19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

41۔ واذکر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقیانبیا، صدیق کہاجاتا ہے جو بہت سچ بولنے والا ہوں اور اس پر قائم ہو۔ بعضنے کہا صدیق اس کو کہاجاتا ہے جو اللہ کی واحدانیت اور انبیاء اور رسولوں کی تصدیق کرتا ہو اور قیامت پر بھی ایمان رکھتا ہو اور جن امو رکو اللہ نے کرنے کا حکم دیا ہے اس کو بجالائے وہ صدیق ہے نبی وہ ہوتا ہے جس کو براہ راست اللہ کی طرف سے خبر دی جاتی ہے۔
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟

42۔ اذ قال، جب حضرت ابراہیم نے کہا، لابیہ، اپنے والد آذر سے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے، یا ابت لم تعبد، مالایسمع، جو آواز نہیں سنتے ، ولایبصر اور کوئی چیز نہیں دیکھتے۔ ولایغنی عنک، نہ وہ ان کی کفایت کرے گا، ، شیئا ۔
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہوجائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلادوں گا

43۔ یا ابت انی قد جاءنی من العلم، اللہ کی ذات وصفات کا جو علم مجھے ملا ہے ، مالم یا تک فاتبعنی، میرے دین پر ، اھدک صراطا سویا، ا سے مراد صراط مستقیم ہے۔
Ayah 19:44

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا شیطان کی پرستش نہ کیجیے بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

44۔ یا ابت لاتعبدالشیطان۔ آپ شیطان کی پیروی نہ کریں کیونکہ وہ آپ کے سامنے کفر وشرک کو مزین کرکے پیش کرتا ہے۔ ان الشیطان کان للرحمن عصیا، اس سے مراد نافرمان ہے۔ کان حال کے معنی میں ہے یعنی وہ اس طرح ہے ۔
Ayah 19:45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

45۔ یا ابت انی اخاف، میں جانتا ہوں، ان یمسک آپ کو پہنچ جائے ۔ عذاب من الرحمن، اگر آپ کفر پر قائم رہیں ، فتکون للشیطان ولیا، وہ دوزخ میں ساتھی ہوگا۔
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

46۔ قال، انکے والد نے حضرت ابراہیم کو جواب دیتے ہوئے عرض کیا، اراغب انت عن الھتی یا ابراہیم، لئن لم تنتہ، اگر تو میرے لیے خاموش نہ ہو اور میرے معبودوں کے عیوب کا تذکرہ کیا یا ان کو برابھلا کہا، لارجمنک ، کلبی مقاتل اور ضحاک کا قول ہے کہ میں تجھے گالیاں دوں گا اور سخت سست کہوں گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ تجھے بہت سخت ماروں گا۔ حسن کا قول ہے کہ میں تمہیں پتھروں سے زخمی کردوں گا واھجرنی ملیا، کلبی کا بیان ہے مجھ سے الگ ہوجاؤ طویل مدت تک مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے کہ ملی کا ترجمہ ہے وقت ، سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ہمیشی، اس کا اصل معنی ہے ٹھہرنا، اور اسی لیے کہاجاتا ہے ، تملیت حینا، علوان کہاجاتا ہے دن ورات۔ قتادہ اور عطاء کا قول ہے کہ صحیح سالم الگ ہوجا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ میرے پاس سے صحیح سالم چلا ورنہ تجھے میری طرف سے دکھ پہنچے گا۔
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

تفسیر۔ 47۔ قال سلام علیک، ، حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ آپ کو مجھ سے سلامتی ہو میں آپ کو کوئی ناپسندیدہ امر جس سے آپ کو تکلیف ہو نہیں پہنچاؤ گا، یہ اس لیے فرمایا کہ ان کو اس وقت ان کے کفر کی وجہ سے قتال کا حکم نہیں دیا گیا تھا، بعض حضرات نے کہا یہ جدائی اور مفارقت کا سلام تھا، بعض حضرات نے کہا یہ سلام نیکی اور لطف کا تھا، یہ جواب حلم ہے جو بیوقوف کو دیاجاتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، واذاخاطبھم الجاھلون قالواسلاما،۔۔ ساستغفرلک ربی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ می اللہ سے مشرک باپ کی مغفرت کی دعا کروں گا بل کہ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو شرک وکفر سے توبہ کرنے اور اسلام وایمان اختیار کرنے کی توفیق دے جو امر موجب مغفرت ہو اس کے حاصل ہونے کی توفیق ملنے کی دعا مشرک کے لیے کی جاسکتی ہے۔ انہ کان بی حفیا، وہ مجھ پر بڑی مہربانیاں اور کرم کرنے والا ہے۔ کلبی کا قول ہے کہ وہ عالم ہے میرے دعا کو جانتا اور قبول فرماتا ہے مجاہد کا قول ہے کہ اس نے مجھے دعاء کا عادی بنادیا ہے۔
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

48۔ واعتزلکم وماتدعون من دون اللہ، میں کنارہ کشی کرتا ہوں ان معبودوں کی جن کی تم پوجا کرتے ہو مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان سے جدائی اختیار کرکے ارض مقدسہ کی طرف چلے گئے ، وادعواربی، کہ میں اپنے رب کی عبادت کروں۔ عسی ان لااکون بدعاء ربی شقیا، جس طرح تم اپنے بتوں کی پوجا کرکے اور ان کو پکارنے کے بعد بھی ناکام رہتے ہو اس طرح میں اپنے رب کو پکار کر اور اس کی عبادت کرکے نامراد نہیں رہوں گا، بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے امید ہے کہ جب میں اس سے دعاء کروں تو وہ میری دعا قبول کرے گا اور تمہاری معبود تمہاری دعا قبول نہیں کرتے۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق) کو یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا

49۔ فلمااعتزلھم ومایعبدون من دون اللہ، وہ یہاں سے ہجرت کرکے چلے گئے،۔
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

50۔ ووھبنالھم من رحمتنا، ہمیں انعام دیا۔ کلبی کے نزدیک رحمت سے مراد مال اور عزت مند اولاد مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ کتاب ونبوت مراد ہے۔ وجعلنالھم لسان صدق علیا، ، یعنی وہ باتیں جن کی تمام مذاہب والے تعریف کرتے ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں، ان کی ایسی خوبیاں ہیں جو امتداد زمانہ کے باوجود پوشیدہ نہیں ہیں۔
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

51۔ واذکر فی الکتاب موسیٰ انہ کان مخلصا ، ، اللہ عزوجل کی خالص عبادت جس میں کسی قسم کا کوئی دکھاوا نہیں ، اہل کوفہ نے مخلصا، لام کے فتحہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی داغ وغیرہ سے خالص کردیں گے۔ وکان رسولانبیا،۔
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

