29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 29:31–44

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تو انہوں (فرشتوں) نے کہا کہ ہم یقینا اس بستی والوں کو ہلا کرنے والے ہیں کیونکہ وہاں کے رہنے والے بڑے ظالم ہیں

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بیشک اس میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں انہوں نے عرض کیا جو وہاں (رہتے) ہیں ہم کو سب معلوم ہے ہم ان کو اور ان کے متعلقین کو بچالیں گے سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان (کے آنے) کی وجہ سے ناخوش اور ان کے سبب تنگ دل ہوئے اور انہوں نے عرض کیا آپ کوئی خوف اور رنج نہ کریں یقینا ہم آپ کو اور آپ کے متعلقین کو بچا لیں گے سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

یقینا ہم اس بستی والوں پر ان کی بدکارگی کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہری نشان (اب تک) رہنے دیئے ان لوگوں کی عبرت کے لئے جو عقل رکھتے ہیں

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے (قومی) بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان کو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ان کے کردار کی وجہ سے ہلاک کردیا) اور یہ (ان کی تباہی) تم کو ان کے رہنے کی جگہوں سے نظر آرہی ہے اور شیطان نے ان کے اعمال (بد) ان کو خوبصورت کرکے دکھائے تو ان کو سیدھے راستے سے روک دیا حالانکہ وہ صاحب نظر لوگ تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ہلاک کردیا) اور یقینا ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کھلی دلیلیں لے کر آئے تھے تو وہ زمین پر مغرور ہوگئے مگر وہ ہمارے قابو سے جانے والے نہ تھے

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزائیں پکڑ لیا۔ سو ان میں سے بعضوں پر تو ہم نے تیز ہوا بھیجی اور بعض کو ہولناک آواز نے آدبوچا اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو ہم نے (پانی میں) غرق کردیا اور اللہ کو شایان نہ تھا کہ ان پر زیادتی کرتے و لیکن وہ (گناہ کرکے) اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کے سا کارساز تجویز کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے کہ وہ بھی (ایک طرح کا) گھر بناتی ہے اور بیشک تمام گھروں سے کمزور مکرڑی کا گھر ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) جانتے

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

جس چیز کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو بیشک اللہ اس کو جانتے ہیں۔ اور وہ غالب ، حکمت والے ہیں

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور ہم ان مثالوں کو لوگوں (کو سمجھانے) کے لئے بیان فرماتے ہیں اور بس علم والے لوگ ہی سمجھتے ہیں

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو درست طور پر پیدا فرمایا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں (بھی) بڑی دلیل ہے

