Ayah 29:41تفسیر۔
41۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیائ، ،، اس سے مراد بت ہیں کہ جو لوگ ان کی پرستش کرتے ہیں وہ انہی سے مدد اور نفع مانگیں گے ۔ کمثل العنکبوت ۔
” اتخذت بیتا، ، اپنے لیے وہ جالاتی بناتی ہے تاکہ اس میں ٹھکانا اختیار کرے۔ بیشک اس کا گھر ضعیف اور کمزورہوتا ہے جالانہ تو اس کو سردی سے بچاتا ہے اور نہ ہی گرمی سے۔ یہی مثال بتوں کی ہے کہ وہ اپنے عبادت گارو کے نہ نفع کے مالک ہیں اور نہ نقصان کے مالک، وان اوھن البیتو لبیت العنکبوت لوکانوایعلمون۔
Ayah 29:4242۔ ان اللہ یعلم مایدعون من دونہ من شئی وھوالعزیز الحکیم۔ قراء اہل بصرہ اور عاصم نے ان کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ مراد اس سے ماقبل کی امتیں ہیں اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 29:4343۔ وتلک الامثال ، اس سے مراد مشابہ ہے مثل کہاجاتا ہے پورے کلام کو دوسرے کلام کے تشبہ دینا، قران پاک نے اس امت کے کفار کے احوال کو ماقبل امتوں کے کفار کے احوال کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل بیان کی۔ نضربھا، ہم انکوبیان کریں گے ، للناس، عطا اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہے۔ ومایعقلھا الی العالمون، ان امثال کو عقل والے ہی جانتے ہیں یعنی علمائ۔
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، وتلک الامثال نضربھاللناس ومایعقلھا الاالعالمون، ، اور فرمایا عالم وہ ہے جس کو اللہ کی طرف سے سمجھ ملی ہو اور سمجھنے کے بعد وہ اللہ کی اطاعت کرے اورا سکی نافرمانی سے پرہیز رکھے۔
Ayah 29:4444۔ خلق اللہ السماوات والارض بالحق، ، حق کے لیے یا اظہار حق کے لیے۔ ان فی ذالک، اس کے پیدا کرنے میں ، لایہ، نشانی ہے۔ للمومنین ، اس کی قدرت اور توحید پر۔
نماز بےحیائی اور برائی سے بچاتی ہے۔
Ayah 29:45تفسیر۔
45۔ اتل مااوحی الیک من الکتاب، ، اس سے قرآن مجید ہے۔ واقم الصلوۃ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ، فحشاء وہ بری بات جس کی برائی شرعا اور عقل کھلی ہوئی ہو۔ بعض نے کہا کہ فحشاء ہے جو اعمال میں قبیح ہو اور منکر وہ اعمال جن کو شریعت میں نہ پہچانا گیا ہو۔ ابن مسعود اور ابن عباس نے فرمایا نماز گناہوں سے بازداشت اور روک دینے کی طاقت ہے اس لیے جس کی نماز اس کو بھلائی کا حکم نہ دے اور بری باتوں سے نہ روکے اس کی نماز اللہ سے دوری ہی پیدا کرتی ہے۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ جس کی نماز اس کو فحشاء اور برائی سے نہ بچا سکے تو اس کی نماز اس پر وبال ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری جو ان رسول اللہ کے ساتھ پانچویں نمازیں پڑھتا تھا لیکن اس کے باوجود کوئی کھلا ہواگناہ ایسا نہ تھا جس کا وہ ارتکاب نہ کرتاہو۔ اس کی یہ حالت رسول اللہ سے عرض کی گئی تو حضور نے فرمایا کسی دن اس کی نماز اس کو ان گناہوں سے روک دے گی۔ چناچہ کچھ ہی مدت کے بعد اس نے توبہ کرلی اور اس کی حالت ٹھیک ہوگئی۔
ابن عون نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ نماز روکتی ہے اس کے پڑھنے والے کو فحشاء اور منکر سے جب تک کہ وہ نماز میں مسلسل رہتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس ، صلوۃ، سے مراد قرآن ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ولاتجھر بصلاتک، اس سے مراد قرات ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد نماز میں قرآن کی قرات کرنا ہے۔ قرآن اس کو برائی اور بے حیاء سے بچاتا ہے۔
حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں گزارش کی کہ ایک آدمی رات میں قران پڑھتا ہے اور صبح کو چوری کرتا ہے فرمایا عنقریب اس کا قرآن پڑھنا اس کو روک دے گا اور ایک روایت میں آیا ہے کہ عرض کیا گیا یارسول اللہ ، فلاں شخص دن میں نماز پڑھتا ہے اور رات کو چوری کرتا ہے فرمایا عنقریب نماز اس کو روک دی گی۔
ذکراللہ کے فضائل۔
” ولذکراللہ اکبر، ، اللہ کا ذکر تمام نیکیوں میں افضل ہے۔ حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو ایساعمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے نزدیک سارے اعمال سے بہتر ہے اور پاکیزہ ہے اور ہر عمل سے زیادہ اونچے درجے پر پہنچنے والا ہے۔ سونے چاندی کو راہ خدا میں خرچ کرنے سے تمہارے لیے بہتر اور بھی تمہارے لیے افضل ہے جس میں دشمن کے مقابلے میں تم دشمنوں کی گردنیں مارو اور تمہاری گردنیں ماریں۔ صحابہ کرام اجمعین نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا اللہ کا ذکر۔
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کون سابندہ سب سے افضل اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعلی مرتبنے والا ہے۔ فرمایا بکثرت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ہے۔ فرمایا اگر مجاہد اپنی تلوار سے کافروں کو اتنامارے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہوجائے تب بھی اللہ کی بکثرت یاد کرنے والے اس سے افضل درجے والے ہیں۔ ایک اعرابی سے مروی ہے فرمایا اے اللہ کے رسول کون ساعمل سب سے افضل ہے ؟ فرمایا کہ تو دنیا سے جدا ہوا اس حال میں کہ تیری زبان اللہ کے ذکر سے ترہو۔
حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ مکہ کے راستے پر جارہے تھے ایک پہاڑ کی طرف سے گزرے ، اس پہاڑ کا نام حمدان تھا، فرمایا چلے چلویہ حمدان ہے، اہل تفرید آگے بڑھ گئے، صحابہ کرام نے عرض کیا، یارسول اللہ ، اہل تفرید سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں۔
ابواسحاق سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے الاغر سے سنافرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابی سعید خدری کے پاس حاضر ہوا اور ہم آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ کوئی قوم جو بیٹھی ہے۔ اور اللہ کا ذکر کرتی ہے تو ان فرشتوں کی جماعت ڈھانپ دیتی ہے اور ان پر رحمت اور سکینہ ڈال دی جاتی ہے اور ان لوگوں پر جوان کے پاس اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور بعض قوم نے کہا کہ ولذکراللہ اکبر، کا معنی یہ ہے کہ اللہ جو تمہاراذکر کرتا ہے اور وہ اس ذکر سے زیادہ افضل ہے جو تم اس سے کرتے ہو۔ یہی قولابن عباس ؓ عنہماکا ہے اور مجاہد ، عکرمہ اور سعید بن جبیر کا ہے۔
موسی بن عقبہ حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ سے بھی مرفوعا تفسیر نقل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ تم خدا کی یاد میں کمی نہ کرو کیونکہ جب تم خدا کو یاد کرو گے تو اللہ کا ذکر تمہاراذکر کرے گا اور اللہ جب تمہاراذکر کرے تو اس کا درجہ تمہارے ذکر خدا کرنے سے بہت بڑا ہے۔ واللہ یعلم ماتصنعون، ، عطا کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔
Ayah 29:46تفسیر۔
46۔ ولاتجادلوا اھل الکتاب، ، یعنی نہ جھگڑو، الابالتیھی احسن، ، قرآن اور آیات قرآنیہ کے ذریعے سے اللہ کی طرف آنے کی دعوت دو اور قرآن کے پیش کردہ دلائل پر متنبہ کرو۔ یہ حکم جزیہ کے نافذ ہونے سے پہلے کا ہے۔ الاالذین ظلموامنھم ، وہ جزیہ دینے سے انکار کردیں تو ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور یاذلیل ہوکر جزیہ عطا کریں، مجازا آیت یوں ہوگی ، الاالذین ظلموکم، چونکہ یہ سب کفر کی وجہ سے ظالم ہیں۔
