39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے) کے لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو

41، انا انزلنا علیک الکتاب للناس بالحق فمن اھتدی فلنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا، اس کے گمراہ ہونے کا وبال اسی پر ہوگا۔ ، وما انت علیھم بوکیل نگران اور نگہبان ان کو آپ کے سپرد نہیں کیا گیا اور نہ آپ (علیہ السلام) سے ان کا بدلہ مؤ اخذہ ہوگا۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں انکی روحیں سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

42، اللہ یتوفی الانفس، یعنی روحوں کو، حین موتھا، پس ان کو قبض کرلیتے ہیں ۔ ان کے روز کے ختم ہونے اور ان کی عمر پوری ہونے کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے قول ، حین موتھا، سے جسم کی موت مراد ہے۔ ، والتی لم تمت ، سے ان روحوں کا قبض کرنا مراد ہے جن کو موت نہیں آئی۔ ، فی منامھا، اور جو نیند میں قبض کیا جاتا ہے وہ نفس ہے جس کی وجہ سے عقل وشعورحاصل ہوتا ہے اور ہر انسان کے دونفس ہیں۔ ان میں سے ایک نفس حیات وہ ہے جو موت کے وقت انسان سے جدا ہوتا ہے اس کے چلے جانے سے نفس چلاجاتا ہے اور دوسرانفس تمییز ہے ۔ یہ انسان سے نیند کے وقت جدا ہوجاتا ہے۔ ، فیمسک التی قضی علیھا الموت ، پس اس کو جسم میں واپس نہیں لوٹاتے۔ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ، قضی ، قاف کے پیش اور ضاد کے زیر اور یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، الموت، یہ مرفوع ہے نائب فاعل ہونے کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے قاف اور ضاد کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور ، الموت، کو منصوب پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، اللہ یتوفی الانفس، کی وجہ سے، ویرسل الاخری، اور دوسرے کو جسم میں واپس کردیتا ہے یہ وہ ہے جس کی موت کا فیصلہ نہیں ہوا۔ روح کا جسم سے ملاپ ، الی اجل مسمی ، یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آجائے اور کہاجاتا ہے کہ انسان کے لیے دوچیزیں ہیں نفس اور روح۔ پس نیند کے وقت نفس سے روح نکل جاتی ہے اور روح کو باقی رکھاجاتا ہے جبکہ جسم بوسیدہ ہوجاتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نیند کے وقت روح نکل جاتی ہے اور جسم میں اس کی شعاع باقی رہ جاتی ہے۔ پس اسی کی وجہ سے انسان خواب دیکھتا ہے ۔ جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو روح پلک جھپکنے سے پہلے جسم میں لوٹ آتی ہے اور کہا گیا ہے کہ زندوں اور مردوں کی روحیں خواب میں ملاقات کرتی ہیں ۔ پھر جو اللہ چاہتے ہیں وہ آپس میں باہم پہچان کرتی ہیں ۔ پھر جب وہ روحیں جسموں کی طرف لوٹنا چاہتی ہیں تو اللہ تعالیٰ مردوں کی روحوں کو اپنے پاس روک لیتے ہیں اور زندوں کی روحوں کو بھیج دیتے ہیں تو وہ اپنے وقت مقررہ تک کے لیے جسموں میں لوٹ آتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بستر پر آئے تو اپنی تہبند کے اندروالے حصے سے اس کو جھاڑلے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس پر آئی ہے۔ پھر وہ کہے، باسمک ربی وضعت جنبی وبک ارفعہ ان امسکت نفسی فارحمھا وان ارسل تھا فاحفظھا بما تحفظ بہ عبادک الصالحین،۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یفکرون، اس کی قدرت پر دلالت ہیں کہ اس نے جن روحوں کو روکنا تھا اور جن کو بھیجنا تھا میں کوئی غلطی نہیں کی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس قوم کے لیے علامات ہیں جو غور و فکر کرے بعث کے معاملہ میں ۔ یعنی سونے والے کے نفس کو قبض کرلینا اور پھر اس کو چھوڑدینایہ بعث (دوبارہ اٹھنے ) پر دلیل ہے۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے خدا کے سوا اور سفارشی بنا لئے ہیں ؟ کہو کہ خواہ کسی چیز کا اختیار بھی نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں

تفسیر 43۔ ، ام تخذوامن دون اللہ شفعاء قل ، اے محمد ! ، اولوکانوا، اگر چہ ہوں وہ معبود ، لا یملکون شیئا، شفاعت میں سے۔ ، ولا یعقلون، کہ تم ان کی عبادت کررہے ہو اور اس کا جواب محذوف ہے۔ اس کی اصل عبارت یوں ہے ، وان کانوابھذہ الصفۃ تتخذونھم، یعنی اگر وہ اس حالت میں ہوں تب بھی تم ان کو معبود بناؤگے۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہہ دو کہ سفارش تو سب خدا ہی کے اختیار میں ہے اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

44، قل للہالشفاعۃ جمیعا، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اسکی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کرسکے گا۔ ، لہ ملک السموات والارض ثم الیہ ترجعون،
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں

45، واذا ذکراللہ وحدہ اشمازت، نفرت کرتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ، مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ توحید سے منقبض ہوجاتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تکبر کرتے ہیں اور اس کی اصل ، اشمئزاز، یعنی نفرت کرنا اور تکبر کرنا ہے۔ ، قلوب الذین لایؤمنون بالاخرۃ، ، واذا ذکرالذین من دونہ یعنی بت، اذا ھم یستبشرون، وہ خوش ہوتے ہیں۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی کریم ﷺ نے سورة والنجم پڑھی تو شیطان نے آپ کے ارادہ میں یہ بات ڈال دی۔ ، تلک الغرانیق العلی، تو کفار اس سے خوش ہوگئے۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا

تفسیر 46۔۔۔۔۔۔۔۔ ، قل اللھم فاطرالسموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوافیہ یختلفون، ابو سلمہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اپنی نماز کس چیز سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ (علیہ السلام) یہ کہتے تھے، اللھم رب جبرئیل ومیکا ئیل اوسرافیل فاطرالسموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوافیہ یختلفون اھدنی لمااختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم،
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال و متاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے) مخلصی پانے کے بدلے میں دے دیں اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انکو خیال بھی نہ تھا

47، ولوان للذین ظلموا مافی الارض جمیعا و مثلہ معہ لافتدوا بہ من سوء ا (رح) لعذاب یوم القیامۃ وبدالھم من اللہ مالم یکونوایحتسبون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لیے بعث کے وقت یہ بات ظاہر ہوگئی جس ک انہوں نے دنیا میں خیال نہ کیا تھا یہ ان پر آخرت میں نازل ہوگی۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کو نیکیاں گمان کرتے تھے ۔ پھر جب ان کو اس پر سزاملی تو ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہرہوئی جس کا وہ خیال نہ کرتے تھے اور روایت کیا گیا ہے کہ محمد بن مکرر موت کے وقت واو یلا کرنے لگے تو ان کو یہ کہا گیا تو فرمانے لگے کہ مجھے ڈر ہے کہ میرے سامنے وہ چیز نہ ظاہرہوجائے جس کا مجھے خیال بھی نہ ہوا تھا۔
Ayah 39:48

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا

48، وبدالھم سیئات ماکسبوا، یعنی کے برے اعمال جیسے شرک کرنا اور اولیاء اللہ پر ظلم کرنا۔ ، وحاقبھم ماکانوایستھزون،
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے ہے یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے نہیں بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

49، فاذامس الانسان ضر، سختی ، دعاناثم اذا خولناہ، ہم اس کو دیں ، نعمۃ مناقال انما اوتیتہ علی علم، یعنی اللہ کے علم پر کہ میں اس کا اصل ہوں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں خیرعلم کی وجہ سے اور کنایہ کو ذکر کیا ہے کیونکہ نعمت سے مراد انعام ہے۔ ، بلھی فتنۃ، یعنی یہ نعمت آزئش اور اللہ کی طرف سے ڈھیل اور امتحان ہے اور کہا گیا ہے کہ بلکہ وہ کلمہ جو اس نے کہا ہے وہ آزمائش ہے۔ ، ولکن اکثرھم لایعلمون، کہ یہ ڈھیل اور امتحان ہے۔
Ayah 39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ کام بھی نہ آیا

