Ayah 13:29تفسیر 29۔” الذین امنوا وعملوالصلحت “ یہ جملہ مبتداء ہے اور ” طوبیٰ لھم “ اس کی خبر ہے۔
طوبی لھم کی تفسیر
طوبیٰ کی تفسیر میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ نے طوبیٰ کا معنی کیا ہے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک۔ عکرمہ نے کہا کہ ان کا مآل اچھا ہوگا اور قتادہ کا قول ہے ان کے لیے بھلائی ہوگی اور معمر قتادہ سے مروی ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی اور فائدہ حاصل ہوجائے تو دوسرا آدمی تم سے کہتا ہے ” طوبی لک “ یعنی تجھے اچھی بات پہنچے ابراہیم کا قول ہے نیکو کار مؤمنوں کے لیے بھلائی اور عزت ہوگی ۔ فراء کا قول ہے طوبیٰ اصل میں طیب سے ہے اس میں وائو طا کے ضمہ کی وجہ آئی ہے اس کی دو لغات ہیں ۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے ” طو باک و طوبیٰ لک “ دونوں کا ایک معنی ہے ان کے لیے خوشی ہے۔ ” وحسن ماب “ ان کا اچھا لوٹنا ۔ سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حبشی زبان میں طوبیٰ باغ کو کہتے ہیں۔
ربیع کا قول ہے ہندوستان میں ایک باغ کا نام ہے۔ ابی امامہ ابوہریرہ اور حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جو تمام جنتوں پر سایہ فگن ہے اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ طوبیٰ جنت کے اندر رسول اللہ ﷺ کے مکان میں ایک درخت ہے جس کی شاخیں مکان اور بالا خانہ پر سایہ فگن ہیں سوائے سیاہ رنگ کے ہر رنگ اور ہر پھول اور ہر پھل اور ہر میوہ اللہ نے اس درخت میں پیدا کیا ہے اس کی جڑ سے دو چشمے نکلتے ہیں کا فور اور سلسبیل ۔ مقاتل (رح) کا قول ہے کہ اس کا ہر پتہ ایک جماعت پر سایہ کیے ہوئے ہے اور ہر پتہ پر ایک فرشتہ اللہ کی طرح طرح کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا طوبیٰ کیا ہے ؟ فرماایا جنت میں ایک درخت ہے جس کا پھیلا سو سال کی رفتار کے برابر ہے۔ اہل جنت کے کپڑے اس کے شگوفوں سے برآمد ہوں گے۔ حضرت معاویہ بن قرۃ اپنے والد سے مرفوع روایت ذکر کرتے ہیں کہ طوبیٰ ایک درخت ہے جس کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور اس کے اندر اپنی روح سے پھونکا ۔ اس درخت سے زیور اور کپڑے پیدا ہوں گے اور اس کی شاخیں حصار جنت کے باہر سے دکھائی دیں گے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جنت کے اندر ایک درخت ہے جس کے سایہ میں گھوڑا سوار ہو برس تک چلتا رہے تب بھی قطع نہ کرسکے ۔ اگر تم اس کا ثبوت چاہتے ہو تو پڑھ ” وظل ممدود “ یہ بات کعب ؓ تک پہنچی تو فرمایا آپ نے سچ کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اور محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا۔ اگر کوئی شخص تین سالہ یا چار سالہ اونٹ پر سوار ہو کر اس تنہ کے گرد اگر د چکر لگائے تو دو رہ پورا نہ کرسکے یہاں تک کہ وہ گرجائے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے ہاتھ سے بویا ہے اپنی روح اس میں پھونکی ہے۔ اس کی شاخیں جنت کے باہر سے نظر آئیں گی ۔ جنت کی ہر نہر اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کو طوبیٰ کہا جاتا ہے ، اللہ اس سے فرمائے گا میرا بندہ جو کچھ کہتا ہے تو شگافہ ہو کر اپنے اندر سے اس چیز کو برآمد کردے۔ حسب الحکم درخت پھٹے گا اور اس کے اندر سے بندہ کی خواہش کے مطابق گھوڑا زین اور لگام پورے ساز سمیت برآمد ہوجائے گا اور بندے کی خواہش کے مطابق اونٹنی اپنے کجاوے نکیل اور سامان سمیت برآمد ہوجائے گی اور کپڑے بھی پھٹ کر اس درخت سے نکلیں گے۔
