30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 30:40–41

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک سے بلند ہے

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا انکو انکے بعض عملوں کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

برو بحر میں فساد کی تفسیر تفسیر 41۔ ، ظھر الفساد فی البر والبحر، بارش کا قحط سبزہ وغیرہ کا نہ اگنا برسے مراد صحرا، بیان اور بحر سے مراد ہیں وہ شہر اور بستیاں جو نہروں اور دریاؤں کے کنارے پر آباد ہیں ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عرب لوگ شہر کو بحر کہتے ہیں جیسے کہاجاتا ہے ، اجدب البر قحط پڑگیا اور سمندر کا پانی بھی منقطع ہوگیا۔ ، بما کسبت ایدی الناس ، ان کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے ۔ عطیہ نے کہا کہ روئے زمین پر جو شہر وغیرہ ہیں وہ بر ہیں اور بحرتو معروف ہی ہے۔ یعنی بارش کی کمی کا اثر جس طرح خشکی پر پڑتا ہے اسی طرح سمندرپر بھی پڑتا ہے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو سمندر کی تہہ سے سیپ اوپر سطح پر آجاتی ہے اور منہ کھول دیتی ہے اس کے منہ میں بارش کا جو قطرہ پڑجاتا ہے وہ موتی ہوجاتا ہے۔ اگر بارش نہیں ہوتی تو سیپ اوپر نہیں آتی اور موتی نہیں بنتا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ اور مجاہد کا قول ہے کہ بر میں فساد سے مراد ہے آدم کے بیٹے (قابیل) کا اپنے بھائی (ہابیل) کو قتل کرو دینا اور بحر میں فساد سے مراد ہے ظالم بادشاہ کا کشتیوں کو چھین لینا ۔ جیسا کہ فرمایا، یاخذ کل سفینۃ غصبا، ضحاک کا قول ہے کہ زمین پہلے سرسبز اور شاداب تھی جس درخت کے پاس آدمی جاتا تھا اس کو بارآورپاتا تھا اور سمندر کا پانی پہلے میٹھا تھا اور شیرگائے بکری کو قتل کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتا تھا لیکن قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو زمین خشک ہوگئی درخت پر خارہوگئے اور سمندر کا پانی کڑواہوگیا اور جانور ایک دوسرے کو پھاڑنے لگے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے تھا کہ پوری دنیا ظلم اور گمراہی میں بھری ہوئی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت یہ لوگ اپنی سرشت سے بازنہ آئے اور اپنے گناہوں میں لگے رہے یعنی کفار مکہ، لیذیقھم بعض الذی عملوا، ان کے لیے سزاجو انہوں نے گناہ کیے تھے۔ ، لعلھم یرجعون، شاید کہ وہ کفر اور اعمال خبیثہ سے لوٹ جائیں ۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

42۔ ، قل سیرو افی الا رض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل، تاکہ دیکھ لوان کے گھر کیسے ویران اور کھنڈرپڑے ہوئے ہیں۔ ، کان اکثرھم مشرکین، کہ ان مشرکین کو ان کے کفر باعث ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آ کر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

تفسیر 43۔ ، فاقم وجھک للدین القیم ، ، سید ھاراستہ اور وہ اسلام ہے ۔ ، من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ، قیامت کے دن کوئی بھی اس بات پر قادر نہیں کہ اسے اللہ سے لوٹا دیا جائے۔ ، یومئذ یصد عون، یعنی وہ جداجدا ہوتے ہیں ، فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں ۔
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

44۔ ، من کفر فعلیہ کفرہ، ان کے کفر کا وبال ۔ ومن عمل صالحا فلانفسھم یمھدون، وہ اپنی خواب گاہوں کو روند رہے ہوں گے اور قبروں میں اپنے لیے سامان تیارکر رہے ہوں گے۔
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا اپنے فضل سے بدلا دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

45۔ ، لیجزی الذین امنو اوعملو الصالحات من فضلہ، ابن عباس ؓ کا قول ہے تاکہ اعمال صالحہ سے زیادہ ان کو ثواب عنایت کرے صرف ثواب اعمال کا آیت میں ذکر کیا گیا۔ ، انہ لایحب الکافرین، ۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو اور عجب نہیں تم شکر کرو

