Ayah 53:4140 ۔” وان سعیہ سوف یریٰ “ اس کے میزان میں قیامت کے دن ” اریتہ بالشیئ “ سے ہے۔
Ayah 53:4241 ۔” ثم یجزاہ الجزاء الارفی “ مکمل یعنی انسان اپنی سعی کی جزاء دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے ” جزیت فلانا سعیہ وبسعیہ “ شاعر کہتا ہے : تو علقمہ ابن سعد کو اس کی سعی کی جزاء دے میں اس کو ایک دن کی مصیبت کی بھی جزاء نہیں دے سکتا۔ پس ساعر نے دونوں لغتوں کو جمع کردیا ہے۔
Ayah 53:4342 ۔” وان الی ربک المنتھیٰ “ یعنی مخلوق کی انتہا اور ان کا لوٹنا اس کی طرف ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا اور کہا گیا ہے اسی سے احسان کی ابتداء ہے اور اس کی طرف امیدوں کی انتہاء ہے۔ ابی بن کعب ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وان الی ربک المنتھیٰ “ کے بارے میں روایت کیا ہے ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ رب تعالیٰ کے بارے میں غور وفکر نہ کرو، یہ اس کی مثل ہے جو ابوہریرہ ؓ سے مرفوع روایت کی گئی ہے کہ تم مخلوق میں غور و فکر کرو، خالق میں غور و فکر ن کرو کیونکہ غور و فکر اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 53:44اضحک وابکی کی تفسیر
43 ۔” وانہ ھو اضحک وابکی “ پس یہ دلالت کرتا ہے کہ جو کچھ انسان عمل کرتا ہے پس اس کی قضاء اور خلق ہے حتیٰ کہ ہنسنا اور رونا بھی۔ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اہل جنت کو جنت میں ہنسایا جائے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں رلایا جائے گا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں زمین کو نباتات کے ذریعے ہنساتا ہے اور آسمان کو بارش کے ذریعے رلاتا ہے۔ عطاء بن ابی مسلم (رح) فرماتے ہیں یعنی خوشی اور غم دیتا ہے۔ اس لئے خوشی ہنسنے کو لاتی ہے اور غم رونے کو۔ سماک بن حرب کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ ؓ کو کہا کیا آپ ؓ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ کرام بیٹھتے تھے اور شعروشاعری کرتے تھے اور جاہلیت کی کچھ چیزوں کو ذکر کرتے تھے، پس وہ ہنستے تھے اور آپ (علیہ السلام) ان کے ساتھ مسکراتے تھے جب وہ ہنستے۔ ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ ہنستے تھے ؟ فرمایا ہاں اور ایمان ان کے دلوں میں پہاڑوں سے بڑا ہوتا تھا۔
Ayah 53:4544 ۔” وانہ ھو امات واحیا “ یعنی دنیا میں موت دی اور بعث کے لئے زندہ کیا اور کہا گیا ہے کہ آباء کو موت دی اور اولاد کو حیات دی اور کہا گیا ہے کہ کافر کو عدم معرفت کے ذریعے موت دی اور مومن کو معرفت کے ذریعے زندگی دی۔
Ayah 53:4645 ۔” وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ “ ہر حیوان سے۔
Ayah 53:4746 ۔” من نطفۃ اذا تمنی “ یعنی رحموں میں ٹپکایا جائے۔ کہا جاتا ہے ” منی الرجل وامنیٰ “ ضحاک اور عطاء بن ابی رباح رحمہما اللہ نے کہا ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے تقدر کہا جاتا ہے ” منیت الشیء اذا قدرتہ “ جب تو اس کا اندازہ لگالے۔
Ayah 53:4847 ۔” وان علیہ النشاۃ الاخریٰ “ یعنی بعث کے لئے دوبارہ پیدا کرنا قیامت کے دن۔
Ayah 53:4948 ۔” وانہ ھو اغنی واقنی “ ابو صالح (رح) فرماتے ہیں لوگوں نے مال دے کر غنی کردیا اور قنیہ اور اموال کے اصول دیئے اور وہ چیز جو وہ ضرورت کے بعد ذخیرہ کرتے ہیں۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں سونے، چاندی اور جانوروں کی قسموں اونٹ، گائے، بکریوں کے ذریعے مال دار کردیا۔ قتادہ (رح) اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” اقنیٰ “ یعنی ان کی خدمت کی اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” اغنیٰ واقنیٰ “ ان کو دیا۔ پس ان کو راضی کردیا۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” اقنیٰ “ جو دیا اس پر راضی کیا اور قناعت دی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” اغنیٰ “ زیادہ دیا اور ” اقنیٰ “ کم دیا اور پڑھا ” یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر “ اور اخفش (رح) فرماتے ہیں ” اقنیٰ “ تنگ دست کیا۔ ابن کیسان (رح) فراتے ہیں اولاد دی۔
