Ayah 25:41تفسیر۔
41۔ واذارأوک ان یتخذونک۔ یہ نہیں بناتے مگر آپ کے ساتھ۔ الاھزوا، اس آیت کا نزول ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ رسول اللہ کی طرف سے گزرے اور بطور استہزاء کہنے لگے۔ اھذالذی بعث اللہ رسولا۔
Ayah 25:4242۔ ان کان لیضلنا ، قریب تھا کہ وہ ہمارے معبودوں کی طرف سے بہکا لیتا۔ عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا، اگر ہم اس پر صبر اختیار نہ کرتے توہ میں یہ بہکا ہی لیتے۔ وسوف یعلمون حین یرون العذاب من اضل سبیلا۔ ان کو یوں ہی نہیں چھوڑے گا۔
Ayah 25:4343۔ ارایت من اتخذ الھہ ھواہ ۔ مشرکین میں سے جو شخص پتھر کی پوجا کرتے جب وہ اس پتھر کو دیکھتا تو وہ اس کو بہت اچھامعلوم ہوتا اور اسی طرح وہ دوسرا پتھر بھی لے لیتا اور اس کی پوجا کرتا۔ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ کیا آپ اس شخص کو دیکھ رہے ہیں جس نیا للہ کی عبادت ترک کردیا ہے جو اس کا خالق ہے اور پتھروں کی طرف جھک گیا، ہے ان کی پوجا کرنے لگا ہے۔ افانت تکون علیہ وکیلا۔ کیا آپ ان کے محافظ ہیں یاکفیل کہ ان کی خواہش نفس سے روکیں اور غیر اللہ کی عبادت سے ان کو روکیں۔ اس طرح آپ نہیں، کلبی کا بیان ہے کہ آیت قتال میں یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے۔
Ayah 25:4444۔ ام تحسب ان اکثرھم یسمعون، ، یہ لوگ سمجھنے کی غرض سے نہیں سنتے۔ او یعقلون، وہ اس پر غور نہیں کرتے نہ کسی نصیحت کو اورنہ ہی دلیل کو۔ ان ھم، اس کا معنی ہے ، ماھم ، نہیں ہیں وہ، الاکالانعام بل ھم اضل سبیلا۔ چونکہ چوپائے بھی اپنے پینے کی جگہ اور چرنے کی جگہ خود چلے جاتے ہیں اور اپنے مالک کے حکم کو مانتے ہیں جبکہ یہ کفار حق کے راستے کو نہیں جانتے اور نہ ہی اللہ رب العزت کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے رزق کی قدر نہیں کرتے چونکہ چوپائے چارہ گھاس کھاتے ہیں اور اللہ کی تسبیح اور اس کے سامنے جھکتے بھی ہیں جبکہ کفار نہ تسبیح پر ھتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی فرمانبرداری میں جھکتے ہیں۔
Ayah 25:4545۔ الم تر الی ربک کیف مدالظل۔ کیا تم نے اپنے رب کے بنائے ہوئے لمبے سائے کو نہیں دیکھا، جو مشرق سے مغرب تک ہے۔ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کا وقت ظل کہلاتا ہے۔ ظل کا لفظ دوسری جگہ بھی آیا ہے۔ فی ظل الجنۃ وظل ممدود۔ جس کے ساتھ سورج نہ ہو۔ ولوشاء لجعلناہ ساکنا، وہ ہمیشہ اور دائم رہے گا، اس کو سورج کی روشنی ختم نہیں کرتا، بلکہ قیامت تک رات ہی رات رہتی۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ جو سایہ سورج سے زائل ہوجاتا ہے اس کو ظل کہتے ہیں اوجس سایہ سے دھوپ زائل ہوجاتی ہے اس کو فء کہتے ہیں گویا زوال آفتاب سے پہلے ظل ہوتا ہے اور زوال کے بعد فئی آتا ہے زوال کے بعد سایہ بھی مشرق سے مغرب کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ثم جعلناالشمس علیہ دلیلا۔ اس سارئے پر دلیل ہوتی۔ یعنی اگر سوج نہ ہوتا توسائے کو سایہ کون جانتا روشنی نہ ہوتی توتاری کی کی پہچان کیسے ہو، چیزوں کی شناخت ان کی ضدوں کو جاننے سے ہوتی ہے۔
Ayah 25:46تفسیر۔
46۔ ثم قبضناہ ، اس سے مراد سایہ ہے ، الیناقبضا یسیرا۔ سورج کے نکلنے کے ساتھ ساتھ وہ سایہ جاتا رہتا ہے قبض کہتے ہیں پھیلی ہوئی چیز کو سمیٹنا جمع کرنا۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے سایہ پوری زمین پر پھیلاہوتا ہے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے توہم تدریجا اس سایہ کو جمع کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہ سایہ ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 25:4747۔ وھوالذی جعل لکم اللیل لباسا، اس کو پردہ بنایا جس کے ذریعے سے اس کو ڈھانپاجاتا ہے۔ پھر اس کا اندھیرا ہرچیز پر چھاجاتا ہے۔ جیسے لباس پہننے والے کے جسم کو ڈھانپ لیتا ہے۔ والنوم سباتا، اور نیند کو بدن کے لیے راحت بنایا اور تمہارے اعمال مشاغل بیداری سے منقطع بنایا۔ سبت کا لغوی معنی ہے کاٹنا اور نائم مسبوت کہاجاتا ہے ایسی نیند جو اس کے عمل و حرکت کو منقطع کردیتی ہے۔ وجعل النھار نشورا، اور دن کو اٹھنے اور بیٹھنے کا وقت بنادیا تاکہ اس کے ذریعے سے تم اپنا رزق تلاش کرو اور اپنے اپنے شغل میں بکھرجاؤ۔
Ayah 25:4848۔ وھوالذی ارسل الریاح،۔۔ رحمت سے مراد بارش ہے۔ وانزلنا من السماء ماء طھورا۔
ماء طھورا کی تفسیر۔
طہور کہتے ہیں جو فی نفسہ پاک ہو اور دوسری چیز کو پاک کرنے والی ہو۔ یہ نام ہے جس کے ساتھ پاک کیا جاتا ہے جیسے سحور، نام ہے جس کو سحری کے وقت کھایاجاتا ہے۔ فطور نام ہے افطار کی چیز کو۔ اس پر دلیل وہ روایت ہے جو نبی کریم نے سمندر کے بارے میں فرمائی تھی کہ اس کا پانی پاک ہے۔ اور اس کامردار حلال ہے۔ یہاں مطہر سے مراد پانی کا مطہرہونا ہے۔ کیونکہ انسان اس کے ذریعے سے حدث اور نجاست کو دور کرتا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے ، وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ، اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ طہارت صرف پانی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
