Ayah 36:4141، وآیۃ لھم انا حملنا ذریتھم ، اہل مدینہ اور اہل شام اور یعقوب کے نزدیک ، ذریاتھم ، جمع کے صیغۃ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے قراء نے ، ذریتھم ، واحد پڑھا ہے جن کے نزدیک جمع ہے وہ تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جن کے نزدیک جمع نہیں وہ نصب کے ساتھ پڑھتے ہیں ، ذریۃ، سے مراد آباء و اجداد ہیں ۔ ، ذریۃ، کا اطلاق جس اولا دپر ہوتا ہے اسی طرح باپ داداپر بھی ہوتا ہے۔ ، فی الفلک المشحون، بھر اہواہونا ۔ سفینہ سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے اور یہ انہی کی نسل سے ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے اور وہانہی کی اصلاب (نسل) میں سے تھے۔
Ayah 36:4242، وخلقنالھم من مثلہ مایرکبون، اس سے مراد کشتی ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد کشتیوں پر تجارت وغیرہ کے لیے سمندروں پر سفر کیا جاتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مرادوہ کشتیاں ہیں جو نہروں پر چلتی ہیں جیسے بڑی کشتیاں سمندروں پر چلتی ہیں۔ قول قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ کا ہے۔
ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا، وما خلقنا لھم من مثلہ یرکبون، اس سے مراد اونٹ ہیں خشکی میں اونٹ اس طرح چلتے ہیں گویا سمندر میں کشتیاں ۔
Ayah 36:43تفسیر 43، وان نشاء نغرقھم فلا صریخ، ان کا کوئی مددگارنہ ہوگا۔ ، لھم ولا ھم ینقذون، جوان کو غرق ہونے سے بچا لے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کوئی بھی ان کو میرے عذاب سے نہ بچاسکے گا۔
Ayah 36:4444، الا رحمۃ منا ومتا عا الی حین، ا ن کی مدت زندگی مکمل ہونے تک ۔ یعنی ہماری رحمت سے جوان پر کی اور ایک مقررہ مدت تک فائد ہ اٹھا نے کے لیے۔
Ayah 36:4545، واذا قیل لھم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ، مابین یدیکم ، سے مراد آخرت ہے اور ، ماخلفکم، سے مراد ہے دنیا یعنی آخرت کے لیے عمل کرو اور دنیا سے اختیاکرو اور اس پر فریفتہ نہ ہو اور بعض نے کہا کہ ، مابین ایدیکم ، سے مراد ہیں وہ بربادی اور تباہی کے واقعات جو گزشتہ ومتوں کو پیش آئے اور ، ماخلقکم، سے مراد ہے آخرت کا عذاب ۔ یہ قول قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ کا ہے۔ ، لعلکم ترحمون، اس کا جواب محذوف ہے ۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ، اذا قیل لھم ھذا اعرضواعنہ، یعنی ان سے جب یہ بات کہی جاتی ہے تو وہ منہ پھیرلیتے ہیں ، پر واہ نہیں کرتے اس کی دلیل اگلی حدیث ہے۔
Ayah 36:4646، وماتاتیھم من آیۃ من آیاتت ربھم ، یہ آپ ﷺ کی سچائی پر دلالت کرتی ہے ۔ ، الا کانوا عنھا معرضین،
Ayah 36:4747، واذا قیل لھم انفقوامما رزقکم اللہ ، اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے۔ ، قال الذین کفروا للذین امنوا اتطعم، اس سے مراد رزق ہے۔ ، من لویشاء اللہ اطعمہ ، مسلمانوں نے کفارم کہ سے کہا کہ مسکینوں پر خرچ کرو، جن کے متعلق تم گمان کرتے ہو کہ ان کے پاس تمہارے اموال میں سے ہیں جو اللہ کی طرف سے دیئے ہیں اور وہ اللہ کے لیے نہیں دیتے خواہ کھیتیوں میں سے ہوں یا جانورں میں سے ۔ تو وہ کہنے لگے کہ کیا ہم ان کو رزق دیں جس کو اللہ چاہے کہ وہ اس کو رزق دے ، یعنی اللہ نے باوجو دقدت رکھنے کے ان کو کھانا نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی مشیت ہی نہیں ہے کہ ان کو کھا نے کو دیاجائے ۔ اس لیے اللہ کی مشیت کے موافق ہم بھی ان کو کچھ نہیں دیتے ۔ اسی سے بخلاء استدلال کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کہ جس کو اللہ تعالیٰ عطانہ کرے اس کو ہم نہیں دیتے اور وہ یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض مخلوقات میں سے کچھ مال دار بنایا ہے اور بعض کو فقیر، ان کی آزمائش کے لیے ۔ دنیا میں فقیر کو مال اس وجہ سے نہیں دیا کہ (نعوذباللہ) اللہ بخیل ہے اور غنی کو خرچ کرنے کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا کہ اللہ کو اس کے مال کی حاجت ہے بلکہ غنی کا امتحان مقصود تھا اس کے مال کی کوئی حاجت نہیں تھی لیکن اس نے بطور آزمائش مال داروں کو حکم دیا ہے کہ وہ کچھ مال غربیوں کو دیں ، اللہ کی مشیت کو بہانہ بنانا اور اس پر اعتراض کرنا درست نہیں بلکہ اس کی مخلوق میں یہ ایک حکمت ہے جس کی طرف کوئی رسائی حاصل نہیں کرسکتا ۔ ، ان انتم الا فی ضلال مبین، یعنی کفار مؤمنین سے کہتے ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یعنی تم محمد ( ﷺ ) کی پیروی کرکے غلطی پر ہو اور پر تم ہو اس کو ترک کردو۔
Ayah 36:4848۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ویقولون متی ھذا الو عد، یعنی قیامت اور بعث کا وقت کب ہوگا۔ ، ان کنتم صادقین،۔۔۔۔۔۔
Ayah 36:4949، ماینظرون، کہ وہ انتظار نہیں کررہے۔
، الا صیحۃ واحدۃ، حضرت عباس ؓ کے نزدیک پہلی بار صور پھو نکا جانا مراد ہے۔
، تاخذھم وھم یخصمون، یعنی وہ دنیا کے امور میں جھگڑتے ہیں خواہ ان کا تعلق بیع وشراء سے متعلق ہو یا کسی اور چیز کے متعلق ، وہ مجالس اور بازاروں میں بحث و مباحثہ کرتے تھے۔ حمزہ نے ، یخصمون، خاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور صادبغیر تشدید کے، یعنی بعض کے ساتھ بحث و مباحثہ میں جھگڑے میں غالب آتے تھے اور دوسرے قراء نے صاد کی تشدید کے ساتھ ، یخصمون، پڑھا ہے۔ اصل میں ، یختصمو، تمھا تاء کو صاد میں مدغم کردیا۔ پھر ابن کثیر ، یعقوب وورش خاء کو فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ تاء کی حرکت کو نقل کرکے ماقبل خاء کو دیتے ہیں اور ابو جعفر اس کو مجزوم پڑھتے ہیں اور بعض حضرات خاء کو فتحہ دیتے ہیں۔ ان میں سے ابو عمر وبھی ہیں اور باقی نے کسرہ پڑھا ہے۔
روایت کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت ایسی حالت میں آجائے گی کہ دوآدمی باہم (بیع شرائ) کپڑاپھیلائے ہوئے ہوں گے ، خریدو فروخت میں مشغول ہوں گے ، نہ عقد کو ختم کرچکے ہوں گے اور نہ کپڑے کو لپیٹ چکھے ہوں گے کہ قیامت آجائے گی اور ایک شخص نے کھا نے کے لیے نوالہ اٹھایا ہوگا کہ اس کو کھا نہیں سکے گا کہ قیامت آجائے گی۔
Ayah 36:50تفسیر 50۔ ، فلا یستطیعون تو صیۃ، وہ وصیت کرنے پر بھی قادر نہیں ہوں گے ۔ مقاتل کا قول ہے کہ وصیت کرنے سے جلدی کریں کہ موت نہ پہنچ جائے۔ ، ولا الی اھلھم یرجعون، کہ وہ قیامت اتنی جلدی آجائے گی کہ کسی چیز کی مہلت نہیں ملے گی ۔