سعید بن جبیر نے کہا کہ اس سے مراد اہل حرب ہیں، اور وہ لوگ جن کے ساتھ کوئی عہد وغیرہ نہیں ہوا، قتادہ اور مقاتل اس آیت کو منسوخ قراردیتے ہیں۔ اس آیت سے ، قاتلوالذین لایومنون باللہ، وقولوامنابالذی انزل الینا وانزل الیکم، اگر ان میں سے کوئی ایک تمہیں اس بات کی خبر دے جو جزیہ سے پہلے تھی اور ان کی کتابوں میں موجود تھی ، پھر ان کے ساتھ اس معاملے میں جھگڑا مت کرو، یعنی نہ تو تم ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب کرو اور ان کو تم کہو کہ ہم اس پر ایمان لائے جو ہم نازل کی گئی اور جو تم پر نازل کی گئی۔
” والھنا والھکم واحد ونحن لہ مسلمون، ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب عبرانی زبان میں توریت پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے سامنے اس کی تشریح عربی میں کرتے تھے۔ اس لیے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب اور کہو ہم ایمان لائے اور اس کتاب پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر جو تمہاری طرف اتاری گئی۔
حضرت ابونملہ انصاری کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ایک یہودی آیا اور اسی وقت ایک جنازہ بھی ادھر سے گزرا، یہودنے کہا کہ اے محمد، یہ میت کیا کلام کرتی ہے ؟ حضور نے ارشاد فرمایا مجھے معلوم نہیں ، یہودی بولا کہ یہ کلام کرتی ہے اس کے بعد رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اہل کتاب اگر تم سے کچھ بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو۔ اور کہو، امناباللہ وکتبہ ورسولہ، اب اگر وہ بات صحیح ہے تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ بات غلط ہے تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ (اس لیے مجرم نہیں ہوگے ) ۔
Ayah 29:4747۔ وکذالک ، ایسے ہی آپ پر کتاب نازل کی جس طرح آپ سے پہلے کتابیں نازل کیں۔ انزلنا الیک الکتاب فالذین اتیناھم الکتاب یومنون بہ، اس سے مراد مومن واہل کتاب مراد ہیں۔ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ۔ ومن ھو لائ، یعنی مکہ والے ، من یومن بہ، اس سے مراد مکہ کے مومنین ہیں۔ ومایجحد بایاتنا الاالکافرون، ، یہ اس وجہ سے یہود اور اہل مکہ اس بات سے جان گئے کہ محمد نبی برحق اور قرآن بھی برحق ہے۔ پھر انہوں نے اس سے انکار کردیا، قتادہ کا بیان ہے کہ جحود کسی چیز کے پہچاننے کے بعد اس کا انکار کردینا۔
Ayah 29:48تفسیر۔
48۔ وماکنت تتلوا، اے محمد، من قبلہ من کتاب، اس سے پہلے جوان پر کتاب نازل فرمائی ، لایخطہ بیمینک، وہ اس کو نہیں لکھتے تھے اور اس وقت نہ پڑھتے تھے اور نہ ہی لکھتے تھے وحی سے پہلے، اذالارتاب المبطلون، ، اگر آپ اسکو لکھو گے یاپڑھو گے وحی سے پہلے مشرکین اہل مکہ شک و شبہات میں پڑجائیں گے اور وہ کہیں گے کہ یہ توماقبل امتوں کے قصے کہانیاں ہیں ان کو منسوخ کردیا گیا ہے ، قتادہ نے کہا کہ یہی تفسیر بیان کی ہے کہ کافروں کو اہل باطل کفر سے یا شک میں پڑنے کی وجہ سے کہا گیا حالانکہ بکثرت معجزات کی کثرت کی موجودگی میں کفر میں یا شک میں پڑنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
مقاتل کا بیان ہے کہ مبطلون سے مراد ہے اہل کتاب یعنی اہل کتاب چونکہ اپنی کتاب میں نبی آخرالزمان کی صفت امی پاتے ہیں اس لیے ان کو کوئی شک نہ تھا ، اس مطلب پر اہل کتاب مبطل ہونا واقعی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ امی تھی اور ان کی کتابوں میں آخری نبی کا امی ہونالکھا ہے۔
