36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 36:33–50

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے مردہ زمین ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایاسو اس میں سے وہ کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں چشمے جاری فرمائے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا۔ تو کیا یہ شکر نہیں کرتے ؟

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کو یہ نہیں جانتے سب کے جوڑے پیدا فرمائے

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا رہتا ہے یہ غالب (اور) علیم کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کے لئے منزلیں مقرر فرمائیں یہاں تک کہ گھٹتے گھٹتے (کھجور کی) پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا فرمائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو کوئی ان کا فریادرس ہو اور نہ ان کو خلاصی ملے

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری رحمت ہے اور ایک مدت تک ان کو فائدہ دینا (منظور) ہے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس (عذاب) سے ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کفار ایمان والوں سے (یوں) کہتے ہیں کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانا دیں جن کو اگر اللہ چاہیں تو (بہت کچھ) کھانے کو دے دیں ؟ تم لوگ تو صریح غلطی میں (پڑے) ہو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ لوگ بس ایک سخت چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو آپکڑے گی اور وہ سب باہم لڑ جھگڑ رہے ہوں گے

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاسکیں گے

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے کھجوروں اور انگوروں کے باغات ہیں جن کے پھلوں سے یہ لذیذ غذا حاصل کرتے ہیں اور انہیں پھلوں کو ملا کر کبھی پکا کر اور کبھی کسی اور طرح سے یہ کس قدر لذیذغذائیں تیار کرتے ہیں کیا یہ نعمتیں اور ان کے استعمال کا شعور نیز فرصت و مہلت اور لذت حاصل کرنے کی طاقت جس نے دی ہے اس کا شکر نہ کیا جائے گا ؟ یہ کیوں اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ پاک ہے اس کی قدرت کاملہ میں کسی طرح کی کمی کا شائبہ تک نہیں اس نے بیشمار قسم کی مخلوق پیدا فرما دی ہے جن کے حلیے قدوقامت رنگ ، خصوصیات مختلف کوئی گن نہیں سکتا پھر ہر مخلوق کے اندر ایک نظام جو الگ ایک جہان ہے نباتات ہی کو دیکھو جو زمین سے اگتی ہے اس کا ایک ایک پتا پھل پھول یا وہ ذرات جو اس کے وجود میں شامل ہیں آگے ان سب کا اپنا ایک جہان ہے ایک ذرے میں کروڑوں ایٹم اور ہر ایٹم میں ایک الگ نظام موجود ہے۔ خود ان کے اپنے اجسام کے اندر۔ انسان سب ایک ہیں۔ ناک آنکھ کان ہاتھ پاؤں سب کے ہیں مگر اربوں انسانوں میں کوئی ایک کسی دوسرے سے نہیں ملتا پھر سب کی عقل شعور اور فکر الگ زندگی الگ صحت جدا علم و عمل اپنا اپنا اور پھر ان کے اندر ایک ایک خلیے میں الگ الگ جہان آباد ہیں اور کتنی ایسی مخلوق ہے جس تک انسانی نگاہ پہنچ ہی نہیں پائی ایک بہت بڑی نشانی رات کی ہے کہ اصل جہان تاریک ہے اللہ کی قدرت کاملہ نے سیارگان کو پیدا فرما کر اس میں دن کی روشنی بھیج دی جب وہ کھینچ لیتا ہے تو کہتے ہیں رات ہوگئی وار یہ شب و روز مھض اندھیرے اور روشنی کا کھیل ہیں بلکہ سورج اپنے مقرر شدہ مقام تک پہنچنے کے سفر پر ہے کہ اس رات دن کے کھیل نے ہر شے کی عمر ، پیدائش اور موت کے اوقات کو اس تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو اپنے مقررہ انجام کی طرف یعنی یوم حشر کی طرف بڑھ رہا ہے یہ سفر اور اس پر بغیر کسی لمحہ کے فرق کے چلنا سورج کی مجبوری ہے کہ اس کے لیے اللہ نے جو بہت غلبہ رکھنے والا ہے یہ مقرر کردیا ہے یہاں پر مفسرین کرام نے سورج کے کچلنے یا ساکن ہونے کے فلسفے پر بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر بےغبار بات یہی ہے کہ قرآن حکیم کا مضوع سائنس میں اصلاح خلق ہے جس کا تعلق قیامت سے ایمان پر بھی ہے تو سورج کا طلوع غروب جس طرح بیشمار اشیاء اور جانداروں کی تخلیق کا سبب اور ان کے دنیا میں آنے کا وقت لانے کا سبب ہے ایسے ہی ان کے وقت پورا کرکے رخصت کی گھڑی لانے کا سبب بھی ہے اور یہ عمل ہر آن قیامت قیامت کو قریب تر کر رہا ہے۔ یہی حال چاند کا ہے کہ اس کی منازل بھی متعین ہیں ہر منزل کا نتیجہ یہی ہے کہ مخلوق کی آمدورفت کو متاثر کر رہی ہے ہاں وہ گھٹتا بڑھتا بھی ہے کہ گھٹتے گھٹے ایک خشک سی ٹہنی سا ہوجاتا ہے اور پھر نئے سرے سے طلوع ہو کر بڑھنے لگ جاتا ہے۔ شمس و قمر کی ان منازل یا حرکات پر ایک پورے علم کی بنیاد رکھی گئی ہے جسے علم نجوم کہا جاتا ہے جہلا نے اس کے بہت سے اثرات مان رکھے ہیں جبکہ دوسرا فریق اسے کفر و شرک تک کہنے میں باک محسوس نہیں کرتا حق یہ ہے کہ شمس و قمر کی حرکات کا عالم تخلیق سے تعلق تو اللہ نے طے کردیا اور ہے اگر اگر انسانی عقل نے اس کے اندازے بھانپ لیے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ کسی واقعہ کی سن گن اور کے ظہور پذیر ہونے سے قبل اندازا جان سکیں گے اور بس یہ ممکن نہیں کہ انسان ان کی تاثیر کو بدل دے یا ان کی رفتار کو متاثر کرے اس کی مثال صرف ایک نباض کی ہے کہ نبض پر ہاتھ رکھ کر جسم کی صحت وبیماری یا اس کی وجوہات کا اندازہ کرلیتا ہے جو ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور نہیں بھی۔ ایک بہترین مثال ہلاکو خان کے دربارکا واقعہ ہے جب اس نے درباری نجومی پہ سوال کیا کہ کیا علم نجوم کے سبب آنے والے کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکا یا تبدیل کیا جاسکتا ہے اس نے کہا ممکن نہیں تو بولا اس علم کا فائدہ ؟ اس نے عرض کیا کل جب آپ دربار کریں تو کسی کو حکم دیجیے بالائی منزل سے تانبے کا تھال دربار میں پھینک دے پھر جواب دے سکوں گا دوسرے دن اہل دربار تو بادشاہ کے جلال میں کھوئے تھے کہ ایک زوردار گونچ سے تھال گرا سب پریشان ہوگئے بہادروں نے تلواریں سونت لیں کمزور دل بھاگ نکلے جبکہ بادشاہ اور نجومی پرسکون تھے تو اس نے عرض کیا یہ حاصل ہے کہ اگر کسی حادثے کا امکان ذہن میں ہو تو اس کا وقوع پریشانی پیدا نہیں کرتا اور بس۔ ان کے اوقات اس قدر سختی سے مقرر ہیں کہ اگر ان میں لمحوں کا فرق آتا تو صدیوں میں دنیا تباہ ہوجاتی مگر سورج کی جرات نہیں کہ چاند کو جا پکڑے یا دن رات کو عبور کرجائے ہرگز نہیں جبکہ سب سیارے اسی ایک فضا میں تیر رہے ہیں مگر نہ ٹکراتے ہیں نہ اوقات تدبیل کرتے ہیں اپنی مقررہ منزل کو گامزن ہیں۔ کیا انہیں اس میں بھی قدرت کا کرشمہ نظر نہیں آتا کہ ہر طرف سمندروں کی میلوں گہرائیاں پھیلا کر ایک محفوظ کشتی کی طرح زمین کو اس مٰں سجا دیا ہے جس پر نسل ا انسانی آبادی کے مزے لے رہی ہے اسی طرح جانداروں کے علاوہ بےجان مشینوں کو بھی ان کی سواری کے لیے بنا دیا ہے۔ اللہ نے عقل دی جس سے انسان نے ایجادات کیں۔ اللہ نے ہر شے پیدا کی جسے جوڑ کر سواری کے اسباب لاری کا ریل سمندری اور ہوائی جہاز یہ سب کچھ بنا لیا اگر اللہ چاہے تو ساری زمین کو غرق کردے وہ چاہے تو ان کی سواریوں کو تباہ کردے تو اس کے مقابلے میں تو کوئی ان کی فریاد بھی نہیں سن سکتا اور نہ مدد ہی کرکے چھڑا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی رحم کرے اور کام چلتا ہے مگر کب تک کہ اس نے بھی ایک آخری لمحہ مقرر کردیا ہے لہذا ہر شخص اللہ کی دی ہوئی فرصے کے لمحات میں دنیا سے استفادہ بھی کرسکتا ہے۔ یہی بات جب ان سے کہی جائے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو جو دنیا کی زندگی مٰں بھی آسکتا ہے اور کفر پر مرنے سے آخرت میں تو ضرور سامنا ہوگا۔ آج حق قبول کرلو تو اللہ کی رحمت کو پاسکتے ہو اور اس کے غضب سے بچ سکتے ہو مگر ایسے بدبخت کہ جب بھی کوئی دلیل پیش کی جائے اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ دولت اور نعمتیں اللہ نے بخشی ہیں ان میں سے اسی کی راہ پر خرچ کرو تو کفار مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھلا جن کو اللہ نے رزق نہیں دیا ان کو ہم کیوں کھانے پینے کو دیں تم لوگ جو ہمیں کھانے پینے کی دعوت دے رہے ہو غلط کر رہے ہو حالانکہ بات درست رزاق اللہ ہی ہے اور اس نے مخلوق کا رزق اسباب کے تابع مخلوق تک پہنچایا ہے لہذا اگر کوئی امیر کسی فقیر کو دیتا ہے یا مالک مزدور کو اور نوکر کو تو رزق اللہ کی طرف سے تھا جیسے زمین سے اناج درخت سے پھل دیتا ہے ایسے اس کی جیب سے انہیں سکے عطا کردئیے اور انہیں اس کا کام کرنا پڑا یہ نظام عالم کے چلنے کا سبب ہے لہذا جو کسی کا حق روکتا ہے وہ گویا نظام عالم کی تباہی کا سبب بن رہا ہے نیز یہاں حضرت استاذی المکرم (رح) کا ایک جمہ حاشیے پر درج ہے جسے نقل کرنا سعادت ہے۔ کفار کا انفاق غیر پر تبرع و احسان میں داخل ہے جس کا فائدہ کفار کو بھی ہوتا ہے۔ سبحان اللہ کیا خوبصور تتحقیق ہے واقعی کبھی تو کافر کو اس کے بدلے ایمان نصیب ہوجاتا ہے ورنہ دنیا کا فائدہ ضرور ہوتا ہے ۔ اور کہتے ہیں یار یہ قیامت قیامت سے ڈراتے رہتے ہو کہاں ہے وہ قیامت اگر تمہاری بات سچ ہے تو آ کیوں نہیں چکتی۔ مگر انہیں تکلیف نہیں کرنی پڑے گی وہ اپنے وقت مقررہ پر خود آجائے گی اور ان کی حیثیت تو یہ ہے کہ پہلی چنگھاڑ پر ہی چوکڑی بھول جائیں گے اور ایک دوسرے سے لڑیں گے کہ مجھے تو تیری باتوں نے کفر پہ لگایا اور تو میری تباہی کا سبب ہے مگر فرصت گزر چکی ہوگی کسی کے پاس وقت نہ ہوگا کہ کچھ کہہ ہی مرے یا کسی سے مل تو لے اپنے پیاروں کے پاس واپس پہنچ سکے ہرگز نہیں۔ بس ایک کڑک ہوگی جو سب کچھ تباہ کردے گی۔
Ayahs 36:51–67