Ayah 13:3030۔” کذلک ارسلناک فی امۃ “ جس طرح ہم نے پہلے انبیاء کو بھیجا امتوں کی طرف اس طرح اس امت کی طرف بھیجا ۔ ” قد خلت “ اس کا معنی گزر چکا ۔ ” من قبلھا امم لتتلوا “ کا معنی ہے کہ اس کو پڑھ کر سنائیں۔ ” علیھم الذی او حینا الیک وھم یکفرون بالرحمن “ قتادہ ، مقاتل اور ابن جریج کا قول ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے کہ جب سہیل بن عمرو قریش کی طرف سے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور باہم صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا آپس میں صلح نامہ لکھوانے پر اتفاق ہوگیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم قریش بولے ہم رحمن کو نہیں جانتے ہم تو صرف یمایہ والے رحمن (مسیلمہ کذاب) کو جانتے ہیں تم وہی لکھو جو پہلے لکھتے تھے یعنی ” باسملک اللھم “ ( سے لکھو) یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” وھم یکفرون بالرحمن “۔
مشہور یہی ہے کہ یہ آیت ملی ہے، اس کا سبب نزول یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ حجر اسود کے قریب یا اللہ یا رحمن فرما رہے تھے تو ابوجہل نے یہ لفظ سن لیا ، فوراً مشرکوں سے جا کر کہا محمد ﷺ دو معبودوں کو پکار رہے تھے ، اللہ کو اور رحمن کو اور ہم تو یمامہ والے رحمن کے علاوہ کسی اور رحمن سے واقف نہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” قل ادعوا اللہ او ادعوا لرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنیٰ “۔
ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ کا حوالہ نقل کیا ہے کہ یہ آیت کفار قریش کے حق میں نازل ہوئی جب کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ رحمن کا سجدہ کرو کافروں نے جواب میں کہا رحمن کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قال “ آپ ان کو کہہ دیجئے کہ جس رحمن کے جاننے کے تم منکر ہو وہی میرا خالق اور کار ساز ہے۔ ” ھو ربی لا الہ الا ھو علیہ توکلت “ اسی پر اعتماد کیا ۔ ” والیہ متاب “ اسی سے توبہ کرتا ہوں اور اسی طرح میرا رجوع ہے۔
Ayah 13:31ولو ان قرآن سیرت بالجبال کا شان نزول
31۔” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال “ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جن میں ابو جہل بن ہشام ، عبد اللہ بن ابی امیہ یہ کعبہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کے پاس ایک شخص عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہلا بھیجا کہ اگر آپ ہم کو اپنا پیروکار بنانا چاہتے ہیں تو قرآن کے ذریعے سے مکہ کے پہاڑوں کو یہاں سے ہٹا دیں تا کہ کشائش پیدا ہوجائے ، ہماری کھیتی کے لیے اس وقت زمین تنگ ہے اور یہاں سے چشمے اور نہریں بھی نکال دیجئے تا کہ ہم درخت لگائیں ، کھیتیاں بوئیں اور باغ تیار کریں ، آپ اپنے دعوے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک حضرت دائود (علیہ السلام) سے کم مرتبہ تو نہیں ہیں ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے لیے پہاڑ چلا دیئے گئے تھے جو ان کے ساتھ مل کر پاکی بیان کرتے تھے۔ آپ ہوا کو بھی ہمارا تابع بنا دیجئے کہ ہم غلہ کو حاصل کرنے اور دوسری ضروریات کو فراہم کرنے کے لیے جو شام کو جاتے ہیں ہوا پر چلے جایا کریں اور ہم روز لوٹ آیا کریں ۔ آخر آپ کا قول ہے کہ ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیر حکم کردیا گیا تھا اور آپ کا یہ بھی خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے اور اللہ کے نزدیک آپ کا مرتبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” ولو ان قرأنا سیرت بہ الجبال “ زمین کے اوپر سے لے جائے ۔ ” او قطعت بہ الارض “ زمین کو پھاڑ اور اس سے نہریں اور چشمے پیدا کیے۔” او کلم بہ الموتیٰ “ لو شرطیہ کے جواب میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔
اس شرط کا جواب محذوف ہے اور وہ سامعین کے سننے پر اکتفاء کیا گیا ۔ تقدیر ی عبارت یوں ہوگی ۔” لکان ھذا القرآن “ اگر ہوتا قرآن اس طرح تو ہم اس طرح کردیتے ، جیسا کہ شاعر کا شعر ہے ترجمہ :( پس قسم کھا ، اگر اس کے علاوہ ان کا رسول کوئی چیز لے آتا تو پھر ان کو ( قبول کرنے کے سوال ) چھٹکارا نہ ملتا) قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اگر ہم اس قرآن کے ذریعہ ایسا کردیتے ان کے کہنے سے پہلے تو ہم ان پہاڑیوں کو اپنی جگہ سے ہٹا لیتے ۔ بعض حضرات نے کہا کہ جواب مقدم ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی ” وھم یکفرون بالرحمن “ گویا کہ یوں کہا گیا کہ ” لو سیرت بہ الجبال “۔
” او قطعت بہ الارض او کلم بہ الموتی “ اگر ایسا کردیا جاتا تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ جیسا کہ پہلے ہمیں ان کے متعلق معلوم ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ولو اننا نزلنا الیھم الملائکۃ وکلمھم الموتیٰ و حشر نا علیھم کل شی قبلا ً ما کانوا لیومنوا الا ان یشاء اللہ “ اگر ہم فرشتوں کو اتار کر ان کے پاس بھیج دیتے اور مردے ان سے کلام کرتے اور ہر چیز کو جمع کر کے ان کے سامنے لے آتے۔” بل للہ الامر جمعیا ً ان تمام امور میں وہ چاہے تو کرے اور چاہے نہ کرے۔ ” افلم یباس الذین امنوا “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ” یاس “ بمعنی علم ، ” افلم یعلم “ کیا وہ نہیں جانتے۔
کلبی (رح) نے کہا کہ یہ نخع ( قبیلہ) کی لغت ہے اور بعض نے کہا کہ ھوازن کی لغت ہے جس پر حضرت ابن عباس ؓ کی روایت دلالت کرتی ہے۔ ” افلم یتبین الذین امنوا “ ( ان کے ہاں ” لم یبئس “ کی جگہ ” لم یتبین “ آیا ہے اور اس کا معنی ہے ” لم یعلم “ ) فراء نے اس قول کا انکار کیا ہے کہ اس کا معنی جاننا نہیں اور بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس کا سماع کلام عرب میں نہیں ہے کہ ” یاس “ کا معنی علم ہو ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” یئست “ بمعنی علمت ، لیکن یہاں علم کا معنی پوشیدہ ہے یا ” ایاس “ کا معنی مجازا ً علم کے لیا گیا ہو۔
جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے یہ بات سنی کہ مشرکین مکہ کی یہ خواہش ہے کہ آپ ﷺ کی دعا سے اللہ ایسا کر دے تو یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” افلم یباس الذین امنوا “ یعنی صحابہ کرام ؓ ان لوگوں کے ایمان لانے سے ناامید نہیں ہوئے۔
’ ’ ان لو یشاء اللہ لھدی الناس جمیعا ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا “ ان کے کفر اور اعمال خبیثہ کی وجہ سے ” فارعۃ “ یعنی ان پر کوئی نہ کوئی حادثہ پڑتا رہتا ہے کوئی مصیبت بلائ، آفت خواہ بصورت قحط ہو یا بصورت قید و قتل یا مال کی تباہ اور غارت گری قید و بند وغیرہ ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں قارعۃ سے مراد ہیں وہ فوجی دستے جو آپ ﷺ کا فروں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ نے قارعۃ سے مراد سرایا ہیں جو آپ ﷺ نے ادھر ادھر بھیجا ۔ ” او تحل “ اس سے مراد سریہ ہے یا ” قارعۃ “ ( قیامت ہے) ” قریبا ً من دارھم “ اے محمد ! ( ﷺ) آپ خود ان کی بستیوں کے قریب جا کر اتریں گے۔
” حتییاتی وعدہ اللہ ‘ ‘ بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد فتح اور نصر ت اور آپ ﷺ کا دنیا میں تشریف لانا اور دین محمدی کے ظہور کے لیے۔” ان اللہ لا یخلف المعیاد “ کفار ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں استہزاء کرتے ہوئے۔ اللہ رب العزت نے یہ نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا۔
