24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 24:35–40

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے۔ وہ چراغ ایک (شیشہ کی) قندیل میں ہے۔ اور وہ قندیل (ایسی شفاف ہے) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا ستارہ ہو۔ اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی جانب ہے اور نہ مغرب کی ، قریب ہے (ایسا لگتا ہے) کہ اس کا تیل اگر اس کو آگ نہ بھی لگی تو (خود بخود) جل اٹھے گا (اور اگر آگ دکھادی گئی تو) نور علیٰ نور (روشنی ہی روشنی ہوجائے گی) ۔ اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتے ہیں سیدھی راہ دکھاتے ہیں۔ اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتے ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

وہ (قندیل) ایسے گھروں میں جن کے بارے اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کا ادب کیا جائے اور ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح اور شام (ہمیشہ) اس (اللہ) کی پاکی بیان کرتے رہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(ایسے) لوگ ہیں جن کو اللہ کے ذکر اور نماز ادا کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے نہ (دنیا کا) کاروبار غافل کرتا ہے اور نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب (گھبراہٹ سے) دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دیں اور اپنے فضل سے ان کو زیادہ بھی عطا کریں۔ اور اللہ جس کو چاہتے ہیں بیشمار رزق عطا فرماتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسے ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اس کو (دور سے) پانی سمجھے۔ یہاں تک کہ جب اس کے قریب پہنچے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور اس کے پاس اللہ (قضائے الٰہی) کو پائے سو وہ اس سے اس کا (اس کی عمر کا) حساب پورا پورا چکا دے اور اللہ جلد حساب کرنے والے ہیں

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے گہرے سمندر میں اندھیرے ، جس پر لہر چلی آتی ہو اس (لہر) کے اوپر دوسری لہر اس کے اوپر بادل (ہے غرض) اوپر تلے بہت سے اندھیرے (ہی اندھیرے) ہیں جب اپنا ہاتھ نکالے (دیکھنے کے لئے) تو اسے دیکھ بھی نہ سکے اور اللہ ہی جس کو نور نہ دے تو اس کو (کہیں سے بھی) نور (ہدایت) میسر نہیں ہوسکتا

