15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 15:61–79

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب وہ بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے پاس پہنچے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو وہ فرمانے لگے بیشک تم اجنبی آدمی ہو

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس پر میں یہ شک کرتے تھے

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور یقینا ہم سچ کہتے ہیں

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکلیں اور آپ ان کے پیچھے ہو لیجئے اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے اور جس جگہ کا آپ کو حکم ہے ادھر چلے جائیں

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے ان (لوط علیہ السلام) کے پاس یہ وحی بھیجی کہ صبح ہوتے ان کی جڑ ہی کٹ جائے گی

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور شہر کے لوگ خوش خوش دوڑے آئے

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

انہوں نے (لوط علیہ السلام) نے فرمایا یہ میرے مہمان ہیں سو (ان کے بارے) مجھے رسوا نہ کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور اللہ سے ڈرو اور مجھے بےآبرو نہ کرو

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا ہم آپ کو دنیا بھر کے لوگوں سے منع نہیں کرچکے ؟

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا یہ میری (بہو) بیٹیاں (قوم کی لڑکیاں) موجود ہیں (تم ان سے شادی کرلو) اگر تم (میرا کہا) مانو تو۔

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

آپ کی زندگی کی قسم بیشک وہ اپنی مستی میں مدہوش تھے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پس ان کو سورج نلتے نکلتے سخت آواز نے آپکڑا

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (بستی) کا اوپر کا تختہ (الٹ کر) اس کے نیچے کردیا اور ان لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسانے شروع کیے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

یقینا اس واقعہ میں اہل بصیرت کے لئے کئی نشانیاں ہیں

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور یہ (بستی) ایک سیدھی (آباد) سڑک پر ملتی ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں (دلائل) ہیں

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور اگرچہ بن والے (شعیب (علیہ السلام) کی امت) بھی بڑے ظالم تھے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

سو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلے راستے (سڑک) پر موجود ہیں

