42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 42:30–43

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے سو وہ تمہارے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے (پہنچتی) ہے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف (ہی) فرمادیتے ہیں

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے اور خود تمہارا اللہ کے سوا کوئی حامی اور مددگار نہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں جہاز ہیں سمندر میں پہاڑوں جیسے

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر اللہ چاہیں تو ہوا کو روک دیں پھر وہ (جہاز) اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے ، شکر کرنے والے کے لئے

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان کو ان کے (برے) اعمال کی وجہ سے تباہ کردے اور چاہے تو بہت سے (قصور) معاف فرمادے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور جو ہماری آیات میں جھگڑا کرتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لئے کہیں بچاؤ نہیں

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

سو جو کچھ تم کو دیا گیا ہے تو وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائیدار) فائدہ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے (ہے) جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور ان کے کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان سے زیادتی کی جائے تو (مناسب طریقہ سے) بدلہ لیتے ہیں

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ اسی طرح کی برائی ہے پس جو معاف کردے اور اصلاح کردے تو اس کا صلہ اللہ کے ذمہ ہے بیشک وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جس پر ظلم ہوا اگر وہ بدلہ لے تو ان لوگوں پر بھی کچھ الزام نہیں

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

بیشک الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین (دنیا) میں ناحق سرکشی (اور فساد) برپا کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بیشک یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی دلیل ہے کہ انسان کو جہاز سازی کا شعور بخشا اور بڑے بڑے پہاڑوں جیسے جہاز سمندروں کے سینوں پر رواں ہیں اور اگر وہ چاہے تو موسم کو ان کے خلاف کردے اور ہواؤں کو روک دے تو وہ پھنس کر رہ جائیں ان سب امور میں ایسے لوگوں کے لیے جو ٹھنڈے دل سے سوچے ہیں اور احسان ماننے والے ہیں بہت دلائل ہیں کہ اللہ قادر ہے اگر وہ چاہے تو ان کے کفر اور کردار بد کے باعث انہیں تباہ وبرباد کردے مگر وہ بہت سی باتوں سے درگزر فرماتا ہے مگر اس کی آیات میں جھگڑا کرنے والے یہ ضرور جان لیں کہ اگر توبہ نہ کرسکے تو آخر وہ پکڑے جائیں گے اور کوئی بھاگنے کی جگہ نہ مل سکے گی۔ پھر بھی جو نعمتیں دنیا میں ملتی ہیں یہ محض وقتی اور عارضی ہیں کہ ہمیشہ تو دنیا کو رہنا نہیں دوسرے کتنے لوگ ہیں کہ دولت پاس ہے اور استعمال نہیں کرسکتے ہزاروں کھانے موجود مگر کھا نہیں سکتے اور اس کے مقابل جو اخروی نعمتیں ہیں ان سب سے بہتر بھی ہیں اور ہمیشہ رہنے والی بھی ، اپنی لذت وکیف میں بھی ان سے بہت ہی زیادہ بڑھ کر ہیں اور اسب کی سب استفادہ بھی کرے گا نیز کبھی ضائع نہیں ہوں گی جو صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوا کافر ہرگز نہ پاسکے گا جبکہ مومن کو نصیب ہوگی اگر ایمان وعمل دونوں میں ٹھیک ہواتوفورا اور اگر عمل میں کمی ہوئی تو بخشش پا گیا یا سزا کے بعد مگر ضرور پالے گا اور سیدھے سیدھے پالینے والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پھر انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا کسی لالچ یارعب میں آکر اللہ کی نافرمانی نہ کی۔ اور وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور فواحش سے فواحش وہ گناہ جو ڈھٹائی سے سرعام کیے جائیں اور کبائر سے بچنے کا معنی یہ ہیں کہ گناہ کا راستہ ہی اختیار نہ کیا جائے یہ نہیں کہ بڑے بڑے گناہوں سے بچے اور چھوٹے چھوٹے کرتا رہے بلکہ صغیرہ بھی مل کر کبیرہ ہی بن جاتے ہیں اور غصے سے مغلوب ہونے والے نہ ہوں بلکہ کسی پر غصہ آئے تو معافی کا معاملہ کرنے والے ہوں اور مغلوب ہوکر کسی سے زیادتی نہ کریں۔ اور ایسے لوگ جو اپنے رب کا حکم بےچون وچرا اور فورا قبول کرلیں اور اس پر عمل کرنے کے لیے کمربستہ ہوجائیں یعنی تمام فرائض کی ادائیگی اور مکروہات ومحرمات سے اجتناب کریں اور نماز کو قائم کریں کہ یہ ایسا فریضۃ ہے جس میں مومن اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوتا ہے تو اس حضوری سے حاصل ہونے والی کیفیت دوسرے گناہوں سے بچنے کا سبب بن جاتی ہے نیز ان کے کام آپس میں مشورہ سے ہوتے ہیں۔ شوری یامشورہ۔ جن امور میں کوئی طے شدہ ضابطہ یا شریعت کا حکم موجود نہ ہو ان میں باہم مشورہ سے فیصلہ کرتے ہیں اور کوئی راہ متعین کرتے ہیں اور اس میں امور مملکت اور حکومت بھی داخل ہیں کہ اسلام نے امیر کا انتخاب بھی باہمی مشورہ پر رکھا اور عہد جاہلیت کی موروثی بادشاہتوں کو ختم کردیا اور حقیقی جمہوریت کی بنیاد ڈالی جسے مغرب کی ملاوٹ شدہ اور نقلی جمہوریت نے لوگوں کے لیے عذاب بنادیا۔ اسلام میں اہل شوری بھی ضابطوں کے پابند ہیں اور ہر کوئی مشورہ دینے کا اہل نہیں بلکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ مشورہ کے لیے نیک اور عبادت گزار لوگوں کو جمع کرلو اور ان سے مشورہ لونیز فرمایا جو شخص کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے اور اس میں مشورہ لے کر عمل کرے تو اللہ اس کو بہتر طریقے کی طرف ہدایت فرمائے گا نیز ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جب تک تمہارے امر ا اور حکام بہتر لوگ ہوں اور امور مشورے سے طے پائیں اس وقت تک زمین کے اوپر رہنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور جب امر اور حکام برے لوگ ہوجائیں مالدار ہوجائیں اور کام عورتوں کے سپر د ہوجائیں تو تمہارے لیے زمین کی پیٹھ کی بجائے زمین کا پیٹ بہتر ہے۔ اس سے مراد خود کشی نہیں بلکہ حالات کی اصلاح کے لیے جہاد اور شہادت ہے اور انہیں جو نعمت اللہ کریم کی طرف سے نصیب ہوتی ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں دولت ہو یا علم یا کوئی ہنر یہ سب اس کی عطا ہے مال سے زکوۃ ادا کرتے ہیں نفلی صدقات وغیرہ اور خرچ بھی حدود شرعی کے اندر کرتے ہیں۔ اسی طرح ا کے علوم و مخلوق کی بہتری کے کام آتے ہیں اور اگر کوئی ان سے زیادتی کرتا ہے تو وہ اس کا بدلہ لیتے ہیں کہ زیادتی کرنے والے کو زیادتی کرنے سے روکا جاسکے۔ لیکن اس میں بھی حد سے تجاوز نہیں کرتے بلکہ جرم اور زیادتی کی سزا اتنی ہے جس قدر کسی نے زیادتی اور برائی کی ہو اور اس کے باوجود معاف کردے اور اس طرح اصلاح کی صورت پیدا ہواتو اللہ اسے بہت اجر دے گا کہ بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ معافی و درگزر۔ علماء کے مطابق جہاں درگزر کرنے سے اصلاح کی امید ہو تو وہاں درگزر کرنا بہت اعلی کام ہے مگر جہاں کسی فتنہ گر کے اور برائی میں بڑھ جانے کا اندیشہ ہو وہاں انتقام لیاجائے گا۔ اور جس کے ساتھ زیادتی ہو اور وہ اس زیادتی کا بدلہ لے لے یا انتقام لے تو اس پر کوئی الزام نہیں آئے گا الزام تو ان پر ہے جو دوسروں پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں اگر بدلہ لینے میں بھی زیادتی کرے تو مجرم ہوگایاناحق فساد بپا کرنے کا باعث بنتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے بڑی دردناک سزائیں ہیں لیکن جس شخص کو صبر نصیب ہو اور درگزر سے کام لے تو یہ بہت ہی بڑا کام ہے۔
Ayahs 42:44–53

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس کو اللہ گمراہ کردیں تو اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی (بھی) کارساز نہیں اور آپ ظالموں کو دیکھیں گے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہتے ہوں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی صورت ہے ؟

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ اس (دوزخ) کے سامنے لائے جائیں گے ، جھکے ہوئے ذلت تے ، سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے اور ایمان والے کہیں گے کہ یقینا خسارہ پانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا۔ یادرکھو ! بیشک ظالم (مشرک وکافر) ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے جو اللہ کے سوا ان کی مدد کرسکیں۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردیں تو اس کے لئے کوئی راستہ نہیں