50۔ قدقالھا الذین من قبلھم، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی قارون نے کہا، انما اوتیتہ علی علم ھدی، فما اغنی عنھم ماکانو ایکسبون، پس ان کو کفر نے عذاب سے کچھ فائدہ نہ دیا۔
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

ان پر انکے اعمال کے وبال پڑگئے اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

تفسیر 51۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فاصابھم سیئات ماکسبوا، ان کو اس کا بدلہ دیاجائے گا یعنی ان کو عذاب دیا جائے گا۔ پھر کفار مکہ سے وعدہ کیا گیا، والذین ظلموا من ھولاء سیصیبھم سیئات ماکسبوا وماھم بمعجزین، اور وہ عاجز کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور تنگ کرتا ہے ؟ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

52، اولم یعلموا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ، ، اللہ جس کو چاہتا ہے روز وسیع کردیتا ہے۔ ، ویقدر، اور رزق تنگ کردیتا ہے جس کو چاہے۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یؤمنون،
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

قل یعبادی الذ ین اسرفواعلی انفسھم کی تفسیر 53، قل یا عبادی الذ ین اسرفواعلی انفسھم لاتقنطوامن رحمۃ اللہ ، سعید بن جبیر (رح) کا بیان ہے وہ ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ کچھ مشرک ایسے تھے جنہوں نے بہت آدمیوں کو قتل کیا تھا اور ارتکاب زنا بھی بہت کیا تھا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس امر کی دعوت دیتے ہیں ، وہ ہے تو اچھا کیا آپ بتائیں گے کہ اس سے ہماری بداعمالیوں کا بھی کفارہ ہوجائے گا ؟ اس پر سورة فرقان کی آیت ، والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر۔۔۔۔۔۔۔ غفورارحیما، تک اور آیت ، قل یا عبادی الذین اسرفواعلی انسھم الخ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے بسندصحیح بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت مشرکین مکہ کے متعلق نازل ہوئی۔ بغوی نے بروایت عطاء بھی اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس ؓ کی طرف کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحشی کو جو حضرت حمزہ ؓ کا قاتل تھا، اسلام کی دعوت دینے کے لیے ایک شخص کو بھیجا وحشی نے جواب دیا : آپ مجھے اپنے مذہب میں داخل ہونے کی دعوت کس طرح دے رہے ہیں ؟ آپ کا قول یہ ہے کہ جو شخص قتل کرے گایا شرک کرے گا، یازنا کرے گا اس کو قیامت کے دن دہرا عذاب ہوگا اور میں نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ اس پر آیت ، الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا، نازل ہوئی۔ وحشی نے کہا : یہ شرط تو سخت ہے ، شاید میں ایسا نہ کرسکوں، کیا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت ہے ؟ اس پر آیت ، ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشائ، نازل ہوئی۔ وحشی نے کہا :(اس آیت میں مغفرت کو مشیت پر موقوف رکھا گیا ہے) اشتباہ میں پڑا ہواہوں ، معلوم نہیں کہ (اگر میں شرک سے توبہ کرلوتو) میری مغفرت ہوگی یا نہیں ہوگی۔ اس پر آیت ، قل یاعبادی الایۃ، نازل ہوئی ۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ مسلمانوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ بات صرف وحشی کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عمومی (حکم) ہے ؟ خضور ﷺ نے فرمایا :(نہیں) بلکہ سارے مسلمانوں کے لیے یہ عام ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول عیاش بن ربیعہ ، ولید بن ولید اور مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت کے حق میں ہوا کہ (شروع میں ) وہ ایمان لے آئے تھے، پھر جب ان کو دکھ اور تکلیفیں دی گئیں تو وہ فتنہ میں پڑگئے یعنی اسلام چھوڑ بیٹھے۔ ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کا کوئی عمل کبھی قبول نہیں کرے گا، نہ نفل نہ فرض ، یعنی کس طرح ان کی توبہ قبول نہ ہوگی ۔ یہ لوگ اول تو مسلمان ہوگئے ، پھر دکھ پڑنے پر اپنا دین چھوڑبیٹھے ، اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے ہاتھ سے یہ آیات لکھ کر عیاش بن ربیعہ ، ولیدبن ولید اور دوسرے لوگوں کو بھیج دیں۔ تحریر ملنے کے بعد وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور مکہ چھوڑ کر مدینہ میں آگئے۔ مقاتل بن حیان نے بتوسط نافع حضرت ابن عمر ؓ کا بیان نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : ہم گروہ صحابہ خیال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری ہرنی کی ضرور قبول ہوگی ۔ اس کے بعد جب آیت، یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم، (اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کے فرمان پر چلو اور اپنے اعمال کو بیکار نہ کردو) نازل ہوئی تو ہم اپنے اعمال کو سوائے اس کے کہ کبیرہ گناہ کریں اور فواحش کا ارتکاب کریں اور کس طرح باطل کرسکتے ہیں۔ یہ خیال کرنے کے بعد جب ہم کسی کو کوئی کبیرہ گناہ کرتے دیکھتے تو کہتے : یہ شخص تباہ ہوگیا۔ اس کے بعد یہ آیت ، قل یعبادی الذین اسرفوا، نازل ہوئی تو ہم اپنے دونوں قولوں سے رک گئے۔ اس کے بعد ہم کسی کو کوئی گناہ کرتے دیکھتے تو ہم کو اس کے متعلق (بربادی اعمال کا) خوف ہوجاتا اور اگر کسی نے ارتکاب گنا ہ نہ کیا ہوتا توہم کو اس کے متعلق (قبول اعمال کی) امید ہوتی۔ روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ مسجد میں تشریف لے گئے ، وہاں ایک واعظ ، وعظ کہہ رہا تھا اور دوزخ کا اور دوزخ کے طوق و زنجیر کا ذکر کر رہا تھا۔ آپ جاکرا س کے سرکے پیچھے کھڑے ہوگئے اور کہا : اے وعظ کرنے والے ! لوگوں کو نامیدکررہا ہے ؟ پھر آپ نے آیت ، قل یعبادی الذین اسرفوا الایۃ، پڑھی۔ حضرت اسماء بنت زید کا بیان ہے کہ میں نے (رح) خود سنا، رسول اللہ ﷺ نے پڑھا تھا : قل یعبا دی الذین اسرفو اعلی انفسھم لاتقنطوامن رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعاولا یبالی، (یعنی اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو ، اللہ سب گناہ معاف کردے گا اور (کسی کے ) گناہ کی پروا نہیں کرے گا) ۔ ، ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھو الغفورالرحیم،
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اسکے فرمانبردار ہوجاؤ (ورنہ) پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

تفسیر 54۔ ، وانیبوالی ربکم، متوجہ ہوجاؤ اور لوٹواسی کی طرف فرمانبر داری کے ساتھ ، واسلموالہ، اور تم خالص کرو اس کے لیے توحید کو، من قبل ان یاتیکم العذاب ثم لاتنصرون،
Ayah 39:55

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے پیروی کرو

55، واتبعوا احسن ماانزل الیکم من ربکم ، یعنی قرآن ساراحسن ہے اور آیت کا معنی وہ ہے جو حسن (رح) نے فرمایا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کو لازم پکڑو اور اس کی نافرمانی سے بچوکیون کہ قرآن میں قبیح کا ذکر ہے تاکہ تو اس سے بچے اور گھٹیا کا ذکر ہے تا کہ تو اس میں رغبت نہ کرے اور احسن کا تذکرہ ہے تا کہ تو اس کو ترجیح دے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ احسن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے کتاب میں حکم دیا ہے۔ ، من قبل ان یاتیکم العذاب بغتۃ وانتم لاتشعرون،
Ayahs 39:56–57