اصحاب الرئے اس طرح گئے ہیں کہ طہور وہ چیز ہے جو طاہر اور اس سے نجاست کا زائل کرنا جائز ہے۔ ان کے نزدیک ہر مائع چیز جو پاک ہو اس سے نجاست دور کی جاسکتی ہے۔ جیسے سرکہ، گلاب کا پانی، اور اس جیسا۔ اگر اس کے ذریعے سے ازالہ نجاست جائز ہے تو اس سے ازالہ حدث بھی جائز ہے۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ طہور اس چیز کو کہتے ہیں جو بار بار پاک کرے جیسے صبورہ وہ چیز جس کے ذریعے سے بار بار صبر کا ظہور ہو اور شکور وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بار بار شکر کا حصول ہو۔ اسی قول کی بنیاد پر امام مالک کے نزدیک اس پانی سے جس کو وضو میں ایک بار استعمال کرلیا گیا، ہو وضو کرنا جائز ہے اور اگر پانی میں کوئی چیز گرجائے جس کے ذریعے سے اس پانی کا ذائقہ رنگ یابو زائل ہوجائے تو کیا اس کی طہوریت زائل ہوگی یا نہیں ؟
پانی ماء مستعمل کب ہوتا ہے۔
اگر پانی میں ایسی چیز گرجائے جو عام طور پر پانی میں موجود ہوتی ہے اس سے پانی نجس نہیں ہوگا۔ مثلا متی کا پانی میں گرجانا، درخت کے پتوں کا گرجانا اور اسی طرح اگرپانی ایک جگہ کھڑے کھڑے اس کا رنگ بدل جائے تو وہ نجس نہیں ہوگا، اور اسی طرح پانی کے اندر کوئی ایسی چیز کامل جاناجو اس میں مل نہ سکتی ہو۔ مثلا تیل کامل جانا اس کی بو کی وجہ سے وہ نجس نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس کے اندر تغیر مجاورۃ کی وجہ سے آیا ہے مخالطت کی وجہ سے نہیں آیا۔ ایسی چیز پانی کے ساتھ مل جائے جس سے عام طور پر پانی کو بچایاجاتا ہے، مثلا سرکہ، زعفران کا پانی اور اس جیسے تو اس صورت میں اس سے پاکی حاصل کرنا جائز نہیں۔ اگرچہ اس کا ایک وصف بھی متغیر نہ ہوا ہو۔ اور اگر اس پانی میں کوئی پاک چیز ملی ہوتوپھروہ پانی نجس نہیں ہوگا۔ اس سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے۔ خواہ وہ پانی قلیل ہو یا کثیر اگر اس پانی کے اندر کوئی نجس چیز گری ہوتوپھر دیکھیں گے پانی کتنی مقدار میں ہے۔ اگرپانی دوقلوں سے کم ہوتوپھروہ نجس ہوگا اور اگر دوقلے یا اس سے زائد مقدار میں ہوتوپھروہ نجس نہیں ہوگا۔ قلتان کا وزن پانچ گھڑے (قرب) ہیں جس کا وزن پانچ سورطل ہے۔
ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم سے جنگلی حوضوں کے متعلق پوچھا گیا جن حوضوں پر دواب اور چوپائے وغیرہ آتے رہتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب پانی دوقلے ہوں تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا۔ یہ قول امام شافعی، امام احمد، اسحاق اور اہل حدیث کی ایک جماعت کا قول ہے۔ کہ جب پانی اس مقدار تک پہنچ جائے تونجاست کے گرنے سے وہ پانی نجس نہیں ہوگا۔ جب تک اس کے اوصاف ثلاثہ می سے کوئی وصف نہ بدل جائے اور ایک جماعت کا قول ہے کہ قلیل پانی نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوگا، جب اس کے اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بدل جائے۔ یہ قول حسن ، عطاء نخفی ، اور زہری کا ہے اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ کہا گیا اے اللہ کے رسول۔ کیا ہم بئر بضاعۃ سے وضو کریں اور وہ ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کا گوشت، اور بدبودار چیزیں پھینکی جاتی ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرسکتی۔
Ayah 25:49تفسیر۔
49۔ لنحیی بہ ، اس بارش کے ذریعے سے ، بلدۃ میتا، میتہ، نہیں کہا گیا کیوں کہ اس کامرجع جگہ اور مکان ہے غیر ذوالعقول بےجان ہے۔ ونسقیہ مماخلقنا انعاما۔ ہم اس کے ذڑیعے سے چوپائیوں کو پانی پلاتے ہیں۔ واناسی کثیرا، اور بہت سارے انسانوں کو بھی سیراب کرتے ہیں۔ اناسی جمعہے انسی کی اور بعض نے کہا کہ انسان کی جمع ہے اس کی اصل اناسین ہے ۔ مثل بستان اور بساتین کے ، یہاں پر یا نون کے مقابلے میں ہے۔
Ayah 25:5050۔ ولقد صرفناہ بینھم، ہم اس بارش کو کبھی ایک شہر کی طرف کبھی دوسرے شہر کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ کوئی سال ایسا نہیں ہوتا کہ دوسرے سال سے اس میں بارش زیادہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ بارش کو زمین پر گھماتا رہتا ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
ایک مرفوع روایت میں آتا ہے کہ کوئی ساعت ایسی نہیں ہوتی نہ رات میں نہ دن میں کہ ابر سے بارش نہ ہوتی ہو۔ اللہ تعالیٰ بارش کا رخ جس طرح چاہتا ہے پھیردیتا ہے۔ ابن اسحاق اور ابن جریج اور مقاتل نے حضرت ابن مسعود تک اس قول کو پہنچایا ہے اور حضرت ابن مسعود نے اس کو رسول اللہ کا ارشاد فرمایا ہے کہ کسی ایک سال دوسرے سال سے زیادہ بارش نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے رزق کو تقسیم کرلیا، نچلے آسمان میں بارش کا خزانہ رکھ دیا اور مخصوص ناپ تول کے ساتھ نیچے اتارتا ہے جب کوئی قوم گناہ کرتی ہے تو اللہ اس کی طرف سے بارش کا رخ موڑ کر دوسروں کی طرف موڑ دیتا ہے اور جب سب نافرمان ہوجاتے توپھربیابانوں اور دریاؤں کی طرف بارش کو موڑ دیتا ہے۔