52۔ ونادیناہ من جانب الطور الایمن۔ وہ حضرت موسیٰ کے دائیں جانب تھا، مصر اور مدین کے درمیان ایک جگہ پہاڑ تھا جس کو طور کہاجاتا ہے بعض علماء نے اس پہاڑ کا نام زبیر کہا ہے۔ حضڑت موسیٰ مدین سے واپس آرہے تھے مصر کی طرف جانے کا ارادہ تھا، دور سے آپ کو روشن آگ دکھائی دی ، اور ندا آئی، یاموسی انی انا اللہ رب العالمین، ،، ، وقربناہ نجیا، ان کے ساتھ مناجات کی ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ معنی اس کا یہ ہے کہ اس کو قریب کیا ان کے ساتھ کلام کیا، تقرب کا معنی ہے کہ اس کا کلام انہوں نے سنا اور بعض نے کہا حضرت موسیٰ اتنے مقرب ہوئے کہ قلم سے لکھنے کی آوازیں آئیں۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے انکو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

تفسیر۔ 53۔ ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ہارون نبیا، جب حضرت موسیٰ نے دعا کی اور کہا ، واجعل لی وزیرا من اھلی ہارون اخی، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا سن لی اور ان کو حضرت ہارون عطا کیے اور اسی وجہ سے ان کو ہبہ کیے گئے تھے۔
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

54۔ واذکر فی الکتاب اسماعیل، ، اس سے حضرت اسماعیل مراد ہیں جو نبی کریم کے دادا ہیں۔ انہ کان صادق الوعد ، مجاہد کا قول ہے کہ آپ وعدے کے سچے تھے جب بھی کوئی وعدہ کرتے اس کو پورا کرتے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت اسماعیل نے ایک شخص سے وعدہ کیا کہ جب تک تو واپس نہیں آئے گا میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا وہ شخص تین روز میں یابرقول کلبی سال کے بعد واپس آیا اور حضرت اسماعیل کو اس جگہ منتظر پایا ، وکان رسولا، جرہم قبیلے کی طرف بھیجا گیا تھا، نبیا اللہ عزوجل نے اس کی خبر دی۔
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

55۔ وکان یامر اھلہ، انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا، بعض نے کہا کہ آپ نے اپنے اہل و عیال اور پوری امت کو حکم دیا۔ ، بالصلوۃ والزکوۃ ، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو شریعت فرض کی ہے اور جس کی تعمیل اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، پر فرض کی تھی اور وہی ملت حنفیہ ہم پر بھی فرض ہے۔ وکان عندربہ مرضیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم اور اعمال و افعال کی استقامت کے پابند تھے، اس لیے اللہ ان سے راضی تھا۔
Ayah 19:56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

56۔ واذکر فی الکتاب ادریس، ، یہ حضرت نوح کے پردادا تھے ، ان کا نام اخنوح تھا کتب کے زیادہ پڑھنے کی وجہ سے ان کا نام ادریس پڑگیا، حضرت ادریس (علیہ السلام) قلم سے لکھنے اور کپڑے سینے اور سلاہوا کپڑا پہننے کے موجد ہیں آپ سے پہلے لوگ کھالوں کو بطور لباس استعمال کرتے تھے، آپ ہی نے سب سے پہلے ہتھیار بنائے اور کافروں سے جنگ کی ، علم نجوم اور اس کے حساب کے بھی آپ ہی موجد تھے ، ان کان صدیقا نبیا۔ مکانا علیا کی مختلف تفسیریں۔
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

