18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 18:32–44

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان کے لئے دو شخصوں کا حال بیان کیجئے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دے رکھے تھے اور ان دونوں کے گردا گرد کھجوروں کے درخت سے احاطہ بنا رکھا تھا اور ہم نے ان دونوں کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

یہ دونوں باغ اپنا پورا پورا پھل دیتے تھے اور ان (کی پیداوار) میں ذرا بھی کمی نہ ہوتی تھی اور ان دونوں کے درمیان ہم نے نہر چلا رکھی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار ملتی رہتی تھی (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کررہا تھا تو اس سے کہنے لگا کہ میں تم سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جماعت کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور اپنے حق میں (ایسی شیخیوں سے) ظلم کرتا ہو اپنے باغ میں داخل ہوا تو کہنے لگا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت برپا ہوگی اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو وہاں پہنچ کر ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کادوست جو اس سے گفتگو کررہا تھا کہنے لگا کیا تم اس (ذات) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو (اول) مٹی سے پیدا فرمایا پھر نطفہ سے پھر تم کو پورا پورا آدمی بنایا۔

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میں تو کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئیتو تم نے یوں کیوں نہ کہا جو اللہ کو منظور ہو رہی وہی ہوتا ہے اللہ کی مدد کے سوا (کسی میں) کوئی قوت نہیں (ماشاء لاقو الا باللہ) اگر تم مجھ کو مال اور اولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتے ہو تو

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے اچھا عطا کردے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے پھر وہ چٹیل میدان ہوجائے

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی بالکل (زمین میں) اندر اتر جائے پس تم اس کو ہرگز نہ لاسکو

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے پھلوں (مال ومنال) کو (عذاب نے) آگھیرا اس نے جو اس (باغ) پر خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتارہ گیا اور وہ (باغ) اپنی چھتریوں پر گرا ہوا (پڑا) تھا اور کہنے لگا اے کاش ! میں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا تھا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور (اس وقت) اس کے لئے اللہ کے علاوہ کوئی جماعت نہ ہوئی جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ (خود ہم سے) اس کے لئے اللہ کے علاوہ کوئی جماعت نہ ہوئی جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ (خود ہم سے) بدلہ لے سکا

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے موقع پر مدد کرنا اللہ سچے (برحق) ہی کا کام ہے اسی کا ثواب اور اسی کا نتیجہ سب سے اچھا ہے

