41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 41:33–44

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر کی کی بات ہوسکتی ہے جو (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ یقینا میں فرماں برداروں میں سے ہوں

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی۔ آپ نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیجئے پھر (ایسا کرنے سے) آپ دیکھیں گے کہ جس شخص میں اور آپ میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو ملتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں بیشک وہ خوب سننے والے ، خوب جاننے والے ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہے۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا ہے ، اگر تم کو صرف اس کی عبادت کرنا ہے تو

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تکبر کریں تو (فرشتے) جو آپ کے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ (کبھی) نہیں تھکتے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کی دبی ہوئی (خشک) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور پھولنے لگتی ہے۔ بیشک جس نے اس کو زندہ فرمایا تو وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بلا شبہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں ٹیڑھا پن اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں۔ بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو) جو چاہو کرلو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کو نہ مانا جب وہ ان کے پاس آیا اور یقینا یہ تو ایک بہت بلند رتبے والی کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس میں غلط بات داخل نہیں ہوسکتی نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ اللہ دانا (اور) خوبیوں والے کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

آپ کو وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے پیغمبروں کو کہی گئی ہیں۔ بیشک آپ کا پروردگار بڑی بخشش والا اور درد ناک سزا دینے والا ہے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس (قرآن) کو غیر عرب زبان میں نازل فرماتے تو کہتے اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کھول کر کیوں بیان نہیں کی گئیں۔ یہ کیا کہ (قرآن تو) غیر عربی ہے اور (مخاطب) عربی۔ فرمادیجئے جو ایمان لائے ہیں ان کے لئے یہ ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (بہرہ پن) ہے ۔ اور وہ (قرآن) ان کے حق میں اندھا پن ہے اور یہ لوگ (فائدہ حاصل نہ کرنے کے سبب ایسے ہیں جیسے) بڑی دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں

آیات 33 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔ اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان ہوں نہ یہ کہ آج کل مسلمانوں کی طرح کفار سے دب کرمعذرت خواہانہ انداز میں کہے کہ جی میں ہوں تو مسلمان ہی۔ برائی اور بھلائی اپنے نتائج میں کبھی ایک نہیں ہوسکتیں لہذا برائی کو بھی نیکی اور بھلائی کرکے ٹال دیا کریں اور برائی کا جواب برائی سے دینا تو بہرحال عداوت کو بڑھاتا ہے مگر نیکی کی جائے تو اکثر دشمن کو بھی دوست بنادیتی ہے عمومی زندگی میں مسلمان کے لیے یہ حسن عمل اس کی کامیابی کا راستہ ہے جیسے کسی نے سیدنا ابوبکر کو برابھلا کہا تو آپ نے فرمایا اگر میں ایسا ہوں تو توبہ کرتا ہوں اللہ مجھے معاف کرے اور اگر تو غلط کہہ رہا ہے تو دعا ہے اللہ تجھے معاف فرمائے ۔ یہ نعمت ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر اختیار کرتے ہیں اور جلد باز نہیں ہوتے اور ایسے لوگ بہت ہی خوش نصیب ہوتے ہیں۔ اور اگر ایسی حالت میں کوئی شیطانی شرارت محسوس ہو یعنی غصہ وغیرہ آنے لگے تو فورا اللہ کی پناہ حاصل کی جائے اللہ کو یاد کیا جائے کہ وہ ہر حال میں سننے والا بھی ہے اور ہر حال سے واقف بھی۔ عمومی سلوک۔ یاد رہے کہ یہ قاعدہ عمومی زندگی کے لیے ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ احکام شرعی پامال ہوتے رہیں اور اہل باطل کو چھوٹ دے کر مسلمان حسن سلوک کا بہانہ کرتے رہین جیسا آج کل اپنے مفاد پہ چوٹ آئے تو فورا چیخ اٹھتے ہیں اور دین بیشک برباد ہوتا رہے وہاں حسن سلوک یاد آجاتا ہے ۔ یہ شب وروز کا نظام اس کی باقاعدگی اور اس کے اثرات ونتائج اشیاء پر اور انسانی زندگی پر یہ سب اللہ کی عظمت کے دلائل ہیں کہیں اپنی جہالت سے انہی کی عظمت کے اسیر نہ ہوجانا کہ چاند سورج وغیرہ کو سجدہ کرنے لگو بلکہ سجدہ صرف اس ذات کا حق ہے جو سب کی خالق ہے۔ غیر اللہ کا سجدہ۔ سجدہ عبادت شرک ہے ، اور ہمیشہ حرام رہا ہے پہلی شریعتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا جو شریعت محمدی میں حرام ہو اگر کوئی عبادت کی نیت سے سجدہ کرے گا کافر ہوگا اور تعظیم کے لیے کرے گا ، تو فعل حرام کا مرتکب ہوگا نیز دہریوں کی طرح سورج اور چاند اور شب وروز یاموسموں کے اثرات ہی مستقل سبب مان لینا ایک طرح سے انہیں سجدہ عبات کرنا ہی ہے۔ فرمایا ان سب سے بچو اور اس ذات کو سجدہ کروجوان سب کو یہ کمال عطا کرتی ہے ان کی خالق ہے یہی اس کی عبادت کا راستہ ہے یعنی ان تمام سائنسی تحقیقات کا حاصل عظمت الٰہی کا شعور اور ادراک ہے ۔ اور اگر کوئی اپنی جہالت سے اللہ کو سجدہ کرنا اپنی کسر شان سمجھے اس کی اطاعت میں اپنی کمی خیال کرتا ہو تو اللہ کی بارگاہ میں تو سجدہ کرنے والے بیشمار فرشتے بھی ہیں جو شب وروز اس کی تسبیح کرتے ہیں اور کبھی تھکتے تک نہیں اسے سجدہ کی کمی نہیں ہر انسان کی ضرورت ہے کہ عبادت کرے اور دیکھ کر زمین کس طرح مردہ ہوجاتی ہے کہ اور ویران پڑی ہوتی ہے مگر اللہ اس پر بارش برساتا ہے تو پھولنے لگتی ہے اور دیکھ بیشمار نباتات اور چارہ سبزہ جس کانشان تک ہٹ چکا ہوتا پھر تروتازہ ہوکرنکل آتا ہے یقیناجو اللہ اس سب کو تمہاری نظروں کے سامنے زندگی عطا کرتا ہے وہی مردوں کو میدان حشر میں زندہ کرے گا کہ بیشک وہ ہر شے پر قادر ہے اور جو لوگ یہ طریقہ اپناتے ہیں کہ بظاہر تو قرآن کو مان لیں مگر اس کے معانی میں ایسی تاویل کریں جو مفہوم ہی بدل دے اور یوں الحاد سے اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہوں وہ اللہ سے چھپے ہوئے نہیں۔ الحاد وملحد۔ الحاد سے مراد علماء حق کے نزدیک یہ ہے کہ کھلا کفر تو نہ کرے اور قرآن کو حق ماننے کا دعوے دار ہو مگر معانی اور مفاہیم ایسے گھڑ دے جو احکام شرعی اور قرآن کی منشاء کے خلاف ہوں تو وہ ملحد ہوگا اور اس کا یہ فعل الحاد ہوگا اور یہ رویہ روافض نے اپنایا اور پھر خوارج کا یہی انداز رہا اور قادیانی نے یہی راہی اختیار کی غرض مغرق باطلہ الحاد کے مرتکب ہوئے اور مگر آج کل کی مصیبت یہ ہے کہ تعلیم نو سے آراستہ مغرب زدہ لوگ ان حقائق میں رائے زنی کرتے ہیں جو مسلمانوں میں مشہور معروف ہیں جیسے پانچ نمازیں یا روزہ اور زکوۃ کی فرضیت وغیرہ اور یوں الحاد میں پڑ کر تباہی کی طرف جا رہے ہیں جیسے جوئے اور سود کے لیے تاویلیں گھڑی جاتی ہیں یہ سب الحاد ہے اور یہ الحاد دوزخ میں لے جانے کا سبب ہے توکیاوہ بدنصیب جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے بہتر یا وہ خوش نصیب جنہیں یوم حشر دوزخ سے امن نصیب ہوگا ان کی رائے بہتر ہے بہرحال بندے کو اختیار دیا گیا راستہ وہ پسند کرے اپنائے اللہ کریم انسانوں کے سب اعمال خود دیکھ رہے ہیں اس ذات سے کچھ چھپا ہوا نہیں کیسے بدنصیب لوگ ہیں جو قرآن کو ماننے سے انکار کرتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی معزز اور نادر کتاب ہے اس کی خصوصیت ہے کہ کوئی کسی طرح سے اس میں باطل کو داخل نہیں کرسکتا نہ مخالفت کرکے اس کے الفاظ ومعانی بدل سکتا ہے جیسے سامنے سے آکر بدلنا کہا گیا ہے اور نہ خفیہ طریقے سے منافقت کرکے ایسا کرسکتا ہے اور ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے اور اس کا رد ہوجاتا ہے چودہ صدیاں گواہ ہیں کہ واقعی اس کتاب کو ہر طرح سے اللہ کی حفاظت حاصل ہے یہ اس ذات کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو ہر طرح سے ذات وصفات میں حکیم بھی ہے اور محمود بھی۔ آپ پر بھی ایسے ہی الزامات لگائے جاتے ہیں اور وہی اعتراضات دہرائے جاتے ہیں جو آپ سے پہلے انبیاء ورسل پر کیے گئے اور جن کے جوابات دلائل سے بارہادیے جاچکے ہیں کہ اللہ کریم بہت بڑے بخشنے والے ہیں لہذا لوگوں کی بخشش کا سبب ان جوابات دلائل کو بنا رہے ہیں لیکن یاد رہے کہ کفر پر اڑنے والوں کے لیے اس کی سزائیں بھی بہت دردناک ہیں اگر قرآن ایسی زبان میں ہوتا جسے یہ لوگ جو اس کے پہلے مخاطب ہیں اوپر ہی خیال کرتے ہیں تو ضرور کہتے کہ عجیب بات ہے خطاب عربوں سے ہے اور زبان غیر عربی ہے کہ معترض ہر حال اعتراض گھڑ ہی لیتا ہے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ قبول کرنے والوں کے لیے ہدایت نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے پوری زندگی کا خوبصورت نظام عطا کرتا ہے ایسانظام عطا کرتا ہے جو ہر دکھ سے بچاتا ہے ہر پریشانی سے محفوظ رکھتا ہے اور جو نہیں مانتے ان کی برائیوں نے ان کی سماعت متاثر کردی ہے اور یہی نور قرآن ان کے لیے اندھے پن کا سبب بن گیا ہے انہیں اس کی سمجھ نہیں آرہی عربوں کا محاورہ ہے کہ بات سمجھنے والے کو کہتے ہیں تو نے قریب سے سنا اور نہ سمجھنے والے کو کہتے ہیں کہ تم بہت دور سے سنتے ہو۔
Ayahs 41:45–46

