36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 36:68–83

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کہ ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اس کو طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں تو کیا یہ نہیں سمجھتے ؟

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو شاعری کا علم نہیں دیا اور یہ آپ کے شاشان بھی نہیں یہ تو محض ایک نصیحت اور صاف صاف قرآن ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر حجت ثابت ہوجائے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کے لئے اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے مواشی پیدا فرمائے پھر یہ ان کے مالک بن رہے ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان (مواشی) کو ان کا تابع بنادیا۔ سو بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان لوگوں کے لئے نفع بھی ہے اور پینے کی چیزیں بھی ، سو کیا یہ لوگ شکر ہیں کرتے ؟

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے علاوہ (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید ان کو مدد ملے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ان کی کچھ مدد کر ہی نہیں سکتے اور وہ ان کے لئے ایک فریق (مخالف) ہو کر حاضر کیے جائیں گے

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

پس آپ کے لئے ان کی باتیں دکھ کا باعث نہ بنیں بیشک ہم سب جانتے ہیں جو یہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا فرمایا ، پھر وہ اعلانیہ جھگڑنے لگا

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی تخلیق کو بھول گیا۔ کہتا ہے کہ ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں کون زندہ کرے گا ؟

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

فرما دیجئے ان کو وہ زندہ فرمائے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا فرمایا اور وہ سب طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہ ایسا (قادر) ہے کہ (بعض) ہرے درخت سے تمہارے لئے آگ پیدا کردیتا ہے پھر تم اس سے اور آگ سلگا لیتے ہو

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

اور جس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائے کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو پھر ویسے ہی پیدا کردے کیوں نہیں ، اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا ، علم والا ہے

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس چیز کو فرمادیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

