39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 39:32–41

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اس کو جھٹلا دے۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور (جس نے) اس کی تصدیق کی یہی لوگ پرہیزگار ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو کچھ چاہیں گے (وہ سب کچھ) ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ہے خلوص کے ساتھ نیکی کرنے والوں کا یہی صلہ ہے

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان برائیوں کو جو انہوں نے کی تھیں ان سے دور کردیں اور ان کو ان کے نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے صلہ عطا فرمائیں

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ کے لئے کافی نہیں ؟ اور یہ آپ کو ان (معبودوں) سے ڈراتے ہیں جو اس (اللہ) کے سوا (انہوں نے تجویز کررکھے) ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کردیں تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو اللہ ہدایت بخشیں تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ غالب (اور) بدلہ لینے والے نہیں ؟

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا ؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ فرمائیے بتاؤ تو جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ، اگر اللہ مجھے کوئی دکھ پہنچانا چاہیں تو کیا یہ اس کے دیئے دکھ کو دور کرسکتے ہیں یا اگر ورہ مجھ پر مہربانی فرمانا چاہیں تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟ فرمادیجئے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں (بھی) عمل کیے جاتا ہوں۔ سو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور (آخرت میں) کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ پر لوگوں کے لئے ، حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے۔ پس جو شخص راہ راست پر آتا ہے تو اپنے لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو یقینا گمراہی سے اپناہی نقصان کرتا ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41: اسرار و معارف : اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی اللہ اپنے کرم سے معاف فرما کر ان کے نیک اعمال کا صلہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر عطا کریں گے۔ ذرا ان کفار کو دیکھو آپ کو اور آپ کے ماننے والون کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ بھلا یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ اپنے بندے کی حفاظت کے لیے کافی ہے اس سے مراد ہر وہ ڈر ہے جو حکومت کو کافر حکومت کا یا کسی مسلمان کو کسی کافر یا بدکار افسر وغیرہ کا ڈر اللہ کی نافرمانی پہ مجبور کرے نیز گناہ پہ مجبور کرنے والا خواہ برائے نام مسلمان ہی ہو اس کے مقابلے میں اللہ کی حفاظت کافی ہے مگر ان جاہلوں کو اتنی سی بات کی سمجھ بھی نہیں آتی۔ بات یہ ہے کہ گناہ کی پاداش میں اللہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی راستہ دکھا ہی نہیں سکتا اور جن کی اطاعت یا جذبہ اطاعت قبول کرکے انہیں ہدایت کی راہ پہ ڈال دے انہیں کوئی بھٹکا بھی نہیں سکتا۔ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ اللہ ہی غالب ہے اور وہ بدلہ لینے والا ہے۔ یعنی عذاب وثواب آخرت کے ساتھ اعمال کا بدلہ یہاں بھی نصیب ہوجاتا ہے کہ برائی کا بدلہ گمراہی ہے اور اطاعت کے بدلے راہ ہدایت نصیب ہوتی ہے پھر کیا جہالت ہے کہ بتوں سے یا غیر اللہ سے جو خود مخلوق و مھتاج ہیں ڈراتے ہیں اگر آپ ان پہ سوال کریں کہ یہ مامور عالم یہ آسمان و زمین کس نے بنائے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے بتوں نے بنائے ہیں انہیں کہنا پڑے گا کہ اللہ نے بنائے ہیں اور معبودان باطلہ کا عجز یوں دیکھو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں کہ اگر اللہ مجھے رنج پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس رنج کو دور کسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر اپنی رحمت و بخشش کرے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ہرگز نہیں تو پھر آپ یہ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ کافی ہے اور یہی کلمہ غیر اللہ کے مقابل ہر مومن کے لیے ہے کہ بھروسہ کرنے والے صرف اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں کفر پہ اصرار ہے تو اپنا کام جاری رکھو میرا اپنا کردار ہے ایمان و اطاعت کا میں اس پر عمل پیرا ہوں بہت جلد نتیجہ سامنے آجائے گا کہ کس پر آفت ٹوٹی ہے اور پھر اس پر ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب مسلط ہوجاتا ہے اور ہم نے لوگوں کی خاطر آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے یعنی لوگ کتاب میں اپنی رائے سے سے معانی داخل نہیں کرسکتے بلکہ کتاب اور کتاب کا معنی دونوں رسول اللہ ﷺ سے حاصل کرنے ہوں گے۔ یہ حق اور کھری بات ہے جو کوئی اسے قبول کرتا ہے تو وہ اپنی بہتری کے لیے کرتا ہے لیکن اگر کوئی اس کا انکار کرکے گمراہ ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی وہ خود بھگتے گا کہ آپ ﷺ کا کام بات پہنچا دینا ہے آپ ان پر مسلط نہیں کیے گئے کہ زبردستی منوانا ہو۔ لہذا آپ فکر مند نہ ہوں۔
Ayahs 39:42–52