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

56، ان تقول نفس، یعنی تاکہ کوئی نفس یہ نہ کہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے باری تعالیٰ کا قول ، والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم، یعنی تاکہ وہ تم کو لے کر نہ ہلے۔ مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ جلدی کرو اور ڈرو اس سے کہ کوئی نفس یہ نہ کہہ دے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے ڈرایا ہے کہ تم اس حال تک پہنچ جاؤ کہ تم یہ بات کہنے لگو، یاحسرتی، اے ندامت ! ، تحسر، کا معنی ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر غم کرنا اور آیت میں ، یاحسرتی، اضافت کی بناء پر ہے لیکن عرب یاء ضمیر کو استغاثہ میں الف سے تبدیل کردیتے ہیں ۔ پس تو کہے گا، یاویلتی ، اور یا، ندامتا، اور بسا اوقات اس کے ساتھ الف کے بعد یاء لاحق کردیتے ہیں تاکہ وہ اضافت پر دلالت کرے اور اسی طرح ابو جعفرنے، یاحسرتای ، پڑھا ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت میں یا، یاحسرتا، کا معنی ، یا ایتھا احسرۃ ھذاوقتک ، (اے حسرت یہ تیراوقت ہے) کا ہے۔ ، علی مافرطت فی جنب اللہ ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کی فرمانبرداری میں کوتاہی کی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اللہ کے معاملہ میں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ، اللہ کے حق میں اور کہا گیا ہے کہ میں نے اللہ کی ذات میں (اطاعت میں) کوتاہی کی اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے اس جانب میں کوتاہی کی جو مجھے اللہ کی رضا تک پہنچادیتی اور عرب جنب کا نام جانب رکھتے ہیں ۔ ، وان کنت لمن الساخرین، اللہ کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور مؤمنین کا مذاق اڑانے والا تھا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو یہ کافی نہ تھا کہ اللہ کی طاعت کو ضائع کردیا۔ یہاں تک کہ اہل طاعت کا مذاق اڑانے لگا۔
Ayah 39:58

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہوجاؤں

(58) اوتقول حین تری العذاب، سامنے ، لوان لی کرۃ، دنیا کی طرف لوٹنا۔ ، فاکون من المحسنین، موحد ین میں سے۔
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(خدا فرمائے گا) کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور شیخی میں آگیا اور تو کافر بن گیا

59۔۔۔۔۔۔ اس کہنے والے کو کہاجاء گا، بلی قد جاء تک ایاتی، یعنی قرآن مجید ، فکذبت بھا، اور تو نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ ، واستکبرت، تو نے اس پر ایمان لانے سے تکبر کیا۔ ، وکنت من الکافرین،
Ayah 39:60

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟

تفسیر 60۔ ، ویوم القیامۃ تری الذی کذبواعلی اللہ، پس انہوں نے گمان کیا کہ اللہ کی اولاد اور شریک ہیں۔ ، وجوھھم مسودۃ الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین، ایمان والوں سے تکبر کرنے کی وجہ سے یا ایمان لانے سے تکبر کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 39:61

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیزگار ہیں انکی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا انکو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غمناک ہوں گے

61، وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم ، حمزۃ، کسائی اور ابوبکررحمہم اللہ نے ، بمفازاتھم، الف کے ساتھ پڑھا ہے جمع ہونے کی بناء پر یعنی ان راستوں کے ساتھ جوان کو کامیابی اور نجات تک پہنچادیں اور دیگر حضرات نے، بمفازتھم، مفرد ہونے بناء پر پڑھا ہے۔ اس لیے کہ مفازۃ فوز (کامیابی) کے معنی میں ہے۔ یعنی ان کو ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے آگ سے نجات دے کر کامیاب کریں لیے گے۔ مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ مفازۃ مفعلۃ کے وزن پر فوز سے مشتق ہے اور جمع حسن ہے جیسے سعادۃ اور سعادات، لایمسھم السوء ، ان کو کوئی ناپسند چیزنہ پہنچے گی۔ ، ولا ھم یحزنون،
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگران ہے