Ayah 36:5151، ونفخ فی الصور، اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ نفخہ اولی اور نفخہ ثانیہ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا۔ ، فاذاھم من الاجداث، اس سے مراد قبروں سے اٹھنا ہے۔ اجداث جمع ہے جدث کی۔ ، الی ربھم ینسلون، ان کو قبروں سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ۔ اسی وجہ سے لڑکے کے لیے کہاجاتا ہے کہ وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 36:5252، قالوایا ویلنا من بعثنا من مرقدنا، ابی بن کعب وابن عباس اور قتادہ کا قول ہے کہ کافرون کا یہ قول اس وجہ سے ہوگا کہ دونوں نفخوں کی درمیانی مدت ان پر سے عذاب اٹھالیاجائے گا اور وہ سوجائیں گے ۔ دوسری مرتبہ جب نفخہ صور کے بعد ان کوا ٹھایاجائے گا تو یہ کہیں گے اور قیامت کا معائنہ اپنی آنکھوں سے کرلیں گے، پھر وہ اپنے آپ کی ہلاکت کو پکاریں گے۔
بعض اہل معانی کا بیان ہے کہ جب کفار عذاب جہنم کا معائنہ کریں گے تو ان کو قبر کا عذاب خواب کی طرح محسوس ہوگا۔ اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم کو خواب سے کس نے اٹھایا ۔ پھر ان کو کہا جائے گا۔
، ھذاما وعد الرحمن وصدق المرسلون، یہ اس وقت اقرار کریں گے جب ان کو اقرار سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور بعض نے کہا کہ فرشتے ان سے کہیں گے، ھذا ماوعدالرحمن وصدق المرسلون، مجاہد کا قول ہے کہ جب کفار کہیں گے، من بعشامن مرقدنا، تو اس وقت مؤ منینانکو جواب دیں گے ۔ ، ھذاماوعدالرحمن وصدق المرسلون،
Ayahs 36:53–5453، ان کانت، ان بمعنی ماکانت کے ہے۔ ، الا صیحۃ واحدۃ، اس سے دوسرا نفخہ مراد ہے۔ ، فاذا ھم جمیع لدینا محضرون،
Ayah 36:5555، ان اصحاب الجنۃ الیوم فی شغل ، ابن کثیر نافع اور ابوعمرونے ، فی شغل، غین کے سکون کے ساتھ اور دوسرے قراء نے غین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دولغتیں ہیں۔ یہ ، سحت اور سحت، کی طرح ہے۔ ، شغل ، کے معنی میں مفسرین کرام کا آپس میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ وہ خوشی سے پھولے نہ جائیں گے یا دوشیزاؤں سے محبت مراد ہے۔
وکیع بن جراح کا قول ہے کہ اس سے سماع مراد ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ دوزخیوں کے اور ان کے احوال کی ان کو پرواہ نہیں ہوگی ، وہ دوزخیوں کو بھی یاد نہیں کریں گے۔ حسن کا قول ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں میں ایسے مشغول ہوں گے کہ دوزخیوں کے عذاب کا ان کو خیال بھی نہ ہوگا ابن کیسان کا قول ہے کہ جنتی ایک دوسرے کی زیارت کریں گے اور بعض نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مہمانی میں مشغول ہوں گے۔
، فاکھون، ابو جعفر نے اس کو ، فکھون ، پڑھا ہے۔ امام حفص (رح) نے سورة مطففین میں ان کی متابعت میں ، فکھون، پڑھا ہے۔ اس میں دولغتیں ہیں جیسے حاذ اور حذر میں دولغتیں ہیں ۔ یعنی وہ نعمتوں میں ہوں گے ۔ مجاہد اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے کہ جن نعمتوں میں وہ ہوں گے اترانے کی حدتک خوش ہوں گے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ خوش ہوں گے۔
Ayah 36:56تفسیر 56۔ ، ھم وازواجھم، ان کی بیویاں ، فی ظلال، حمزہ اور کسائی نے ظاء کے ضمہ اور بغیر الف کے پڑھا ہے ، ظلۃ، کی جمع ہے۔ دوسرے قراء نے، ظلال، پڑھا ہے۔ ظاء کے کسرہ اور الف کے ساتھ اس صورت میں یہ ظل کی جمع ہے۔ ، علی الا رائک ، ارائک اریکہ کی جمع ہے پردے دار مسہریاں۔ ثعلب کا قول ہے کہ اریکہ بغیر پردہ کے مسہری کو نہیں کہتے ۔ ، متکئون ، تکیوں والی مسہریوں والے۔
Ayah 36:5757، لھم فیھا فاکھۃ ولھم مایدعون، وہ تمنا اور اس کو چاہتے ہیں۔
Ayah 36:5858، سلام قولا من رب رحیم، یعنی اللہ تعالیٰ ان سے کلام فرمائے گا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اہل جنت اپنے عیش میں ہوں گے ۔ اسی اثناء میں ایک نوران پر جلوہ افر وزہوگا ۔ اہل جنت سراٹھا کر دیکھیں گے تو اوپر سے اللہ عزوجل جلوہ افروزنظر آئیں گے اور فرمائے گا اے اہل جنت ! تم سلام ہو۔ یہی اس آیت میں ، سلم قولا من رب رحیم، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، اہل جنت اس کی طرف دیکھیں گی اور وہ اہل جنت کا نظارہ کرے گا۔ ایسی حالت میں جنت والے کسی اور برکت ان کے گھروں میں باقی رہے گا۔ بعض نے کہا کہ ان کو ان کے گھروں میں سلامتی بھیجی جائے گی اور بعض نے کہا ہے کہ فرشتے ان کو رب کی طرف سے ملائکہ کے ساتھ سلام بھیجیں گے۔ مقاتل کا قول ہے کہ جنت کے ہر دروازے سے ملائکہ یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے۔ اے اہل جنت ! تم پر تمہارے رب رحیم کی طرف سے سلامتی ہے دوامی سلامتی ہے۔
Ayah 36:5959، وامتازوا الیوم ایھا المجرمون ، مقاتل کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صالحین سے الگ ہوجاؤ۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ ان کو ممیز کردیں گے اور سدی کا قول ہے وہ سب اعلیٰ ہوجائیں گے۔ زجاج کا قول ہے ۔ آج وہ مؤمنین سے جدا ہوجائیں گے۔ ضحاک نے کہاہر کافر کا دوزخ میں ایک گھر ہوگا جس میں وہ داخل ہوجائے گا اور داخلہ کے بعد آگ کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندہوجائے گا، نہ اس کو دیکھ سکے گا اور نہ اس کو دیکھا جاسکے گا۔
Ayah 36:6060، الم اعھد الیکم یا بنی آدم، کیا ہم نے آپ کو حکم نہیں دیا اے بنی آدم ! ، ان لا تعبد والشیطان ، کہ تم اللہ کی نافرمانی کرکے شیطان کی اطاعت نہیں کروگے۔ ، انہ لکم عدو مبین، دشمنی میں واضح اور ظاہ رہے۔
Ayah 36:61تفسیر 61، وان اعبدونی ، میری اطاعت اور میری وحدانیت کو قبول کرو۔ ، ھذاصراط مستقیم،
Ayah 36:6262 ولقد اضل منکم جبلا کثیرا، اہل مدینہ اور عاصم کے نزدیک جیم اور باء کے کسرہ کے ساتھ اور لام کی تشدید کے ساتھ اور یعقوب نے ، جبلا، پڑھا ہے۔ عامر اور ابوعمرو نے جیم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے باء ساکنہ کے ساتھ اور دوسرے قراء جیم اور باء کے ضمہ کیساتھ اور لام بغیر تشدید کے۔ یہ تمام لغات درست ہیں۔ اس کا معنی ہے مخلوق یا جماعت جن کو پوری سمجھ اور کامل دانش حاصل ہے۔ ، افلم تکونواتعقلون، کہ تمہارے پاس امم سابقہ شیاطین کی اطاعت کی بناء پر وہ ہلاک نہیں ہوئی اور ان کے لیے کہا گیا کہ وہ آگ کے کتنے ہی قریب ہوگئے۔
Ayahs 36:63–6463، ھذہ جھنم التی کنتم تو عدون، دنیا کے اندرجوتم سے عدہ کیا گیا تھا ۔
Ayah 36:65الیوم نختم علی افواھھم کی تفسیر
65، الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کا نوایکسبون ، جب کفار اپنے کفر اور رسولوں کی تکذیب کے بارے میں منکر ہوجائیں گے۔ اس قول سے ، ماکنا مشرکین، تموان کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اس پر ان کے اعضاء وجوارح بولیں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، لوگوں نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ فرمایا کہ کیا تم ظہر کے وقت سورج کو دیکھتے ہو، جب کوئی بادل وغیرہ نہ ہوں تو تم کو سورج دیکھنے میں کوئی رکاوٹ آتی ہے ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، نہیں فرمایا چودھویں رات کو جب کوئی بادل نہ ہو۔ وہ کہنے لگے نہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم کو اپنے ر ب کے دیکھنے پر بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی مگر اتنی جتنی سورج اور چاندکودیکھنے میں ہوتی ہے ۔ پھر اللہ بندے سے فرمائے گا اے فلاں شخص ! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ تجھے سردار نہیں بنایا تھا ؟ کیا تجھے تیراجوڑا نہیں دیا تھا ؟ کیا گھوڑوں اور اونٹوں کو تیر افرمانبردار نہیں بنایا تھا ؟ کیا تجھے سیادت نہیں دی تھی ؟ کیا تجھے مال غنیمت کا چوتھائی کا مستحق نہیں بنایا تھا ؟ بندہ عرض کرے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ فرمائے گا کیا تیرایہ گمان تھا کہ مجھ سے آکر ملے گا ؟ بندہ عرض کرے گا نہیں اللہ فرمائے گا جس طرح تو مجھے بھولا رہا اسی طرح میں بھی تجھے آج بھول جاؤں گا۔
پھر دوسرے بندے سے ملاقات فرمائیں گے اور اس بھی یہی کہیں گے (وہ یہی جواب دے گا) کہ کیا میں نے تجھے عزت نہیں دے تھی ، کیا تجھے سردار نہیں بنایا تھا کیا تجھے تیرا جو ڑا نہیں دیا تھا ؟ کیا گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے حکم کاتابع نہیں بنایا تھا ؟ کیا تجھے سرداری نہیں دی تھی ؟ ان کے علاوہ سفیان وغیرہ نے ترأس اور تربع ذکر کیا ہے دونوں جگہوں پر۔ وہ کہے گا کیوں نہیں ، اس سے کہاجائے گا کہ کیا توگمان کرتا تھا کہ تو مجھ سے آکر ملے گا ؟ تو وہ کہے گا نہیں ۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ جس طرح تو مجھے بھولا رہا، آج میں بھی تجھے بھلادوں گا۔
پھر تیسرے شخص سے ملاقات کرے گا ۔ اس کو اسی طرح کہے گا۔ وہ عرض کرے گا میں تجھ پر تیری کتاب پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا تھا اور نمازپڑھی تھیں، روزے رکھے تھے، زکوۃ دی تھی، غرض جس قدر کرسکے گا کرے گا، اس سے کہاجائے گا کیا ہم تیرے خلاف گواہ کھڑا کردیں ؟ وہ شخص اپنے دل میں سوچے گا کہ میرے خلاف کس کو گواہ بنایاجائے گا ؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کی منہ پر مہرلگادے گا اور اس کی ران سے فرمائے گا تو بات کر۔ حسب الحکم اس کی ران ، گوشت اور ہدی اس کے اعمال جو کچھ ہوں گے بتائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، یہ شخص منافق ہوگا جو اپنی طرف سے عذرپیش کرے گا اور اسی پر اللہ کا غضب ہوگا۔ بہزبن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن تم اس حالت میں آؤگے کہ تمہارے منہ پر کپڑابندھا ہواہوگا اور سب سے پہلے آدمی کی ران اور ہتھیلی بات کرے گی۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرارہوں ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) ہی بہترجانتے ہیں۔ فرمایا، مجھے اس بات پر مسکراہٹ آئی کہ ایک بندہ اپنے رب سے کہے گا اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے ظلم کرنے سے پناہ نہیں دے رکھی ہے ؟ اللہ فرمائے گا، آج تیرانفس اور کراما کاتبین تیرے خلاف شہادت دینے کے لیے کافی ہیں ۔ پھر اللہ اس کے منہ پر مہرلگادے گا اور اعضاء کو حکم دے گا تم بولوحسب الحکم اعضاء بندہ کے اعمال کے متعلق بولیں گے، اس کے بعد بندے کو گویائی کیا جازت دے دی جائے گی اور وہ اپنے اعضاء سے کہے گا تم مرجاؤ ، مٹ جاؤ تمہاری طرف سے ہی تو میں دفاع کررہا تھا۔
