18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 18:71–74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

تو دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوا ر ہوئے تو انہوں (خضر) نے اس (کشتی) میں دراڑ ڈال دی تب انہوں نے فرمایا کہ کیا آپ نے اس (کشتی) میں اس لئے داڑ ڈال دی تاکہ اس کے سوار غرق ہوجائیں یقینا آپ نے بڑی عجیب بات کی

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ بیشک آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا یہ مجھ سے بھول ہوئی ہے اس پر گرفت نہ کیجئے اور میرے معاملے میں مجھ سر مشکل نہ ڈالئے

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چل دیئے یہاں تک کہ وہ (راستے میں) ایک لڑکے سے ملے اور انہوں (خضر) نے اسے قتل کردیا انہوں (موسیٰ ) نے فرمایا کیا آپ نے ایک بےگناہ شخص کو بغیر قصاص کے (ناحق) قتل کردیا ؟ یقینا یہ تو آپ نے بہت بےجا حرکت کی ہے

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف چناچہ دونوں حضرات روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہونا پڑا ، اور اہل کشتی نے دو نیک سیرت انسان دیکھ کر بہت احترام کیا بلکہ حدیث شریف کے مطابق بغیر اجرت لیے سوار کرلیا مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک جگہ ہاتھ پھیرا تو کشتی کا تختہ چیر دیا جسے موسیٰ (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے فورا بول اٹھے کہ یہ آپ کی کرامت ہے بھلا جن لوگوں نے بڑی عزت سے ہمیں ساتھ سوار کرلیا ان کو بھی معاف نہ کیا اور پھاڑ کر رکھ دی اب اگر یہ تختہ یہاں سے اکھڑ گیا تو یہ سب غرق نہ ہوجائیں گے ، آپ نے یہ معمولی حرکت نہیں کی بلکہ بہت بڑی زیادتی ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے عرض کیا میں نے تو پہلے یہ بات گوش گذار کردی تھی کہ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے تو فرمانے لگے اچھا آپ میری اس بات سے درگذر فرمائیں کہ مجھے وہ وعدہ یاد ہی نہ رہا تھا ورنہ تو میرا کام بہت مشکل ہوجائے گا ، آپ اتنی سی بات پہ گرفت نہ کیجئے ، چناچہ پھر روانہ ہوئے ایک جگہ سے گذرے تو ایک بچہ ملا جو کھیلتا پھر رہا تھا ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے خرق عادت طریقے سے اسے قتل کردیا اور خرق عادت یوں کہ بچے کا قتل معروف طریقے سے نہ تھا ورنہ تو ایک اور فساد شروع ہوجاتا ، موسیٰ (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا ، انہوں نے فرمایا بھئی وعدہ تو الگ رہا بھلا اس قدر شریعت کے خلاف ظلم و زیادتی پہ خاموش رہنا صحیح نہیں ، (علماء کا کردار) گویا علماء کو خلاف شریعت پہ گرفت کرنا ضروری ہے اور کسی بھی مصلحت کا شکار ہونا درست نہیں ، چناچہ فرمایا ایک معصوم بچے کو آپ نے قتل کردیا اور بغیر کسی وجہ کے کردیا کہ وہ کوئی قاتل یا شرعی طور پر واجب القتل تو نہ تھا اور یہ بہت ناقابل برداشت بات ہے ۔
Ayahs 18:75–82

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

انہوں (خضر) نے کہا کیا میں آپ سے کہا نہیں تھا کہ یقینا آپ سے میرے ساتھ ہرگز صبر نہ ہوسکے گا

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیں بیشک آپ میری طرف سے (عذر کی انتہا) کو پہنچ چکے ہیں

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب گاؤں والوں کے پاس پہنچے تو ان لوگوں سے کھانا مانگا پس انہوں نے ان کی میزبانی (کھانا دینے) سے انکار کردیا۔ پھر ان کو وہاں ایک دیوار ملی جو گرا چاہتی تھی تو اس (بزرگ) نے اسے (ہاتھ کے اشارے سے) سیدھا کردیا۔ انہوں (موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت ہی لے لیتے

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا یہ وقت میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا ہے۔ جن باتوں پر آپ صبر نہ کرسکے میں جلد ہی آپ کو ان کا بھید بتائے دیتا ہوں

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی سو غریب لوگوں کی تھی دو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان لوگوں سے آگے (دوسرے کنارے پر) ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور رہا وہ لڑکا پس اس کے ماں باپ ایمان والے تھے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ (بڑا ہوکر) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ ڈال دے

