22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 22:39–48

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

(اب) ان (مسلمانوں) کو (لڑنے کی) اجازت دے دی گئی جن سے (کافروں کی طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس لئے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا اور یقینا اللہ ان کی مدد پہ قادر ہیں

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

جو لوگ اپنے گھروں سے بےوجہ نکالے گئے محض اتنی سی (بات) پر کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتے رہتے تو (راہبوں ، درویشوں کے) صومعے (خلوت خانے) اور گرجا گھر اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے ضرور ویران ہوچکی ہوتیں اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو (اس کے دین) کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ بہت قوت والے ، غالب ہیں

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ لوگ (ایسے ہیں کہ) اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں (تو آپ غم نہ کریں) کہ بیشک ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود نے (بھی) جھٹلایا تھا

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) نے (بھی)

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والوں نے (بھی) ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) جھٹلایا گیا پس ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر ان کو پکڑ لیا تو (دیکھ لیجئے) میرا عذاب کیسا ہوا

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا کہ وہ ظالم (غلط کار) تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (بہت سے) کنویں بےکار اور (بہت سے) مضبوط محل (ویران پڑے ہیں)

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

تو کیا یہ زمین (ان علاقوں) میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوتے کہ ان سے سمجھ جاتے اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں و لیکن دل جو سینوں کے اندر ہیں وہ اندھے ہوجایا کرتے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب کا تقاضا کر رہے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کریں گے اور بیشک آپ کے پروردگار کے نزدیک ایک دن تم لوگوں کے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کا ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی ایسی بستیاں ہیں جن کہ ہم مہلت دیتے رہے اور وہ غلط کار تھیں پھر ہم نے ان کو پکڑ لیا اور (سب کو) میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ (جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ) اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ، چناچہ یہ وجہ تو ہر وقت موجود ہے لہذا مسلمانوں پر ہمیشہ جہاد بھی فرض ہے ، اسی لیے حد یہ مقرر کی گئی تھی کہ (آیت) ” حتی لا تکون فتنۃ “۔ کہ کوئی فساد باقی نہ رہے ، جہاد سے یہ مراد نہیں کہ کسی کو زبردستی مسلمان کیا جائے یہ ضرور مراد ہے کہ کوئی اسلامی احکام میں مداخلت کی جرات نہ کرے اور اللہ جل جلالہ کی زمین پر اسی کی مخلوق پر ظلم کرنے سے روکا جائے نیز اس کے ساتھ اللہ جل جلالہ کی مدد کا وعدہ موجود ہے کہ مسلمان جب بھی اور جہاں بھی اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے ظلم کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوں گے اللہ جل جلالہ ان کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے ، ظاہری اسباب خواہ جیسے بھی ہوں فتح مسلمانوں کو ہی نصیب ہوگی اور اللہ کا یہ وعدہ بھی جس طرح حکم ہمیشہ کے لیے ہے ہمیشہ ہی کے لیے ہے اور بدرواحد سے لے کر آج کے دور کے افغان جہاد تک اس کی برکات روز روشن کی طرح واضح ہیں لطف کی بات یہ ہے کہ خود کفار کو بھی اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ مٹھی بھر مسلمان صحرائے عرب سے اٹھ کر روئے زمین پر چھا گئے تو یہود نے شیعہ تحریک کی بنیاد رکھی جس بہت بڑا رکن ترک جہاد ہے کہ امام غائب آئے گا تو اس کی قیادت میں جہاد جائز ہو سکے گا اور برصغیر میں نصرانیوں نے مرزائیت کی بنیاد رکھی یہ بھی صرف جہاد کو روکنے کے لیے ایک بڑے ظلم اور گمراہی کی بنیاد رکھی گئی اور اب تو نئی مصیبت یہ ہے کہ ہمارا ایک بہت بڑا دیندار طبقہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ سارا کام محض دعاؤں سے ہوگا بس دیگیں پکائی جائیں نتیجہ یہ کہ جب لڑنے کا ارادہ ہی نہیں تو جدید تکنیک سیکھنے کی کیا ضرورت چناچہ مسلمان بتدریج نئی ایجادات تک سے دور ہوتا جا رہا ہے اور یہ ہم غیر شعوری طور پر بغیر اجرت کے کافر کی مدد کر رہے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق بخشے آمین ! چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ اب مسلمانوں کو مقابلے کی اجازت بھی ہے اور اللہ کریم ان کی پوری مدد بھی فرمائے گا یعنی یہ ایک طرح سے فتح کی بشارت بھی ہے اب اس کے بعد ان مظالم کا تذکرہ بھی ہے جو مسلمانوں پہ ڈھائے جا رہے تھے کہ نہ صرف انہیں قتل کیا گیا ، مارا گیا بلکہ ان پر ظلم کرکے انہیں ان کے گھروں تک سے نکال دیا گیا تو ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اللہ جل جلالہ کو اپنا رب مانتے اور اسی کی عبادت کرتے تھے اور اس کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت نہیں کرتے ۔ اور یہ قانون فطرت ہے کہ اللہ کریم ہر خرابی کے مقابلے کے لیے بھی حالات پیدا فرماتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا اور زیادتی کرنے والوں سے دفاع کی اجازت نہ دی جاتی تو نہ صرف آج بلکہ کبھی بھی زمین پر دین کا نظام قائم نہ ہو سکتا نہ عیسائیوں کے خلوت کدے اور عبادت خانے قائم رہتے اور نہ یہود کی عبادت گاہیں بن سکتیں جو اپنے اپنے وقت میں سب اسلام ہی تھے اور حق تھے یہ الگ بات ہے کہ اب خود ان لوگوں نے ان ادیان میں تحریف کرکے انہیں کفر وشرک میں تبدیل کردیا اور نہ مسلمانوں کی مساجد کافروں کی دست برد سے محفوظ رہتیں ، جن میں کثرت سے اللہ جل جلالہ کا نام کا ذکر ہوتا ہے ۔ (مساجد اور ذکر اسم ذات) قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اسم ذات کے ذکر کا حکم دیا ہے جیسے اس آیہ کریمہ میں کہ مساجد میں تو پنجگانہ فرائض کی ادائیگی کی جاتی ہے پھر ان کی اہمیت کا سبب اسم ذات کا ذکر کیوں قرار دیا گیا کہ ذکر اسم ذٓت ہی واحد راستہ ہے جو قلب کو وہ تعلق نصیب کرتا ہے کہا سے عبادات میں حضور اور خشوع نصیب ہوتا ہے ہر عمل جو شریعت کے مطابق ہو ذکر اللہ ہے تلاوت ، نماز ، تسبیحات ذکر لسانی ہے مگر اس سب کے باوجود اسم ذات کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے اور کثرت کا حکم اس کے ساتھ موجود ہے جو تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب قلب ذاکر ہوجائے گویا ہر عبادت اور عبادت گاہ کی روح ذکر قلبی ہے ۔ نیز جہاد تو محض اللہ کے لیے اور اس کے دین کی مدد کے لیے ہے تو جو بھی خلوص سے یہ کام کرے گا اللہ جل جلالہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا یعنی جہاد میں مجاہد کی فتح یقینی ہے ، اگر نیت خالص جہاد ہی کی ہو یہ نہ ہو کہ صورت جہاد کی ہو اور مقصد اپنی کسی غرض کی تکمیل ہو اور اللہ جل جلالہ بہت بڑی طاقت والا اور ہر شے پہ غالب ہے یعنی کوئی بھی طاقت اللہ جل جلالہ کی مدد کو شکست نہیں دے سکتی ۔ اور خالص اللہ جل جلالہ کی راہ میں لڑنے والے لوگ ایسے ہیں کہ جب انہیں اقتدار اور غلبہ نصیب ہوتا ہے تو زمین پر بندوں سے بندوں کی غلامی چھڑا کر اللہ جل جلالہ کی عبادت کا نظام قائم کرتے ہیں اور مال پر زکوۃ یعنی دوسروں کے حقوق کا اہتمام کرتے ہیں اور نیکی کا حکم جاری کرتے ہیں اور برائی سے روک دیتے ہیں اور تمام امور کا انجام تو اللہ جل جلالہ ہی کے دست قدرت میں ہے لہذا مسلمانوں کو بظاہر کمزور دیکھ کر یہ نہ سمجھا جائے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہر کام جب اللہ جل جلالہ کرتا ہے تو جیسا چاہتا ہے ویسا ہی ہوتا ہے ۔ ّ جمہور مفسرین کرام کے نزدیک اس آیہ مبارکہ کی عملی تفسیر خلافت راشدہ کا مبارک دور ہے کہ ان کا جہاد خالص اللہ کے لیے تھا انھیں فتح اور غلبہ واقتدار نصیب ہوا اور انہوں نے روئے زمین بلکہ معلوم تاریخ انسانی کی بہت بڑی سلطنت پر اللہ کا نظام اور نظام اسلام رائج فرمایا ۔ (نفاذ اسلام اور تاریخ عالم) آج کے دور کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ تاریخی اعتبار سے عملی طور پر صرف خلافت راشدہ کے عہد میں اسلام ناقدرہا بعد کا سارا زمانہ اس سے خالی ہے لہذا ایسا کرنا بھلا آج کیسے ممکن ہے ؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اسلام اللہ جل جلالہ کا دیا ہوا نظام حیات کامل ومکمل سیاسی ، معاشی ، اخلاقی اور دینی ہر اعتبار سے ساری انسانیت کے لیے سارے زمانوں اور سب ممالک کے لیے ہے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ آج کے عہد کی ضروریات کا ساتھ نہیں دے سکتا تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اسلام کبھی بھی انسانیت کو ایک خوبصورت فلاحی ، پرامن اور انصاف پر مبنی معاشرہ دینے کا اہل نہ تھا ، ظاہر ہے ایسا کہنا کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ ساری دنیا جل رہی تھی جب ظہور اسلام ہوا اور روئے زمین پر سے ظلم مٹا کر عد و انصاف قائم کرے اسلام نے دکھا دیا تو یہ کہنا کہ تب تو ٹھیک ہے اب اسلام ایسا نہیں کرسکتا اس لیے درست نہ ہوگا کہ اسلام کا دعوی ہے کہ یہ خدائی قانون ہے اور ہمیشہ کے لیے ایک سا مفید ہے تو اس کا انکار سارے اسلام کا انکار ہوگا اس پر یہ کہا جاتا ہے کہ تاریخ کہتی ہے خلافت راشدہ کے بعد