14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میدان (مکّہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کے ایسا کردیں کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔

تفسیر 37۔” ربنا انی اسکنت من ذریتی “۔۔۔۔۔ ” من تبعیضیہ “ داخل کیا ۔ اس آیت سے مجازا ً یہ مرا د لیا ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو باشندہ کردیا ۔ ” بو اد غیر ذی زرع “ اس سے مراد مکہ ہے کیونکہ ان دو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔” عند بینک المحرم “ اس کو محرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے قریب ہر وہ چیز حرام ہوجاتی ہے جو اس کے باہر حرام نہیں ہوتی۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کا قصہ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سب سے پہلے نطاق حضرت ہاجرہ علیہا السلا م نے اس غرض سے پہنا کہ قدموں کے نشانوں کو پیچھے سے نطاق کا سر ا مٹاتا چلے اور حضرت سارہ کو ان کا نشان قدم معلوم نہ ہو ۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو لے کر بیت اللہ کے پاس پہنچے اور وہ اس وقت دودھ پیتے بچے تھے اور مسجد کے بالائی مقام پر زمزم کے اوپر ایک بڑے درخت کے پاس دونوں کو بٹھایا اور اس وقت نہ مکہ میں کوئی اور شخص تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک خورجین جس میں چھوہارے تھے اور ایک مشکیزہ پانی سے بھرا ہوا تھا۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کے پاس رکھ دیا ، پھر لوٹ پڑے۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے پیچھا کیا اور کہا اے ابراہیم ! ( علیہ السلام) آپ ہم کو اس ویران وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں ۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے کہا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ اس پر حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) بولیں تو اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا، پھر لوٹ آئیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چل دیئے ، جب حضرت ہاجرہ علیہا اسلا م کی نظر سے غائب ہوگئے تو کعبہ کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر ان الفاظ میں دعا کی ۔ ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرعی تایشکرون “ تک۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ مشکیزہ کا پانی پیتی رہی اور بچہ کو دودھ پلاتی رہیں ۔ یہاں تک کہ پانی ختم ہوگیا اور پیاس لگی اور بچہ بھی پیاسا ہوگیا تو چل دیں ، بچہ کی طرف نظر اٹھائی تو بچہ اپنی زبان منہ میں گھما رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر تاب نہ لاسکیں اور ان سے نظر پھیرلی اور چل کر کوہ صفا پر پہنچ گئیں ۔ وہاں سے قریب پہاڑ صفا ہی تھا صفا پر چڑھ کر اوپر کھڑی ہو کر وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ شاید کوئی نظر آجائے جب کوئی نظر نہ آیا تو صفا سے اتر کر وادی میں پہنچیں اور قوت کے ساتھ دوڑنے والے آدمی کی طرف کرتا کا دامن اوپر کو اٹھا کر دوڑ کر وادی سے گزر کر مروہ پر پہنچیں اور ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ کوئی نظر پڑجائے لیکن کوئی دکھائی نہیں دیا اس طرح سات بار کیا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسی لیے حاجی ان دونوں کے درمیان دوڑتے ہیں ۔ آخر جب مروہ پر پہنچیں تو ایک ایک آواز سنی اور خود اپنے آپ سے کہنے لگیں چپ پھر کان لگا کر سناتو پھر آواز سنائی دی تو کہنے لگیں میں نے آواز سن لی ، اگر تیرے پاس کچھ مدد کا سامان ہو تو لا ، اچانک زمزم کے مقام پر ایک فرشتہ نمودار ہوا اور زمین کو ایڑی یا پر مار کر اس نے کھودا ، فوراً پانی نکل آیا ۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) پانی کا گھیرا بنانے لگیں اور اپنے ہاتھ سے چلو بنا کر پانی لے کر مشکیزے میں بھرنے لگیں جونہی چلو بھر کر اٹھاتی تھیں پانی اور ابل آتا تھا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ پر رحمت فرمائیں ، اگر وہ زمزم کو یوں ہی رہنے دیتیں یا یہ فرمایا کہ اگر وہ چلو نہ بھرتیں تو زمزم ایک جاری چشمہ ہوجاتا ، غرض حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے خود پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ بھی پلایا ۔ فرشتے نے کہا کہ تم ہلاکت کا اندیشہ نہ کرو ، یہاں اللہ کا گھر ہے یہ لڑکا اور اس کے والد اللہ کے گھر کی تعمیر کریں گے، اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرے گا ۔ کعبہ اس زمانے میں ٹیلہ کی شکل پر زمین سے کچھ اونچا تھا، سیلاب آ کر اس کے دائیں بائیں کناروں کو کاٹ کرلے جاتا تھا۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) اسی حالت میں رہتی رہیں آخر بنی جرہم کا ایک قافلہ ادھر سے گزرا اور آ کر مکہ کے نشینی مقام پر اس نے پڑائو ڈالا ۔ قافلے والوں نے دیکھا کہ کچھ پرندے پانی پر منڈلا رہے ہیں ، کہنے لگے یہ پرندے یقینا پانی پر گھوم رہے ہیں لیکن ہم تو اس وادی سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ یہاں تو پہلے کوئی پانی نہ تھا کچھ لوگوں کو بھیجا ، انہوں نے جا کر دیکھا تو پانی موجود پایا ، لوٹ کر آئے اور ساتھیوں کو اطلاع دے دی ، اس کے بعد قافلہ والوں نے آ کر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ سے گزارش کی کہ ہم کو اپنے پاس رہنے کی آپ اجازت دے دیں ۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے فرمایا اچھا لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہ ہوگا، قافلے والوں نے اس کا اقرار کرلیا ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ انس کی طالب تھیں۔ ( تنہائی کی وحشت کو دورکرنا چاہتی تھیں) پانی پر قبضہ انہی کا رہا ۔ قافلہ والوں نے اپنے متعلقین کو بھی اپنے پاس بلوا لیا اور سب وہیں مقیم ہوگئے ، رفتہ رفتہ بہت سارے خاندان بن گئے ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی جوان ہوگئے۔ بنی جرہم سے عربی بھی انہوں نے سیکھ لی اور جوان ہونے کے بعد سب کے محبوب بن گئے۔ بنی جرہم نے اپنی ہی ایک عورت سے ان کا نکاح بھی کردیا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کی وفات بھی ہوگئی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس دعا کی برکت کا معائنہ کرنے آگئے ۔ اس کا بقیہ قصہ سورة بقرہ کی آیت ” واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی “ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں ۔ ” ربنا لیقیموا الصلوٰۃ فاجعل افئدۃ من الناس “ افئدۃ فواد کی جمع ہے۔ ” تھوی الیھم “ شوق و محبت میں ان کی طرف تیزی سے بڑھیں ۔ سدی (رح) کا قول ہے کہ کچھ لوگوں کے دن ان کی طرف جھک جائیں ۔ مجاہ (رح) کا قول ہے کہ اگر بغیر ” من “ کے ” افئدۃ من الناس “ فرماتے تو تمام فارسی ، رومی ، ہندی اور ترک تم پر ہجوم کر آتے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ یہودی ، عیسائی اور مجوسی بھی کعبہ کا حج کرنے لگتے مگر ” من الناس “ فرمایا اب صرف مسلمان ہی حج کرتے ہیں ۔ ” وارزقھم من الثمرات “ اس وادی کے ویران ہونے کی وجہ سے کھیتی باڑی اور باغ نہیں ہیں ۔ ” لعللھم یشکرون “
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔

تفسیر 38۔” ربنا انک تعلم ما نخفی وما نعلن “ ہمارے تمام امور کو آپ جانتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ درد جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے کا غم جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوا تھا ” وما یخفی علی اللہ من شیء فی الارض ولا فی السمائ “ بعض نے کہا کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے۔ کثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ۔ ” وما یخفی علی اللہ من کلاء فی الارض ولا فی السمائ “۔
Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

39۔” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر “ عطا کریں میرے بڑھاپے کی عمر میں ۔ ” اسماعیل و اسحاق ان ربی لسمیع الدعائ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جب پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ننانوے سال تھی اور ایک سو بارہ سال کی مدت میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو سترہ سال کی عمر میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔
Ayah 14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار مجھ کو ایسی (توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں۔ اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔

40۔” رب اجعلنی مقیم الصلوٰۃ “ ان میں سے وہ لوگ جو نماز کو اس کے تمام ارکان کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اس پر محافظت کرتے ہیں ” ومن ذریتی “ میری ذریت میں سے نماز کو قائم کرنے والا بنا دے۔” ربنا و تقبل دعاء “ میرے عمل اور میری عبادت کو قبول فرما ۔ یہاں پر عبارت کو دعا کے ساتھ ذکر فرمایا ۔ حدیث میں آیا کہ دعا عبادت کا مغز ہے، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اس نے میری دعا کو قبول فرمایا۔
Ayah 14:41

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجئیو۔

41۔” ربنا اغفرلی ولوالدی “ ایک شبہ اور اس کا جواب سوال : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کے لیے کیسے استغفار فرمایا حالان کہ وہ دونوں مؤمن نہیں تھے ؟ جواب : بعض نے کہا کہ آپ کی والدہ مسلمان ہوگئی تھیں ۔ بعض نے کہا کہ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ وہ اسلام لے آئیں اور توبہ کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب آپ کو آپ کے باپ کے متعلق وضاحت بیان نہیں کی گئی تھی لیکن جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کے متعلق سورة توبہ میں بیان کردیا گیا تو آپ ان کے متعلق استغفار سے رک گئے۔ ” وللمومنین “ اور تمام مومنین کو بخشش دے۔ ” یوم یقوم الحساب “ خواہ وہ اس وقت ظاہر ہے یا موجود ہے اور بعض نے کہا کہ یومۃ الحساب سے مراد جس دن لوگ حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ بعض حضرات نے کہا کہ کھڑے ہونے کی نسبت حساب کی طرف مجازی ہے۔
Ayah 14:42

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

42۔” ولا تحسبن اللہ غافلاعما یعمل الظالمون “ غفلت کا معنی ہے کہ انسان کو روکنا اس بات سے کہ اس حقیقت کا علم نہ ہو ۔ اس آیت میں مظلوم کے لیے تسلی کا پیغام اور ظالم کے لیے عذاب کی دھمکی مراد ہے۔ ” انما یوم خرھم لیوم تشخص فیہ الابصار ‘ ‘ اس دن کے ہول سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ۔ بعض نے کہ نظریں اٹھ جائیں گی ۔ بعض نے کہا کہ نظریں اٹھ جائیں گی اور اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گی۔
Ayah 14:43

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں انکی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور انکے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہونگے۔

43۔” مھطعین “ حضرت قتادہ کا قول ہے تیزی کے ساتھ بلانے کی طرف دوڑیں گے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ تیزی کے ساتھ دوڑنا جیسے کہ بھیڑیا کا بھاگنا ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کے منہ آسمان کی طرف ہوں گے کوئی کسی کی طرف نہیں دیکھنے گا ۔” لا یرتد الیھم طرفھم “ ان کی شدت نظر کی وجہ سے وہ اپنی آنکھوں کو دوسری طرف نہیں لگائیں گے بلکہ ٹکٹکی باندھے اوپر ہی کی طرف نظریں جمائے رکھیں گے ۔” وافتدتھم ھواء “ ان کے دل بالکل حواس سے خالی ہونگے ۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ ان کے دل سینے کی طرف آجائیں گے اور گلے میں اٹک جائیں گے ، نہ منہ سے باہر آئیں گے اور نہ ہی واپس اپنی جگہ لوٹیں گے۔ ان کے دل ہواہو جائیں گے ، یعنی ان کے اندر کچھ نہیں ہوگا ، اسی وجہ سے آسمان اور زمین کے درمیانی خلاء کو ہوا کہتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ ان کے دل خوف کی وجہ سے خالی ہوں گے۔ اخفش کا قول ہے کہ ان کا دماغ خالی ہوجائے گا ، اس میں کوی عقل نہ ہوگی اور عرب کے نزدیک ہر اس شخص کو خالی کہتے ہیں جس میں کوئی فہم نہ ہو سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ان کے دل ہواہوں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل بےتاب اور بےقرار ہوں گے ، کسی جگہ ان کو قرار نہیں ہوگا ۔ اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ دل اپنی جگہ سے ہٹ چکے ہوں گے اور نظریں اوپر کو اٹھی ہوئی ٹکٹکی باندھے تک رہے ہوں گے۔
Ayah 14:44