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کے پروردگار ان کو اس کی جگہ اور (بچہ) عطا کرے جو پاکیزگی (یعنی دین) میں اس سے بہتر اور (ماں باپ سے) محبت کرنے میں (اس سے) بڑھ کر ہو۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ بہت نیک تھا۔ سو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ آپ کے گروردگار کی مہربانی سے اور میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جس پر آپ صبرنہ کرسکے

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔ (اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں) کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو ایک بستی پہ گذر ہوا ، جہاں انہیں کھانے کی طلب ہوئی مگر پوری بستی میں سے کسی نے بھی ان کی میزبانی نہ کی اور کھانا نہ دیا وہاں ایک گھر کی دیوار پر نظر پڑی جو گرنے والی ہو رہی تھی ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے بطور کرامت درست کردی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر رہا نہ گیا فرمایا آپ چاہتے تو مزدوری اور اجرت حاصل کرسکتے تھے جس سے کھانے پینے کا سامان ہو سکتا تھا ، بھلا آپ کو ایسی مفت کی کرامات کا کیا شوق چرایا جبکہ ہم ضرورت مند بھی ہیں تو انہوں نے کہا کہ اب آپ اور میں اپنی اپنی راہ لیتے ہیں اور جدا ہوتے ہیں ، لیکن میں آپ کو تشنہ نہ چھوڑوں گا بلکہ جو باتیں آپ کو عجیب لگی ہیں ان کی حقیقت عرض کیے دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے بات کشتی کی تھی تو اس کے مالک بہت غریب لوگ تھے جو اسی کشتی پر مزدوری کرکے اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ پالتے تھے مگر جس طرف وہ جا رہے تھے وہاں ایک جابر بادشاہ نے کشتیاں ضبط کرنے کا حکم دے رکھا تھا ، چناچہ میں نے ان کی کشتی کو عیب دار کردیا کہ بادشاہ کے کارندے نقص دیکھ کر ضبط کریں گے اور بڑے نقصان سے محفوظ رہیں گے ، دوسری بات اس بچے کی تھی تو وہ لڑکا ایک بہت نیک اور خدا رسیدہ میاں بیوی کا بیٹا تھا مگر اس کے مزاج میں بگاڑ تھا جو ہو سکتا ہے والدین ہی کے کسی گناہ کا نتیجہ ہو ، غیر صالح غذا یا کوئی بھی بات ، مگر اللہ جل جلالہ نے انہیں مصیبت سے بچا لیا کہ لڑکا اگر بڑا ہوتا تو اس کے مزاج کا بگاڑ بھی بڑھتا اور یہ برائی اور کفر کو پھیلانے کا سبب بنتا ، چناچہ اللہ جل جلالہ نے اس کے بدلے انہیں نیک بہتر اور محبت کرنے والی اولاد عطا کرنے کا فیصلہ فرمایا لہذا اسے موت دے دی ، رہی دیوار تو وہ دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان کے لیے مال دفن تھا جو ان کے باپ نے رکھا تھا جو بہت نیک تھا تو اللہ کریم نے چاہا کہ تب تک اس کی حفاظت کی جائے کہ وہ خود جوان ہو کر اسے حاصل کرلیں اور یہ سب اللہ جل جلالہ کے احسانات تھے ، میں نے اپنی پسند سے کچھ بھی نہیں کیا یہ عالم اسباب ہے اور سنت اللہ ہے کہ ہر کام کے پیچھے ایک سبب ہوتا ہے چناچہ اللہ جل جلالہ نے مجھے ان امور کا سبب بنا دیا ۔ (نیک لوگوں سے فائدہ پہنچتا ہے) نیک والدین کا اثر اولاد کو فائدہ کی صورت نصیب ہوتا ہے دنیا اور دین دونوں کے اعتبار سے اور محض اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہوتا ہے چناچہ بزرگوں ، علماء اور مشائخ کی اولاد کا احترام کرنا اور ان سے رعایت کا معاملہ کرنا چاہئے تو یہ وہ حالات تھے جن کے لیے یہ سب کچھ ظہور پذیر ہوا جس پر آپ سے صبر نہیں ہو پا رہا تھا ۔
Ayahs 18:83–101

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں فرما دیجئے کہ میں ان کا کسی قدر حال تم کو پڑھ کر سناتا ہوں

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کو زمین پر حکومت بخشی تھی اور ان کو ہر طرح کا سامان عطا فرمایا تھا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو انہوں نے سفر کا سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ (زمین کی مغربی حد) پر پہنچے تو انہوں نے اس (آفتاب) کو ایک سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا پایا اور اس کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے فرمایا (الہام کرکے) اے ذوالقرنین ! تم یا (ان کو) سزا دو اور یا ان کے بارے نرمی کا رویہ اختیار کرو