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ ہی قبض فرماتے ہیں جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی تو ان کی نیند کے وقت۔ پھر ان کو روک لیتے ہیں جن کی موت کا حکم فرماچکے اور باقی جانوں کو ایک وقت مقررہ تک کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ بیشک اس میں تفکر کرنے والوں کے لئے دلائل ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور سفارشی بنالئے ہیں۔ فرمادیجئے خواہ وہ کسی چیز کا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ سفارشی تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ تمام آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے پھر تم لوٹ کر اسی کی طرف جاؤ گے

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے دل گھٹنے لگتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر آتا ہے تو وہ فوراً خوش ہوجاتے ہیں

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

فرمادیجئے اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے ، پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے ، آپ ہی اپنے بندوں کے درمیان جن باتوں میں وہ باہم اختلاف کرتے ہیں ، فیصلہ فرمائیں گے

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظلم (کفروشرک) کرنے والوں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں تو قیامت کے دن سخت عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے سب دے دیں اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوگا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے لئے ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ان کو آگھیرے گا

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پھر جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت عطا فرماتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو مجھے میری تدبیر سے ملی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے و لیکن ان کے اکثر لوگ جانتے نہیں

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

بلا شبہ یہ (بات) ان سے پہلے بعض لوگوں نے بھی کہی تھی۔ تو جو وہ کیا کرتے تھے ان کے کسی کام نہ آیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پس ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑگئے اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے اعمال کے وبال عنقریب پڑیں گے اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی جس کے لئے چاہتے ہیں روزی فروخ کردیتے ہیں اور (جس کے لئے چاہتے ہیں) تنگ کردیتے ہیں۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52: اسرار و معارف : یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے اگر کوئی سوچے اور سمجھے تو یا پھر ان کا دعوی کہ ہم تو ان کی پوجا اس لیے کرتے ہیں کہ یہ معبودان باطلہ ہماری سفارش کریں گے یہ اور بھی جاہلانہ عقیدہ ہے بھلا جن کا کوئی اختیار ہی نہیں خود محتاج ہیں اور کسی کی حاجات کو جان ہی نہیں سکتے رہ کیسے سفارش کرسکتے ہیں یاد رکھو یہ ایسی بارگاہ ہے کہ یہاں سفارش بھی اس کی مرضی کے تابع ہے کہ کس کو سفارش کرنے کی اجازت دیتا ہے یا کس کے لیے اذن شفاعت دیتا ہے اس لیے کہ ارض و سما کی حکومت و سلطنت اس کو سزاوار ہے اور ہر ایک نے اس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر جواب دینا ہے مگر یہ لوگ گمراہی میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ اگر اللہ کی توحید کا ذکر کیا جائے تو ان کی دھڑکنیں رکنے لگتی ہیں کہ یہ آخرت کے منکر ہیں لیکن اگر غیر اللہ کی تعریف کی جائے یا کوئی ان کے سامنے کرے تو ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں اپ (ﷺ) یوں دعا کیجیے کہ اے اللہ اے وہ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور تمام چھپے ہوئے بھیدوں اور سب ظاہر باتوں کو جانتا ہے تو ہی اپنے بندوں کے اختلافات یعنی ایمان و کفر کا فیصلہ فرمائے گا لہذا آپ ہی سے کرم کا طالب ہوں رہے یہ کفار تو فیصلے کے روز اگر ان میں سے ایک ایک کے پاس سارے جہان کی دولت ہو بلکہ اس سے دوچند ہو اور وہ یہ مال و زر دے کر جان چھڑانا چاہے تو ہرگز ایسا نہ کرسکے گا بلکہ ان پر اللہ کی طرف سے وہ عذاب شروع ہوجائے گا جس کی انہیں کوئی امید نہ تھی کہ آخرت کو قبول ہی نہ کرتے تھے ان کی بد اعمالی کی سزا ان کے گلے پڑے گی اور وہ عذاب بھگتنا پڑجائیں گے دنیا میں جن کی بات سن کر مذاق اڑایا کرتے تھے اور یہ تو دنیا میں بھی ظاہر ہے کہ انسان جب مصیبت میں گھر جائے اور کوئی راستہ نظر نہ آتا ہو تو ہمیں کو پکارتا ہے پھر سب اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں اگرچہ جب اللہ مصیبت کو راحت سے بدل دے تو یہ کفار اسے اپنا کمال ظاہر کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں مجھے علم تھا کہ اس کا حل کیا ہے لہذا میں نے اس سے نجات حاصل کرلی یہ میری کوششوں کا ثمر ہے اور یہی انسان کی پرکھ ہے کہ کیا اللہ کا احسان مانتا ہے یا اپنے کمالات کا ثر مگر ان میں اس بات کا علم ہی نہیں اسی طرح کے دعوے ان سے پہلے کفار بھی کیا کرتے تھے لیکن جب ان کی بد اعمالی کی سزا میں اللہ کا عذاب آیا تو پھر ان کی دانشمندی کے دعوے اسے نہ روک سکے۔ اور ان کے کرتوتوں کی سزا ان پر وارد ہوگئی ایسے ہی یہ بھی بھگتیں گے اور ان لوگوں نے بھی جب ظلم کی راہ اپنائی ہے تو وہ خود انہیں پر پلٹ گا اور یہ اسے وارد ہونے سے روک نہ سکیں گے بھلا اسی بات میں دیکھ کہ اللہ جسے چاہتا ہے دولت دنیا زیادہ عطا کردیتا ہے اور کوئی اس کی روزی کم نہیں کرسکتا اور جسے چاہے اسے کم رزق عطا کرے ساری عقل فراست اور تدبیر سے وہ بڑھا نہیں سکتا اس بات میں بھی صاحب ایمان کے لیے بہت بڑی دلیل ہے۔ حصول روزق کے لیے وسائل اختیار کرنا اور دانشمندی سے محنت کرنا اللہ کی اطاعت اور عبادت ہے مگر ملے گا وہی جو اس نے مقرر فرما دیا ہے اسی طرح ناجائز ذرائع اکتیار کرکے گناہگار ہوگا۔ رزق اپنے ہی حصے کا پاسکے گا۔
Ayahs 39:53–63