آیات 31 تا 44 اسرارومعارف ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث : اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے محفوظ رہیں گے سوائے ان کی بڑھیا کہ جو پیچھے رپہ جانے والوں کی ساتھی ہے۔ جب وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو وہ ڈر گئے اور ان کا دل بہت پریشان ہوا کہ میرے مہمان ہیں اور یہ لوگ ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کریں گے۔ تب فرشتوں نے کہا کہ آپ کسی طرح کا خوف دل میں نہ لائیں ہم اللہ کے فرشے ہیں اور اب اس قوم کا انجام قریب ہے ہم پ کو اور آپ کے متبعین کو سلامت نکال دیں گے سوائے آپ کی زوجہ کے جو آپ کے ساتھ نہ جاسکے گی۔ اور اس آبادی کے باشندوں پر ہم آسمانی آفت توڑیں گے جو ان کی بدکاری کا نتیجہ ہوگی چناچہ اے مخاطب اس زمین پر ہم نے اب تک ان کے آثار باقی رکھے ہیں کہ جس میں بھی عقل ہو یہاں سے عبرت حاصل کرسکے۔ اور اسی طرح اہل مدین کے ہاں شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جنہوں نے یہی سبق دیا کہ لوگو اللہ کی عبادت اور اطاعت کرو اور دنیا پر فدا ہونے کی بجائے قیامت اور آخرت سے امیدیں وابستہ کرو لہذا روئے زمین پر فساد پھیلاتے ہوئے نہ پھرو مگر انہوں نے حق قبول کرنے سے انکار کیا تو انہیں زلزلہ نے آپکڑا اور اگلی ہی صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے تھے یعنی جائے پناہ ہی تباہی کا مقام قرار پائی۔ اور قوم عاد وثمود کے ٹھکانے تو اب بھی زبان حال سے ان کی حکایت سنا رہے ہیں یعنی ان کے مساکن دیکھ کر ان کے احوال عروج وزوال کا سارا حال کھل جاتا ہے شیطان نے انہیں برائی ہی سجا سنوار کر پیش کی اور جب اس کی طرف متوجہ ہوئے تو سیدھی راہ سے محروم ہوگئے حالانکہ اچھے بھلے دانا اور بینا تھے پاگل تو نہ تھے اور قارون فرعون ہامان سب کا یہی حال ہے کہ دنیا کے لالچ میں اندھے بن گئے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس واضح دلائل لائے تو یہ اکڑ گئے اور روئے زمین پر کفر پھیلانا چاہا مگر اللہ کی گرفت سے بھاگ نہیں سکے اور سب اپنے اپنے جرائم میں دھر لیے گئے۔ ان میں سے تو کچھ پر پتھر برسائے گئے کچھ ایسے تھے جن پر چنگھاڑ مسلط کردی گئی اور کچھ کو زمین میں دنسا کر ہلاک کردیا گیا کچھ طوفانی موجوں میں غرق ہوئے ان میں سے کسی پر بھی اللہ کریم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے برائی اور کفر کا راستہ اپنا کر خود اپنی جان پر ظلم کیا۔ جو لوگ بھی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ان کی مثال تو مکڑی جیسی ہے کہ سمجھتی ہے کہ جالے کی تاروں میں بہت محفوظ ہے حالانکہ سب سے بودا اور کمزور گھر جو نہ ہونے کے برابر ہے وہ مکڑی کا ہی ہے۔ اگر لوگ کچھ بھی علم رکھتے ہوں تو بات بہت واضح ہے۔ اور یہ بات اللہ سے چھپا بھی تو نہیں سکتے اس کے علاوہ جس کو بھی پکاریں اور اللہ کے مقابلے میں جس کی بھی اطاعت کریں وہ تو جانتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے۔ اور وہ غالب ہے جسے چاہے گرفت کرلے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ انہیں مہلت دے رکھی ہے اور یہ اس طرح کی سب مثالیں تمام لوگوں کے لیے پیش کی جاتی ہیں مگر ان چیزوں سے سبق حاصل کرنا انہی لوگوں کو نصیب ہے جو عالم ہوں۔ علماء حق نے یہاں ثابت فرمایا ہے کہ محض کتابیں پڑھ لینا علم نہیں جب تک ان چیزوں پر غور و فکر کر کے وہ شعور اور کیفیت نہ نصیب ہوجائے کہ بندہ اللہ کی اطاعت اختیار کرلے اور اس کی عملی زندگی سدھر جائے کوئی عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق کی ہے اس قدر درست انداز میں فرمائی کہ اہل ایمان کے لیے اسی میں بیشمار دلائل ہیں یعنی کتاب اللہ عالم خلق کی سائنسی تحقیق کا حکم دیتی ہے کہ اس سے عظمت خالق پر دلائل میسر آتے ہیں۔
Ayahs 29:45–51

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

جو کتاب آپ پر وحی کی گئی آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی کیجئے بیشک نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔ اور اللہ کا ذکر (یاد) سب سے بڑا ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتے ہیں

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ نہ کرو مگر بہت موزوں طریقے سے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے زیادتی کریں ، اور یوں کہو کہ ہم اس (کتاب) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو تم پر نازل ہوئیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ تو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور بعض ان لوگوں (مشرکوں) میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور ہماری آیات کے ساتھ کافروں کے علاوہ کوئی (ضد سے) انکار نہیں کرتا

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ایسا ہوتا تو یہ ناحق شناس لوگ شک کرتے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ بہت روشن دلیلیں ہیں ، جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں اور ہماری آیات کا صرف ظالم لوگ ہی (ضد سے) انکار کرتے ہیں