عملا اسلام کہیں نافذ نہیں رہا مسلمانوں کی حکومتیں تو تھیں مگر اسلامی حکومتیں نہ تھیں تو یہ درست نہیں اور تاریخ یہود کی سازش کا شکار ہے ورنہ پہلے کی بات چھوڑیں جب تاتاریوں کا طوفان مسلمان کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا مصر میں بیبرس کی حکومت اسلامی تھی جس نے مشہور تاتاری جرنیل کو شکست فاش دی اور اس کے بدن کے ٹکڑے شہر کے دروازوں پر لٹکا کر باطل کی شکست کا نظارہ پیش کیا ، ہندوستان پر سلطانالتتمش کی حکومت اسلامی حکومت تھی ، حتی کہ ہلاکو خان کو سندھ کا دریا عبور کرنے کی جرات نہ ہوسکی اور نگ عالمگیر تک آئیے تو فتاوی عالمگیری آج بھی ریاستی قانون کی دستاویز کے طور پر موجود ہے ، ہاں یہ ضرور ہے کہ درمیان میں ہر قسم کے لوگ بھی آئے ایسے ایسے بدنصیب بھی جنہوں نے اسلامی قانون کی پرواہ نہ کرکے اپنی مرضی سے بھی حکومت کی مگر یہ کہنا درست نہیں کہ اسلامی حکومت نہیں رہی ۔ اگر کفار آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اپنی دنیا وآخرت تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو آپ ﷺ مغموم نہ ہوں کہ اللہ کریم نے بندے کو راہ چننے کا اختیار دیا ہے اور پہلی قوموں نے جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد وثمود یا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم یا لوط (علیہ السلام) کی قوم ان سب نے بھی تو اپنے انبیاء کرام کی دعوت کا انکار ہی کیا تھا مدین کے رہنے والوں نے یا موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا قبطیوں نے انکار کیا اور ان اقوام کو موقع بھی دیا گیا کہ سنبھل جائیں مگر جب کفر ہی پہ جمے رہے تو اللہ جل جلالہ کی گرفت میں آگئے اور انھیں میری عظمت کے انکار کا مزہ چکھنا پڑا ، کتنے ہی شہر ویران ہوئے جو ظالم اقوام کا مسکن تھے جو بڑے متکبر اور طاقتور تھے مگر اب ان کا حال کیا ہے ایسے برباد ہوئے کہ چھتیں پہلے گر گئیں اور اب دیواریں چھتوں پر گر پڑی ہیں کتنے کنویں تھے جو ان آبادیوں کے مکینوں نے بنائے جو اب ویران پڑے ہیں اور کتنے شاندار محلات قلعے جن پر فن تعمیر کا پورا پورا زور دکھایا گیا اور گلکاری کی گئی ، اب اس پر کا ہی جم رہی ہے کیا آج کے مفکر روئے زمین پر ان عبرت کے نشانوں کو نہیں دیکھ سکتے ۔ ّ (قلب ، اس کی آنکھ کان اور کیفیات) لیکن کاش ان کے پاس دل ہوتے جو سمجھنے کی اہلیت رکھنے والے ہوتے ، گویا ذات باری ہو یا صفات باری ان کو جاننے اور معرفت الہی کے لیے قلب کی ضرورت ہے یہ جو گوشت کا لوتھڑا ہے اس کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے جو حقیقی قلب ہے اور جس میں عقل و شعور ہے ، جو سنتا ہے دیکھتا ہے ظاہر ہے تب ہی سمجھ سکتا ہے کفر اور نافرمانی دل کی یہ استعداد ضائع کردیتے ہیں تو انسان عظمت باری کو سمجھنے سے محروم ہوجاتا ہے ، اسی لیے یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ کاش ان کے دل سمجھنے والے ہوتے کہ دماغ ، بدن اور اس کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے ہے اور روح اور اس کی ضروریات دل کا کام ہے تو کفار کے دل سمجھ سے عاری اور کان سننے سے محروم کہ ظاہری کان عقل اور دماغ کے لیے سنتے ہیں دل کی لیے کچھ سنائی نہیں دیتے ، ان کی آنکھیں بھی تو نہیں یہ ظاہری آنکھیں تو بیشک ہیں مگر ان کی دل کی آنکھیں اندھی ہیں وہ دل جو سینوں میں دھڑکتا ہے اسی کی بات ہو رہی ہے تو گویا دل کی آنکھ اور اس کی بینائی دل کے کان اور ان کی شنوائی ، دل کا شعور اور درد آشنائی یہی دین کی بنیاد اور اللہ جل جلالہ کی عظمت کو جاننے کے ذرائع ہیں اور ان اوصاف کا حصول اور ایسے افراد کی تلاش جو یہ کام کرسکیں یہ سب ضروریات دین میں سے ہیں اور اسی کا نام تصوف و سلوک ہے ۔ دل کے اندھے پن کی مصیبت دیکھو یہ آپ سے کہتے ہیں کہ اگر عذاب ہی آنا ہے تو پھر جلدی لاؤ انہیں اللہ کے عذاب کی شدت کا بھی اندازہ نہیں ان سے کہ دیجیے کہ مت گھبراؤ اللہ اپنے وعدے کیخلاف ہرگز نہ کرے گا انھیں اگرچہ عرصہ لمبا لگتا ہے مگر عنداللہ یعنی آسمانی نظام میں تو دنیا پر ہزار سال کے برابر ایکدن ہے تو اس لحاظ سے اگر کوئی سو سال بھی جیا تو دن کا دسوں حصہ ہی جیا جیسا دنیا کے نظام کا سیکرٹریٹ تو بالائے آسمان ہے جہاں دن اتنے بڑے شمار ہوتے ہیں اسی لیے فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے تو عمر کا کوئی فرق نہ ہوگا کہ اب تک دنیا پہ اگر دو ہزار برس بیت گئے تو جہاں وہ ہیں وہاں تو دوروز ہی گذرے ہیں بعض حضرات کے نزدیک ہزار سال کا ایک دن قیامت کا دن ہے ۔ واللہ اعلم۔ اور انہوں یہ دیکھنا چاہیے کہ کتنی آبادیاں جرم کفر میں اجڑ گئیں کتنی اقوام تباہ وبرباد ہوگئیں کتنے سرکش لوگ تھے جو ظلم کرتے تھے پر اللہ جل جلالہ کی گرفت میں آکر چور چور ہوگئے اس لیے کہ انجام کار ہر ایک کو اللہ جل جلالہ ہی کی بارگاہ کی طرف پلٹنا ہے ۔
Ayahs 22:49–57