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا جو ظلم (دعوت سے انکار) کرے گا تو اسے ہم سزا دیں گے پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے برا عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لے آیا اور نیک کام کیے تو اس کو (آخرت میں بھی) بدلے میں بھلائی ملے گی اور ہم اپنے معاملے میں بھی اس سے نرم بات (مہربانی) کریں گے

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر ایک اور سامان سفر کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سورج کے طلوع ہونے پر مقام پر پہنچے (زمین کے دوسرے سرے پر) تو اس (سورج) کو ایسے لوگوں پر طلوع ہوتے پایا جن کے لئے ہم نے اس (سورج) کی طرف سے کوئی لوٹ نہیں بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

(حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا بیشک ہم کو سب کی خبر تھی

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر ایک اور راہ پر ہو لئے

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ دو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچے تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں جو بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

لوگوں نے عرض کیا اے ذوالقرنین ! بیشک یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں سو کیا بھلا ہم آپ کے لئے خرچ کا اہتمام کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان دیوار کھینچ دیں ؟

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

فرمایا خرچ کا جو مقدور ا سلسلے میں میرے رب نے مجھے بخشا ہے بہت اچھا ہے سو تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط آڑ بنادوں گا

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ یہاں تک کہ جب انہوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا فرمایا (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اس کو آگ (کی مانند) کردیا تو فرمایا میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ کہ میں اس پر ڈال دوں

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر یہ اس پر چڑھ نہ سکیں گے اور نہ اس میں نقب لگا سکیں گے

