33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 33:41–52

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر بہت کثرت سے کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح اور شام (علی الدوام) اس کی پاکی بیان کرو

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ اور وہ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ (اس شان کا) پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہ ہوں گے اور (ایمان والوں کے لئے) خوشخبری دینے والے اور (کافروں کے لئے) ڈرانے والے ہیں

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور (سب کو) اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے اور روشن چراغ ہیں

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور آپ کافروں اور منافقوں کی بات مت مانیے اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کی پرواہ نہ کیجئے اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ ہی کار ساز کافی ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو پس ان کو کچھ متاع (مال) دے دو اور ان کو اچھے طریقے سے رخصت کردو

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر (ﷺ) ! آپ کے لئے ہم نے آپ کی (یہ) بیبیاں جن کو آپ ان کا مہر دے چکے ہیں حلال فرمائیں ہیں اور آپ کی لونڈیاں جو اللہ نے آپ کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموؤں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی اور وہ ایمان والی عورت (بھی) جو بلا عوض اپنے آپ کو پیغمبر کو دے دے بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ سب آپ کے لئے خاص کیے گئے ہیں تمام ایمان والوں کے لئے نہیں۔ ہم کو معلوم ہے جو (احکام) ہم نے ان کی بیبیوں اور لونڈیوں کے بارے میں ان پر مقرر کردیئے ہیں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی (واقع) نہ ہو۔ اور اللہ تو بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

ان میں سے آپ جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو دور کر رکھا تھا ان میں سے پھر کسی کو طلب فرمائیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔ اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ آزر وہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کے دے دیں گے اس پر سب راضی رہیں گی اور اللہ تمہارے دلوں کی باتیں جانتے ہیں اور اللہ جاننے والے بردبار ہیں

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ آپ ان (موجودہ بیبیوں) کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں اور اگرچہ آپ کو ان کا حسن بھلا بھی لگے ہاں مگر جو آپ کی مملوکہ ہوں (ان میں حرج نہیں) ۔ اور اللہ ہر چیز (کی حقیقت) پر پورے نگران ہیں