Ayah 36:66تفسیر 66۔ ، ولو نشاء لطمسنا علی اعینھم ، یعنی ان ظاہری آنکھوں کو ایسا مٹادیتے نہ پیوٹہ کانشان رہتا نہ آنکھوں کا شگاف طمس کا یہی معنی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ولوشاء اللہ لذھب بسمعھم وابصارھم، وہ کہتے ہیں کہ جیسے ان کے دلوں کو اند ھا کیا گیا ۔ اسی طرح ان کی ظاہری بصارت کو اندھا کردیں گے۔ ، فاستبقوا الصراط، چلے اسی راستے پر ، فانی یبصرون، وہ کیسے دیکھ سکتے ہیں جبکہ ان کو آنکھوں سے اندھا کیا گیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ان کو ہدایت سے گمراہی کی طرف کردیتے۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کی گمراہی کی آنکھوں کو نکال باہر کردیتے اور گمراہی کی طرف سے ان کونا بینا کردیتے اور ضلالت سے ہدایت کی طرف ان کی نگا ہوں کو پھیر دیتے۔ یہ قول حسن اور سدی رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ ابن عباس ؓ ، قتاد ہ، مقاتل اور عطاء کا قول ہے کہ ان کے نزدیک اعین سے مراد ہی گمراہی کی آنکھیں اور طمس اعین سے مراد ہے ان آنکھوں کا نکال دینا اور گمراہی کی آنکھوں کو ہدایت کی طرف پھیر دینا، فانی یبصرون،
Ayah 36:6767، ولو نشاء لمسخناھم علی مکانتھم، اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں کے اندرہی ان کو سوروں اور بندروں کی شکل پر کردیتے ۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم ان بےجان پتھر کردیتے کہ گھروں کے داندر پڑے رہتے جن میں کوئی روح نہیں ۔ ، فما استطاعوامضیاولا یرجعون، نہ وہ واپس لوٹنے پر قادرہوتے اور نہ رجوع کرنے کے۔
Ayah 36:6868، ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، عاصم اور حمزہ نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑ ہے اور دوسرے قراء نے پہلے نون کے فتحہ کے ساتھ اور کاف کے ضمہ کے ساتھ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہم ان کو بڑھاپے کی طرف لوٹائیں گیان کو تشبیہ دی ہے بچے کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ ان کے اعضاء کو کمزور کردیتے ہیں ان کے اعضاء کو مضبوط کرنے کے بعد اور ان کو زیادتی سے نقصان کی طرف کردیتے ہیں۔ ، افلایعقلون، یعنی ان کو اتنا جاننا اور سمجھنا چاہیتے کہ خدا اتنے عظیم الشان تغیر پر قاد رہے۔
جب انسان کے احوال کو پھیر نے پر قادر ہے توبعث بعد الموت پر بھی قاد رہے۔
Ayah 36:6969، وما علمنہ الشعروما ینبغی لھا، کفار مکہ کہتے تھے کہ نعوذ باللہ محمد (ﷺ) شاعر ہیں اور کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) جو کلام بناتے ہیں وہ شعر ہیں۔ اللہ نے ان کی تکذیب پر یہ آیت نازل کی ۔
وما علمنہ الشعر کی تفسیر
، وما علمنا ہ الشعروما ینبغی لہ ، وہ قرآن نہ تو مقفی ہے اور نہ ہی موزوں ہے۔ یہاں تک کہ شعر کی مثال خودان کی زبان پر بغیر تکلف کے جاری ہوجاتا ہے۔
حسن کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ شعر بطور مثل پڑھا۔ ، کفی بالا سلام والشیب للمرء نا ھیا، اسلام اور بالوں کی سفیدی آدمی کو گناہوں سے روکنے کیلئے کافی ہے۔
حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! شاعر نے توا س طرح کہا ہے، کفی الشیب والا سلام للمرء ناھیا، حضرت ابوبکرو عمر ؓ عنہمانے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ،
مقدام بن شریح کے عالد کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ بطور مثل کبھی کوئی شعر پڑھتے تھے ۔ ام المؤ منین ؓ نے جواب دیا، ہاں ۔ عبد اللہ بن رواحہ کا شعراس طرح بطور مثل پڑھا کرتے تھے :،