62، اللہ خالق کل شیء وھو علی کل شیء وکیل، یعنی تمام اشیاء اسی کے سپرد ہیں ۔ پس وہ اس کی حفاظت پر قائم ہے۔
Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

63، لہ مقالید السموات والارض، یعنی آسمانوں و زمین کے خزانوں کی کنجیاں۔ اس کا واحد مقلاد ہے مفتاح کی طرح اور مقلید ، مقالید، مندیل اور منادیل کی طرح اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے رزق اور رحمت کی چابیاں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بارش اور نباتات کے خزانے، والذین کفروابایات اللہ اولئک ھم الخاسرون،
Ayah 39:64

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے نادانو ! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں

64، قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجاھلون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ کفار قریش نے آپ (علیہ السلام) کو اپنے آباء کے دین کی طرف بلایا۔ اہل شام نے، تامروننی، دونون خفیف کے ساتھ اصل پر پڑھا ہے اور اہل مدینہ نے ایک نون خفیف کے ساتھ پڑھا ہے حذف کی بناء پر اور دیگر حضرات نے ایک نون مشدد (شد کے ساتھ) کے ساتھ پڑھا ہے ادغام کی وجہ سے۔
Ayah 39:65

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

65، ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین ، یعنی جو تونے شرک سے پہلے عمل کیا ہے اور یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مراد اس سے آپ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی کا ادب کے لیے دھمکی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کو شرک سے معصوم بنایا ہے۔ ، ولتکونن من الخاسرین،
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ خدا ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں ہو

66، بل اللہ فاعبدو کن من الشاکرین، آپ پر اس کے انعامات کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اسکے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالیشان ہے

تفسیر 67۔ ، وما قدروا اللہ حق قدرہ، انہوں نے اس کی ایسی عظمت نہ کی جیسا اس کا حق تھا جس وقت اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کی خبردیتے ہوئے فرمایا : وما قدروا اللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموات مطویت بیمینہ سبحنہ و تعلی عما یشرکون، وما قدروا اللہ حق قدرہ کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن مسعور ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہود کے علماء میں سے ایک عالم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ! ہم یہ بات پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی اور تمام زمینوں کو ایک انگلی اور درختوں کو ایک انگلی اور پانی ونمناک مٹی کو ایک انگلی اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھالیں گے اور فرمائیں گے میں بادشاہ ہوں تو نبی کریم ﷺ اس بات کی تصدیق کے لیے اس قدرکھلکھلا کرہن سے کہ آپ ﷺ کی داڑھ مبارک ظاہر ہوگئی۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت پڑھی :، وماقدروا اللہ حق قدرہ والارض جمیعاقبضتہ یوم القیمۃ، اور اسی بات کو فضیل بن عیاض منصور (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ ور اس میں کہا کہ پہاڑ اور درخت ایک انگلی پر ہوں گے اور کہا کہ ان کو خوب حرکت دیں گے۔ پھر فرمائیں گے، میں بادشاہ ہوں میں اللہ ہوں،۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کو عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبردی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام آسمانوں کو لپیٹ لیں گے۔ پھر ان کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑلیں گے۔ پھر فرمائیں گے میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں جبار اور متکبر لوگ ؟ پھر زمینوں کو لپیٹ دیں گے۔ پھر ان کو اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑیں گے ، پھر فرمائیں گے میں بادشاہ ہوں ، کہاں ہیں جبار ؟ کہاں ہیں متکبرین ؟ یہ حدیث صحیح ہے۔ اس کی تخریج امام مسلم (رح) نے بھی کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو قبض کرلیں گے اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لیں گے۔ پھر فرمائیں گے میں بادشاہ ہوں ، کہا ہیں زمین کے بادشاہ ؟
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

68، ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض ، یعنی گھراہٹ سے مرگئے ۔ یہ نفخہ اولیٰ ہے۔ ، الا من شاء اللہ ، ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اتثناء کیا ہے اور ہم نے اس کو سورة النمل میں ذکرکر دیا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ، الامن شاء اللہ، یعنی صرف تنہا اللہ تعالیٰ ، ثم نفخ فیہ، یعنی صور میں، اخری، یعنی دو وسری مرتبہ، فاذاھم قیام ینظرون، اپنی قبروں سے اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دونوں پھونکوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا چالیس دن ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کا انکار کرتا ہوں ۔ پھر انہوں نے عرض کیا، چالیس مہینے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ پھر انہوں نے عرض کیا چالیس سال ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتاریں گے تو لوگ اس سے ایسے اگیں گے جیسے سبزی اگتی ہے ۔ انسان کے تمام اعضاء بوسیدہ ہوجائیں گے سوائے ایک ہڈی کے وہ عجب الذنب ہے۔ اسی سے قیامت کے دن مخلوق کو بنایاجائے گا۔
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

68، ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض ، یعنی گھراہٹ سے مرگئے ۔ یہ نفخہ اولیٰ ہے۔ ، الا من شاء اللہ ، ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اتثناء کیا ہے اور ہم نے اس کو سورة النمل میں ذکرکر دیا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ، الامن شاء اللہ، یعنی صرف تنہا اللہ تعالیٰ ، ثم نفخ فیہ، یعنی صور میں، اخری، یعنی دو وسری مرتبہ، فاذاھم قیام ینظرون، اپنی قبروں سے اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دونوں پھونکوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا چالیس دن ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کا انکار کرتا ہوں ۔ پھر انہوں نے عرض کیا، چالیس مہینے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ پھر انہوں نے عرض کیا چالیس سال ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتاریں گے تو لوگ اس سے ایسے اگیں گے جیسے سبزی اگتی ہے ۔ انسان کے تمام اعضاء بوسیدہ ہوجائیں گے سوائے ایک ہڈی کے وہ عجب الذنب ہے۔ اسی سے قیامت کے دن مخلوق کو بنایاجائے گا۔
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

تفسیر 69۔ ، واشرقت الارض ، روشن ہوگئی۔ ، بنورربھا، اپنے خالق کے نور کے ساتھ ۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب رب تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصہ کرنے کے لیے تجلی ڈالیں گے۔ پس وہ اس کے نور میں بالکل شک نہ کریں گے جیسے روشن دن میں سورج کی روشنی میں کوئی شک نہیں کرتے ۔ حسن اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے رب کے انصاف کے ساتھ اور زمین سے میدان قیامت مراد ہے۔ ، ووجع الکتاب، یعنی اعمال نامہ، وجای بالنبیین والشھدائ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی وہ لوگ جو رسولوں کے پیغام پہنچانے کی گواہی دیں گے اور وہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں یعنی حافظ فرشتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کافرمان، وجائت کل نفس معھا سائق وشھید، دلاکرتا ہے۔ ، وقضی بینھم بالحق، یعنی اوصاف کے ساتھ ۔ ، وھم لایظلمون، یعنی نہ ان کی برائیاں زیادہ کی جائیں گی اور نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اسکو سب کی خبر ہے

70، ووفیت کل نفسی ماعملت، یعنی ان کے اعمال کا ثواب، وھو اعلم بمایفعلون ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ میں ان کے افعال کو جاننے والا ہوں نہ کسی لکھنے والے کا محتاج ہوں اور نہ کسی گواہ کا۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ کہیں گے کیوں نہیں لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا

71، وسیق الذین کفروا الی جھنھم ، سخت طریقے سے ہانکنا۔ ، زمرا، فوج درفوج ایک دوسرے کے پیچھے ہر امت علیحدہ ہوگی۔ ابوعبیدہ اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ، زمرا، یعنی متفرق جماعتیں اس کا واحدزمرہ آتا ہے۔ ، حتی اذا جاء اذا فتحت ابوابھا، ساتوں دروازے اور یہ اس سے پہلے بند تھے۔ اہل کوفہ نے ، فتحت، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ کثرت کی بناء پر، وقال لھم خزنتھا، ان کو ڈانٹتے ہوئے۔ ، الم یاتکم رسل منکم ، تم ہی میں سے ، یتلون علیکم ایت ربکم وینذرونکم لقاء یومکم ھذاقالوابلی ولکن حقت، واجب ہوگیا۔ ، کلمۃ العذاب علی الکافرین، اور اللہ تعالیٰ کافرمان، لا ملان جھنم من الجنۃ والنس اس اجمعین، ہے۔
Ayahs 39:73–74

