14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 14:35–41

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا میرے رب اس شہر کو (مکہ مکرمہ کو) امن کی جگہ بنا دیجیے۔ مجھے اور میری اولاد کو اس سے دور رکھئے گا کہ ہم بتوں کی عبادت و بندگی کریں۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

میرے رب انہوں نے بہت سوں کو راستے سے بھٹکا دیا ہے ۔ جس نے میری پیروی کی تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے اور جس نے نافرمانی کی تو بیشک آپ مغفرت کرنے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

میرے رب میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے میدان میں آباد کیا ہے جہا کچھ اگتا نہیں۔ تیرے احترام والے گھر کے پاس (آباد کردیا ہے) مہارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردیجیے اور ان کو ہر طرح کے ثمرات عطا کیجیے تاکہ وہ شکر ادا کرسکیں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

ہمارے رب آپ اچھی طرح جانتے ہیں جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن زمین اور آسمانوں کی کوئی بات آپ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے اسماعیل و اسحاق عطا فرمائے بیشک میرا رب دعا کا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

میرے رب مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دیجیے۔ ہمارے رب ہماری دعا کو قبول فرمائیے۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

ہمارے رب مجھے اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو اس دن بخش دیجیے گا جب حساب قائم ہوگا۔

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41 اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم ہوگا۔ ۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 41 تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب انسان عمل اور کردار سے محروم ہو کر کاہلی اور سستی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ عمل کرنے کے بجائے اپنے بزرگوں اور ان کے کارناموں پر صرف فخر کرتا ہے لیکن جب بھی عمل کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس نشے میں ڈبو لیتا ہے کہ میں تو بڑوں کی اولاد ہوں میں نے اگر کوئی حسن عمل نہیں کیا تو کیا ہوا ہم تو فلاں بڑوں کی اولاد ہیں وہ ہمیں ہر طرح کی مصیبتوں اور عذاب سے بچا لیں گے۔ ٹھیک یہی حال اس وقت مکہ والوں کا تھا جب نبی کریم ﷺ نے عرب کے کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔ ان کو اس بات پر بڑا ناز تھا کہ ہم حضرت ابراہیم اور پیغمبروں کی اولاد ہیں ہمیں جو شرف و عزت اور احترام حاصل ہے وہی سب کچھ ہے۔ اب اگر ہم بت پرستی کرتے ہیں، غلط رسموں کو رواج دیتے ہیں لڑکیوں کو صرف اسی خوف سے زندہ دفن کردیتے ہیں کہ کل وہ جوان ہونگی اور گھر میں داماد آئے گا۔ فرمایا کہ آج تمہیں حضرت ابراہیم کی اولاد ہونے پر فخر اور غرور ہے لیکن تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ ابراہیم نے جب طوفان نوح میں ڈھے جانے والے بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر فرمائی تھی اس وقت انہوں نے کیا دعا کی تھی ؟ فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی تھی الٰہی اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امان و عافیت کی جگہ بنا دیجیے ہمیں اور ہماری اولاد کو بتوں کی عبادت و بندگی سے دور رکھئے گا اور اس عذاب سے بچا لیجیے گا۔ الہی انہوں نے ہزاروں کو گمراہ اور بےدین کردیا ہے۔ ان میں سے جس نے بھی میری اطاعت کرتے ہوئے میرا کہا مانا وہ میرا ہے، اے اللہ ان پر رحم فرمائیے گا لیکن جو میرے طریقے پر نہیں ہے اور میری اتباع و پیروی نہیں کرتا ہے تو ان کے معاملے کو آپ بہتر سمجھتے ہیں آپ بہت مغفرت کرنے والے مہربان ہیں۔ الٰہی میں نے اپنی اولاد کو آپ کے محترم گھر کے پاس ایک ایسی وادی کے پاس جہاں زراعت بھی نہیں ہوتی آباد کردیا ہے تاکہ وہ نمازوں کے نظام کو قائم کریں آپ کی عبادت و بندگی کریں اے اللہ لوگوں کے دلوں کو اس گھر کی طرف مائل اور متوجہ فرما دیجیے اور یہاں کے رہنے والوں کو ہر طرح کے ثمرات عطا فرما دیجیے تاکہ وہ آپ کا تیرا شکر ادا کرسکیں۔ حضرت ابراہیم نے یہ بھی عرض کیا کہ الٰہی زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اور اس کی کیفیت آپ سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں ہے آپ جانتے ہیں جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں۔ الٰہی ہم پر اپنا رحم و کرم نازل فرما دیجیے ارشاد ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم کو جو بھی نعمت عطا فرمائی اس پر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور عرض الٰہی آپ نے بڑھاپے میں ہماری دعاؤں کو سن کر حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق جیسی اولاد عطا فرمائی۔ بیشک تمام دعاؤں کے سننے والے آپ ہی ہیں۔ الٰہی مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے۔ ہماری دعاؤں کو قبول فرما لے اور اگر ہمارے کسی عمل میں کوئی کوتاہی یا کمی ہوجائے تو الٰہی اس کو قیامت کے دن اپنی رحمت سے معاف کردیجیے گا۔ مکہ والوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم جیسے عظیم مرتبے والے نبی جن کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے ان کا بھروسہ صرف اللہ پر تھا اسی سے وہ مانگتے تھے وہی ان کو سب کچھ دیتا تھا لیکن ان کے نام اور اولاد ہونے پر ناز کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ سے مانگنے کے بجائے بتوں سے اپنی مرادوں کو مانگتے ہیں ان کو اس کا بھی پاس نہیں کہ ان کی نسبت کتنی اونچی ہے۔ لیکن یہ نسبت محض فخر کرنے سے نہیں بلکہ عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
Ayahs 14:42–47

