50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 50:41

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہہ کیا کرو

40 ۔” ومن اللیل فسبحہ “ یعنی مغرب اور عشاء کی نماز اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” ومن اللیل “ یعنی رات کی نماز جس وقت بھی پڑھے۔” وادبارالسجود “ اہل حجاز اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” وادبار السجود “ ہمزہ کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔” مصدرادبر ادبارا “ اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے دبر کی جمع۔ ادبار السجود اور ادبار النجوم کی تفسیر عمر بن خطاب ؓ علی بن ابی طالب ؓ ، حسن، شعبی، نخعی اور اوزاعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” ادبار السجود “ مغرب کی نماز کے بعد دورکعتیں ہیں اور ” ادبار النجوم “ فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ہیں اور یہی عوفی کی بن عباس ؓ سے روایت ہے اور ان سے مرفوع بھی روایت ہے اور ان سے مرفوع بھی روایت کی گئی ہے۔ یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نوافل میں سے کسی چیز کی اتنی زیادہ پابندی نہ کرتے تھے جو صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتوں کی کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فجر کی دو رکعتیں دنیا اور مافیہا سے بہتر ہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ ﷺ کو کتنی بار مغرب کے بعد دو رکعتوں اور فجر سے پہلے دو رکعتوں میں ” قل یایھا الکافرون اور قل ھواللہ احد “ پڑھتے سنا۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا قول ” وادبار السجود “ زبان سے تسبیح کرنا فرض نمازوں کے بعد۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح کی اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا اور تینتیس مرتبہ اللہ کی حمد کی تو یہ ننانوے ہوگئے ۔ پھر سو (100) پورا کرنے کے لئے ” لا الہ الا اللہ وحد لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھر علی کل شیء قدیر “ تو اس کی تمام خطائیں بخش دی جائیں گی۔ اگرچہ سمندر کی جھاگ کی مثل ہوں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مال والے بلند درجات اور ہمیشہ کی نعمتیں لے گئے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ کیسے ؟ انہوں نے کہا وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح جہاد کرتے ہیں اور اپنے زائد مال سے خرچ کرتے ہیں اور ہمارے پاس اموال نہیں ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسے امر کی خبر نہ دوں جس سے تم اپنے سے پہلے لوگوں کو پالو گے اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جائو گے اور کوئی شخص تمہارے جیسا عمل نہ لائے گا مگر جو اس کی مثل کرے تم ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ تسبیح کرو، دس مرتبہ تحمید کرو اور دس مرتبہ تکبیر کہو۔
Ayah 50:42

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا

آیات 41-45 41 ۔” واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب “ یعنی اے محمد ! ﷺ قیامت اور شور کی چیخ کو توجہ سے تنیں جس دن آواز لگانے والا آواز دے گا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی اسرافیل (علیہ السلام) حشر کے دن آواز لگائیں گے۔ اے بوسیدہ ہڈیو اور جدا جوڑو ۔ اور پھٹے ہوئے گوشت اور بکھرے بالوں ! بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم جمع ہوجائو، واضح فیصلہ کے لئے قریب کی جگہ بیت المقدس کی چٹان سے اور وہ زمین کا وسط ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ آسمان کی طرف سب سے قریب ترین زمین ہے۔ اٹھارہ میل۔
Ayah 50:43

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

جس دن لوگ چیخ یقینا سن لیں گے وہی نکل پڑنے کا دن ہے

42 ۔” یوم یسمعون الصیحۃ بالحق “ اور وہ آخری چیخ ہے۔ ” ذلک یوم الخروج “ قبروں سے۔
Ayahs 50:44–45

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

اس دن زمین میں ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کر کھڑے ہو نگے یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے

42-43…” انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر یوم تشقق الارض عنھم سراعا “ سریع کی جمع یعنی وہ جلدی سے نکلیں گے۔ ” ذلک حشر علینا “ یہ جمع کرنا ہم پر ” یسیر “