43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 43:36–45

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو رحمن (اللہ) کی یاد (قرآن) سے آنکھیں بند کرلے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں تو وہ (ہروقت) اس کے ساتھ رہتا ہے

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور وہ ان کو راہ راست سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو (شیطان سے) کہے گا کاش ! میرے اور تیرے درمیان (دنیا میں) مشرق ومغرب کے برابر فاصلہ ہوتا تو (تو) بہت برا ساتھی ہے

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج یہ بات تم کو ہرگز فائدہ نہ دے گی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

تو کیا آپ بہروں کو سناسکتے ہیں یا اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں وہ ان لوگوں کو جو واضح گمراہی میں ہیں ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تو (تب) بھی ہم ان سے بدلہ لیں گے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا آپ کو (دنیا کی زندگی میں) وہ (عذاب) دکھادیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ پس یقینا ہم ان پر ہر طرح کی قدرت رکھتے ہیں

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس آپ اس (قرآن) پر قائم رہیے جو ہم نے آپ پر وحی فرمایا ہے۔ بیشک آپ سیدھے راستے پر ہیں

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یقینا یہ (قرآن) آپ کے لئے اور آپ کی قوم (امت) کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے بہت جلد پوچھاجائے گا

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور آپ ان (پیغمبروں) سے پوچھ لیجئے جو ہم نے آپ سے پہلے بھیجے کیا ہم نے رحمن (اللہ) کے علاوہ کوئی دوسری معبود مقرر فرمائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے ؟

آیات 36 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ اور جو کوئی اس عظیم ذات جو کہ بہت بڑا رخم کرنے والا ہے اس کی یاد سے منہ پھیرے جیسے یہ کفار اللہ کے قرآن سے منہ پھیر رہے ہیں تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیاجاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کے راستے سے روکتا ہے نیز وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور برائی کو کمال خیال کرنے لگتا ہے۔ ذکر الٰہی اور شیطان۔ ذکر الٰہی کی بنیاد ایمان ہے دوسرا درجہ عمل ہے اور تیسرا السانی کہ فرائض وواجبات کے بعد زبانی تسبیحات اور تلاوت کی جائے اور کامل درجہ ذکر قنبی ہے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور ترک ذکر پر جو شیطان مسلط ہوتا ہے یہ اس سے الگ ہے جوہر انسان کے ساتھ پہلے سے ہوتا ہے نیز بری مجلس نصیب ہوتی ہے تو لامحالہ ذکر کرنے پر نیک مجلس اچھے ساتھی اور شیطان سے حفاظت بھی نصیب ہوتی ہے۔ مگر اس کی آنکھ جلد ہی کھل جائے گی کہ بعد موت جب حشر میں حاضری ہوگی تو یہ کافر کہہ اٹھیں گے کہ کاش ہم میں اور اس شیطان میں مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی ہم کبھی نہ ملے ہوتے تو یہ تو بہت ہی برا ساتھی ثابت ہوا اور ارشاد ہوگا کہ اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں کہ تم اس کے کہنے پر گناہ اور کفر تو کرچکے اور اب یہ شیطان بھی اور تم بھی اکٹھے عذاب ہی میں ڈالے جاؤ گے جن لوگوں کو شیاطین نے اس طرح بہرا بنا رکھا بھلا آپ اسے کیا سنائیں گے یا جن کو اندھا کردیا ہے آپ انہیں کیسے راہ دکھاسکتے ہیں جبکہ یہ ایسی گمراہی میں ہیں جس پر خود ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور جس کے گمراہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں انہیں اس کی سزا بھگتنا ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وہ اگر آپ دنیا سے پر وہ فرماچکے ہوں تب ہو یا آپ کے سامنے ان پر واقع ہو اس کا توفیصلہ ہوچکا کہ ان پر عذاب ہوگا اور ہم اس پر پوری طرح قادر ہیں آپ پر جو وحی نازل ہوتی ہے آپ اس پوری طرح سے اپنائے رکھیں اور ان کی قطعا پرواہ نہ کریں کہ آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ اسلام کیا ہے ۔ احکام الٰہی کو من وعن قبول کرنا ان پر عمل کے لیے پوری کوشش اور ان پر فخر کرنا انہیں کفار کے مقابلے میں باعث عار نہ سمجھنا۔ کہ یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے باعث افتخار ہے اور اس کے بارے پرسش بھی ہوگی جہاں تک توحید باری کا تعلق ہے جس سے یہ کفار بھڑک اٹھتے ہیں تو اس پر تو سب نبیوں اور رسولوں کا اتفاق ہے کہ آپ بیشک پہلے انبیاء کی تعلیمات سے تحقیق فرمالیجئے یابطور معجزہ ان سے ملاقات ہو (جیسے شب معراج ہوئی) تو پوچھ لیجئے کہ کیا ان میں سے کسی نے بھی اللہ بہت بڑے مہربان کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے کے لیے کہا تھا کہ اس کی عبادت کی جائے ہرگز نہیں بلکہ سب کے سب ہی توحید باری تعالیٰ کی تبلیغ فرماتے رہے۔
Ayahs 43:46–54