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

اپنے پروردگار کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آپہنچے جو اللہ کے ہاں سے ٹلے گا نہیں۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے (گناہوں کا) انکار ہی بن پڑے گا

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیج۔ آپ کا کام تو صرف (احکام) پہنچا دینا ہے۔ اور بیشک جب ہم انسان کو اپنی رحمت (کا مزہ) چکھاتے ہیں تو اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان پر اپنے اعمال کے بدلے جو وہ پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت آجاتی ہے تو آدمی ناشکری کرنے لگتا ہے

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اللہ کی بادشاہت ہے جو چاہیں پیدا فرماتے ہیں جس کو چاہیں بیٹیاں عطا فرماتے ہیں اور جس کو چاہیں بیٹے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو جمع فرمادیتے ہیں ، بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہیں بانجھ کردیتے ہیں۔ بیشک وہ بڑے جاننے والے بڑی قدرت والے ہیں

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کے لئے (موجودہ حالت میں) ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کریں مگر الہام سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی پیغمبر (فرشتہ) بھیج دیں تو وہ اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہیں پہنچا دے۔ بلا شبہ وہ بڑے عالی شان ، بڑی حکمت والے ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح القدس کے ذریعے (قرآن) بھیجا۔ آپ کو خبر نہ تھی کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا و لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا اس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت فرماتے ہیں۔ اور بیشک آپ سیدھے راستے کی طرح راہنمائی فرما رہے ہیں

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اللہ کی راہ (کی طرف) جو آسمانوں اور زمین کا سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو ! سب کام اللہ کی بارگاہ میں ہی پہنچیں گے