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں باتوں میں اس امیر آدمی نے اپنی دلی کیفیت کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ اے دوست میں تیری نسبت بہت زیادہ امیر اور مال وزر کا مالک ہوں اور میری ساتھ میری اطاعت کرنے والے لوب بھی بہت ہیں ، جبکہ تو خیال کرتا ہے کہ میرا عقیدہ اور طریقہ باطل ہے اور تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے ، لہذا تجھے اللہ جل جلالہ سے انعام ملے گا تو معاملہ تو بالکل برعکس ہے ، مال وزر ، خدم وحشم اور باغات سب کچھ میرے پاس ہے اگر تو سچا ہوتا تو یہ نعمتیں تیری پاس ہوتیں ، وہ اپنے باغات میں داخل ہوا تو بہت اکڑ رہا تھا اور دولت نے اسے اندھا کردیا تھا کہنے لگا بھلا ایسے شاداب باغات جن کے درمیان دریا بہتا ہو کبھی خراب بھی ہو سکتے ہیں کبھی نہیں اور یہ جو قیامت کی بات کرتے ہیں میں اس پر یقین نہیں کرتا یہ تو غریب لوگوں نے کود کو تسلی دینے کے لیے سہانے خواب تراش رکھے ہیں ، لیکن اگر ایسا ہوا بھی اور مجھے اپنے پروردگار کے حضور جانا بھی پڑا تو مجھے ان باغات سے بہتر باغات مل جائیں گے کہ تمہارا خیال بھی تو جنت کے دنیا سے بہتر ہونے کا ہے اور مقبول بندوں کو ہی ملے گی لہذا میرا دولت مند ہونا میری مقبولیت ہی کی دلیل تو ہے جیسے آج کل بھی محض دولت دیکھ کر کہہ دیا جاتا ہے اس پر اللہ جل جلالہ کا بہت کرم ہے خواہ اسے ایمان بھی نصیب نہ ہو ، کہ دولت دنیا بھی ایمان کے ساتھ ہی نعمت ہے ورنہ وبال ہے ، تو اس کے دوست نے کہا بلکہ زور دے کر کہا کہ تو ایسے عظیم خالق سے کفر کرنے لگا ہے جس نے تجھے ایک مشت غبار سے پیدا کیا اس کے وسیع نظام میں وہ خاک غذا بنی ، مختلف اجسام میں پہنچی ، پھر نطفہ بنی شکم مادر میں گئی اور اللہ جل جلالہ نے تجھے ایک نطفے سے کیا خوبصورت انسان بنا دیا ۔ اگر تو کفر بھی کرے تو میں تیری دولت سے مرعوب ہو کر تیرے پیچے نہ چلوں گا ، بلکہ میرا تو عقیدہ ہے کہ اللہ جل جلالہ ہی میرا رب ہے وہی میری حاجات کو پورا کرنے والا ہے اور میں اس کی ذات یا صفت میں ہرگز کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ۔ تیرے لیے بھی بہت بہتر ہوتا کہ جب تو اپنے باغ میں پہنچا اپنی دولت اور شان و شوکت دیکھی تو کہتا ” ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “۔ کہ اللہ جل جلالہ ہی جو چاہے وہ ہوتا ہے ، اس کے سوا کوئی طاقت نہیں تو نے مجھے مال یا اولاد میں اپنے سے کم تر پایا تو تجھے اس پر اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا نہ کہ کفر کرنے لگتا ۔ کہ اللہ جل جلالہ قادر ہے مجھے تیرے باغات سے بہتر باغات عطا کردے تو تیری باغات پہ کوئی آفت نازل کردے جو اسے تباہ کر دے اور تو ہاتھ ملتا رہ جائے کہ باغات کی جگہ چٹیل میدان سامنے ہو ، یا وہ قادر ہے کہ تیری نہر کا پانی خشک کر دے جو باغات کی شادابی کا سبب ہے اور باغ اجڑ جائیں اور تو نہر میں پانی واپس تو نہ لاسکے گا ۔ اور ایسا ہی ہوا اس کے کفر اور متکبرانہ رویے پر اس کے باغ اجاڑ دیئے گئے ، سارے پھل تباہ ہوگئے اور ایک صبح وہ گیا تو باغات اکھڑ کر اوندھے پڑے تھے ، اور ہر طرف ویرانی کا راج تھا تو اس نے بہت ہاتھ ملے اور کہنے لگا کاش میں اپنے پروردگار سے شرک نہ کرتا تو ممکن تھا کہ ایسی آفت نہ آتی یا دنیا کی مصیبت آتی تو آخرت کا اجر تو تباہ نہ ہوتا ، اب تو دونوں عالم تباہ ہوگئے ، اس حال میں اسے کچھ کام نہ آیا نہ دولت دنیا اور نہ خدام کی فوج اس کی کوئی مدد کرسکی اور یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سب اختیار اللہ جل جلالہ کو ہے اور اسی کا اقتدار سچا ہے ، اسی کے انعامات کام آسکتے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ اگر وہ عطا نہ کرے تو کوئی بھی نہ دنیا میں کام آسکتا ہے اور نہ آخرت میں ۔
Ayahs 18:45–49

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجئے (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جس کو ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کو روائیدگی مل گئی پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے (اولاد) دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والے نیک اعمال آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی اچھے ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے (ہٹا دیں گے) اور تم زمین کو ایک کھلا میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں) کو ہم جمع کریں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب کے سب آپ کے پروردگار کے روبرو صف باندھ کر پیش کیے جائیں گے (ارشاد ہوگا) بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آگئے جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا فرمایا تھا بلکہ تمہارا خیال تو یہ تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں فرمایا

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے وائے شامت ! یہ کیسی کتاب ہے نہ چھوٹی بات (گناہ) کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی بات کو مگر اسے لکھ رکھا ہے اور جو عمل کیے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر زیادتی نہیں کرے گا