57۔ ورفعناہ مکاناعلیا، اس سے مراد جنت ہے اور بعض حضرات کے نزدیک دنیا میں بلند مرتبہ کا حاصل ہوجانا ہے بعضنے کہ اس سے مراد چوتھے آسمان پر اٹھایا گیا یہ ہے۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ شب معراج میں رسول اللہ نے حضرت ادریس کو چو تھے آسمان پر دیکھا تھا، یہ حدیث سورة بنی اسرائیل اور سو رہ نجم میں بیان کردی گئی۔ کعب بن احبار کا بیان ہے کہ حضرت ادریس ایک روز دن بھرچلے اور دھوپ کی تیزی اور تپش سے آپ کو تکلیف ہوئی بارگاہ الٰہی میں عرض کیا میرے رب ایک روز دھوپ کی تپش میں چلنے سے مجھے اتنی تکلیف ہوئی پانچ سوبرس کی مسافت جو ایک دن میں چلنے پر مجبور ہوا اس کی کیا حالت ہوگی ؟ اے میرے رب اس سورج کی گرمی ہلکی کردے اور جو فرشتہ اس کو چلاتا ہے اس کا بار کم کردے۔ دوسری صبح کو فرشتہ کو محسوس ہوا کہ سورج میں گرمی ہلکی ہوگئی جو روز کے معمول کے خلاف تھی عرض کیا اے میرے رب تیرے اس حکم میں تخفیف کی کیا وجہ ہے ؟ اللہ نے فرمایا میرے بندے ادریس نے درخواست کی تھی میں سورج کی گرمی کم کرکے تیرے اوپر سے بار ہلکا کردوں، میں نے اس کی دعا قبول فرمائی فرشتہ نے عرض کیا پروردگار، میری ا سے دوستی کرادے ، اللہ نے اجازت دے دی، آفتابی فرشتہ ادریس کے پاس آیا، ادریس نے ا س سے دریافت کیا اور کہا مجھے معلوم ہوا ہے تو بڑا معزز فرشتہ ہے اور ملک الموت کے پاس تیری بڑی عزت ہے تو ملک الموت سے میری سفارش کرے گا، کہ وہ میری موت میں کچھ مدت دھیل کردے تاکہ میں اللہ کے شکر و عبادت میں مزید اضافہ کرسکوں، فرشتے نے کہا آئی ہوئی اجل کو تو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹالتا، بہرحال میں ملک الموت سے کہوں گا، اسکے بعد آفتابی فرشتہ ادریس کو آسمان پر اٹھا کرلے گیا اور طلوع آفتاب کے مقام کے قریب ان کوٹھہرایا، پھر ملک الموت سے جاکر کہا میرا آپ سے ایک کام ہے بنی آدم میں میر ایک دوست ہے جس نے مجھ سے سفارش کرائی ہے کہ آپ اس کی موت کو کچھ پیچھے کردیں۔ ملک الموت نے کہا مجھے اس کا ختیار نہیں اگر تم چاہتے ہوتواتنا کرسکوں کہ اس کو اس کے مرنے کی اطلاع پہلے سے دے دوں تاکہ وہ پہلے تیاری کرلے۔ آفتابی فرشتے نے کہا اچھا ملک الموت نے اپنے رجسٹر میں ادریس کا نام دیکھا دیکھ کر بولا آپ نے مجھ ایسے شخص کے متعلق گفتگو کی ہے جو میرے خیال میں آئندہ کبھی نہیں مرے گا، (کیونکہ اس کا نام زندوں کے اس رجسٹر میں نہیں ہے جو مرنے والے ہیں) آفتابی فرشتے نے کہا یہ کیسے ملک الموت نے کہا، میں نیا پنے رجسٹر میں یہ بات پائی کہ وہ آدمی طلوع آفتاب کے قریب مرے گا (چنانچہ وہ مرگیا اب زندہ نہیں ہے) آفتابی فرشتے نے کہا میں جوا آپ کے پاس آیا ہوں تو اس کو چھوڑ کر آیا ہوں ملک الموت نے کہا اب جاکردیکھوتم اس کو مردہ پاؤ گے اس کی زندگی کا کوئی حصہ باقی نہیں ہے فرشتے نے جاکردیکھاتوادریس (علیہ السلام) کو مردہ پایا۔ آسمان پر کون سے انبیاء زندہ ہیں۔ وہب بن منبہ نے کہا آسمان پر ادریس (علیہ السلام) زندہ ہیں یامردہ علماء کے اقوال اس کے متعلق اختلاف ہیں۔ ایک جماعت نے کہا وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں، اور صرف وہی ہی نہیں بلکہ چار انبیاء زندہ ہیں خضر اور الیاس، زمین پر ، اورادریس و عیسیٰ آسمان پر۔ وہب نے کہا آسمان پر روزانہ ادریس کی اتنی عبادت پہنچتی تھی، جتنی ساری زمین کے باشندوں کی فرشتوں کو اس پر تعجب ہوا اور ملک الموت کو ادریس سے ملنے کا شوق ہو اور اللہ سے اجازت لے کر وہ ادریس (علیہ السلام) کی ملاقات کو آدمی کی شکل میں آیا، ادریس (علیہ السلام) ہمیشہ روزے رکھتے تھے جب افطار کا وقت آیاتوملک الموت کو بھی انہوں نے کھانے پر بلالیا، ملک الموت نے کھانے سے انکار کردیا، تین روز ایسا ہی ہوتا رہا، اب ادریس کو ملک الموت کا انکار ناگوار ہو اور تیسری شب کو ملک الموت سے پوچھا میں جاننا چاہتاہوں آپ کون ہیں ؟۔ ملک الموت نے کہا میں موت کا فرشتہ ہوں اپنے رب سے آپ کے ساتھ رہنے کی اجازت لے کر آیا ہوں۔ ادریس (علیہ السلام) نے کہا میرا آپ سے ایک کام ہے ملک الموت نے کہا کیا کام ہے ؟ ادریس (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ میری روح قبض کرلو، فرشتے نے روح قبض کرلی، پھر تھوڑی دیر بعد اللہ نے روح واپس کردی، ملک الموت نے پوچھا آپ نے جو روح قبض کرنے کی درخواست کی تھی اس کی غرض کیا تھی، ادریس نے کہا میں موت کی تکلیف اور گہرائی کا مزہ چکھنا چاہتا تھا (بالکل مرجانا مقصد نہیں تھا) تاکہ موت کے لیے میری قابلیت زیادہ قوی ہوجائے اس کے بعد حضرت ادریس نے ملک الموت سے کہا میرا آپ سے ایک کام اور ہے ، ملک الموت نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ ادریس (علیہ السلام) نے کہا آپ مجھے آسمان پر لے جائیں تاکہ میں وہاں کے احوال دیکھ لوں اور جنت و دوزخ کی طرف بھی لے جائیں اللہ نے ملک الموت کو ادریس کی درخواست پوری کرنے کی اجازت دے دی۔ چناچہ ملک الموت ادریس (علیہ السلام) کو لے گئے دوزخ پر پہنچے تو ادریس نے ملک الموت سے کہا، آپ مالک (دوزخ کے داروغے) سے کہہ کر دوزخ کے دروازے کھلوادیجئے کہ میں اندر جاکر اتر کر دیکھ لوں ملک الموت نے ایسا ہی کردیا، ادریس (علیہ السلام) نے کہادوزخ تو آپ نے دکھا دی اب جنت بھی دکھادیجئے ملک الموت جنت کی طرف لے گئے اور جنت کے دروازے کھلوا کر اندر لے گئے ، اندرپہنچ گئے تو فرشتے نے کہا اب یہاں سے باہرنکلو اور اپنی اصلی قرار گاہ پر واپس جاؤ، ادریس ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کرچمٹ گئے اور بولے اب میں یہاں سے باہر نہیں جاؤ گا، (دونوں میں گفتگو کا ردوبدل ہونے لگا) اللہ نے فیصلہ کرنے کے لیے ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتے نے آکر ادریس سے پوچھا آپ باہر کیوں نہیں جاتے ؟ ادریس نے جواب دیا، وجہ یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور میں موت کا مزہ چکھ چکا اور اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تم مں سے ہر شخص دوزخ میں ضرور اترے گا، میں دوزخ میں بھی اترچکا اور اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ جنت سے باہر کبھی نہیں نکالے جائیں گے اس لیے میں اب نہیں نکلوں گا، اللہ نے ملک الموت کے پاس وحی بھیجی میری اجازت سے یہ جنت میں داخل ہو اورمیری اجازت سے باہر نکلے گا تم نکالنے کی کوشش مت کرو) یہی وجہ ہے کہ ادریس (علیہ السلام) زندہ ہیں۔ ورفعناہ مکان علیا، کی یہی تشریح ہے۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے پیغمبروں میں سے فضل کیا (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے رہتے تھے

تفسیر۔ 58۔ اولئک الذین انعم اللہ علیھم من النبین من ذریۃ آدم، ، یعنی حضرت ادریس (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) ، وممن حملنا مع نوح، میری ذرتی جو میرے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے خصوصا خود نوح (علیہ السلام) کی نسل سے جیسے ابراہیم واسرائیل جو سام بن نوح کی نسل سے تھے۔ ، ، ومن ذریۃ ابراہیم، ، اس سے مراد حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق اور یعقوب علیہماالسلام ہیں ، واسرائیل، اسرائیل کی اولاد میں سے موسی، ہارون، زکریا اور یحییٰ علیہماالسلام ہیں ، وممن ھدینا واجتبینا، یہ وہ شخصیات ہیں جن کو ہم نے چنا اور ہم نے ان کو اعزاز نبوت سے نوازا۔ ، ، اذاتتلی علیہم آیات الرحمن خرواسجداوب کیا، ، سجداساجد کی جمع ہے اور ب کیا، جمع ہے ، باک ، کی ۔ اللہ کی رحمت کی طلب میں سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور عذاب کے ڈر سے روتے ہیں۔
Ayahs 19:59–60