Ayah 13:32تفسیر 32۔” ولقد استھزی برسل من قبلک “ جیسے کہ آپ کی استہزاء کرتے ہیں ۔ ” فاملیت للذین کفروا “ یعنی ان کو مہلت دی اور مدت لمبی ہوگئی ، اس سے ملو ان ہے یعنی دن و رات ۔ ” ثم اخذتھم “ دنیا میں ان کو قتل کی سزا دیں گے اور آخرت میں آگ کی ” فکیف کان عقاب “ میری سزا ان کے لیے کیسی ہوگی ۔
Ayah 13:3333۔” افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت “ اس کا محافظ اس کا رزاق اور ان سب کا جاننے والا ہے اور ان کے اعمال کا بدلہ بھی دینے والا ہے ۔ اس کا جواب محذوف ہے تقدیر ی عبارت اس طرح ہوگی ” کن لیس بقائم بل عاجز عن نفسہ “ ۔۔۔۔۔ ” وجعلوا اللہ شرکاء قل سموھم “ یعنی ان کے نام آپ بیان کریں ۔ بعض نے کہا کہ آپ ان کو صفوں میں کھڑا کردیں ، پھر ان کی طرف غور و فکر سے نظر دوڑائیں کہ وہ اس کے اہل ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے۔ ” ام تنبؤ نہ “ کیا وہ تمہیں اللہ کے بارے میں خبر دیں گے۔” بما لا یعلم فی الارض “ اس لیے ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ زمین میں ان کا کوئی شریک ہے اور نہ زمین میں ان کے علاوہ کوئی اور معبود ہے ؟” ام بظاھر “ یعنی یہ ظاہر کو دیکھتے ہیں ۔ ” من القول “ جو ان سے سنی جائے چونکہ یہ حقیقت میں باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ بعض حضرات کے نزدیک قول کو زائل کرنا ( اس کی بات کی طرف دھیان ہی نہ رکھنا) ۔
” بل زین للذین کفروا مکرھم “ اس سے مراد ان کا دھوکہ دینا ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے اور اللہ پر جھوٹ بولنے کی وجہ سے ۔” وصدوا عن السبیل “ دین سے ان کو پھیر دیا گیا ہے۔ اہل کوفہ اور یعقوب کے نزدیک ” وصدوا “ پڑھا ہے اور سورة حم المومن میں ” وصد “ صاد کی میم کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے صا د پر زبر پڑھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ “ اور دوسری جگہ ارشاد باری ہے ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “ ان دونوں جنہوں میں صادر کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔” ومن یضلل اللہ “ جس کو اللہ رسوا کر دے ۔” فما لہ من ھاد “۔
Ayah 13:3434۔” لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا “ عذاب سے دنیاوی عذاب قتل اور قید ہونا ہے۔ ” والعذاب الاخرۃ اشق “ بمعنی اشد کے ہے۔ ” وما لھم من واق “ ان کو اللہ کے عذاب سے روکنے والا کوئی نہیں ۔
Ayah 13:3535۔” مثل الجنۃ التی وعد المتقون “ جنت کی صفات یہی ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ” واللہ المثل الاعلیٰ “ اس کی صفات میں سے جنت کا بلند وبالا ہونا ہے۔ ” تجری من تحتھا الانھار “ اس جنت کی صفات جس کے متعلق متقین کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کے اعمال کا بدلہ ایسی جنت کے ساتھ ہے جس کا وعدہ متقین کے ساتھ کیا گیا اور وہ جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ ” اکلھا دائم “ اس کے پھل اور اس کی نعمتیں کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں ۔ ” وظللھا “ اس کا سایہ بھی ایسا ہوگا جو کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ اس آیت میں فرقہ جہمیہ کی تردید ہے۔ ان کے نزدیک جنت کی نعمتیں فانی ہیں ۔ ” تلک عقبی “ سے مراد انجام ہے۔ ” الذین اتقوا “ اس سے مراد جنت ہے۔ ” وعقبی الکافرین النار “ ۔
Ayah 13:3636۔” والذین آتیناھم الکتاب “ کتاب سے مراد قرآن ہے یا تمام صحابہ ؓ مراد ہیں ۔ ” یفرحون بما انزل الیک “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” ومن الاحزاب “ وہ کفار جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے خلاف جماعت بندی کی تھی اور وہ یہود نصاریٰ ہیں ۔ یہ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے۔