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ ﷺ انہیں بتا دیجئے کہ حیات دنیا کی مثال تو لوگوں کے سامنے ہے جیسے بادل برستے ہیں تو زمین کا سینہ سبزے سے بھر جاتا ہے اور ہر طرف ہریالی کا راج نظر آتا ہے مگر تابہ کے آخر ایک روز وہ سوکھ کر اور ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جاتا ہے اور ہوا اسے اڑائے اڑائے پھرتی ہے کہیں اس کے قدم لگتے ہیں نہ اس کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے ، اسی طرح افراد اور اقوام کی مثال سامنے ہے کہ مختلف اقوام برسراقتدار آتی ہیں تو یوں نظر آتا ہے کہ انہیں زوال کا کوئی اندیشہ نہیں مگر پھر فنا ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، افراد کو دیکھو کیسے کیسے تنومند اور کڑیل جوان پیوند خاک ہوجاتے ہیں ۔ صرف اور صرف اللہ جل جلالہ کی ذات سب انقلابات سے بالاتر ہمیشہ رہنے والی اور ہر چیز پر قادر ہے ، مال و دولت دنیا بیشک دار دنیا کی زینت ہیں مگر باقیات صالحات آپ کے پروردگار کے ہاں بہت بہتر ہیں جن کا بدلہ بھی بہترین ملنے کی توقع ہے ۔ (باقیات صالحات اور مال و دولت اور اولاد) باقیات صالحات سے علماء تفسیر نے ہر نیک عمل کو بھی مراد لیا ہے اور جائز ذرائع سے حاصل کردہ مال بھی جو حدود شرعی کے اندر خرچ ہو اور نیک اور صالح اولا دبھی غرض کنبہ وقبیلہ ہو یا دوست احباب ، مال و دولت ہو یا اعمال اگر شریعت کے مطابق ہیں تو سب باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں اور اگر یہی زر ومال ناجائز ہے اور ناجائز امور پر خرچ ہو رہا ہے یا اولاد اور کنبہ قبیلہ یا دوست احباب اور ملازم شرعی حدود کی پرواہ نہیں کرتے تو یہ سب دنیا کے زیب وزینت اور چند روزہ زندگی میں رعب داب کا سلب تو یقینا ہوگا مگر آخر یہی سب کچھ باعث حسرت بن جائے گا کہ زور مال اور گھر بار کیا ایک روز تو پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر چلنے لگیں گے اور بالآخر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ، اور زمین کی سب رونقیں تباہ ہوجائیں گی ، نہ آبادی بچے گی نہ کوئی ویرانہ بلکہ سب کچھ اکھاڑ پچھاڑ کر زمین کو ایک چٹیل میدان بنا دیا جائے گا اور سب کو ایک جگہ جمع کرلیا جائے گا ان بڑے بڑے متکبرین میں نہ کوئی چھپ سکے گا اور نہ بھاگ کر کہیں جاسکے گا ، سارے انسان تیرے پروردگار کے روبرو صف بستہ ہوں گے تو کفار کو ارشاد ہوگا کہ تمہارا مال ومنال اور جھوٹی عزت اور وقتی اقتدار تمہارا ساتھ تو نہ دے سکے اور تم بالکل ویسے ہی خالی ہاتھ جیسے ہم نے تمہیں پہلے پیدا کیا تھا آج دوبارہ زندہ ہو کر ہماری بارگاہ میں حاضر ہو ، تمہارا خیال تو تھا کہ تمہیں دوبارہ زندہ نہ کیا جائے گا تم میں اتنا شعور بھی نہ تھا کہ جو پہلے پیدا کرنے پر قادر تھا وہ دوبارہ کرنے پہ بھی قادر ہے ، اتنی سی بات مان کر نہ دی اور سب کے اعمالنامے کھول کر سامنے رکھے جائیں گے تو بدکار لرز اٹھیں گے اور کہیں گے کہ افسوس اس نے تو کوئی چھوٹی بڑی بات رہنے نہ دی بلکہ سب کچھ لکھ کر آج سامنے کردیا ، اور اپنے کردار کو سامنے پائیں گے اور تیرا پروردگار کسی کے ساتھ بھی ہرگز زیادتی نہ کرے گا ۔ (سزا از جنس اعمال ہوتی ہے) اپنا کیا سامنے پائیں گے سے ظاہر ہے کہ سزا از جنس اعمال ہوگی جس طرح کے گناہ ہوں گے ویسے ہی سزا کی صورت ہوگی بلکہ وہی گناہ مجسم ہو کر اس طرح کی سزابن جائیں گے۔
Ayahs 18:50–53