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

تفسیر۔ 59۔ فخلف من بعدھم خلف، پھر ان مذکورہ انبیاء کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوں گے برے لوگ آئیں گے ، خلف، لام کے فتحہ کے ساتھ اچھا جانشین اور لام کے جزم کے ساتھ براجانشین مراد ہے۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس امت کے لوگ ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس امت کے لوگ ہیں۔ اضاعو الصلوۃ، ، جنہوں نے فرض نماز چھوڑ دی تھی ابن مسعود نے اس کا ترجمہ کیا ہے نماز وقت کو ٹال کرپڑھی، سعید بن مسیب نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ ظہر کی نماز عصر کی نماز آنے سے پہلے نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب سورج غروب ہونے لگے۔ واتبعوا الشھوات، ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور شراب پی۔ انہوں نے اپنی خواہش نفس کا اتباع کیا اور اللہ کی اطاعت سے منہ موڑا، مجاہد کا قول ہے کہ اس قوم کا ظہور آخری زمانہ میں ہوگا۔ غیاکی تفسیر۔ فسوف یلقون غیا، ، وہب بن منبہ کا قول ہے کہ غی جہنم کے اندر ایک بہت گہری وادی کا نام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ جہنم کے اندر ایک ایسی وادی ہے کہ جہنم بھی اس کی گرمی سے پناہ مانگتی ہے۔ عادی زناکاروں کے لیے ، دوامی شراب خوروں کے لیے اور ان سود خوروں کے لیے جو سود خوری سے باز نہیں آتے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے اور جھوٹے گواہوں کے لیے اس کو تیار کیا گیا ہے۔ ابن مردویہ نے یہ حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے مرفوعا نقل کی ہے۔ بغوی نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ غی جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس کے اندر بجائے پانی کے پیپ اور خون اور بہتا ہے ۔ کعب نے کہا غی جہنم کے اندر ایک بہت ہی گہری اور گرم ترین وادی ہے جس کے اندر ایک کنواں ہے، کنویں کو یہیم کہاجاتا ہے۔ دوزخ کی آگ جب کچھ بجھنے لگتی ہے تو اس کنویں کا منہ کھول دیاجاتا ہے جس کی آگ سے دوزخ پھر بھڑکنے لگتی ہے۔ بغوی نے بروایت زکریابن ابومریم خزاعی بیان کیا ہے کہ حضرت ابوامامہ باہلی نے فرمایا، جہنم کے بالائی کنارہ سے گہرائی تک اتنی دور ی ہے کہ موٹی دس ماہ عظیم الجثہ اونٹنیوں کے برابر اگر کوئی پتھر یاچٹان اوپر سے نیچے کو لڑھکائی جائے توستر برس کی مسافت طے کرکے نیچے پہنچے، یہ سن کر عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے آزاد کردہ غلام نے دریافت کیا کہ حضرت کیا اس کے نیچے بھی کچھ ہے ؟ حضرت ابوامامہ نے فرمایا ہاں غی اور اثام ہے۔ ضحاک نے کہا اس سے مراد گمراہی اور خسارہ ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد ہلاکت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد عذاب ہے ، فسوف یلقون غیا، اس کا معنی یہ نہیں کہ فقط وہ دیکھیں بلکہ معنی یہ ہے کہ اجتماع ملابست ہے روئیت کے ساتھ ساتھ۔
Ayah 19:61

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو کوئی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) بیشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

61۔ جنات عدن التی وعدالرحمن عبادہ بالغیب، جو انہوں نے نہیں دیکھی، انہ کان وعدہ ماتیا، مفعول بمعنی فاعل کے ہے۔ یہاں اتیاذکر نہیں کیا کیوں کہ جو آتا ہے وہ پہنچ ہی جاتا ہے۔ عرب کے ہاں بھی کہنے والے کا قول کے اعتبار میں کوئی فرق نہیں جیسے کوئی کہے ، اتت علی خمسون سنۃ، اور اس قول کے درمیان کہ وہ کہے ، اتیت علی خمسین کہ مجھ پر پچاس سال گزر گئے یا میں پچاس سال پر گزر گیا، اور اس طرح کوئی کہے ، وصل الی الخیر ووصلت الی الخبر، ابن جریر کا قول ہے کہ ودعدہ کا معنی ہے موعود پورا کیا ہوا، اور وہ جنگ ہے جس میں اولیاء اور فرمانبردار آئیں گے۔
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور ان کے لئے صبح وشام کھانا تیار ہوگا

62۔ لایسمعون فیھا، اس جنت میں نہیں سنیں گے ، لغوا باطل فحش کلام لغو کلام۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ جھوٹی بات نہیں سنیں گے۔ الاسلاما، ، غیرجنس سے استثناء ہے۔ صرف جنت میں سلام ہی سنیں گے اور ان کا قول سلام ہوگا، سلام خیر کے لیے جامع نام ہے کیونکہ یہ سلامتی کو متضمن ہے ۔ معنی یہ ہوگا کہ جنتی لوگ گناہ کی کوئی بات نہیں سنیں گے بلکہ وہ سنیں گے جوان کو سلام کرے گے وہ اللہ کی طرف فرشتوں کی طرف سے اور باہم ایک دوسرے کی طرف سے سلام کی آواز سنیں گے ۔ ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ جنت میں رات نہیں ہوگی ، اور بعض نے کہا جنتی وقت کا ادراک کرلیں گے پردے کے اٹھنے کے بعد اور رات کا وقت پردے کے پڑجانے کے ساتھ یعنی پہچان لیں گے بعض نے کہا کہ اس سے عیش و آرام ہے اور رزق کا کشادہ ہونا مراد ہے بغیر تنگی کے۔ حضرت حسن کی روایت بیان کی گئی ہے کہ عرب لوگ اس عیش کو نہیں جانتے جو رزق سے افضل ہو ، صبح وشام سے ہی اللہ نے اہل جنت کو اس کے ساتھ موصوف کیا ۔
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

تفسیر۔ 63۔ تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا، ، جو ہم ان کو دیتے ہیں اور جوان پر نازل کرتے ہیں۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ مومنوں کو جنت کے اندر بعض ایسے مکان ملیں گے جو واقع میں ان دوزخیوں کے لیے تھے۔ اگر وہ کفر نہ کرتے تو ان مکانوں کے مالک و قابض ہوتے ، من کان تقیا، اس سے مراد اپنے متقین بندے ہیں۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سوا اتر نہیں سکتے جو کچھ ہمارے آگے اور جو پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے

، ، ومانتنزل الابامرربک، ، سعید بن جبیر ؓ عنہابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ اے جبرائیل (علیہ السلام) کس چیز نے آپ کو ہم سے زیارت کرنے سے روکا، آپ تو ہماری کثرت سے زیارت کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ومانتزل الابامرربک لہ مابین ایدینا وماخلفنا، یہی جواب حضرت محمد ﷺ کے لیے فرمایا، ضحاک عکرمہ، مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ جب قوم والوں نے رسول اللہ سے اصحاب کہف اور ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوال کیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں کل کو بتاؤں گا، اس وعدے کے ساتھ انشاء اللہ نہیں فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کافی مدت تک نہیں آئے، حضور ﷺ کو جبرائیل کے نہ آنے کی وجہ سے تکلیف ہونے لگی، پھر کچھ دنوں کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) آئے تو حضور نے ان سے فرمایا آپ نے بہت دیر کردی ؟ میراخیال توخراب ہونے لگا تھا میں آپ کا بےچینی سے انتظار کرتارہا، جبرائیل نے کہا میں بھی آپ سے ملنے کا مشتاق تھا، لیکن میں حکم کا بندہ ہوں، مجھے جب بھیجاجاتا ہے آجاتاہوں، روک دیاجاتاہوں تورک جاتا ہوں، اس پر یہ آیت اور، والضحی واللیل، اذا سجی ماودعک ، ، پڑھی، لہ مابین ایدینا وماخلفنا ومابین ذالک، اس کے پاس وہ علم ہے جوان کے درمیان ہے۔ مابین ایدینا وماخلفنا کی مختلف تفسیریں۔ اس معنی میں مفسرین کرام کا آپس میں اختلاف ہے کہ سعید بن جبیر، قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ ، مابین ایدینا سے مراد آخرت کا امر ثواب ہے اور عقاب ہے۔ ـ” وماخلفنا، ، سے مراد جو دنیا میں گزرچکا ہے اور ان کے درمیان فی الحال جو کچھ ہورہا ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ، مابین ایدینا ، ، سے مراد جو کچھ آخرت کے امور میں سے ہے اور وماخلفنا ، سے مراد دنیاوی امور ہیں۔ ومابین ذالک، سے مراد دونوں نفخوں کے درمیان کا وقت ہے۔ ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ مراد ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مابین ، ایدینا، سے مراد جو دنیا میں باقی ہے وماخلفنا ، سے مراد جو دنیا میں گزر گیا۔ ومابین ذالک سے مراد دنیاوی زندگی ہے اور بعض نے کہا کہ مابین ایدینا، سے مراد مرنے کے بعد، وماخلفنا سے مراد پیدائش سے پہلے، ومابین ذالک سے مراد ان دونوں کے درمیان کی زندگی ہے اور بعض نے کہا کہ مابین ایدینا، سے مراد زمین ہے کہ جب اس زمین پر انسان کا نزول ہوا۔ وماخلفنا، سے مراد آسمان ہے جب اس سے اترے، ومابین ذالک، سے مراد ھواء ہے ، مراد اس سے ہرچیز ہے کوئی بھی اس پر قادر نہیں مگر اللہ ہی کے حکم سے۔ وماکان ربک نسیا، وہ بھولنے والاکہاجاتا ہے کہ آپ کا رب آپ کو بھولا نہیں ، مطلب یہ کہ اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جو بھولنے والا ہوتا ہے وہ چھوڑ دینے والا ہوتا ہے۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