آیات 44 تا 53۔ اسرار ومعارف۔ اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں نے آج قیامت کے دن خود کو نقصان میں رکھا اور اپنے گھروالوں کو بھی لے ڈوبے کہ وہ بھی انہی پر راہ چلتے تھے یادرکھو ایسے ظالم ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے اور کوئی ایسا حمایتی نہ پائیں گے جو ان کی کچھ بھی مدد کرسکے۔ ان سب لوگوں میں سے بھی نہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ پوجا کرتے تھے اور اللہ ہی جسے گمراہ کردے پھر اس کے لیے کوئی راہ باقی نہیں رہتی یعنی گناہ میں اس بات سے ڈرناچاہیے ، کہ کہیں ناراض ہو کر اللہ کریم ہدایت کی توفیق ہی سلب نہ کرے۔ اور لوگوں اللہ کی اور اللہ کے رسول کی دعوت قبول کرلو ایسانہ ہو کہ وہ دن آپہنچے جس دن اللہ کی بارگاہ میں پیشی ہو اور بچنے کا کوئی راستہ نہ ہو نہ کوئی ایسی ہستی نظر آئے جو یہ پوچھ ہی لے بھلا ان کو یہ سزا کیوں دی جارہی ہے۔ اور اے حبیب اگر یہ سب سن اور جان کر بھی آپ کی بات نہیں مانتے تو پھر آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ ان کی طرف سے فکرمند ہوں آپ کی ذمہ داری تو اللہ کا پیغام پہنچانے تک تھی سو آپ نے پوری کردی اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر انہیں تھوڑی سی نعمت عطا ہوجائے تو پھولے نہیں سماتے اور اکڑنے لگتے ہیں عطا کرنے والے کا شکر نہیں کرتے ہیں اور اگر ان کی بداعمالیوں کے باعث کوئی مصیبت آجائے تو اللہ کی ناشکری کرنے لگتے ہیں اور گناہوں سے توبہ نہیں کرتے یعنی لطف و راحت یابیماری ومصیبت ہر حال میں ان کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں اور محض لذات نفس کی خاطر زندگی بسر کیے جاتے ہیں۔ اللہ کو بھی ان کی پرواہ نہیں وہ ایسا حاکم ہے جس کی سلطنت ارض وسما پر محیط ہے ، اور وہ ہر شے کا خالق ہے جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے پیدافرماتا ہے انسانوں میں تو جسے چاہے صرف بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہے بیٹے عطا کرتا ہے جسے چاہے بیٹیاں بیٹے دونوں طرح کی اولاد دیتا ہے۔ اور بعض کو بانجھ بنادیتا ہے کہ ان سے اولاد ہو ہی نہیں سکتی تو یہ نہ ماننے والے اس کی حکومت میں تو کچھ مداخلت نہیں کرسکتے وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔ کسی بشر میں موجودہ صورت میں تو یہ طاقت نہیں کہ اسے اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف نصیب ہو اس کے تین طریقے ہیں وحی کی بات اس کے دل میں القا کردے یا پردے کے پیچھے سے اسے آواز سنائی دے یاپھرفرشتہ اللہ کریم کی طرف سے وحی لے کرآئے۔ اللہ کی طرف سے کلام کے تین طریقے۔ پہلی صورت بات کو دل میں ڈال دینے کی ہے یہ جاگتے ہوئے بھی ہوسکتی ہے اور نیند میں بھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں اور یہ دل میں ڈالنے یا القاء کی صورت ولی کو بھی نصیب ہوتی ہے جیسے ام موسیٰ (علیہ السلام) کو ہوئی جو نبی نہ تھیں ، اسی کو القا یا الہام کہتے ہیں نبی کو غلطی نہیں لگ سکتی جبکہ ولی کو لگ سکتی ہے اگر اسے ایسی بات سمجھ میں آئے جو نبی کی بات سے ٹکراتی ہو تو اس کی بات درست نہ ہوگی نبی کی بات ساری امت کو ماننا پڑتی ہے جبکہ ولی کی بات کے دوسرے لوگ مکلف نہیں ہوتے۔ دوسرا طریقہ پردے کے پیچھے سے آواز سنائی دینے کا ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر سنائی دیتی تھی مگر زیارت نہ ہوتی تھی تب ہی زیارت کے لیے دعا کی تو لن ترانی یعنی آپ اس حال میں دیکھ نہ سکیں گے ارشاد ہوا۔ اس لیے کوئی ایسا پردہ نہیں جس نے اللہ تعالیٰ کو چھپا رکھا ہو اور اپنے اندر سمولیا ہو بلکہ خود انسان کو قوت بصارت کی کمزوری زیارت حق کے لیے حجاب بن گئی ہے اس لیے آخرت اور جنت میں جب بینائی کو مضبوط اور طاقتور کردیاجائے گا تو دیکھ سکے گا یہ قانون دار دنیا کا ہے نیز کوئی فرشتہ بھی بالمشافہ ہم کلام نہیں ہوسکتا اور شب معراج اگر رسول اللہ کو زیارت ہوئی تو وہ اس عالم کی بات نہ تھی۔ وہ آسمانوں کے اوپر کا اللہ ہی جانے کونسا عالم تھا۔ اور تیسری صورت ہے کہ اللہ کریم فرشتے کو جبرائیل (علیہ السلام) کو کلام عطا کرکے روانہ فرمائے اور وہ پڑھ کر سنادے کبھی انسانی شکل میں آکر کبھی کشف میں نبی کو دکھائی دے کر۔ یہ کشف کی صورت کہ اسرار الٰہی کا مشاہدہ ہو بھی باتباع نبی اولیاء اللہ کو نصیب ہوتی ہے۔ اور اللہ بہت بڑی شان والا ہے جسے جو نعمت چاہے عطا کرے کہ وہ بہت بڑا حکمت والا ہے۔ ہرنبی ایمان پر پیدا ہوتا ہے۔ اسی اللہ کے حکم سے آپ پر وحی کا نزول ہوا اور آپ اللہ ہی کے بتلانے سے جانتے ہیں ورنہ آپ کو کتاب کے بارے میں کیا پتہ تھا اور ایمان کی تفصیلات اور اس کا یہ اعلی مقام جو وحی کے بعد ہے بھلا آپ کو اس کی کیا خبر تھی کہ باجماع امت ہر نبی ایمان پر پیدا ہوتا ہے اور قبل نبوت کا ایک خاص ولایت حاصل ہوتی ہے جسے راہ سلوک میں بھی ولایت انبیاء کہا جاتا ہے اور ولی ایسے داخل ہوسکتا ہے جیسے بادشاہ کے ساتھ محل میں خادم۔ انبیاء کو کفار نے طرح طرح کے طعنے دیے مگر کسی نبی کو یہ نہیں کہا کہ کل تک تو آپ بھی ہمارے ساتھ بتوں کو پوجتے تھے آج غلط کہہ رہے ہو اس لیے نبی پیداہی ایمان پر کیا جاتا ہے ہاں کمال ایمان وہ درجہ یقینا بہت بڑا ہے جو نزول وحی کے بعد ہوتا ہے۔ اور ہم نے اس وحی اور کلام باری کو ایک روشنی اور نور بنادیا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اس کی راہیں روشن کردیتے ہیں اور آپ تو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں وہ راستہ جو اللہ کا اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کو ہر ہرشے کا مالک ہے اور ہر امر اسی کی طرف لوٹنے والا اور ہر ایک کو واپس اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