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، نور کا معنی ایسی چیز ہے جو از خود ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والی ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ تمام جہانوں میں حقیقی ذاتی اللہ کی ہے جو ہر ہر شے سے ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کی روشن اور ظاہر کرنے والی ہے تو یہ نور جو شئے کے معنوں میں آئے گا اس کا اطلاق اللہ کی ذات پر نہ ہوگا بلکہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی روشنی پر ہوگا کہ اصل سارے نور اور روشنی کا مالک اللہ ہے پھر اس کے نور کی اور روشنی بخشنے کی مثال ایسی کہ جیسے کسی طاق میں ایک روشن چراغ اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہو جو شفاف اور ستاروں جیسے چمکدار شیشے کی بنی ہوئی پھر اس چراغ میں بہت ہی قیمتی اور شفاف تیل ہو جو زیتون جیسے بابرکت درخت کا ہو کہ سب سے زیادہ روشن سب سے اچھی غذا اور سب سے اچھی مالش نیز بغیر دھویں کے جلنا یہ سب خصوصیات زیتون کے تیل میں ہیں اور اللہ جل جلالہ نے اس میں برکت بھی رکھی ہے یہ ایک اضافی خصوصیت ہے ، پھر وہ تیل ایسے درخت کا ہوگا جو عین درمیان میں ہو اور طلوع سے لے کر غروب تک اس کے اور سورج کے درمیان کوئی آڑ نہ ہو یعنی ایسے اعلی درخت سے نفیس ترین تیل لیا گیا جیسے وہ روشنی دینے کو یوں تیار ہو کہ گویا آگ کے چھوئے بغیر جل اٹھے گا اور جب آگ چھو جائے تو روشنیاں بکھیر دے ۔ (حضرت محمد ﷺ کا نور) اس کی مثال آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ کا قلب اطہر اور نور مبارک ہے کہ فطری طور پر ایسا صالح ایسا شفاف ایسا روشن کہ قبل بعثت بھی بیشمار کمالات کا اظہار ہوا جن سے انسانیت کو بھرپور فوائد بھی نصیب ہوئے اور ایسے عجیب و غریب واقعات بھی دنیا میں ظاہر ہوئے جو آپ کی عظمت اور نبوت و رسالت کی خبر دیتے تھے جن کی تفصیل تفاسیر کے علاوہ کتب سیرت میں بھی دیکھی جاسکتی ہے اور مزاج کی مثال ایسی کہ حکم ملنے سے قبل تعمیل پر آمادگی موجود اور بعثت سے پہلے آپ کی ذات گرامی سے فوائد کا ظہور ماحول معاشرے اور انسانیت کے لیے اور جب بعثت ہوئی تو گویا اس چراغ کو جو ایک خوبصورت قندیل ایک بلند طاق میں تھی اور جس کا روغن نہایت اعلی تھا شمع بنا دیا گیا جس نے چار دانگ عالم کو بلکہ اللہ کی ساری کائنات کو روشن کردیا ۔ ﷺ ۔ (مومن کا نور) اور یہی مثال مومن کے نور کی ہے کہ اس کے مزاج میں اللہ جل جلالہ کی عطا کردہ فطری روشنی ہوتی ہے جل اٹھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جب اسے نور ایمان نصیب ہوتا ہے تو گویا اس چراغ کو کسی نے شعلہ دکھا دیا اور پھر وہ نہ صرف خود بلکہ انسانیت کے لیے روشنی بن کر انسانی فلاح اور ہدایت کا سبب بنتا ہے ظلم کی تاریکیاں مٹاتا اور نور ایمان کی روشنیاں عدل و انصاف کی روشنیاں بانٹتا ہے اور جب ایسے خوش نصیب صحبت شیخ پاتے ہیں تو گویا سینہ بھڑک اٹھتا ہے ، دل سورج کی مثال بن جاتا ہے اور یوں ایک جہاں کے لیے روشنی کا مینار بن جاتے ہیں یہی اسلامی تصوف ہے ۔ (شیخ کی صحبت) کہ نور نبوت سے مسلمانوں کے سینوں میں دھرے چراغوں کو روشن کرکے انسانیت کے راستوں پہ سجا دیا جائے اور صوفی خود اتباع شریعت کا بہترین نمونہ ہو اور نفاذ شریعت کے لیے بہترین کارکردگی دکھائے ، ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے اس دولت سے سرفراز فرماتا ہے ورنہ لوگ محرومی کی موت مرجاتے ہیں ۔ (نور فطرت کو برے اعمال ضائع کردیتے ہیں) یہ یاد رہے کہ قرآن حکیم نے جگہ جگہ یہ بتا دیا ہے کہ اللہ ہر اس بندے کو راستہ دکھا دیتا ہے جس میں راستہ دیکھنے کی طلب ہو کیونکہ فطری طور پر ہر انسان میں ہدایت کی طلب اور نور فطرت رکھا جاتا ہے جیسے ارشاد نبوی ہے کہ ہر بچہ فطرت پہ پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں یعنی انسانی کردار والدین کی برائی اور معاشرے کے برے حالات اس کا طاق گرا دیتے ہیں قندیل توڑ دیتے ہیں ۔ چراغ کے ٹکڑے کردیتے ہیں اور تیل ضائع ہوجاتا ہے یعنی فطری استعداد کھو جاتی ہے یہ برائی کا وہ اثر ہے جو آنے والی نسلوں پہ مرتب ہوتا ہے لہذا جن سے یہ فطری نور ہی بجھ چکا ہو انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور اللہ تو محض اپنے بندوں کو سمجھانے کے لیے مثال بیان فرماتے ہیں کہ بات ان کے فہم میں آسکے ورنہ اللہ جل جلالہ تو ہر شے کا کامل علم رکھتا ہے ۔ (اہل اللہ کے ٹھکانے مساجد وخانقاہیں) اور ایسے روشن سینے اور چراغوں کے مانند قلوب رکھنے والے لوگ کہاں پائے جاتے ہیں ایسے گھروں میں جن کو بلند کرنے کا اللہ جل جلالہ نے حکم دیا ہے یعنی جن کی تعمیر کا حکم بھی ہے اور جن کی عظمت واحترام کا بھی کہ اگر ذاتی شہرت کے لیے نہ ہو تو شاندار مسجد کی تعمیر اور مساجد کی تزئین خوبصورتی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین اور تابعین سے حضرت عثمان ؓ سے اور حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) سے ثابت ہے نیز مساجد کے آداب کہ ان کی عظمت برقرار رہے بھی ارشادات نبوی سے واضح ہیں کہ انہیں پاک صاف رکھا جائے ، کوئی ناپاک وجود لے کر اندر داخل نہ ہو ، کوئی ناگوار بو اندر استعمال نہ کی جائے حتی کہ بدبو دار تیل نہ جلایا جائے ، لہسن پیاز وغیرہ کی بو منہ سے نہ آئے ایسے ہی سگریٹ اور حقہ کی ناگوار بولے کہ مسجد میں داخل نہ ہو یا کسی سے بیماری وغیرہ کے باعث بو آتی ہو تو مسجد نہ جائے اور مساجد میں شور وغل نہ کیا جائے ، دنیا کی باتیں نہ کی جائیں کہ بنائی بھی خوبصورت جائیں اور احترام میں بھی کسر نہ اٹھا رکھی جائے نیز وہاں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جائے جس میں تمام طرح کا ذکر شام ہے عملی بھی لسانی بھی اور خفی اور قلبی بھی نیز جو حجرے ذکر اللہ کے لیے خاص تعمیر ہوں گے ۔ (ذکر اللہ کے حجرے) ان کے احکام بھی یہی ہوں گے اور اسی ادب واحترام کے مستحق ہوں گے نیز ایک حد تک مدارس اور تعلیم دین کے لیے کام کرنے والے ادارے بھی احترام کا حق رکھتے ہیں اگرچہ مسجد یا محفل ذکر کے درجہ پہ نہ ہو مگر دینی ادارے ایک خاص عظمت کے امین ہیں ۔ ان گھروں یعنی مساجد میں صبح شام یعنی ہر آن اللہ کا ذکر ہونا چاہیے اور اللہ کی تسبیح وتحمید ہوتی رہے ۔ یہ ذاکرین ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ جل جلالہ کی یاد اس کے ذکر ، اس کی عبادت و اطاعت اور اس کی راہ میں مال خرچ کرنے سے دنیا کا کوئی مفاد یا ذاتی کوئی غرض روک نہیں سکتی اور ہر آن اللہ کا ذکر کرنے کے باوجود اس کی بےنیاز سے ڈرتے ہیں اور یوم حساب کی سختی کو یاد رکھتے ہیں جس روز بڑوں بڑوں کے پتے پانی ہوجائیں گے ، دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی مگر وہ امید رکھتے ہیں اور عملا کوشاں رہتے ہیں کہ اس روز انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدل عطا ہو اور اللہ اپنے کرم سے اس پر زیادتی اور بڑھوتی کر دے کہ اللہ جل جلالہ کی شان تو یہ ہے کہ جسے چاہے اتنا عطا کر دے کہ وہ کسی حساب وکتاب کی قید میں نہ آسکتا ہو اور جن لوگوں نے وہ نور فطرت کھو دیا برائی بدکاری اور حرام غذا نے دل سیاہ کردیے حتی کہ نور نبوت سے بھی روشنی نہ پا سکے اور اندھیروں میں گم رہ کر کافر ہوئے ۔ (کفار کی دو اقسام) ان کی ایک قسم تو وہ ہے جو اللہ جل جلالہ کی ذات کا اقرار کرتی ہے آخرت کو اور حساب کتاب کو مانتی ہے مگر مانتی بھی اپنے انداز سے ہے جیسے موجودہ یہودی اور نصرانی اور اعمال بھی اپنی ایجاد کردہ صورت سے کرتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ یوم حشر انہیں بہت انعام ملے گا اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو صحرا میں سفر کر رہا ہو اور دور بہت دور چمکتی ہوئی ریت کو ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا سمجھ کر اس کی طرف بڑھتا رہے مگر جب وہاں پہنچے تو کچھ ہاتھ نہ آئے ، نہ صرف یہ کہ جن اعمال کو نیکی سمجھ رہا وہ نیکی نہ تھے اور ضائع ہوئے بلکہ تب اسے اللہ کریم کو حساب بھی دینا پڑے اور کفر اور برے اعمال کی سزا اس پر مسلط کردی جائے کہ اللہ بہت جلد حساب چکا دیتا ہے یا پھر کفر کی دوسری قسم میں وہ لوگ جو سرے سے آخرت حساب کتاب اور ذات باری کا انکار کیے بیٹھے ہیں ، ان کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سمندر کی گہرائیوں میں روشنی سے دور اندھیروں میں غرق ہو پھر اس پر مزید لہریں اٹھ اٹھ کر تاریکی کو گہرا کردیں اور باہر نہ صرف رات کی تاریکی ہو بلکہ بادل بھی امڈ امڈ کر آئیں کوئی ہلکا سا ستارہ بھی نظر نہ آتا ہو اور یوں اس تہہ در تہہ ظلمات کے پردے پڑے ہوں کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا ہو تو اسے ہدایت کی کیا امید ہو سکتی ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرتے کرتے اس کی ذات کے انکار کی کھائیوں میں غرق ہوگیا جبکہ ہدایت کا نور تو اللہ جل جلالہ ہی عطا فرماتے ہیں اور جیسے اللہ سے روشنی ، نور اور ہدایت نصیب نہ ہو اس کے لیے کہیں بھی روشنی کی کوئی کرن نہیں ۔
Ayahs 24:41–50

