34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

تفسیر 40۔ ، ویوم نحشرھم، یعقوب اور حفص نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ، نحشرھم، پڑھا ہے ۔ ، جمیعا، تمام کفار کو جمع کیا جائے گا ۔ ثم نقول للمائکۃ اھولا اء یا کم کانوا یعبدون، دنیا میں ۔ جو لوگ ملا ئکۃ کی پوجا کرتے اور نعوذباللہ کو خدا کی بیٹیاں قراردیتے ۔ ملائکہ سے یہ خطاب مشرکین کی تذلیل اور شفاعت ملائکۃ سے مایوس بنانے کیلئے کیا جائے گا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ استفہام تقریری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی تذلیل اور شفاعت ملائکۃ سے مایوس بنانے کیلئے کیا جائے گا ۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ استفہام تقریری ہے۔ جیسا کہ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا :، ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ، پھر ان سے ملائکہ نے براءت کرلی۔
Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے ؟ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

41، قالواسبحانک ، فرشتے عرض کریں گے تو پاک ہے ۔ ، انت ولینا من دونھم ، ہمارا ر شتہ عبد یت ومعبودیت تجھی سے ہے، ان سے ہمارا کوئی رشتہ موالات نہیں ۔ ، بل کانوا یعبدون الجن ، اس سے مراد شیاطین ہیں ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ وہ ملائکہ کی عبادت کرتے تھے تو، یعبدون الجن، کہنے کا کیا مطلب۔ بعض علماء نے اس کا یہ جواب دیا کہ شیاطین خود بھیس بدل کر ان کے سامنے آتے تھے اور ان کے خیال میں یہ بات ڈالتے تھے کہ وہ ملائکہ ہیں ۔ اس خیالی تصویر کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ ، یعبدون ، وہ جنون کی اطاعت کرتے تھے۔ ، اکثر ھم بھم مؤمنون، اور وہ شیاطین کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

42، فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا، نہ شفاعت کے ذریعے سے نفع دے سکیں گے۔ ، ولا ضرا، نہ عذاب ۔ مراداس سے یہ ہے کہ وہ اس بات سے عاجز ہیں نہ وہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ ، ونقول للذین ظلمواذوقواعذاب النار التی کنتم بھاتکذبون،
Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

43، واذتتلی علیھم آیاتنا بینات قالواماھذا، یعنی محمد (ﷺ) ، الا رجل یرید ان یصدکم عما کان بعبد اباء کم وقالواماھذا الا افک مفتری، یعنی یہ قرآن ، وقال الذین کفرواللحق لما جاء ھم ان ھذا الا سحرمبین، واضح ہے۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی

تفسیر 44۔ ، وما اتینھم یہ مشرکین ۔ ، من کتب یدرسونھا ، وہ اس کو پڑھتے ہیں ۔ ، وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر، عرب میں اس سے پہلے نہ کوئی ایسانبی بھیجا اور نہ ہی کوئی ایسی کتاب بھیجی جس سے ان کو شرک کی دعوت دی ہو۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

45، وکذب الذین من قبلھم، اس سے پہلی امتیں عاد، ثمود ، قوم ابراہیم قوم لوط وغیرہ ہیں۔ ، وما بلغوا، یہ مشرکین ۔ ، معشار، دسواں حصہ ہیں۔ ، مااتینھم ، گزشتہ امتوں کے مقابلے میں کہ ان کو قوت ، طاقت ، طول عمر اور مال و دولت سے بھی نواز اتھا ۔ ، کفذبوا رسلی فکیف کان نکیر، پھر ان پر میرا عذاب اور تباہی کی شکل میں میری ناراضگی کیسا رنگ لائے ۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو تمہارے رفیق کو مطلق سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

46، قل انما اعظکم بواحدۃ، کہ میں ایک بات سمجھا تاہوں ۔ پھر اس خصلت کو بیان کردیا اور فرمایا : ، ان تقوموا للہ، اللہ کے لیے، مثنی ، دو ، دوہوکر، وفرادی، اور ایک ایک ہوکر، ثم تتفکر وا، پھر تم سب مل کر غور و فکر کرو اور پھر حضرت محمد ﷺ کے احوال پر بھی غور و فکر کرو، پھر تم جان لوگے۔ ، مابصاحبکم من جنۃ، آپ کے ساتھی کو جنون لاحق نہیں بلکہ وہ حق بات کہہ رہا ہے ۔ کھڑے ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ نہ بیٹھونہ لیٹوکھڑے ہوجاؤ بلکہ اس سے مراد ہے تیارہوجاؤ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، وان تقومواللیتا می بالقسط، یہاں پر حقیقی کھڑا ہونا مراد نہیں بلکہ آمادہ ہونا ہے۔ ، ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شیدید، مقاتل کا بیان ہے کہ یہاں پر اللہ تعالیٰ کا کلام پورا ہوگیا۔ پھر آگے فرمایا، ثم تشکروا، تم زمین و آسمان پر غور و فکر کروتو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کا پیدا کرنے والا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ پھر دوبارہ کلام کی ابتداء کی اور فرمایا :، مابصاحبکم من جنۃ،
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تمہارا میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