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو ! بیشک میں تم کو (انجام بد سے) واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کرنے لگے ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل کے مطابق ہمیں) عاجز کرنے کی کوشش کی وہی دوزخ کے رہنے والے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے قبل کوئی پیغمبر اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا مگر (اسے یہ قصہ پیش آیا) یہ کہ جب وہ کوئی آرزو کرتے تو شیطان ان کی آرزو میں (کافروں کے دلوں میں) وسوسہ ڈال دیتا۔ جو وسوسہ شیطان ڈالتا ہے تو اللہ اس کو دور فرمادیتے ہیں پھر اللہ اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتے ہیں اور اللہ علم والے حکمت والے ہیں

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

(یہ واقعہ اس لئے بیان ہوا) تاکہ وہ (اللہ) شیطان کے ڈالے ہوئے (وسوسوں) کو ایسے لوگوں کے لئے آزمائش بنادیں جن کے دلوں میں (شک کا) مرض ہے اور جن کے دل (بڑے) سخت ہیں۔ اور واقعی (یہ) غلط کار لوگ بڑی مخالفت میں ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور تاکہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ یہ (وحی) آپ کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں پھر ان کے دل اس (اللہ) کے آگے عاجزی کریں اور بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرماتے ہیں

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر بےبرکت دن (قیامت کے دن) کا عذاب آپہنچے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی وہ ان میں فیصلہ فرمائیں گے پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہوگا

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے (نبی اور رسول) اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ ﷺ سے پہلے بھی جتنے نبی اور رسول مبعوث ہوئے یہاں نبی اور رسول دو الگ الگ ارشاد فرمائے گئے کہ نبی بھی صاحب وحی ہوتا ہے مگر کسی پہلی نازل کردہ شریعت ہی پر عمل کرتا ہے اور رسول صاحب وحی صاحب شریعت ہوتا ہے یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا تو شیطان نے ان کے ارشادات میں غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے اپنے ادہام ٹھونسنے کی کوشش کی لیکن شیطان کی بات نبی کے حوالے سے کبھی نہ چل سکی اور اللہ جل جلالہ نے اسے مٹادیا جبکہ نبی کے فرمودات جو دراصل ارشادات الہی ہوتے تھے وہ باقی رہے ۔ اللہ جل جلالہ سب حال سے باخبر اور صاحب حکمت ہے ، ۔ (بیمار دل) اس کی قدرت کاملہ ایسے امور کو قطعا روک دیتی مگر ایسے لوگوں کے لیے جن کے قلوب بیمار ہیں اور سخت ہیں کہ کفر وشرک قلب کا شدید ترین مرض اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اس کی سختی کا سبب ہیں ، اللہ جل جلالہ نے ایسے ادہام کو وجہ ابتلا اور آزمائش کا سبب بنا دیا ہے اور ایسے ظالم ان شیطانی وسواس کو سہارا بنا کر مخالفت میں دور نکل گئے مگر جن خوش نصیبوں کو ایمان عطا ہوتا ہے انہیں یہ علم بھی نصیب ہوجاتا ہے کہ اللہ جل جلالہ کے ارشادات جو اس کے نبی کی معرفت نصیب ہوتے ہیں اور وہ ان پر ایمان لاتے ہیں نیز ان کے دلوں پر ان آیات کی برکت سے کیفیات وارد ہوتی ہیں جو معرفت الہی میں ترقی پیدا کرکے شوق اطاعت بڑھاتی چلی جاتی ہیں اور یوں اللہ کریم اہل ایمان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشتا ہے یعنی ان کیفیات کو صراط مستقیم پر پورے ذوق سے چلنے کا باعث بنا دیتا ہے جب کہ انکار کرنے والے اور کفار اپنے آپ کو دھوکے میں ہی رکھتے ہیں تاآنکہ انھیں اچانک قیامت آلے یا اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں جس سے کفار کو بچنے کی کوئی راہ نہ ملے گی اور قیامت کو تو حکومت صرف اللہ جل جلالہ کی ہوگئی جو لوگ ایمان لائے اور اطاعت کی وہ جانت کے باغوں اور سبزہ زاروں میں داخل ہوں جبکہ کافر اور انکار کرنے والے بہت ہی ذلت کے عذاب سے دو چار ہوں گے ۔
Ayahs 22:58–64

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنا وطن چھوڑا پھر وہ (کفر کے مقابل) قتل کیے گئے یا مرگئے تو ان کو اللہ ضرور بہترین روزی دیں گے اور بیشک اللہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ (اللہ) ان کو ضرور ایسی جگہ داخل فرمائیں گے جس کو وہ (بہت ہی) پسند کریں گے اور بیشک اللہ جاننے والے نہایت بردبار ہیں

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ بات ہوچکی اور جو شخص (دشمن کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی ضرور مدد فرمائیں گے بیشک اللہ بڑے معاف کرنے والے بخشنے والے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ رات (کے اوقات) کو دن میں داخل فرما دیتے ہیں اور دن کو رات میں داخل فرماتے ہیں۔ اور یہ کہ اللہ خوب سننے والے ، دیکھنے والے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ (نصرت) اس لئے کہ اللہ ہی برحق ہیں اور یہ کہ جس چیز کو یہ (کافر) اس (اللہ) کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور یہ کہ اللہ ہی عالی شان (اور) سب سے بڑے ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر (جس سے) زمین سرسبز ہوگئی بیشک اللہ باریک بین خبر رکھنے والے ہیں

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور بیشک اللہ ہی بےنیاز قابل ستائش ہیں