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ

(72۔ 73) ۔۔۔۔۔ قیل اد خلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمراحتی اذا جاء وھا وفتحت ابوابھا کوفی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ واؤ زئد ہے تاکہ یہ جواب بن جائے، حتی اذا جاء وھا، کا جیسا کہ کفار کے ہانکنے کے متعلق گزرچکا ہے اور یہ واؤایسے ہی زائد ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، ولقداتینا موسیٰ وھارون الفرقانوضیاء یہ واؤزائد ہے اور بعض نے کہا کہ واؤ حالیہ ہے اورا صل عبارت یوں ہے :، وقد فتحت ابوابھا، تو واؤ کو داخل کیا گیا۔ یہ بیان کرنے کے لیے کہ ان کے آنے سے پہلے دروازے کھلے تھے اور اس واؤ کو پہلے واقعہ میں حذف کردیا گیا یہ بتا نے کے لیے کہ جہنم کے دروازے ان کے آنے سے پہلے بند تھے۔ پس اگر، وفتحت ابوابھا، میں واؤ کو زائد نہ بنا جائے تو پھر قول باری تعالیٰ ، حتی اذا، کے جواب میں اختلاف ہوگیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کا جواب اللہ تعالیٰ کا قول ، جاء وھا، ہے اور، وقال لھم خزنتھا، میں واؤ ملغی ہے اس کی اصل عبارت یوں ہوگی ، حتی اذا جاء وھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا، اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک حق قول یہ ہے کہ جواب محذوف ہے اصل عبارت یوں ہے، حتی اذا جاء وھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا سلم علیکم طبتم فاد خلوھا خلدین، یہاں دخلوھا کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کررہی ہے۔ ، وقال لھم خزنتھا سلام علکم طبتم، سے مراد یہ ہے کہ جنت کے داروغے ان پر سلام کریں گے اور کہیں گے، طبتم،۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارا ٹھکانہ پاکیزہ ہے۔ قتادہ نے کہا : جب اہل جنت دوزخ کی مسافت طے کرکے گزرجائیں گے تو جنت سے پہلے ان کو ایک پل پر روک لیاجائے گاتا کہ وہ آپس کے حقوق کا بدلہ باہم چکاسکیں ۔ جب ایک دوسرے سے اپنے حق کا بدلہ لے چکیں گے اور سب صاف ستھرے اور پاک ہوجائیں گے تو رضوان اور اس کے ساتھی (بطور استقبال ) کہیں گے ۔ سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین حضرت علی نے فرمایا جب ان ( (اہل جنت) کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ جنت کے دروازے پر پہنچ جائیں گے تو دروازے کے پاس ان کو ایک درخت ملے گا جس کے نیچے دوچشمے رواں ہوں گے۔ ایک چشمہ میں مومن نہائے گا توبیرونی جسم کی طہارت ہوجائے گی اور دوسرے چشمے کا پانی پئے گا تو اندرونی طہارت بھی حاصل ہوجائے گی۔ فرشتے جنت کے دروازے پر اس کا استقبال کریں گے اور کہیں گے۔ سلم علیکم طبتم فاخلو خلدین۔
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدے کو ہم سے سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنادیا ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں تو (اچھے) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے

تفسیر 74۔ ، وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض ، یعنی جنت کی زمین کا اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثھا عبادی الصالحون،۔۔۔۔۔۔ ، نتبوا، ہم ٹھکانہ بنائیں گے۔ ، من الجنۃ حیث نشاء فنعم اجرالعملین (74) وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم وقضی بینھم بالحق وقیل الحمد للہ رب العلمین، فرمانبرداروں کا ثواب۔