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ جو آسمانوں یا زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور (بالخصوص) پرندے جو پر پھیلائے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں ہر ایک اپنی عبادت اور تسبیح (کے طریقے) جانتا ہے اور اللہ کو ان سب کے افعال کا پورا علم ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں میں اور زمین اور اللہ ہی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ (ایک) بادل کو (دوسرے بادل کی طرف) چلاتے ہیں پھر ان کو باہم ملا دیتے ہیں پھر ان کو تہہ بہ تہہ کردیتے ہیں پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ سے نکلتی ہے اور آسمان (بلندی پر) میں جو اولوں کے پہاڑ ہیں ان میں سے (اولے) برساتے ہیں پھر جس پر چاہتے ہیں اس کو گراتے ہیں اور جس سے چاہتے ہیں اس کو ہٹادیتے ہیں۔ (اور) اس (بادل) کی بجلی کی چمک گویا آنکھ کی بینائی کو اچک لے جائے گی

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی رات اور دن کو بدلتے رہتے ہیں بیشک اس (سب) میں اہل دانش کے لئے بہت دلائل ہیں

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہی ہر چلنے پھرنے والے جان دار کو پانی سے پیدا فرمایا سو ان میں کوئی ایسا ہے کہ پیٹ کے بل چلتا ہے اور کوئی ان میں ایسا ہے جو وہ پیروں پر چلتا ہے اور کوئی ان میں چار (پیروں) پر چلتا ہے اللہ جو چاہتے ہیں بناتے ہیں بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

بلا شبہ ہم نے واضح آیات نازل فرمائی ہیں اور اللہ جسے چاہتے ہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرماتے ہیں

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

وہ لوگ (زبان سے) کہتے ہیں ہم اللہ پر اور (اس کے) پیغمبر پر ایمان لے آئے اور ہم نے حکم مانا پھر اس کے بعدان میں سے ایک گروہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ ایمان والے ہی نہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب اللہ اور اسکے پیغمبر کی طرف (اس غرض سے) بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کا کوئی حق بنتا ہو تو سر تسلیم خم کیے آپ کے پاس چلے آتے ہیں

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

o آیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا ان کو شک ہے یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا پیغمبر ان پر زیادتی نہ کرنے لگیں۔ نہیں (یہ بات نہیں) ، بلکہ یہ خود ظالم ہیں