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں موخر کردیا گیا ہے حالانکہ دوسری جگہ یہ مقدم ہے اور بعد میں فرشتوں نے اپنا فرشتہ ہونا حضرت لوط (علیہ السلام) پہ ظاہر فرمایا اور اللہ کریم کا پیغام پہنچایا ۔ (کشف کی حقیقت) اس واقعہ سے بھی کشف کی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ جب چاہے اور جس بات سے چاہے نیز جتنا چاہے پردہ ہٹا دیتا ہے ورنہ انبیاء کو بھی علم نہیں ہو سکتا اور جب چاہتا ہے ہوجاتا ہے اس قصد میں نہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے فرشتہ ہونے کا پتہ چلا نہ لوط (علیہ السلام) کو حتی کہ بہت گھبرائے تاآنکہ خود فرشتوں نے بتایا لہذا کشف اللہ جل جلالہ کی طرف سے ایک ذریعہ علم ہے علم غیب نہیں ہے وہ صرف اس کی ذات کا خاصہ ہے ۔ لہذا فرشتوں نے انہیں بتایا کہ ہم کو حسین لڑکوں کی صورت تو محض ان پر حجت تمام کرنے کو دی گئی ہے کہ اگر اب بھی آپ کی اطاعت کرلیں تو بچ جائیں گے ورنہ یہ نہ کہہ سکیں گے کہ ہمیں موقعہ نہ ملا تھا ہم تو اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ان لوگوں کا جھگڑا چکانے کو آئے ہیں جس بات میں یہ آپ سے جھگڑتے ہی رہتے ہیں اور اطاعت نہیں کرتے لہذا ہم حق کے ساتھ آئے ہیں اور یہ بالکل سچی اور کھری بات ہے لہذا آپ کچھ رات گئے اپنے لوگوں کو ساتھ لے یہاں سے کوچ کر جائیے اور جہاں آپ کو جانے کا حکم ہے تشریف لے چلیں مفسرین کرام کے مطابق آپ کو ملک شام چلے جانے کا کہا گیا تھا ، اور آپ سب کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلیں کہ کوئی مسلمان رہ نہ جائے نیز کوئی بھی مڑ کر پیچھے نہ دیکھے کہ ان کا حشر کیا ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے ان کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ صبح ہوتے ہوتے یہ تباہ وبرباد کردیئے جائیں گے ۔ اب پھر قصہ وہاں سے شروع فرماتے ہیں کہ جب وہ فرشتے نو عمر لڑکوں کی صورت حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں پہنچے اور شہر میں خبر ہوئی تو اہل شہر خوشی سے اچھلتے کودتے وہاں پہنچے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کا مقصد بھانپ کر فرمایا کہ شرم کرو یہ میرے مہمان ہیں تم ان سے زیادتی کرو گے تو میری رسوائی ہوگی اللہ جل جلالہ سے حیا کرو اور اس کی گرفت سے ڈرو نیز میری عزت بھی خراب نہ کرو کہ تم صرف گناہ کا ارادہ ہی نہیں کر رہے ساتھ اللہ جل جلالہ کے نبی کی رسوائی بھی کرنا چاہتے ہو اور یہ ایسا جرم ہے جس پر فوری گرفت کا قوی امکان ہے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی الٹا کہنے لگے آپ کیوں سارے جہان کا ٹھیکہ لیتے ہیں جبکہ ۔۔۔۔۔۔ منع بھی کردیا تھا کہ آپ لوگوں کے اور ہمارے درمیان نہ آیا کریں حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری منکوحہ بیبیاں ہیں آخر تم ان سے قضاء شہوت کیوں نہیں کرتے جبکہ یہ تم پر حلال بھی ہیں ۔ (آپ ﷺ کی عظمت کی ایک انوکھی دلیل) مگر آپ کی زندگی کی قسم ، سبحان اللہ یہاں آپ ﷺ کی حیات پاک کی قسم کھائی گئی ہے جس سے مراد ہے کہ آپ کی تمام عمر قبل بعثت اور بعد بعثت اللہ جل جلالہ کی اطاعت عشق الہی اور اس کی رضا کی طلب کا ایسا نمونہ ہے جس کی مثال کسی مقرب فرشتہ میں ملتی ہے نہ کسی نبی اور رسول کی حیات میں کہ اللہ جل جلالہ نے اور کسی کی زندگی کی قسم نہیں کھائی اور قسم سے مراد جس کی قسم کھائی جائے اسے بات مذکورہ پہ بطور گواہ پیش کرنا ہوتا ہے اسی لیے مخلوق کے لیے اللہ کریم کے سوا کسی کی قسم کھانا جائز نہیں مگر اللہ کریم جس بات کو بطور دلیل پیش کریں اس کی قسم کھاتے ہیں تو یہاں آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کو گواہ بنایا کہ وہ راہ راست سے کس قدر دور تھے کہ راہ راست تو آپکی حیات ہے اب انہیں دیکھیں جو اپنی مستی میں ہر بات بھول رہے تھے کہ اچانک سورج نکلنے کے وقت انہیں ایک سخت چنگھاڑ نے آدبوچا جس سے جگر تک پھٹنے لگے مگر اسی پر بس کہاں اس کی زمین ہی کو نیچے تک اکھیڑ کر الٹا کر پھینک دیا گیا نیچے کی طرف اوپر آگئی اور اوپر والے نیچے دھنس گئے نیز آسمانوں سے ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی یعنی ایک دردناک چیخ نے حواس گم کردیئے پھر آسمانوں سے پتھر برسنے لگے اور آخر زمین ہی الٹ دی گئی ان کے حالات پر غور وفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سامان عبرت ہے اور وہ مقام تاحال ایک بڑے راستے پر ان کی بربادی کو اپنی زبان حال سے بیان کر رہا ہے ۔ یہ جگہ اردن میں عرب سے شام جانے والے بڑے راستے پر ہے جہاں ایک بہت بڑا رقبہ سطح سمندر سے بہت نیچے واقعہ ہے اور جس پر ایک سیاہ پانی کا سمندر سا موجود ہے جس میں کوئی حیات نہیں مینڈک اور آبی گھونگا تک نہیں ملتا ہے بلکہ اس کا نام ہی بحر میت (DEAD SEA) ہے جدید تحقیق کے مطابق اس میں پانی کے اجزا کم اور تیل کے اجزاء زیادہ ہیں اس لیے حیات ممکن نہیں مگر یہ شہادت تو موجود ہے کہ کتنی گہرائی تک زمین کو الٹا گیا کہ تیل اوپر آگیا جو سمندروں میں بھی ہزاروں فٹ نیچے کھودنے سے ملتا ہے ۔ (سامان عبرت) یہ جگہیں بھی سامان عبرت ہیں مگر ایمان نصیب ہو تب اسی لیے آپ ﷺ جب کسی ایسی جگہ سے گزرتے تو آپ پر ہیبت طاری ہوجاتی اور سرمبارک جھکا کر گزر جاتے مگر افسوس آجکل اسے تفریح گاہ بنایا گیا ہے اور ہوٹل وغیرہ بنا کر وہاں سیاحوں کو رکھا جاتا ہے جیسے اپنے ہاں موہنجوداڑو ہڑپہ اور ٹیکسلا وغیرہ سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے انہیں سیرگاہ بنایا گیا ہے ، ایسے ہی اصحاب الکیہ یعنی ایک بن میں رہنے والے جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے بھی بڑے ظالم تھے انہوں نے بھی اپنے کئے کی سزا پائی اور انتقام الہی کا شکار ہوئے وہ جگہ بھی ایک بڑے راستے یہ پڑتی ہے یہ وادی حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے ۔
Ayahs 15:80–99