یعنی آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب پروردگار کا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو بھلا تم کوئی اسکا ہم نام جانتے ہو ؟

تفسیر۔ 65۔ رب السموات والارض ومابینھما فاعبدہ واصطبر لعبادتہ، آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس پر صبر کریں اور جس سے روکا گیا ہے ، ھل تعلم لہ سمیا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد مثال ہے۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی عدل ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ کیا تم کسی کو جانتے ہو ، اللہ کے سوا جو اس کا ایسانام ہو، یا ایسامثل عبادت کیے جانے اور الہ کہلانے کا مصداق ہو۔
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا

66۔ ویقول الانسان ، ، اس سے مراد ابی بن کعب جحمی ہے جو بعثت کامنکر تھا، یہ کہتا تھا کہ ، ء اذا مامت لسوف اخرج حیا، ، قبر سے زندہ کرکے اٹھایاجائے گا، یہ بطور استہزاء اور بعثت کی تکزیب کے طور پر کہی۔
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا ؟

67۔ اولایذکر، ، اس کو یاد کرو اور اس پر غور و فکر کرو۔ یذکرتخفیف کیساتھ ہے۔ الانسان، اس سے ابی بن خلف مراد ہے ، اناخلقناہ من قبل ولم یک شیئا، ، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس پر غور و فکر نہیں کرتے کہ تم اس کے پیدا کرنے پر انکار کرتے ہو، جس نے ابتداء پیدا کیا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ پھر اپنے نفس کی قسم کھائی اور پھر ارشاد فرمایا۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھنٹوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

68۔ وفوربک لنحشرنھم، ، ہم ان کو جمع کردیں گے وعدہ کے دن۔ مشرکین اور منکرین بعثت کو، والشیاطین ، ، شیطان کے ساتھ یہ اس وجہ سے کہ کیونکہ اس دن ہر کافرکواس کے شیطان کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ کر لایاجائے گا، ثم لنحضرنھم حول جہنم جثیا، بعض نے کہا ان کو جہنم میں جمع کیا جائے گا، جثیا، سے مرادابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد جماعت درجماعت ہے جثوۃ کی جمع ہے۔ حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ جاث کی جمع ہے ۔ زانو کے بل بیٹھے ہوئے سدی نے ترجمہ کیا تنگی مقام کی وجہ سے زانو ک بل کھڑے ہوئے۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

69۔ ثم لننزعن، ، پھر ہم ان کو ضرور بضرور نکالیں گے۔ ” من کل شیعۃ، ، ہر امت میں سے اور کفار میں سے سب اسی میں شامل ہوں گے ، ، ایھم اشد علی الرحمن عتیا، ، بےجاغرور کو کہاجاتا ہے ، یہ اصل میں عتوا تھا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا معنی جرات ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ فجور ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ ان کا قائد اور ان کے سردار شریر ہوں گے، ان کو جہنم میں داخل کریں گے اور آخر میں بہت سخت ہیں، اور بعض آثار میں آیا ہے کہ وہ سب کے سب جہنم کے کنارے پر حاضر ہوں گے۔ پھر کافر پھر ان کے بعد کافر جمع کیے گئے ، (یعنی کفر کے بقدر ان کو جہنم کے باہر کھڑا کیا جائے گا) ایھم، کا معنی ، الذی، ہے ان کو کہاجاتا ہے کہ کون ہے سخت جو رحمن پر زیادہ سرکشی کرتا تھا اور بعض نے کہا کہ جملہ مستانفہ ہے۔
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔

70۔ ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولی بھاصلیا، ، آگ میں داخل ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ کہاجاتا ہے ، صلی یصلی صلیا، یہ ایسے ہے، لقی یلقی لقیا، اور صلی یصلی صلیا، جیسے معنی ، یمضی مضیا، جب وہ آگ میں داخل ہوں گے اور جل جائیں گے۔
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔