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ پورا کر رہی ہے اور کبھی سستی اور کوتاہی نہیں کرنے پاتی اور دوسرے یہ کہ ہر شے اپنی زبان سے بھی اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے ہاں ہر ایک کی اپنی زبان ہے اور الگ طریق ذکر کہ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شے اپنے طریق عبادت اور اپنے طریق ذکر سے واقف ہے اور قرآن وسنت سے ہر شے میں ایک درجہ کا شعور ہونا ایک طرز گفتگو کا پایا جانا ثابت ہے نیز ہر ایک کے ہر کام سے اللہ واقف ہے اور آسمانوں اور زمینوں کی سلطنت و حکومت اللہ جل جلالہ ہی کو زیبا ہے کہ ہر شے نے بالآخر اسی کے بارگاہ میں پلٹ کر جانا ہے اس کی قدرت کاملہ کو دیکھو کہ کیسے بادلوں کو لاتا ہے اور انہیں ایک جگہ جہاں چاہتا ہے جمع فرما دیتا ہے اور وہ ایک دوسرے پر تہہ در تہہ جمتے اور بڑھتے چلے جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برسنے لگتی ہے انسانی علم کے مطابق اگرچہ بادلوں کے بننے چلنے اور برسنے کے کچھ خاص اسباب ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ وہ اسباب کون پیدا کرتا ہے ، سورج کی روشنی و گرمی اور ہواؤں کی روانی کس کی عطا اور قدرت کا مظہر ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کئی بار مطلع بالکل صاف اور دھوپ روشن ہوتی ہے کہ لمحوں میں بدل چھا جاتے ہیں اور ٹوٹ کر برستے ہیں ، یہ ایک دم سے سب اسباب کیسے جمع ہوگئے ، کس نے کردیے یا کبھی کئی دن بادل چھائے رہتے ہیں مگر ایک قطرہ نہیں ٹپکتا ، یہ کس کی قدرت کاملہ ہے ، ایسے ہی پہاڑ جیسے بادلوں سے اولے برساتا ہے اور جس کی کھیتی یا مال کو چاہتا ہے وہ تباہ کردیتے ہیں نیز جسے چاہتا ہے بچا دیتا ہے ساتھ کا کھیت اجڑ جاتا ہے جبکہ دوسرا محفوظ رہتا ہے اور بادلوں کے اس غبار میں بجلی کے کو ندے یوں لپکتے ہیں جیسے انسانی نگاہ کو اچک لیں گے ، پھر رات کو دن اور دن کو رات سے بدلتا ہے یعنی سارے نظام حیات کو ایک روشن پہ قائم رکھتا ہے جن لوگوں میں بصیرت ہے ان کے لیے تو اس میں بہت دلائل ہیں ۔ یہ سب اس کی قدرت کاملہ کے کرشمے ہیں نیز ہر جاندار کو اسی نے پیدا فرمایا ہے اور سب کے اجسام کو مادے کی شکل سے بناتا ہے ، ذرات خاکی کو جمع فرما کر مادے میں ڈھال دیتا ہے اور اس پانی جیسی شے سے وجود پیدا فرماتا ہے اور کچھ ہیں کہ پیٹ پر اور رینگ کر چلتے ہیں جبکہ کچھ جانور دو پاؤں پہ یا کچھ چارپاؤں پر ، ایسے ہی زیادہ پر بھی کہ اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف چلنے کے لیے توفیق ارزاں فرما دیتا ہے فرق یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کا انتخاب رکھا ہے ، اگر کوئی اپنے لیے ہدایت اور نیکی کا راستہ چاہے تو اسے اس کے لیے ایسا ہی آسان کردیتا ہے جیسے فطری زندگی کے امور اور پھر اسی رات کے لیے واضح دلائل بھی نازل فرمائے ، انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرما کر اپنی کتب نازل فرمائیں لیکن اگر کوئی طلب ہی سے حالی اور محروم ہوجائے تو پھر اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، جیسے کچھ لوگ جن کے دل طلب سے خالی اور محروم ہوتے ہیں وہ حالات سے سمجھوتہ کرکے یا دنیا کے فائدے کی خاطر یا کبھی دیکھا دیکھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ ّ (طلب سے خالی دلوں کا حال) ہم اللہ جل جلالہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی اطاعت کریں گے مگر جب اطاعت کا موقع آتا ہے تو ان سب وعدوں کے باوجود ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بھر جاتا ہے ، غریب کو تو نہ چاہتے ہوئے بھی انکار کی جرات نہیں ہوتی مگر بااثر اور امیر لوگ الگ ہو جوتے ہیں جیسے آجکل کے کچھ دانشور اور برائے نام سیانے فرماتے ہیں ہم خود مسلمان ہیں مگر کیا کریں اسلام دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے یعنی اب قابل عمل نہیں فرمایا ایسے لوگ ہرگز ایمان دار نہیں اگر ان کا کسی سے جھگڑا ہو اور کہا جائے کہ آؤ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرلو تو ادھر نہیں آتے لیکن اگر ان کا حق بنتا ہو اور دوسرے فریق کے قبضے میں ہو تو پھر دوڑے آتے ہیں یعنی ان کی مسلمانی محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہے تو اب دیکھ لے اے مخاطب کہ ان کے دل کے مرض کا کیا حال ہے اور کتنی شدت ہے کہ کبھی تو انہیں آپ ﷺ کی نبوت ہی میں شک ہوجاتا ہے اور کبھی یہ وہم کہ معاذ اللہ اللہ رسول کا قانون ان سے زیادتی کا مرتکب ہوگا حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ظالم اور غلط کار ہیں ۔
Ayahs 24:51–57

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

دراصل ایمان والوں کی بات تو یہ تھی کہ جب ان کو اللہ اور اسکے پیغمبر کی طرف بلایا جاتے کہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور ایسے ہی لوگ (آخرت میں) کامیابی حاصل کریں گے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری اختیار کرے تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور یہ اللہ کی بڑی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ ان کو حکم دیں تو یہ ضرور (گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ فرمائیے قسمیں مت کھاؤ (تمہاری) فرمانبرداری (کی حقیقت) معلوم ہے (کیونکہ) بیشک تمہارے کاموں سے خوب باخبر ہیں

