46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اے قوم خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ (خدا) تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

تفسیر : 31 ۔” یاقومنا اجیبوا داعی اللہ “ یعنی محمد ﷺ ۔ ” وامنوا بہ یغفر لکم من ذنوبکم “ …” من “ صلہ ہے یعنی ذنوبکم تمہارے گناہوں کو۔ ” ویجر کم من عذاب الیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پس ان کی قوم میں سے ستر جنوں نے دعوت کو قبول کیا۔ پس وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور بطحاء میں آپ ﷺ کو پایا تو آپ (علیہ السلام) نے ان پر قرآن پڑھا اور ان کو حکم دیا اور نہی کی اور اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ آپ (علیہ السلام) جنوں اور انسانوں سب کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں آپ (علیہ السلام) سے پہلے کوئی جنوں و انسانوں کی طرف اکٹھے نہیں بھیجا گیا اور علماء کا اختلاف ہوا ہے جنوں میں سے مومنین کے حکم میں۔ پس ایک قوم نے کہا ہے کہ ان کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے سوائے جہنم سے نجات کے اور اللہ تعالیٰ کے قول ” یغفرلکم من ذنوبکم ویجرکم من عذاب الیم “ کی تاویل کی ہے اور اسی کی طرف امام ابوحنیفہ (رح) گئے ہیں۔ سفیان (رح) نے لیث سے نقل کیا ہے کہ جنوں کا ثواب یہ ہے کہ وہ آگ سے پناہ دیئے جائیں گے، پھر ان کو کہا جائے گا کہ تم مٹی ہوجائو اور یہ جانوروں کی طرح ہے اور ابوالزناد سے روایت ہے کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا تو مومنین جنوں سے کہا جائے گا تم مٹی ہوجائ۔ پس وہ مٹی ہوکر لوٹ جائیں گے۔ پس اس وقت کافر کہے گا ” یالیتنی کنت ترابا “ اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ ان کے لئے احسان (نیکیوں) میں ثواب ہوگا۔ جیسا کہ برائیاں کرنے میں ان پر عتاب ہوگا انسانوں کی طرح اور اسی کی طرف مالک اور ابن ابی لیلیٰ گئے ہیں۔ جریر نے صحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ جن جنت میں داخل ہوں گے اور کھائیں پئیں گے اور نقاش (رح) نے اپنی تفسیر میں حدیث ذکر کی ہے کہ وہ جن میں داخل ہوں گے۔ پس کہا گیا کہ کیا وہ جنت کی نعمتیں حاصل کریں گے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰان کو اپنی تسبیح اور ذکر الہام کریں گے۔ پس وہ اس کی وجہ سے ایسی لذت محسوس کریں گے جیسے بنو آدم جنت کی نعمتوں سے حاصل کریں گے۔ ارطاۃ بن منذر (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ضمرہ بن حبیب سے پوچھا کیا جنوں کو ثواب ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اور پڑھا ’ لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان “ فرمایا پس انسانی عورتیں انسانوں کے لئے اور جنات کی عورتیں جنوں کے لئے۔ عمر بن عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ مومنین جن جنت کے ارد گرد مضافات میں ہوں گے جنت میں نہیں ہوں گے۔
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اسکے سوا اس کے حمایتی ہوں گے یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں

32 ۔ ” ومن لایجب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض “ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا کہ اس سے چھوٹ جائے۔ ” ولیس لہ من دونہ اولیائ “ مددگار جو اس کو اللہ سے بچا سکیں۔” اولئک فی ضلال مبین “
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور انکے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

33 ۔” اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والارض ولم یعی بخلقھن “ ان کے از سر نو پیدا کرنے سے عاجز نہیں آیا۔ ” بقادر “ اسی طرح اکثر حضرات کی قرات ہے اور اس پر باء کے داخل ہونے کی وجہ سے ان کا اختلاف ہوا ہے۔ پس ابوعبیدہ اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ باء زائد ہے تاکید کے لئے۔ جیسے اس کا قول ” تنبت بالدھن “ اور یعقوب نے یقدر یاء کے ساتھ فعل پڑھا ہے اور ابوعبیدہ (رح) نے اکثر حضرات کی قرات کو اختیار کیا ہے۔ اس لئے کہ عبداللہ ؓ کی قرات میں قادر بغیر باء کے ہے۔ ” علی ان یحیے الموتی بلی انہ علی کل شیء قدیر “۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

اور جس روز انکار کرنے والے آگ کے سامنے کئے جائیں گے کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