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو یہ فوراً قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے وائے ہماری کم بختی ! ہم کو ہماری قبروں سے کس نے اٹھا دیا ؟ یہ وہی تو ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور پیغمبروں نے سچ فرمایا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس وہ ایک زور کی آواز ہوگی پھر اس وقت سب کے سب جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

سو اس روز کسی شخص پر ذرا زیادتی نہ ہوگی اور بس ان ہی کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک اہل جنت اس دن اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں (ہر طرح کے) میوے ہوں گے اور وہ جو مانگیں گے ملے گا

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

(ان کو) مہربان پروردگار کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرمو ! آج تم (اہل ایمان سے) الگ ہوجاؤ

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) ! کیا ہم نے تم کو تاکید نہ کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا ، یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور بیشک اس (شیطان) نے تم میں بہت سی مخلوق کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) کفر کے بدلے میں آج اس میں داخل ہوجاؤ

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ یہ لوگ کیا کرتے تھے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو (دنیا میں ہی) ان کی آنکھوں کو ملیامیٹ کردیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑے پھرتے پھر ان کو کہاں نظر آتا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی صورتیں بدل ڈالتے اس حالت سے کہ یہ جہاں ہیں وہیں رہ جاتے تو نہ آگے چل سکتے اور نہ پیچھے کو لوٹ سکتے