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس کے لیے طاہر اور باوضو ہونا شرط ہے ہر وقت ہر حال میں ذکر بکثرت کرنے کا حکم ہے اس لیے اس کے ترک میں انسان کا کوئی عذر مسموع نہیں بجز اس کے کہ عقل و ھو اس ہی نہ رہیں بےہوش ہوجائیں اس کے علاوہ دوسری عبادات میں بیماری و مجبوری کے حالات میں انسان کو معذور قرار دے کر عبادت میں اختصار اور کمی یا معافی کی رخصتیں بھی دی ہیں مگر ذکر اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی شرط نہیں رکھی اس لیے اس کے ترک میں کوئی عذر مسموع نہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تم پر مسلسل رحمت فرماتا ہے اور اللہ کے فرشتے تمہارے حق میں مسلسل دعا کرتے ہیں تاکہ تم ظلمت یعنی اللہ کی دوری سے نکل کر نور اور قرب الہی میں آسکو اور اللہ ایمان والوں پہ بہت زیادہ مہربان ہے یعنی اس کی رحمت مسلسل برستی ہے سمیٹنے کے لیے ذرا دوام چاہیے۔ اور جب ایک دوسرے سے ملیں گے یا اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو سارا عالم پریشان ہوگا مگر ان لوگوں کو خود رب جلیل بھی السلام علیکم فرمائیں گے اور یہ ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور ان کے لیے اللہ نے بہت خوبصور بدلہ تیار رکھا ہوا ہے یعنی صرف ان کے پہنچنے کی دیر ہے۔ آپ ﷺ کے اوصاف : اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ میدان حشر میں صرف وہ عمل مقبول ہوگا جس پر آپ گواہ ہوں گے کہ یہ میں نے کرنے کا حکم دیا تھا اور آپ کو وہ وسعت نظر بخشی ہے کہ نیکی کے انجام کی بشارت اور برائی کے نتیجہ کا بھیانک چہرہ آپ دوسروں پہ بیان کریں اور آپ کی شان ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دیں یعنی آپ کی سنت کے خلاف اگر دعوت ہوگی تو حق نہ ہوگی کہ یہ آپ ﷺ کا منصب ہے اور آپ کو روشن سورج فرمایا جو روشنی بکھیرتا ہے۔ سراج منیر : مفسرین کرام کے مطابق جس طرح دنیا کا سارا نظام سورج کی روشنی اور تپش سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا مومنین کے قلوب آپ کے قلب اطہر سے قیامت تک روشنی پاتے رہیں گے تمام انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں مگر آپ ﷺ صرف زندہ ہی نہیں اس وقت بھی اور قیامت تک کے لیے رسول ہیں اور فیض رسالت کا سورج روشن بھی ہے اور روشنی بکھیر بھی رہا ہے جو مومنین کے قلوب حاصل کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے تاقیام قیامت۔ اور جو جتنی محبت قلبی سے سرفراز ہوگا اتنے ہی انوارات پاتا رہے گا۔ آپ مومنین کو جن کے قلوب روشن منور اور ذاکر ہیں یہ خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑی اور عظیم و کبیر عزت و عظمت ہے۔ اور کفار کی باتوں کی کچھ پرواہ مت کیجیے۔ جو ایذا وہ پہنچانا چاہتے ہیں گستاخی کرکے پہنچا لینے دیجیے آپ اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ بہترین کارساز و وکیل ہے آپ کی طرف سے بھگت لے گا اور جہاں تک نکاح و طلاق کی بات ہے تو یہ زندگی کا حصہ ہے لہذا اگر تم لوگوں کو ایسی حالت میں طلاق دینے کی نوبت آئے کہ عورت سے نکاح کے بعد خلوت نہ ہوئی ہو تو ان پر کوئی عدت نہیں ۔ یعنی وہ تین حیض کا عرصہ جو طلاق کے بعد عورت کو خاوند کے گھر گزارنا اور خاوند کو اخراجات برداشت کرنا ہوتے ہیں کہ نسب کی تحقیق رہے یہاں اس کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دے دو کم از کم وہ لباس جو ضروری استعمال ہوتا ہے کہ احسان رہے۔ متعہ : یہاں خلوت ثابت نہیں مگر کچھ بطور احسان دینے کو متعہ سے تعبیر فرمایا اور روافض نے اسے بدکاری کی اجرت بنا لیا۔ اور اچھے طریقے سے رخصت کردو کہ طلاق اچھی بات نہیں لیکن اگر بڑے فساد کو مٹانے کے لیے ضروری ہو تو پھر انداز ایسا ہو کہ نیا فساد نہ کھڑا کردے۔ اے نبی آپ کے لیے وہ بیویاں حلال ہیں جن کا آپ مہر اد اکر چکے ہیں یعنی جو آپ کے نکاح میں موجود ہیں کہ اس وقت آپ کے نکاح میں چار سے زیادہ خواتین تھیں جبکہ عام مومن چار سے زیادہ نہیں رکھ سکتا۔ دوسری خصوصیت کہ جو آپ کی ملکیت اور لونڈیاں ہیں ان میں خصوصیت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ملکیت پا لونڈی پھر کسی دوسرے پر حلال نہیں۔ یا اللہ نے فرمایا جو فئی ہے (وہ خادمہ یا لونڈی جو آپ کو کسی نے تحفہ ارسال کی ہو) وہ بھی خاص آپ کے لیے ہے آپ کے بعد کسی دوسرے پر ھلال نہ ہوگی۔ اور چچا پھوپھی ماموں یا خالہ زاد وہ خواتین جنہوں نے ہجرت کی ان سے آپ چاہیں تو نکاح فرما سکتے ہیں جو ہجرت نہیں کرسکیں ان سے آپ کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں یہ آپ کی خصوصیت ہے اور وہ خاتون امت میں سے جو بغیر مہر کے آپ سے نکاح کرنا چاہے تو درست ہے اور کسی کا نکاح بغیر مہر کے نہ ہوگا بلکہ نکاح کرنے پر شرعی مہر واجب ہوجائے گا اور اللہ کو علم ہے جو اس نے سب پر عورتوں کے معاملہ میں مقرر کردیا اور جو حکم کنیزوں کے حق میں ویا اور آپ پر بھی کہ آپ کے لیے مشکلات اور تنگی کا باعث نہ بن سکے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے نیز یہ بھی آپ کی خصوصیت ہے کہ جس بیوی کو چاہیں قریب کریں یا کسی کو پیچھے رکھیں عام مومنین کے خلاف کہ ان کے لیے تمام بیویوں میں ہر طرح کے سلوک میں برابری شرط ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ آپ جس زوجہ پر کرم فرمائیں اسے دلی مسرت ہو اور وہ اپنا حق نہ سمجھے آپ کا احسان سمجھے اور انہیں کوئی دکھ نہ ہو بلکہ جسے آپ جو عطا کردیں سب کو خوشی ہو کہ اللہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے یعنی اگر یہ سب ان کے حقوق ہوں تو بظاہر خاموش بھی رہیں گی تو دل میں بات آجائے گی جو فیض رسالت سے مانع بن جائے گی۔ لہذا اللہ نے آپ پر احسان بتا کر انہیں خوشی کا موقع بھی بخشا اور امتحان سے محفوظ بھی کردیا کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے علم والا ہے۔ اور اپ کی ازواج کو اللہ نے یہ عظمت بخشی ہے کہ آپ ان کو طلاق دے کر کوئی دوسری خاتون لانا چاہیں خواہ اس کا حسن آپ کو پسند بھی ہو تو اس کی اجازت نہیں سوائے آپ کی ملکیت باندیوں کے اور اللہ ہر شے پر محافظ اور نگہبان ہے۔ بارگاہ نبوی اور تعداد ازواج : اس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں دوسری کتب میں اور مختصرا معارف القرآن میں دیکھی جاسکتی ہے صرف ایک بات عرض کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ کا نکاح پچیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ ؓ سے ہوا اور پچاس برس کی عمر تک آپ ﷺ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ ان کی وفات پر حضرت عائشہ ؓ سے ہوا اور اس کے بعد سب خواتین ریاست اسلامی کی فلاح اور قبائل کے ایمان کا باعث بنتی گئیں۔ جہاں تک باندیوں کا معاملہ ہے تو یہ اعزاز صرف اسلام کو حاصل ہے کہ مفتوحہ خواتین کو ایک وقت میں ایک مسلم رکھ سکتا ہے اور اس کی بھی کڑی شرائط اور ان کے حقوق ہیں جبکہ اعتراض کرنے والی اقوام کا کردار اس بارہ میں بہت بھیانک ہے۔
Ayahs 33:53–58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو ! پیغمبر کے گھروں میں مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے (اور) اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے و لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ پھر جب کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ بیشک یہ بات پیغمبر کو ناگوار گزرتی ہے پھر وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتے۔ اور جب تم ان (پیغمبروں کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو۔ یہ بات (ہمیشہ کے لئے) تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اور تم کو شایان نہیں کہ اللہ کے پیغمبر کو ایذا پہنچاؤ اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی بھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا) کام ہے