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں ان پر ان کے پروردگار کے پاس سے نشانی (معجزہ) کیوں نہیں نازل ہوتی فرمادیجئے کہ بیشک نشانیاں (معجزات) تو اللہ کے پاس ہیں اور بیشک میں تو صرف ایک صاف صاف (انجام بد سے) ڈرانے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جو ان کو سنائی جاتی رہتی ہے بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے بڑی رحمت اور نصیحت ہے

آیات 45 تا 51 اسرارومعارف آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ قرآن کے بیان اور نماز کا اثر : یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری ہے اگر رسمی نہ ہو تو عقلا بھی گناہ سے روکتی ہے کہ ابھی اللہ کی بارگاہ میں حاضری دے کر فارغ ہوا اور چند گھنٹوں بعد پھر حاضر ہونا ہے تو نافرمانی کیوں کرے گا ساتھ ساتھ دل میں ایک کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو گناہ سے مانع ہوتی ہے۔ ذکر اللہ : اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا اور بہت ہی بڑی بات ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں محض ایک آدھ جملہ لکھ کر بات ختم کردی جاتی ہے یا پھر ذکر اللہ کر فضائل نقل کئے گئے ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ ذکر اللہ کیا شے ہے اور کیسے کیا جاتا ہے کہ یہاں یہ کہنا کہ نیک اعمال مراد ہیں تو تلاوت قرآن خود ذکر ہے صلوۃ بھی ذکر ہے تو گویا دو طرح کا ذکر تو پہلے سے ہوگیا لسانی قرآن پڑھ کر اور لسانی بدنی یا عملی بھی نماز ادا کرکے پھر یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کا ذکر ہی بہت اعلی ہے تو گویا اس سب کے علاوہ کچھ مراد ہے اور وہ ذکر قلبی ہے۔ جو نبی اکرم ﷺ کی توجہ اور ملاقات سے صحابہ کو نصیب ہوا کہ ان کے قلوب ہمیشہ کے لیے ذاکر ہوگئے جس کے اثرات سے سارا بدن گوشت پوست خون اور ہڈیاں تک ذاکر ہوگئیں صحابہ کی صحبت سے تابعین اور پھر تبع تابعین اور یوں اللہ کے برگزیدہ بندوں نے عمریں صرف کرکے یہ کیفیت اپنے بزرگوں سے حاصل کی اور بعد میں آنے والوں کو توجہ اور اور القا کر کے پہنچائی اس طرح اس نعمت کو آگے پہنچانے والے شیخ یا پیر کہلائے اور تصوف کے نام سے ایک پورا شعبہ تفسیر وحدیث اور فقہ کی طرح وجود میں آیا صرف یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ جسے نصیب ہو اس کی پوری عملی زندگی سے لے کر باطنی آرزوؤں تک کو خوبصورت تبدیلی عطا کرتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کریم سب سے واقف ہے ذاکرین اور باعمل لوگوں کے کردار سے بھی اور سرکش اور گستاخ کے عمل سے بھی۔ تبلیغ کے لیے جھگڑا کرنا مناسب نہیں : اور اہل کتاب سے بات ضرور کرو مگر جھگڑ کر نہیں بلکہ بہت خوبصورت انداز میں ہاں اگر ان میں سے کوئی تم پر ظلم کرے یعنی جھگڑا مسلط کرے تو اپنا دفاع کرن ا الگ بات ہے مگر تمہاری طرف سے جھگڑا نہ ہو بلکہ ان سے کہو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان بہت سی باتیں مشترک ہیں مثلا ہم قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور تم پر جو کتابیں نازل ہوئیں انہیں بھی حق مانتے ہیں ایسے ہی تمہاری کتابوں میں قرآن کے نازل ہونے کی خبر ہے پھر تمہاری کتاب بھی تو اللہ واحد پر ایمان لانے کا حکم دیتی ہے اور ہم بھی اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ تورات و انجیل پر ایمان : یہاں ایمان سے مراد یہ ہے کہ پہلی کتب جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں وہ بھی حق تھیں یہ ضروری نہیں کہ تحریف شدہ کو حق مانا جائے یا ان کتابوں سے حلال و حرام کا کوئی مسئلہ لیا جائے بلکہ یہاں اہل کتاب کو دعوت ہے کہ اپنی کتاب کو تسلیم کرو تو بھی تمہیں قرآن پر ایمان لانا پڑے گا جیسا کہ آگے ارشاد ہے کہ جن لوگوں کو پہلی کتابوں پہ ایمان نصیب تھا وہ تو آپ پر بھی ایمان لے آئے اور یہ لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں یہ کافر ہیں یعنی پہلی کتابوں پر بھی ایمان نہیں رکھتے ان میں بھی تحریف کرکے کفر کیا اور اب قرآن کا بھی انکار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کا معجزہ عظیم : بھلا اس سے بڑا کیا معجزہ ہوگا کہ ایک عمر انہی لوگوں میں بسر ہوئی لہذا سب واقف ہیں کہ آپ نہ ت ولکھنا جانتے تھے نہ کچھ پڑھنا ہی آپ نے سیکھا تھا اور پھر جب آپ نے بات کی تو تو سارے جہان کے ہر معاملہ ومسئلہ کو سلجھا دیا بھلا اس سے بڑھ کر صداقت کی دلیل کیا ہوگی کہ غلط کار آپ کی ذات کے بارے ہیں شکوک میں گرفتار ہیں بلکہ یہ تو بہت کھری اور روز روشن ی طرح واضح آیات ہیں مگر ان لوگوں کے دلون میں ان کی جی ہے جو اہل علم کہلانے کے مستحق ہیں اور بےانصاف اور ظالم تو ان کے بارے جھگڑا ہی کریں گے یہ اس عظیم معجزہ کے باوجود اعتراض کرتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا کہ دیجیے کہ معجزات کا اظہار الہ کا کام ہے اور میرا کام تمہیں آخرت کے احوال سے متنبہ کرنا ہے اور یہ محض ان کا اعتراض ہے ورنہ کتاب اللہ بجائے خود بہت بڑا معجزہ ہے جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے جس نے بیک وقت پوری انسانیت کے سب مسائل کا حل بتا دیا اور اللہ کی رحمت کا سبب ہے کہ دنیا کے ساتھ آخرت کے سب مسائل بھی حل کردیے اور اتنی عظیم کتاب ہے کہ نصیحت بھی ہے اور اللہ کی یاد کو ایمان والوں کے اندر بسا دیتی ہے۔
Ayahs 29:52–63