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ یقینا میں پروردگار عالم کی طرف سے پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ ان پر ہنسنے لگے

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے تو وہ دوسری (نشانی) سے بڑھ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آجائیں

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور وہ کہنے لگے کہ اے جادو گر ! اس عہد کے مطابق جو اس (تیرے پروردگار) نے تجھ سے کر رکھا ہے اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کر تو ہم ضرور راہ پر آجائیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم نے وہ عذاب ان سے ہٹا دیا تو انہوں نے فوراً اپنا وعدہ توڑ دیا

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے میری قوم ! کیا یہ مصر کی حکومت میری نہیں اور یہ نہریں میرے (محل کے) نیچے بہہ رہی ہیں تو کیا تمہیں نظر نہیں آتا ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بلکہ میں بہت بہتر ہوں اس شخص سے جس کی کوئی قدر نہیں اور وہ صاف بول بھی نہیں سکتا

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے یا فرشتے پرا باندھ کر اس کے ساتھ آتے

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی تو انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

آیات 46 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن جائیں تب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کا جادو مان گئے اب جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کا رب ہے تو اسے عرض کریں ہم سے یہ مصیبت دور کردے ہم آپ کی بات مان لیں گے اور ہدایت کا راستہ اختیار کریں گے مگر جب ہم نے موسیٰ کی دعا سے ان سے عذاب ہٹادیا تو انہوں نے وعدہ توڑ دیا اور ہدایت قبول نہ کی بلکہ فرعون نے بودے دلائل سے قوم کو بیوقوف بنایا اور کہا دیکھتے نہیں ہو کہ میرے پاس مصر کی سلطنت ہے اور عالی شان محلات جن کے باغوں میں نہریں جاری ہیں اور میں کسی قدر مرتبے اور شان کا مالک ہوں میں ہر صورت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوں جس کا کوئی مرتبہ ووقار نہیں اور نہ ہی کوئی بات درست طریقے سے کرسکتا ہے یعنی کوئی مضبوط دلیل نہیں یا زبان میں لکنت ہے۔ اگرچہ لکنت ان کی دعا سے دور ہوگئی تھی اور دلائل بھی روشن تھے مگر انکار کرنے کے لیے جھوٹ بولا اور کہا بھلا انہوں نے سونے کے کنگن کیوں نہ پہن رکھے ہوتے اگر اللہ کے رسول ہیں تو اللہ کے پاس دولت نہیں ہے یا ان کے ہمراہ فرشتوں کا لشکر کردیا ہوتا کہ پتہ چلتا انہیں اللہ نے بھیجا ہے اور اس کی قوم بیوقوف بن گئی انہوں نے اس کی بات مان لی کہ دراصل وہ قوم ہی بدکار تھی اور بدکاری کا یہ اثر بھی ہوا ہے کہ برائی کی بات قبول کرلی جاتی ہے مگر جب ہمارا غضب بھڑکا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کرکے نابود کردیا کہ محض قصہ پارینہ بن کر رہ گئے اور بعدوالوں کے لیے عبرت کا سبب۔
Ayahs 43:55–67

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم ن یان سے بدلہ لے لیا پھر ہم نے ان سب کو ڈبودیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو گئے گزرے اور بعد والوں کے لئے ایک مثال بنادیا

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) کا حال بیان کیا گیا تو آپ کی قوم کے لوگ اس سے (مارے خوشی کے) چلا اٹھے

