55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 55:26–45

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت اور احسان والی ہے باقی رہے گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

سو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اسی سے سب آسمان اور زمین والے مانگتے ہیں وہ ہر روز کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے جن ونس ! ہم عنقریب (حساب کتاب کے لئے) تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اور اے جن وانس کے گروہ ! اگر تم یہ کرسکتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جاؤ، تو نکل جاؤ مگر طاقت کے سوا تم نکل سکتے ہی نہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا پھر تم (اس کو) ہٹا نہ سکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پس جب آسمان پھٹ جائے گا تو اس طرح ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس روز کسی انسان اور جن سے (معلوم کرنے کے لئے) اس کے جرم کے بارے نہ پوچھا جائے گا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

گنہگار اپنے چہرے سے ہی پہچان لئے جائیں گے پھر پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لیے جائیں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

وہ اس (دوزخ) میں اور (اس کے) کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں بھلا اس کی ان مہربانیوں کو کیسے بھول جاؤ گے۔ اور پھر اے جن وانس ! کہ تم مکلف مخلوق ہوج نہیں حساب دینا ہے تو عنقریب یہ سارانظام ختم ہوجائے گا تمہارا مانگنا اور ہماری عطا سے دار دنیا کا قیام اور یہ سب کچھ تمام ہوگاپھرہم ہوں گے اور تم ہوگے کہ تمہارے کردار اور اعمال کو پرکھاجائے گا تو جب تمہیں اس جواب دہی کے لیے بھی یقینا حاضر ہونا ہے تو اس کی عظموں کو کیونکر جھٹلاؤ گے اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ تم اس کے بنائے ہوئے نظام سے نکل جاؤ گے یابھاگ کر آسمان و زمین کی حدود سے نکل جاؤ گے توکردیکھو کہ اگر نکل بھی جاؤ تو اس کی قدرت اور اس کے قبضے سے باہر تو نہ جاؤ گے مگر تم اس حد سے بھی نہیں نکل سکتے کہ اسے عبور کرنے کو بھی وہ قوت چاہیے جو اللہ عطا کرتا ہے کہ فرشتے آتے جاتے ہیں ، آپ معراج پر تشریف لے گئے نیک ارواح کو اٹھایاجاتا ہے تو یہ سب اس کے کام ہیں کوئی از خود یانافرمانی کرکے یہ کام نہیں کرسکتا ، تو پھر اس کی کن کن نعمتوں کا انکار کیے جاؤ گے کفر اور نافرمانی کی سزا میں تو کہیں شعلے ہی شعلے اور کہیں دھواں ہی دھواں کہ بدن جلتے بھی ہوں اور دم گھٹتے کا عذاب بھی مسلط کیے جائیں گے تو بھلا اس کے انعامات کو کیوں جھٹلاتے رہو گے ایک روز آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ رنگ کا ہوجائے گا۔ جب ایسا وقت آنے والا ہے تو تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کی ناشکری کرو گے کہ اس روز وہ جن وانس سے یہ پوچھنے کا محتاج نہیں کہ اس نے کون کون سا گناہ کیا وہ جانتا ہے اور نامہ اعمال بھی ساتھ ہوگا ہاں پرستش ہوگی کہ ایسا کیوں کیا اللہ کریم اس سوال سے پناہ میں رکھے اور اپنی عفو و درگزر سے نوازے۔ (آمین) بھلا تم کتنی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے جن کو مجرم ٹھہرایاجائے گا ان کے چہرے مسخ ہو کر ایسے کردیے جائیں گے کہ دوزخ میں ڈالنے والے فرشتے ہر ایک کو دیکھ کر پتہ کرلیں گے کہ اسے دوزخ کے اندر کہاں پھینکنا ہے اور وہ کسی کو بالوں سے گھسیٹے ہوئے اور کسی کو ٹانگوں سے کھینچتے ہوئے جہنم میں پھینک دیں گے تو تم اللہ کی نعمتوں میں سے کس کس کا انکار کرتے رہو گے کہاجائے گا کہ یہی وہ دوزخ ہے اے گناہ گار تم جسکے وجود کو ماننے سے انکار کرتے تھے اور دوزخی اس میں کبھی اس کی بھڑکتی آگ میں کبھی کھولتے پانیوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہوں گے ۔ اے گروہ جن وانس اپنے پروردگار کے کن کن احسانوں کو فراموش کرو گے۔