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہیں وہ جانتے ہیں جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے جو لوگ باطل (جھوٹ) پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا انکار کرتے ہیں ، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور اگر ایک وقت مقرر نہ (ہوچکا) ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا اور وہ (عذاب) ان پر اچانک آپہنچے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن ان کا عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں نیچے سے ڈھانک لے گا اور وہ (اللہ) کہے گا جو کام تم کرتے تھے (اب ان کا مزہ) چکھو

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو بیشک میری زمین بہت فراخ ہے سو صرف میری ہی عبادت کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم کو ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ہم پرور ان کو جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے تابع نہریں چلتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (نیک) کام کرنے والوں کیا کیا خوب بدلہ ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو لوگ صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں پھرتے اللہ ہی ان کو رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی اور وہ سننے والے (اور) جاننے والے ہیں

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا اور سورج اور چاند کو کس نے کام میں لگا رکھا ہے تو یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہے تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہتے ہیں روزی فراغ کردیتے ہیں اور (جس کے لئے چاہیں) اسے تنگ کردیتے ہیں۔ بیشک اللہ ہی ہر چیز سے واقف ہیں

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے دریافت فرمائیں کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ فرمایا ؟ تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ (تو) فرمائیے کہ سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں بلکہ ان میں اکثر سمجھتے نہیں

