59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔

17 ۔” فکان عاقب تھا “ یعنی شیطان اور اسی انسان کی ” انھما فی النار خالدین فیھا وذلک جزاء الظالمین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ مثال اہل مدینہ کے یہود بنو نضیر اور بنو قریضہ کی بیان کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا بنو نضیر کو مدینہ سے جلاوطن کرنے کا تو منافقین نے ان کی طرف ایک سازش کی کہ جس کی طرف محمد (ﷺ ) نے تمہیں بلایا ہے تم اس کو قبول نہ کرو اور اپنے گھروں سے نہ نکلو۔ پس اگر انہوں نے تم سے قتال کیا تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اگر ہم تمہیں نکالو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے تو انہوں نے ان کی بات مان لی اور اپنے قلعوں کے دورازے بند کرلیے اور اپنے شہروں میں پناہ لی۔ منافقین کی مدد کی امید پر حتیٰ کہ ان کے پاس نبی کریم ﷺ آئے تو انہوں نے آپ (علیہ السلام) سے لڑائی کا اعلان کردیا۔ منافقین کی مدد کی امید کرتے ہوئے تو منافقین نے ان کو رسوا کردیا اور ان سے بیزاری ظاہر کی۔ جیسا کہ شیطان نے برصیصا سے بےزاری وبرات ظاہر کی تھی اور اس کو رسوا کردیا تھا تو دونوں فریقوں کا انجام آگ ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد راہب لوگ بنی اسرائیل میں جھوٹ اور اپنی حالت چھپا کر چلتے تھے اور فاسق وفاجر لوگ علماء میں لالچ کرتے تھے اور ان پر بہتان لگاتے اور بری باتیں کرتے تھے حتیٰ کہ جریج راہب کا واقعہ ہوا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے اس کو اس الزام سے بری کردیا جو وہ لگا رہے تھے تو اس کے بعدراہب لوگ خوش ہوگئے اور لوگوں کے سامنے ظاہر ہوگئے۔ جریح راہب کا قصہ اور جریج کا قصہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بچپن کی حالت میں نہیں کلام کی مگر تین افراد نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اور صاحب جریج اور صاحب یوسف۔ اور جریج عبادت گزار بندے تھے۔ انہوں نے ایک عبادت خانہ بنایا، وہ اس میں تھے کہ ان کی ماں آئی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو کہا اے جریج تو جریج نے کہا اے میرے رب ! میری ماں اور میری نماز۔ پھر نماز کی طرف متوجہ ہوگئے، وہ چلی گئی، پھر اگلے دن وہ آئی وہ نماز پڑھ رہے تھے، کہنے لگی اے جریج ! اس نے کہا اے میرے رب ! میری ماں اور میری نماز، پھر نماز کی طرف متوجہ ہوگیا تو اس نے کہا اے اللہ ! تو اس کو موت نہ دینا حتیٰ کہ یہ بدکار عورتوں کا چہرہ دیکھ لے۔ پھر بنی اسرائیل میں جریج اور اس کی عبادت کے چرچے ہونے لگ گئے اور ایک زانیہ عورت تھی اس کے حسن کی مثالیں دی جات تھیں تو اس نے کہا اگر تم چاہو تو تمہارے لئے میں اس جریج کو فتنہ میں مبتلا کرسکتی ہوں۔ پھر وہ جریج کے پیچھے پڑگئی لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو وہ ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کی عبادت خانہ کے قریب آرام کررہا تھا تو اس کو خود پر قدرت دی تو اس نے جماع کرلیا، وہ حاملہ ہوگئی۔ جب بچہ جنا تو کہا یہ جریج کا بچہ ہے تو لوگ جریج کے پاس آئے اس کو اس کی عبادت خانہ سے اتارا اور اس کا عبادت خانہ توڑ دیا اور اس کو مارنے لگے۔ اس نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کا تونے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس سے تیرا بچہ پیدا ہوا ہے تو جریج نے کہا بچہ کہاں ہے ؟ تو وہ اس کو لائے، اس نے کہا مجھے چھوڑ دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں، پھر نماز پڑھی۔ پھر جب نماز پڑھ لی تو بچہ کے پاس آیا اور اس کے پیٹ میں انگلی ماری اور کہا اے بچہ تیرا بات کون ہے ؟ اس نے کہا فلاں چرواہا۔ تو وہ لوگ جریج کو چمٹ گئے اور بوسے دینے لگے اور کہنے لگے ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنادیں گے۔ اس نے کہا نہیں، تم واپس مٹی کا بنادو جیسے پہلے تھا تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسی اثناء میں ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا تو ایک شخص سواری پر گزرا ، بڑا خوبصورت ، عمدہ لباس والا تو اس کی ماں نے کہا اے اللہ ! تو میرے بیٹے کو اس جیسا بنادے تو بچے نے پستان چھوڑ دیا اور اس شخص کی طرف دیکھا اور کہا اے اللہ ! تو مجھے اس جیسا نہ بنانا، پھر دودھ پینے لگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) اپنے منہ میں شہادت والی انگلی ڈال کر اس کے دودھ پینے کو نقل کررہے ہیں، پھر اس کو چوسنے لگے۔ فرمایا اور لوگ ایک باندی کو مارتے ہوئے گزرے اور وہ کہتے تھے تونے زنا کیا اور تونے چوری کی اور وہ کہتی تھی ” حسبی اللہ ونعم الوکیل “ تو اس بچہ کی ماں نے کہا اے اللہ ! تو میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو بچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس باندی کو دیکھا اور کہا اے اللہ ! تو مجھے اس جیسا بنادے۔ پس اس وقت ان دونوں نے بات میں مراجعت کی۔ پس اس نے کہا ایک شخص اچھی حالت ۔۔۔ تو میں نے کہا اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس جیسا بنادے تو تو نے کہا اے اللہ ! مجھے اس جیسا نہ بنانا اور لوگ ایک باندی کو مارتے ہوئے اور زنا چوری کا الزام لگاتے گزرے تو میں نے کہا اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو تونے کہا : اے اللہ ! تو مجھے اس جیسا بنانا تو بچہ نے کہا بیشک وہ آدمی متکبر تھا تو میں نے کہا مجھے اس جیسا نہ بنانا اور وہ لوگ اس کو کہتے تھے تونے زنا کیا حالانکہ اس نے زنا نہ کیا تھا اور اس کو کہتے تھے تونے چوری کی حالانکہ اس نے چوری نہ کی تھی تو میں نے کہا اے اللہ ! مجھے اس جیسا بنادے۔
Ayah 59:19