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

فرمایا یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے پس جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو وہ اس کو (گرا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوجائیں اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس روز ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں (بند) تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں جانب زخم کی نشان تھے ، نام سکندر اور لقب ذوالقرنین تھا ، قرآن نے اس کے مومن صالح اور عظیم حکمران ہونے کی خبر دی ہے ، اس کے علاوہ اسرائیلی روایات ہیں جن کا اعتبار نہیں ہاں اس نام کے کئی لوگ گذرے ہیں جن کے نام بھی سکندر ہی تھے اور ان سب میں آخر وہ سکندر تھا جو مقدونیہ کا رہنے والا اور سکندر اعظم مشہور ہے اسے ذوالقرنین قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ مومن نہ تھا بلکہ مشرک تھا اور آتش پرست تھا ، ارسطو اسی کا وزیر تھا یہ ذوالقرنین البدایہ والنہایہ کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا ہے ۔ واللہ اعلم۔ بہرحال ارشاد ہوا کہ ان سے کہیے میں تمہیں اس کا کچھ احوال سناتا ہوں گریا یہ تفصیل جو ضروری نہیں خود کتاب اللہ مذکور نہیں ہے ، بات یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اسے بہت مضبوط سلطنت بخشی تھی ۔ (حکومت بھی بہت بڑی نعمت ہے) اور اس کے پاس سلطنت کی بقا اور دشمنوں سے مقابلہ کے تمام اسباب مہیا تھے کہ حکومت واقتدار اگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے ساتھ نصیب ہو تو بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ چناچہ وہ ایک سمت نکلا اور شہروں پہ شہر اور علاقے فتح کرتا ہوا انتہائی مغرب میں جا پہنچا جہاں آگے خشکی نہ تھی بلکہ حد نگاہ پر سورج سیاہ دلدل یعنی سمندر میں ڈوبتا ہوا لگتا تھا وہاں اسے ایک کافر اور انتہائی ظالم قوم سے واسطہ پڑا جن پر وہ غالب آیا اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے ارشاد ہوا ۔ (ولی سے بھی خطاب ممکن ہے) کہ اے ذوالقرنین انہیں سزا دے یا حسن سلوک کرے تجھے اس کا اختیار ہے ، یہاں بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ممکن ہے وہ نبی ہو اور بذریعہ وحی خطاب ہوا ہو ، بعض کے مطابق حضرت خضر (علیہ السلام) اس کے معاون تھے ، ان کے ذریعے ہوا مگر ان کی نبوت پہ بھی کوئی دلیل نہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ خود اسے الہام یا القا ہوا کہ ولی سے خطاب بھی ہو سکتا ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے ہوا اور انہوں نے اس پر عمل بھی کیا ، لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ اگر یہ لوگ باز آگئے اور تائب ہوگئے ، تو بہتر ورنہ جو ظلم پہ قائم رہے انہیں ضرور سزا دوں گا اور قتل کئے جائیں گے ، مگر کفر کے مقابل تو یہ سزا بھی بہت معمولی ہے اصل سزا تو انہیں قتل ہونے کے بعد ملے گی جب برزخ اور آخرت میں پہنچیں گے تو اللہ جل جلالہ انہیں سخت عذاب دے گا ہاں جن کو ایمان نصیب ہوگیا اور انہوں نے اپنا کردار درست کرلیا اور صالح اعمال اختیار کیے تو ان پر کوئی سختی نہ کی جائے گی بلکہ انعامات سے نوازے جائیں گے اور عزت واحترام پائیں گے ۔ پھر وہ سفر پہ نکلا تو انتہائے مشرق تک جا پہنچا یوں نظر آتا تھا جیسے سورج یہیں سے طلوع ہوتا ہے کہ زمین اور خشکی کی حد ختم ہوگئی ، اور وہاں ایسی قوم سے واسطہ پڑا جو کھلے آسمان تلے رہنے کے عادی تھے اور گھر نام کی کوئی شے نہ بناتے تھے ان سے بھی وہی معاملہ کیا جو اہل مغرب سے کیا تھا کہ یہ جو بات بتائی جا رہی ہے یہ اس کی حقیقی خبر ہے محض قصہ کہانی کی طرح کی بات نہیں ۔ پھر تیسری جانب متوجہ ہوا مفسرین کے مطابق شرق وغرب کی تسخیر کے بعد شمال کا عزم کیا اور بلند پہاڑوں کے درمیان ایسی قوم کو پایا جن کے پاس کوئی لغت نہ تھی ، اور نہ علم کے ذرائع تھے کہ وہ باشعور ہوتے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین ہمیں تو یاجوج وماجوج کی تباہی کا سامنا ہی پریشان کئے رکھتا ہے اور ہم کچھ بھی تو کر نہیں پاتے ، نہ قیام امن کی کوئی صورت ہے نہ تحصیل علم کی ۔ (یاجوج وماجوج کیا ہیں) اس موضوع پر بہت طویل بحثیں کی گئی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ انسانوں ہی میں سے ایک بیحد وحشی قوم شمال کے علاقوں میں اسی سد سکندری کے پیچھے قید ہے جو قرب قیامت میں نکلے گی اور روئے زمین کو تاخت و تاراج کر دے گی اور پھر اللہ جل جلالہ کے حکم اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے کسی وباء میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوجائے گی ، یہ سب ظہور دجال ، نزول عیسیٰ (علیہ السلام) اور یاجوج وماجوج قیامت سے پہلے کے واقعات ہیں جو ظہور پذیر ہوں گے ، چناچہ انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ ان سے حفاظت کا کوئی طریقہ بتادیں یا ان کے اور ہمارے درمیان دیوار کھڑی کردیں تو ہم اس کے لیے ٹیکس اور مالی معاونت کو تیار ہیں آپ نے کہا کہ مال و دولت تو مجھے میرے رب نے بہت دے رکھا ہے ہاں تو تم کام کر کے دو اور افرادی قوت سے میری مدد کرو تو میں اس درے میں ایک ناقابل شکست دیوار بنا دوں ، چناچہ اس نے لوہے کی موٹی چادریں منگوائیں اور اس طرح ان کی دیوار بنائی کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کو بھر کر برابر کردیا ، پھر انہیں گرم کرانا شروع کردیا جب وہ سب گرم ہو کر آگ کی طرح دہکنے لگیں تو ان پر پگھلا ہوا تانبہ ڈلوا دیا اور یوں وہ سب ایک جان ہو کر ایک بہت مضبوط دیوار بن گئی تو کہا لو اب نہ تو وہ اس پر چڑھ سکیں گے کہ اس کی سطح ایسی نہیں کہ اوپر چڑھا جاسکے اور بہت مضبوط ہے نہ ہی اس میں سوراخ کرسکیں گے ، یہ دیوار اور اس کے بنانے کی توفیق سب ہی تو میرے رب کی رحمت ہے ہاں جب اللہ جل جلالہ کا وعدہ آئے گا اور وہ انہیں راستہ دینا چاہے گا تو اس کی مضبوطی وغیرہ کچھ نہ رہے گی اور یہ تباہ ہوجائے گی کہ میرے پروردگار کے وعدے یقینی طور پر سچے ہیں ۔ اور جب ان کے نکلنے کا زمانہ آئے گا تو ایک سیلاب کی طرح ملکوں پہ بڑھتے اور تباہ کرتے چلے آئیں گے اور ہر شے کو تاراج کردیں گے ، یہ قرب قیامت کا زمانہ ہوگا کہ پھر اس کے بعد ہی واقعات قیامت شروع ہوجائیں گے اور صور پھونکے جائیں گے دنیا کی بساط لپٹ جائے گی اور کفار جہنم کو رو برو پائیں گے ، وہ لوگ جو دنیا میں محو ہو کر میری یاد بھول چکے تھے اور ایمان تک نہ لائے اور احقاق حق کی پرواہ تک نہ کی بلکہ سنی ان سنی کرتے رہے ۔
Ayahs 18:102–110