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں) کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان جیسا کوئی نہیں نہ ہوسکتا ہے اللہ انھیں ایسی خوبصورت جگہ داخل فرمائے گا جو انہیں بھی بہت پسند آئے گی کہ اللہ جل جلالہ ہر حال سے واقف بھی ہے اور اس کی ذات بہت حلیم بھی ہے ہر کام کا نتیجہ اپنے وقت پر ظاہر ہوتا ہے اللہ جل جلالہ کی راہ میں جن پر ظلم ہوتا ہے وہ بھی بدلہ چکا ہی دیتے ہیں ، ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ ظلم کا حساب لے لیتے ہیں اور اگر کفار پھر زیادتی کریں گے تو پھر بھی اللہ جل جلالہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے کہ مومن کبھی اس کی مدد سے محروم نہیں رہتا ، بیشک اللہ جل جلالہ تو بہت زیادہ معاف فرمانے والا اور بخشنے والا ہے ، کافر ہی بدبخت ہے جو اس کی بخشش کی طرف نہیں بڑھتا ۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ ہی نظام کائنات کا چلانے والا ہے ، اگر دن پر رات غالب آتی ہے تو پھر رات پہ دن کو بھی غالب کرتا ہے اگر نیکی کو مٹا کر برائی اپنا تسلط جماتی ہے تو وہ تسلط بھی ہمیشہ نہیں رہ سکتا ، نیکی کا سورج بھی ضرور چمکے گا اور مومن غالب ہوں گے ، اللہ کریم کو کسی سے پتہ کرنے کی حاجت نہیں وہ ہر بات کو سنتا اور ہر شے کو دیکھتا ہے اس لیے وہی حق ہے الوہیت اسی کو زیبا ہے کفار اللہ کے علاوہ جن کو پوجتے ہیں یہ سب باطل ہے جس طرح اس کے بنائے ہوئے شب وروز کے نظام میں کوئی مخلوق حارج یا دخیل نہیں ایسے ہی کسی معاملے میں بھی کوئی اس کی قدرت کاملہ کو روک نہیں سکتا اور وہی سب سے بڑا اور سب پر حکمران ہے سب سے اوپر ہے انسان یہ تو دیکھتا ہے جب اللہ چاہتا ہے تو بلندیوں سے پانی برساتا ہے سمندروں سے اٹھا کر زمین کو سیراب کرنے کے لیے اسے کہاں لے گیا پھر بارش برسا کر ساری زمین کو سبزے کی چادر اوڑھا دیتا ہے ، بیشک اللہ جل جلالہ ہر باریک سے باریک تر بات اور شے سے آگاہ ہے جیسے زمین کبھی ہمیشہ بےآباد نہیں رہتی ایسے ہی انسانی قلوب بھی ہمیشہ ویران نہیں رہے وہ ان کی ضرورت سے بھی واقف ہے اور ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اسی کا تو ہے بھلا اور کون ان کی خبر رکھے گا اور یہ اسی کی شان ہے کہ سب اس کے محتاج اور وہ سب سے بےنیاز ہے غرض سارے کمال اور سب خوبیاں اسی کو زیبا ہیں۔
Ayahs 22:65–72

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں جانتا یہ کہ اللہ نے زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور جہاز بھی سمندر میں اسی کے حکم سے چلتے ہیں اور اسی نے آسمان کو تھام رکھا ہے کہ زمین پر (نہ) گر پڑے ہاں مگر اس کا حکم ہوجائے (تو ایک بات ہے) بیشک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والے مہربان ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو زندہ فرمائیے گا واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے لئے ایک طریقہ مقرر فرمادیا ہے جس پر وہ چلتے ہیں سو ان لوگوں کو چاہیے کہ آپ سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں۔ اور آپ اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہیے بیشک آپ سیدھے راستے پر ہیں

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ (کافر) آپ سے جھگڑا کریں تو فرمادیجئے جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے خوب واقف ہیں