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور بیشک (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں سو وہ ان سے روگردانی کرتے رہے

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے کہ امن سے رہیں

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

سو ان کو صبح کے وقت سخت آواز نے آپکڑا

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

پس جو کام وہ کرتے تھے ان کے کسی کام نہ آئے

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں (مخلوق) کو مصلحت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور قیامت ضرور آکر رہے گی سو آپ ان سے اچھی طرح سے درگز کیجئے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار ہی (سب کچھ) پیدا کرنے والا جاننے والا ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے آپ کو سات آیات جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

آپ ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں بھی نہیں جو ہم نے (کفار کی) کئی جماعتوں کو (دنیا کے) فائدے کے لئے دے رکھی ہیں اور ان پر غم نہ کیجئے اور مومنوں پر شفقت رکھیئے

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور فرما دیجئے کہ یقینا میں تو کھلم کھلا (انجام بد سے) ڈرانے والا ہوں

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

جس طرح ہم نے ان لوگوں پر (عذاب) نازل کیا جنہوں نے (آسمانی کتاب کے) حصے کر رکھے تھے۔

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا (کچھ کو مانتے کچھ کو نہیں)

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

سو آپ کے پروردگار کی قسم ہم سب ضرور باز پرس کریں گے

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس آپ کو جس بات کا حکم فرمایا گیا ہے آپ صاف صاف سنا دیجئے اور (ان) مشرکوں کی پرواہ نہ کیجئے

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

مذاق اڑانے والوں کو ، آپ کی طرف سے ہم کافی ہیں

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیتے ہیں سو ان کو (اس کا انجام) جلدی معلوم ہوجائے گا

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

سو آپ اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کرتے رہئے اور سجدہ کرنے والوں میں رہیے