بعض کے نزدیک تصریف المطر سے مراد یہ کہ کبھی بارش بڑی بڑی بوندوں کی شکل میں موسلادھار ہوتی ہے کبھی خفیف اور شبنم کے رنگ میں۔ بعض نے کہا کہ تصریف سے رماد یہ کہ دریاوں اور چشموں کی طرف لوٹادیتا ہے۔ لیذکروا، تاکہ وہ اس قدرت الٰہی سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ فابی اکثرالناس الاکفورا۔ اس سے مراد انکار کرنا ہے۔ ان کا کفر اس وجہ کہ جب بارش برستی ہے تو کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی بنا پر بارش برسی ہے۔
حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ حدیبیہ میں رات کے وقت بارش ہوئی جب صبح ہوئی تو رسول اللہ نے فجر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد لوگوں کی طرف رخ پھیرا اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا، صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانے۔ حضور نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا صبح کو میرے بندوں میں سے کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے ہوں گے کچھ کافر۔ جن لوگوں نے کہا ہم پر اللہ کے فضل ورحمت کی بارش ہوگئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے ہیں اور ستاروں کے منکر اور جن لوگوں نے کہا کہ فلاں ستارہ سے ہم پر بارش ہوئی وہ میرے منکر ہوگئے اور ستاروں پر یقین رکھنے والے۔
Ayah 25:5151۔ ولو شئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا۔ پیغمبر جو بستی والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔ لیکن ہم نے آپ کو تمام بستیوں کی طرف رحمت بناکربھیجا ہے اور تمام پیغمبروں پر آپ کو فضیلت عطا فرمائی۔
Ayah 25:5252۔ فلاتطع الکافرین ، کافر جس طرف آپ کو بلاتے ہیں۔ آپ ان کا کہانہ مانیں اور ان کی موافقت نہ کریں۔ وجاھدھم بہ، اور ان کے ساتھ جہاد کریں قرآن کے دلائل کے ساتھ، جہادا کبیرا، بڑے زور شور سے۔
Ayah 25:5353۔ وھوالذی مرج البحرین، وہ ایک سمندر کو دوسرے سمندر سے متصل اور چسپاں کرکے آزاد چھوڑ دیا۔ بعض نے کہا کہ ان دونوں کو چلنے کے لیے آپس میں چھوڑ دیا جیسے کہاجاتا ہے یرسل الخیل المرج، گھوڑے کو چراگاہ میں آزاد چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چرتا پھرے مرج اصل میں کہاجاتا ہے کسی چیز کو خلط ملط کرکے چھوڑ دینا۔
” ھذاعذب فرات، شدید پیاس کو بھجانے والا۔ وھذاملح اجاج، شدید نمکین، بعض نے کہا کہ اجاج کا معنی ہے تلخ، کڑوا، وجعل بینھما برزخا، ان دونوں کے درمیان آڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار تاکہ نمکین شرین کے ساتھ نہ ملے اور شیرین نمکین کے ساتھ نہ ملے۔ وحجرامحجورا، وہ پردہ سخت ہے کوئی اس کی حد سے آگے نہیں بڑھتا، اور نمکین سمندر میٹھے سمندر کو بگاڑ نہیں سکتا۔
Ayah 25:5454۔ وھوالذی خلق من المائ۔ اس سے مراد نطفہ ہے۔ بشر فجعلناہ نسبا وصھرا۔ اس کو نسب والا یعنی مرد بنادیا اور سسرال والابنایا۔
نسباوصھرا کی تفسیر۔
بعض نے کہا کہ نسب سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ نکاح کرنا حلال نہیں اور صھر سے مراد وہ ہے جس سے نکاح کرنا حلال ہے۔ نسب و حرمت کو واجب کرنے والی ہو اورصھر وہ ہے جو حرمت کو واجب نہ کرنے والی ہو بعض نے کہا کہ وہ نسب کی وجہ سے ہو مثلا قرابت اور صھر جو دوسروں کے ساتھ مل کر قربت والارشتہ حاصل ہوجائے۔ اللہ نے نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام کیے ہیں اور سبب کی وجہ سے سات رشتے حرام قرار دیے ہیں اور وہ اس آیت میں ، حرمت علیکم امھاتکم، ہے۔ وکان ربک قدیرا۔
Ayah 25:5555۔ ویعبدون من دون اللہ ، یہ مشرکین مالاینفعھم، اگر تم ان کی عبادت کرو گے تو وہ تمہیں کسی قسم کانفع نہیں دیں گے۔ ولایضرھم ، اگر تم ان کی عبادت کرنا چھوڑ دو گے تو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ وکان الکافر علی ربہ ظہیرا، اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے شیطانوں کا مددگار ہوجاتا ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ شیطان کے مددگار اس طرح ہوتے ہیں کہ وہ بتوں کی پوجار کرتے ہیں اور بتوں کی پوجا کرنا شیطان کی معاونت ہے۔ بعض نے کہا کہ ظہر کا ترجمہ ہے ذلیل کمینہ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، جعلنی بظہیر، اس نے مجھے ذلیل کردیا اور کہاجاتا ہے، ظھر بہ، جب کسی چیز کو پس پشت پھینک دیا اور اس کی طرف التفات نہیں کیا۔
Ayah 25:5656۔ وماارسلناک الامبشرا ونذیرا۔ یعنی وہ ڈرانے والا ہے۔
Ayah 25:5757۔ قل مااسئلکم علیہ، وحی کی تبلیغ میں، من اجر ، کوئی ایسامعاوضہ نہیں مانگتا جو تم کو میرے اتباع سے روکے اور تم اس کو اپنے اوپر تاوان سمجھو۔ الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا، یہ استثناء منقطع ہے۔ یعنی جو شخص اپنامال راہ خدا میں اللہ کے قرب کے پہنچنے کے لیے خرچ کرتا ہے وہ ایسا کرے میں اپنے لیے کچھ طلب نہیں کرتا، مطلب یہ کہ میں اپنے لیے تو کچھ مانگتا نہیں ہاں اس بات سے نہیں روکتا، کہ راہ خدا میں کوئی اپنامال صرف کرے اور اللہ کی خوشنودی کا طلب گار ہو اور اس کا راستہ اختیار کرے۔