Ayah 53:5049 ۔” وانہ ھو رب الشعری “ یہ ستارہ ہے جو زاہ کے پیچھے اور یہ دو شعراء ہیں ان میں سے ایک کو عبور اور دوسرے کو غمیصاء کہا ہے۔ اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ دوسرے مخفی ہے اور ان دونوں کے درمیان چلنا ہے اور یہاں شعر عبور مراد ہے خزاعہ اس کی عبادت کرتے تھے اور پہلا شخص جس نے ان کے لئے یہ طریقہ جاری کیا ان کا سردار تھا اس کو ابو کبشہ کہا جاتا تھا۔ اس نے اس کی عبادت کی اور کہا اس لئے کہ ستارے آسمان کو عرضاً (چوڑائی) میں طے کرتے ہیں اور شعراء لمبائی میں۔ پس وہ ان کا مخالف ہے۔ پس اس کی خزاہ عبادت کی۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے عرب کے دین کی مخالفت کی تو انہوں نے آپ (علیہ السلام) کا نام ابن ابی کبشہ رکھا کیونکہ آپ (علیہ السلام) نے ان کی ایسی مخالفت کی تھی جیسے ابو کبشہ نے شعر کی عبادت میں ان کی مخالفت کی تھی۔
Ayah 53:5150 ۔” وانہ اھلک عادان الا ولیٰ “ اہل مدینہ اور اہل بصرہ نے دال کے بعد لام مشدد کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی وائو کو قالون نے نافع سے ہمزہ روایت کیا ہے اور عرب ایسے کرتے ہیں۔ پس کہتے ہیں ” قم لان عنا “ مرادہوتی ہے ” قم الان عنا “ اور وقف ان کے نزدیک عاداً ہوگا اور ابتداء اولیٰ ایک ہمزہ مفتوح کے ساتھ اس کے بعد لام مضموم اور ابتداء ” لولیٰ “ بھی جائز ہے ہمزہ مفتوحہ کو حذف کرکے اور دیگر حضرات نے ” عادا الاولیٰ “ پڑھا ہے اور یہ ہود (علیہ السلام) کی قوم ہے جو تیز ٹھنڈی ہوا کے ذریعے ہلاک کیے گئے۔ پھر ان کے بعد آئے تو وہ ” عاداخریٰ “ ہوئے
Ayah 53:5251 ۔” وثمود “ اور یہ صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو چیخ کے ذریعے ہلاک کردیا۔ ” فما ابقیٰ “ ان میں سے کسی کو۔
Ayah 53:5352 ۔” وقوم نوح من قبل “ یعنی نوح کو عاد وثمود سے پہلے ہلاک کردیا۔ ” انھم کانوا ھم اظلم واطغیٰ “ نوح عیہ السلام کے ان کو لمبا عرصہ دعوت دینے کی وجہ سے اور ان کے اللہ پر معصیت اور تکذیب کے ساتھ سرکشی کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 53:5453 ۔” والمئوتفکۃ “ یعنی قوم لوط کی بستیوں کو۔ ” اھویٰ “ گرادیا یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کو آسمان کی طرف اٹھانے کے بعد گرادیا۔
Ayah 53:5554 ۔” فغشاھا “ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہنا دیا۔ ” ماغشی “ یعنی پتھر تہہ بہ تہہ نشان زدہ۔
Ayah 53:5655 ۔” فبای آلاء ربک “ اپنے رب کی نعمتوں کی اے انسان۔ اور کہا گیا کہ ولید بن مغیرہ مراد ہے۔ ” تتماریٰ “ تو شک کرتا ہے اور جھگڑا کرتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تو جھٹلاتا ہے۔
Ayah 53:5756 ۔” ھذا نذیر “ یعنی محمد ﷺ ۔ ” من النذر الاولیٰ “ یعنی ان کا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہو جیسا کہ وہ ان کی قوموں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمد ! ﷺ آپ ڈرائیں جیسے آپ ﷺ سے پہلے رسولوں نے ڈرایا ہے۔
Ayah 53:5857 ۔” ازفت الآزفۃ “ قیامت قریب ہوگئی۔
Ayah 53:5958 ۔” لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ “ یعنی ظاہر کرنے والا قائم کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” لا یجلیھا لوقتھا الاھو “ کی وجہ سے اوھاء اس میں مبالغہ کے لئے ہے یا اس تقدیر پر نفس کاشفۃ اور یہ بھی جائز ہے کہ کاشفۃ مصدر ہو خیالۃ اور عافیۃ کی طرح اور معنی یہ ہے کہ اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا نہیں ہے یعنی نہ اس کو کھول سکتا ہے اور نہ ظاہر کرسکتا ہے اس کا غیر اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ اس کو رد کرنے والا کوئی نہیں جب اس کی ہولناکیاں اور سختیاں مخلوق کو ڈھانپ لیں گی تو ان سے اس کو کوئی دور نہ کرسکے گا۔ یہ عطاء اور قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ کے قول کا معنی ہے۔
Ayah 53:6059 ۔” افمن ھذا الحدیث “ یعنی قرآن ” تعجبون “۔
Ayah 53:6160 ۔” وتضحکون “ مذاق اڑاتے ہوئے۔ ” ولا تبکون “ اس میں موجود وعدو وعید کی وجہ سے۔
Ayah 53:6261 ۔” وانتم سامدون “ تم بےپروا غافل ہو اور السمود کسی شے سے غافل ہونا اور کھیل کود کرنا۔ کہا جاتا ہے ” دعا ننا سمودک “ یعنی ” لھوک “ یہ والبی اور عوفی رحمہما اللہ کی روایت ہے۔ ابن عباس ؓ سے اور عکرمہ (رح) نے ان سے نقل کیا ہے کہ یہ اہل ایمان کی لغت میں گانا ہے وہ لوگ جب قرآن سنتے تو گانے لگتے اور کھیل کود کرتے اور ضحاک (رح) فرماتے متکبر ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” مبروطون “ ان سے پوچھا گیا برطمہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اعراض کرنا۔