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ تو بیشک اللہ ہر شے کو جاننے والے ہیں

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان (پیغمبر کی بیبیوں) پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں کے بارے میں اور نہ اپنے بیٹوں کے بارے میں اور نہ اپنے بھائیوں کے بارے میں اور نہ اپنے بھتیجوں کے بارے میں اور نہ اپنے بھانجوں کے بارے میں اور نہ اپنی عورتوں اور نہ اپنی کنیزوں کے بارے میں اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہیں

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں پیغمبر پر۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ (گناہ) کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو یقینا انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر رکھا

آیات 53 تا 58 اسرارومعارف اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں بلا اجازت داخل مت ہوا کرو اگر آپ ﷺ کھانے کی دعوت پہ بلائیں تو بھی ادب یہ ہے کہ عین وقت پر جاؤ کہ وہاں کھانے کے انتظار میں بیٹھنا نہ پڑے اور ادھر ادھر مت دیکھو نہایت ادب و احترام سے جاؤ اور کھانا کھا کر فورا رخصت چاہو باتوں میں لگ کر مت بیٹھ رہو کہ یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں مگر اللہ ایسی باتوں کو صاف بیان فرما دیتا ہے کہ یہ فطری ناگواری بھی تمہارے لیے برکات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے اور حق بات اور سیدھا راستہ یہی ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے۔ ازواج النبی ﷺ سے بات کرنا ہو یا کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو کہ یہ پردہ شوعی تمہارے قلوب کے لیے بھی بہت اچھی چیز ہے اور ان کے قلوب کے لیے بھی بہت بہتر ہے اور یہ بےپردگی طبعا بھی آپ ﷺ کو پسند نہیں اس سے رسول اللہ کو ایذا پہنچتی ہے اور مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ ان کی بات سے آپ ﷺ کو ایذا پہنچے اور آپ ﷺ کی خصوصیت ہے کہ جو خاتون آپ کی اہلیہ بن گئی آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی کسی کے لیے اس کے ساتھ نکاح کرنا نہصرف یہ کہ جائز نہیں بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بہت ہی بڑا جرم ہے۔ خواتین کا پردہ : اسی آیت کے تحت پردہ کے احکام اور تفصیل تفاسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں اور خصوصا آج کے عہد کے لیے اردو تفاسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں اور خصوصا آج کے عہد کے لیے اردو تفاسیر میں معارف القرآن بہت بہتر ہے یہاں صرف اتنا عرض کردینا کافی ہے کہ خواتین کا مردوں سے بےحجابانہ ملنا اس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کہ پردہ کے احکام ازواج مطہرات سے شروع فرمائے گئے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی مجلس میں یا گھر سے نہ نکلے اگر نکلنا ضروری ہو تو بلاضرورت باتیں نہ کرے۔ عورت کی آواز اور بات کرنے کے انداز کا بھی پردہ ہے زیورات کی نمائش نہ کرے بلکہ کھلی چادر لے کر بہتر ہے کہ منہ پر بھی ایک حد تک پردہ کی طرح لٹکا لے یا کپڑے کا حجاب بنا لے اس کے نہ ہونے کے نقصانات کے لیے مغرب کا آزاد معاشرہ اور مشرق کے بےپردہ معاشرے کے حالات کا مطالعہ عبرت کے لیے کافی ہے۔ تم کسی بات کو ظاہر کرو یا چھپا کر رکھو اللہ ہر بات سے واقف ہے ہاں حکم میں استثنا بھی ہے کہ اپنے باپوں اولاد بھائیوں اور ان کی اولاد بہنوں کی اولاد یا خواتین سے یا لونڈیوں اور نوکرانیوں سے پردہ نہ ہوگا اور اے ایمان لانے والی عورتو پردہ کو فضول نہ سمجھ لینا بلکہ اس پر عمل کرنے میں اللہ کا خوف کرنا اور اسے پوری طرح سے اپنانا کہ بیشک اللہ ہر شے کو دیکھ رہا ہے۔ اور یقینا اللہ ہر آن اپنے نبی پر اپنی رحمتوں کا نزول جاری رکھے ہوئے ہے اور اللہ کے فرشتے بھی ہر گھڑی اللہ سے نزول رحمت و برکات کے لیے دست بدعا ہیں اور اے ایمان والو تم بھی اپنے نبی کے لیے اللہ سے خوب خوب رحمت طلب کرو اور سلام بھیجا کرو۔ درود پڑھنے کا حکم بھی دوام چاہتا ہے اور عین عبادت میں نماز کا حصہ ہے اور جو مقرر ہے وہی درود مسنون ہے نماز سے خارج الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کے الفاظ روضہ اطہر پر کہنا مسنون ہے دور سے کہنے کی اجازت ہے اللہ پہنچا دیتا ہے اور فرشتے لے جاتے ہیں۔ سب سے بہتر درود وہی ہے جو احادیث میں خود رسول اللہ ﷺ سے بیان ہوئے ہیں کثرت درود ترقی درجات کا سبب ہے اور صلوۃ وسلام انبیاء کے لیے مخصوص ہے صحابہ کے لیے ؓ اور اہل اللہ کے لیے رحمت اللہ ہی قرآن کا انداز بیان ہے۔ غیر نبی کو (علیہ السلام) نہ کہا جائے ویسے دعائیہ کلمات کہنا درست ہے۔ روافض ملعون ہے : جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں کہ اللہ کو ایذا پہنچانا ہی ہے کہ اس کے رسول کو ایذا پہنچائی جائے جیسے منافقین نے طعن کر کے پہنچائی یا آپ پر اور آپ کے اہل خانہ یا صحابہ کرام پر طعن کیا جائے یا انہیں گالیاں دی جائیں تو ایسے کرنے والے نہ صرف کافر ہوں گے بلکہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے بہت ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے جس طرح روافض ازواج مطہرات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرتے ہیں وہ اس حکم کا مصداق ہو کر کافر بھی ہیں اور ملعون بھی اور یہ کہنا کہ کوئی شیعہ ایسا بھی ہوگا جو یہ جرم نہ کرتا ہوگا اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش ہے۔ نبی علیہ الصلوۃ اولسلام آپ کے اہل خانہ اور صحابہ کرام کی عظمت تو الگ بات ہے بلاوجہ کسی بھی مسلمان مرد یا خاتون پر طعن کرنا یا ایسے الزامات لگانا جو گناہ اس سے سرزد نہ ہوا ہو ایک بہتان ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔
Ayahs 33:59–68