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان میں فیصلہ فرمادیں گے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ سب چیزوں کو جانتے ہیں جو آسمان اور زمین میں ہیں بیشک یہ سب کتاب میں (لوح محفوظ میں لکھا ہوا) ہے یقینا یہ (فیصلہ کرنا) اللہ کے لئے (بہت) آسان ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جس کے بارے اس (اللہ) نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اسکی کوئی (عقلی یا نقلی) دلیل ہے اور ان ظالموں کا کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں جو کہ خوب واضح ہیں پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کافروں کے بگڑے چہرے پہچان جاتے ہیں ۔ قریب ہے کہ یہ ان پر حملہ کر بیٹھیں جو ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ رہے ہیں۔ ان (مشرکین) سے فرمائیے پس کیا میں تم کو اس (قرآن) سے بھی ناگوار چیز بتاؤں (دوزخ کی) آگ۔ جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ فرمایا ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند ستارے ہوئیں اور خود آسمان جو صرف اللہ جل جلالہ کی قدرت سے کھڑا ہے اور اس میں انسانی دخل نہیں مگر وہ گرتا نہیں نہ یہ نظام تباہ ہوتا ہے ہاں مگر جب اللہ جل جلالہ چاہے تو سب کچھ ہو بھی سکتا ہے لہذا یہ نظام بھی خاتمے کو پہنچے گا یہاں دوام کسی شے کے لیے نہیں قدرت باری تو سب کے سامنے ہے کہ روزانہ لاکھوں انسان پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں کہیں انسانی کاوش پیدائش روکنے سے بےبس ہے تو کہیں موت ٹالنے سے عاجز ، لہذا وہ جو تمہیں زندگی دیتا ہے تو موت کا مزہ بھی چکھاتا ہے موت کے بعد پھر زندہ کرے گا اور تمام امور کے نتائج سامنے آجائیں گے کہ اس کی عظمت کا انکار کرکے انسان بہت بڑی ناشکر گذاری کر رہا ہے ۔ احکام شرعی کے بارے میں اس طرح جھگڑنا کہ پہلی شریعت میں تو ایسا تھا ہرگز درست نہیں کہ ہر قوم اور ہر امت کو اپنی اپنی شریعت اور طریق کار اپنے اپنے وقت کے لیے عطا کیا گیا عقائد سب میں ایک تھے مگر اعمال ہر قوم کی علمی عقلی استعداد اور اس عہد کے حالات کے مطابق تھے لہذا کسی کو گذشتہ شریعتوں کے احکام کا آپ کی شریعت سے مواز نہ کرنے کی ضرورت نہیں وہ اپنے وقت میں حق تھیں اب آپ کی شریعت حق ہے اور پہلی سب کالعدم لہذا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو آپ اسے کوئی اہمیت نہ دیں اور اپنے پروردگار کی طرف بلانے کا کام جاری رکھیں ۔ اس لیے کہ یقینا آپ سیدھی راہ پر ہیں جو عقل سلیم بھی تسلیم کرتی ہے اگر پھر بھی جھگڑا ہی کریں تو کہہ دیجئے کہ اللہ جل جلالہ تمہارے کردار سے واقف ہے اور اللہ کریم ہی روز حشر تمہارے ان جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا اور تمہارے سب اختلاف طے فرما دے گا ، انسان خوب سمجھتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر شے اور ہر بات سے اللہ باخبر ہے ، اللہ جل جلالہ کا علم تو لامحدود ہے یہ سب تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور ان کا سارا کردار نامہ اعمال میں بھی موجود ہے اور یقینا یہ سب جاننا بھی اور فیصلہ کرنا بھی اللہ جل جلالہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ۔ یہ بدبخت تو اللہ کو چھوڑ کو غیر اللہ کی عبادت پہ لگے ہیں جس کی کوئی عملی دلیل ہے نہ عقلی نہ کسی بھی کتاب میں اللہ جل جلالہ کے علاوہ کسی کی عبادت کا حکم دیا گیا اور نہ عقلی طور پر یہ بات قابل قبول ہے کہ مخلوق مخلوق ہی کو پوجنا شروع کردے ، ایسے ظالموں پر جب اللہ جل جلالہ کی گرفت پڑے گی تو کوئی ان کی مدد نہ کرسکے گا ، یہ حق سے اس قدر دور اور بیزار ہیں کہ جب انہیں ہماری احکام جو مدلل ہیں اور علمی طور پر بھی ان پہ دلائل موجود عقلا بھی درست ، سنائے جاتے ہیں تو ان کے چہرے بدل جاتے اور انہیں سخت ناگوار گذرتا ہے حتی کہ انہیں یوں غصہ آتا ہے جیسے اللہ جل جلالہ کا حکم سنانے والے بندے پر حملہ کر بیٹھیں ، انھیں فرما دیجئے کہ تمہارے لیے تو اس سے بھی بہت زیادہ ناپسندیدہ خبر ہے ، سننا چاہتے ہو تو وہ آگ ہے اور جہنم ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔
Ayahs 22:73–78

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ! ایک مثال بیان فرمائی جاتی ہے پس اس کو غور سے سنو کہ بیشک جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی ہرگز پیدا نہیں کرسکتے (اور) گو سب کے سب اس کام کے لئے کیوں نہ جمع ہوجائیں اور (ایسے عاجز ہیں کہ) اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس کو تو اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (عابد اور معبود) دونوں گئے گزرے ہیں

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کا حق تھا بیشک اللہ بڑے زبردست (اور) غالب ہیں

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چن لیتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔ بیشک اللہ سننے والے ، دیکھنے والے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو کچھ ان (فرشتوں اور انسانوں) کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب جانتے ہیں اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والو ! رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ تم کامیاب حاصل کرو

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ اس میں جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگزیدہ فرمایا اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں فرمائی (اور) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا انداز کار (ملت) اس (اللہ) نے تمہارا لقب مسلمان رکھا اس سے پہلے (پہلی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی (وہی نام رکھا) تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ رہو ۔ پس نماز ادا کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ (کے دین کی رسی) کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ وہی تمہارے دوست ہیں۔ پس خوب دوست اور خوب مددگار ہیں