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے (میری طرف سے) کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ بیشک اللہ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ بیشک وہ بڑے بخشنے والے ، بڑے رحمت والے ہیں

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرماں برداری کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے۔ پھر (اس وقت) تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور نہایت اچھے طریقے سے پیروی کرو جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل فرمائی گئی ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو (اس کی) خبر بھی نہ ہو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

(جیسا کہ) کوئی شخص کہنے لگے (قیامت کو) کہ ہائے افسوس ! اس (تفصیر) پر جو میں نے اللہ کے حق میں کی اور میں تو (احکام الٰہی کا) مذاق ہی اڑاتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت فرماتے تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کاش ! میرا (دنیا میں) پھر سے جانا ہو تو میں پرہیزگاروں میں سے ہوجاؤں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

ہاں بیشک تیرے پاس میری آیات پہنچی تھیں تو تو نے انہیں جھٹلایا اور تو نے تکبر کیا اور تو کافروں میں شامل رہا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور آپ قیامت کے روزان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا تھا۔ کیا ان کا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیزگار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دیں گے۔ ان کو ذرا تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی ہر چیز کے پیدا فرمانے والے ہیں اور وہی ہر چیز کے نگہبان ہیں

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63: اسرار و معارف : نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ توفیق توبہ کا چھن جانا بھی تو بہت بڑا عذاب ہے جس کی خبر ہی نہیں ہوسکتی یا کوئی افتاد آ پڑے اور یاد رکھو جو کتاب اللہ نے نازل فرمائی ہے یعنی قرآن حکیم جو تمہیں خطاب فرما رہا ہے۔ یہ تمہارے پروردگار کا خاص انعام ہے کہ سب سے احسن کلام ہے ۔ مضامین و حقائق تو سب کتب سماوی میں تھے مگر یہ سب کا جامع بھی ہے اور بیک وقت ساری انسانیت کے لیے بھی قبل اس کے کہ غفلت غفلت ہی میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاؤ اس کی پیروی اختیار کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی میدان حشر میں کہہ رہا ہو وائے افسوس میں اللہ کی عظمت سے غافل رہا اور مذاق کرتا رہا مگر آج حقیقت بن کر سب کچھ سامنے ہے یا کوئی یہ عذر تراشے کہ اللہ نے ہدایت نہ دی اگر اللہ ہدایت دیتا تو میں بھی نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا۔ یا عذاب الہی کو دیکھ کر کہے کہ کاش ایک بار پلٹ کر جانے کا ایک موقع مل جائے تو میں بہت نیکی کروں لیکن سن لو جواب یہ ہوگا کہ ہاں تمہارے پاس میرا پیغام پہنچا تھا تم با شعور تھے مگر تم نے پروا ہ نہ کی اس کی تکذیب کی اور تکبر کیا اور یوں کفر کی راہ اختیار کی۔ دنیا میں تو اکڑتے ہیں مگر اے مخاطب تو دیکھے گا ان لوگوں کو جو اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹے عقیدے گھڑ کر انہیں دین بتاتے تھے اور اس طرح خود کو بڑا منواتے تھے آج ان کے چہروں پر سیاہی پھیل رہی ہے اور ان کا ٹھکانہ ان کے غرور کے باعث جہنم میں ہے حالانکہ اسی میدان حشر میں اللہ سے ڈرنے وار اس کی اطاعت کرنے والے اس ہنگامے سے محفوظ کھڑے ہیں نیز انہیں کسی طرح کی فکر بھی نہیں اس لیے کہ سب عذاب وثواب اور ہر شئے کا خالق اللہ ہے اور اسی کی حکومت ہے سب پر لہذا جہاں حکم دے گا عزاب واقع ہوگا اور جہاں ارشاد فرمائے گا ثواب پہنچے گا نیز آسمانوں اور زمینوں کی چابیاں بھی اسی کے پاس ہیں یعنی وہی اکیلا خالق بھی ہے مالک بھی ہے اور اسی کے تصرف میں ہر چیز ہے لہذا اس کی عظمت کا انکار کرنے والے بہت بڑے نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Ayahs 39:64–70

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کا کہتے ہو ؟

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور یقینا آپ کی طرف اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کی طرف وحی بھیجی جاچکی ہے کہ (اے عام مخاطب ! ) اگر تو شرک کرے گا تو تیرا سب کام ضرور تباہ ہوجائے گا اور تو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ (ہمیشہ) اللہ ہی کی عبادت کرنا اور شکرگزاررہنا

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے جیسی چاہیے تھی ویسی اللہ کی قدر شناسی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لینے ہوں گے وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالی شان ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر جس کو اللہ چاہیں۔ پھر دوسری دفعہ اس (صور) میں پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے کی اور کتاب (نامہ اعمال کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور سب کے ساتھ انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر زیادتی نہ کی جائے گی

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ سب کے کاموں کو خوب جانتے ہیں

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70: آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی نہیں اور یہ اللہ کی قدر و منزلت ہی نہیں کرسکے کائنات کے مختلف امور میں مختلف ہستیوں کو متصرف مانتے ہیں مگر قیامت کو اس بات کا ان کو بھی پتہ چل جائے گا سب زمین اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جیسے کوئی شے مٹھی میں ہو اور آسمان بھی جیسے دست قدرت میں لپٹے ہوئے ہوں یعنی کائنات پر اللہ کے مکمل اختیار کو دیکھ کر ہی مانیں گے کہ اللہ کی ذات پاک ہے اور ان کے مشرکانہ خیالات سے بہت بلند۔ اور قیامت بہت بڑا حادثہ ہوگا جب صورت پھونکا جائے گا تو سب جاندار بےہوش ہوجائیں گے خواہ وہ زمین میں ہوں یا آسمان میں حتی کہ فرشتے اور ارواح تک اور زندہ اسی بےہوشی میں مرجائیں گے ہاں سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ نے بےہوش ہونے سے محفوظ رکھا یعنی اللہ کے خاص بندے۔ پھر دوبارہ یہی صور پھونکا جائے گا تو اس کی آواز موت کی بجائے حیات کا پیغام بن جائے گی اور سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھ رہے ہوں گے کہ زمین تجلیات باری سے روشن ہوجائے گی اور دفتر لگا دیا جائے گا۔ انبیاء (علیہم السلام) حاضر آئیں گے اور ہر طرح کی گواہی مہیا کردی جائے گی پھر تمام لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ہرگز زیادتی نہ کی جائے گی ہاں ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا کہ جو کچھ کسی نے کیا ہے اللہ اس سے باخبر ہے۔