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے کہا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا پس اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی۔ سو کیا تم اس کو اور اسکی اولاد (چیلے چانٹوں) کو میرے سوا دوست بناتے ہو اور حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ظالموں کیلئے (شیطان کی دوستی) برا بدل ہے

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرتے وقت بلایا اور نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بناتا

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن وہ (اللہ) فرمائے گا جن کو تم ہمارا شریک سمجھتے تھے ان کو بلاؤ تو وہ ان کو بلائیں گے پھر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور تب مجرم آگ کو دیکھیں گے پس وہ جان لیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف ذرا وہ وقت تو یاد کرو کہ ہم نے تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو کتنا شرف بخشا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو ، لہذا سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ جو وہاں موجود تھا اور اس حکم میں شامل تھا سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور آدم (علیہ السلام) کی دشمنی میں اپنے پروردگار کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا تو لوگو کیا تو آج اللہ جل جلالہ کی ذات کو چھوڑ کو اسی ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناؤ گے ، حالانکہ وہ تو ابھی تک بھی اور ہمیشہ تمہارے دشمن ہیں ۔ (شیطان کی ذریت یعنی اولاد بھی ہے) حضرت استاذنا المکرم (رح) نے ایک بار فرمایا تھا کہ زمین پر جس قدر انسانی آبادی ہے جنات تقریبا اس سے نو گنا زیادہ ہیں کہ وہ پہلے سے آباد چلے آرہے ہیں اور انسانوں اور جنوں کی مجموعی آبادی سے شیاطین نو گنا زیادہ ہیں ، جس کا ایک بڑا سبب ان کی طوالت عمر بھی ہے کہ ابلیس کو لمبی زندگی یعنی قیام قیامت تک کی مہلت ملی تو اس کا اثر اس کی اولاد کی عمروں میں بھی ہے اور یہ ہزاروں سال زندہ رہتے ہیں ، انسان اور جن جو اسی کا کام کرتے ہیں وہ الگ سے اس کا لاؤ لشکر ہیں ، اللہ جل جلالہ ہی سے پناہ طلب کرنا چاہئے ، تو جو لوگ ابلیس سے دوستی کرتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں وہ اس کے بدلے میں اللہ جل جلالہ کی دوستی اور اطاعت کو چھوڑتے ہیں تو انہوں نے بہت ہی بڑا بدلہ پایا ۔ آخر شیطان سے امیدیں وابستہ کرنے والوں کے پاس کیا دلیل ہے ان کے خیال میں ارض وسما بنانے میں وہ بھی شامل تھے یا خود ان کی تخلیق میں اللہ جل جلالہ نے ان سے مدد لی تھی ہرگز نہیں بھلا عظمت باری کو یہ کب زیب دیتا ہے کہ وہ گمراہ کرنے والوں کو اپنی خدمت پہ لگا لے کہ احتیاج تو اسے ہے نہیں اور خوش ہو کر کسی کو اپنے کام پر لگا بھی دے تو ایسے بدکاروں سے تو اس کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ آخر ایک روز ہم ان سب مشرکوں سے کہیں گے کہ آج میدان حشر میں ذرا ان کو پکارو جنہیں دنیا میں میں تم نے ہمارا شریک مان رکھا تھا تو اگر چلاتے بھی رہے تو وہ جواب بھی نہ دے سکیں گے کہ ہم ان سے سننے بولنے کے مواقع بھی سلب کرلیں اور دونوں کے درمیان آڑ بنا دیں گے اگرچہ آڑ نہ ہوتی تو بھی کسی کام نہ آسکتے تھے مگر آڑ کے پیچھے آکر تو ان کا وہاں ہونا نہ ہونا برابر ہوجائے گا ۔ اور کفر وشرک کے مجرم دوزخ کو سامنے پائیں گے اور یہ بھی جان رہے ہوں گے کہ ہمیں اب اس میں گرنا ہوگا مگر وہ بھاگنے کی راہ نہ پائیں گے یعنی سوائے گرنے کے ان کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا ۔
Ayahs 18:54–59