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور تم یہ گمان بھی نہ کرنا کہ وہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے بیخبر ہے۔ بلکہ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن ان کی آنکھیں پتھرا کر رہ جائیں گی

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

وہ اس دن سر (اوپر کو) اٹھائے دوڑتے ہوں گے۔ ان کی آنکھیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور ان کے دل خوف سے اڑے اڑے سے ہوں گے۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کو اس دن سے ڈرائیے جب ان ظالموں پر عذاب آئے گا تو وہ کہہ اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی مدت کے لئے اور مہلت دیدیجیے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کریں اور رسولوں کی پیروی کریں۔ (فرمایا جائے گا) کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تمہارے لئے کسی طرح کا کوئی زوال نہیں ہے۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

حالانکہ تم ان کے گھروں میں آباد ہوئے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تمہارے اوپر یہ بات کھل چکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا۔ ہم نے تمہارے لئے مثالیں بیان کردی ہیں۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

انہوں نے اپنی چالیں چلیں۔ ان کے داؤ گھات اللہ کے سامنے ہیں اگر چہ ان کی باتیں تو ایسی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتے۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

پھر وہ اس گمان میں نہ رہیں کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا ہے وہ اس کے خلاف کرے گا۔ بیشک اللہ زبردست انتقام لینے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47 لاتحسبن تم ہرگز گمان نہ کرنا۔ غافل بیخبر ۔ یعمل عمل کرتا ہے۔ یوخر وہ مہلت دیتا ہے۔ تشخص کھلی رہے گی، پتھرا جائے گی۔ الابصار آنکھیں۔ مھطعین دوڑتے ہوئے۔ مقنعی اوپر اٹھائے ہوئے۔ رء وس (راس) ۔ سر لایرتد نہ پلٹے گی۔ طرف آنکھیں۔ ھواء اڑا اڑا ہونا۔ انذر ڈرا۔ اخرنا ہمیں مہلت دے دے۔ نجب ہم جواب دیں گے۔ نتبع ہم پیروی کریں گے۔ پیچھے چلیں گے اقسمتم تم نے قسم کھائی۔ زوال زوال، اترنا۔ سکنتم تم آباد ہوئے۔ مسکن گھر۔ تبین واضح ہے۔ کھل گیا۔ کیف فعلنا ہم نے کیا کیا۔ ضربنا ہم نے بیان کردیا۔ مکروا انہوں نے چال چلی۔ لتزول تاکہ ٹل جائے۔ ہل جئاے الجبال (جبل) ۔ پہاڑ مختلف خلاف کرنے والا۔ عزیز زبردست۔ ذوانتقام انتقام لینے والا۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 47 گزشتہ آیات سے تسلسل کے ساتھ اس بات کو دھرایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فضائیں ہوائیں، درخت ، پہاڑ، دریا، کھانے پینے کی بیشمار ہزاروں نعمتیں اللہ نے بغیر کسی معاوضے کے عطا کر رکھی ہیں۔ فرمایا کہ اہل مکہ پر تو اور بھی بہت سی نعمتیں کی گیء ہیں۔ اگر قدر کی جائے اور صحیح راستے پر چلا اجئے اور بےجا فخر و غرور نہ ہو تو حضرت ابراہیم کی اولاد ہونا یہ بھی ایک نعمت ہی ہے مگر بےعملی نے ان کی اس نسبت کو کس قدر داغ دار کر رکھا ہے اس کا ان کو خود بھی اندازہ ہے۔ پھر اللہ کی سب سے بڑی نعمت اور کرم تو یہ ہے کہ ان میں ایک ایسے نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھیجے گئے ہیں جو سارے انبیاء اور رسولوں کے سردار اور خاتم النبین ہیں جو اللہ کے محبوب ترین پیغمبر ہیں پھر ان کے ساتھ اس کتاب مبین کو بھیجا گیا ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کے لئے نور ہدایت ہے اگر مکہ کے کفار و مشرکین نے اپنے کفر و شرک سے توبہ کر کے نبی مکرم ﷺ کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار کرلی تو قیامت تک ان کا نام روشن ہوجائے گا وہ خود کفر و شرک کے اندھیروں سے نکل کر چمکتے ستاروں کی مانند ہوجائیں گے جن کے ذریعہ ساری دنیا سے کفر و شرک کا اندھیرا دور ہوجائے گا لیکن اگر انہوں نے اطاعت رسول ﷺ سے انکار کیا تو پھر اللہ کا وہ فیصلہ آسکتا ہے جو ہر نافرمان قوم پر اس طرح آیا ہے کہ پھر ان کا وجود بےمعنی ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو کڑی سے کڑی سزا دے سکتا ہے لیکن یہ اللہ کا حلم اور برداشت ہے جس نے ان سے اللہ کا عذاب روکا ہوا ہے۔ اگر ان پر فوری طور پر عذاب نازل نہیں کیا گیا تو وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں ۔ وہ اللہ بڑی سے بڑی ظالم اور بےانصاف قوم کو سنبھلنے کا موقع اور مہلت دیتا ہے اگر وہ سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جائیں ورنہ پھر وہ فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگے گے جس کو اللہ نے ایسے مجرموں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ قیامت کے ہولناک منظر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ غافل اور بیخبر لوگ اس گمان میں نہیں رہیں کہ ان کے برے اعمال کو دیکھنے والا کوئی نہیں بلکہ اللہ ان ظالموں کے ایک ایک عمل کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ وہ ان کے اعمال کی سزا ان کو اسی وقت بھی دے سکتا ہے لیکن اس نے ان سے عذاب کو ایک ایسے دن (قیامت کے دن) تک روک رکھا ہے جب ان کی آنکھیں خوف اور دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی، عذاب الٰہی کو دیکھ کر ان کی عقلیں گم ہو کر رہ جائیں گی، ان کے دل اڑے اڑے سے ہوں گے اس تکلیف بھرے دن سے ان ظالموں کا برا حشر ہوگا ۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کو اس دن کے عذاب سے ڈرائیے جب یہ ظالم عذاب الٰہی کو دیکھ کر کہہ اٹھیں گے کہ اے اللہ ہمیں آج سب کچھ معلوم ہوگیا۔ ہمیں اپنی غلطی کا پوری طرح احسان ہے ہمیں ایک موقع دیجیے ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیجیے ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے اور رسولوں کی ہر بات کو تسلیم کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ کی طرف سے یہ کہا جائے گا۔ اے کفار و مشرکین ہم نے تمہیں دنیا میں بہت طویل مدت اور مہلت دی تھی۔ تمہارے سمجھانے کے لئے رسولوں کو بھیجا تما مگر تم تو قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے تھے کہ ہمیں اور معاری نعمتوں کو کبھی زوال آ نہیں سکتا فرمایا جائے گا کہ ہم نے تمہیں ان ہی بستیوں میں آباد کیا تھا جن ہو نے تم سے پہلے کفر و شرک جیسا جرم کیا تھا اور ان کو پوری سزا دی گئی تھی لیکن تم نے ان کے کھنڈرات کو دیکھ کر بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ انہوں نے اللہ کے دین کیم قابلے میں کیسی کیسی چالیں چلیں۔ ان کے داؤ گھات اللہ کے سامنے ہیں۔ ان کی چلایں تو اتنی زبردست تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتے لیکن اللہ کی ایک ہی تدبیر اور عذاب نے ان کو الٹ کر رکھ دیا۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعے جس بات کا وعدہ کیا ہے وہ اس کے خلاف نہیں کرے گا۔ اگر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرلی تو وہ ان کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے گا۔ لیکن اگر انہوں نے گزشتہ قوموں کے طریقے اختیار کئے تو پھر وہ اللہ اس طرح زبردست انتقام لے گا کہ اس کے انتقام سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔
Ayahs 14:48–52