46۔ ، ومن آیاتہ ان یر سلالریاح مبشرات ، بارش کی خوشخبری دینے والیاں ۔ ، ولیذیقکم من رحمتہ، بارش کی نعمتیں وہ پھل وغیرہ ہیں ۔ ، ولتجری الفلک ، ان ہواؤں سے بامرہ ولتبتغوامن فضلہ ، تا کہ تم اس کے رزق کو طلب کرو سمندر میں تجارت کے ذریعے سے ، ولعلکم تشکرون اپنے رب کا ان نعمتوں کے بدلے میں۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلا لیکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

47 ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بالبینات واضح دلالت کے ساتھ اس کے سچائی پر۔ فانتقمنا من الذین اجرموا، ، ہمارا عذاب جنہوں نے اس کو جھٹلایا۔ وکان حقا علینا نصرالمؤمنین، ان کو عذاب سے نجات سے نجات دی ۔ گویا نبی کریم ﷺ کو عاقبت میں کامیابی کی خوشخبری دی اور دشمنوں کے مقابلے میں مددو نصرت کی بشارت سنائی۔ حسن کا قول ہے کہ ہمیں اور اس امت کو عذاب سے نجات دی ۔ آپ ﷺ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ۔ حضرت ابو الدرداء ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جو مسلم اپنے بھائی کی ابرو کی طرف سے دفاع کرتا ہے اللہ پر اس کا حق ہوجاتا ہے کہ وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کو اس کی طرف سے لوٹا دے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کرتا ہے اللہ پر اس کا حق ہوجاتا ہے کہ وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کو اس کی طرف سے لوٹا دے ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ وکان حقا علینا نصرالمؤمنین،
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں جن پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

48، اللہ الذی یرسل الریاح فتثیر سحابا، ان کو پھیلا دیتا ہے ۔ ، فیبسطہ فی السماء کیف یشائ، ایک دن یادودن کی مسافت یا اس سے زیادہ ۔ ویجعلہ کسفا، متفرق ٹکڑے ۔ ، فتری الودق، اس سے مرادبارش ہے ۔ ، یخرج من خلالہ ، اس کے درمیان سے ۔ ، فاذا اصاب بہ من یشاء ، جہاں وہ چاہتا ہے وہاں پہنچادیتا ہے۔ ، من عبادہ اذاھم یستبشرون، وہ بارش کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں ۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے

تفسیر 49۔ ، وان کانوا، اور تحقیق تھے وہ پہلے۔ ، من قبل ان ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین ، مایوس ہیں بعض نے کہا کہ وہ نہیں تھے مگر ناامید۔ اس قول کا دوبارہ ذکر کرنا تاکید کے لیے ہے۔ بعض نے کہا کہ پہلی آیت راجع ہے بارش کے اتر نے کے ساتھ اور دوسری آیت انشاء سحاب کے متعلق ہے۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اسکے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

50۔ ، فانظرالی آثاررحمۃ اللہ، یہ قرأۃ اہل حجاز بصرہ اور ابوبکر اور دوسرے قراء نے ، الی آثارحمۃ اللہ ، جمع ذکر کیا مراداس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش ہے۔ اللہ رب العزت کی رحت کی تاثیرز مین پر کیسے ہوئی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ، اثررحمۃ اللہ ، اس کی نعمت سبزہ وغیرہ کا اگنا۔ ، کیف یحییٰ الارض بعد موتھا ان ذلک لمحی الموتی، جس طرح زمین کو زندہ کیا اسی طرح مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ ، وھو علی کل شیء قدیر،۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اسکے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

51۔ ، ولئن ارسلنا ریحا، یعنی ایسی ٹھندی ہواجو کھیتی وغیرہ کو نقصان پہنچادے ۔ ، فراء وہ مصفرا، سبزہ اور کھیتی کو زرد دیکھیں سبز ہونے کے بعد۔ ، لظلوا تمووہ ہوجائیں گے ۔ ، من بعدہ کھیتی کے زرد ہوجانے کے بعد ۔ یکفرون، تو وہ اللہ کی نعمت سے انکاری ہوجاتے جب ان پر بارش نہ برستی ۔ اگر اللہ اپنی رحمت سے ان پر مینہ برساتا تو وہ طاعات خداوندی میں اور سرگرم ہوجاتے اور حد سے بڑھ کر خوشیانہ مناتے کہ خدا سے غافل ہوجاتے اور اگر انکی کھیتی پر کوئی آفت آجاتی تو مصیبت پر صبر کرتے ناشکری نہ کرتے۔
Ayahs 30:52–54

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو تم تو انھیں لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