Ayah 25:58تفسیر۔
58۔ و توکل علی الحی، اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھئے۔ بعض نے کہا کہ آپ شکر ادا کرتے ہوئے یوں کہیں، سبحان اللہ والحمدللہ، وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیرا۔ وہ اپنے بندوں کے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو خوب جانتے ہیں اسی کے مطابق بدلہ دیں گے۔
Ayah 25:5959۔ الذی خلق السماوات والارض، ،، ، خبیرا۔ اس سے مراد رحمن ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس تخلیق کائنات اور استوی علی العرش کے متعلق کسی عالم سے پوچھ لو۔ بعض نے کہا کہ اس سے خطاب رسول کریم کو ہے مراد انسے امت ہے جو آپ کی تصدیق کرتی ہے آیت کا معنی یہ ہے اے انسان تو اس علم کے متعلق کسی غیر سے طلب نہ کر بلکہ اسی سے طلب کر۔ بعض نے کہا کہ باء بمعنی عن کے ہے۔ پوچھ اس سے جو باخبر ہے مراد اس سے اللہ تعالیٰ ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے پوچھ اور بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مرادحضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 25:6060۔ واذاقیل لھم اسجدوا، ،، مشرکین یہ کہتے تھے کہ کون سارحمن ہم تویمامہ کے رحمن کو جانتے ہیں اس سے مراد مسیلمہ کذاب اس کو رحمن یمامہ کہاجاتا تھا۔ انسجد لماتامرنا، حمزہ اور کسائی نے یامرنا، پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہوگا کہ جب محمد ہمیں اس کو سجدہ کرنے کا حکم دیں گے دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ جب آپ ہمیں حکم دیں گے ، اے محمد، وزادھم ، کہنے والے کی بات کو اورنفرت بڑھادی۔ اسجدوللرحمن، نفورا، دین اور ایمان سے۔
Ayah 25:6161۔ تبارک الذی جعل فی السماء بروجا۔
بروج کی تفسیر۔
حسن اور قتادہ کا اور مجاہد کا قول ہے کہ بروج بڑے بڑے ستاروں کو کہاجاتا ہے بڑے بڑے ستارے ظہور کی وجہ سے بروج کہلاتے ہیں عطیہ عوفی کا قول ہے ، بروج سے رماد وہ اونچے محل ہیں جن میں چوکیدار اور محافظ موجود ہیں۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، ولوکنتم فی بروج مشیدہ، عطائابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں ، بروج بارہ ہیں اور وہ سات ستاروں کی منزلیں ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ حمل، ثور، جوزائ، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ حمل اور عقرب کا گھر مریخ ہے۔ ثور اور میزان زہرہ میں رہتے ہیں ، جوزاء ، سنبلہ، عطارد میں ان کا ٹھکانہ ہے۔ سرطان چاند اور اسد سورج میں رہتے ہیں۔ قوس اور حوت کا گھر مشتری ہے۔ جدی اور دلو زحل میں رہتے ہیں یہ بروج چار طبائع پر تقسیم ہوتی ہیں ان میں ہر ایک کا حصہ ہے۔ ان میں سے تین بروج ہیں ان کو مثلثات کہاجاتا ہے۔ ان میں تین حمل، اسد، قوس، یہ مثلہ، ناریہ ہیں۔ ثور، سنبلہ، جدی، یہ مثلہ ارضی ہیں۔ جوزائ، میزان اور دلو یہ مثلہ ہوائیہ ہیں۔ سرطان ، عقرب، حوت مثلہ مائیہ ہیں۔
” وجعل فیھا سراجا، اس سے مراد شمس ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ، وجعل الشمس سراجا، حمزہ کسائی نے سرجا ، جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے اس سے مراد نجوم ہیں۔ وقمرا منیرا، اور چاند سورج میں داخل ہے۔ یہ ان حضرات کے نزدیک ہے جن کے ہاں یہ جمع پڑھا گیا ہے۔ علاوہ اس بات کے کہ انہوں نے نوع فضیلت کیساتھ خاص ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فیھا فاکھۃ ونخل ورمان، نخل اور رمان دونوں کو خاص کیا حالانکہ یہ دونوں ، فاکھہ، میں شامل ہیں۔
Ayah 25:62تفسیر۔
62۔ وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفہ، اس کی تفسیر میں مفسرین آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔ ابن عباس ، حسن ، قتادہ کے نزدیک اس کا معنی ہے رات اور دن میں ایک دوسرے کا قائم مقام ہوجاتا ہے اس لیے اگر کسی سے دن ورات کا عمل فوت ہوگیا تو دن کے عمل کو رات اور رات کے عمل کو دن میں ادا کرسکتا ہے۔
شفیق کا قول ہے کہ ایک شخص حضرت عمر کی خدمت میں آیا اور عرض کیا آج میری رات کی نماز فوت ہوگئی۔ حضرت عمر نے فرمایا، رات کو جو نماز فوت ہوگئی اس کو دن میں پورا کرلو۔ اللہ نے فرمایا، جعل اللیل والنھارخلفۃ لمن اراد ان یذکر، مجاہد نے خلفہ کا ترجمہ کیا ہے مخالف۔ یعنی رات ارودن باہم مخالف بنائے گئے ہیں ایک سیاہ اور ایک سفید، ابن زید نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہیے کہ ایک دوسرے کے عبد آتا ہے۔ جب ایک چلاجاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے آجاتا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے متعاقب ہیں۔ روشنی اور اندھیرے میں زیادتی اور نقصان میں۔ لمن اراد ان یذکر ، حمزہ نے دل اور کاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اس کا مطللب یہ ہوگا کہ جو ذکرکرے اور نصیحت حاصل کرے۔ اواراد شکورا، مجاہد کا قول ہے کہ یعنی اپنے رب کی نعمتوں کا شکرا دا کرنا چاہیے یعنی رات کی تاریکی اور دن کی روشنی ۔