” من ینکر بعضہ ‘ ‘ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ الرحمن کا لفظ قرآن میں کم آیا ہے۔ جب حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی مسلمان ہوگئے قرآن میں رحمن کا ذکر کم پایا تو یہ چیز ان کو کچھ اچھی معلوم نہیں ہوئی کیونکہ تورات میں یہ لفظ بکثرت آیا ہے اس کے بعد جب یہ لفظ بار بار قرآن میں آیا تو ان کو اس سے خوشی ہوئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” والذین آتینا ھم الکتاب یفرحون بما انزل الیک ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ جب مشرکین مکہ نے جب رسول اللہ ﷺ سے صلح نامہ لکھوانا چاہا تو آپ ﷺ نے صلح نامہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوائی تو مشرکین کہنے لگے تو ہم رحمن یمامہ کے علاوہ کسی اور رحمن سے واقف نہیں اس سے مراد ان کی مسیلمہ کذاب ہے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ” وھم بذکر الرحمن ھم کافرون “ اور آیت ”؟ وھم یکفرون بالرحمن “ اس آیت میں ” بعضہ “ کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ مشرکین اللہ کے ذکر کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ رحمن کا لفظ ذکر کرنا ان کو گوارہ نہ تھا۔ ” قل “ کہہ دیجئے اے محمد ! (ﷺ) ” انما امرت ان اعبد اللہ ولا اشرک بہ الیہ ادعوا والیہ مآب “ اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔
Ayah 13:37تفسیر 37۔” وکذلک انزلناہ حکما ً عربیا ً “ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح ہم نے گزشتہ قوموں کے لیے انہی کی زبانوں میں کتابیں نازل کیں اس طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں فیصلہ بنا کر اتارا ہے تا کہ تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے اس کا سمجھنا اور سمجھانا آسان ہو ۔ اس کو عرب کی طرف منسوب کیا کیونکہ قرآن کو انہی کی لغت میں اتارا ہے اس پر گروہوں نے ان کو جھٹلایا ہے۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح ہم نے ما قبل ان کی لغات پر کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے یہ قرآن تمہاری ہی لغت میں اتارا ہے۔ ” ولئن اتبعت اھواء ھم “ اس سے مراد ملت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد قبلہ ہے۔ ” بعد ماء جا ک من العلم مالک من اللہ من ولی ولا واق “ کوئی مدد گار اور حامی نہ ملے۔
Ayah 13:3838۔” ولقد ارسلنا رسلا ً من قبلک “ روایت میں آتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اس شخص کا مطمع تو صرف عورتیں ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” ولقد ارسلنا رسلا ً من قبلک وجعلنا لھم ازواجا ً و ذریۃ “ اور ہم نے ان کے لیے فرشتوں کو پیغمبر نہیں بنایا کہ جو نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ نکاح کرتے ہیں ۔ ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ “ یہ عبد اللہ بن ابی کو جواب ہے، پھر ارشاد فرمایا ” لکل اجل کتاب “ یعنی اللہ نے ہر امر اپنے فیصلہ سے لکھ دیا ہے۔ ( لوح محفوظ میں) اور بعض نے کہا کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے عبارت اس طرح تھی ” لکل کتاب اجل “ یعنی ہر مدت اور ہر وقت کے لیے اللہ نے حکم نازل فرمایا ہے۔
Ayah 13:3939۔” یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت “ ابن کثیر ، ابو عمر ، عاصم اور یعقوب کے ہاں ’ ’ یثبت “ بغیر تشدید کے ہے۔ دوسرے قراء نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔
یمحوا اللہ ما یشاء کی تفسیر میں ائمہ مفسرین کے اقوال
