Ayah 52:4140 ۔” ام تسالھم اجرا “ اس پر جو آپ ان کے پاس لائے ہیں اور ان کو دین کی طرف دعوت دی ہے۔ ” فھم من مغرم مثقلون “ ان کو اس تاوان نے بوجھل کردیا ہے جس کا آپ نے اس سے سوال کیا ہے۔ پس اس نے ان کو اسلام سے روک دیا ہے۔
Ayah 52:4241 ۔” ام عندھم الغیب “ یعنی اس کا علم جوان سے غائب ہوگیا حتیٰ کہ انہوں نے جان لیا کہ جو ان کو رسول خبر دے رہے ہیں قیامت اور بعث کے امر کی وہ باطل ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ ان کے قول ” نتربص بہ ریب المنون “ کا جواب ہے۔ فرماتے ہیں کہ کیا ان کے پاس غیب علم ہے حتیٰ کہ انہوں نے جان لیا کہ محمد ﷺ ان سے پہلے مرجائیں گے ؟ ” فھم یکتبون “ قتیبی (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ فیصلہ کرتے ہیں اور کتاب حکم کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان دو شخصوں کو کہا جو آپ (علیہ السلام) کی طرف مقدمہ لائے۔ ” اقضیٰ بینکما یکتاب اللہ “ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے ذریعہ کروں گا۔ یعنی اللہ کے حکم کے ذریعے فیصلہ کروں گا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے یا ان کے پاس لوح محفوظ ہے۔ پس وہ جو کچھ اس میں ہے لکھتے ہیں اور اس کی لوگوں کو خبر دیتے ہیں ؟
Ayah 52:4342 ۔” ام یریدون کیدا “ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ مکرتا کہ آپ (علیہ السلام) کو ہلاک کردیں۔ ” فالذین کفروا ھم الکیدون “ یعنی وہی اپنے مکر کا بدلہ دیئے جائیں گے۔ مراد یہ ہے کہ ان کے مکر کا نقصان ان پر لوٹے گا اور ان کا مکر ان کو گھیر لے گا ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ انہوں نے دارالندوہ میں مکر کیا اور بدر میں مارے گئے۔
Ayah 52:4443 ۔” ام لھم الہ غیر اللہ “ ان کو رزق دیتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔ ” سبحان اللہ عما یشرکون “ خلیل (رح) فرماتے ہیں جو اس سورة میں کلمہ ام ذکر کیا گیا ہے وہ کلمہ استفہام ہے عطف نہیں ہے۔
Ayah 52:4544 ۔” وان یروا کسفا “ ٹکڑا۔ ” من السماء ساقطا “ یہ جواب ہے ان کے قول ” فاسقط علینا کسفا من السمائ “ کا۔ فرماتے ہیں اگر ہم ان کو عذاب دے دیں آسمان کے بعض حصہ کا ان پر گرا کر تو وہ اپنے کفر سے باز نہ آئیں گے۔ ” یقولوا “ اپنی ضدوعناد کی وجہ سے۔ ” سحاب مرکوم “ تہ بتہ ہم پر بر سے گا۔
Ayah 52:4645 ۔” فذرھم حتی یلاقوا “ وہ معائنہ کرلیں۔” یومھم الذی فیہ یصعقون “ وہ مرجائیں گے یعنی حتیٰ کہ وہ موت کا معائنہ کرلیں۔ بن عامر اور عاصم رحمہما اللہ نے ” یصعقون “ یاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہلاک کیے جائیں گے۔
Ayah 52:4746 ۔” یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیئا ولا ھم ینصرون “ یعنی ان کو ان کا مکر موت کے دن نفع نہ دے گا اور عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
Ayah 52:4847 ۔” وان للذین ظلموا “ کفر کیا۔ ” عذابادون ذلک “ یعنی دنیا میں عذاب ہے آخرت کے عذاب سے پہلے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی بدر کے دن قتل۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ بھوک اور سال سال کا قحط ہے۔ براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں وہ قبر کا عذاب ہے۔” ولکن اکثرھم لا یعلمون “ کہ عذاب ان پر اترنے والا ہے۔
Ayah 52:4948 ۔” واصبر لحکم ربک “ یہاں تک کہ ان پر وہ عذاب واقع ہو جس کا ہم نے ان پر فیصلہ کیا ہے۔ ” فانک باعیننا “ یعنی ہماری نگاہ میں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو وہ آپ کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس حیثیت پر ہیں کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) کی حفاظت کریں گے۔ پس وہ آپ (علیہ السلام) کو ناپسند چیز نہ پہنچا سکیں گے۔ ” وسبح بحمد ربک حین تقوم “ سعیدبن جبیر (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں یعنی جب آپ (علیہ السلام) مجلس سے کھڑے ہوں تو یہ کہیں ” سبحانک اللھم وبحمدک “ پس اگر مجلس خیر کی ہوگی تو نیکیاں زیادہ ہوجائیں گی اور اگر اس کے علاوہ ہوگی تو یہ اس کے لئے کفارہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی مجلس میں بیٹھا۔ پس اس میں اس کا شور زیادہ ہوجائے تو وہ کھڑا ہونے سے پہلے یہ کہہ لے ” سبحانک اللھم وبحمدک اشھدان لاالہ الا انت، استغفرک واتوب الیک “ تو وہ اس کا کفارہ ہوجائے گا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھیں جب آپ (علیہ السلام) اپنی جگہ سے کھڑے ہوں۔
ضحاک اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب تو نماز کی طرف کھڑا ہو تو ” سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک والا الہ غیرک “ کہہ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو کہتے ” سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک وال الہ غیرک “ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ اللہ کا ذکر زبان کے ساتھ کرتا ہے جب آپ بستر سے کھڑے ہوں یہاں تک کہ وہ نماز میں داخل ہوجائیں۔ عاصم بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ کس چیز کے ساتھ رات کے قیام (تہجد) کو شروع کرتے ؟ انہوں نے فرمایا جب کھڑے ہوتے تو دس مرتبہ تکبیر کہتے اور اللہ کی حمد کرتے دس مرتبہ اور اللہ کی تسبیح کرتے دس مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے دس مرتبہ اور استغفار کرتے دس مرتبہ اور کہتے ” اللھم اغفرلی واھدنی وارزقنی وعافنی “ اور قیامت کے دن تنگ جگہ سے پناہ مانگتے۔