Ayah 25:63عبادالرحمن کی تفسیر۔
63۔ وعباد الرحمن ، بندوں میں بعض ایسے ہیں جو دوسروں پر فضیلت رکھتے ہیں ، عبادالرحمن میں اضافت سے مقصود ہے بندوں کی عزت افزائی اور ان کی فضیلت کا اظہار وگرنہ پوری مخلوق اللہ کے بندے ہیں۔ الذین یمشون علی الارض ھونا، اس سے مراد سکینہ وقار، تواضع، نہ اس میں غرور اور نہ ہی اترانا، اور نہ ہی تکبر انہ چال۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد علماء اور حکماء ہیں۔ محمد بن الحنفیہ، کا قول ہے کہ اس سے مراد اصحاب وقار ہے اور عفہ ہے وہ لاعاقل نہیں، ھون لغت میں نرمی اور کمزوری کو کہتے ہیں۔ واذاخاطبھم الجاھلون ، یہ سفھائ، جو بے وقوف ہیں جن کو آپ ناپسند سمجھتے ہیں ، قالواسلاما، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد سداد یعنی سیدھی بات جس سے ایذاء سے سلامت رہیں اور گناہ سے بھی مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ ایسی بات جس کے ذریعے سے وہ گناہوں سے پاک رہیں حسن کا قول ہے کہ اگر کوئی جاہل ان سے جہالت کرتا ہے تو وہ برداشت کرلیتے ہیں جہالت نہیں کرتے، اس سے مراد اسلام معروف نہیں ۔ حسن سے روایت ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کہتے تم پر سلام۔ ا س پر دلیل اللہ کا فرمان ہے، واذاسمعواللغور اعرضوا عنہ ، ،، ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ یہ حکم جہاد سے پہلے تھا جب آیت جہاد آگئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو ارشاد فرمایا کہ یہ دن کی صفات میں سے ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ، والذین یبیتون لربھم سجداوقیاما، یہ ان کی راتوں کی اوصاف ہیں۔
Ayah 25:6464۔ والذین یبیتون لربھم۔ کہاجاتا ہے کہ ان میں سے جو رات کو پاتے ہیں جس نے رات گزاری ہو خواہ اس کو وہاں نیند آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ جیسے کہاجاتا ہے ، بات فلان قلقا، اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے ہاں رات نماز میں گزاری ۔ سجدا، اپنے چہروں کو اللہ کے لیے جھکاتے ہیں۔ قیاما، اپنے قدموں کے بل۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ جس شخص نے عشاء کی نماز کے بعد دورکعتیں یا اس سے زائدہ پڑھ لیں۔ گویا اس نے ساری رات سجدے اور قیام میں گزاری ہے۔
حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی تو ایسا ہوگیا کہ جیسے اس نے آدھی رات قیام کیا، اور جس نے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی گویا اس نے پوری رات نماز پڑھ لی۔
Ayah 25:65تفسیر۔
65۔ والذین یقولون ربنااصرف عنا، ،،۔ غرام کا معنی ہیی بہت سخت چمٹنے والا۔ کفار کو ایسا عذاب دیاجائے گا، جوان سے جدا ہونے والا نہیں ہوگا، اور قرض دار کو بھی غریم کہتے ہیں کہ وہ قرض خواہ کو چمٹارہتا ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ اللہ نے کافروں کو حکم دیا کہ اس کی نعمتوں کا شکراداکریں لیکن انہوں نے شکرادا نہیں کیا، اس لیے اللہ نے ان پر سخت مصیبت ڈال دی اور وہ دوزخ میں رہیں گے حسن نے کہا کہ ہر غریم اپنے غریم سے جدا ہوتا ہے لیکن جہنم جدا نہیں ہوگی۔ غرام شر لازم کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ غرام ہلاکت کو کہتے ہیں۔
Ayah 25:6666۔ انھا، اس کامرجع جہنم ہے۔ ساء ت مستقر ومقاما، یعنی براٹھکانا اور جائے قرار ہے۔
Ayah 25:6767۔ والذین اذا انفقوا لم یسرفواولم یقتروا۔ ابن کثیر اوراہل بصرہ نے ، یقتروا، یاء کے فتحہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ قراء اہل مدینہ ابن عامر نے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور تائ کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ اور تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ سب لغات صحیح ہیں۔ جیسے کہاجاتا ہے ، اقتر وقتر، تشدید کے ساتھ اور قتر ، یقتر۔
اسراف اوراقتار کی تفسیر۔
اسراف اوراقتار کے معنی میں آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک اسراف کہتے ہیں گناہ کے راستے میں خرچ کرنا اور خواہ کتنی ہی قلیل مقدار ہو اوراقتار اللہ کے حق کو روکنا۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابن جریج کا یہی قول ہے۔ حسن نے اس کی تائید میں آیت کا معنی اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں خرچ نہیں کرتے اور نہ اللہ کے قائم کیے ہوئے حقوق کو ادا کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا اسراف کے معنی حد سے بڑھ کر فضول خرچی جو حد تبذیر تک پہنچادے اوراقتار کا معنی ہے انتہائی ضرورت کے موقع پر بھی خرچ نہ کرنا۔ ابراہیم کے اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ نہ لوگوں کو ننگابھوکا رکھتے ہیں اور نہ اتناخرچ کرتے ہیں کہ لوگ کہنے لگیں کہ انہوں نے یہ خرچ فضول کیا۔