آیات 52 تا 63 اسرارومعارف آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں جاکر انہیں پتہ چلے گا کہ وہ اپنی جہالت کے باعث سمجھ نہ پائے دراصل وہ جہنم میں ہی گھرے ہوئے جیتے رہے درمیان میں صرف دنیا کی زندگی کا پردہ تھا۔ ایک روز یہ پردہ نہ رہے گا تو عذاب نے انہیں اوپر نیچے ہر طرف سے گھیر رکھا ہوگا ب انہیں سنایا جائے گا کہ اپنے اعمال کا نتیجہ چکھو۔ آگے خطاب کا رخ مومنین کی طرف ہوتا ہے کہ اگر کفا ر خود قبول نہ بھی کریں اور تمہیں بھی دین پہ عمل کرنے سے روکیں تو میری زمین بہت وسیع ہے کہیں اور چلے جاؤ مگر دین پر ضرور قائم رہو اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو بھلا کب تک انسان ایک جگہ یا ملک یا گھر میں رہے گا آخر سب کو موت آئے گی اور سب گھر بار چھوڑ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو آج سے ہی اس کی خاطر گھر بار چھورنا پڑے تو یہ عین سعادت ہے۔ ہجرت : علماء کے مطابق جب آپ ﷺ کو ہجرت کا علم ہوا تو مکہ مکرمہ سے ہجرت سب مسلمانوں کے لیے فرض عین تھی حتی کہ بلا عذر شرعی ہجرت نہ کرنے والے کو مسلمان شمار ہی نہ کیا جاتا تھا جو فتح مکہ کے بعد ختم ہوگئی اس کے بعد اگر کسی ملک میں حکومت کافروں کی ہو اور دین پر عمل کرنے سے مانع ہو تو ہجرت واجب ہے بشرطیکہ وہ قدرت رکھتا ہو یعنی کرسکتا ہو اور اگر دین پر عمل کرنے میں رکاوٹ نہ ہو تو مستحب ضرور ہے کہ کفار کی حکومت سے نکل کر اسلامی حکومت میں اور نیک لوگوں میں چلا جائے۔ ہجرت میں آدمی اگر دنیا کی ملکیت و میراث قربان بھی کرتا ہے تو مومن اور صالح شخص اللہ سے بہترین جگہ بھی حاصل کرے گا اللہ کی جنت میں جہاں جھروکوں میں بیٹھے گا اور جن میں نہریں جاری ہوں گی اور وہاں ہمیشہ کا رہنا ہوگا وہاں سے نکلنے کا اندیشہ بھی نہ ہوگا بھلا محنت کرنے والوں کو کس قدر اعلی اجر ملے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر سے کام لیا مصیبت میں بھی قربانی دینے میں بھی اور اپنے آپ کو گناہ سے روکنے میں بھی اور انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا کہ دنیا کی چیزیں اس بھروسے پہ قربان کیں۔ اللہ کی راہ میں نکلنے سے روزی کی فکر مانع نہیں ہونی چاہیے کہ زمین پر اللہ کی کس قدر مخلوق بستی ہے جو اپنی روزمرہ کی خوراک بھی ساتھ نہیں رکھتی مگر اللہ انہیں ہر حال میں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی وہی رزق دیتا ہے یہ اسباب دنیا تو محض ایک پردہ ہیں۔ اور وہ ہر ایک کی سنتا بھی ہے اور سب کے حال سے واقف بھی ہے۔ اگر ان پر بھی سوال کیا جائے کہ اس زمین و آسمان کو کس نے بنایا اور چاند سورج ستاروں سیاروں کی گردش اور کام و اثرات کس نے مقرر کردیے کہ ساری سائنس یہی کچھ کہ سکتی ہے کہ فلاں فلاں اجزاء یا گیس یا روشنی کی کرنیں یہ اثرات پیدا کرتے مگر ان سب کی بنیاد ارض و سما اور شمس و قمر کا بنانے والا اور ان میں یہ سب اثرات سمونے والا کون ہے تو سوائے اس کے کچھ نہ کہ پائیں گے کہ یہ سب اللہ کے کام ہیں اس لیے کہ اللہ کے علاوہ اور کسی سے یہ ثابت کرنا ممکن ہی نہیں پھر نہ جانے یہ کس الٹی سمت چلے جاتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کا کام ہے کہ کسی پر روزی فراخ کردے جبکہ اپنے ہی دوسرے بندے پر کمی کردے کہ ان تمام باتوں کی حکمت وہی خوب جانتا ہے۔ اگر ان کی عقول یہی کہتی ہیں کہ زمین سے بارش برس کر سب کچھ اگنے کا سبب ہے تو پوچھ لیجیے بارش کون برساتا ہے اور اس میں یہ زندگی کے اثرات کہ زمین اس کے سبب کھیتیاں اور نباتات پیدا کرنے لگے کس نے رکھے ہیں کہ زمین خشک ہو کر مردہ ہوچکی ہوتی ہے اور پھر اس میں زندگی لوٹ آتی ہے تو انہیں کہنا پڑے گا کہ یہ سب اللہ کی قدرت ہے تو کہیے کہ یہ سب کمالات اور ساری خوبیاں اسی اللہ ہی کے لیے ہیں اگر یہ ایسا نہیں کہتے تو یہ ان کی عقلوں میں کمی اور بیوقوفی ہے۔
Ayahs 29:64–69