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین و آسمان دوسرے زمین و آسمان سے بدل دیئے جائیں گے۔ اور وہ سب ایک اللہ کے سامنے جو کہ غالب ہے نکل کھڑے ہوں گے

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور تم اس دن ان مجرموں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھو گے۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے اور اگٓ ان کے چہروں کو ڈھانپ رہی ہوگی

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جاسکے۔ بیشک اللہ جل حساب لینے والا ہے۔

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے پیغام ہے تاکہ وہ اس سے ڈرائیے جائیں، تاکہ وہ جان لیں کہ وہی ایک معبود ہے اور تاکہ عقل و فکر والے نصیحت حاصل کریں۔

لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 52 تبدیل بدل دے گا۔ برزوا وہ ظاہر ہئے، سامنے ہوئے۔ القھار زبردست۔ مقرنین ملا کر جکڑے ہوئے۔ الاصفاد زنجیریں۔ سرائیل کرتے۔ قطران گندھک ، سیاہ تیل۔ تغشی ڈھانپ لے گی۔ وجوہ (وجہ) چہرے۔ لیجزی تاکہ بدل دے۔ کل نفس ہر شخص، ہر جان۔ کسبت کمایا۔ سریع جلد۔ بلغ پہنچانا۔ اولوا والا۔ الالباب (لب) ، عقلیں ۔ تشریح :- آیت نمبر 48 تا 52 سورة ابراہیم کو ان آیات پر ختم کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسانوں کے ضمیر کو ہلاک کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ وہ آخری پیغام الٰہی ہے جو دنیا بھر کے غافلوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے لئے یہ آخری موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا لو۔ اس کے ماننے میں ساری انساینت کی بھلائی اور کامیابی ہے ورنہ وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب موجودہ زمین کو ختم کرکے ایک نئی زمین تیار کی جائے گی جو اس زمین سے بہت مختلف ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” محشر کی زمین (جہاں واولین و آخرین کو جمع کیا جائے گا) چاندی کی طرح سفید ہوگی۔ یہ زمین ایسی ہوگی جس پر کوئی گناہ نہیں کیا گیا ہوگا۔ جس پر کسی کا خون نہیں بہایا گیا ہوگا۔ (بیہقی ) یہ روایت تو حضرت عبداللہ ابن مسعود کی بیان کی ہوئی تھی۔ اسی طرح حضرت سہل بن سعد نے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن لوگ ایسی زمین پر اٹھائے جائیں گے جو نہایت صاف ، روشن اور میدے کی روٹی کی طرح سفید ہوگی۔ (بخاری و مسلم) یعنی جس زمین پر ساری دنیا کے انسانوں کو جمع کیا جائے گا جس کو میدان حشر کہتے ہیں وہ ایک ہموار زمین ہوگی اس میں مکان، باغ ، درخت، ٹیلہ پہاڑ وغیرہ نہیں ہوں گے۔ وہ دن مجرموں کے لئے بڑا ہیبت ناک ہوگا ۔ وہ مجرم زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ ان کے کرتے گندھک کے اور آگ سے ان کے چہرے جھلس رہے ہوں گے۔ ہر ایک سے اس کے تمام کاموں کا حساب لیا جائے گا جیسا جس نے کیا ہوگا۔ اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ قرآن کریم ایک (آخری) پیغام الٰہی ہے جس میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اگر کسی میں ذرا بھی عقل اور فہم کا مادہ ہے تو وہ یقینا اس بات کی حقیقت تک پہنچ جائیگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اہل عقل و فکر لوگوں میں شامل فرما لے گا جو اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کے سچے دل سے قائل ہوں اور اعمال صالح کرنے والے ہوں۔ الحمد للہ اس مضمون کے ساتھ سورة ابراہیم کا ترجمہ اور تشریح تکمیل تک پہنچی۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین