41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

40، ان الذین یلحدون فی آیاتنا، ہمارے دلائل میں حق سے اعراض کرتے ہیں اور مجاہدرحمہ فرماتے ہیں کہ تلیاں اور سیٹیاں اور شوروغل کرکے ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ضد اور مخالفت کرتے ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ، لا یخفون علینا افمن یلقی فی النار، اور وہ ابوجہل ہے۔ ، خیرام من یاتی امنا یوم القیامۃ، کہا گیا ہے کہ وہ حضرت حمزہ ؓ ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ حضرت عثمان ؓ ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ عماربن یاسرؓ ہیں۔ ، اعملواماشئتم ، یہ امرد ھم کی اور وعیدکا ہے۔ ، انہ بماتعملون بصیر، جاننے والا ہے۔ پس تم کو اس کی جزاء دے گا۔
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ انکے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی مرتبہ کتاب ہے

41، ان الذین کفروابالذکر، قرآن کا، لماجاء ھم، پھر ذکر کے وصف کو شروع کردیا اور، ان الذین کفروا، کے جواب کو چھوڑدیا ہے اس تقدیرپر کہ جو لوگ قرآن کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے کفرکابدلہ دیئے جائیں گے اور کہا گیا ہے کہ اس کی خبرباری تعالیٰ کا وہ قول ہے جو اس کے بعد ہے، اولئک ینادون من مکان بعید، وانہ لکتاب عزیز، کلبی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں معزز ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عزت دی ہے۔ پس باطل اس کی طرف راہ نہیں پائے گا۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اتاری ہوئی ہے

42، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ باطل وہ شیطان ہے جو اس کو تبدیل کرنے یا اس میں کمی و زیادتی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کمی کیے جانے سے محفوظ ہے کہ باطل اس کے سامنے سے آجائے اور زیادتی کیے جانے سے محفوظ ہے کہ باطل اس کے پیچھے سے آجائے اور اس معنی پر باطل کمی اور زیادتی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی تکذیب پہلی کتابوں سے نہیں آئی اور نہ اس کے بعد کوئی کتاب آئے گی جو اس کو باطل کردے۔ ، تنزیل من حکیم حمید، پھر ان کی تذیب پر اپنے نبی ﷺ کو تسلی دی۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

تم سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں بیشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی ہے اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے

43، اور فرمایا، مایقال لک، تکلیف سے۔ ، الا ماقد قیل للرسل من قبلک ، فرماتے ہیں کہ تحقیق انبیاء اور رسولوں کو بھی آپ (علیہ السلام) سے پہلے جادوگرکہا گیا۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) کو کہا گیا اور ان کی بھی تکذیب کی گئی ۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) کی تکذیب کی گئی ۔ ، ون ربک لذومغفرۃ، اس شخص کے لیے جو توبہ کرے اور آپ پر ایمان لائے۔ ، وذوعقاب الیم، اس شخص کے لیے جو تکذیب پر ڈٹ جائے۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اسکی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں کیا (خوب کہ قرآن تو عجمی) اور (مخاطب) عربی کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے

تفسیر 44۔ ، ولو جعلناہ، یعنی ہم اس کتاب کو بنادیتے ہیں جس کو آپ (علیہ السلام) لوگوں پر پڑھتے ہیں۔ ، قرآنا اعجمیا، لغت عرب کے علاوہ کے ساتھ۔ لقالوالو لافصلت آیاتہ، کیوں نہیں بیان کی گئیں اس کی آیات عربی میں تاکہ ہم ان کو سمجھ لیتے۔ ، ء اعجمی وعربی، یعنی کیا کتاب عجمی ہو اور رسول عربی ؟ یہ استفہام انکار کے لیے ہے۔ یعنی وہ کہتے جس پر اتاری گئی ہے وہ عربی ہے اور اتاری جانے والی کتاب غجمی ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ عامربن حضرمی کے غلامی یسار کے پاس آتے جاتے تھے۔ یہ غلام یہودی عجمی یعنی ابوفکیھہ ۔ تو مشرکین کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ باتیں یسار سکھاتا ہے۔ تو یہ بات سن کریسار کے آقانے اس کو مارا کہ تو محمد ﷺ کو یہ باتیں سکھا تا ہے تو یسارنے کہا کہ وہ مجھے سکھا تے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ، قل، اے محمد (ﷺ) ، ھو، یعنی قرآن ، للذین امنو اھدی وشفائ، دلوں کے لیے اور کہا گیا ہے کہ تکلیفوں سے شفاء ہے۔ ، والذین لایؤمنون فی آذانھم وقروھو علیھم عمی، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پس وہ اس سے نفع نہ حاصل کرسکے۔ ، اولئک ینادون من مکان بعید، یعنی بیشک وہ نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں جیسا کہ وہ شخص جو دور سے پکاراجائے نہ سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے اور یہ مثال دی گئی ہے کہ وہ جس چیز کے ذریعے نصیحت کیے جاتے ہیں اس سے بہت کم نفع اٹھا تے ہیں۔ گویا کہ وہ ایسی جگہ سے پکارے جارہے ہیں کہ وہ سن سکتے۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

45، ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فاختلف فیہ، پس اس کی تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے تھے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) کی قوم نے آپ (علیہ السلام) کی کتاب میں اختلاف کیا۔ ، ولولاکلمۃ سبقت من ربک قرآن کی تکذیب کرنے والوں سے عذاب مؤخر کرنے میں ، لقضی بینھم، ان کے عذاب سے فارغ ہوچکے ہوتے اور ان کو جلدی ہلاک کردیتے۔ ، وانھم لفی شک منہ، آپ (علیہ السلام) کی سچائی میں۔ ، مریب، ان کے لیے شک واقع کرنے والا ہے۔
Ayahs 41:47–48

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

تفسیر 47، الیہ یرد علم الساعۃ، یعنی جب قیامت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اس کا علم اسی کی طرف لوٹا یا جائے گا کہ اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ ، وماتخرج من ثمرات من اکما مھا، اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص رحمہم اللہ نے، ثمرات ، جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے، ثمرۃ، مفرد کا صیغہ پڑھا ہے۔ ، من اکمامھا، ان کے خوشوں سے۔ اس کا واحد، کم، ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے پھل کا خوشہ مراد ہے، کھلنے سے پہلے۔ ، وما تحمل من النثی ولاتضع الا بعلمہ، مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ فرماتے ہیں کہ اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹایاجاتا ہے۔ جیسا کہ اس کی طرف پھلوں اور ان کے نتیجے کا علم لوٹایاجاتا ہے۔ ، ویوم ینادیھم، اللہ تعالیٰ مشرکین کو آوازدیں گے۔ ، این شرکائی، جن کے بارے میں تم گمان کرتے تھے کہ وہ میرے شریک ہیں۔ ، قالوا، یعنی مشرکین ، آذناک، ہم نے آپ کو بتادیا۔ ، مامنامن شھید، یعنی اس بات پر کوئی گواہ نہیں کہ آپ کا کوئی شریک ہے۔ جب وہ عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو بتوں سے بےزاری ظاہرکریں گے۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں

48۔۔۔۔۔۔۔ وضل عنھم ماکانوایدعون، وہ عبادت کرتے تھے۔ ، من قبل، دنیا میں۔ ، وظنوا، ان کو یقین ہوگیا کہ ، مالھم من محیص ، بھاگنے کی جگہ۔
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے

49، لایسام الانسان، نہیں اکتاتاکافر۔ ، من دعاء الخیر، یعنی ہمیشہ وہ اپنے رب سے خیر یعنی مال و دولت اور صحت کا سوال کرتا رہتا ہے۔ ، وان مسہ الشر، سختی اور فقر، فیؤوس، اللہ کی روح سے، قنوط، اس کی رحمت سے۔
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو اور اگر قیامت سچ بھی ہو تو میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے پس کافر جو عمل کیا کرتے ہیں وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

50، ولئن اذقناہ رحمۃ منا، ہم اس کو دیں خیر اور عافیت اور غنا۔ ، من بعد ضرآء مستہ، اس سختی اور مصیبت کے بعد جو اس کو پہنچی تھی۔ ، لیقولن ھذالی، یعنی میرے عمل کی وجہ سے اور میں اس کا محبوب ہوں ۔ ومااظن الساعۃ قائمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی، یہ کافر کہے گا مجھے بعث کا کوئی یقین تھا۔ پس جب معاملہ ایسا ہے اور میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میرے لیے حسنی یعنی جنت ہوگی۔ یعنی جیسے اس نے مجھے دنیا میں دیا، عنقریب وہ مجھے آخرت میں بھی دے گا۔ ، فلننبئن الذین کفروابما عملوا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ان کو ان کے برے اعمال واقف کریں گے۔ ، ولنذیقنھم من عذاب غلیظ،
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے

51، واذا نعمنا علی الانسان اعرض ونابجانیہ الشرفذوادعاء عریض، زیادہ۔ اور عرب طول اور عرض کو کثرت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ جیسے کہاجاتا ہے اطال فلان الکلام والدعاواعرض ، یعنی اس نے زیادہ کلام کی اور زیادہ دعا کی۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو تو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق) کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

52، قل ارایتم ان کان ، یہ قرآن، من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھوفی شقاق بعید، حق کے خلاف اس سے دور یعنی کوئی شخص بھی تم سے زیادہ گمراہ نہیں ہے۔
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے ؟

53، سنریھم آیاتنا فی الافاق، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں کے مکانات۔ ، وفی انفسھم، آزمائش اور بیماریوں کے ذریعے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ، فی الفاق ، یعنی اللہ تعالیٰ نے جو پہلی امتوں پر عذاب بھیجے اور، فی انفسھم، بدر کے دن اور مجاہد، حسن، سدی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں، حتی یتبین لھم انہ الحق، یعنی دین اسلام۔ اور کہا گیا ہے کہ قرآن کے بارے میں ان پر واضح ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے بارے میں ان پر واضح ہوگیا کہ ان کی تائید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی گئی ہے۔ عطاء اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ الا فاق یعنی آسمان و زمین کے اقطارجی سے سورج ، چاند ستارے، نباتات، درخت اور نہریں۔ ، وفی انفسھم، اللہ تعالیٰ عمدہ کار یگری اور حکمت کے عجائبات حتی کہ ان پر واضح ہوگیا کہ یہ حق ہے۔ ، اولم یکف بربک انہ علی کل شیء شھید، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ، اولم یکف بربک لانہ علی کل الا یۃ، اس لیے کہ وہ ہرچیز پر حاضر اور گواہ ہے۔ اس سے کوئی چیزغائب نہیں ہے۔