تفسیر : آیات 34-35 34 ۔” فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں احتیاط والے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کوشش وصبر والے اور ان کت تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ تمام رسول اولوالعزم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جو پختہ ارادہ و احتیاط والا اور کامل رائے اور کامل عقل والا نہ ہو اور من کو جنس کے لئے داخل کیا گیا ہے نہ کہ تبعیض کے لئے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اشتریت اکسیۃ من الخزوا ردیۃ من البز “ میں نے ریشم اور اون کے بنے ہوئے کپڑے خریدے اور روئی کے کپڑے کی چادریں خریدیں اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ سارے انبیاء (علیہم السلام) اولوالعزم تھے سوائے یونس بن متی (علیہ السلام) کے کیوں کہ ان سے ایک عجلت ہوچکی ہے۔ کیا تو نہیں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کو کہا گیا ہے ” ولا تکن کصاحب الحوت “ اور ایک قوم نے کہا ہے کہ وہ منتخب رسول ہیں جن کا تذکرہ سورة الانعام میں کیا گیا ہے اور وہ اٹھارہ ہیں کیونکہ ان کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ “ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن کو جہاد کا حکم دیا گیا اور ان سے دین کے دشمنوں کے ساتھ کھلی دشمنی ظاہر کی اور کہا گیا ہے کہ وہ چھ ہیں نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب اور موسیٰ (علیہم السلام) اور اس ترتیب پر ان کا ذکر سورہو الاعراف اور شعراء میں کیا گیا ہے۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وہ چھ ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی تکلیف پر صبر کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ پر صبر کیا اور اسحاق (علیہ السلام) نے ذبح پر صبر کیا اور یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کے گم ہونے اور بینائی جانے پر صبر کیا اور یوسف (علیہ السلام) نے کنویں اور قید پر صبر کیا اور ایوب (علیہ السلام) نے تکلیف پر صبر کیا اور ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) صاحب شریعت انبیاء ہیں۔ پس یہ محمد ﷺ کے ساتھ پانچ ہوگئے۔ میں کہتا ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کا تذکرہ تخصیص کے ساتھ کیا ہے اپنے قول ” واذاخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن لوح وابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم “ میں اور اپنے قول ” شرع لکم من الدین ماوصی بہ وحا “ میں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! ؓ بیشک دنیا میں اور آل محمد ( ﷺ ) کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اے عائشہ ! ؓ بیشک اللہ تعالیٰ اولوالعزم رسولوں سے صرف اس کی ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے اور مشقت پر صبر کرنے سے راضی ہوئے ہیں اور مجھ سے اس بات پر راضی ہوئے کہ مجھے ان باتوں کا مکلف بنایا جس کا ان کو مکلف بنایا تھا اور فرمایا ” فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل “ اور اللہ کی قسم ! میرے لئے اس کی فرمانبرداری کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اللہ کی قسم میں بھی صبر کروں گا جیسا کہ انہوں نے صبر کیا اور میں کوشش کروں گا جیسا کہ انہوں نے کوشش کروں گا جیسا کہ انہوں نے کوشش کی اور نہیں ہے کوئی قوت مگر اللہ کی طرف سے۔ ” ولا تستعجل لھم “ یعنی اور آپ ان کے لئے عذاب کو جلدی طلب نہ کریں کیونکہ وہ ان پر لامحالا اترنے والا ہے۔ گویا کہ آپ (علیہ السلام) کو تھوڑی گھٹن ہوئی تو دل چاہا کہ ان میں سے انکار کرنے والوں پر عذاباترے تو آپ (علیہ السلام) کو صبر کرنے اور استعجال کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ پھر عذاب کے قریب آنے کی خبر دی گئی۔ پس فرمایا ” کانھم یوم یرون مایوعدون “ آخرت میں عذاب کی۔ ” لم یلبثوا “ دنیا میں ” الا ساعۃ من نھار “ یعنی جب انہوں نے عذاب کا معائنہ کرلیا تو دنیا اور برزخ میں ان کا لمبی مدت ٹھہرنا ایسے ہوگا گویا کہ دن کی ایک گھڑی ہے۔ اس لئے کہ جو گزر گیا ہے اگرچہ طویل ہے گویا کہ وہ ہوا ہی نہیں۔ پھر فرمایا ” بلاغ “ یعنی یہ قرآن اور جو اس میں بیان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بلاغ یعنی تبلیغ ہے۔ ” فھل یھلک “ عذاب کے ساتھ جب وہ اتر آئے۔ ” الاالقوم الفاسقون “ جو اللہ کے حکم سے نکلنے والے ہیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کے ساتھ نہیں ہلاک ہوتی مگر فاسق قوم اور اس لئے ایک قوم نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کے بارے میں اس آیت سے قوی تر کوئی آیت نہیں۔