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) پیغمبر کی اطاعت کرو پھر اگر (اطاعت سے) روگردانی کرو گے (سمجھ لو کہ) ان (پیغمبر) کے ذمہ وہی (تبلیغ) ہے جو ان کی ذمہ داری مقرر کی گئی ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کی ذمہ داری کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچادینا ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں اور نیک کام کریں اللہ ان سے وعدہ فرماتے ہیں کہ (اتباع کی برکت سے) ان کو ملک میں ضرور حکومت عطا فرمائیں گے جیسا ان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت بخشی تھی اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے ان کے لئے پسند فرمایا ہے ضرور مستحکم (اور پائیدار) فرمائیں گے اور خوف کے بعد ان کو ضرور امن بخشیں گے۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ بدکردار ہیں

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور پیغمبر کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کافروں کے بارے یہ خیال نہ کرنا کہ وہ زمین (کے کسی حصہ) میں (بھاگ کر ہم کو) ہرا دیں گے اور ان کاٹھکانہ دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف (نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے) اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔ (نجات ابدی کی چار شرائط) کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال اور زندگی کے لیے توبہ کی اللہ سے ڈرا ” ویتقہ اللہ “ اور آئندہ کے لیے تقوی یعنی دل کی گہرائیوں سے اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی تو ایسے لوگ ہی کامیاب ہوں گے اور مراد کو پہنچیں گے نام نہاد مسلمان اور منافق بھی یوں تو بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر اللہ کا رسول ﷺ حکم دے تو سب کچھ قربان کر دے اور ہر شے کو چھوڑ چھاڑ کر تعمیل ارشاد کے لیے نکل کھڑے ہوں انہیں کہیے قسمیں مت کھاؤ کہ نرے دعوے کی ضرورت نہیں ، اپنے عمل سے اطاعت گذاری ثابت کرو کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ جل جلالہ اس سے خوب واقف ہے ، ان سے فرما دیجئے کہ باتیں نہ بناؤ بلکہ عملی زندگی میں عقائد ونظریات میں اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو ، اگر نہ کریں گے تو اپنے کردار کا بوجھ خود اٹھائیں گے کہ اللہ کے بندوں کی ذمہ داری تو اتنی ہے کہ بات پہنچا دی عمل نہ کرنے کی ذمہ داری ان کی اپنی ہے ہاں یہ فرما دیجئے کہ اگر اطاعت اختیار کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے کہ نافرمانی میں ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور اللہ کے رسول ﷺ کی ذمہ داری اللہ کا پیغام پہچانے کی ہے جو انہوں نے پوری فرما دی منوانے کی نہیں یہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیاں ہے اور اللہ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ جو صحیح عقیدہ اور درست ایمان والے ہوں گے اور عملا نیک کام کرنے والے ہوں گے ان کو دنیا میں اقتدار دے گا اور زمین پر قبضہ وقدرت دے گا جیسے اس نے پہلی قوموں میں نیک اور باعمل مسلمانوں کو دیا تھا اور ان کے دین کو جو خود اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے غالب کردے گا ایسا غالب کہ وہ کسی سے خوف محسوس نہ کریں گے نہ کبھی انہیں کسی کا ڈر رہے گا ، صرف اللہ جل جلالہ کی عبادت اور اطاعت کریں گے اور ان کے اور ان کے کسی قول وفعل سے کسی دوسرے کا ہمسر ہونے کا شبہ تک نہ ہوگا ان انعامات کے باوجود بھی اگر کچھ لوگ ناشکر گزاری کے مرتکب ہوں گے تو وہ نافرمان اور اطاعت وایمان سے نکل جانے والے ہوں گے ۔ (آیہ استخلاف) سورة نور کی اس آیہ مبارکہ کو آیہ استخلاف کہا جاتا ہے جس کا ظہور خود نبی کریم ﷺ کے مبارک عہد میں ہوا کہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور کفار ومشرکین کا غرور ٹوٹا آپ ﷺ کے عہد مبارک میں مکہ فتح ہوا ، خیبر فتح ہوا بلکہ سارا جزیرۃ العرب اور یمن فتح ہوگیا اور دنیا کے عظیم حکمرانوں نے خدمت اقدس میں تحفے بھیج کر اسلامی حکومت کی عظمت کو ماننے کا اظہار کیا ، پھر ابوبکر صدیق ؓ کے عہد مبارک میں جھوٹے مدعیان نبوت اور منکرین زکوۃ کو کچلا گیا اور یہ فتنے ختم ہوئے اور مصر کو اسلامی افواج روانہ ہوئیں ، بصرہ اور دمشق تک علاقے فتح ہوئے پھر عہد فاروقی میں تو دنیا کے دوسرے سرے تک نور اسلام کی روشنی پھیلی اور نظام اسلام کی روح پرور ہوا چلی کہ چشم فلک بھی حیران رہ گئی ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد ایسی پرامن باوقار انصاف پر مبنی اور جرات مند ریاست اس نے بھی اور نہ دیکھی تھی ، فارس وایران اور بلاد سلطنت قیصری بھی اسلامی ریاست میں شامل ہوئے اور عہد عثمانی وعلوی تک یہی شوکت قائم رہی بلکہ خلافت عثمانیہ میں تو مشرق سے مغرب تک سلطنت و حکومت صرف اسلام اور مسلمانوں کی تھی جس کے مقابل کسی سلطنت و حکومت کو حکومت کہنا بھی زیب نہیں دیتا چناچہ اس آیہ مبارکہ کا پہلا مظہر خلافت راشدہ ہے اور خلفائے راشدین ہی قرآن حکیم کے مثالی مسلمان بھی ہیں اور مثالی حکمران بھی بلکہ مفسرین کرام کے مطابق اس عظمت کے باوجود ناشکری کا مرتکب وہ سازشی گروہ ہے جو حضرت عثمان ؓ کی ظالمانہ شہادت کا سبب بنا اور اسلامی عظمت کو تباہ کرنے کی سازش کرکے کفر اختیار کیا ، تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ اسی گروہ نے حضرت علی ؓ حضرت حسن ؓ کو شہید کیا اور میدان کربلا میں خانوادہ نبوی کو قتل کر کے اور حضرت حسین ؓ کا سرمبارک کاٹ کر اسلاف کے خلاف شیعیت کی بنیاد استوار کی جس نے ہر اسلامی عقیدے اور ہر اسلامی عمل کا سر کاٹنے کی ناپاک کوشش کی ہے اور تاحال عقیدہ توحید سے لے کر حشرنشر تک ہر عقیدے اور ہر عمل میں اسلام کی مخالفت پہ پورا زور صرف کر رہا ہے آیہ استخلاف پہ حضرت استاذ ٓلمکرم بحرالعلوم علامہ اللہ یار خان (رح) کی تفسیر جو اسی نام سے ہے ” تفسیر آیہ استخلاف “ ضرور دیکھی جائے ۔ اور لوگو اللہ کی عبادت کو قائم کرو یعنی پوری شرائط کے ساتھ ادا کرو اور اسلامی معاشی نظام اختیار کرو ، یہ زکوۃ کی ادائیگی کی تاکید اسی بات کو چاہتی ہے تاکہ اللہ کریم تم پر رحم فرمائے اور دنیاوی رکاوٹیں دور فرما کر تمہیں دنیا میں عزت دے اور باطنی خرابیوں سے بچا کر عاقبت میں سرفراز فرمائے اور کفار کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ زمین پر ہمیشہ ان کا قبضہ رہے گا اور وہ اسلام پر ظالمانہ تسلط قائم رکھ سکیں گے ہرگز نہیں وہ تو خود جہنم کے راہی اور بہت بڑی تباہی سے دوچار ہونے والے اور نہایت دردناک جگہ پہنچنے والے اور غلبہ اسلام کا وعدہ اللہ کا ہے جسے وہ ہرا نہیں سکتے ہاں یہ وعدہ مسلمانوں سے ہے جو عقیدۃ بھی اور عملا بھی مسلمان ہوں ۔
Ayahs 24:58–61