” وکان بین ذالک قواما۔ میارنہ روی کیس اتھ اسراف اوراقتار کے درمیان ۔ دوبرائیوں کے درمیان بھلائی۔ یزید بن ابی حبیب کا قول ہے کہ حضرت محمد کے صحابہ کرام کھانابطور تنعم اور لذت کے نہیں کھاتے تھے اور کپڑے حسن و جمال کے لیے نہیں پہنتے تھے لیکن ان کو کھانے سے مقصود محض بھوک کو دور کرنا ہے اور اپنے رب کی عبادت پر تقویت حاصل کرنا اور کپڑے اس لیے پہنتے تھے تاکہ وہ گرمی اور سردی سے بچ سکیں۔ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا، اتناخرچ کرنا کافی ہے کہ دوسرا شخص کسی اور چیز کا متمنی نہ ہوگمریہ کہ وہ کھانے کے لیے خریدے۔
Ayah 25:6868۔ والذی لایدعون مع اللہ الھا آخر۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے جب یہ آیت نازل ہوئی توم کہ کے مشرکوں نے کہ اہم نے توناحق قتل بھی کیے ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسروں معبودوں کی بھی عبادت کی ہے اور بے حیائی کے کاموں کا ارتکاب بھی کیا ہے اس پر آیت ، الا من تاب ، نازل ہوئی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اے اللہ کے اللہ ، اللہ کے نزدیک بڑا گناہ کون سا ہے ؟ فرمایا کہ تو غیر اللہ کو پکارے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا ، کہا پھر کون سا، گناہ فرمایا کہ تو اپنے بیٹے کو اس خوف سے قتل کردے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا، فرمایا پھر کون سا، فرمایا اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ ان کی تصدیق میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، والذین لایدعون مع اللہ الھا آخر، ،،۔۔۔ یلق اثاما۔
” ومن یفعل ذالک، ان افعال میں سے کوئی بھی چیز۔ یلق اثاما، قیامت کے دن ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد گناہ کا بدلہ ہے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ آثام سے مراد انجام ہے مجاہد کا قول ہے کہ آثام جہنم کی وادی کا نام ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ حدیث میں آیا ہے غی اور آثام جہنم کے اندر دوکنویں ہیں جن کے اندر دوزخیوں کا لہو پیپ بہہ کرجاتا ہے۔
Ayah 25:6969۔ یضاعف لہ العذاب، ،، ،۔ ابن عامر اور ابوبکر نے یضاعف ، پڑھا ہے۔ ویخلد میں خاء پر پیش اور دال ابتدائیہ ہے ابن عامر نے اس کو مشد د پڑھا ہے ، یضعف ، دوسرے قراء نے فاء کے مجزوم کے ساتھ پڑھا ہے اور دال کے سکون کیساتھ جواب شر ط ہے۔
Ayah 25:7070۔ الامن تاب وآمن وعمل عملا صالحا، ، قتادہ کا قول ہے کہ جس نے توبہ کی اور اپنے رب پر ایمان لایا اور نیک عمل کیا جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمارضی اللہ عہنما کا قول ہے کہ آپ کے زمانے میں ہم دو سال تک آیت ، والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر، پڑھا کرتے تھے پھر دو سال کے بعد نازل ہوئی ، الامن تاب وآمن، اس آیت کے نازل ہونے سے اور آیت ، انافتحنالک فتحا مبینا،۔ ،، لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر ، کے نازل ہونے سے جیسا خوش رسول اللہ کو دیکھا ایسا خوش میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا۔
” فاو لئک یبدل اللہ سیاتھم حسنات وکان اللہ غفورارحیما۔ ایک جماعت اس قول کی طرف گئی ہے کہ اس تبدیلی کا ظہور دنیا میں ہی ہوگا۔ ابن عباس ، سعید بن جبیر، حسن ، مجاہد ، سدی ، ضحاک کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ حالت شرک میں کیے ہوئے برے اعمال کی جگہ حالت اسلام میں کیے ہوئے اچھے اعمال کو اللہ دے دے گا۔ شرک کو توحید سے مومنوں کے قتل کو حربی مشرکوں کے قتل سے اور زنا کو عفت اور پاکدامنی سے بدل دے گا۔ کچھ علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ اپنی مہربانی سے اسلام میں کیے ہوئے برے اعمال کو قیامت کے دن نیکیوں میں بدل دے گا، یہی قول سعید بن المسیب ، مکحول ، ام المومنین حضرت عائشہ کا ہے۔
اس کی تائید حضرت ابوذر کی حدیث سے بھی ہوتی ہے اور کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، اور حکم ہوگا اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لاؤ، حسب الحکم چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائیں گے اور اس کے بڑے گناہ پوشیدہ رکھے جائیں گے وہ چھوٹے گناہوں کا اقرار کرے گا، انکار نہیں کرے گا، اور بڑے گناہوں کا اندیشہ کرتا رہے گا، حکم ہوگاہر گناہ کی جگہ اس کو ایک نیکی دو وہ کہے گا میرے گناہ تو اور بھی ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دیتے۔ راوی حدیث حضر ت ابوذر فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد فرماتے وقت حضرت محمد ﷺ اتنا ہنس پڑے کہ کچلییاں نظر آنے لگیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اللہ عزوجل اس کے گناہ اس کی ندامت کی وجہ سے مٹادیں گے ۔ پھر اس کی ہر برائی کے بدلے میں نیکی دی جائے گی۔