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور تیرے پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے ؟ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔

44۔” وانذر الناس “ ان کو ڈرایئے ” یوم “ اس دن سے ” یاتیھم العذاب ‘ ‘ قیامت سے ” فیقول الذین ظلموا “ اس سے مراد شرک ہے۔” ربنا اخرنا “ ہمیں مہلت عطا کر ۔ ” الی اجل قریب “ ان کے سوال کی تردید کر رہے ہیں کہ وہ کہیں گے ہم کو دنیا کی طرف واپس لوٹا دے ہم تیری طرف رجوع کرلیں گے۔ ’ ’ نجب دعوتک ونتبع الرسل “ وہ جواب دیں گے تا کہ ہم تیری دعوت کو قبول کریں اور رسولوں کی اتباع کریں۔ ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ کہ کیا تم نے دنیا میں قسمیں کھا کر نہیں کہا تھا کہ ہم ہمیشہ یہاں رہیں گے۔” مالکم من زوال “ یعنی تم کو دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ” واقسموا باللہ جھد ایمانھم لا یبعث اللہ من یموت “ انہوں نے پختہ قسمیں کھا کر کہا کہ جو مرے گا اس کو اللہ دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ۔
Ayah 14:45

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کیلئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔

تفسیر 45۔” وسکنتم “ دنیا میں رہائش اختیار کی ۔ ” فی مساکن الذین ظلموا وانفسھم “ کفر اور نافرمانی کی وجہ سے اس سے مراد قوم نوح ، عاد ثمود ، وغیرہ ہے۔ ” وتبین لکم کیف فعلنا بھم “ یعنی تم جان چکے ہو ان قوموں کے احوال اور سزائیں ۔” وضربنا لکم الامثال “ کیا ہم نے تمہارے لیے قرآن میں مثالیں بیان نہیں کیں۔
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور انکی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں۔ گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