اس آیت کے معنی میں مفسرین رحمہم اللہ کا آپس میں اختلاف ہے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ جن فرائض اور احکام کو اللہ چاہتا ہے منسوخ کردیتا ہے اور بدل دیتا ہے اور جن کو چاہتا ہے منسوخ نہیں کرتا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ لوح محفوظ میں سے جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے اس میں ثبت کردیتا ہے سوائے رزق اور عمر اور نیک بختی اور بدبختی کے یہ امور نہیں بدلے جاتے۔
حضرت حذیفہ بن اسید ؓ کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نطفہ کے قرار پکڑنے کے چالیس یا پینتالیس دن کے بعد ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ اے میرے رب ! یہ شقی ہے یا سعید یہ دونوں باتیں لکھ دی جاتی ہیں ۔ پھر فرشتہ کہتا ہے اے رب ! یہ نر ہے یا مادہ۔ یہ دونوں امور بھی لکھ دیئے جاتے ہیں ، پھر اس کا عل اثر عمر اور رزق لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر یہ تحریریں لپیٹ دی جاتی ہیں جن کے اندر اس کے بعد نہ زیادتی ہوتی ہے اور نہ کمی ہوتی ہے۔
حضرت عمر اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سعادت اور شقاوت کو بھی مٹا دیتا ہے اور رزق و موت وحیات کو بھی اور کچھ ثابت رکھتا ہے ۔ حضرت عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ جب بیت اللہ طواف کر رہے تھے تو رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے اے اللہ ! اگر تو نے مجھے اہل سعادت میں لکھا ہے تو ان میں قائم رکھ اور اگر تو نے میرے لیے شقاوت لکھ دی ہے تو اس سے میرا نام مٹا دے اور اہل سعادت اور مغفرت میں لکھ دے۔ بلا شبہ جو تو کچھ چاہے مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہے قائم رکھتا ہے ، تیرے ہی پاس ام الکتاب ہے۔ اسی طرح ابن مسعود ؓ سے روایت ہے اور بعض آثار میں آتا ہے کہ بسا اوقت ایسا ہوتا ہے کہ بعض آدمیوں کی عمر کے تیس سال باقی ہوتے ہیں لیکن جب وہ قطع تعلق کرتا ہے تو اس کے تیس سال کو تین دن کردیئے جاتے ہیں اور بعض لوگوں کی عمر کے تین دن باقی ہوتے ہیں تو وہ صلہ رحمی کرتے ہیں تو ان کے تین دن کو کھینچ کر تیس سال بنا دیئے جاتے ہیں۔
حضر ت ابو درداء ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت رات کے آخری حصہ میں نزول ، اجلال فرماتا ہے ، ان تین گھڑیوں میں سے پہلی گھڑیوں میں سے پہلی گھڑی میں درج شدہ چیز کو دیکھتا ہے اس کے سوا کوئی بھی اس کتاب کو نہیں دیکھ سکتا ، پس جو کچھ چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حفاظت والے فرشتے انسان کے تمام اعمال لکھ دیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے دیوان ( رجسٹرڈ) سے ان چیزوں کو مٹا دیتا ہے جن پر نہ ثواب ملتا ہے نہ عتاب ۔ جیسے کہ کھانا ، پینا ، دخول ، خروج اور ان جیسے کلام جو صادق تو ہیں مگر ان پر نہ ثواب ہے نہ عتاب ۔ یہ قول ضحاک اور کلبی رحمہما اللہ کا ہے اور کلبی (رح) کا قول ہے کہ تمام اشیاء ان کے لیے لکھی جاتی ہیں لیکن جب جمعرات کا دن آتا ہے تو ان چیزوں کو مٹا دیا جاتا ہے جن پر نہ ثواب مرتب ہوتا ہے اور نہ ہی عذاب مرتب ہوتا ہے۔ عطیہ (رح) نے ابن عباس ؓ کے قول سے لکھا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتا ہے لیکن آخر میں نافرمانی کرنے لگتا ہے اور اسی گمراہی پر مرجاتا ہے تو اللہ اس کے پیچھے نیک اعمال مٹا دیتا ہے اور جو شخص مرتے دم تک اطاعت پر قائم رہتا ہے اللہ اس کی نیکیاں قائم رکھتا ہے۔
