42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

تفسیر 40۔ ، وجزاء سیئۃ مثلھا، بدلہ کو بھی سیئہ کا نام دیا گیا ہے۔ اگر چہ یہ سیئہ نہیں ہے اس لیے کہ ان کی صورت ایک جیسی ہے مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی زخموں اور خون میں قصاص۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے بری بات کا جواب دینا مراد ہے۔ جب کوئی تجھے کہے رسواکرے تو تو بھی کہہ اللہ تجھے رسواکرے اور جب تجھے برا بھلاک ہے تو تو بھی اسی کی مثل برابھلا کہہ لیکن حد سے نہ بڑھ۔ سفیان بن عیینہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری (رح) سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا، کی تفسیر کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی تجھے برابھلا کہے تو تو اس کو برابھلا کہہ یا اگر تیرے ساتھ کچھ کیا جائے تو تو بھی ویسا کر۔ پس میں نے ان کے پاس کچھ نہیں پایا تو میں نے ہشام بن حجیرہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب کوئی شخص زخم لگائے تو اس سے بدلہ لیاجائے گا اور آیت کا مطلب یہ نہیں کہ اگر تجھے برابھلا کہے تو تو اس کو برابھلاکہہ۔ پھر معافی کو ذکر کیا اور فرمایا، فمن عفا، اس کو جس نے اس پر ظلم کیا۔ ، واصلح، معافی کے ساتھ اپنے اور ظالم کے درمیان ، فاجرہ علی اللہ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز لگانے والا آوازلگائے گا کہ جس شخص کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجرہوتو وہ کھڑا ہوجائے تو صرف وہی شخص کھڑا ہوگا جس نے معاف کیا ہوگا۔ پھر یہ آیت پڑھی، انہ لایحب الظالمین، ابن عبا س ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو ظلم کی ابتداء کرتے ہیں۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں

41، ولمن انتصر بعد ظلمہ ، یعنی ظالم کے اس پر ظلم کرنے کے بعد ، فاولئک ، یعنی انتقام لینے والے۔ ، ما علیھم من سبیل، سزا اور مؤخذہ کی۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا

42، انما السبیل علی الذین یظلمون الناس، ظلم کی ابتداء کرتے ہیں۔ ، ویبغون فی الارض بغیر الحق، اس میں نافرمانی والے کام کرتے ہیں۔ ، اولئک لھم عذاب الیم،
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں

43، ولمن صبر وغفر، اور انتقام نہیں لیا۔ ، ان ذ(رح) لک ، صبر اور تجاوزکرنا۔ ، لمن عزم الامور، حق اور احتیاط والے امور میں سے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان امور میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والے کو اس کے صبر کا ثواب دیاجائے گا تو تو ثواب میں رغبت کرنا زیادہ مکمل عزم ہے۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟

44، ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ، پس اس کے لیے کوئی ایسا نہیں جو اس کو ہدایت دینے کا ولی بنے گا اللہ تعالیٰ کے، اس کو گمراہ کرنے کے بعد یا اس کو عذاب الٰہی سے بچائے۔ ، وتری الظالمین لماراو ا العذاب ، قیامت کے دن ۔ ، یقولون ھل الی مرد من سبیل، وہ دنیا میں لوٹنے کا سوال کریں گے۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے اور مومن لوگ کہیں گے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا دیکھو ! کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے

تفسیر 45۔ ، وتراھم یعرضون علیھا، آگ پر، خاشعین، عاجزی ، انکساری کے ساتھ ۔ ، من الذل ینظرون من طرف خفی، جھکی نظروں سے کیونکہ ان پر ذلت ہوگی، وہ چپکے سے آگ پر نگاہ ڈالیں گے ڈرتے ہوئے اور اپنے دل میں ذ(رح) لت محسوس کرتے ہوئے ۔ اور کہا گیا ہے، من، باء کے معنی میں ہے یعنی بطرف خفی ضعیف من الذل۔ اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، من طرف خفی، کہا ہے اس لیے کہ وہ اپنی پوری آنکھ نہ کھولے گا صرف تھوڑی آنکھ سے دیکھے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آگ کی طرف اپنے دلوں سے دیکھیں گے۔ اس لیے کہ وہ اندھے ہونے کی حالت میں جمع کیے جائیں گے اور دل سے دیکھنا خفی (ہلکا) ہے۔ ، وقال الذین امنوا ان الخاسرین الذین خسروا انفسم واھلیھم یوم القیامۃ کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا خسارہ کیا کیوں کہ وہ جہنم اور اپنے اہل کی طرف لوٹے ۔ ، الا ان الظالمین فی عذاب مقیم،
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں

46، وماکان لھم من اولیاء ینصرونھم من دون اللہ ومن یضلل اللہ فما لہ من سبیل ، دنیا میں درستگی اور حق تک پہنچنے کا راستہ اور آخرت میں جنت تک پہنچنے کا راستہ تحقیق ان پر خیر کے راستے بند کردیئے گئے۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

(ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آموجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا

47، استجیبو الربکم ، اللہ کے داعی یعنی محمد ﷺ کی دعوت قبول کرو۔ ، من قبل ان یاتی یوم لامردلہ من اللہ، قیامت کے دن کوئی شخص اس کے دور کرنے پر قادرنہ ہوگا۔ ، مالکم من ملجا، جس کی طرف تم پناہ حاصل کرو۔ ، یومئذومالکم من نکیر، منکرجوتمہاری حالت کو تبدیل کردے۔
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے

48، فان اعرضوا، لبیک کہنے سے۔ ، فماارسلناک علیھم حفیظا ان علیک نہیں ہے آپ پر، الا البلاغ وانا اذا قنا الانسان منارحمۃ ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی غنا اور صحت ، فرح بھاوان تصبھم سیئۃ، قحط، بما قلمت ایدیھم فان الانسان کفور، یعنی اللہ تعالیٰ کی گزشتہ تمام نعمتوں کا سختی سے انکار کرتا اور بھول جاتا ہے۔
Ayah 42:50

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

تمام بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخش دیتا ہے

49، للہ ملک السموات والارض، اس کے لیے ان میں تصرف کا حق ہے جو بھی اورادہ کرے۔ ، یخلق مایشاء یھب لمن یشاء اناثا، پس اس کی مذکراولا د نہیں ہوتی۔ کہا گیا ہے کہ عورت کی برکت میں یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مومؤنث کا ذکر پہلے کیا ہے۔ ، ویھب لمن یشاء الذکور، پس اس کی مؤنث اولاد نہیں ہوتی ۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

تفسیر 50۔ ، اویزوجھم ذکرانا واناثا، اس کے لیے یہ دونوں جمع ہوجائیں ۔ پس اس کی مذکرومؤنث اولا دہوں ، ویجعل من یشاء عقیما، پس اس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ کہا گیا ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ۔ ، یھب لمن یشاء اناثا، یعنی لوط (علیہ السلام) کہ ان کا کوئی بیٹا نہ تھا صرف دوبیٹیاں تھیں۔ ، ویھب لمن یشاء الذکور، یعنی ابراہیم (علیہ السلام) ان کی کوئی بیٹی نہ تھی۔ ، اویزوجھم ذکراناواناثا، یعنی محمد ﷺ کہ آپ (علیہ السلام) کے بیٹے ، بیٹیاں سب تھے۔ ، ویجعل من یشاء عقیما، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اور یہ مثال کے طور پر ہے ورنہ آیت عام ہے تمام لوگوں کے حق میں ، انہ علیم قدیر،
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے

51، وماکان لبشران یکلمہ اللہ الاوحیا، اور یہ اس وجہ سے کہ یہودنے نبی کریم ﷺ کو کہا اگر آپ (علیہ السلام) نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے کلام اور زیارت کیوں نہیں کی جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کلام اور ان کی زیارت کی ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ، وماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا، اس کی طرف وحی کرے نیند میں یا الہام کے ذریعے۔ ، او من وراء حجاب ، کہ اس کو اپنی کلام سنائے اور اس کونہ دیکھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے کلام کی۔ ، اویرسل رسولا، جبرئیل (علیہ السلام) یا ان کے علاوہ فرشتوں سے۔ ، فیوحی باذنہ مایشائ، یعنی وہ رسول مرسل الیہ کی طرف وحی کرے گا اللہ کی اجازت کے ساتھ جو چاہے ۔ نافع (رح) نے ، اویرسل، لام کی پیش کے ساتھ ابتداء کی بناء پر پڑھا ہے۔ ، فیوحی، یاء ساکن کے ساتھ اور دیگر حضرات نے لام اور یاء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ وحی کے محل پر عطف کرتے ہوئے اس لیے کہ اس کا معنی کسی بندہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کلام کریں مگر یہ کہ اس کی طرف وحی کریں یارسول بھیجیں ۔ ، انہ علی حکیم،
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے (سے قرآن) بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک (اے محمد ﷺ تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو

52، وکذلک، یعنی جیسے ہم نے اپنے سارے رسولوں کی طرف وحی کی۔ ، او حینا الیک روحامن امرنا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبوت اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ رحمت اور سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وحی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کتاب اور ربیع (رح) فرماتے ہیں جبریل اور مالک بن دینا (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن ، ماکنت تدری ، وحی سے پہلے ۔ ، ماالکتاب ولاالایمان، یعنی ایمان کے شرائع اور بڑی علامات ۔ محمد بن اسحاق بن خزیمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایمان سے اس جگہ نماز مراد ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وماکان اللہ لیضیع ایمانکم، ہے اور اہل اصول اس بات پر ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) وحی سے پہلے مؤمن تھے اور نبی کریم ﷺ وحی سے پہلے دین ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور آپ (علیہ السلام) کے یے دین کے شرائع واضح نہ ہوئے تھے۔ ، ولکن جعلناہ نورا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی ایمان اور سدی (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن ۔ ، نھدی بہ، ہم راستہ دکھاتے ہیں اس کے ذریعے۔ ، من نشاء من عبادنا وانک لتھدی، یعنی آپ (علیہ السلام) بلاتے ہیں۔ ، الی صراط مستقیم، یعنی اسلام۔