، ویا تیک الا خبار من لم تزودی، اس پر نبی کریم ﷺ نے یہ شعرپڑھا :،
، ویا تیک من تزود بالا خبار، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار آپ اس طرح فرمایا کرتے تھے ، ویاتیک بالا خبارمن لم تزود، اور معمرنے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کسی شخص نے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ کوئی شعربطور مثل پڑھتے تھے۔ ام المؤ منین ؓ نے فرمایا شعر سے رسول اللہ ﷺ کو ہر کلام سے زیادہ نفرت تھی ، آپ کوئی شعربطور مثل نہیں کہتے مگر قیس بن طرف کے شاعر کا یہ شعر بطور مثل پڑھتے تھے۔
ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویا تیک بالا خبار من لم تزودی
لیکن اس شعرکو آپ ﷺ اس طرح پڑھتے تھے، ویاتیک من لم تزود بالا خبار ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا یہ شعراس طرح نہیں ہے، فرمایا میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شاعری میرے لیے مناسب ہے۔ ، ان ھو، جو کچھ اس قرآن میں ہے، الا ذکر، نصیحت ہے۔ ، وقرآن مبین، اس میں فرائض حدود اور احکام مراد ہیں۔
Ayah 36:7070، لینذر، قراء اہل مدینہ اور شام اور یعقوب نے اس کو لتنذر، پڑھا ہے ۔ اسی طرح سورة احقاف میں بھی پڑھا ہے اور ابن کثیر نے سورة احقاف میں ان کی متابعت کی ہے ۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے محمد (ﷺ) ڈراؤ ان کو اور دوسرے قراء نے ، لتنذر، پڑھا ہے چاہیے کہ وہ قرآن کو دیکھیں ۔ ، من کان حیا، یعنی مؤمن دل کے اعتبار سے زندہ ہے اور کافر کی مثال مردے جیسی ہے کیونکہ وہ غور و فکر نہیں کرتا۔ ، ویحق القول ، القول سے مراد کلمہ عذاب ہے۔ ، علی الکافرین،
Ayah 36:71تفسیر 71۔ ، اولم یروا انا خلقنالھم مما عملت ایدینا، ان کو ہم نے اپنے ہاتھون سے پیدا کیا اور اس بنانے میں کوئی دوسرا ہمارا شریک نہیں۔ ، انعامافھم لھا مالکون ، وہ ان کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں اور ان پر تصرف کرتے ہیں اور اگر ہم ان دونوں کو وحشی بنا لیتے اور بنی آدم سے دوربھاگتے تو ان کو کیسے اپنے قبضے میں لاتے بلکہ ان سب جانوروں کو ان کیلئے مسخر کردیا۔
Ayah 36:7272، وذللنا ھا لھم، ان جانوروں کو ان کے لیے مسخر کردیا۔ ، فمنھا رکوبھم ، ان میں سے بعض تو وہ جانور ہیں جن پر سوری کرتے ہیں ۔ مثلا اونٹ وغیرہ۔ ، ومنھا یاکلون، ان کے گوشت کھاتے ہیں۔
Ayah 36:7373، ولھم فیھا منافع ، ان کی کھالیں اور ان کے بال سے ان کی اون سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔ ، ومشارب ، اور ان کے دودھ پیتے ہیں۔ ، افلا یشکرون ، کیا وہ ان نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayah 36:7474، واتخذوامن دون اللہ الھۃ لعلھم ینصرون، وہ تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں اور ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 36:7575، لا یستطیعون نصرھم، ان کے بت ان کی مدد کرنے پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ ان کو عذاب سے بچاسکتے ہیں۔
، وھم لھم جند محضرون ، یعنی کفارا پنے معبودوں کے لیے فریق بنے ہوئے ہیں اور دنیا میں ان کی حفاظت کررہے ہیں اور ہمیشہ ان کی نگرانی کے لیے تیاررہتے ہیں ۔ باوجاد یکہ وہ معبودان کو کئی فائد ہ نہیں پہنچا تے اور نہ کسی شر سے ان کو بچا تے ہیں ۔