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف لوگو اس بات پر غور کرو اور اچھی طرح سوچو کہ اللہ جل جلالہ کے علاوہ جس جس کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ سب معبودان باطلہ اکھٹے ہو کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی بنا نہیں سکتے نہ صرف یہ بلکہ ان پر جو چڑھاوے چڑھاتے ہو ان کے سامنے پڑی ہوئی اشیاء کو مکھی کھاتی رہتی ہے وہ تو مکھی اڑا بھی نہیں سکتے کہ اپنے شے کو اس سے بچا لیں بھلا وہ تمہاری مدد کریں گے ، کتنے حقیر ہیں ان سے مانگنے والے اور کس قدر بےبس یہ تمہارے مطلوب ومعبود بنے ہوئے ہیں ، افسوس کہ تم نے اللہ جل جلالہ کی عظمت کو نہ جانا اور اس کی قدر نہ کرسکے لیکن اے کفار تمہارے نہ ماننے سے اس کی عظمت میں کوئی فرق تو نہ آجائے گا وہ تو بہت بڑا طاقت والا اور ہر شے پر غالب ہے ۔ وہ اپنا رسول بھی اپنی پسند سے چنتا ہے فرشتوں میں سے اپنی مرضی سے چن کر وحی لے جانے پر مقرر فرمایا ایسے ہی انسانوں میں سے جسے چاہتا ہے اس نعمت کے لیے منتخب فرما لیتا ہے کفار کا یہ اعتراض کہ رسول کوئی بہت امیر ہونا چاہئے تھا یا فلاں بڑے قبیلے کا یا کوئی بڑا سردار وغیرہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ اللہ جل جلالہ اپنے کام کے لیے اپنی مرضی سے جسے چاہے چن لیتا ہے اور اسے کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں ، وہ خود ہر بات سنتا ہے اور ہر شے کو دیکھتا ہے لہذا منکرین کی پرواہ نہ کرو ۔ (عبادت سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے) بلکہ اے ایمان والوں تم پہ تو اس کی خاص عنایت ہے لہذا تم خوب خوب اس کی عبادت کرو کہ وہ تمہارا پروردگار ہے ، ہر شے وہی دے رہا ہے اور اسی سے آئندہ بھی ملنے کی امید ہے نیز عبادت ہی سے نیک اعمال اور خوبصورت کردار کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور عبادات وکردار مل کر فلاح اور بھلائی کا سبب بنتے ہیں لہذا نہ عبادات میں سستی کرنی چاہئے اور نہ میدان عمل میں ۔ (عہد حاضر کی بدقسمتی) کہ عہد حاضر کی بدنصیبی یہ ہے کہ جو مسلمان عبادت و ریاضت میں لگے بس صرف اسی طرف کے ہو رہے اور سمجھا کہ یہی اصل دین ہے اور جو دوسرے میدان عمل میں پہنچے تو واپس عبادت کی طرف نہ پلٹے اور وہیں کے ہو رہے حتی کہ عبادات کو فضول سمجھنے لگے ، یہ دونوں صورتیں درست نہیں حق یہ کہ مسلمان عبادات میں اور علم دین کے حصول میں بھی محنت کرے اور جدید علوم اور میدان عمل میں بھی محنت کا حق ادا کرے کہ مسلمان تو مجاہد ہے لہذا اسے اللہ جل جلالہ کی راہ میں پورا پورا جہاد کرنا ہے فرمایا اللہ جل جلالہ کی راہ میں ایسا جہاد کرو اتنی محنت کرو کہ محنت کرنے کا حق ادا ہوجائے اور مثال قائم ہوجائے اس لیے کہ اس کا تم پر احسان عظیم ہے کہ تمہیں بحیثیت قوم اور امت اپنے لیے چن لیا ہے اور ادیان سابقہ کے برخلاف تمہارے دین میں کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو زیادہ مشکل یا تکلیف دہ ہو بلکہ زندگی کے معمولات ہی کو ایک خوبصورت ضابطے میں سجا کر اللہ جل جلالہ کی اطاعت سے مشرف کردیا جبکہ عملا اور آسان ہوگئے پر تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت بھی تو ہو کر حضور اکرم ﷺ کے واسطے سے وہ ساری امت کے بھی تو باپ ہیں اور تم ہی وہ ملت اور امت ہو جس کے لیے انہوں نے دعا کی تھی اور اپنی اس دعا میں تمہیں مسلمان کا نام دیا تھا جیسے ارشاد ہے (آیت) ” وجعلنا مسلمین لک ومن ذریتا امۃ مسلمۃ لک “۔ چناچہ اللہ جل جلالہ نیتم پر اپنے عظیم الشان رسول ﷺ کو گواہ رکھا کہ اس کے واسطے سے تم اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتے ہو اور اس کی ذٓت اس بات کی گواہ ہے کہ تمہارا کون سا عمل نیکی اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہے اور دوسری تمام امتوں پر تم گواہ ہو کہ جب روز حشر کفار انکار کریں گے کہ ہمیں تو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے بتایا ہی کچھ نہ تھا تو تم گواہی دو گے کہ اے اللہ تیرے رسول ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دیا تھا اور کفار ہی جھوٹے ہیں اور دیکھو تمہاری گواہی پر لوگوں کی نجات یا گرفت کا مدار رکھا ہے تو کیا تمہیں زیب دیتا ہے کہ خود ہی اطاعت نہ کرو ہرگز نہیں لہذا عبادات میں بھی بہت محنت کرو اور میدان عمل میں بھی اللہ جل جلالہ کی ذات سے وابستہ رہو اور سب امیدیں اسی سے رکھو کہ وہی تمہارا مالک ہے اور کیا ہی خوب مالک ہے ، سبحان اللہ کہ ہر طرح کی مدد ہر آن کرنے پہ قادر ہے ۔