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین کہہ دیں گے کہ یہی وہ گھڑی ہے جس کا وعدہ اس اللہ نے جس کی رحمت بےپایاں ہے تم دنیا میں مستفید ہوتے رہے کیا تھا اور جو خبر انبیاء و رسل دیتے تھے وہی سچ تھی آج سامنے آگئی اور یہ سب کچھ کرنے کے لیے یعنی ساری مخلوق کو جمع کرنے کے لیے کوئی لمبا اہتمام نہیں ہوگا محض صور پھونکے جانے کی آواز سب کو زندہ بھی کردے گی اور پکڑ کر اللہ کے حضور کھڑے بھی کردئیے جائیں گے۔ تو ارشاد ہوگا کہ یاد رکھو آج کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی کہ یہ دنیا کی یا انسانی عدالت نہیں کہ کبھی عمدا اور کبھی بھولے سے کسی سے زیادتی ہوجائے یہاں ہرگز کسی کے ساتھ بھی کوئی زیادتی نہ ہوگی ہاں تمہارے ہر عمل کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم نے خود اپنی پسند سے کیا وہ بھگتنا ہوگا۔ اس گھڑی جب یہ ہیبت ناک منظر ہوگا اور لوگ تڑپ رہے ہوں گے اہل جنت یعنی مومن اور اطاعت گزار بندے اس سب حال سے الگ بڑے مزے سے گپ شپ کر رہے ہوں گے جیسے وہ لمبی مسافت طے کرکے منزل پر پہنچ کر سفر اور صعوبت سفر سے سبکدوش ہو کر آپس میں ہنس کھیل رہے ہوں وہ ان کی بیویاں مزیدار سایہ میں تختوں پر گاؤ تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ یاد رہے بیویاں بھی مومن اور اطاعت گزار ہوں گی کہ یہ سب لوگ اصحب الجنۃ یعنی جنت کے مستحق لوگ ہوں گے اور کھانا پینا پھل میوے یا جو مانگیں گے یا چاہیں گے وہاں حاضر کیا جائے گا اور سب سے بڑی نعمت کہ اللہ بذات خود انہیں سلام کہیں گے کہ اے میرے اطاعت گزار بندے سلامتی ہو تم پر۔ آخرت اور جنت کی سب سے بڑی نعمت : آخرت کی نعمتوں میں میدان حشر کی ہیبت ناکی سے پناہ مل جانا پھر نجات پاجانا اور وہ بھی ایسی کہ لوگ حساب کے لیے پکڑے آئیں اور یہ بیٹھے گپ شپ کر رہے ہوں اور کھا پی رہے ہوں بہت بڑی نعمتیں ہیں مگر سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی اس کا خطاب اور اس کا دیدار ہوگا اس کی قدر عام مومن کو وہاں پہنچ کر معلوم ہوگی جبکہ دنیا میں انبیاء جانتے ہیں یا ولی اللہ اپنی حیثیت اور مقام کے ایک حد تک اس کی لذت سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب سے پہلے اعلان کردیا جائے گا کہ اے گناہگارو یا عظمت باری کو تسلیم نہ کرنے والو آج کے روز اللہ کے اطاعت گزار بندوں سے الگ ہوجاؤ آج یوم حساب ہے اور سب سے ان کے اس حال کے مطابق سلوک ہوگا جو انہوں نے دنیا میں اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ اے اولاد آدم آج کی عذر معذرت کا کیا معنی کیا تمہیں دنیا میں بار بار نہ کہا گیا کہ شیطان کی عبادت ہرگز نہ کرنا کہ یہ تمہارا دشمن ہے تمہیں دھوکا دے کر اپنی اطاعت کروائے گا اور اطاعت ہی عبادت ہے اگر اللہ کے حکم کے خلاف کسی کی بھی بات مانی تو گویا اس کی عبادت کی اور بالآخر یہ شیطان کی عبادت ہے۔ جب عبادت کے لائق صرف اور صرف ہماری ذات ہے۔ صرف اور صرف میری عبادت کرو میری اطاعت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے مگر شیطان نے تم میں سے ایک جم غفیر کو گمراہ کردیا اور اپنی باتوں پہ لگا لیا کیا تم اتنا سمجھنے کی تکلیف بھی نہ کرسکے اور اس کے اشاروں پہ چلتے رہے۔ اب دیکھو یہ دوزخ سامنے ہے جس کے عذاب سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا اور ارتکاب کفر پر جس کا وعدہ کیا گیا تھا مگر تم باز نہ آئے تو اپنے کفر کے سبب اب جہنم میں گھس جاؤ اور بھگتو۔ تب چلائیں گے کہ ہم ایسے تو نہ تھے ہم نے ایسا تو نہیں کیا تو ان کے مونہوں پہ مہر کردی جائے گی کہ بات ہی نہ کرسکیں اور نہ شور ڈالیں پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں یعنی اعضاء جسد کو قوت گویائی عطا کردی جائے گی تو وہ ہم سے ہمکلام ہو کر ان کے ایک ایک کرتوت کا کچا چٹھہ کھول دیں گے۔ یہ تو ہمارا کرم ہے کہ یہ دنیا میں دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں ورنہ اگر ہم چاہیں تو ان کے کفر کے بدلے دنیا میں انہیں اس حال میں پہنچا دیں کہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بھی مستفید نہ ہوسکیں جیسے آنکھیں مسخ ہی کردیں تو کہاں سے دیکھ سکیں گے یا انہیں سارے کا سارا ہی مسخ کرکے محض ایک زندہ لاش بنا دیں کہ دیکھ سکیں نہ چل پھر سکیں تو یہ کیا کرلیں گے۔