Ayah 29:4949۔ بل ھو ایات بینات، ،، حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد آیات بینات ہیں۔ فی صدور الذین اوتوالعلم، ، مومنین جنہوں نے قرآن کو اٹھایا ، ابن عباس کا بیان ہے کہ ، بل ھو، یعنی محمد ﷺ کی ذات اور الذین اوتوالعلم، سے مراد ہیں اہل کتاب یعنی رسول اللہ کی شخصیت انہی واضح علامات کی حامل ہے، جو اہل کتاب کے سینوں میں محفوظ ہیں یعنی رسول اللہ کے جو اوصاف انکی کتابوں میں مذکور ہٰں اور اہل کتاب ان سے واقف ہیں اور وہ اوصاف رسول اللہ کی شخصیت میں موجود ہیں۔ ومایجحد بایاتنا الاالظالمون۔
Ayah 29:5050۔ وقالوا لولاانزل علیہ ایۃ من ربہ، ، جیسا کہ ماقبل انبیاء پر ہم نے نشانیاں اتاریں۔ یہ قرات ابن کثیر، حمزہ کسائی ابوبکر کے ہاں ہے۔ اللہ کی توحید پر ایک نشانی ہے ، دوسرے قراء نے اس کا معنی بیان کیا کہ یہ سب رب کی طرف سے نشانی ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، قل انماالایات ، عنداللہ، اور وہ پیغمبروں کو رسول بناکربھیجنے پر قادر ہے۔ جب وہ چاہے، وانماانانذیرمبین، اہل معصیت کو آگ سے ڈرایا اور یہ ڈرانا ان کے پاس نہیں۔
Ayah 29:5151۔ اولم یکفھم، یہ ان کے اس کلام کا جواب ہے۔ لولاانزل علیہ ایۃ من ربہ، تو فرمایا، اولم یکفھم اناانزلناعلیک الکتاب، یتلی علیھم، کیا یہ آیات تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ ان فی ذالک، قرآن کے نازل کرنے میں ، لرحمۃ، وذکری لقوم یومنون، یہ نصیحت ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیے۔
Ayah 29:5252۔ قل کفی باللہ بینی وبینکم شھیدا، ، کہ یہ رسول خدا ہیں اور قرآن ان کی کتاب ہے یعلم مافی السموات والارض والذین آمنوا بالباطل ، ابن عباس نے فرمایا کہ باطل سے مراد اللہ کے علاوہ پر ایمان لانا ہے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ شیطان کی عبادت کرنا، وکفروبااللہ اولئک ھم الخاسرون، ،،۔
Ayah 29:5353۔ ویستعجلونک بالعذاب، ، اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے متعلق ہوا۔ جب اس نے کہا تھا، اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ، ، اے خدا، اگر یہ تیری طرف سے حق ہے توہم پر اوپر سے پتھروں کی بارش کردے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
” ولولااجل مسمی، ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ سے میراوعدہ نہ ہوتا کہ آپ کی قوم کو عذاب نہیں دوں گا اور اس کی اجڑ نہیں اکھاڑوں گا بل کہ قیامت تک کے لیے انکے عذاب کو ملتوی رکھوں گا تو، عذاب آچکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بل الساعۃ موعدھم، بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے عذاب کے لیے مقررر ہے۔
یعنی جب وہ مرجائیں گے تو عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے بعض لوگوں نے کہا اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ لجاء ھم العذاب ولیاتینھم ، اس سے مراد عذاب ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد اجل ہے۔ بغتۃ وھم لایشعرون، ، جب ان پر عذاب آئے گا تویہ کچھ شعور نہیں رکھیں گے۔
Ayah 29:54تفسیر۔
54۔ یستعجلونک بالعذاب، ، دوبارہ اعادہ کرنا تاکید کے طور پر ہے۔ وان جھنم لمحیطۃ بالکافرین۔ ان سب کو جمع کرنے والا ہے انمیں سے کوئی بھی ایک باقی نہیں رہے گا، جو اس میں داخل نہ ہوجائے۔
Ayahs 29:55–5655۔ یوم یغشاھم ، ،، جب انکو عذاب پہنچ جائے گا، العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلھم، یعنی جب ان کو عذاب جہنم ڈھانپ لے گا، جیسا کہ اللہ رب العزت نے ان کے لیے فرمایا ۔ لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش، ویقول ذوقوا، نافع اور اہل کوفہ نے ، ویقول ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے جہنم کا داروغہ ان سے کہے گا چکھوا جہنم کا عذاب اور دوسرے قراء نے ، نقول ، کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ جب بھی وہ کسی کام کا حکم کرتے ہیں تو اس کو اپنی طرف منسوب کردیتے ہیں ، ماکنتم تعملون، بدلہ ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
