Ayahs 13:32–34لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
استھزئی مذاق اڑایا گیا رسل (رسول) بھیجے ہوئے۔ پیغمبر املیت میں نے ڈھیل دی۔ موقع دیا اخذت میں نے پکڑ لیا۔ گرفت میں لے لیا عقاب بدلہ۔ انجام قائم قائم رہنے والا کل نفس ہر شخص۔ ہر جان کسبت کمایا جعلوا انہوں نے بنایا سموا نام بتاؤ۔ نام لو تنبؤن تم خبر دیتے ہو زین خوبصورت۔ بنا دیا گیا مکر فریب۔ دھوکہ صدوا روک دیئے گئے اشق زیادہ سخت
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ان آیات میں پہلے تو کفار مکہ کے کفر و شرک کا رد فرمایا گیا۔ پھر ان کافروں کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ گزشتہ آیات میں یہ بتایا گیا تھا کہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے لئے ہر روز کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر آجاتے تھے۔ اس سے ان کا مقصد ایمان لانا نہیں تھا بلکہ اپنے دلی بغض کا اظہار اور ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ کرنا تھا۔ نبی مکرم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کفار و مشرکین کی باتوں سے پریشان نہ ہوں۔ یہ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کی پرواہ نہ کیجیے کیوں کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول تشریف لائے ہیں ان کا اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ ہم نے ان کفار کو کافی مہلت اور ڈھیل دی پھر ان کے مسلسل کفر و شرک پر جمے رہنے سے ہم نے ان کو پکڑا اور سخت سزا دی لہٰذا آج جو لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور انہوں نے ایمان قبول نہیں کیا تو ان کا انجام گذری ہوئی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ غور کریں کہ پچھلی قوموں کا کتنا بھیانک انجام ہوا۔
تسلی دیتے ہوئے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ وہ ہے جو ہر آن اس کائنات میں اپنی قدرت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ ہر چیز اور ہر طرح کی کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے وہ کائنات کے ذریعے ذرے کی نگرانی کر رہا ہے۔ وہ ان کے معبودوں کی طرح نہیں ہے کہ جو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں جن میں کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ جن کو شریک کر رہے ہیں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہئے کہ وہ ان کے نام تو لیں جن کو انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ جس کو ہر بات کی خبر ہے اپنے شرکاء کے نام لے کر کیا اللہ کو ایسی بات بتانا چاہتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین جن کو اپنا معبود کہہ رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں یہ بھی دل میں جانتے ہیں کہ یہ ان کے معبود نہیں ہیں لیکن ان کی خود فریبیوں نے ان کے لئے دنیوی مفادات کو خوشنما بنا رکھا ہے اور اسی میں وہ خوش ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف خود اس نیک راستے سے رک رہے ہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ کوئی بھی اس راستے پر نہ چلے۔ فرمایا کہ جس چیز کو یہ اپنے لئے بہت بہتر سمجھ رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی طرف سے ان پر پھٹکار ہے اور اس اللہ نے ان کو راستے سے بھٹکا دیا ہے مگر یہ اس میں خوش ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت کے عذاب کا تو یہ تصور ہی نہیں کرسکتے۔ بہرحال ان کو دنیا میں اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اب بھی وقت ہے یہ اس عذاب سے اس طرح بچ سکتے ہیں کہ یہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں ان کی نجات ہوجائے گی۔
Ayahs 13:35–37لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37
مثل مثال وعد وعدہ کیا گیا اکل پھل۔ انجام دائم ہمیشہ رہنے والا ظل سایہ عقبی انجام تفرحون وہ خوش ہو رہے ہیں الاحزاب (حزب) جماعتیں۔ گروہ ینکر انکار کرتا ہے امرت مجھے حکم دیا گیا ہے اعبد میں عبادت و بندگی کرتا ہوں لا اشرک میں شرک نہیں کرتا ہوں ادعوا بلاتا ہوں ماب ٹھکانا حکم فیصلہ اتبعت تو نے پیروی کی۔ تو پیچھے چلا اھواء (ھوائ) خواہشات مالک تیرے لئے نہیں ہے ولی حمایتی۔ مددگار واق بچانے والا
تشریح : آیت نمبر 35 تا 37
اس دنیا کی عارضی زندگی کی ہر خوشی اور غم کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے کبھی ہر طرف خوشی اور راحتیں اور سکون ہی سکون ہوتا ہے لیکن جب خوشی کے لمحے دبے قدموں گذر جاتے ہیں تو غم اور ناکامیابیوں کے اندھیرے چھا جاتے ہیں، نہ غم ٹھرتا ہے اور نہ خوشی۔ کبھی کی راتیں بڑی اور کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے جس کی خوشی اور غم ہمیشہ کے لئے ہیں۔ ان آیات میں اسی بات کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ جنت جس کا وعدہ اہل تقویٰ سے کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ وہ جنتیں ایسی ہونگی جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی یعنی ہر طرف سرسبزی و شادابی ہوگی اس کے پھل اور سائے بھی دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہوں گے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک کو اپنی زندگی بنا لیا ہے ان کو ایسی جہنم میں جھونک دیا جائے گا جس میں کسی طرح کی راحتیں اور آرام نہ ہوں گے بلکہ ان پر عذاب بھی ایک وقت کے لئے نہیں بلکہ دائمی عذاب ہوگا ۔ یہ اہل تقویٰ اور اہل کفر کا انجام ہے۔ نہ اہل تقویٰ ہر طرح کی راحتوں سے محروم رہیں گے اور نااہل کفر جہنم کی آگ سے بچ سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل کردیا ہے جس میں اس حقیقت کی پوری طرح وضاحت کردی گئی ہے بعض وہ لوگ جو اہل کتاب ہیں ان کے دلوں سے یہ خوشی ابھرتی ہے کہ واقعی اللہ کا کلام ہی انسانوں کی ہدایت کیلئے کافی ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کو قرآن کریم کا نازل ہونا گوارگذرتا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس بات کا اعلان کردیجیے کہ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں ایک اللہ کی عبادت و بندگی کروں اور اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروں۔ میرا یہی کام ہے کہ میں اسی ایک اللہ اور اس کی بندگی کی طرف لوگوں کو دعوت دوں اور وہی اللہ میرا ٹھکانا ہے۔
فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ جن لوگوں کو اللہ کا دین پہنچا رہے ہیں ان کی زبان عربی ہے۔ قرآن کریم بھی عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ہم اس دین کو کیسے سمجھیں یہ تو کسی اجنبی زبان میں ہے جس کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے پوری امت کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر اس علم اور سچائی کے آجانے کے بعد آپ بھی کسی اور کی بات مانیں گے تو اس بات کو اللہ کی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور نہ عذاب الٰہی سے بچنا ممکن ہوگا ۔ جب نبی کریم ﷺ سے یہ فرمایا جا رہا ہے تو عام آدمی دوسری قوموں کے نظریات کی پیروی کر کے اللہ کے فیصلے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
Ayahs 13:38–41لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41
ارسلنا ہم نے بھیجا ازواج (زوج) بیویاں ۔ جوڑے ذریۃ اولادیں اجل مدت یمحوا وہ مٹاتا ہے یثبت وہ باقی رکھتا ہے ام الکتاب کتاب کی ماں۔ (لوح محفوظ) نرینک ہم تجھے دکھا دیں گے نعد ہم وعدہ کرتے ہیں نتوفین ہم وفات دیں گے البلغ پہنچا دینا علینا ہمارے اوپر۔ ہماری ذمہ داری ہے ناتی ہم لا رہے ہیں ننقص ہم کم کر رہے ہیں اطراف کنارے معقب پیچھے ڈالنے والا سریع الحساب جلد حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 38 تا 41
اصل میں جو لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرسکتے وہ یا تو سازشیں کرتے ہیں یا طرح طرح کے اعتراضات کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کفار مکہ کبھی تو نبی کریم ﷺ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے اور کبھی یہ کہتے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کا انسان ہے۔ کھاتا بھی ہے پیتا بھی ہے، اس کے بیوی اور بچے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کا نہایت سادہ الفاظ میں جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ کفار و مشرکین اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ انسان ہی تھے ان کی اپنی انسانی ضروریات تھیں جن کو وہ پورا کرتے تھے ان کے بیوی بچے بھی تھے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ انسان کے ساتھ اس کی زندگی کے تقاضے بھی لگے ہوئے ہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کے بنی اور رسول اپنی طرف سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے جب تک اللہ نہ چاہے۔ جب اس کا حکم آجاتا ہے تو معجزہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ اللہ نے قرآن کریم جیسا معجزہ عطا فرمایا تھا لیکن احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ سے لاتعداد معجزات صادر ہوئے ہیں جس کو ہزاروں لاکھوں صحابہ کرام نے دیکھا اور وہ اس کے گواہ ہیں قرآن کریم معجزات کا انکار نہیں کرتا بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے نبی اور رسول اس کی کتاب اور پیغام سنانے آتے ہیں معجزات دکھانے نہیں۔ لیکن اگر اللہ چاہے تو وہ ان ہی کے ہاتھوں پر معجزات دکھا سکتا ہے اور اس نے دکھائے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہر امت کے لئے اللہ نے کتاب عطا فرمائی ہے جو ان کی رہبری و رہنمائی کرتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے لوگوں کی ہدایت کے لئے ان کے مزاج اور ضرورت کے تحت اپنا کلام نازل کیا ہے۔ جب وہ دور گذر گیا تو اللہ نے گزشتہ کتابوں کے بعض احکامات کو منسوخ کردیا مٹا دیا لیکن حضرت آدم سے نبی کریم ﷺ تک اصولی احکامات ایک ہی رہے ہیں جن کی اصل اور بنیاد لوح محفوظ میں درج ہے اور محفوظ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان منکرین کی باتوں کا خیال نہ کیجیے ان کے لئے تو اللہ نے فیصلہ کرلیا ہے جو آپ کی دنیاوی زندگی یا اس کے بعد ان پر ظاہر ہو کررہے گا۔ اس سے یہ لوگ بچ نہیں سکتے۔ کیا ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ اللہ ان کے پاؤں سے زمین کھینچ رہا ہے اور ہر ایک دن زمین ان کفار و مشرکین کے لئے تنگ اور چھوٹی ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ اللہ کے فیصلے کی ایک جھلک ہے جس کو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آئندہ بھی دیکھیں گے۔
ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام ترک دنیا کی تعلیم نہیں دیتا کہ نبی اور رسول ایسے ہوں کہ نہ وہ کھاتے ہوں نہ پیتے ہوں نہ زندگی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوں بلکہ وہ بشریت کے اعلیٰ ترین مقام پر ہونے کے باوجود بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق کو ادا کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ :
” میں روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، رات کو سوتا بھی ہوں اور نماز کے لئے کھڑا بھی ہوتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جو شخص میری اس سنت کو قابل اعتراض سمجھتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔ “
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اختیار اور حکم سے انبیاء کرام کے ہاتھوں پر معجزات ظاہر کرتا ہے لیکن کوئی نبی اور رسول اپنی طرف سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا۔
تیسری بات یہ ہے کہ اللہ کا اپنا کلام ہے وہ انسانی تقاضوں کے مطابق نازل بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو کسی بھی حکم یا آیت کو منسوخ کردیتا ہے یا اس کو ذہنوں سے مٹا دیتا ہے اصل کتاب لوح محفوظ میں موجود ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ قرآن کریم میں بھی بہت سی وہ آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں نازل فرمائی ہیں اور بعد میں ان آیتوں کو رکھتے ہوئے ان کے احکام کو منسوخ کردیا ہے۔ جس کا کلام ہے اس کو اختیار ہے کہ وہ جس طرح اور جب چاہے اپنا کلام رکھے یا مٹا دے۔
چوتھی بات یہ فرمائی کہ یہ کفار زیادہ جرأت نہ دکھائیں ان کیلئے اللہ کا فیصلہ تیار ہے جو کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی میں یا آپ کے بعد بہرحال وہ اللہ کا فیصلہ ٹلنے والا نہیں ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اللہ کا پیغام پہنچا دیجیے۔ اس کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کفار کے لئے اللہ کا فیصلہ آیا۔ آپ کی زندگی میں بھی اور آپ کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی۔ صحابہ کرام کے ہاتھوں ان کا انجام یہ ہوا کہ زمین ان پر تنگ ہوگئی اور انہوں نے ساری دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔ کفار و مشرکین کو ہر جگہ منہ کی کھانی پڑی اور نبی کریم ﷺ کے جاں نثاروں کو ہر جگہ فتح و نصرت حاصل ہوئی۔
Ayahs 13:42–43لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 43
مکر تدبیر کی۔ چال چلے جمیع سب کا سب تکسب کماتا ہے لست تو نہیں ہے مرسل رسول۔ پیغمبر کفی کافی ہے شھید گواہی علم الکتاب کتاب کا علم۔ اہل کتاب
تشریح : آیت نمبر 42 تا 43
اس سورت کو ان الفاظ پر مکمل فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ان کفار و مشرکین مکہ سے پہلے گذر چکے ہیں انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر دین اسلام اور اس کے رسولوں اور نبیوں کے خلاف ہر طرح کی چالیں چل کر دیکھ لیں لیکن جب بھی اللہ کا داؤ ان پر چل گیا وہ اپنے وجود اور اپنی ترقیات اور تہذیب کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اللہ کو ہر انسان کی ہر کیفیت کا علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور یہ کفار لاکھ انکار کریں گے مگر یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا کتنا بھیانک انجام ہے لیکن پھر بھی یہ اتنی بڑی جرأت کر رہے ہیں کہ جانتے بوجھتے آپ ﷺ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ صرف یہ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی اور تمام ان لوگوں کی گواہی کافی ہے جن کے پاس کتاب کا علم موجود ہے۔
اصل میں اہل کتاب پوری نشانیوں سے اس بات کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ ان کی کتابوں میں تمام نشانیاں اور علامتیں موجود تھیں لیکن ان کے دنیاوی مفادات ان کو اس سچائی اور حق کے کہنے سے روکتے تھے اور اس طرح انہوں نے وقتی مفادات کی وجہ سے ایک بہت بڑی سچائی کو لوگوں سے چھپا اپنی تھا ار وہ ان سازشوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح نبی کریم ﷺ کو بدنام کرتے رہیں تاکہ ان کے مفادات کا نقصان نہ ہو۔ لیکن اللہ نے ان کی تدبیروں کو الٹ دیا اور وہ کفار بری طرح ناکام ہو کر رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق و صداقت پر چل کر دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے اور نبی کریم ﷺ کے دامن سے وابستگی دین اور آخرت میں رحمت بنا کر عطا فرمائے۔ آمین
الحمد للہ سورة الرعد کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوگئی
واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین