تھوڑی سی محنت بھی کرے گا تو اس کو آخرت میں بہترین بدلہ اور حسن انجام ضرور ملے گا اور اس عطا و بخشش کو اس سے روکنے والا کوئی نہ ہوگا ۔ وہ اللہ اس کو جتنا دینا چاہے دے گا اور اس کو سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال فرما دے گا لیکن دنیا اور اس کی دولت کمانے والوں کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اس دنیا میں ان کو اطمینان و سکون نصیب ہوجائے اور اگر وہ ناکام ہوگئے تو آخرت کی ناکامی تو ان کے ہر سکون کو چھین لے گی اور ایسے لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بننا پڑے گا۔ فرمایا کہ اہل جنت کے مختلف درجات ہوں گے لیکن ایک چیز سب کو نصیب ہوگی اور وہ ہے دل کا سکون اور اطمینان کی دولت۔ فرمایا کہ اے لوگو ! تم اپنے وقتی فائدوں کے لئے اپنی آخرت کی ابدی زندگی کو داؤ پر نہ لگاؤ۔ وہ اللہ ایک ہے اس کی وحدانیت کا اقرار اور عمل صالح انسان کو ابدی راحتوں سے ہمکنار کرنے والا ہے ۔ یہ دنیا کی دولت اور عیش و آرام محض ایک وقتی دھوکہ ثابت ہوں گے۔ اللہ کو ایک مان کر اسی کی عبادت و بندگی کرنے والے آخرت کا عیش و آرام ضرور حاصل کرلیں گے۔
Ayahs 17:23–25

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو اور ماں باپ سے حسن سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے (نرمی اور) ادب سے بات کہو۔

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور ان کے لئے عاجزی اور مہربانی کے ساتھ کاندھے جھکائے رہو۔ اور کہو میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے (شفقت و محبت سے) ہماری پرورش کی تھی۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم نیک بن کر رہو گے تو بیشک (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والوں کو وہ بخشنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25 قضیٰ فیصلہ کردیا، حکم دیا۔ ایاہ اسی کا۔ احسان نیکی، حسن سلوک۔ یبلغن وہ پہنچ جائیں۔ الکبر بڑھاپا۔ کلاھما وہ دونوں۔ لاتقل تم مت کہو۔ لاتنھر نہ ڈانٹو، نہ جھڑکو۔ اخفض جھکا دے۔ جناح بازو۔ الذل عاجزی، انکساری۔ ربینی مجھے پرورش کیا، پالا۔ صغیر چھوٹا پن، بچپن۔ نفوس دل ، جانیں۔ اوابین لوٹنے والے، رجوع کرنے الے۔ غفور بخشنے والا، معاف کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 25 اس سورت میں معراج النبی ﷺ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب الٰہی اور چند انتہائی ضروری بنیادی باتوں کے بعد آنے والے دورکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ساتھ آدمی کے والدین، اعزاء و اقرباء سے حسن سلوک اور معاشرہ کی بہتری کے وہ بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں جن پر عمل کرنے سے ایک معاشرہ بہترین انسانی معاشرہ کہلانے کا مستحق بن جاتا ہے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں حاصل کرنے کی سعادت مل جاتی ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کے ساتھ بہترین سلوک اور برتاؤ کا حکم دیا ہے جس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بعد بندوں کے حقوق کو ادا کرنا ضروری ہے۔ لیکن بندوں کے حقوق میں سب سے پہلا حق یہ ہے کہ والدین کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کیا جائے۔ خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان سے ادب اور نرمی کا ایسا معاملہ کرنا چاہئے کہ ان کو غیر محسوس تکلیف بھی نہ پہنچنے پائے۔ ان سے ہمیشہ اس طرح بات کی جائے جس سے ان کا دل خوش ہوجائے۔ ان کی بعض بڑھاپے کی کمزوریوں کی وجہ سے انہیں ڈانٹنے یا اف تک کہنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے ایسا خیر خواہانہ جذبہ موجود ہونا چاہئے کہ ان کے سامنے خدمت کے لئے کاندھے جھکانے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے یہ دعا بھی کرتا رہے کہ الٰہی جس طرح انہوں نے ہمیں اس وقت پرورش کیا تھا جب ہم کمزور تھے الٰہی اب ہمارے ماں باپ کمزور ہیں ان کی خدمت کر کے ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرما۔ فرمایا کہ اللہ کو یہ بات تو اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس جذبے سے والدین کی خدمت کرتا ہے لیکن اگر واقعی اللہ کی رضا و خوشنودی کے جذبے سے والدین کی خدمت کی جائے گی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نہ صرف دین و دنیا کی بھلائیاں عطا کرے گا بلکہ ان کی مغفرت اور رحمت کا سامان بھی عطا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس بات کو بھی واضح طریقے پر ارشاد فرما دیا کہ اگر کسی کے والدین کافر و مشرک ہیں تب بھی ان کے ادب و احترام اور خدمت میں کوئی کمی نہ کی جائے البتہ اگر وہ اپنی اولاد کو اللہ کی نافرمانی یا کسی گناہ کا حکم دیں تو اس سے انکار کردینا خلاف ادب نہیں ہے کیونکہ معصیت اور گناہ کے کسی کام میں کسی کی اطاعت و فرماں برداری کی اجازت نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی لاتعداد حدیثیں وہ ہیں جن میں نہ صرف والدین کی اطاعت و فرماں برداری اور ان سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے بلکہ یہاں تک فرمایا گیا کہ اگر والدین ظالم بھی ہوں تب بھی ان کی اطاعت کرنا فرض اور لازم ہے۔ یقینا وہی لوگ جنت کے مستحق ہیں جو اپنے والدین کی خدمت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ 1- وہ شخص بڑا خوش قسمت ہے جس کو والدین کا بڑھاپا ملا اور وہ خدمت کر کے جنت کا مستحق بن گیا۔ 2- فرمایا کہ والدین کی خدمت میں اللہ کی رضا و خوشنودی ہے اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔ 3- آپ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا سب گناہوں کی سزا تو اللہ تعالیٰ اگر چاہیں گے تو قیامت تک موخر کردیں گے۔ لیکن والدین کے حقوق میں کمی اور نافرمانی کرنے والے کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی سزا دیدی جائے گی۔ 4 - حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے ماں باپ کی اطاعت و فرماں برداری کرتا رہا تو اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جس نے نافرمانی کی اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر والدین میں سے کوئی ایک ہو تو اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ اور نافرمان کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ کسی صحابی رسول نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ جہنم کی وعید اس صورت میں بھی ہے جب کہ والدین نے اس پر ظلم کیا ہو آپ نے تین دفعہ فرمایا کہ اگر وہ دونوں ظلم بھی کرتے ہوں۔ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں والدین کا احترام، ان کی خدمت اور ان کے ساتھ زبان سے اور ہاتھ پیر سے بہتر معاملہ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین مشرک بھی ہوں تو جائز امور میں ان کی اطاعت کرنا لازم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کے بعد بندوں میں سے والدین کی اطاعت کو ہر حال میں لازمی قرار دیا ہے۔ اس موقع پر میں یہ بات ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کو جو احترام کا مقام عطا کیا ہے اس پر انہیں شکر ادا کرتے ہوئے اپنی اولاد کے بھی ہر جذبے کا خیال رکھنا چاہئے اور ایسے تمام راستوں کو بند کرنا بھی ضروری ہے جس سے ان میں نافرمانی کے جذبات پیدا ہونے کا امکان ہے ۔ موجودہ دور میں یہ تجربات سب کے سامنے ہیں کہ والدین یہ تو چاہتے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے ان کے ہر سپید و سیاہ کے فیصلے کو مانا جائے لیکن وہ اپنے اس فرض کو بھول جاتے ہیں کہ جوان اولاد کے اپنے بھی کچھ جذبات ہوتے ہیں اگر ان کو نظر انداز کیا گیا تو یقینا اس سے نافرمانی کے جذبات ابھریں گے اور اس کی اولاد جہنم کی مستحق بن جائے گی۔ دنیا میں کون ماں باپ یہ چاہیں گے کہ وہ خود تو جنت میں جائیں اور ان کی اولاد جہنم کا ایندھن بن جائے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ جس کو بڑائی عطا فرمائے اس کو بڑا بن کر ہی رہنا چاہئے اس سے ان کا وقار بلند ہوتا ہے اور بچے بھی مارے باندھے خدمت نہیں کرتے بلکہ وہ دل کی خوشی سے خدمت کرنے کو فخر سمجھتے ہیں۔
Ayahs 17:26–30

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو اور ہر طرح کی فضول خرچی سے بچو

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اگر تم اپنے رب کی اس رحمت کی وجہ سے جس کی تم توقع رکھتے ہو ان سے اعراض کرنا چاہتے ہو تو بات نرمی سے کہو۔

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ ہی اس کو پوری طرح کھلا چھوڑ دو کہ تم خود ہی ملامت زدہ اور تھکے ہارے بیٹھے رہ جاؤ۔

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق کو خوب کھول دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں تنگی پیدا کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30 ات دو ، ادا کرو۔ ذی القربی رشتے دار۔ لاتبذر فضول خرچی نہ کرو۔ اخوان بھائی۔ کفور ناشکرا، ناقدرا۔ تعرض نہ تو منہ پھیرے گا۔ ابتغاء تلاش کرنے کو۔ ترجوا تو امید رکھتا ہے۔ قول میسور نرم اور آسان بات۔ مغلولۃ بندھا ہوا۔ عنق گردن۔ لاتبسط نہ کھول۔ ملوم ملامت زدہ۔ محصور تھکا ہارا۔ یقدر اندازے سے دیتا ہے۔ تنگ کردیتا ہے۔ بصیر دیکھنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 30 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔ 1- اپنے ضرورت مند رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنا۔ 2- فضول خرچی سے بچنا کیونکہ فضول خرچی کرنے والا شخص اس شیطان کا بھائی ہے جو اللہ کا نافرمان اور ناشکرا ہے۔ 3- اگر سائل کو دینے کی استطاعت نہ ہو اور کسی کو یہ امید ہو کہ اگر اللہ نے رحمت فرمائی تو میں اپنے بھائی کی مدد کروں گا فرمایا کہ ایسے موقع پر ان سے نرمی سے بات کہہ دی جائے۔ 4- نہ تو اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن سے باندھے اور نہ اس طرح کھلا چھوڑ دے کہ خود ہی دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جائے فرمایا کہ راہ اعتدال سب سے بہتر راستہ ہے۔ 5- رزق کی تنگی اور رزق کی وسعت یہ سب کچھ اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے حالات کو اچھی طرح جانتا اور دیکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے غریب، مسکین اور ضرورت مند رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک پر بہت زور دیا ہے جس کو ” صلہ رحمی “ کہا جاتا ہے اور فرمایا ہے کہ صلہ رحمی کرنے والا اللہ کی ہزاروں نعمتوں کا حق دار بن جاتا ہے لہٰذا کوئی شخص مال دار ہو یا غریب دونوں کی یہ معاشرتی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی کفالت اور مدد کا خاص خیال رکھے اور اسی طرح ان لوگوں کا بھی پوری طرح خیال رکھا جائے جو کسی وجہ سے دوسروں کی مدد کے محتاج ہوگئے ہیں اور ان کا بھی خیال رکھے جو اپنے گھر بار اور بچوں سے دور مسافرت کی حالت میں وقت گذار رہے ہیں اور وہ آپ کی طرف سے کسی طرح کی بھی امداد اور اعانت کے محتاج ہیں۔ مثلاً ان کی مہمان داری کی جائے، اجنبی شہر میں اگر ان کو کسی معلومات کی ضرورت ہو تو ان کو معلومات بہم پہنچائی جائیں۔ اگر وہ کسی وجہ سے کسی مالی امداد کے محتاج ہوجائیں تو نہایت احسن طریقے سے ان کی مدد کی جائے۔ آیت کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم بھی دیا ہے اور ضرورت مندوں اور مسافروں کا خاص خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ دین اسلام ہمیں اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے ساتھ بھی پوری طرح امداد و اعانت کے دائرے کو وسیع رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ دین اسلام ہمیں صرف اپنوں کی نہیں بلکہ غیروں کی امداد کی طرف بھی متوجہ فرماتا ہے یہی درس انسانیت ہے۔ دوسرا اصول یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اعتدال کا راستہ سب سے بہتر راستہ ہے۔ بعض لوگ دوسروں کے ساتھ ہمدردیاں بےاعتدالی کے ساتھ کرتے ہیں کہ مستقبل سے بےنیاز اپنا سب کچھ لٹا کر خلای ہاتھ رہ جاتے ہیں اور اس قابل بھی نہیں رہتے کہ اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں۔ گھر والوں اور دوسروں کے سامنے شرمندگی کے علاوہ زندگی کی راہوں میں تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اللہ نے اس کو فضول خرچی سے تعبیر فرمایا ہے اور فضول خرچی کو اس قدرنا پسندیدہ قرار دیا ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو اس شیطان کے بھائی سے تشبیہ دی گئی ہے جو اللہ کا نافرمان اور ناشکرا ہے۔ فرمایا کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کی امداد و اعانت سے اپنے ہاتھ کو اس طرح کھینچ لیتے ہیں کہا گر ایک ضرورت مند اپنے حالات میں تڑپ رہا ہے اور تباہی کے کنارے تک پہنچ گیا ہے تب بھی اپنے ہاتھوں کو گردن سے باندھے رہتے ہیں اور ان کو کسی کی حالت پر رحم نہیں آتا فرمایا کہ جس طرح اللہ کے نزدیک فضول خرچ انسان ناپسندیدہ ہے اسی طرح وہ لوگ بھی اللہ کے نزدیک اچھے نہیں سمجھے جاتے جو دوسروں پر رحم و کرم نہیں کرتے اور اپنی ذات اور اپنی دولت مندی کے نشے میں مست اور مگن رہتے ہیں۔ ان آیات میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر حالات کی تنگی یا کسی الجھن کی وجہ سے سائل کے ماگننے کے وقت دنیے کے لئے کچھ نہیں ہے اور اللہ کی ذات سے یہ امید ہے کہ آئندہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہوگا۔ تو اس کی مدد کی جائے گی فرمایا کہ اسئل سے ایسے نرم لہجے اور انداز میں بات کہہ دی جائے کہ اس کو برا بھی نہ لگے اور اللہ کی کچھ نعمت ہاتھ لگنے کے بعد اس کی مدد بھی کردی جائے۔ ایسا انداز اور رویہ اختیار نہ کیا جائے جس سے کسی کا دل ٹوٹ جائے اور کوئی شخص گناہگار ہوجائے۔ چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے بیشک انسان کو وہی سب کچھ ملتا ہے جس کی وہ جدوجہد کرتا ہے لیکن رزق کی وسعت اور رزق کی تنگی یہ سب کچھ اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ جس کو چاہتا ہے ڈھیروں دولت اور کامیابیاں دیدیتا ہے اور نہ چاہے تو ساری محنتوں اور مشقتوں کے باوجود اس کو کچھ نہ دے اور اس کو تنگ حال کر دے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی ہر حالت کا نگہبان اور نگران ہے وہ جانتا ہے کہ کس کو کب کتنا دینا چاہئے لہٰذا ہر انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ ہی سے مدد مانگتا رہے اور یہ اچھی طرح سمجھ لے کہ رزق کے دروازوں کو ویہ کھولتا ہے اور وہی روزی کو تنگ کردیتا ہے۔ وہ اللہ ہر کام اور ہر چیز کی مصلحت کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayahs 17:31–35

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اپنی اولاد کو مفلسی (غربت، آسائش و آرا) کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ بیشک ان (بچوں کو) قتل کرنا گناہ عظیم ہے ۔

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ بیشک و بےحیائی اور برائی کا راستہ ہے

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو مظلوم مارا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو ایک اختیار (قصاص کا حق ) دیا ہے تو وہ قتل کے معاملہ میں حد سے نہ بڑھے ۔ بیشک اس کی مدد کی جائے گی

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر احسن طریقے سے جب تک وہ اپنی جوانی کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ اور عہد (معاہدہ) کو پورا کرو بیشک تمہیں اس کا (قیامت کے دن) جواب دینا ہے

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور تم ماپ توپ کرو تو پیمانہ پورا کرو اور سیدھی ترازو سے وزن کرو۔ اسی میں بہتری اور اسی کا اچھا انجام ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35 املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔ تشریح آیت نمبر 31 تا 35 سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔ 1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔ 2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔ 3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔ 4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔ 5- وعدہ خلافی کرنا۔ 6- ماپ تول میں کمی کرنا۔ فرمایا کہ یہ سب کے سب بدترین گناہ اور معاشرہ کی خرابیوں کے بنیادی اسباب ہیں۔ ان سے ہر حال میں بچنا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ ان میں سے ہر گناہ سے ہر حال میں بچا جائے۔ اس سے انسانی معاشرہ اور زندگی کو سدھارنے میں بڑی مدد ملے گی۔ چونکہ یہ سب باتیں نہایت اہم ہیں اس لئے ان میں سے ہر بات کی تفصیل اور وضاحت پیش خدمت ہے۔ 1- بچوں کو قتل کرنا عربت کے بعض قبیلے اور خاندان اپنی اولاد کو یہ کہہ کر مار ڈالتے یا زندہ دفن کردیا کرتے تھے کہ ہمارا گذارا ہی مشکل سے ہوتا ہے ۔ اگر اولاد زندہ رہی تو ہم ان کو کہاں سے کھلائیں گے ؟ اسی طرح بعض قبائل اپنی لڑکیوں کو پیدائش کے بعد یہ کہہ کر قتل کر دیتے یا زندہ زمین میں گاڑ دیا کرتے تھے کہ یہ لڑکیاں اگر زندہ رہیں تو جوان ہو کر شادیاں کریں گی اور گھر میں داماد آئے گا جس کے سامنے اپنی لڑکی کی وجہ سے جھکنا پڑے گا اور اس کی ہر زیادتی اور ظلم کو برداشت کرنا پڑے گا اس طرح اس کی توہین ہوگی جسے وہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے لہٰذا لڑکیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی غلط سوچ کی وجہ سے وہ قتل اولاد میں درندگی کی حد تک پہنچ چکے تھے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ اس کائنات میں جتنے بھی جان دار ہیں ان کے رزق کی ذمہ داری نہ تو افراد پر ہے نہ کسی حکومت پر بلکہ اللہ ہی سب کو رزق پہنچاتا ہے اور وہ کسی کو بھوکا نہیں سلاتا خواہ وہ انسان ہوں یا صحراؤں کے جانور، ہوا میں اڑنے والے پرندے ہوں یا جنگلوں کے درندے، سمندر کی مچھلیاں ہوں یا چیونٹی جیسے ننھے جانور۔ وہ ہر ایک کا رازق ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں قدم رکھنے والوں کا وہ خود ذمہ دار ہے تو اس کی صریح بھول اور غلطی ہے۔ فرمایا کہ ہم ان آنے والوں کے رزق کا پہلے سے انتظام کردیتے ہیں۔ کوئی انسان اس دنیا میں قدم نہیں رکھتا جس کا پہلے سے اس کی ماں کے سینے میں رزق پیدا نہیں کردیا جاتا۔ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ جب سے انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوا ہے کہ رزق اور اس کے تمام وسائل پیدا کرنا اس کا اپنا کام ہے اس وقت سے انسان رزق اور اس کی برکتوں سے ہی محروم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ذرائع پیداوار کے لئے محنت، مناسب تدابیر اور منصوبہ بندی کرنا کوئی گناہ ہے بلکہ قرآن کی روشنی میں ایسا کرنا لازمی اور ضروری ہے اس کی شریعت میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن اللہ کی شان رزاقیت کو نظر انداز کر کے یہ سمجھنا کہ انسانوں کے رازق ہم ہیں یہ تصور غلط ہے۔ قرآن کریم اس غلط تصور اور سوچ کی تردید کرتا ہے کہ کچھ لوگ محنت، ذرائع و وسائل اختیار کرنے کے بجائے ایک خاص منصوبہ بندی کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنے بچوں کو اس لئے ہم دنیا میں آنے سے روکتے ہیں کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے نہیں ہے تو ہم نئے پیدا ہونے والوں کو کہاں سے کھلائیں گے ؟ ان سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگ اپنی آسائشوں، سہولتوں اور غربت و افلاس کا نام لے کر جو بچوں کو قتل کردیتے ہیں ان کو اس حرکت سے باز آجانا چاہئے۔ چناچہ موجودہ دور میں خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی تعداد اس قدر بھیانک انداز میں بڑھ رہی ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو تمام ذرائع ختم ہوجائیں گے اور پھر انسان انسان کو کھائے گا لہٰذا بچوں کو یا تو پیدا نہ کیا جائے۔ اگر وجود اختیار کرلیں تو ان کو ضائع کرا دیا جائے۔ میرے نزدیک کفار مکہ اور موجودہ دور کے لوگوں کی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بس فرق ہے تو اتنا کہ پہلے جہالت کے نام پر یہ سب کچھ کیا جاتا تھا اور موجودہ دور میں فیشن اور ترقی کے نام پر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسی زمین میں اتنے وسائل پیداوار رکھ دیئے ہیں کہ وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے کافی ہیں کیونکہ اس رازق نے اس زمین پر انسانوں کے قدم آنے سے پہلے ہی تمام وسائل جمع کردیئے ہیں۔ وسائل کی جیشی ضرورت ہوتی ہے وہ زمین سے نکلتے آتے ہیں مثلاً آج سے ایک سو سال پہلے تیل اور گیس کا کوئی تصور موجود نہ تھا حالانکہ تیل اور گیس کروڑوں سال سے زمین کے اندر موجود تھا اور رہے گا۔ جب ضرورت ہوئی تو یہ وسائل خود بخود نکل آئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر دو چار سو سال میں تیل اور گیس کے ذخائر ختم ہوگئے تو یقینا اس کی جگہ قدرت نے دوسری کسی طاقتور تیار کر رکھا ہے جب انسانی ضرورت ہوگی و ذرائع خود بخود زمین کی سطح پر آجائیں گے۔ اس لئے انسانوں کو اس دنیا میں آنے سے روکنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صبر و قناعت ، عدل و انصاف اور محنت کے ذرائع بڑھانے کی ضرورت ہے اس ہوس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جس نے نوع انسان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیئے ہیں اس عالمی عدل و انصاف کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ ہر شخص امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گذار سکے۔ لیکن اس ہوس پرست دنیا میں یہ سب کچھ کب اور کس طرح ہوگا۔ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود دین اسلام کے سچے اصولوں اور نبی کریم ﷺ کی کامل اتباع و محبت میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کو امن و سکون اور آخرت کی کامیابی صرف اتباع محمدی ﷺ کے ذریعہ مل سکتی ہے۔ 2- زنا اور بد کاری زنا اور بدکاری اتنا بڑا جرم ہے اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی چیز ہے جس کے متعلق مومنوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم اس ” فعل بد “ کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ یہ بےحیائی اور بدترین راستوں کو کھولنے کا ذریعہ ہے جس سے قومیں برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس آیت کا دلچسپ انداز یہ ہے کہ زنا اور بد کاری کے ہر اس انداز کو چھوڑنے کا حکم ہے جس سے کوئی شخص اس گناہ عظیم کے قریب بھی پہنچ سکتا ہو، مثلاً چند باتیں ایسی ہیں جن کے اختیار کرنے سے آدمی زنا اور بد کاری سے بچ ہی نہیں سکتا ان میں تمام باتوں سے بڑھ کر رزق حرام، سود خوری، جوئے بازی، بےپردگی، بےحیائی اور بےشرمی کے وہ مناظر ہیں جن سے انسان زنا اور بد کاری کے قریب پہنچ سکتا ہے ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے زنا کرنے والا زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا، چوری کرنے والا چوری کے وقت مومن نہیں ہوتا، شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن نہیں ہوتا (بخاری و مسلم) مراد یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص صاحب ایمان بھی ہو اور وہ زنا، چوری اور شراب نوشی میں بھی مبتلا ہو یہ سب چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ اسی لئے ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس وقت ایک مومن زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان اس کے اندر سے نکل جاتا ہے اور جب وہ اس فعل بد سے فارغ ہوجاتا ہے تو ایمان دوبارہ اس کے جسم میں واپس آجاتا ہے (ابو داؤد) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ساتوں آسمان اور زمین اس شخص پر لعنت بھیجتے ہیں جو بیوی رکھنے کے باوجود زنا اور بدکاری کرتا ہے۔ جہنم میں ایسے بدکاروں کی شرم گاہوں سے اس قدر شدید بدبو پھیلے گی کہ جہنم والے بھی اس سے سخت پریشان ہوجائیں گے۔ (رواہ البزاز) خلاصہ یہ ہے کہ زنا اور بدکاری ہی سے نہیں بلکہ ان تمام باتوں کے قریب جانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے جن سے ایک صاحب ایمان شخص بد کاری میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ زنا وہ بدترین فعل ہے جو آخر کار کسی بھی معاشرہ کو روحانی اور جسمانی اعتبار سے تباہی کے کنارے پہنچا دیتا ہے جو اللہ کے عذاب آنے کا سبب بن جاتا ہے۔ باہمی اعتماد اور رشتوں کا احترام اٹھ جاتا ہے اور یہ بےاعتمادی باہمی اختلافات اور جھگڑوں کی بنیاد بن جاتی ہے اسی لئے فرمایا کہ تم اس کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ زنا صرف بےحیائی اور بےغیرتی ہی نہیں ہے بلکہ بہت سے برے راستوں کو کھولنے کا سبب اور بنیاد بھی ہے۔ 3- انسانی جان کا احترام شرعی حق کے بغیر کسی انسان کی جان لینا یا اس کو قتل کرنا حرام ہے۔ اگر کسی کو ناحق قتل کردیا جائے تو شریعت نے مقتول کے وارثوں کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے ” قصاص “ لے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل و سمجھ رکھنے والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” اے عقل والو ! قصاص ہی میں (تمہارے معاشرہ کی) زندگی ہے۔ اگر قاتلوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے گا تو وہ معاشرہ جنگل کا معاشرہ بن جائے گا اور احترام انسانیت اٹھ جائے گا۔ دنیا کے قوانین سے الگ اللہ نے قصاص (برابری) کا طریقہ یہ رکھا ہے کہ مقتول کے وارث (1) یا تو جان کے بدلے جان کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ (2) یا خون بہا (جو آپس میں طے پا جائے ) لے کر قاتل کو چھوڑ سکتے ہیں (3) یا چاہیں تو قاتل کو معاف کرسکتے ہیں۔ یہ ایک شرعی حق ہے جس میں کسی عدلات یا حکومت کو مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ صرف مقتول کے وارثوں کو قصاص لینے یا معاف کردینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ کسی بھی عدلات یا حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انصاف دلانے میں مقتول کے وارثوں کی مدد کرے تاکہ ایسا نہ ہو کہ مقتول کے وارث جوش انتقام میں کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھیں جس سے وہ خود ہی ظالموں کی صف میں جا کھڑے ہوں مثلاً قاتل کے ساتھ یا اس کے متعلقین کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کر بیٹھیں یا قاتل کے ناک کان اور دیگر اعضاء کو کاٹ ڈالیں۔ شریعت نے اس کی کسی حالت میں اجازت نہیں دی ہے کیونکہ اگر اس طرح انتقام کا سلسلہ شروع ہوگیا تو وہ کسی حد پر جا کر ختم نہ ہوگا۔ اور وہ معاشرہ تہذیب و قانون کی دھجیاں بکھیرنے والا بن جائے گا۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت پورا عرب اسی جہالت و درندگی میں مبتلا تھا اور ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کے قاتلوں سے جوش انتقام میں بےچین و بےقرار رہا کرتا تھا اور اپنے انتقام کیا آگ بجھانے میں لگا ہوا تھا اور یہ سلسلہ برسوں اور صدیوں تک پھیل چکا تھا۔ اس معاشرہ میں کسی کی جان محفوظ نہ تھی قتل و غارت گری اور جنگ وجدال کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔ قرآن کریم نے بالکل واضح الفاظ میں اعلان کردیا کہ ہر شخص قانون کے مطابق مقتول کا قصاص لے سکتا ہے مگر خود نہیں بلکہ کسی عدالت کے ذریعہ قاتل اور ظالم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ انسانی جان کا احترام اور انصاف دلانے میں مدد کرنا ہر عدالت، حکومت اور معاشرہ کے افراد کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر اس بات کی وضاحت مناسب ہوگی کہ دین اسلام صرف انسانی جان ہی کا احترام نہیں سکھاتا بلکہ بلا وجہ کسی بھی جان دار کی جان لینے یا اس پر زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ اگر کسی جان دار جانور سے جان جانے کا خطرہ اور اندیشہ ہو تب تو اس کی جان لی جاسکتی ہے لیکن بلا وجہ کسی جانور کی جان لینے یا ستانے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ شریعت نے بعض حلال جانوروں کو ذبح کرنے کی اس شرط کے ساتھ اجازت دی ہے کہ ان حلال جانوروں کو ذبح کرتے وقت ” اللہ کا نام لیا جائے “ اللہ کے نام کی بڑائی بیان کی جائے جو اس بات کی علامت اور ثبوت ہوگا۔ کہ ہم جس جانور کی جان لے رہے ہیں اس کی اجازت ہمیں اللہ نے عطا کی ہے۔ اگر اللہ کی اجازت نہ ہوتی تو ہم اس جانور کی جان لینے کے بھی حق دار نہ تھے چونکہ اللہ نے اجازت دی ہے تو ہم اس جانور کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر غور کیجیے کہ جس دین نے جانوروں کی جان لینے یا ان کو بلا وجہ ستانے کی بھی اجازت نہ دی ہو وہ شریعت بلا وجہ کسی انسان کو جان لینے کی کیسے اجازت دے سکتی ہے یا اس دین و شریعت کے ماننے والے بلا وجہ ناحق کسی انسان کی جان کیسے لے سکتے ہیں۔ 4- یتیم بچوں کے حقوق کی حفاظت ٭… بعثت نبوی ﷺ کے وقب عرب میں جنگ وجدال اور قتل و غارت گری کی وجہ سے جہاں بدامنی اور جہالت عام تھی وہیں ان جہالتوں کی وجہ سے ہر خاندان میں ایسے یتیم بچوں کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ رہی تھی جو باپ کے سایہ محبت سے محروم اور معاشرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے تھے۔ یہ حال تھا کہ ٭… بچے اور بچیوں کو ماں باپ کی میرثا سے محروم رکھتے تھے۔ یتیم بچوں کو دھکے دے کر نکالنا اور ان کو ذلیل و رسوا کرنا ایک عام بات تھی۔ ٭… بچیوں کی جائیداد اور مال و دولت پر قبضہ کرنے کے لئے نگراں خود ہی ان سے نکاح کرلیتے تھے تاکہ گھر کی جائیداد باہر نہ جائے۔ ٭… خاندان کے لوگوں میں سے جو شخص یتیم بچوں کے مال کا نگران ہوتا تھا وہ یتیم کے مال و دولت کو فضول خرچیوں میں اس طرح اڑانے کی کوشش کرتا تھا کہ بچے جوان ہو کر ان سے مال و جائیداد کا حساب کتاب نہ پوچھ لیں۔ ٭… وہ یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کا قطعاً خیال نہ کرتے تھے۔ ٭… اپنی اولاد کے مقابلے میں یتیم بچوں کے ساتھ طرز عمل میں سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ غرضیکہ بدسلوکی، بد دیانتی، بد اخلاقی، ذلیل و رسوا کرنے اور اچھے مال کو خراب مال میں تبدیل کرنے میں وہ یتیم بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے تھے۔ دنیا میں دین اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے بےباپ کے بچوں کے لئے ایسے اصول ارشاد فرمائے جس سے کسی یتیم پر ظلم و زیادتی نہ کی جاسکے۔ قرآن کریم کی سورة بقرہ، سورة النساء ، سورة انفال اور سورة حشر میں بار بار یتیموں کی پرورش ، دیکھ بھال، بہترین سلوک اور نیکی و احسان کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے اور عموماً قرآن کریم کے لاتعداد مقامات پر یتیموں کی دل داری اور ان کے ساتھ انصاف اور محبت کا معاملہ کرنے کا نہ صرف حکم دیا گیا ہے بلکہ یتیموں کے ساتھ نیکی کو معاشرہ کے تمام افراد کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ضرورت ہو تو صدقات و خیرات سے ان کی مدد کی جائے اور اگر ان بچوں کے ماں باپ نہ ہوں تو ان کے مال اور جائیداد کی پوری دیانت و امانت کے ساتھ حفاظت کی جائے نیز ان بچوں کو کسی طرح باپ کی چھوڑی ہوئی میراث سے محروم نہ کیا جائے۔ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات نے ان لوگوں کی دنیا بدل کر رکھ دی تھی جو یتیموں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتے تھے جن کے پتھروں کبھی یتیموں کے لئے نرم گوشہ نہ رکھتے تھے وہ یتیموں پر بےانتہا مہربان ہوگئے۔ ہر یتیم کی پرورش، نگہبانی اور نرمی و محبت کیلئے کئی کئی ہاتھ بڑھنے لگے اور ہر ایک دل کی یہ خواہش بن گئی کہ وہ کسی نہ کسی یتیم بچے کی پر وشر کرسکے۔ ٭… اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یتیموں کو ان کے وارثوں کا چھوڑا ہوا مال دے دو ۔ ان کے اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو اور نہ اپنے مال کے ساتھ ملا کر ان (یتیموں کا) مال کھا جاؤ یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔ (سورۃ النسائ) ٭… فرمایا گیا کہ جو لوگ یتیموں کا مال ہضم کر جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں فرمایا کہ وہ لوگ یتیموں کے جوان ہوجانے کے خوف سے ان کے باپ کی چھوڑی ہوئی وراثت کو جلد از جلد کھا کر ہضم کرنے کے چکر میں لگے رہتے تھے اور ان کو بےعزت کرتے تھے۔ (سورۃ البلد) ٭… فرمایا کہ وہ مال جس کو اللہ نے تمہارے کھڑا رہنے کا ذریعہ بنایا ہے اس مال کو نادانوں کے سپرد نہ کرو۔ ان (یتیم) بچوں کو کھلاؤ پہناؤ اور ان سے قاعدے طریقے کی بات کرو اور ان کو آزماتے رہو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور پھر تم ان میں سمجھ اور شعور کو محسوس کرلو تو ان کا مال ان کے سپرد کر دو ۔ غرضیکہ یتیم کے مال کی حفاظت اور ان کے اخلاق کی نگرانی کو ہر مسلمان کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں نبی کریم ﷺ نے بھی یتیموں کی خبر گیری کے احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کسی یتیم بچے کو اپنے گھر بلا کر اس کو کھلائے پلائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت عطا فرمائے گا بشرطیکہ اس نے کوئی ایسا گناہ نہ کیا ہو جو ناقابل معافی ہو۔ (ترغیب و ترھیب) فرمایا کہ مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم بچے کیس اتھ محبت و مہربانی کا معاملہ کیا جا رہا ہو اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہو (ابن ماجہ) قرآن کریم اور ارشاد نبوی کی وجہ سے صحابہ کرام نے بھی یتیموں کے معاملے میں بہت احتیاط کی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا۔ چناچہ حضرت عبداللہ ابن عمر کا یہ حال تھا کہ وہ اس وقت تک کھانا پسند نہ فرماتے تھے جب تک ان کے دستر خوان پر کوئی یتیم موجود نہ ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ بےباپ کے بچے پورے معاشرے اور خاندان کے ہر فرد کی ذمہ داری ہیں کہ ان کی اور ان کے مال و جائیداد کی حفاظت کریں تاکہ وہ بڑے ہو کر اسلامی معاشرے کے مفید اور بہترین فرد بن سکیں اور الحمد اللہ اہل ایمان نے اس تقاضے کو ہر دور میں احسن طریقے پر پورا کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا ہے۔ 5- وعدہ پور کرنا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو گم راہ اور فاسق قرار دیا ہے جو عہد و پیمان کرنے کے بعد ان کو توڑ دیتے ہیں۔ فرمایا کہ قرآن کریم پڑھنے کے باوجود وہ لوگ گم راہ ہوجاتے ہیں جو فاسق ( گناہ گار نافرمان) ہیں۔ وہ لوگ جو عہد کو پختہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں (بقرہ) اسی طرح نبی کریم ﷺ نے وعدے کی پابندی کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ عہد و پیمان بندوں نے بندوں سے کیا ہو یا بندوں نے اللہ سے کیا ہو۔ اپنے عہد اور وعدوں کو پورا کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت گواہ ہے کہ آپ نے جنگ و امن اور عام زندگی میں ایفائے عہد کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ منافق کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ وہ جب بھی وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا نہیں کرتا۔ قرآن کریم کی سورة المومنون میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد ہونے والوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب وہ کسی سے وعدہ کرتے ہیں تو اس کو ہر حال میں پورا کرتے ہیں۔ کوئی حال بھی ہو وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہر اس معاہدہ کو جو شریعت کے احکامات کے مطابق ہو اس کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔ اصل میں وہ انسان ہمیشہ عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو اپنی زبان کا پابند ہو۔ تجارتی لین دین کا وقت ہو یا گھریلو خاندانی معاملات ہوں ان میں سے اسی شخص کو پسند کیا جاتا ہے جو زبان کا پکا ہو اور اس پر وہ عمل کرتا ہو خواہ اس کی وجہ سے اس کو کتنا بڑا نقصان ہی کیوں نہ اٹھاناپ ڑے۔ لیکن وہ شخص جو زبان کا پکا اور پابند نہ ہو اس کا اعتماد اور بھروسہ زندگی کے کسی معاملے میں بھی نہیں کیا جاتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اے مومنو ! تم اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو کیونکہ کل قیامت کے دن اس کے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن نہایت ذمہ دار شخص ہوتا ہے۔ وہ جس بات کا عہد کرتا ہے اس کو پورا کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتا۔ 6- ماپ تول میں کمی جس معاشرہ میں تجارتی دیانت و امانت کا چلن ہوتا ہے وہ ایک کامیاب، بہترین، پر اعتماد اور خوش حال معاشرہ کہلاتا ہے۔ اس کا ہر طرف ایک بھرم اور وقار ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جس معاشرہ میں بد دیانتی، بد نیتی، دھوکہ، فریب عام ہوجائے جس میں لینے کے پیمانے اور دینے کے پیمانے الگ الگ ہوجائیں وہ معاشرہ نہ صرف بد نام ہوجاتا ہے بلکہ وہ اپنے ہی کرتوتوں میں ڈوب جاتا ہے اور اس کا نقصان ہر شخص کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ماپ تول میں کمی کرن کو تجارتی بد دیانتی کہا جاتا ہے اس بددیانتی اور بد معاملگی کی شریعت نے سخت ممانتع فرمائی ہے۔ فرمایا گیا کہ لوگو ! تم ہمیشہ سیدھی ترازو سے تولا کرو اس میں کمی نہ کرو، ڈنڈی نہ مارو (ورنہ تمہاری زندگی کی برکتیں اٹھ جائیں گی) جو لوگ دیانت و امانت کو رواج دیں گے بہترین انجام ان ہی لوگوں کا مقدر ہوگا۔ لیکن اگر بد دیانتی عام ہوگئی تو نہ صرف دنیا کین ظروں میں بےوقعت اور بےوزن ہوجائیں گے بلکہ اس معاشرہ کا انجام بھی بڑا بھیانک ہوگا ۔ ماپ تول میں کمی نہ کرنے والی قوموں کو باعزت مقام عطا کیا جاتا ہے اور ماپ تول میں بد دیانتی معاشرہ کو لے ڈوبتی ہے۔ ماپ تول میں کمی کتنا بڑا جرم ہے اس کا اندازہ حضرت شعیب کے واقعات زندگی سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ قوم جو تجارتی اور معاشرتی اعتبار سے نہایت مضبوط اور خوش حال تھی ہر طرف سے مال و دولت کی ریل پیل تھی، خوبصورت و حسین شہر، سرسبز و شاداب باغات ، لہلہاتی کھیتیاں اور وہ بلند وبالا عمارتوں کے مالک تھے لیکن ان میں دنیا کے حرص، لالچ اور دولت پیدا کرنے کی تمنا اور لوٹ کھسوٹ اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ وہ جائز و ناجائز کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ ایک اللہ کو بھول کر انہوں نے اپنی تمناؤں کے سینکڑوں بت بنا رکھے تھے تجارتی بد دیاتنی، لالچ، حرص اور کفر و شرک کی جب انتہاء ہوگئی تو اللہ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب کو بھیاج۔ حضرت شعیب نے اس قوم کو ہر طرح سمجھایا ہر اونچ نیچ سے آگاہ کیا مگر وہ قوم اپنی بدمستیوں، دنیا کے لالچ اور کفر و شرک میں اس طرح مگن تھی کہ انہوں نے حضرت شعیب کی ایک بات بھی تسلیم نہ کی بالآخر وہ قوم اپنے انجام سے دوچار ہوئی اور پانی کے وہ بند جوان کی زندگی کا سامان تھے ان کو اللہ نے اس طرح توڑ کر رکھ دیا کہ اسی پانی کے سیلاب میں ان کی دولت ، گھر بار، تہیذب و ترقیاں سب ڈوب گئیں اور اس قوم کا نام و نشان مٹ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے جہاں تجارتی بد دیانتیوں کی سخت مذمت فرمائی ہے وہیں آپ نے ان تاجروں کی عظمت بھی بیان فرمائی ہے جو نہایت سچے، دیانت دار اور امانت دار ہو کر تجارت کرتے ہیں۔ فرمایا کہ سچے اور دیانت و امانت کے پیکر ایک تاجر کا یہ مقام ہے کہ وہ قیامت کے دن جب اٹھے گا تو انبیاء کرام، صدقین، صلحا اور نیک انسانوں کی صف میں کھڑا ہوگا۔ ( اور جنت کا ہر دروازہ اس کو اپنی طرف آنے کی دعوت دے گا) اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو بھی ہر طرح کی بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ، ظلم و زیادتی حرص، لالچ اور کفر و شرک سے محفوظ فرمائے۔ (آمین) ۔