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! (تمہارے پاس آنے کے لئے) تمہارے غلام لونڈیاں اور جو (بچے) تم میں سے حدبلوغ کو نہیں پہنچے ان کو تین بار (تین اوقات میں) اجازت حاصل کرنا چاہیے (ایک تو) صبح کی نماز سے پہلے اور (دوسرے آرام کرنے کے لئے) جب دوپہر کو تم اپنے (کچھ) کپڑے اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد یہ تین تمہارے پردے کے اوقات ہیں اس سے آگے پیچھے نہ تم پر گناہ ہے اور نہ ان پر کہ (کام کاج کے لئے) ایک دوسرے کے پاس کثرت سے آتے رہتے ہو۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں تم پر کھول کر بیان فرماتے ہیں اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (بالغ آدمی) اجازت حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح اللہ تم پر اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور اللہ علم والے (اور) حکمت والے ہیں

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی کچھ امیدنہ رہی ہو تو ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت (کے مواقع) کا اظہار نہ کریں اور (اگر) اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیمار آدمی پر کچھ گناہ ہے اور خود تمہارے لئے بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں کہ تم اپنے گھروں (جن میں بی بی اور اولاد کے گھر بھی ہیں) میں سے کھانا کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ (اور) اس کا بھی تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ۔ پھر جب تم (اپنے) گھر میں جایا کرو تو اپنے لوگوں (گھر والوں) کو سلام کیا کرو یہ اللہ کی طرف سے مبارک (اور) پاکیزہ تحفہ ہے۔ اسی طرح اللہ تم پر اپنی آیتیں صاف صاف بیان فرماتے ہیں تاکہ سمجھو