47، قل ماسالتکم ، رسالت کی تبلیغ پہنچانے میں ۔ ، من اجر، کوئی اجرمانگوں۔ ، فھو لکم ، وہ تمہارے لیے ہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ رسالت پہنچا نے میں تم لوگوں سے کوئی اجرطلب نہیں کررہا کہ تم مجھے مہتم کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، فھو لکم ، کہ میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا۔ ، ان اجری الا علی اللہ وھو علی کل شیء شھید، اس کا ثواب اور اجر اللہ ہی کے پاس ہے۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

48، قل ان ربی یقذبالحق، قذف کہاجاتا ہے پھینکنے کو تیر کے ذریعے یا کسی اور چیز کے ذریعے ۔ معنی اس کا یہ ہے کہ ان کے پاس حق بات آئی ہے ، وحی آسمان سے اتری اور انبیاء پر آئی۔ ، علام الغیوب ، مرفوع ہے خبر ہونے کی وجہ سے یعنی وہ علام الغیوب ہے۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

49، قل جاء الحق ، حق سے مراد قرآن اور اسلام ہے۔ ، وما یبدی البا طل وما یعید، باطل چلا گیا۔ اس میں ذرہ برابر باقی نہیں رہاجس سے وہ دوبارہ اٹھ سکے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :، بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ، قتادہ کا بیان ہے کہ باطل سے مراد ابلیس ہے۔ یہی قول مقاتل اور کلبی (رح) کا بھی ہے۔ بعض نے کہا کہ باطل سے مراد بت ہیں۔
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے بیشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

تفسیر 50۔ ، قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی ، کفارم کہ یوں کہا کرتے تھے کہ جب انہوں نے اپنے آباؤ اجداد ا دین چھوڑاتو گمراہ ہوگیا (نعوذباللہ ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر انہوں نے گمراہی اختیار کی ہے تو اس کا وبال انہی پر ہوگا۔ ، وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی، اس سے مراد قرآن اور حکمت ہے ۔ ، انہ سمیع قریب،
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

51، ولو تری اذفزعوا، قتا دہ نے کہا کہ قبروں سے اٹھائے جانے کے وقت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ ، فلا فوت، اللہ کی گرفت سے نکل نہیں سکیں گے نہ بھاگ کر نہ قلعہ بند ہوکرنہ اپنی جان کا مالی معاوضہ دے کر۔ ، ولات حین مناص، بعض نے کہا کہ جب وہ گھبراجائیں گے تو نہ وہ اللہ کی گرفت سے نکل سکیں گے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی نجات ہوگی۔ واخذوامن مکان قریب کی تفسیر ، واخذوامن مکان قریب، کلبی کا بیان ہے کہ ان کو قدموں کے نیچے سے پکڑاجائے گا۔ بعض نے کہا کہ ان کو زمین کے درمیان سے پیٹھ کے بل نکالا جائے گا۔ بعض نے کہا کہ زمین کے اوپر سے پکڑکرزمین کے اندرلے جائے جائیں گے۔ بعض نے کہا کہ، من مکان قریب ، سے مراد دنیا کا عذاب ہے ۔ ضحاک نے کہا کہ بدرکادن مراد ہے۔ بزی کا قول ہے کہ بیداء مقام پر دھنسا جانا مراد ہے ۔ اس آیت میں محذوف ہے تقدیری عبارت یوں ہے، ولو تری اذفزعوا لرأیت أمراتعتبر بہ، ۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے

52، وقالوا آمنا بہ، جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔ بعض نے کہا جب وہ مایوس ہوجائیں گے تو ایمان لے آئیں گے ۔ بعض نے کہا کہ اٹھائے جانے کے بعد ۔ ، وانی ، أین کے معنی میں ہے۔ ، لھم التناوش، ابو عمر و، حمزہ ، کسائی اور ابوب کرنے نے التناوش مد کے ساتھ اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بغیر مد اور بغیر ہمزہ کے ، معنی طلب کرنا، چلنا ، تیزی سے اٹھنا ۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا حصول تو اس وقت ممکن تھا جب آدمی مکلف تھا اور وہ مقام تکلیف بالا یمان تو دور ہوگیا اور دنیا دور کے مقام یعنی آخرت سے دنیا میں ان کا لوٹنا کہاں ہوسکے گا۔ ، من مکان بعید ، یعنی آخرت دنیا کے اعتبار سے دور ہے۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

53، وقد کفروابہ من قبل ، اس سے مراد قرآن ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ عذاب کو دیکھنے سے پہلے اور قیامت کی ہولنا کیوں کے معائنہ کرنے سے ۔ ، ویقذفون بالغیب من مکان بعید، مجاہد کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کو انہوں نے بلاتحقیق نشانہ بنار کھا تھا ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ اپنے تیر کے گمان چلا تے تھے۔ ان کا قول تھا کہ نہ قیامت ہوگی نہ جنت نہ دوزخ ۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

54، وحیل بینھم وبین ما یشتھون، اس سے مراد ایمان ، توبہ اور دنیا کی طرف واپس جانے کی خواہش رکھنا ۔ بعض نے کہا کہ دنیا کی نعمتیں اور اس کے پھل وغیرہ ۔ ، کما فعل باشیاعھم ، ان کے نظائر بھی ماقبل گزرے ہوئے کفار کی حالت کی طرح ہوگی ۔ ، من قبل ، ان کا بھی ایمان اور توبہ قبول نہیں ہوگی ناامیدی کے وقت ۔ ، انھم کانوا فی شک ، یعنی قیامت اور نزول عذاب کے متعلق وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ، مریب، شک پید ا کرنے والا ، تہمت پیدا کرنے والا۔