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے گے بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ (عیسیٰ علیہ السلام) انہوں نے آپ سے یہ مثال جو بیان کی ہے صرف جھگڑنے کے لئے بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا تھا اور انہیں بنی اسرائیل کے لئے ایک نمونہ بنا دیا تھا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنادیتے جو تمہاری جگہ زمین میں بستے

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور بیشک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں تو تم لوگ اس میں شک نہ کرو اور میرا اتباع کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور تم کو شیطان روک نہ دے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزات لے کر آئے تو فرمایا میں تمہارے پاس دانائی کی باتیں لے کر آیا ہوں نیز اس لئے کہ کچھ باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ، تم کو سمجھا دوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مان لو

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

یقینا اللہ ہی میرے پروردگار ہیں اور تمہارے بھی سو ان ہی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر ان میں سے کتنے فرقوں نے (آپس میں) اختلاف پیدا کرلیا پس وائے ہے ان لوگوں کے لئے کہ ظلم کرتے ہیں ، ایک درد دینے والے دن کے عاذاب سے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

یہ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان پر اچانک آجائے اور ان کو خبر تک نہ ہو

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

تمام (دنیا کے) دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے

آیات 55 تا 67۔ اسرار ومعارف۔ اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس کی تائید کرتی ہیں اور نہ قرآن کریم نیز جہنم میں تو وہ جائیں گے جو اپنی عبادت پر راضی ہیں جیسے فرعون ، نمرود ، شیاطین ، یا بتوں کو بطور ایندھن ڈالاجائے گا کہ مشرکین میں حسرت بڑھے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو صرف اللہ کے بندے تھے اور اللہ کا ان پر بہت بڑا انعام تھا خود ان کا وجود مبارک بنی اسرائیل کے لیے عظمت الٰہی کی بہت بڑی دلیل تھا کہ انہیں خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہوں نے پیدا ہوتے ہی قوم سے کلام فرمایا اور اپنی نبوت کا اعلان فرمایا نیز اللہ کی طرف دعوت دی اور اگر ہم چاہیں تو اسے بڑی نشانیاں پیدا کرنے پر قادر ہیں کہ انسانوں سے فرشتے پیدا کردیں اور آئندہ زمین پر ایسی نسل آباد کردیں نیز عیسیٰ (علیہ السلام) تو قیامت کے دلائل میں سے ہیں کہ جس طرح وہ خلاف عادت پیدا ہوئے اسی طرح مردے بھی زندہ ہوجائیں گے یا ان کا دوبارہ نزول اور دجال وغیرہ کو قتل کرنا قرب قیامت کی دلیل ہوگاسو اے لوگو قیامت قائم ہونے میں شبہ نہ رکھو اور میرا اتباع اختیار کرو کہہ یہی سیدھاراستہ ہے اور کہیں شیطان تمہیں اس سے روک نہ دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور معجزات و دلائل پیش کیے اور فرمایا کہ میں تمہارے پاس حکمت و دانائی یعنی حق بات لایا ہوں جن باتوں میں تمہیں اختلاف ہے ان میں فیصلہ ہوجائے اور حق واضح ہوجائے کہ بنی اسرائیل نے بھی بہت سے عقائد میں تحریف کررکھی تھی اور اللہ سے ڈرو اور اس کے ساتھ رشتہ استوار کرو اور میری اطاعت اختیار کرو کہ اللہ سے رشتہ جوڑنے کا یہی طریقہ ہے بیشک اللہ میرا پروردگار بھی ہے اور میں بھی اسی کا بندہ ہوں اور تمہارا پالنے والا بھی لہذا صرف اس کی عبادت کرو کہ یہی طریقہ حق ہے اور یہی سیدھاراستہ ہے اس کے باوجود انہوں نے اختلاف نہ چھوڑا اور کئی فرقے بن گئے سو حسرت ہے ایسے ظالموں کے لیے ایک بہت دردناک دن یعنی یوم حشر کے عذاب کی کہ کیا یہ اسی روز کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت آئے اسے دیکھیں تب مانیں حالانکہ جب قیامت آئے گی تو ایسی ناگہانی ٹوٹ پڑے گی کہ کسی کو کچھ ہوش ہی نہ رہے گا اور دنیا میں دوستی کے دعویدار اس دن دشمن بن رہے ہوں گے اور برائی کا ذمہ دار دوستوں کو ٹھہرانے لگیں گے سوائے نیک لوگوں کے ایسے لوگ جن کے رشتے محض اللہ کے لیے تھے۔