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال بیان فرمائی ہے اور انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑا کرنیوالا ہے

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگنے سے کس چیز نے روکا سوائے اس کے کہ (انتظار کریں) انہیں بھی پہلوں جیسا معاملہ پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آموجود ہو

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ (لوگوں کو) خوشخبری سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں (جگہ سے ہٹا دیں) اور انہوں نے ہماری آیات کو اور جس (عذاب) سے ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ مذاق بنا رکھا ہے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا کہ اسے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا اور جو (اعمال) اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکا وہ بھول گیا۔ یقینا ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اس (حق) کو سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (کہ سن نہ سکیں) اور اگر آپ ان کو راہ راست کی طرف بلائیں تو ہرگز کبھی بھی راہ راست پر نہ آئیں گے

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بخشنے والا رحمت والا ہے۔ اگر ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے بلکہ ان کے لئے ایک وقت مقررکررکھا ہے کہ اس (کے عذاب) سے ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں ہیں (جو ویران ہیں) جب انہوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان (کے باشندوں) کو ہلاک کردیا اور ہم نے ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کیا تھا

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف لوگوں کو اللہ جل جلالہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کرکے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالنا چاہئے مگر ان کا حال تو ایسا ہے گویا جب اللہ نے احسان فرما کر اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہدایت پہنچا دی تو یہ بجائے اللہ سے بخشش مانگنے کے جس کا طریقہ ایمان لانا تھا الٹا پہلی تباہ ہونے والی قوموں جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں سیدھے سامنے آلے ، جبکہ انبیاء کو ثبوت نبوت کے لیے معجزات اور لوگوں کی ہدایت کیلئے واضح قوانین عطا ہوتے ہیں تو یہ لوگ ناحق جھگڑا کھڑا کرنے کے لیے باتیں بناتے ہیں کہ شاید اس طرح حق کو ٹال سکیں گے اور جواب نہ پا کر مذاق اڑاتے ہیں ، دلائل کا جواب تو ہے نہیں نہ دے سکتے ہیں تو ٹھٹھہ کرتے ہیں ۔ مگر یاد رکھو جو بھی ایسا کرتا ہے وہ بڑا ظلم کرتا ہے کہ اسے اللہ جل جلالہ کے احکام پہنچائے جائیں مگر وہ ان سے منہ پھیرلے آخر یہ کس بات پہ اکڑتے ہیں کیا یہ اپنا کردار بھی فراموش کر بیٹھے اور انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ کل ان کے اپنے اعمال بد ہی تو ان کے سامنے ہوں گے ۔ (گناہ اور کفر سے دل پہ پردہ پڑجاتا ہے اور نیکی کی عظمت واہمیت نگاہ سے مٹ جاتی ہے) مگر یہ کیا دیکھ سکیں گے کہ ان کے کفر اور گناہوں کے باعث ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیا ہے ، لہذا بھلائی کو یہ سمجھ ہی نہیں سکتے اور ان کی سماعت کو حق سننے کی استعداد سے محروم کردیا گیا ہے اگر تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا بھی رہے تو اب کبھی ہدایت نہ پا سکیں گے کہ نہ تو دعوت سن سکتے ہیں اور نہ راہ ہدایت کی خوبی دیکھ سکتے ہیں ۔ اس سب کے باوجود بھی تیرا پروردگار بہت بخشش اور بڑی رحمت والا ہے ورنہ ان کا کردار تو ایسا ظالمانہ تھا کہ انہیں فورا پکڑا جاتا اور ان پر عذاب نازل کردیا جاتا کہ اللہ کو چھوڑ کر ابلیس کو دوست بنا کر اس کی اطاعت کرتے ہیں مگر انہیں پھر مہلت دے دی اور ان سب کے لیے بھی موت کا بھی اور حساب کا بھی ایک وقت مقرر کردیا مگر اس وعدے سے ہرگز نہ بھاگ سکیں گے اور نہ سرک جانے کا کوئی راستہ پائیں گے پہلے ایسی بستیاں اور ان کے نشان عبرت کے لیے ابھی موجود ہیں جن کے رہنے والوں نے ظلم کئے گمراہی اختیار کی تو اللہ جل جلالہ نے انہیں تباہ وبرباد کردیا اور ان کو بھی مہلت دی گئی مگر جب مقررہ وقت آیا تو تباہ ہوگئے ۔
Ayahs 18:60–70

