Ayah 55:4140 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:4241 ۔” یعرف المجرمون بسیماھم “ وہ چہروں کی سیاہی اور آنکھوں کا نیلا پن ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” یوم تبیض وجوہ وتسودوجوہ “…” فیوخذ بالنواصی والا قدام “۔
Ayah 55:4342 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “۔ پائوں کے پیشانیوں سے ملا دیا جائے گا پیچھے سے اور جہنم میں ڈالا جائے گا۔
Ayah 55:4443 ۔ پھر ان کو کہا جائے گا ” ھذہ جھنم التی یکذب بھا المجرمون “ مشرکین۔
Ayah 55:4544 ۔” یطوفون بینھا وبین حمیم آن “ جس کی گرمائش انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں ” انی یانی فھوآن “ جب پکنے کی انتہا کو پہنچ جائے۔ اور معنی یہ ہے کہ وہ جہنم اور گرم پانی کے درمیان دوڑیں گے۔ پس جب وہ جہنم کی گرمی سے فریاد طلب کریں گے تو ان کا عذاب کھولتا ہوا پانی جو تار کول کی طرح ہوگا بنایا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل “ اور کعب احبار (رح) فرماتے ہیں آن جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جس میں اہل جہنم پیپ جمع ہوتی ہے، پس وہ بیڑیوں میں وہاں لائے جائیں گے ، پھر اس وادی میں غوطے دیئے جائیں گے حتیٰ کہ ان کے جوڑ کھل جائیں گے پھر اس سے نکالے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو نئی خلقت دیں گے، پھر جہنم میں ڈالے جائیں گے اور یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” یطوفون بینھا وبین حمیم آن “ کا
Ayah 55:4645 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “ اور اللہ نے جو کچھ ذکر کیا اپنے قول ” کل من علیھا فان “ سے یہاں تک وہ مواعظ اور ڈانٹ اور ڈرانا ہے اور یہ تمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتیں ہیں اس لئے کہ معاصی سے روکتی ہیں اس لئے ہر آیت کو اپنے قول ” فبای آلاء ربکما تکذبن “ کے ذریعے ختم کیا ہے۔ پھر وہ ذکر کیا جو تقویٰ والے اور خوف کرنے والے کے لئے تیار کیا ؟
Ayah 55:4746 ۔” ولمن خاف مقام ربہ “ یعنی اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے حساب کے لئے۔ پس اس نے معصیت اور شہوت کو چھوڑ دیا اور کہا گیا ہے اس کے رب کے اس پر قیام کرنے سے۔ اس کا بیان اللہ تعالیٰ کا قول ” افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت “ ابراہیم نخعی اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ شخص جو معصیت کا پختہ ارادہ کرے پھر اللہ کو یاد کرے اور اس معصیت کو اللہ کے خوف سے چھوڑ دے ۔ ” جنتان “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جنت عدن اور جنت نعیم۔
محمد بن علی ترمذی (رح) فرماتے ہیں ایک جنت اپنے رب کے خوف کی وجہ سے اور ایک جنت اس کی شہوت کو چھوڑنے کی وجہ سے ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ اس کے لئے ہے جو پوشیدہ اور اعلانیہ اللہ سے ڈرے اپنے علم کے ذریعے جو اس کے سامنے حرام چیز آئے اس کو اللہ کے خوف سے چھوڑ دے اور جو خیر کا عمل کرے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا ہو تو یہ پسند نہ کرے کہ اس پر کوئی مطلع ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مومنین اس مقام سے ڈرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتے ہیں اور رات ودن عبادت کی عادت بناتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص خوف کرے گا رات کو سفر کرے گا اور جو رات کو سفر کرے گا منزل تک پہنچ جائے گا۔ خبردار ! اللہ کا سامان گراں ہے، خبردار ! اللہ کا سامان گراں ہے۔ حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ انہوں نے منبر پر بیان کیا اور فرمایا ” ولمن خاف مقام ربہ جنتان “ میں نے کہا اگرچہ زنا کرے، اگرچہ چوری کرے اے اللہ کے رسول ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” ولمن خاف مقام ربہ جنتان “ تو میں نے تیسری مرتبہ کہا اگرچہ وہ زنا کرے اگرچہ وہ چوری کرے یارسول اللہ ؟ فرمایا اگرچہ وہ زنا کرے اگرچہ وہ چوری کرے۔ ابوالدردائ ؓ کی ناک خاک آلود ہو۔