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی پھر اس میں بھی اختلاف ہوا اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے پہلے بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا اور بلاشبہ وہ اس کی طرف سے ایسے شک میں ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے لئے کرتا ہے اور جو شخص بدعمل کرتا ہے سو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور آپ کا پروردگار بندوں پر زیادتی کرنے والا نہیں

آیات 45 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر جب کتاب نازل ہوئی تھی تویہی سلوک ان سے کیا گیا تھا کہ کسی نے مانا اور کسی نے محض اعتراضات کیے اور انکار کیا وہی سلوک آپ سے کر رہے ہیں کہ یہوداکثر اعتراضات دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں اگر یہ مقدور نہ کردیا گیا ہوتا کہ عذاب وثواب کا فیصلہ میدان محشر میں ہوگا تو انہیں ابھی فیصلہ سنادیاجاتا کہ انہیں ان کی غلط فہمیاں چین نہیں لینے دیتیں بہرحال جو نیکی کرتا ہے وہ خود اس کے اپنے کام آئے گی اور جو برائی کرتا ہے وہ خود اس کا نتیجہ بھگت لے گا تیرا پروردگار اپنے بندوں اور اپنی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کرتا۔
Ayahs 41:47–54

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کے علم کا حوالہ اسی (اللہ) کی طرف دیا جاتا ہے اور نہ تو پھل اپنے گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اسی کے علم سے۔ اور جس دن وہ (اللہ) ان کو پکاریں گے (اور فرمائیں گے) میرے شریک کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے ہم آپ سے ہی عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو وہ پہلے (دنیا میں) پوجا کرتے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ ان کے لئے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید (اور) ہراساں ہوجاتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور گار تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت (کا مزہ) چکھاتے ہیں تو وہ ضرور کہتا ہے یہ تو میرے لئے ہونا ہی چاہیے تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی۔ اور اگر (ایسا ہو کہ) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے پاس بھی بہتری ہی ہے۔ سو ہم ان کافروں کو ان کے یہ سب کردار ضرور بتائیں گے اور ان کو سخت عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت عطا کرتے ہیں تو اپنا منہ موڑ لیتا ہے اور اپنی کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

فرمادیجئے بھلا دیکھو ! اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو ، پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف عالم میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دیکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ وہ (قرآن) حق ہے تو کیا آپ کے پروردگار کو یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہیں

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

دیکھیں ، بیشک یہ اپنے پروردگار کے روبرو ہونے سے شک میں ہیں۔ یاد رکھو ! بیشک وہ ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے

آیات 47 تا 54۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔ مادہ کے حمل کی خبر۔ اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے بارے میں اور وہ بھی اندازے سے جان لینا کہ نر ہے یامادہ اور کہاں اس کے علم کی عظمت کہ ساری مخلوق میں جہاں کہیں کوئی درخت سبزہ کونپل پھوٹ رہی ہے اس کو خود بنارہا ہے جہاں کہیں کسی مادہ کے پیٹ میں بچہ بن رہا ہے اس کا ایک ایک بال خود بنارہا ہے ۔ ایک عجیب واقعہ۔ تویہ بات علم الٰہی پر اعتراض نہیں ہوسکتی کہ اس کی قدرت کا کرشمہ اور وہ کیسا علم اور کس طرح ہر شے کو پیدا کرتا ہے اور رزق پہنچاتا ہے ۔ یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ راقم اپنی زمینوں پر کنواں کھدوارہا تھا جو تقریبا شروع سے ہی چٹانیں کاٹ کوکھوداجارہا تھا مزدور بارود سے چٹانیں اڑاتے اور باہرنکالتے تھے تقریبا 80 ، 90 فٹ کے درمیان ایک چھوٹا ساپتھر برآمد ہوا جسے توڑا گیا تو اس کے دوپڑ بن گئے جن کے درمیان میں چونی کے برابر گڑھا سا تھا اور اس میں ایک عام مکھی سے بڑی اور شہد کی مکھی سے چھوٹی مکھی نمامخلوق موجود تھی جو زندہ تھی چل پھر رہی تھی اور اڑ سکتی تھی اور اکیلی تھی ، کیسے پیدا ہوئی کہاں سے غذا پاتی رہی صرف اور صرف رب العالمین سے اور روز محشر جب مشرکین سے بھی کہاجائے گا کہ جن کو ہمارا شریک بناتے تھے انہیں بلاؤ کہ تمہاری مدد کریں تو کہہ اٹھیں گے اے اللہ ہم نے یہ عقیدہ ہی چھوڑ دیا ہے اور اب ہم انکومانتے ہی نہیں ۔ مانیں گے کیا وہ سب باطل تھا جو نابود ہوگیا اور اب انہیں خبر ہوگئی کہ اب کسی حیلے بہانے سے یہ نہیں بچ سکتے جو آدمی دین سے بےبہرہ ہو اس کا لالچ ختم ہی نہیں ہوتا ، اور چیزیں لوٹتے لوٹتے تھکنا ہی نہیں اور اسے اور طلب بڑھتی جارہی ہے مگر جب کہیں ذرا رکاوٹ یامصیبت آجائے تو پھر ناامیدی کے غاروں میں جاگرتا ہے کہ اللہ سے تعلق تو ہوتا نہیں کہ نعمت پہ شکر اور مصیبت پہ صبر نصیب ہوتا اور اگر مصیبت کے بعد راحت مل جائے یازوال کے بعد اقتدار میں آجائے تو سب بھول جاتا ہے اور شکر کرنے کی بجائے کہتا ہے کہ یہ میراحق تھا مجھے ہی ملنا چاہیے تھا اور اسے خیال تک نہیں ہوتا کہ قیامت بھی سر پر کھڑی ہے اور کہتا ہے کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو اپنے وہاں بھی مزے ہی ہوں گے۔ حالانکہ روز قیامت تو ہم کفار کو ان کی ایک ایک کرتوت یاد دلائیں گے اور انہیں بہت ہی غلیظ اور زبردست عذاب بھگتنا ہوگا ایسے لوگوں پر جب اللہ فراخی بھیجتے ہیں یا انہیں اقتدار وقار نصیب ہوتا ہے تو اس کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں اور پھر جب مصیبت آتی ہے تو بڑی بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرتے ہیں۔ دعا۔ لمبی دعا کرنا اور الحاح وزاری سے کرنا محمود ہے اور اللہ کی رحمت مگر ایسے بدکاروں کے لیے جو نعمت کے وقت شکر نہ کریں اور کفر میں مبتلا رہیں وقت مصیبت بھی صرف مصیبت سے خلاصی مقصود ہو عظمت الٰہی کی بات دل میں نہ ہو یہ ایک گستاخی سمجھی جائیگی فرمادیجئے کہ جب یہ کلام یہ دین نظام حیات اللہ کی طرف سے ہے اور تم اس کا انکارکر رہے ہو تو پھر اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے کہ تم تو بہت ہی دور جاپڑے ہو۔ نشانیاں۔ ہم نے تو اپنی عظمت کے نشان ارض وسماء میں رکھے اور ویسا ہی ایک چھوٹا جہاں ہر انسان کے وجود میں بنادیا جس کی ہر ہر ادا عظمت الٰہی پر دال ہے اگر تخلیق باری پر غور کریں اور تلاش و جستجو کریں تب بھی خود انسانی وجود اس کے اعضا وجوارح اور ان کی خصوصیات میں غور کریں تب بھی حاصل جستجو یہ ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کا کلام ھق اس کا رسول برحق ہے اور اللہ تو خود ان کے ہر حال پر آگاہ ہے۔ اس کی عظمت کہ وہ ہر شے کو ہر آن جانتا ہے ہاں ان لوگوں کو اپنے پالنے والے کی بارگاہ میں واپس حاضر ہونے میں شبہ ہے یہاں ربوبیت کو دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل ارشاد فرمایا ہے لیکن یہ جان لیں کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے جیسے پہلے پیدا کررہا ہے اور زندگی دے رہا ہے دوبارہ دینے پر بھی قادر ہے زندہ کرے گا اور ضرور جواب طلبی ہوگی۔