54۔ ، اللہ الذی خلقکم من ضعف، ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ۔ ضمہ کی صورت میں قریش کی لغت ہے اور فتحہ کی صورت میں بنوتمیم کی لغت ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تم کو ضعیف اصل یعنی نظفہ سے پیدا کیا ہے ۔ یعنی ایسے پانی کے ساتھ جو بہت کمزور تھی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان۔۔۔۔ ، ثم جعل من بعد ضعف قوۃ، ضعف طفولیت کے بعد جوانی دی ۔ ، ثم جعل من بعد قوۃ ضعفاوشیبۃ یخلق مایشائ، ضعف قوت جوانی اور بڑھاپا۔ ، وھوالعلیم ، اس کی مخلوق کی تدبیر۔ ، القدیر، جس پر دہ چاہے۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے اسی طرح وہ (راستہ سے) الٹے جاتے تھے

تفسیر 55۔ ، ویوم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون، مشرک لوگ قسمیں کھائیں گے۔ ، مالبثوا، وہ دنیا میں نہیں رہے مگر، غیر ساعۃ ایک گھڑی ۔ جب وہ آخرت کے دن کا معائنہ کرلیں گے تو وہ اس دنیاوی زندگی کو بھول جائیں گے ۔ مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ یہ کہیں گے کہ قبروں میں ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہیں ۔ جیسا کہ ان کے لیے کہاجاتا ہے ، کانھم یوم یرون ما یوعدو ن لم یلبثو ا الاساعۃ من نھار۔۔۔۔ ، کذلک کانو ایئوفکون، دنیا میں وہ حق سے اسی طرح بہرہ ورہوتے تھے۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ انہوں نے قیامت کے دن صداقت اور تحقیقی مدت سے جس طرح وہ روگرداں ہوں گے اسی طرح دنیا میں حق کی طرف سے وہ روگرداں تھے ۔ معنی اس کا یہ ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہوگا کہ ان کو رسوا کریں ۔ لہٰذایہ مشرکین اس چیز پر قسم کھائیں گے تا کہ اس وقت موجودلوگوں کو ان کے جھوٹ کا پتہ لگ جائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کی قدرت سے ہے ۔ اس دلیل ، یئوفکون، سے ۔ پھر مؤمنین کے انکارکاذکرکریں گے یہ مشرکین جھوٹ بول رہے ہیں۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

56، وقال الذین اوتوا العلم والا یمان لقدلبثتم فی کتاب اللہ، ، یعنی جتنا تمہارے لیے اللہ نے لکھ دیا تھا اتنی مدت تم قبروں میں رہے۔ بعض نے کہافی کتاب اللہ سے مراد اللہ کا حکم مراد ہے۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے یا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں جتنی تمہاری مدت قیام لکھی ہوئی تھی اتنی مدت تک رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون، متکبرین سے سوال کیا جائے گا کہ تم کتنے دن وہاں ٹھہرے ۔ الی یوم البعث فھذا یوم البعث ، یعنی یہ وہی دن ہے جس دن کا تم انکار کرتے تھے۔ ، ولکنکم کنتم لا تعلمون، دنیا میں وقوع پذیرہونے سے ان کو کوئی علم وعمل نفع دے گا، اس وقت کسی دلیل کی وجہ سے ۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی

57، فیومئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم، ان کا عذر۔ ولا ھم یستعتبون، یعنی ان سے اللہ کو راضی کرنے والی باتیں توبہ استغفار اطاعت طلب نہیں کی جائے گی اور نہ دنیا کی طرف ان کو دوبارہ لوٹایا جائے گا۔ ، لاینفع ، یہاں پر یاء کے ساتھ ہے اور حم اور مؤمن میں بھی اسی طرح ہے اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

58، ولقد ضربنا للناس فی ھذالقرآن من کل مثل ولئن جئتھم بایۃ لیقولن الذین کفروا ان انتم الا مبطلون، کہ تم محض غلط کہتے ہو۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

59، کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون ، اللہ تعالیٰ کی توحید کو نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

60، فاصبر ان وعداللہ حق، تمہاری مدد اور تمہارے دشمن پر اظہارحق کرنے میں ۔ ، ولا یستخفنک ، اس کا معنی یہ ہے کہ یہ بےیقین لوگ آپ کی نادانی اور گمراہی کی پیروی پر آمادہ نہ کر پائیں ۔ ، الذین لا یوقنون، دوبارہ زندہ ہونے اور حساب پر یقین نہیں رکھتے۔