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا کہ جب تک میں دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر نہ پہنچ جاؤں میں سفر جاری رکھوں گا یا یونہی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پس جب وہ دونوں ان کے ملنے کی جگہ پہنچے تو اپنی مچھلی کو دونوں بھول گئے تو اس (مچھلی) نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنایا

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پس جب دونوں (وہاں سے) آگے بڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارے لئے صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہم اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

اس نے کہا دیکھئے جب ہم اس پتھر کے قریب ٹھہرے تھے تو بیشک میں مچھلی (کے تذکرہ) کو بھول گیا اور مجھ کو شیطان ہی نے بھلا دیا کہ آپ سے اس کا ذکر کروں اور اس نے عجیب طرح سے (زندہ ہوکر) سمندر میں اپنا راستہ بنالیا

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

فرمایا یہی تو (وہ مقام) ہے جس کو ہم کو تلاش تھی سو دونوں اپنے پاؤں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس لوٹے

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

تو (وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جس کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور ہم نے اس کو اپنے پاس سے علم بخشا تھا

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان (خضر) سے کہا کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اگر آپ کو جو علم (اللہ کی طرف سے) سکھایا گیا ہے اس میں سے مجھے بھی بھلائی کی باتیں سکھا دیں

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

انہوں نے کہا یقینا آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کرسکیں گے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس بات کی آپ کو خبر ہی نہ ہو اس پر آپ کیسے صبر کرسکتے ہیں

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا پھر اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیے گا جب تک میں خود اس کا ذکر آپ سے نہ کردوں