46۔” وقد مکروا مکرھم و عند اللہ مکرھم “ ان کے فریب کا بدلہ ۔” وان کان مکرھم “ ابن مسعود ؓ نے ” وان کاد مکرھم “ دال کے ساتھ پڑھا ہے اور عام قراء نے اس کو نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ ان کا مکرایسا تھا کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جاتا ۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ان کے مکر پہاڑوں کو ان کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان سے مکر و فریب آپ ﷺ کی نبوت اور شریعت الٰہی کو زائل نہیں کرسکتے جو پہاڑوں کی مانند پائیدار ہیں ۔ ابن جریج اور کسائی رحمہما اللہ نے ” لتزول “ لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے لام کو فرع پڑھا ہے ۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ بیشک ان کا مکر بلا شبہ ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے پہاڑ بھی ہل جائیں۔ ( یعنی ان کا شریک بہت سخت تھا) لیکن پھر بھی نبی کریم ﷺ کے امورشریعہ کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ ان کا مکر ( شرک) بہت سخت تھا کہ اس سے پہاڑ ہل جائیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ’ ’ وتخرالجبال وھذا ان دعو ا للرمن ولدا “ ۔ نمرود کا آسمان پر چڑھنے کا واقعہ حضرت علی ؓ سے حکایت بیان کی جاتی ہے کہ اس آیت کے معنی میں اس کا نزول نمرود کے حق میں ہوا جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کیا تھا ۔ نمرود نے کہا کہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) کا قول سچا ہے تو میں آسمان تک پہنچ کر خود دیکھوں گا کہ وہاں کون ہے ، کیا ہے۔ چناچہ آسمان تک چڑھنے کی ایک صورت بنائی کہ گدھ کے چار بچے لے کر ان کو پالا اور ٹریننگ دی ۔ جب وہ جوان ہوگئے ایک صندوق بنوایا جس کے دروزے قائم کیے ، ایک بالائی جانب ایک نیچے کی طرف اور چار لکڑیاں لے کر صندوق کے ہر گوشہ میں ایک ایک لکڑ ی کھڑی کی اور ہر ایک لکڑی کی بالائی نوک پر گوشت کا ٹکڑا باندھ دیا ۔ پھر صندوق کو گدھوں ی ٹانگوں سے باندھ دیا ۔ اس کے بعد نمرود ایک آدمی کو ساتھ لے کر صندوق میں بیٹھ گیا اور گدھوں کو اڑایا ، گدھ اڑے اور گوشت حاصل کرنے کے لیے اوپر اٹھتے گئے۔ اسی طرح اوپر چڑھتے رہے اور دور ہوا میں پہنچ گئے۔ ایک روز گزر گیا تو نمرود نے ساتھی سے کہا اوپر کا دروزہ کھول کردیکھو ، آسمان قریب آگیا یا نہیں ، ساتھی نے دروازہ کھول کر دیکھا اور بولا آسمان تو ویسے ہی دور ہے جیسے پہلے تھا۔ نمرود نے کہا کہ اب نیچے کا دروازہ کھول کر دیکھو ساتھی نے نیچے کا دروازہ کھول کر دیکھا اور کہا زمین ایک تالاب کی طرح اور پہاڑ دھوئیں کی مانند دکھائی دے رہے ہیں ۔ غرض گدھ اوپر اٹھتے اڑتے گئے یہاں تک کہ ایک دن اور گزر گیا ۔ اب خلاء گدھوں کی اڑان میں رکاوٹ پیدا کرنے لگی ، نمرود نے ساتھی سے کہا اب دونوں دروزے کھول کر دیکھو ، اوپر کا دروازہ کھولا تو آسمان ویسے ہی اپنی ہیئت پر نظر آیا اور نیچے کا دروازہ کھول کر دیکھا تو زمین کی جگہ صرف ایک تاریک سیاہی نظر آنے لگی اور غیب سے ندا آئی، باغی تو کہاں جاناچاہتا ہے ؟ عکرمہ (رح) کا بیان ہے کہ نمرود کے ساتھ تابوت میں ایک غلام بھی تیر کمان لیے موجود تھا، غلام نے تیرا پھینکا ، تیر خون آلود ہو کر لوٹ آیا ، کوئی مچھلی سمندر سے تڑپ کر خلا میں پہنچ گئی ، تیر اس کے خون سے رنگین ہوگیا تھا۔ بعض نے کہا کہ کسی پرندے کے خون سے آلودہ ہوگیا تھا نمرود نے کہا کہ آسمان والے خدا کے کام سے فارغ ہوگیا ۔ پھر ساتھی کو حکم دیا کہ اب لکڑیوں کو الٹ دو اوپر کا رخ نیچے کی طرف کر دو ، ساتھی نے اس حکم کی تعمیل کی ، اس طرح گوشت نیچے کی طرف ہوگیا اور گدھ گوشت کو نیچے کی طرف دیکھ کر نیچے اترنے لگے ، پہاڑوں نے صندوق اور گدھوں کی سرسراہٹ سنی تو خوفزدہ ہوگئے ، ان کو خیال ہوا کہ آسمان سے کوئی نئی مصیبت آگئی اور قیامت برپا ہوگئی ، خوف زدہ ہو کر قریب تھا کہ اپنی جگہ سے ٹل جائیں ۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ” وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال “۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے۔ اسکے خلاف کریگا۔ بیشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔

47۔” فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ “ اپنی دوستوں کی مدد یعنی انبیاء و رسولوں کی مدد اور دشمنوں کو ہلاک کرنے کا جو وعدہ کیا ہ ے۔ اس میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیری عبارت یوں ہوگی ” فلا تحسبن اللہ مخلف رسلہ وعدہ “۔۔۔۔ ” ان اللہ عزیز ذوانتقام “ ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات “۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دئیے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ و زبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔

یوم تبدل الارض کی تفسیر حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جس کا رنگ خاکستری ہوگا اور چھنے ہوئے آٹے کی ٹکیہ کی طرح ہوگی جس کی کوئی نشانی نہیں ہ گی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوگی جو اللہ اپنے ہاتھ سے اہل جنت کی مہمانی کے لیے تیار کرے گا جیسے تم لوگ سفر کے لیے روٹی تیار کرتے ہو ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس آیت کے متعلق نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا یہ زمین بدل کر ایسی زمین کردی جائے گی جو چاند ی کی طرح ہوگی نہ کبھی حرام خون بہایا گیا ہوگا اور نہ کوئی اس پر گناہ کیا گیا ہوگا ۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا فرمان ہے کہ اس دن زمین کو چاندی کا اور آسمان کو سونے کا بنادیا گیا تھا۔ محمد بن کعب اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ زمین کو سفید روٹی بنادیا جائے گا جس سے مؤمن اپنے قدموں سے اٹھا کر کھائیں گے اور بعض نے کہا کہ آسمان کو جنان اور زمین کو نیز ان بنایا جائے گا اور بعض نے کہا کہ زمین کو ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف بدل دیا جائے گا ، پہاڑوں کو چلایا جائے گا ، نہروں کو خشک کردیا جائے گا اور مختلف وادیوں کو برابر کردیا جائے گا اور اس کے درختوں کو اکھاڑا جائے گا اور زمین ہو جائیگی چٹیل میدان کی طرح اور آسمان کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ سورج کو بےنور کردیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگا دیا جائے گا اور ستاروں کو پھیلا دیا جائے گا ، یہ سب کچھ ہوجائیں گے دھواں کی طرح اور کبھی تلچھٹ کی طرح ہوجائیں گے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس ارشاد کے متعلق دریافت کیا ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات “ اس دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پل صراط پر ہوں گے۔ ’ حضرت ثوبان ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر دریافت کیا اور کہا کہ جب زمین اور آسمان کو تبدیل کردیا جائے گا تو لوگ اس وقت کہاں ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پل سے دو تاریکی میں ” وبززورا “ جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے۔” للہ الواحد القھار “ وہی جو چاہے گا کرے گا اور وہی فیصلہ کرے گا جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔
Ayah 14:49

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

تفسیر 49۔” و تری المجرمین یومئذ مقرنین “ بعض کو بعض کے ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔” فی الافصاد “ بیڑیاں ، ہتھکڑیاں اور طوق ، اصفاد جمع ہے صفد کی ۔ جس چیز کو مضبوطی کے ساتھ باندھا جائے اس کو صفاد سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ عرب کا قول ہے کہ ” صفدت الرجل فھو مصفود “ جس کو زنجیروں میں مضبوطی کے ساتھ باندھا گیا ہو ۔ بعض نے کہا کہ ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ باندھا جائے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے ” احشروا لذلنی ظلموا وازواجھم “ یعنی ان کو شیطان کے ساتھ ملا دیاجائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ان کے ہاتھوں اور پائوں کو گردنوں سے ملا کر زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ان کے ساتھ پہاڑوں کو باندھ دیا جائے گا ۔
Ayah 14:50

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور انکے من ہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

50۔” سرابیلھم “ ان کی قمیصیں ،” سرابیلھم “ کا واحد سربال ہے۔ ’ ’ من قطران ‘ ‘ وہ جو اونٹوں پر ملا جاتا ہے۔ عکرمہ اور یعقوب کی روایت میں ” من قطر ان “ پڑھا ہے۔ قطر کہتے ہیں پگھلے ہوئے تانبے کو ، یہاں اس کی گرمی کی انتہا مراد ہے۔” یطوفون بینھما و بین حمیم ان “۔۔۔۔” وتغشی و جو ھھم النار “ ان کو آگ لپیٹ لے گی۔
Ayah 14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہر شخص کو اسکے اعمال کا بدلہ دے۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

51۔” لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت “ اس سے مراد خیر اور شر ہے ، ” ان اللہ سریع الحساب “۔۔۔۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔

52۔” ھذا “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” بلاغ “ اس سے تبلیغ و نصیحت ہے۔ ” للناس ولینذروا “ تمہیں ڈرائیں ۔ ” بہ ولیعلموا انما ھو الہ واحد “ تا کہ ان آیا ت سے اللہ کی وحدانیت پر استدلال کرے۔” ولیذکر اولو الالباب “ تا کہ اس سے عقل والے نصیحت حاصل کریں۔