حسن بصری (رح) کا قول ہے ” یمحواللہ ما یشاء “ کا مطلب ہے کہ جس کی موت کا وقت آجاتا ہے اللہ اس کو لے جاتا ہے اس کی زندگی کا نقش مٹا دیتا ہے اور جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا اس کو قائم رکھتا ہے۔ سعید بن جبیر (رح) کا قول ہے ” یمحوا اللہ ما یشاء “ اللہ اپنے بندوں کے جو گناہ چاہتا ہے معاف کردیتا ہے مٹا دیتا ہے اور جن گناہوں کو چاہتا ہے ان کو معاف نہیں کرتا ۔
عکرمہ (رح) کا قول ہے ” یمحوا اللہ ما یشاء “ کا مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے جو گناہ توبہ سے معاف کرنا چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور گناہوں کے بدلے نیکیاں ثبت کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فاولئک یبدل اللہ سیائتھم حسنات “ سدی (رح) کا قول ہے کہ ” یمحواللہ ما یشاء “ کا مطلب ہے کہ مٹا دیتا ہے ۔ چاند کی چاندنی کو ” ویثبت “ اور باقی رکھتا ہے یعنی سورج یا دھوپ کو لے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا اس آیت میں ذکر کیا ہے۔” فمحونا ایۃ اللیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ “ ہم نے رات کی نشانی ( چاندنی) مٹا دی اور ہم دن کی نشانی نظروں کے سامنے لے آئے۔ ربیع (رح) کا قول ہے کہ ” یمحواللہ ما یشاء “ اس آیت کا تعلق ارواح کے ساتھ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیند کی حالت میں ارواح کو قبض کرلیتا ہے اس کے بعد جس کو موت دینا چاہتا ہے اس کو اپنے پاس روک لیتا ہے ، اور جس کو زندہ رکھناچاہتا ہے اس کی روح واپس لوٹا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا “ ۔۔ ۔” وعند ہ ام الکتاب “ ام الکتاب سے کتاب کی اصل ( جڑ) سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل ممکن نہیں۔
ام الکتاب کی تفسیر
حضرت عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کے پاس دو کتابیں ہیں ، ایک کتاب ام الکتاب کے علاوہ ہے۔ اس کتاب سے جو چاہیں مٹاتے ہیں اور جس کو چاہیں باقی رکھیں اور ام الکتاب میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ۔
عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اللہ کی ایک لوح محفوظ ہے۔ اس کی مقدار پانچ سو برس کے ہے یا وہ سفید موتی کی بنی ہوئی ہے اس کے دونوں پٹھے یاقوت کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کو روزانہ تین سو تیس بار ملاحظہ فرماتا ہے جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے جب حضرت کعب ؓ سے ام الکتاب کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ علم الکتاب یعنی اللہ تعالیٰ کا علم۔
Ayah 13:4040۔ ’ ’ واما نرینک بعض الذین نعلھم “ آپ کی وفات سے ان مشرکین کو عذاب دیں ۔” او نتوفینک “ اس سے پہلے۔ ” فانما علیک البلاغ “ اس پہچاننے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ” وعلینا الحساب “ ان کو بدلہ دے گا قیامت کے دن ۔
Ayah 13:4141۔” اولم یروا “ اس سے مراد اہل مکہ ہے جو آپ ﷺ سے معجزات کے متعلق سوال کیا کرتے تھے۔
ننقصھا من اطرافھا کی مختلف تفاسیر
” انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد مشرکین کے علاقوں کا فتح کرنا ہے۔ اس سے دریا اسلام میں اضافہ اور دریا شرک میں نقصان ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ ان زمینوں کے بعد ہم نے محمد ﷺ کے لیے فتوحات میں اضافہ نہیں کیا ۔ کیا ان کو اس کا مشاہدہ نہیں ، یہ ابن عباس ؓ ، قتادہ ؓ اور ایک جماعت قول ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ خراب الارض کا معنی ہے کہ کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ ہم ان کی آبادیوں کو اجھا ڑ رہے ہیں اور آبادیوں کے رہنے والوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ خراب الارض کا معنی ہے زمین والوں کو موت دے دینا ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد لوگوں کو موت دینا اور شعبی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ عطاء اور ایک جماعت کا قول ہے کہ نقصان سے مراد علماء کی موت ہے اور فقہاء کا اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتا ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ علم کو قبض نہیں کرے گا ، ان کے سینوں سے اٹھائے جانے کے ساتھ بلکہ علم کو اٹھایا جائے گا ، علماء کے اٹھائے جانے کے ساتھ ، یہاں تک کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جہلاء کو اپنا سرداربنائیں گے اور ان سے مسائل دریافت کریں گے وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور ان کو بھی گمراہ کریں گے۔
حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کا ارشاد ہے کہ عالم کی موت اسلام میں ایسا رخنہ ہے جس کا ازالہ کوئی چیز نہیں کرسکتی ، رات اور دن کا اختلاف بھی اس کا تدراک نہیں کرسکتی ۔ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ تم علم کو لازم پکڑے رکھو ، اس کے قبض ہونے سے پہلے اور اہل علم کے قبض ہونے سے پہلے ، حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ فقہاء کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ہتھیلی جب ایک مرتبہ کٹ جائے تو پھر جڑتی نہیں ۔ سلیمان فارسی کا قول ہے لوگ اس وقت تک خیر پر باقی رہیں گے۔ سعید بن جبیر سے کہا گیا کہ لوگوں کی ہلاکت کی علامت کیا ہے فرمایا ان کے علماء کا ہلا ک ہونا ۔ ” واللہ یحکم لا معقب لحکمۃ “ اس کی قضا کو رد کرنے والا اور اس کے حکم کو توڑنے والا کوئی نہیں ۔ ” وھو سریع الحساب “
Ayah 13:4242۔” وقد مکر الذین من قبلھم “ اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں ۔ مکر کہا جاتا ہے نامعلوم طریقے سے کسی کو دکھ پہنچانا ۔ ” فللہ لمکر جمعیا ً “ اللہ ہی کے پاس ہے ان کے مکر کی سزا ۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ ہی ان کے فریب کا خالق ہے۔ خیر و شر اس کے قبضہ میں ہے ، نفع اور ضرر اسی کے ہاتھ میں ہے، اس کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی کا فریب کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔” یعلم ما نکسب کل نفس وسیعلم الکفار “ اہل حجاز اور ابو عمرو کے نزدیک ( الکافر) واحد ذکر ہے۔ دوسرے قراء کے نزدیک کفار جمع کا صیغہ ہے۔” لہم عقبی الدار “ ان کا انجام آخرت ہے جب دوزخی آگ میں چلے جائیں گے اور مومن جنت میں چلے جائیں گے۔
Ayah 13:4343۔” ویقول الذین کفروا لست مرسلا ً قل کفی باللہ شھیدا ً بینی و بینکم “ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ ” ومن عنہ علم الکتاب “ ایمان رکھنے والے اہل کتاب کی شہادت کا فی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے عبد اللہ بن سلام مراد ہیں ۔ شعبی (رح) نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا کہ سورة مکی ہے اور عبد اللہ بن سلام مدینہ میں اسلام لائے۔ ابو بشر نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا ” ومن عندہ علم الکتاب “ سے کیا عبد اللہ بن سلام ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اس سے عبد اللہ بن سلام کیسے ہوسکتے ہیں حالانکہ سورة مکی ہے ۔ حسن اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے کہ ” ومن عندہ علم الکتاب “ سے اللہ عزوجل ہیں جس پر حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت ثابت کرتی ہے۔ ” ومن عندہ “ میم اور دال کی کسرہ کے ساتھ ہے۔ یعنی اللہ عزوجل کے پاس ، حسن اور سعید بن جبیر ؓ کی قرأت میں ” ومن عندہ “ آیا ہے۔ اس پر دلیل یہ قرأۃ ہے ” وعلمناہ من لدنا علما ً “ اور ” الرحمن علم القرآن “۔