71۔ وان منکم الاواردھا، ، نہیں ہے کوئی جو اس کے اوپر سے نہ گزرے اور بعض نے کہا کہ اس میں قسم پوشیدہ ہے اس کا معنی ہے ، واللہ مامنکم من احد الاواردھا، ،۔ وان منکم الاواردھا کی مختلف تفسیریں۔ وارد کہتے ہیں کہ مکان کا موافق آجانا، ورد کے معنی میں آئمہ مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ورد کا معنی دخول ہے اور کنایہ یہ راجع ہے۔ آگ میں دخول کے ساتھ اور ان لوگوں نے کہا کہ معنی یہ ہوگا کہ اس آگ میں نیک اورفاجر سب داخل ہوں گے۔ پھر اللہ متقین کو نجات دے دیں گے اور اس آگ سے نکال دیں گے اس دلیل کا حاصل یہ ہوگا کہ ورد سے مراد دخول ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں کہا، یقدم قومہ یوم القیامۃ فاوردھم النار، ،۔ ابن عیینہ سے مروی ہے کہ عمرو بن دینار کی روایت سے بیان کیا کہ نافع بن ارزق نے حضرت ابن عباس ؓ سے ورد کے معنی کی تشریح میں کچھ اختلاف کیا ہے۔ ابن عباس کے نزدیک کہ اس کا معنی دخول ہی ہے۔ نافع کا قول ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ورد سے مراد دخول نہیں، اس پر حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کے استشہاد کے لیے یہ آیت تلاوت کی، ، انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھاواردون۔ کہ اسمیں وہ داخل ہوں گے یا داخل نہیں ہوں گے ۔ پھر فرمایا اے نافع تم اور میں سب اسی میں داخل ہوں گے مجھے تو امید ہے کہ اللہ مجھے نکال لے گا لیکن میراخیال ہے کہ تجھے نہیں نکالے کیونکہ تو داخل ہونے کا ہی منکر ہے۔ ایک قوم کا قول ہے کہ اس سے مراد دخول ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ مومن کبھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان، ان الذین سبقت لھم مناالحسنی اولئک عنھا مبعدون لایسمعون حسیسھا، ، اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جن کو دوزخ میں ڈال دیاجائے گا، وہ کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے، اللہ تعالیٰ کے فرمان ، وان منکم الاواردھا، کا یہی مطلب ہے اس سے اس میں حاضر ہونا اور دیکھنا مراد ہے نہ کہ اس میں داخل ہونا، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، ولم اور دماء مدین، ، اس سے مراد وہاں حاضر ہونا ہے۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے آیت مذکورہ کی تشریح میں فرمایا، دوزخ میں داخل ہوئے بغیر کوئی نہیں رہے گا، اس سے کنایہ یہ مراد لیا ہے کہ اس کی طرف لوٹے گا۔ ابن مسعود نے آیت، وان منکم الاواردھا، کے متعلق بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب لوگ دوزخ پر اتریں گے ، اس کے بعد اپنے اپنے اعمال کے موافق وہاں سے نکال لیے جائیں گے ، اول شخص بجلی چمکنے کی طرح پھر ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی تیز دوڑ کی طرح پھر اونٹ کی دوڑ کی طرح جس پر سامان لدا ہواہوپھرآدمی کے دوڑنے کی طرح پھر آدمی کی معمولی رفتار کی طرح۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ وان منکم الاواردھا، ، سے مراد قیامت ہے ۔ اول زیادہ صحیح ہے۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے کہ پہلے سب کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا، پھر اہل ایمان کو دوزخ سے نکال دیاجائے گا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے ، ثم ننجی الذین اتقوا، ، جو شرک سے بچتے رہے وہی مومنین ہیں اور نجات کسی چیز کے دخول کے بعد ہوتی ہے نہ کہ اس کے اوپر سے گزر جانے کے ساتھ۔ سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ایسا نہیں کہ کسی مسلمان کے تین بچے مرجائیں اور وہ آگ میں داخل ہو۔ وہاں صرف قسم پوری کرنے کے لیے اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی، وان منکم الاواردھا،۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ دوزخ سے اس شخص کو بھی نکالاجائے گا، جو لاالہ الا اللہ کہے اور اس کے دل مٰں ایک جو کے دانے کے برابر نیکی ہو اورآگ سے اس شخص کو بھی نکالاجائے گا جس نے لاالہ اللہ کہا اور اس کے دل میں گندم کے ایک دانے کے برابر خیر ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے نکال دیں گے جس نے لاالہ الا اللہ کہا، اور اس کے دل میں نیکی کا ایک ذرہ موجود ہو۔ ابان عن قتادہ سے منقول ہے کہ ان کے نزدیک من ایمان کی جگہ من خیرذکر کیا ہے۔ انس بن مالک ؓ نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص دوزخ میں ایک ہزار سال تک آواز دیتا رہے گا، اے حنان، اے منان، اللہ عزوجل جبرائیل (علیہ السلام) کو فرمائیں گے کہ جاؤ اور اس شخص کو میرے پاس لے آؤ، کہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) اس شخص کو پائیں گے جو رو رہے ہوں گے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) واپس لوٹیں گے، اللہ عزوجل کو اس کے متعلق بتلائیں گے فرمایا کہ جاؤ وہ فلاں فلاں جگہ پر ہوگا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ جائیں گے۔ پھر حضرت جبرائیل اس شخص کو لے کر اللہ رب العزت اس شخص سے کہیں گے کہ تم نے اپنی جگہ اور اپنے ٹھکانے کو کی سے پایا، وہ کہے گا اے میرے رب ! وہ برا مکان اور براٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہیں گے میرے بندے کو واپس لوٹا دو وہ بندے کہے گا میں امید کرتا ہوں جس شخص کو ایک دفعہ دوزخ سے ن کال دیاجائے اس کو واپس نہیں لوٹایاجائے گا، اللہ عزوجل فرمائیں گے فرشتوں سے کہ میرے بندے کو بلاؤ، اللہ عزوجل کے فرمان ، لایسمعون حسیسھا، کا یہی مطلب ہے ۔ بعض حضرات نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جنت میں اس وقت کا تذکرہ کیا کہ جنت میں لوگ اس وقت بری بات نہیں سنیں گے، اور یہ بات جائز ہے کہ وہ یہ بات جنت میں دخول سے پہلے سن لیں کیونکہ اس بات کا تذکرہ نہیں کہ وہ بری بات نہیں سنیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت میں دخول کے وقت یہ بات سن لیں کیونکہ جنت میں دخول کے بعد ان کو سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ خالد بن معدان کا قول ہے کہ اللہ رب العزت جنتیوں سے فرمائیں گے کہ کیا تمہارے رب نے وعدہ نہیں کیا تھا، کہ تمہیں آگ پر سے وارد ہونا ہے ان کو کہاجائے گا کیوں نہیں لیکن تم اس کے اوپر سے گزر گئے ہو اور ایک حدیث میں منقول ہے کہ آگ مومنین سے کہے گی کہ تمہارایہ بدلہ ہے کہ تمہیں بچانے کے لیے ہمارے نور تپش کو ختم کردیا گیا، مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کا قول ہے وان منکم الاواردھا، کہ مسلمانوں کے لیے اس گرمی کو ٹھنڈا کردیاجائے گا، اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ حمی بخار کو کہتے ہیں ، جو جہنمیوں کو دیاجائے گا، اور مومنین کو بھی تھوڑاسا آئے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نبی کریم سے روایت کرتی ہیں کہ بخار جہنم کی تپش ہے اس کو پانی سے بجھاؤ۔ کان علی ربک حتما مقضیا، کہ تمہارادوزخ کے اوپر سے گزرنا پختہ ہے۔ اور اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