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور پر کوئی برائی کا حکم صادر ہو تو اس کا نتیجہ اتنا سخت ہو سکتا ہے تو کفار جو پہلے ہی بوجہ کفر غضب الہی کا نشانہ بن رہے ہیں متکبرانہ باتیں بھی کریں تو انہیں مزید گمراہی اور ہدایت سے محرومی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکے گا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا ہوا اور ان پر کیا بیتی کا احوال بھی سن لیجئے آگے ان آیات میں قصہ ارشاد ہوتا ہے جس کی مختصر روئداد حدیث شریف کے مطابق یہ ہے ، صحیح بخاری اور مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ّ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ اور خضر (علیہ السلام) سے ملاقات) کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) سے لوگوں نے سوال کیا کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ علم والا کون ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں سب سے زیادہ علم والا ہوں اگرچہ یہ بات تو حق تھی کہ آپ (علیہ السلام) اولوالعزم رسول تھے اور مکالم الہی آپ (علیہ السلام) کو حاصل تھا مگر آپ کو تو تشریعی علوم دیئے گئے تھے جبکہ تکوینی امور فرشتوں وغیرہ کو ان کی ذمہ داریوں کے بارے عطا ہوتے ہیں ، اسی طرح بعض انسانوں کو بھی اللہ کریم یہ ذمہ داری عطا کردیتے ہیں ، خصوصا اولیاء اللہ کا ایک طبقہ جو خاص منازل قرب حاصل کرلیتا ہے ان کی ارواح بعد وصال ” ملاء الاعلی “ یعنی عرش عظیم پر رہنے والے فرشتوں کی سی ہئیت میں ہوجاتی ہیں اور بعض سے فرشتوں کی طرح خدمت بھی لی جاتی ہے جیسے مثال کی طور پر یہاں خضر (علیہ السلام) کا واقعہ ارشاد ہوا ہے گویا یہ دولت پہلی امتوں کو بھی نصیب تھی تو امت محمدیہ میں تو یقینا ہوگی اور ہے ۔ (کیا خضر (علیہ السلام) نبی تھے یا کیا وہ زندہ ہیں یا تب تھے) اس پر یقینا مختلف آراء ہیں جو دونوں احتمال بیان کرتی ہیں مگر تحقیق یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) نبی نہ تھے نہ ان کی کسی کتاب کا تذکرہ ہے نہ کسی امت کا بیان اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے فوت ہوچکے تھے یہ تمام تکوینی امور ان کی روح انجام دے رہی ہے جیسے یہ کام فرشتے انجام دیتے ہیں تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ انہیں مدد کے لیے پکارنا بھی ویسا ہی جرم اور گناہ ہوگا جیسے فرشتوں کو کفار پکارا کرتے تھے ۔ چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا تو حکم ہوا کہ آپ معاملہ میرے سپرد کرتے اور کہہ دیتے کہ اللہ جل جلالہ بہتر جانتا ہے یا اللہ جل جلالہ نے مجھے سب سے زیادہ علم دیا ہے اب آپ ہمارے ایک بندے سے ملئے جو مجمع البحرین میں ہے اور دیکھئے کہ ہم نے اپنے بندوں کو کیسے علوم سے نوازا ہے چناچہ آپ روانہ ہوئے تو یہی بات ان آیات میں ارشاد ہوتی ہے جن کا مفہوم شروع ہوتا ہے ، اور ساتھ حدیث شریف کے مطابق تشریح بیان ہوتی چلی جائے گی ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا کہ اب تو میں چلتا ہی رہوں گا تا آنکہ مجمع البحرین یعنی وہ جگہ جہاں دو سمندر یا دو دریا ملتے ہیں پالوں خواہ مدت العمر چلنا ہی پڑے ، حقبہ قرنوں کے معنی میں آتا ہے مراد یہ ہے کہ چونکہ اللہ جل جلالہ کا حکم ہے لہذا اگر ہمیشہ چلتے ہی بیت جائے تو بھی تعمیل ارشاد میں چلتا ہی رہوں گا ، آپ کے ساتھ یوشع بن نون بحیثیت خادم تھے اور اللہ جل جلالہ کا حکم ہوا کہ ایک مچھلی ساتھ رکھ لیں ، جب مجمع البحرین پہ آپ پہنچیں گے تو وہ معجزانہ طور پر زندہ ہو کر پانی کے اندر چلی جائے گی وہاں آپ کی ملاقات اس بندے سے ہوگئی ۔ چناچہ آپ چلتے رہے حتی کہ ایک ایسی جگہ پہنچے اور ایک جگہ آرام فرمایا تو مچھلی کا خیال نہ رہا ، حالانکہ وہ زندہ ہو کر نہ صرف پانی میں چلی گئی بلکہ جس طرف گئی پانی کے اندر ایک سرنگ جیسا راستہ بنتا چلا گیا آپ کو یاد نہ رہا اور اٹھ کر آگے چل دیئے لیکن اللہ جل جلالہ کی شان آگے کے سفر نے آپ کو تھکا دیا اور جہاں رات بسر کی وہاں صبح اٹھ کر ناشتہ طلب فرمایا تو کھانا نکالتے وقت خادم کو یاد آیا کہ میں عرض کرنا بھول گیا تھا شاید ہم منزل سے آگے چلے آئے ہیں ، اس لیے آپ کو تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے ۔ (عجیب بات) یہ عجیب نکتہ ارشاد ہوا کہ خلوص کے ساتھ اللہ جل جلالہ کی اطاعت میں کام کیا جائے تو تھکاوٹ نہیں ہوتی ، اسی لیے اہل اللہ سے شب بھر کی عبادات کا پتہ ملتا ہے مگر ہم اگر عبادت کا بوجھ محسوس کرتے ہیں تو یہ دلیل ہے کہ اطاعت سے تجاوز ہو رہا ہے اور خلوص نہیں رہا ، تو فورا خادم کو یاد آیا عرض کرنے لگا کہ دیکھئے جب ہم نے وہاں چٹان پر آرام کیا تھا اور آپ سو رہے تھے تو مچھلی تو زندہ ہو کر پانی کے اندر چلی گئی اور جس طرف وہ گذرتی چلی گئی عجیب و غریب راستہ بنتا چلا گیا مگر میں آپ سے ذکر کرنا ہی بھول گیا اور یقینا مجھے شیطان نے بھلا کر دوسری باتوں میں لگا دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمیں وہی جگہ تو تلاش کرنا تھی چناچہ انہی نشانات پہ چلتے ہوئے واپس ہو لئے اور وہی راستہ دریافت کرلیا جہاں سے مچھلی گذر کرگئی تھی ، تو وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا یعنی خضر (علیہ السلام) کو جنہیں ہم نے اپنی خاص رحمت اور مقبولیت عطا کر رکھی تھی اور انہیں ایک خاص علم عطا فرمایا تھا جو انہوں نے بلاواسطہ ہماری ذات سے حاصل کیا تھا ۔ (کیا یہ نعمت صرف خضر (علیہ السلام) کو عطا ہوئی ؟ ) یہ فرمانا کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے بہت بندے ہو سکتے ہیں جنہیں علم لدنی کی دولت نصیب ہوئی ہو اور یہ محض اللہ جل جلالہ کی عطا سے اور بغیر معروف طریقہ اکتساب کے حاصل ہوتا ہے ، اہل اللہ کو جن نعمتوں سے نوازا جاتا ہے یا دل روشن ہو کر جو کچھ پاتا ہے اس کی بنیاد یہی علم لدنی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہر شخص عنایت جداگانہ ہوتی ہے علم لدنی کا یہ خاصہ ہے کہ متعلقہ موضوع ازخود دل سے دریا کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا جاری ہوجاتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے ملاقات پر ان سے فرمایا کہ مجھے اللہ جل جلالہ نے خبر دی ہے کہ آپ کو عجیب و غریب اور انوکھا علم عطا ہوا ہے ، اگر آپ راضی ہو تو مجھے بھی اس میں سے سکھا دیں اور میں آپ کے ساتھ کچھ عرصہ رہوں ۔ (موسی (علیہ السلام) کی فضیلت) موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت تو مسلمہ ہے کہ اولوالعزم رسول تھے اور حضرت خضر (علیہ السلام) ایک ولی اللہ مگر آپ کے علوم نبوت سے متعلقہ یعنی تشریعی تھے اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے تکوینی امور سے متعلق جنہیں آپ نے حاصرحمۃ اللہ علیہ کرنا چاہا تو یہ مثال ایسی ہے جیسا کوئی بہت بڑا عالم اور فقیہہ یا مفسر ومحدث ہو سکتا ہے مگر اسے گاڑی چلانے کا فن نہ آتا ہو تو کسی ڈرائیور ہی سے سیکھے گا اور اس کی فضیلت اپنی جگہ کو وہ دوسرے علم اور دوسرے وصف کے باعث ہے اس میں درس ہے کہ علماء کو یہ فنون سیکھنے چاہئیں جو جہاد کے لیے کام دیں جیسے ہتھیار کا استعمال یا ڈرائیونگ وغیرہ اور اس شاگردی سے اس کا مرتبہ کم نہیں ہوجائے گا ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے عرض کیا آپ برداشت نہیں کر پائیں گے کہ آپ کے پاس احکام شریعت ہیں جن کے مطابق انسانوں کو عمل کرنا چاہئے اور میں دنیا سے گذر چکا آپ کی شریعت کا مکلف تو ہوں نہیں ، میرا کام براہ راست کشف یا الہام کے تابع ہوگا اور تکوینی امور سے متعلق ہوگا ، لہذا آپ کو یقینا نہ صرف عجیب لگے گا آپ اس پر روک ٹوک تک کرنے سے خود کو باز نہ رکھ سکیں گے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ مجھے بہت صابر اور متحمل مزاج بھی پائیں گے اور میں آپ کی ہر بات بھی مان کر چلوں گا ۔ تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے شرط لگا دی کہ ٹھیک ہے چلئے مگر شرط یہ ہے کہ آپ مجھ سے جو کچھ بھی دیکھیں گے اس کے بارے میں سوال نہ کریں گے حتی کہ میں خود اس کی حقیقت آپ پہ بیان نہ کر دوں ۔