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل (یعنی فروائے قیامت) کیلئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور ہم پھر کہتے ہیں کہ خدا ہی سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

18 ۔” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ماقدمت لغد “ یعنی قیامت کے دن کے لئے۔ یعنی چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ کون سی چیز اس نے اپنے لئے آگے بھیجی ہے، نیک عمل جو اس کو نجات دے یا برا عمل جو اس کو ہلاک کردے۔ ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “۔
Ayah 59:20

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں۔

19 ۔” ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ “ یعنی انہوں نے اللہ کے امر کو چھوڑ دیا۔ ” فانساھم انفسھم “ یعنی اپنے نفسوں کا حصہ حتیٰ کہ ان کے لئے کوئی خیر آگے نہیں بھیجی ۔ ” اولئک ھم الفاسقون “۔
Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

20 ۔” لا یستوی اصحاب النار واصحاب الجنۃ اصحاب الجنۃ ھم الفائزون “۔
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں

21 ۔ لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ “ کہا گیا ہے اگر پہاڑ میں تمیز رکھ دی جاتی اور اس پر قرآن اتارا جاتا تو وہ پھٹ جاتا اور جھک جاتا اللہ کے خوف سے اپنی مضبوطی اور ٹھوس ہونے کے باوجود، اس ڈر سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق نہ ادا کرسکے گا قرآن کی تعظیم میں اور کافر اس کی عبرتوں سے اعراض کرتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں ہے اس کی سخت دلی بیان کررہے ہیں۔ ” وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون “۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

22 ۔” ھواللہ الذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ “ غیب جو بندوں سے غائب ہو نہ انہوں نے اس کا معائنہ کیا ہو اور نہ اس کو جانتے ہوں اور الشہادۃ جس کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہو اور اس کو جانتے ہوں۔ ” ھوالرحمن الرحیم “۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ بادشاہ حقیقی پاک ذات (ہر عیب سے) سالم امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

23 ۔” ھواللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس “ ہر عیب سے پاک ہر اس چیز سے پاک جو اس کے لائق نہیں۔ ” السلام “ جو نقائص سے محفوظ ہو۔ ” المومن “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ ذات جو لوگوں ک واپنے ظلم سے امن دے جو اس پر ایمان لائے اس کو اپنے عذاب سے امن دے۔ یہ امان (امن دینا) سے ہے جو تخویف (ڈرانے) کی ضد ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” وآمنھم من خوف “ اور کہا گیا ہے اس کا اپنے رسولوں کی تصدیق کرنا معجزات کو ظاہر کرکے اور مومنین کے لئے سچ کرنے والا ہے جو ان سے ثواب کے وعدے کیے ہیں اور کافروں سے جو عذاب کے وعدے کیے ہیں ان کو سچ کرنے والا ہے۔ ” المھیمن “ اپنے بندوں پر ان کے اعمال کا گواہ ہے اور یہ ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ، سدی اور مقاتل رحمہم اللہ کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے ” ھیمن، یھیمن، فھو مھیمن “ جب کسی چیز پر نگہبان ہو اور کہا گیا ہے یہ اصل میں مویمن تھا ہمزہ کو ھاء سے تبدیل کردیا ہے۔ ان کے بوقت دھرقت کی طرح اور سای کا مومن ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں امین اور خلیل رحمہما اللہ فرماتے ہیں نگہبان حفاظت کرنے ۔۔۔۔ فرماتے ہیں تصدیق کرنے والا۔ سعید بن مسیب اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں فیصلہ کرنے والا۔ اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں یہ کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی تاویل کو زیادہ جانتے ہیں۔ ”۔۔۔ الجبار “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں الجبار وہ عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کی جبروت اس کی عظمت ہے اور یہ اس قول پر اللہ تعالیٰ کی ذات کی صفت ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ جبر سے اور وہ اصلاح ہے۔ کہا جاتا ہے ” جبرت الکسر ۔۔۔ وجرت العظم “ جب تو ہڈی یا کسی چیز کے ٹوٹنے کے بعد اس کی اصلاح کرے۔ پس وہ فقیر کو غنی کردیتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چیز کی اصلاح کرتا ہے۔ سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں جبار وہ جو لوگوں پر غالب ہو اور ان کو اپنے ارادہ پر مجبور کردے اور ان میں سے بعض نے بعض سے جبار کا معنی پوچھا تو اس نے کہا وہ ایسا غالب جو جب کسی امر کے کرنے کا ارادہ پر مجبور کردے اور ان میں سے بعض نے بعض سے جبار کا معنی پوچھا تو اس نے کہا وہ ایسا غالب جو جب کسی امر کے کرنے کا ارادہ کرلے تو اس کو کوئی روکنے والا نہ روک سکے۔ ” المتکبر “ جو ہر برائی سے تکبر کرتا ہے اور کہا گیا ہے ہر اس چیز سے عظیم ہے جو اس کے لائق نہیں اور کبر اور کبریاء کی اصل رکنا ہے اور کہا گیا ہے ذوالکبریا اور وہ ملک یہ ہے۔ ” سبحان اللہ عما یشکرون “۔