72۔ ثم ننجی الذین اتقوا، ، شرک سے بچو۔ کسائی نے تنجی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقی نے تشدید کے ساتھ دلیل ہے اس میں سب داخل ہوں گے۔ پھر اس سے متقین کو نکالاجائے گا اور دوزخ میں ظالمین اور مشرکین کو چھوڑ دیاجائے گا۔ سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید کا قول ہے کہ حضرت ابوہریرہ کو ان دونوں نے خبر دی کہ لوگ کہتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! کہ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو جب کوئی بادل نہیں ہوتا، لوگوں نے کہاجی ہاں اے اللہ کے رسول۔ پھر فرمایا کہ کیا تم سورج کو دیکھتے ہو جب بادل نہ ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسی طرح قیامت کے دن اس کو دیکھو گے قیامت کے دن لوگوں کو جمع کیا جائے گا، جو شخص جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کو اپنے ساتھ لائے گا، ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو سورج کی پوجا کرتے تھے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو چاند کی پوجا کرتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اس امت کے منافقین رہ جائیں گے ان کو اللہ تعالیٰ کے پاس لایاجائے گا اللہ فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں۔ جب اللہ عزوجل ان کے سامنے آئیں گے تو وہ پہچان لیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے آپ ہمارے رب ہیں اور پل صراط ان کے پیچھے ہوگی، میں اس امت میں سے پہلاشخص ہوں گا جس کو قیامت کے دن بولنے اور شفاعت کی اجازت ملے گی اور اس دن کوئی بھی بات نہیں کرسکے گا، مگر رسول اللہ اور اس دن رسولوں کا کلام سلام سلام ہے اور جہنم میں کلالیب ہوں گے ۔ نیز جہنم میں سعد ان کے کانٹوں جیسے آنکڑے ہوں گے ، ان آنکڑوں کی لمبائی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، کیا تم نے ، شوک السعدان ، ، دیکھے ہیں وہ کہیں گے جی ہاں پھر فرمایا، شوک السعدان کے مثل ان کی عظمت کی قدر اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوگی ۔ لوگوں کو ان کے اعمال کے مناسب اٹھایاجائے گا، ان میں سے بعض جو اپنے اعمال کی وجہ سے منہ کے بل گریں گے اورا ن میں سے بعض جو تھوڑی دیر اس میں گریں گے پھر نجات پالیں گے ۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی نکالنے کا ارادہ کرے گا جس نے یہ کہا ہوگا، اشھد ان لاالہ الا اللہ ، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہیں گے ان کو دوزخ سے نکالو جو میری عبادت کرتے تھے۔ چنانچہ فرشتے ان لوگوں کو دوزخ سے نکالیں گے اور انکی پیشانیوں پر سجدہ کے نشانات کے ذریعہ ان کی شناخت کریں گے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر یہ حرام کردیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھالے ، اس لیے دوزخ کی آگ ابن آدم کے سارے جسم کو کھاجائے گی مگر سجدوں کے نشان کو نہیں کھائے گی ، بہرحال وہ لوگ دوزخ سے اس حالت میں باہر لائے جائیں گے کہ وہ آگ میں جل کرسیاہ ہوچکے ہوں گے پس ان پر آب حیات چھڑکاجائے گا، اور وہ اس طرح تروتازہ ہوجائیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کچرے میں پڑا ہوادانہ اگتا ہے۔ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والے شخص کا رب کے ساتھ مکالمہ۔ اور ایک شخص جو دوزخیوں میں سے جنت میں داخل ہونے والا، آخری شخص ہوگا، جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا رکھا جائے گا اس کا منہ دوزخ کی طرف ہوگا، وہ عرض کرے گا کہ میرے پروردگار میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے دوزخ کی آگ کی بدبو نے مجھے سخت اذیت میں مبتلا کررکھا ہے اور اس کے شعلوں کی تیزی و گرمی مجھے بھسم کیے دے جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کہ اگر میں ایسا کردوں تو ہوسکتا ہے کہ تو پھر کچھ اور بھی مانگنے لگے۔ وہ شخص عرض کرے گا تمہیں تمہاری عزت کی قسم، مین اور کچھ نہیں مانگوں گا، پھر وہ کچھ عہد و پیمان کرے گا جو اللہ تعالیٰ چاہے گا، اور اللہ تعالیٰ اس شخص کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیردے گا، مگر جب اس کا منہ جنت کی طرف پھیر دے گا اور وہ جنت کی زیبائش و آرائش اور تروتازگی دیکھے گا تو اس وقت تک خاموش رہے گا، جب تک خدا چاہے گا اور پھر عرض کرے گا، کہ میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچادے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گاکیاتو نے عہد و پیمان نہیں کیا تھا، کہ تو اپنی اس درخواست کے علاوہ کوئی درخواست پیش نہیں کرے گا، اور گڑگڑائے گا کہ میرے پروردگار تو مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ بنا، مگر جب وہ جنت کے دروازے تک پہنچے گا اور جنت کی چمک دمک اور اس کے اندر کی چیزوں کے ٹھاٹ باٹ دیکھے گا تو پہلے اس وقت تک خاموش رہے گا، جب تک خدا چاہے گا اور پھر عرض کرے گا کہ میرے پروردگار مجھے جنت کے اندر پہنچادیجئے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ابن آدم ! افسوس تو کس قدر عہد شکن ہے اور وعدہ فراموش ہے ؟ کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیا تھا، کہ تو اپنی اس درخواست کے علاوہ جو تیری خواہش کے مطابق منظور کرلی گئی تھی کوئی اور درخواست پیش نہیں کرے گا، وہ عرض کرے گا کہ میرے رب، مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ بنا، غرض کہ وہ اسی طرح گڑگڑاتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ اس سے را آضی ہوجائے اور اللہ تعالیٰ جب راضی ہوجائے گا تو اس کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ تو اورجو کچھ آرزو اور خواہش رکھتا ہو تو اس کو ظاہر کر اورجو کچھ مانگنا چاہتا ہے مانگ لے۔ چناچہ وہ اپنی آرزوئیں بیان کرے گا اور جب اپنی آخری آروزو بھی پوری کرالے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں فلاں چیز کی بھی خواہش کیوں نہیں ظاہر کرتا ! گویا پروردگار اس کو یاد دلاناچا ہے گا کہ تونے فلاں فلاں چیز تو مانگی ہی نہیں ان چیزوں کو بھی مانگ لے میں آج تجھے ہرچیز عطا کروں گا، یہاں تک کہ جب وہ آرزوئیں بھی پوری ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ نہ صرف یہ تمام چیزیں تیرے لیے ہیں بلکہ ان ہی جیسی مزید نعمتیں تجھے عطا کی جاتی ہیں اور حضرت ابوسعید کی روایت میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گانہ صرف یہ تمام چیزیں تیرے لیے ہیں بلکہ ان کے ساتھ دس گنا اور نعمتیں عطا کی جاتی ہیں۔ اس پر حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے اس حدیث کے یہ الفاظ بہت خوب یاد ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا، (لک ذالک) و مثلہ معہ، ابوسعید فرماتے ہیں کہ میں نے اسی طرح سنا اور میں نے آپ سے یہ الفاظ اس طرح نقل کیے ، لک وعشرۃ امثالہ، اور محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئیں گے ۔ ایسی صورت کے ساتھ جس سے وہ پہچان نہیں سکیں گے ، اللہ ان سے کہے گا، میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے ہم اس جگہ سے پناہ مانگتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کو رب کے پاس پہنچایاجائے گا، جب وہ اللہ رب العزت کے پاس آئیں گے ان کو پہچان لیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ اس صورت میں ان کے سامنے آئیں گے کہ یہ لوگ ان کو پہچان لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں تو وہ کہیں گے تو ہمارا رب ہے تو اس کی پیروی کرنے لگیں گے۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اہل توحید کو جہنم میں سزا دی جائے گی، یہاں تک کہ وہ کوئلہ ہوجائیں گے پھر ان پر رحمت پڑے گی ، فرماتے ہیں کہ وہ جہنم سے نکلیں گے اور جنت کے دروازوں کے سامنے ان کو ڈال دیاجائے گا، فرمایا کہ اہل جنت ان پر پانی پھینکیں گے تو وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گارے سے دانا اگتا ہے پھر ان کو جنت میں داخل کردیاجائے گا۔ سب سے ادنی جنتی کو بھی جنت میں دس گنا عطا کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں جس شخص کو سب سے آخر میں دوزخ سے نکالاجائے گا، اس کو کہاجائے گا، اس طرف سے پھر جا اور جنت میں چلا جا۔ آپ نے ارشاد فرمایا وہ جائے گاتا کہ جنت میں داخل ہوجائے وہ دیکھے گا کہ لوگوں نے تو اپنی اپنی جگہیں سنبھال لی ہیں، وہ لوٹ آئے گا اور کہے گا، اور میرے رب ، لوگوں نے تو اپنی اپنی جگہیں سنبھال لی ہیں اس کو کہاجائے گا، کہ کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے جس زمانے میں تونے گزارہ کیا وہ کہے گا، جی ہاں ، اس کو کہاجائے گا توتمنا کر، پس وہ تمنا کرے گا اس کو کہا جائے گا، وہ تیرے لیے ہے جو تونے تمنا کی اور اس سے دس گنا تیرے لیے ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ توبادشاہوں کا بادشاہ ہے، آپ ؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے دیکھا آپ ﷺ مسکرائے۔ یہاں تک کہ ان کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔ حضرت حفصہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ اگر اللہ چاہے توشہداء بدر اور حدیبیہ والے دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے۔ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد نہیں فرمایا، ، وان منکم الاواردھا کان علی ربک حتما مقضیا، ، فرمایا کہ کیا تو نہیں سنتی یہ کہتے ہوئے ، ثم ننجی الذین اتقوا ونذرالظالمین فیھا جثیا، ،۔
Ayahs 19:73–74