آیت کا شان نزول۔
مقاتل اور کلبی نے کہا اس آیت کا نزول ان کمزور مسلمانوں کے حق میں ہوا جو کمزوری کی وجہ سے مکہ میں رہ گئے تھے مطلب یہ ہے کہ مکہ کے اندر رہ کر اگر تم ایمان کا اظہار نہیں کرسکتے، تو وطن چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی کے ساتھ اظہار ایمان کرسکے ہو جیسے مدینہ وغیرہ کیونکہ میری زمین تنگ نہیں ہے۔
مجاہد کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری زمن وسیع ہے ترک وطن کرکے چلے جاؤ اور وہاں پہنچ کر جہاد کرو۔ سعیدبن جبیر نے کہا کہ جب کسی بستی میں گناہ کیے جاتے ہیں تو وہاں سے نکل جاؤ میری زمین وسیع ہے۔
عطاء نے کہا کہ جب تم کو اپنی سرزمین میں گناہوں کا حکم دیاجاتا ہو تو وہاں سے بھاگ جاؤ میری زمین وسیع ہے اگر کسی ایسی بستی میں ہو جہاں گناہ کیے جاتے ہوں اور گناہوں سے بندش ممکن نہ ہو تو اس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام پرچلاجانا واجب ہے جہاں اللہ کی عبادت کی تیاری کی جاسکے۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی مکہ میں رہ گئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم ہجرت کرجائیں گے توبھوکے مرجانے کا خوف ہے ۔ اللہ نے انکایہ عذرقبول نہیں فرمایا، مطرف بن عبداللہ نے کہا کہ زمین فراخ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میرارزق وسیع ہے تم وطن چھوڑ دو ۔
Ayah 29:5757۔ کل نفس ذائقۃ الموت۔۔ ان کو موت کا خوف دلایا تاکہ انکے لیے ہجرت کرنے میں مشکل نہ آئے۔ یعنی ہر ایک شخص کو مرنا ہے جہاں کہیں بھی ہو، لہذا تم موت کے خوف سے شر کے مقام میں پڑے رہو۔ ثم الینا ترجعون، ، پھر ہم تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے ، ابوبکر نے یرجعون پڑھا ہے۔
Ayah 29:5858۔ والذین امنواوعملوالصالحات لنبوئنھم، حمزہ اور کسائی نے ثاء ساکنہ کے ساتھ بغیرہمزہ کے پڑھا ہے اور فرمایا، ثوی الرجل، اذاقام واثوبتہ، جب وہ کسی جگہ اترتے ہیں اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پر ھا ہے اور فتحہ کے ساتھ واؤ کی تشدید اور اس کے حمزہ کے ساتھ۔ ای لننزلنھم، ،۔
” من الجنۃ غرفا، ، وہ بلند ہوں گے۔ تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا نعم اجرالعاملین۔
Ayah 29:5959۔ الذین صبروا ، وہ لوگ جنہوں نے سختیوں اور مصائب میں صبر اختیار کیا اور اپنے دین کو ترک نہین کیا، وعلی ربھم یتوکلون، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
Ayah 29:6060۔ وکاین من دابۃ لاتحمل رزقھا، یہ اس وجہ سے نبی کریم نے مومنین کے لیے فرمایا جو مکہ میں رہتے تھے ، ان کو مشرکین اذیتیں دیتے تھے، کہ وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ آجاؤ وہ مومنین کہتے کہ ہم کس طرح مدینہ کی طرف نکلیں نہ وہاں جو ہمیں کھانا کھلائے اور پلائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، وکاین من دابہ، اپنی حاجت کے لیے صبح نکلتے ہیں۔ لاتحمل رزقھا، نہ تو وہ اپنے ساتھ رزق اٹھاتے ہیں اور نہ ہی وہ ذخیرہ کرتے ہیں دوسرے دن کے لیے جیسے چوپائے اور پرندے ہیں۔
” اللہ یرزقھا وایاکم، جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں وھوالسمیع العلیم، وہ ان کی باتوں کو سننے والے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں پاتے کہ مدینہ میں ہم پر کون خرچ کرنے والا ہے۔ العلیم، وہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے سفیان بن علی بن ارقم نے کہاسوائے انسان اور چوہے اور چیونٹی کے اور کوئی مخلوق روز جمع کرکے نہیں رکھتی۔