Ayah 25:7171۔ ومن تاب عمل صالحا، بعضا اہل علم کا قول ہے کہ اس ایت میں جس توبہ کا ذکر ہے اور وہ ہے جو ماقبل آیت میں گزر گیا۔ ان کے علاوہ گناہوں کا ذکر ہے۔ قتل اور زنا سے۔ یعنی جس نے شرک سے توبہ کی اور نیک عمل کیے، فرائض کو ادا کیا، اس نے نہ کسی کو قتل کیا اور نہ زنا کیا، فانہ یتوب الی اللہ ، موت کے ذریعے سے وہ اللہ ک پاس پہنچ جاتا ہے۔ متابا، اس کو نیکی دیتے ہیں اور وہ دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل کرلیتا ہے جن لوگوں نے قتل کیا یازنا کیا، توبہ اولی سے ، ومن تاب، جس نے شرک سے توبہ کی اور دوسری توبہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے رجوع کرے۔ بعض حضرات کا قول ہے یہ آیت تمام گناہوں سے توبہ مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو توبہ کا ارادہ کرے اور اس پر پختہ عزم کرتا ہے تو وہ اللہ کی رضا کے لیے توبہ کرتا ہے، یتوب الی اللہ، خبر بمعنی امر کے ہے۔ یعنی چاہیے کہ تو اللہ کے لیے توبہ کرے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تو جان کہ اس کی توبہ اور اس کی طرف چلنا اللہ ہی کے لیے ہے۔
Ayah 25:72لایشھدون الزور کی تفسیر۔
72۔ والذین لایشھدون الزور۔ ضحاک اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد شرک ہے، علی بن طلحۃ کا قول ہے ، اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے ، عمر بن خطاب نے فرمایا جھوٹے گواہ کے چالیس تسمے (کوڑے) مارے جائیں گے اور منہ کالا کرکے بازار میں گھمایاجائے گا، ابن جریج کا قول ہے کہ اس سے مراد جھوٹ ہے مجاہد کا قول ہے کہ مشرکین کی عیدیں ہیں بعض نے کہا کہ نوحہ ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ زور سے مراد اہل باطل کا ایساباطل جس کی کوشش سے ان کو کچھ حاصل نہ ہو۔ محمد بن حنفیہ نے فرمایا لغو اور گانے کے موقع پر حاضر نہیں ہوتے۔
حضرت ابن مسعود نے فرمایا گانادلوں میں نفاق کو اس طرح اگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو۔ زور کا اصل معنی ہے کسی چیز کو خوبصورت بنادیا، اور اصل حالت کے خلاف دوسری حالت پر دکھانا۔ پس زور کے معنی ہوئے باطل پر ایسا ملمع کرنا کہ وہ حق معلوم ہونے لگے۔ واذامروبالغور مراکراما۔ مقاتل نے کہا کہ ایت کا معنی یہ ہے کہ جب کافروں سے وہ برا بھلا اور دکھ پہنچانے والی باتیں سنتے ہیں تو درگزر کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں اور یہ روایت ابن ابی نجیح کی ہے جو مجاہد سے بھی منقول ہے اس کی نظیر اللہ کا فرمان ہے، واذاسمعواللغوا اعرضوعنہ۔
سدی کا قول ہے کہ یہ آیت مذکورہ بالا آیت جہاد سے منسوخ ہے۔ حسن اور کلبی کا قول ہے کہ لغو سے مراد معاصی ہے یعنی از خود اپنے ارادے سے گناہوں کی مجلس میں نہیں جاتے لیکن اتفاقا اگر کسی گناہ کی محفل کی طرف سے ان کا گزر ہوجائے تو منہ پھیر کر دوسری طرف تیزی سے گزرجاتے ہیں جیسے کہاجاتا ہے، تکرم فلان عمایشینہ، اذاتنزہ، واکرہ نفسہ عنہ، فلاں شخص ایسی باتوں سے پاک ہے جو اس کو عیب دار بناتی ہیں، اس نے اپنے نفس کو عیب دار بنانے والی باتوں سے پاک رکھا ہے۔
Ayah 25:7373۔ والذین اذاذکرو بایات ربھم لم یخرو۔ اس میں گرتے نہیں اور نہ ہی اس میں مشغول ہوتے ہیں۔ علیھا صما وعمیانا، گویا کہ وہ اندھے اور بہرے ہیں بلکہ وہ سنتے ہٰں جو نصحت ان کو کی جاتی ہے اور اس کو سمجھتے بھی ہیں اور حق کو دیکھتے اور اس کی پیروی بھی کرتے ہیں ۔ قتیبی کا قول ہے کہ وہ اس سے ذرہ بھر بھی غافل نہین ہوتے گویا کہ وہ بہرے ہیں انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں اور اندھے ہیں کچھ دیکھا ہی نہیں۔
Ayah 25:7474۔ والذین یقولون ربناھب لنا من ازواجنا وذریاتنا، ابوعمرو، حمزہ، کسائی نے بغیر الف کے پڑھا ہے اور ابوبکر اور باقی قراء نے ذریاتنا جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
قرۃ اعین کی تفسیر۔
” قرۃ اعین، ہماری اولادوں کو متقی اور پرہیزگاری بنا کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا فرمایا۔ بعض نے کہا کہ ان کو نیک صالح بناتا کہ ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
قرظی کا قول ہے کہ مومن کی آنکھ کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی ٹھنڈک نہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ کا فرمانبردار دیکھے حسن کا قول ہے کہ قرۃ مصدر ہے اسی لیے اس کے صیغہ کو مفرد ذکر کیا قرۃ کا اصل معنی ہے ٹھنڈک ۔ عرب لوگ گرمی کی تکلیف سے ٹھنڈک کی طرف چلتے اور خوشی کے وقت وہ قراۃ العین بولتے ہیں اور غمی کے وقت ، سخنۃ العین، بولتے ہیں۔ کہاجاتا ہے خوشی کے وقت کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہٰں اور غمی کے وقت کے آنسو گرم ہوتے ہیں۔ ازہری کا قول ہے کہ قراۃ العین کا معنی یہ ہے کہ دل کو اپناپسندیدہ محبوب مل جائے اور آنکھ دوسروں سے ہٹ کر اپنے محبوب ہی کودیکھے۔
” واجعلناللمتقین اماما۔ ہمیں خیر ک اقتداء کرنے والاامام بنا۔ آئمہ نہیں فرمایا، جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، انارسول رب العالمین، یہاں رسل کے بجائے رسول کا ذکر ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد آئمہ جمع کا صیغہ ہے۔ جیسا کہ ان کا قول ، فانھم عدولی ، اس سے مراد دشمن ہیں۔ بعض علماء نے کہا کہ امام ام کا مصدر ہے۔ مثل صیام اور قیام۔ جیسے کہاجاتا ہے کہ ام ، اماما ، اور قام قیاما وصام صیاما۔