بعض لوگوں نے کہا کہ قیامت کے دن کافروں کے معبودوں کو طلب کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ ان کے پرستاروں کو بھی لایا جائے گا۔ گویا وہ سب ایک فوج ہوں گے جنکو دوزخ میں ڈال دیاجائے گا
Ayah 36:7676، فلا یحزنک قولھم ، کفار کے قول تکذیب سن لی ، انا نعلم ما یسرون، وہ اپنے دلوں میں جو آپ سے عداوت اور غلط عقائد چھپائے ہوئے ہیں ، ان سے ہم واقف ہیں ۔ ، وما یعلنون ، ہم ان کی بتوں کے پوجاکر نے کو جانتے ہیں یا ہم جانتے ہیں جو آپ کو زبانی کلامی اذیت دیتے ہیں۔
Ayah 36:7777، اولم یرالانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم ، واضح طور پر باطل پر جگڑا کرنے لگ جاتا ہے۔
، مبین، جھگڑے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ وہ اس بات کو جانتا بھی ہے کہ اس کو ایک بےجان نطفے سے پیدا کیا گیا پھر بھی وہ جھگڑتا ہے تو کیوں وہ اپنی ابتداء تخلیق پر غور وفکر نہیں کرتا تا کہ اس جھگڑے کو چھوڑدے۔
اس آیت کا نزول ابی بن خلف جمحی کے حق میں ہوا۔ یہی ایک بوسیدہ کہنہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا تھا اور انکاربعث وحشر کرکے حضو ر ﷺ سے جھگڑاکررہا تھا اس نے کہا تھا کہ اس ہڈی کے بوسید ہ ہوجانے کے بعد اس کو کون زندہ کر گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ تجھے زندہ کر کیا ٹھائے گا اور جہنم میں داخل کردے گا۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا۔
Ayah 36:7878، وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ ، جس امر کو ہم پیدا کرچکے ، پھر فرمایا، قال من یحی العظام وھی رمیم ،
فرسودہ ہڈیاں ان کو رمیمۃ سے منسوب نہیں کیا اس لیے کہ یہ فاعل سے معدول ہوکر آئے ہیں جو بھی کسی چیز کے وزن وغیرہ سے معدول ہر کر آئے تو اس کا حکم بھی وہی ہوتا ہے جو اصل کا ہوتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وماکانت امک بغیا، یہاں ، بغیاھا، ہونا چاہیے تھا، ھا ضمیر کو حذف کردیا کیوں کہ یہ ، باغیۃ ، سے معدول ہوکر آیا ہے۔
پھر تم اس سے اور آگ سلگا لیتے ہو اور جس نے آسمان اور زمین پیداکیے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیداکردے ضرور قادر ہے اور وہ بڑاپیدا کرنے والا خوب جاننے والا ہے جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کا تو یہ معمول ہے کہ اس چیز کو کہتا ہے کہ ہوجاپس وہ ہوجاتی ہے تو اس کی پاک ذات ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا ا ختیار ہے اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے۔
Ayah 36:79تفسیر 79۔ ، قل یحییھا الذی انشاھا ، ان کو پیدا کیا۔ ، اول مرۃ وھو بکل خلق علیم،
Ayah 36:8080، الذی جعل لکم من الشجر الا خضرنارا، حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ دوقسم کے درخت ہیں ایک کو مرخ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عفار ، دونوں درختوں کی مسواک کی دوہری شاخیں اتنی ہری کہ ان سے پانی ٹپکتا ہو، کاٹ لی جائیں ۔ پھر مرخ کو عفار سے رگڑاجائے تو ان سے آگ نکلتی ہے اللہ عزوجل کے حکم سے۔ عرب کہتے ہیں کہ ہر درخت میں آگ ہے اور مرخ، عفار میں گھس جاتی ہے۔ حکماء کا قول ہے کہ ہر درخت میں آگ ہے سوائے عناب کے ۔ ، فاذا انتم منہ توقدون، اس سے تم آگ سلگا تے ہو اور تمہیں اس بات میں شک رہتا کہ ہرے درخت سے آگ نکلتی ہے ۔ پھر وہ تو اپنی عظیم قدرت والی ذات ہے جو انسان کو پیدا کرنے پر قاد رہے۔