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے فرمادیجئے کہ (باہر نکلیں تو) اپنے (مونہوں) پر اپنی تھوڑی سی چادریں لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ قریب تر ہے کہ یہ امر ان کی پہچان کا باعث ہوگا تاکہ ان کو کوئی ایذا نہ دی جائے اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر یہ منافق اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ (منورہ) میں (بری بری) خبریں اڑایا کرتے ہیں باز نہ آئے تو ہم ضرور آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر یہ آپ کے پڑوس میں کم ہی رہ پائیں گے

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے ، پکڑے گئے اور بےدریغ قتل کردیئے گئے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں میں بھی یہی دستور رکھا ہے جو پہلے ہوگزرے ہیں اور آپ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی ہرگز نہ پائیں گے

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ کب آئے گی ؟ ) فرما دیجئے کہ یقینا اس کا علم میرے اللہ کے پاس ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کررکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہرے دوزخ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے (تو) کہیں گے اے کاش ! ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور پیغمبر کی اطاعت کی ہوتی

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! بیشک ہم ن یاپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی سو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کیا تھا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ان کو دوگنا عذاب دیجئے اور ان پر بڑی لعنت کیجئے

آیات 59 تا 68 اسرار ومعارف آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا : اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین میں ممتاز رہے اور کوئی اوباش آدمی چھیڑ کر کے اسے ایذا نہ پہنچائے جو اس حکم کے نزول سے قبل ہوچکا اللہ معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ منافق اور ایسے بدنصیب جن کے دل بیمار ہیں اور صرف زبان اسلام کا دعوی کرتی ہے اگر اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے کہ کبھی بہتان تراشی کرتے ہیں کبھی کسی دشمن کے حملہ کی افواہ اڑا دیتے ہیں اور یوں پورے شہر کو پریشان کرتے ہیں تو آپ کو اور آپ کے خدام کو ان پر مسلط کردیا جائے گا اور پھر وہ اس شہر میں نہ رہنے پائیں گے بلکہ ان کی پکڑ دھکڑ ہوگی اور جہاں ہاتھ آئے قتل کیے جائیں گے۔ مرتد کی سزا قتل ہے : اسلامی ریاست میں کافر ذمی بن کر رہ سکتا ہے مگر منافق جب تک نفاق چھپا رہے مسلمان مانا جاتا ہے جب شعائر اسلام کی کھلم کھلا مخالفت کرنے لگے یا ایذا رسول کا سبب بننے لگے تو پھر اس کا کفر ظاہر ہوگیا اسے مرتد شمار کیا جائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے اور ان پر بھی ایسے ہی گرفت آئے گی جیسے ان سے پہلوں پہ آئی تھی کہ اللہ کی سنت یہی ہے اور اللہ کی سنت یعنی فطرت کے طریقے بدلا نہیں کرتے۔ یہ آپ سے قیام قیامت کا وقت پاچھتے ہیں کہ دیجیے یہ کام اللہ کا ہے اور وہی خوب جانتا ہے مجھے حساب نہیں لینا بلکہ مجھے تو قیامت کی خبر اور اللہ کا حکم پہنچانا ہے آپ کو کیا خبر کہ قیامت کہیں قریب ہی ہو فورا واقع ہوجائے مگر قیامت میں کافر کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں اللہ کافروں پر لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے آگ کا عذاب بھڑکا رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور انہیں کوئی دوست معاون یا مددگار نصیب نہ ہوگا۔ جب یہ ان متکبرانہ چہروں کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے تو چیخ چیخ کر کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور اللہ کے رسول کی غلامی اختیار کی ہوتی۔ اور کہیں گے اے اللہ ہم نے اپنے بڑوں اور لیڈروں کی پیروی کی تو انہوں نے تیرے راستے بھٹکا دیا۔
Ayahs 33:69–73