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اور اسلامی معاشرہ تو ایک پاکیزہ معاشرہ ہے جسے باطل قوتیں دبا نہیں سکتیں مگر اس کی پاکیزگی اور اس کی قوت کو قائم رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے جیسے پہلے گھر آنے کے لیے آداب اور اجازت لینے کی تعلیم دی گئی تو یہاں گھر کے اندر رہنے والوں کے لیے ارشاد ہوتا ہے تمہارے لونڈی غلام نوکر چاکر اور چھوٹے بچے بھی اگر گھر کے کسی فرد کے کمرے میں جانا چاہیں تو تین اوقات ضرور اجازت لے کر جائیں ، صلوۃ فجر سے پہلے یا جب تم لوگ دوپہر کو آرام کرتے ہو اور زائد لباس وغیرہ اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد کہ یہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی بےتکلفی سے آرام کر رہا ہوتا ہے اور اپنے کمرے کے اندر پردے وغیرہ کا خیال نہیں رکھتا جیسے میاں بیوی ہوں اور بےتکلفی ہو رہی ہو یا کوئی اکیلے میں بھی مختصر لباس میں آرام کر رہا ہو تو ان اوقات کے بارے بچوں کو بھی سکھایا جائے کہ وہ بلا اجازت ہر کمرے میں نہ گھسا کریں کہ ویسے تو عادتا گھر کے تمام افراد ایک دوسرے سے ہر وقت ملتے اور ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے یا کمروں میں آتے جاتے رہتے ہیں تو خاص آرام کے اوقات میں مخل نہ ہونا کوئی مشکل کام نہیں اور نہ علاوہ ان اوقات کے آنے جانے میں کوئی حرج ہے ، یہ احکام اللہ کریم تمہارے فائدے اور تعمیر اخلاق کے لیے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ ہر بات سے واقف اور حکیم ودانا ہے اور جب بچے بالغ ہوجائیں تو اجازت حاصل کرنے کے احکام پہلے موجود ہیں جیسے ان سے پہلے جوان اور بالغ اجازت حاصل کرتے ہیں ویسا ہی وہ بھی کریں کہ اسلامی معاشرہ خوبصورت پاکیزہ آرام دہ ہو یہی اس کی قوت کا باعث ہے اور اللہ کریم تمہاری ہی بہتری اور سربلندی کے لیے ان باتوں کو بڑی وضاحت سے اور ہر پہلو سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ ہر حال اور ہر ضرورت سے باخبر اور حکیم ودانا ہے کہ ہر ضرورت کا خوبصورت حل ارشاد فرماتے ہیں اور ایسے ہی وہ خواتین جو عمر رسیدہ ہوں یعنی نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں اور انہیں اب جنس سے رغبت نہ رہی ہو تو وہ اگر زائد لباس جو پردے وغیرہ کے لیے ہوتا ہے نہ بھی پہنیں تو حرج نہیں مگر زینت کے لیے زیور وغیرہ پہن کر یا بناؤ سنگھار کرکے لوگوں کے سامنے آنے کی انہیں بھی اجازت نہیں ، ہاں عمر کے لحاظ سے بےتکلفی سے رہیں تو خیر ہے اور اگر اس سے بھی بچ سکیں اور باپردہ ہی رہیں تو وہ بہت ہی بہتر ہے اور اسی میں ان کی پوری بھلائی ہے کہ اللہ جل جلالہ تو ہر ایک کی سنتا ہے اور ہر شے سے واقف ہے ۔ اور اگر تم سب مل جل کر کسی اپنے عزیز یا رشتہ دار کے گھر یا اپنے گھر دوسرے کو کھانا کھلا دو یا ان افراد کو جو کسی بیماری کا شکار ہیں اپنے ساتھ کھانے میں شامل کرلو تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں جیسے غیر اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگ نفرت کا شکار ہوتے ہیں ، اسلامی معاشرہ میں یہ نہ ہونا چاہیے ۔ (معذورین کی دل جوئی اور آپس میں مل کر کھانا) صد افسوس کہ اس دور کی غیر اسلامی برائی یعنی معذورین سے نفرت آج کے مسلمانوں نے اپنا لی اور وہ خوبی جو اللہ جل جلالہ نے مسلمانوں کو تعلیم فرمائی تھی کہ معذورین کا خیال رکھا جائے حتی کہ انہیں ساتھ کھانے میں کبھی کبھی شریک کرلیا جائے ۔ یہ غیر اسلامی معاشرہ نے اختیار کرلی ورنہ نزول قرآن کے وقت تو غریب یا معذور سے کلام کرنا خلاف شان تصور ہوتا تھا جب ارشاد ہوا اس میں کوئی حرج نہیں کہ اندھے ، لنگڑے ، تکلیف میں مبتلا یا کسی بیمار کو یا خود بھی ساتھ اپنے ہی گھروں میں سے کسی بھی گھر میں کھلاؤ پلاؤ اس کی حاجت پوری ہو اور دلجوئی بھی ہو جیسے تم والدین کے گھر یا اپنے بھائی کے گھر کسی بہن کے گھر یا چچا یا پھوپھی کے گھر یا ایسے ہی خالہ کے گھر یا کسی ایسے بےتکلف دوست کے گھر جس کی چابی تک تمہیں دے سکتے ہوں اگر ان گھروں میں دعوت کرو یا اکیلے جانا ہو تو کھا پی لو کوئی مضائقہ نہیں اور معذورین کو بلا کر کھلانا چاہیے اور جب بھی گھر میں داخل ہوا کرو یا اکیلے جانا ہو تو کھا پی لو کوئی مضائقہ نہیں اور معذورین کو بلا کر کھلانا چاہیے اور جب بھی گھر میں داخل ہوا کرو تو نیکی اور سلامتی کی دعا ، یعنی سلام ضرور کیا کرو کہ اللہ جل جلالہ کے نزدیک بہت بابرکت بھی ہے اور بہت صاف ستھری بات اور معاشرے کی پاکیزگی کا سبب بھی ہے اللہ کریم تمہیں کس قدر عقل و شعور کی تعلیم دیتے ہیں کہ تمہاری حیات حکیمانہ اور دانشمندانہ ہوجائے ۔
Ayahs 24:62–64

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

بلا شبہ ایمان والے وہی ہیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو اکٹھے ہو کر کرنے کا ہو ان (پیغمبر) کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ بیشک جو لوگ آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں پھر جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے (جانے کی) اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جسے چاہیں اجازت فرمادیا کریں۔ اور (اجازت دے کر بھی) ان کے لئے اللہ سے بخشش کی دعا کیجئے بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

پیغمبر کے بلانے (سے بات کرنے) کو ایسا نہ سمجھو جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے (بات کرتے) ہو۔ بلا شبہ اللہ ان لوگوں سے واقف ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ اس (اللہ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ ان پر (دنیا میں) کوئی مصیبت آپڑے یا (آخرت میں) ان پر درد ناک عذاب نازل ہو

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

جان لو ! جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے بیشک سب اللہ ہی کا ہے۔ اور یقینا اللہ اس حالت کو بھی جانتے ہیں جس پر تم (اب) ہو اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو عمل وہ لوگ کرتے رہے وہ (اللہ) ان کو بتادیں گے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہیں

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف یقینا ایماندار وہی لوگ ہیں جو ہر اہم بات پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں یا آپ ﷺ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے جمع ہوجاتے ہیں اور کتنی بھی مجبوری ہو نہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور نہ بغیر اجازت واپس جاتے ہیں ۔ (امیر اور شیخ کا منصب) یہی منصب اسلامی امیر یا شیخ کا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اسلام پر عمل یا اس کی ضرورت ہی کے لیے طلب کرتا ہے تو مومن کبھی ارادۃ کوتاہی نہیں کرتا اگر بہت زیادہ مجبوری ہو تو حاضر ہو کر اجازت طلب کرتے ہیں اور جو بلانے پر حاضر ہوجاتے ہیں تب اپنی مجبوری کا اظہار کرکے اجازت چاہتے ہیں ، ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ایمان رکھنے والے ہیں ہاں کسی بہت بڑی مجبوری کے باعث ہی تو اجازت کے طالب ہیں کہ حاضر ہی نہ ہونا ایمان اور مومن کی شان کے خلاف ہے پھر اپنی مجبوری کے اظہار کا اسے حق ہے مگر اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار رسول اللہ ﷺ کو ہے لہذا آپ چاہیں تو انہیں رخصت دیں یا نہ دیں کہ بہرحال آپ کے ارشاد کی تعمیل سب کاموں سے زیادہ اہم ہے لہذا آپ کے حکم کی بجاآوری تھی بھلا اس میں کوئی مجبوری آئے ہی کیوں اور جس قدر بھی نقصان ہو برداشت ہی کیا جائے لیکن اگر کوئی برداشت نہ کرسکا اجازت کا طالب ہو آپ نے اجازت فرما دی تو اب اس کے حق میں اللہ سے بخشش بھی طلب کیجئے کہ اللہ کریم بخشش دینے والے اور رحم فرمانے والے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے بلانے کو عام نہ سمجھا جائے جیسا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے رہتے ہیں پتہ چلا فلاں نے بلایا ہے ہوسکا تو چلے گئے ورنہ کہہ دیا کہ فارغ نہیں ہوں بلکہ رسول اللہ ﷺ اگر طلب فرمائیں تو جانا فرض ہوگا اور بغیر اجازت وہاں سے واپسی حرام ہوگی اور حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق رسول اللہ ﷺ کو اس طرح نہ پکارا جائے جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو بےتکلفی سے پکارا جاتا ہے کہ اے فلاں ایسے ہی یا محمد ﷺ بلکہ ادب واحترام سے یا رسول اللہ ! یا نبی اللہ جیسے القابات سے پکارا جائے اور جب آپ ﷺ طلب فرماتے ہیں تو کوئی کھسک لے اور اپنا غیر حاضر ہونا ظاہر بھی نہ ہونے دے یعنی اعلانیہ نافرمانی نہ کرے بلکہ چھپ کر کرے تو وہ اللہ سے تو نہیں چھپ سکتا ہو جو منافقین کا انداز تھا تو اسے اللہ کی گرفت سے ڈرنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور مخالفت کرکے کسی بڑی آزمائش کی لپیٹ میں نہ آجائے یا اللہ ایسے لوگوں پر اللہ کا عذاب نازل ہو تو بہت ہی درد ناک عذاب ، افسوس کہ آج کا مسلم معاشرہ رسول اللہ ﷺ کے احکام کی نہ صرف کھلی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ (مسلمان اور اطاعت رسول ﷺ سے غفلت کا نتیجہ) بلکہ انہیں ناقابل عمل کہتا ہے اور تہذیب مغرب کے دلدادہ نام نہاد دانشور اسے یہی درس دیتے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ سارے عالم میں جبکہ دو سو کروڑ یا دوارب مسلمان بستے ہیں کسی بستی پر بھی اسلام بطور قانون نافذ نہیں اور سارے جہاں میں مسلمان یا فتنہ کی زد میں ہیں یا ان پر اللہ جل جلالہ کا عذاب وارد ہے کہ کفار کے ہاتھوں ذلیل بھی ہو رہے ہیں اور قتل بھی اور اس کا واحد علاج آج بھی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں واپس آجائیں ، اس لیے آسمان و زمین یا کائنات کا سب کچھ اللہ کے دست قدرت میں ہے اور اس نے سارے نظام کو اس روش پر درست کردیا ہے لہذا جب بھی نافرمانی کا ارتکاب ہوگا نزول فتنہ یا عذاب کا باعث بن جائیگا اور وہ تمہارے ہر حال سے خوب واقف بھی ہے ، تمہاری خواہشات وآرزوؤں کو جانتا ہے یہ مصیبت تو دنیا میں ہے جب تم لوگ میدان حشر میں یا موت کے بعد اس کی بارگاہ میں جاؤ گے تب تمہارے اعمال پر بات ہوگی اور تب حقیقی عذاب کا سامنا ہوگا ۔ ” اعاذنا اللہ منھا اور اللہ سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ۔