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

تفسیر۔ 73۔ واذا تتلی علیھم آیاتنا بینات، ، اس سے مراد واضح آیات ہیں۔ قال الذین کفروا ، ، اس سے مراد نضر بن حارث اور قریش کے بڑے سردار ہیں۔ للذین آمنو، ، آپ ﷺ کے غرباء صحابہ جو پراگندہ خشک بال ، زندگی بدحالی ، فرسودہ لباس اور مشرک مال دار تھے ۔ بالوں میں تیل ڈالتے ، کنگھا کرتے اور اعلی لباس و عمدہ لباس پہنتے ۔ ان لوگوں نے مومنین سے کہا، ای الفریقین خیر مقاما، ، ان کی جگہ اور ان کا مقام اور اقامت کی جگہ بہتر ہے۔ ابن کثیر نے مقاما ، میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ جائے اقامت ، واحسن ندیا، ندیا بمعنی مجلس کے ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے جواب دیا۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیے جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

75۔ قل من کان فی الضلالۃ فلیمددلہ الرحمن مدا، ، یہ امر بمعنی خبر کے ہے مطلب یہ ہے کہ جو شخص گمراہی میں اندھا ہوا ہوتا ہے ، اللہ اس کو اورڈھیل دیتا ہے اور گمراہی کے اندر اس کو بڑھاتا ہے اور مہلت دیتا رہتا ہے۔ حتی اذا روامایوعدون اما العذاب، ، ان کو قید کرنا اور دنیا میں قتل کرنا ہے۔ واماالساعۃ ، ، اس سے قیامت مراد ہے وہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔ فسیعلمون ، ، اس وقت وہ جان لیں گے ، من ھو شرمکانا، ، وہ جگہ ، واضعف جندا، ، ان کے مددگار کم ہوں گے اور مومنین امن میں ہوں گے کیونکہ کفار تو دوزخ میں اور مومنین جنت میں ہوں گے ۔ یہ ان پر رد ہے۔ ، ای الفریقین خیرمقاما واحسن ندیا، ،۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

76۔ ویزیداللہ الذین اھتدوا ھدی، ، اللہ ان کے ایمان اور یقین میں مزید اضافہ کریں گے۔ والباقیات الصالحات، ، ا س سے مراد اذکار اور اعمال صالحہ ہیں جن کا فائدہ کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ پہنچتا رہے گا، یعنی کافروں کو جو نعمتیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں وہ فانی بھی ہیں ۔ خیر عندربک ثوابا وخیرامردا، ، ان کا انجام اور ان کاٹھکانا۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

77۔ افرائیت الذی کفر بایاتنا وقال لاتین مالاو ولدا، ، مسروق سے روایت ہے کہ وہ خباب نے بیان کیا۔ حضرت خباب نے بیان کیا کہ میں لوہاری کا کام کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل کا کچھ کام بنایا، اور میری مزدوری اس کے پاس جمع ہوگئی۔ ایک روز مزدوری مانگنے میں اس کے پاس گیا ۔ عاص نے جواب دیا، خدا کی قسم جب تک تو محمد ﷺ کا انکار نہیں کرے گا میں تیراقرض ادا نہیں کروں گا، میں نے کہا خوب سن لے خدا کی قسم جب تک تومرکردوبارہ زندہ ہوکراٹھے گا اس وقت تک میں بھی کفر نہیں کروں گا۔ عاص بولا کہ کیا مرنے کے بعددوبارہ زندہ کرکے اٹھایاجاؤں گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، افرائیت الذی کفر بایاتنا وقال لاوتین مالاو ولدا۔
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے ؟

تفسیر۔ 78۔ اطلع الغیب، ، ابن عباس کا قول ہے کہ کیا اس نے لوح محفوظ میں دیکھ لیا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ کیا اس کو علم غیب حاصل ہوگیا ہے کہ وہ آخرت میں مال واولاد حاصل ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ ” ام اتخذ عندالرحمن عھدا، ، عہد سے مراد لاالہ الا اللہ، ہے قتادہ نے کہا کہ عہد سے مراد ہے کہ اس نے جو نیک عمل کیا اور اس کو آگے بھیجا ، کلبی کا قول ہے کہ عہد سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھے جاتے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

79۔ کلا، ، ہرگز ایسا نہیں ہے۔ سنکتب، ہم اس کو محفوظ کریں گے ۔ مایقول، ، ہم اس کو آخرت میں بدلہ دیں گے اور بعض نے کہا کہ ہم ملائکہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کو لکھ دو ۔ ونمدلہ من العذاب مدا، ، ہم ان کے لیے عذاب کو مزیدزیادہ کریں گے اور بعض نے کہا کہ ہم ان کے مدت عذاب کو مزید طویل کریں گے۔
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

80۔ ونرثہ مایقول ، ، ان کے پاس جو مال واولاد ہے اور جن کی ملکیت کا دعوی کررہے ہیں ہم اس کو ہلاک کرکے وہ مال واولاد ہم اپنے قبضہ میں کرلیں گے کیونکہ ان کا یہ گمان تھا کہ یہ مال واولاد ہمیں آخرت میں کام آئیں گے ۔ ہم نہ قیامت کے دن ان کو یہ مال عطا کری گے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی کو دیں گے اور بعض نے کہا کہ ان کے اس قول کا معنی ، ونرثہ مایقول، ، کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں ہم اس کو اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں ۔ یہاںں تک کہ ہم ان کو بدلہ دیں گے۔ ویاتینا فردا، ، ان کو قیامت کے دن اکیلے اکیلے لائیں گے نہ تو ان کے پاس مال ہوگا اور نہ ہی اولاد۔