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافروں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے یقینا ہم نے کافروں کی دعوت کے لئے دوزخ تیار کررکھی ہے

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ کیا ہم تمہیں بتائیں کہ جو لوگ اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارے میں ہیں

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ جن کی محنت دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات اور اس کے سامنے جانے کو ماننے سے انکار کردیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے سو ہم قیامت کے دن ان کے لئے (نیک اعمال کا) کوئی وزن قائم نہیں فرمائیں گے

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

اس لئے ان کی سزا جہنم ہے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

یقینا جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کے لئے جنت الفردوس (میں) مہمانی ہوگی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے کہیں اور جانا نہ چاہیں گے

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے لئے روشنائی بن جائے تو میرے پروردگار کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے اور اگرچہ اس کی مدد کے لئے ہم ایک اور (سمندر) لے آئیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ بیشک میں تمہاری طرح کا بشر (آدمی) ہوں (البتہ) میرے پاس وحی آتی ہے یہ کہ تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے پھر جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھتے پس چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔ (خلاف شریعت عمل خسارہ ہے) یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر خلاف شریعت ساری محنت اور زندگی بھر کا عمل نہ صرف ضائع گیا بلکہ الٹا باعث عذاب بن گیا لہذا ایسے لوگ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے رہے ۔ ان کے اعمال کے ضیاع کا باعث ان لوگوں کا کفر ہے کہ نہ انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کو تسلیم کیا اور نہ آخرت اور اللہ جل جلالہ کے حضور حاضری پہ ایمان لائے چناچہ اگر ان سے اتفاقا کوئی اچھا کام بھی ہوا تو اس کی بنیاد ایمان پر نہ تھی لہذا وہ انہوں نے آخرت کے لیے تو کیا ہی نہ تھا اس کا آخرت پہ کوئی اثر مرتب نہ ہوسکا اور یوں وہ اپنے کئے کی سزا میں جہنم رسید ہوئے یہ خود کو بہت بڑا دانشور شمار کرتے تھے اور انبیاء کا مذاق اڑاتے اور میرے احکام کو ناقابل عمل کہتے تھے ، اسی لمحے جب ان کے لیے دوزخ کا اعلان ہو رہا ہوگا میرے ایماندار اور اطاعت شعار بندوں کو انعامات سے نوازا جا رہا ہوگا اور ان کی مہمانداری کے لیے جنت کو سنوارا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ہر آن نئی لذتوں سے سرشار ہو کر کبھی سیر نہ ہوں گے کہ کہیں اور جانے کا خیال بھی دل میں لائیں ، اگر کسی کو یہ خیال گذرے کہ اتنی زیادہ لذتیں اور ذائقے کیسے بن سکتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر سمندروں کو بطور سیاہی استعمال کیا جاسکے تو اللہ جل جلالہ کی شان اس کے اوصاف و کمالات کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، حتی کہ لکھتے لکھتے نہ صرف سمندر ختم ہوجائیں بلکہ اتنے اور سمندر بھی اس میں شامل کرلیے جائیں ، لہذا یہ ذائقے بنانا بھی اسی کا کام ہے فرما دیجئے کہ میں نے اپنی ذات کو معبود بنانے کا نہیں کہا میں تو خود تمہاری طرح انسان ہوں ، اولاد آدم میں سے ہوں ، ہاں حق یہ ہے کہ تم محض عام انسان ہو اور میں اللہ کا رسول ہوں کہ مجھ پر اللہ جل جلالہ کی طرف سے وحی آتی ہے ، احترام و عظمت رسالت بجا مگر میں ہوں آدمی ہی لہذا میری بھی پوجا نہ کرو ، بلکہ اپنے پروردگار سے ملنے کی تیاری کرو جس کا حسن دو باتوں میں ہے کہ اعمال صالح کرو یعنی اپنی دانشوری نہ جتاؤ ، اللہ جل جلالہ کے حکم اور نبی کی سنت کے مطابق کام کرو اور کبھی بھی اور کسی طرح بھی ذات یا صفات میں اللہ جل جلالہ کے ساتھ شرک مت کرو جو سب عبادات کو تباہ کردیتا ہے ۔