Ayah 55:4847 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “ پھر دونوں جنتوں کا وصف بیان کیا۔
Ayah 55:4948 ۔” ذواتا افنان “ ٹہنیوں والا۔ اس کا واحد فنن ہے اور یہ وہ ٹہنی ہے جو سیدھی لمبی ہو اور یہ مجاہد اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ٹہنیوں کا سایہ دیواروں پر ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں سایوں والے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رنگوں والے۔ سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہاں مختلف قسم کے میوے۔ اس کا واحد فنن ہے، یہ مشتق ہے ان کے قول ” افنن فلان فی حدیثہ “ سے۔ جب وہ اپنی بات میں مختلف طرز کی گفتگو کرے اور عطاء نے دونوں قولوں میں تطبیق دی ہے۔ پس فرمایا ہر ٹہنی پر کئی قسم کے میوے ہوں گے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں فضل او وسعت والے اپنے ماسوا پر۔
Ayah 55:5049 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:5150 ۔” فیھما عینان تجریان “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اہل جنت پر کرامت اور زیادتی کے ساتھ۔ حسن (رح) فرماتے ہیں صاف میٹھے پانی کے ساتھ چلتی ہیں ان میں سے ایک تسنیم اور دوسری سلسبیل ہے اور عطا (رح) فرماتے ہیں ان میں سے ایک ایسے پانی کی ہے جو بدبودار نہیں ہے اور دوسری شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذت ہے۔
Ayah 55:5251 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:5352 ۔” فیھما من کل فاکھۃ زوجان “ دو دو قسمیں۔ کہا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان دونوں میں ہر اس چیز کی جس سے لذت حاصل کی جاتی ہے دو قسمیں ہیں تر اور خشک۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دنیامیں کوئی میٹھا اور کڑوا پھل نہیں ہے مگر وہ جنت میں ہے حتیٰ کہ ایلوہ (کوڑتما) مگر وہ میٹھا ہوگا۔
Ayah 55:5453 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:5554 ۔” متکئین علی فرش “ فراش کی جمع ہے۔ ” بطائنھا “ بطانت کی جمع ہے اور یہ وہ جو کپڑے کے ابرے کے نیچے ہو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں جو زمین کو ملا ہوا ہو۔ ” من استبرق “ جو ریشم میں سے موٹا ہو۔ ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہے یہ تو بچھونے کا نچلا حصہ ہے۔ پس تمہارا اس کے اوپر والے ابرے کے بارے میں کیا گمان ہے ؟ اور سعید بن جبیر (رح) کو کہا گیا کہ بطائن تو ریشم کے ہوں گے اور ظواہر ؟ تو فرمایا یہ ان میں سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین “ اور ان سے ہی روایت ہے فرمایا کہ اس کا نچلا حصہ استبرق کا ہوگا اور اوپر والا حصہ جامہ نور کا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے بطائن کا وصف بیان کیا ہے اور ظواہر کو چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ زمین میں کوئی شخص ایسا نہیں جو جانے کہ ظواہر (بچھونے کا اوپر والا حصہ) کیا ہے۔ ” وجنا الجنتین دان “ الجنی جو پھلوں میں سے چنا جائے۔ مراد یہ ہے کہ اس کے پھل قریب ہوں گے اس کو کھڑا اور بیٹھا اور لیٹا شخص لے سکے گا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں درخت جھک جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا ولی اس کا پھل چن لے گا اگر چاہے گا تو کھڑے کھڑے اور اگر چاہے گا تو بیٹھے بیٹھے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کے ہاتھ اس سے دوری اور کانٹے دور نہ کریں گے۔