حسن کا قول ہے کہ ہمیں متقین کی راہ پرچلنے اور متقیوں کی اقتدا کرنے والابنا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ہمیں ہدایت والوں کا امام بنا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، وجعلناھم ائمۃ یھدون بامرنا، اور ہمیں گمراہوں کا امام نہ بنا، جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے، وجعلناھم ائمۃ یدعون الی النار، یعنی ہمیں متقین کا امام بنا۔
Ayah 25:7575۔ اولئک یجزون ، وہ پہنچیں گے۔ الغرفہ، بلند درجہ تک جنت میں ، غرفہ ہر بلند مقام کو کہتے ہیں۔ عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد موتی اور زبرجد کے محلات ہیں۔ بماصبروا، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اطاعت پر صبر کرنے کے نتیجے میں بعض نے کہا کہ مشرکین کی اذیت پر صبر کرنے کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ شہوات پر قابو پانے کی وجہ سے۔ ویلقون فیھا، حمزہ وکسائی ، ابوبکر نے یاء کے فتحہ کے ساتھ اور قاف کی تخفیف کے ساتھ۔ جیسا کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا، فسوف یلقون غیا، دوسرے قراء نے یاء کے ضمہ اور قاف کی تشدید کے ساتھ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا، ولقاھم نضرۃ وسرورا۔ تحیۃ، فرشوں کی طرف سے اور بعض نے کہا کہ ہمیشگی، وسلاما، وہ بعض بعض کو سلام کرتے ہیں کلبی کا قول ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور اللہ کی طرف سے ا ن کو سلام بھیجاجائے گا، بعض نے کہا کہ سلاما سے مراد ہر آفت سے سلامتی ہوگی۔
Ayah 25:7676۔ خالدین فیھا حسنت مستقرا ومقاما۔ موضع قرار اور جائے اقامت ہے۔
Ayah 25:7777۔ قل ما یعبوبکم ربی، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے کہ جو کچھ تم کرویانہ کرو تمہاری پرواہ نہیں کرے گا، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شمار کرکے نہیں رکھے گا، اس کا موجود ہونایاموجود نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ تمہارے اعمال کا کوئی وزن مقرر ہے کہ نہیں اس کے متعلق اس کو کوئی پرواہ نہیں۔ لولاء دعاء کم ، اگر تم اس کی پوجا نہیں کرو گے بعض نے اس کا ترجمہ کروایا کہ تمہارا ایمان اور بعض نے کہا کہ تمہاری عبادت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تم کو دعوت اسلام نہ دیتا اور تم اسلام قبول نہ کرتے تو اس سے تمہاری قدر نہ ہوتی۔ اب جب کہ میں نے تم کو اسلام کی دعوت دے دی اور تم ایمان لائے تو اللہ کے نزدیک تمہاری قدر نمایاں ہوگئی ، بعض نے کہا کہ اللہ کو تم کو پیدا کرنے کی کیا پرواہ ہوتی اگر تمہاری عبادت اور طاعت مقصود نہ ہوتی۔ یعنی اس نے اپنی عبادت کے لیے تم کو پیدا کیا۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ، وماخلقت الجن والانس، یہ قولابن عباس ؓ عنہماک اورمجاہدکا اور بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ مایبالی بکم، یعنی اللہ کو تمہاری مغفرت کی کیا پرواہ ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کونہ پکارو، اگر تم شرک نہ کرو توہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اسی مفہوم کی تائید ہورہی ہے جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم، بعض نے کہا کہ آیت کا مطلب ہے کہ اللہ تمہارے عذاب کی کیا پرواہ کرتا ہے اگر مصائب وشدائد میں تم اس کونہ پکارو۔ اس پر یہ آیت دلالت کرتی ہے ، فاذارکبوا فی الفلک دعواللہ، اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا، فاخذناھم بالباساء واضراء لعلھم یتضرعون۔
بعض حضرات نے کہا کہ اللہ نے اپنی کسی غرض کے لیے تم کو پیدا نہیں کیا، اور نہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی قدر ہے۔ بغیر اس کے کہ تم اس سے سوال کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو۔ فقد کذبنتم اے کافروخطاب اہل مکہ کو ہے۔ یعنی اللہ نے رسول کے ذریعے سے تم کو اپنی توحید اور عبادت کی دعوت دی لیکن تم نے رسول کی تکذیب کی اور دعوت کو قبول نہیں کیا تواب جنت میں داخل کرنے کا سروسامان اللہ تم کو کس طرح دیگا۔
لزاماکی تفسیر۔
فسوف یکون لزاما، یعنی تمہاری اس تکذیب کی سزا تم کو چمٹی رہے گی اور تم کو گھیرے رہے گی، یا اس تکذیب کا اثر تمہارے ساتھ چسپاں رہے گا، یہاں تک کہ یہ تکزیب تم کو اوندھے منہ دوزخ میں گرادے گی، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ موت کیا ہے۔
ابوعبیدہ نے اس کا ترجمہ ہلاکت سے کیا ہے ابن زید نے اس کا ترجمہ قتال سے کیا ہے اور ابن جریر نے کہا ہے ہمیشہ رہنے والا کبھی ختم نہ ہونے والاعذاب۔ لزاما، سے کیا مراد ہے۔ اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن مسعود ابی بن کعب اور مجاہد نے فرمایا اس سے مراد یوم بدر ہے۔ اس میں ستر کفار مارے گئے۔ اس دن لڑائی میں سترکافرمارے گئے اور سترقید ہوئے۔ اس دن قتل ہوتے ہی عذاب آخرت ان سے چمٹ گیا، حضرت ابن مسعود سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ، پانچ چیزیں توہوچکیں۔ دخان، شق قمر، روم پر گلبہ، بطشہ، سخت پکڑ، لزاما، بدر کی لڑائی میں کفار کا قتل، بعض نے کہا کہ لزام سے مراد عذاب آخرت ہے۔