سو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے اور تم (سب) کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ باتوں میں حقیقت کی جگہ پر تصورات اور تخیلات سجا دئیے جاتے ہیں۔ رزمیہ نغموں میں شاعر بجلی کی طرح تلوار چلاتا ہے اگرچہ عملی زندگی میں دستہ پکڑنا نہ آتا ہو ایسے جنگل بادل ، دریا ، صحرا سب کی سیر کرلیاتا ہے خواہ زندگی بھر جھونپڑے سے نہ نکلا ہو تو یہاں بھی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ باتیں شاعرانہ تعلی ہے تو ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء اور انسانیت کے لیے اللہ کے رسول ہیں بھلا آپ شاعرانہ تعلی کے طور پر کلام فرمائیں گے تو حق کون بیان کرے گا۔ آپ کا مقام اس بات سے بہت بلند ہے۔ یہ شاعرانہ کلام آپ کو زیب ہی نہیں دیتا نہ اللہ نے آپ کو سکھایا ہے بلکہ جو کلام آپ پر نازل ہوا ہے تو یہ سراپا نصیحت اور آسمانی کتاب ہے قرآن ہے جو بہت روشن دلائل سے بات سمجھاتا ہے لیکن اس کی بات بھی تو زندہ لوگوں کو ہی فائدہ دے گی جن کے دل مردہ ہوچکے ضمیر مرچکے وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی استعداد ہی کھو چکے ہاں ان پر حجت قائم ہوجائے گی کہ انہیں حق پہنچایا گیا مگر انہوں نے اپنے لیے کفر کی راہ اپنائی۔ انہیں غور کرنا چاہیے کہ آخر روئے زمین پر کس قدر حیوانا تبستے ہیں وہ بھی تو ہماری مخلوق اور ہمارے دست قدرت کا شاہکار ہیں ان میں جان بھی ہے توالد و تناسل بھی مگر ہم نے ان کو انسان کی ملکیت بنا دیا ہے اور ان کے تابع کردیا ہے کسی پر سواری کرتے ہیں تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہیں کسی سے کھیتی باڑی کی خدمت لیتے ہیں تو کسی سے گاڑی کھنچواتے ہیں حتی کہ انہیں بیچ دیتے ہیں کہ ان کی ملکیت ہیں۔ ملکیت کا اصول۔ یہاں بات انسانی عظمت کی ارشاد ہوئی ہے اصول ملکیت زیر بحث نہیں مگر چونکہ ملکیت کا تذکرہ ہے تو بہتر ہے کہ بات عرض کردی جائے۔ دنیا میں دو بڑے نظام ہیں سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت۔ پہلے کا فلسفہ یہ ہے کہ ملکیت کی بنیاد سرمایہ ہے جبکہ دوسرے کا فلسفہ ہے محنت یعنی ملکیت کی بنیاد محنت ہے مگر اسلام کا اپنا فلسفہ ہے جو حق ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو بحیثیت انسان ان اشیاء کا مالک بنا دیا ہے اب یہ تقسیم کہ کونسی شے کس کی ملکیت ہے اس کے لیے حصول اشیاء کے اسلامی ضابطے موجود۔ جو اس طرح حاصل کرے حق ہے ورنہ غاصب کہلائے گا۔ اور جانوروں میں ان کے مالی منافع غذا اور پینے کے لیے دودھ کے ذخائز سمو دیے۔ انہیں تو چاہیے تھا کہ ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے اور ان بحثوں میں نہ پڑتے مگر ان نادانوں نے اللہ کی عظمت سے منہ پھیر کر غیر اللہ سے اور بعض اوقات انہی جانوروں سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں اور ان کو اپنا معبود قرار دے رکھا ہے جبکہ کوئی بھی اللہ کے سوا ایسی ہستی نہیں جو کسی کی مدد کرسکے ان کی مدد کی امیدوار پھر معبودانِ باطلہ سے کتنی حماقت ہے کہ حق یہ ہے کہ وہ ان کی مدد تو نہ کرسکیں گے البتہ میدان حشر میں ان کے خلاف گواہی دیں گے اور بطور ثبوت پیش ہوں گے کہ واقعی یہ لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ آپ ﷺ ان کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں کیا شان کرم ہے کہ آپ ﷺ کفار کے کفر سے اس لیے آزردہ خاطر ہوجاتے کہ بھلا ایک انسان ہے اور پھر یہ جہنم میں کیوں جائے جبکہ میں انسانوں ہی کو جہنم سے بچانے اور سیدھی راہ دکھانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں تو آپ ﷺ ہم مسلمانوں کی خطاؤں پہ کس قدر دکھی ہوتے ہوں گے۔ فرمایا آپ پریشان نہ ہوں اللہ سب جانتا ہے کہ یہ آپ سے کیا کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں کیا ہے کہ بظاہر تو جھگڑا کرتے کہ ہم حق پر ہیں مگر اندر سے جانتے تھے کہ حق تو ادھر ہے مگر ہم عیش و عشرت کیسے چھوڑیں خواہشاتِ نفس میں پھنسے ہوئے تھے۔ انسان اگر غور کرے تو اس کی اصل تو نطفہ ہے ایک قطرہ پانی میں سارا انسانی وجود اور اس کے اجزا روئے زمین سے جمع کرکے سمو دئیے اور پھر اس بوند سے انسان بنا کر پیدا کردیا اب یہ بھی اللہ سے جھگڑا کرنے میدان میں اترا ہے اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے کہتا ہے بھلا ان بوسیدہ ہڈیوں کو جو خاک ہوچکیں کون زندہ کرے گا آپ فرم ادیجیے وہی ذات جس نے پہلے ذرات سے قطرہ اور قطرے سے وجود پیدا کردیا تھا پھر سے ان سب کے ذرات کو انسانی روپ عطا کردے گا کہ وہ ہر طرح کی صنعت پہ قادر اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے بھلا بکھرے ذرات کو جمع کرنا اتنا مشکل تو نہیں جتنا سرسبز آنے والے درختوں میں آگ کو رکھ دینا ہے کہ تم سبز ٹہنیاں رگڑ کر آگ پیدا کرلیتے ہو۔ سبز درختوں میں آگ : عرب تو ویسے بھی صحرا سے دو قسم کے درخت لاتے جن کو آپس میں رگڑ کر آگ پیدا کرلیتے ویسے بھی آج کل تو باٹنی والوں نے ثابت کردیا ہے کہ ہر پتے میں بھٹی لگی ہوئی ہے جہاں غذا پک کر پودے یا درخت کو تقسیم ہوتی ہے۔ اور یہ تو ایک بات ہے ارض و سما کی یہ وسیع کائنات اور اس میں بیشمار مخلوق پیدا فرمانے والا خالق کیا اس بات پہ قادر نہیں ہوسکتا کہ ان کو پھر سے پیدا کردے یقیناً وہ جتنی بار چاہے ایسا کرسکتا ہے وہ قادر ہے ہر طرح کی تخلیق پر اور اس کے علم میں ہے ہر ذرہ اسے پیدا کرنے کے لیے صرف حکم دینا ہوتا ہے کہ دنیا سے معدوم شے اس کے علم میں حاضر ہے خود اسی کو حکم دے دیتا ہے جب چاہے کہ ہوجا اور وہ بلا تاخیر ہوجاتی ہے۔ اور اس کی ذات ہر کمی سے بالا تر اور پاک ہے ہرچیز کی حکمرانی اسی کے دست قدرت میں ہے ہر ذرہ اسی کے حکم کے تابع ہے اور ہر ایک کو واپس اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