Ayah 55:5655 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:5756 ۔” فیھن قاصرات الطرف “ آنکھوں کو جھکانے والیاں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کو اپنے خاوندوں پر جھکایا ہوا ہوگا۔ ان کے علاوہ کی طرف نہیں دیکھیں گی اور ان کے غیر کا ارادہ بھی نہ کریں گی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ اپنے خاوند کو کہے گا میرے رب کی عزت کی قسم ! میں نے جنت میں تجھ سے زیادہ حسین چیز کوئی نہیں دیکھی۔ پس تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے تیری بیوی اور تجھے میرا خاوند بنایا۔ ” لم یطمثھن “ انہوں نے جماع نہ کیا ہوگا اور ان کو حیض نہ آیا ہوگا۔ اس کی اصل خون سے۔ حائضہ عورت کو طامث کہا جاتا ہے ۔ گویا کہ فرمایا جماع کی وجہ سے ان کا خون نہ آیا ہوگا۔ ” انس قبلھم ولا جان “ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ جننی عورت سے بھی جماع کیا جاتا ہے جیسا کہ انسان عورت سے جماع کیا جاتا ہے۔
لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان کی تفسیر
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب انسان جماع کرے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو جن اس کے ذکر پر لپٹ جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جماع کرتے ہیں۔ مقاتل (رح) کے قول ” لم یظمثھن انس قبلھم ولا جان “ کے بارے میں فرماتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کو جنت میں پیدا کیا۔ پس اس کے قول پر یہ جنت کی حوروں میں سے ہیں اور شعبی (رح) فرماتے ہیں یہ دنیا کی عورتوں میں سے ہیں کہ جب سے پیدا کی گئی ہیں جماع نہیں کی گئیں اور یہ کلبی (رح) کا قول ہے یعنی اس پیدائش میں ان سے کسی انسان اور جن نے جماع نہیں کیا اور طلحہ (رح) نے معرف پڑھا ہے ” لا یطمثھن “ میم کے پیش کے ساتھ ان دونوں میں۔ اور کسائی (رح) نے ان میں سے ایک کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔
پس اگر پہلی کو زیر دی جائے گی اور اگر پہلی کو پیش دی جائے تو دوسری کو زیر دی جائے گی ابو اسحاق السبعی (رح) کی روایت کی وجہ سے۔ فرماتے ہیں میں نے حضرت علی ؓ کے شاگردوں کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے سنا وہ پڑھ رہے تھے ” لم یطمثھن “ رفع کے ساتھ اور میں نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے شاگردوں کے پیچھے نماز پڑھی تو ان کو سنا وہ میم کی زیر کے ساتھ پڑھ رہے تھے اور کسائی (رح) ان میں سے ایک کو پیش اور دوسری کو زیر دیتے تھے تاکہ ان دونوں اثروں سے نہ نکلیں۔
Ayah 55:5857 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:5958 ۔” کانھن الیاقوت والمرجان “۔
کانھن الیاقوت والمرجان کی تفسیر
قتادہ (رح) فرماتے ہیں یاقوت کی چمک مرجان کی سفیدی میں۔ ابو سعید ؓ نے اہل جنت کی صفت میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ ہر آدمی کے لئے دو بیویاں ہوں گی، ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے، ان کی پنڈلیوں کا گودہ ان کے گوشت اور خون اور جلد کے نیچے سے دیکھا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، بیشک پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوں گے چودھویں کے چاند کی صورت پر، پھر جو ان کو ملے ہوں گے آسمان میں سب سے زیادہ چمک دار ستارہ کی طرح ان کے دلوں کی روشنی ایک آدمی کے دل پر ہوگی۔ ان میں کوئی اختلاف اور باہم بغض نہ ہوگا۔ ہر آدمی کے لئے ان میں سے دو بیویاں ہوں گی حور عین میں سے ان کی پنڈلیوں کا گودہ ہڈیوں اور گوشت کے نیچے سے دیکھا جائے گا حسن کی وجہ سے۔ وہ صبح وشام اللہ کی تسبیح کریں گے نہ بیمار ہوں گے نہ پیشاب وپاخانہ کریں گے اور نہ تھوک ورینٹھ آئے گی۔ ان کے برتن سونے اور چاندی کے اور کنگھیاں سونے کی اور ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر کی لکڑی اور ان کا پسینہ کستوری ہوگا۔ ایک آدمی کی تخلیق پر ہوں گے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک عورت اس کی پنڈلی کی سفیدی اور سا کا گودہ ریشم کے ستر جوڑوں کے نیچے سے دیکھا جائے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” کانھن الیاقوت والمرجان “ بہرحال یا قوت تو وہ پتھر ہے اگر تو اس میں دھاگہ داخل کردے پھر اس کو صاف کردے (رگڑائی کردے) تو اس کے پار دیکھ سکتا ہے اور عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حورعین کی عورت ستر جوڑے پہنے گی۔ پس اس کی پنڈلی کا گودہ ان کے نیچے سے دیکھا جائے گا۔ جیسا کہ سرخ شراب سفید شیشے میں سے دیکھی جاتی ہے۔
Ayah 55:6059 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:6160 ۔” ھل جزاء الاحسان الا الاحسان “ یعنی جو دنیا میں نیک کام کرے تو اس کی جزاء یہی ہے کہ اس کے ساتھ آخرت میں اچھائی کی جائے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نہیں ہے اس شخص کا بدلہ جو لا الہ الا اللہ کہے اور جو دین محمد ﷺ لائے ہیں اس پر عمل کرے مگر جنت۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھا ” ھل جزاء الاحسان الا الاحسان “ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص کا بدلہ جس پر میں نے توحید کا انعام کیا وہ صرف جنت ہے۔
Ayah 55:6261 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:63آیت ومن دونھما جنتن کی تفسیر
62 ۔” ومن دونھما جنتان “ یعنی پہلی دو جنتوں کے علاوہ دوسری دو جنتیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان دونوں سے درجہ میں کم اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان سے مرتبہ میں بڑھ کر اور ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں سونے کی دو جنتیں ہیں سبقت کرنے والوں کی اور چاندی کی دو جنتیں ہیں پیچھے آنے والوں کے لئے اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں وہ چار چنتیں ہیں دو جنتیں مقرب سبقت کرنے والوں کے لئے۔ اس میں ہر قسم کے میوئوں کی دو دو قسمیں ہیں اور دو جنتیں اصحاب یمین اور تابعین کے لئے۔ ” فیھما فاکھۃ ونخل ورمان “ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو جنتیں ان کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چاندی کے ہیں اور دو جنتیں ان کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سونے کا ہے اور قوم کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان صرف باری تعالیٰ کے چہرہ پر کبریائی کی چادر ہے جنت عدن میں اور کسائی (رح) فرماتے ہیں ” ومن دونھما “ یعنی ان کے سامنے اور ان سے پہلے اور ضحاک (رح) کا قول دلالت کرتا ہے کہ دوجنتیں پہلی دو سونے اور چاندی کی اور دوسری دو یا قوت کی ہیں۔
Ayah 55:6463 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:6564 ۔” مدھامتان “ ترو تازہ ہیں اپنے رب کی طرف سے سیاہ ہیں تیز سبز ہیں اس لئے کہ سبز رنگ جب گہرا ہو تو سیاہی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے ادھام الزرع جب اس پر سیاہی چھائی ہوئی ہو۔ ” ادھیما مافھو مدھام “
Ayah 55:6665 ۔” فبای آلا ربکما تکذبن۔
Ayah 55:6766 ۔” فیھما عینان نضاختان “ دو چشمے ہیں پانی کے جو ختم نہیں ہوتے اور ” النضخ “ پانی کا چشمے سے جوش مارنا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو اہل جنت پر خیر و برکت چھڑکیں گے اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کستوری اور کافورچھڑکیں گے ۔ اولیاء اللہ پر اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کستوری اور عنبر اہل جنت کے گھروں میں چھڑکیں گے بارش کی طرح۔