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی کیا ہے یہ تو صرف کھیل اور تماشا ہے۔ اور بیشک اصل زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی (پانی کی سواری) میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں (یعنی خالص اعتقاد سے پکارتے ہیں) پھر جب وہ (اللہ) ان کو بچا کر خشکی پر لے آتے ہیں تو وہ شرک کرنے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

ہم نے جو نعمت ان کو بخشی اس کی ناقدری کرتے ہیں اور (کچھ روز) فائدہ اٹھالیں سو بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا ہے اور اس کے گردونواح سے لوگ اچک لئے جاتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ باطل (جھوٹ) پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے یا جب حق (سچی بات) اس کے پاس پہنچے تو اس کو جھٹلادے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جو لوگ ہمارے لئے مشقت برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے رستے ضرور دکھا دیں گے۔ اور بیشک اللہ خلوص والوں کے ساتھ ہیں

آیات 64 تا 69 اسرارومعارف دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے : یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی درخواست نہیں سنی جائے گی۔ سو جب یہ خشکی پہ پہنچتے ہیں تو پھر اسی سابقہ روش یعنی شرک پر پلٹ جاتے ہیں۔ ایسے جاہل ہیں کہ ہماری ان نعمتوں کا انکار کرتے ہیں جن سے یہ مستفید ہو رہے ہوتے ہیں ان کرتوتوں کے انجام کی انہیں بہت جلد خبر ہوجائے گی۔ کم از کم اہل مکہ کو تو یہ عذر بھی زیب نہ دیتا تھا کہ اگر مسلمان ہوجائیں تو لوگ ہمیں تباہ کردیں گے یہ شہر تو ہم نے حرم اور جائے امن بنا دیا ہے کہ کافر و مشرک بھی اس کا احترام کرتے ہیں اگرچہ گرداگرد ہر جگہ بدامنی ہی کیوں نہ ہو تو کیا یہ جھوت موٹ کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کریم کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ تو جو کوئی جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین بتائت اور اللہ کے نازل کردہ دین حق کو قبول کرنے سے انکار کرے جبکہ حق اس کے پاس بیان کیا جائے تو اس سے بڑا ظالم کون ہوگا ایسے بڑے ظالم کا ٹھکانہ جہنم ہی درست ہے۔ مجاہد فاتح ہوتا ہے : اور جو لوگ بھی ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ان کو ہم اپنی راہیں سمجھا دیتے ہیں وہ کبھی ناکام نہیں ہوتے اس لیے کہ خلوس دل سے اللہ کی اطاعت میں کوشاں لوگوں کے ساتھ اللہ ہوتا ہے اور انہیں اس کی ذات کی معیت نصیب ہوتی ہے خواہ نفس کی اصلاح کے لیے مجاہدہ کرے تو اللہ اسے نیک لوگوں کے پاس پہنچا دیتا ہے جہاں اصلاح احوال نصیب ہو یا کفار کی پیدا کردہ رکاوٹوں کے خلاف ڈٹ جائے تو شہید ہو کر بھی منزل پالیتا ہے اور فتح کرکے بھی۔ نیز جہاد بصیرت بڑھا دیتا ہے اور درست فیصلے کرنے کی استعداد سے نواز دیتا ہے۔ سورة عنکبوت مکمل ہوئی