لاتحمل رزقھا کی تفسیر۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا میں رسول اللہ کے ساتھ انصار کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا تھا، رسول اللہ اپنے ہاتھ سے کھجوریں چن چن کر کھانے لگے اور فرمایا ابن عمر، تم بھی کھاؤ، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ، مجھے خواہش نہیں ہے فرمایا مجھے تو کھانے کی خواہش ہے یہ چوتھی رات کی صبح ہے چار دن ہوگئے کہ میں نے کھانا نہیں کھایانہ مجھے ملا۔ میں نے کہا، انا اللہ اللہ المستعان، فرمایا، ابن عمر، اگر میں اپنے رب سے مانگتا ہوں تو وہ مجھے کسری اور قیصر کے ملک سے بھی کتنے ہی زیادہ عنایت کردیتا، لیکن میں ایک دن بھوکارہتا ہوں اور ایک دن پیٹ بھرتا ہوں اور ایک دن نہیں کھاتا، ابن عمر، اگر یہ تمہاری عمر ہوئی تو اس وقت تمہاری حالت کیا ہگی، جب تم ایسے لوگوں میں رہو گے جو سال بھر کا رزق چھپاکر رکھیں گے، اور ان کا یقین کمزور ہوگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، وکاین من دابۃ لاتحمل رزقھا۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ دوسرے دن کے لیے کچھ جمع کرکے نہیں رکھتے تھے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اگر تم اللہ پر توکل رکھو جیسا کہ توکل رکھنے کا حق ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایسے رزق عطا فرمائیں گے جیسے پرندوں کو رزق دیتے ہیں کہ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو لوٹتے ہیں پیٹ بھرے ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کوئی چیز تم کو جنت سے قریب کرنے والی اور دوزخ سے دور رکھنے والی ایسی نہیں رہی کہ میں نے اس کو کرنے کا تم کو حکم نہ دے دیا ہو اور کوئی چیز دوزخ سے قریب کرنے والی اور دوزخ سے دور رکھنے والی ایسی نہیں رہی کہ اس کو کرنے کی تم کو ممانعت نہ کردی ہو۔ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنارزق پورا نہ کرلے گا ہرگز نہیں مرے گا، پس تم لوگ متنبہ ہوجاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اوررزق کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ رزق ملنے میں دیرہوجانے سے تم کو گناہوں کے راستہ سے تحصیل رزق پر آمادہ نہ ہوجانا چاہیے کیونکہ اللہ ک پاس جو چیز ہے اس کو بغیران کی اطاعت کے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 29:61–62تفسیر۔
61۔ ولئن سالتھم، اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ من خلق السموات والارض وسخرالشمس والقمر لیقولن اللہ فانی یوفکون۔
Ayah 29:6363۔ ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فاحیابہ الارض، ،، ، یہ تمام کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے اہل مکہ اس کے مقرب ہیں۔ بل اکثرھم لایعقلون، بعض نے کہا کہ قل الحمدللہ، تاکہ ان کے اقرارپرحجت تام ہوجائے۔ وہ توحید کے منکر ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا اقرار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے سب اشیاء پیدا کی ہیں۔
Ayah 29:6464۔ وماھذہ الحیوۃ الدنیا الالھو ولعب، لھو، کہتے ہیں کہ دنیاوی لذات کوسننا، اور لعب عبث بےکار کو کہتے ہیں اس کو یہ نام اس لیے موسوم کیا کیون کہ یہ فانی ہیں وان الدارلاخرۃ لھی الحیوان۔ دائمی حیات جو ہمیشہ کے لیے ہے حیوان حیاۃ سے ہے وہاں ہمیشگی والی زندگی ہے ، لوکانوایعلمون، کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔
Ayah 29:6565۔ فاذارکبوا فی الفلک۔۔ اور ان کو غرق ہونے کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ دعواللہ مخلصین لہ الدین، ، اور بتوں کو چھوڑ دیتے ہیں ، فلما نجاھم الی البر اذاھم یشرکون، ان کے عناد کی خبر دے رہے ہیں کہ وہ سختیوں کے وقت اس کا اقرار کرلیتے ہیں کہ ہمیں اس مشکل سے دور کرنے والا اللہ قادر مطلق ہے۔ جب ان سے وہ مشکل دور ہوجاتی ہیں تو وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
عکرمہ کا بیان ہے کہ دور جاہلیت والے جب سمندر میں سفر کرتے تھے تو اپنے بتوں کو ساتھ رکھتے تھے لیکن جب ہوا میں طوفان آتا تھا توبتوں کو سمندر میں پھینک دیتے تھے اور پکارتے تھے اے رب اے رب مطلب یہ کہ سخت مصائب کے وقت توخالص طور پر دل سے اللہ کے اطاعت گزار ہوجاتے تھے اور شرک چھوڑ دیتے تھے اور نجات پاجاتے تو شرک کی طرف لوٹ آتے تھے۔
Ayah 29:6666۔ لیکفروا بمااتیناھم، یہ لام امر ہے یہ معنی بطور تہدید اور وعید کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، اعملواماشئتم، وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار رہے تھے، ولیتمعوا، حمزہ اور کسائی نے لام ساکن کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا عطف، لیکفروا، پر ہوگا، فسوف یعلمون، بعض نے کہا کہ جنہوں نے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور وہ لام کو لام کی کہتے ہیں اور اسی طرح لیکفروا، میں لام ہے اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے میں کوئی فائدہ نہیں مگر کفر میں اضافہ ہوگا اور دنیاوی زندگی میں فائدہ حاصل کرتے ہیں آخرت کی زندگی کے بدلے میں۔
Ayah 29:6767۔ اولم یروا اناجعلنا حرمنا امناویتخطف الناس من حولھم، اور وہ بعض بعض سے قتل وقید سے امن میں نہیں ہیں اور اہل مکہ امن میں ہیں، افبالباطل، اس سے مرادبت اور شیطان ہیں۔ یومنون وبنعمۃ اللہ محمد اور دین اسلام ، یکفرون، ،۔
Ayah 29:6868۔ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا، ، انہوں نے گمان کیا کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور یہ کہ ان کو برائی کا حکم دا اور کذب بالحق محمدرسول اللہ اور قرآن مراد ہے۔ لما جاء ہ الیس فی جھنم مثوی اللکافرین، یہ استفہام بمعنی تقریر کے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان کاذب کافروں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہے۔
Ayah 29:6969۔ والذین جاھدوا فینا، ، وہ لوگ جنہوں نے مشرکین کے ساتھ جنگ کی دین کی مدد کے لیے ، لنھدینھم سبلنا، ہم ان کو ان راستوں پر ثابت قدم رکھ دیتے ہیں جس راستے پر وہ قتال کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ہم ان کے لیے مزید ہدایت کے راستے آسان کردیتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے، ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی، ، سفیان بن عیینہ نے کہا کہ جن لوگوں میں اختلاف ہوتوتم سرحد والوں کو دیکھو کیونکہ اللہ نے فرمایا ، والذین جاھدوا فینالنھدینم سبلنا، بعض نے کہا کہ مجاہد طاعات پر صبر کرنے کا نام ہے۔ حسن نے کہا کہ سب سے اعلی جہاد نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنا ہے۔
فضیل بن عیاض نے کہا جن لوگوں نے طلب علم میں جہاد کیا ہم ان کو علم کے مطابق عمل کرنے کے راستے بتادیتے ہیں سہیل بن عبداللہ نے کہا کہ جن لوگوں نے سنت قائم کرنے کی کوشش کی ہم ان کو اپنے ثواب کے راستے بتادیتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ جن لوگوں نے ہماری طاعات کی کوشش کی ہم ان کو اپنے ثواب کے راستے بتادیتے ہیں۔
” وان اللہ لمع المحسنین۔ یعنی دنیا میں اللہ کی مدد واعانت اور آخرت میں ثواب اور مغفرت نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
الحمدللہ تفسیر بغوی کی چوتھی جلد مکمل ہوئی ۔ پانچویں جلد سورة روم سے شروع ہے۔