Ayah 55:6867 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:6968 ۔” فیھما فاکھۃ ونخل ورمان ” ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ کھجور اور انار میوہ میں سے نہیں ہیں اور اکثر اس پر ہیں کہ یہ میوہ میں سے ہیں اور یہاں النخل اور الرمان کے ذکر کا اعادہ کیا ہے حالانکہ یہ دونوں فواکہ (میوئوں) میں سے ہیں تخصیص اور تفصیل کے لئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” من کان عدوا للہ وملائکتہ ورسلہ و جبریل و میکال “ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جنت کی کھجور اس کے تنے سبز زمرد کے اور اس کے پتے سرخ سونے کے اور اس کی شاخیں اہل جنت کے کپڑے ہوں گے ۔ اسی سے ان کے کپڑے اور جوڑے ہوں گے اور اس کے پھل مٹکوں کی طرح یا ڈولوں کی طرح ہوں گے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم اس کی گٹھلی نہ ہوگی۔
Ayah 55:7069 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:7170 ۔” فیھن “ یعنی چاروں جنتوں میں ” خیرات حسان “ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہا مجھے اللہ تعالیٰ کے قول ” خیرات حسان “ کے بارے میں خبر دیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا عمدہ اخلاق خوبصورت چہروں والی۔
Ayah 55:7271 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:7372 ۔” حور مقصورات “ محبوس سیجوں میں چھپی ہوئی۔ کہا جاتا ہے امراۃ مقصورۃ و قصیرۃ “ جب وہ پردہ نشین چھپی ہوئی ہو باہر نہ نکلتی ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی انہوں نے اپنی نگاہوں کو اور اپنے آپ کو اپنے خاوندوں پر بند کردیا ہو ان کے بدلہ کچھاور نہ چاہتی ہوں۔ نبی کریم ﷺ سے ہم تک روایت پہنچی کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر اہل جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کو روشن کردے گی اور ان کے درمیان کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس کے پر اس کا آدھا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے ۔ ” فی الخیام “ خیمۃ کی جمع ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک مومن کے لئے جنت میں ایک خیمہ ہے ایک کھوکھلے موتی کا اس کی چوڑائی ستر میل ہے اس کے ہر جانب میں اس کے اہل ہیں وہ دوسروں کو نہیں دیکھ سکتے مومن ان پر چکر لگائے گا۔
Ayah 55:7473 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:7574 ۔” لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان۔
Ayah 55:7675 ۔ فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:7776 ۔” متکئین علی رفرف خضر “
سیعد بن جبیر (رح) فرماتے ہیں الرفرف جنت کا سرسبز و شاداب باغ ہے اور یہ ابن عباس ؓ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ اس کا واحد رفرفتہ ہے اور فرمایا الرفارف جمع کی جمع ہے اور کہا گیا ہے الرفرف بچھونا ہے اور حسن، مقاتل اور قرظی رحمہم اللہ کا قول ہے اور عوفی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ الرفرف فضول المجالس وابسط ہے اور ضحاک (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ فرش کے اوپر سبز نشست گاہیں اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں وہ کہنیاں ہیں۔ اور ابن عینیہ رابی نے کہا اور ان کے غیر نے کہا ہر چوڑا کپڑا عرب کے ہاں رفرف ہے۔ ” وعبقری حسان “ وہ گدے اور موٹی چٹائیاں ۔ یہ جمع ہے اس کا واحد ” عبقریۃ “ ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں خش ہر کپڑا عرب کے ہاں عبقری ہے اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں یہ اس زمین کی طرف منسوب ہے جہاں نقش ونگار کا کام ہوتا ہے ۔ قلیل (رح) فرماتے ہیں ہر عمدہ نفیس قابل فخر مردوں اور ان کے علاوہ میں سے عرب کے ہاں عبقری ہے اور اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول حضرت عمر ؓ کے بارے میں ہے ” میں نے عمر جیسا حیرت انگیز شخص نہیں دیکھا جو اس کی طرح سیراب کرتا ہوں “۔
Ayah 55:7877 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