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے (کچھ تہمتیں تراش کر) موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی تھی۔ سو اللہ نے ان کو اس چیز سے جو وہ (لوگ) کہتے تھے پاک ثابت فرمادیا اور وہ (موسیٰ (علیہ السلام) ) اللہ کے نزدیک بہت عزت والے تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

(اس کے صلہ میں) وہ (اللہ) تمہارے لئے تمہارے اعمال کو درست فرمائیں گے اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرمائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرے گا سو یقینا وہ بہت بڑی کامیابی کو پہنچے گا

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

یقینا ہم نے یہ امانت (معرفت الٰہی کا شعور) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی سو انہوں نے اس (کی ذمہ داری) کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اپنے ذمہ لے لیا بیشک وہ غلط کار (اور) بےعلم تھا

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دیں اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں پر (رحمت سے) توجہ فرمائیں۔ اور اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

آیات 69 تا 73 اسرارومعارف اے ایمان والو تم ایسے مت ہوجانا یا ایسا رویہ اختیار نہ کرنا جیسا کہ قوم موسیٰ نے کیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ایذا کا سبب بنے تھے کبھی اطاعت نہ کرکے اور کبھی ان پر الزام تراشی کر کے مگر اللہ نے انہیں ان سب باتوں سے بری کردیا فتوحات بھی نصیب ہوئیں الزامات سے بھی بچ گئے اس لیے کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت معزز تھے یعنی نبی تھے اور سب انبیاء بہت معزز ہوتے ہیں۔ اور اے مسلمانوں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی کھری بات کہو کہ سچی بات کہنے والے کو اچھے کردار کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے کہ کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت اور اللہ کے نبی کی غلامی کا حق ادا کیا وہ یقینا بہت بڑی کامیابی حاصل کرگیا۔ یہی تقاضائے انسانیت ہے کہ ازل کو معرفت الہی اور عشق الہی کی امانت آسمانوں جیسی بڑی مخلوق زمین جیسے سیارے اور بڑے بڑے پہاڑوں پر پیش کی گئی تھی مگر انہوں نے اسے قبول کرنے کی جرات نہ کی اور معذرت کرلی مگر انسان نے یہ بوجھ قبول کرلیا کہ انسان بڑا ہی غلط کار اور علم سے محروم ہے کہ فیصلے کرنے میں جلدی کرتا ہے اور ان کے انجام تک جاننے کی سعی نہیں کرتا یہ اس کا مزاج ہے مگر اب جبکہ معرفت الہی کا بوجھ قبول کرچکا تو اسے اپنی غلط روش بھی ترک کرنا ہوگی اور جہالت بھی چھوڑنا ہوگی اور صحیح کردار اور علم و حکمت کے خزینے محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کرکے حاصل کرنا ہوں گے یہ انسان کی ضرورت ہے انسانیت کی ضرورت ہے اور محض زبانی دعوے کرنے والے اور دل سے قبول نہ کرنے والے یا شرک میں مبتلا مرد و خواتین اپنی جہالت اور غلط کاری کے باعث اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے اور ایمان والے مرد و خواتین کی معذرت اللہ قبول فرما کر انہیں سرفراز فرمائیں گے کہ اللہ کریم بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔ الحمد للہ سورة احزاب مکمل ہوئی۔