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کی مدت العمر پوری ہوجائے

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے اور تباہی آتی ہے اور امن کا راستہ صرف اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہی کا ہے نیز قیامت بھی تو بلاشبہ قائم ہوگی جس میں حقیقی سزا وجزا دی جائے گی کہ دنیا کی سزا تو محض گناہ کا ہلکا سا اثر ہے لہذا آپ نہایت مناسب طریقے سے در گذر کیجئے ۔ (تبلیغ دین کے لیے حالات کو برداشت کرنا چاہئے) اس میں دینی تبلیغ کا طریقہ ارشاد فرمایا کہ تحمل اور بردباری سے حالات کا مقابلہ کیا جائے اور دین کا کام کرنے والے فرد کو جذباتی نہ ہونا چاہئے کہ آپ کا رب ہی سب کا خالق ہے اس لیے وہ سب کی ہر ہر حرکت اور ہر سوچ کا علم رکھتا ہے ۔ ( سورة فاتحہ کی عظمت) ہم نے آپ کو سات آیات عطا فرمائی ہیں جو پورے قرآن کی عظمت کی حامل ہیں اور جو بار بار یعنی نماز کی ہر ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں مفسرین کرام کے مطابق اسلام کے سارے بنیادی اصول اسی سورة میں سمو دیئے گئے قرآن حکیم انہی کی وضاحت اور حدیث شریف انہی کا مفہوم بیان کرتی ہے نیز ایسی جامع دعا پہلے کسی بھی امت کو عطا نہ کی گئی کاش مسلمان اسی کو خلوص سے دہرایا کرتے مگر آج تو اکثریت اس کے لفظی معنوں تک سے آشنا نہیں آپ اس بات کو کوئی اہمیت نہ دیجئے کہ کفار ومشرکین میں بعض لوگوں کو بہت مال و دولت یا دنیاوی اسباب حاصل ہیں نہ اس بات پر دکھ محسوس کیجئے یعنی نہ تو یہ خیال فرمائیے کہ یہ مالدار ہیں حالانکہ کفر اختیار کیے ہوئے اور نہ یہ دکھ کہ شاید مالدار نہ ہوتے تو ایمان لے آتے کہ پہلے تباہ ہونے والوں کے پاس بھی دنیا کے اسباب تھے مگر وہ وقتی اور فانی فائدے کے علاوہ کسی کام نہ آئے نیز یہ لوگ مزاجا بگڑ چکے ہیں مالدار نہ بھی ہوتے تو ان کا کردار یہی ہوتا لہذا آپ اپنی ساری شفقتیں ان لوگوں پر متوجہ فرمائیے ۔ ّ (حجت عقیدہ بہت بڑی نعمت ہے) جو ایمان لائے ہیں واہ کیا نعمت ہے کہ صحت عقیدہ پہ شفقت رسالت کو متوجہ فرمایا جا رہا ہے جو پہلے رحمت عالم میں بھلا اس حکم کے بعد ان کی شفقتوں کا کیا عالم ہوگا ، اور آپ علی الاعلان فرما دیجئے کہ میں تمہیں اللہ جل جلالہ کے عذابوں سے کھلم کھلا ڈرانے اور ہر وقت مطلع کرنے والا ہوں کہ قبل از تبلیغ مکہ مکرمہ میں خفیہ طریقے سے جاری تھی کہ اعلان کرنے کا حکم ہوا تو نہ صرف آپ ﷺ بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین بھی کھل کر میدان میں آگئے اور تبلیغ دین کا کام علی الاعلان ہونے لگا آپ ان عذابوں سے خبردار کیجئے جو پہلے بھی ایسے لوگوں پہ نازل ہوچکے جنہوں نے اللہ جل جلالہ کی کتابوں کے حصے بخرے کر رکھے تھے یعنی جو بات پسند آئی قبول کرلی اور جو خلاف مزاج نظر آئی اس کا انکار کردیا ، سو تیرے پروردگار کی قسم یعنی تیرے پیدا کرنے والے کی شان ربوبیت کہ ہر شے پر پھل لگتا ہے اور ہر کام کا نتیجہ سامنے آتا ہے خود اس بات کی دلیل ہے کہ کردار و اعمال کے نتایج بھی اپنے وقت پر سامنے آئیں گے ، لہذا آپ وہ بات کھول کر سنا دیجئے جس کا حکم آپ کو ہوا ہے اور مشرکین کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور نہ مذاق اڑانے کو خاطر میں لائیے ہم آپ کی طرف سے انہیں کافی ہیں کہ آپ سے مذاق کرتے ہیں اور اللہ جل جلالہ کے ساتھ دوسروں کو معبود قرار دیتے ہیں بہت جلد اپنے انجام کو پالیں گے یہ تو اللہ کریم اللہ جل جلالہ کے علم میں ہے کہ آپ کے دل کو رنج پہنچتا ہے ایک فطری جذبے اور انسانی مزاج کے تقاضے کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ یہ باتیں ہی ایسی کرتے ہیں مگر اس کا بھی علاج ہے ۔ (ذکر طبعی تفکرات کا علاج بھی ہے) کہ آپ اپنے رب کی پاکی بیان کریں اس کا ذکر کیا کریں اور عبادات میں مجاہدہ فرمائیں اور یہ کام کیے جائیں حتی کہ دنیا کی زندگی اپنے اختتام کو پہنچے گویا دشمن کی ایذا اور دل کی تنگی کا حقیقی علاج ذکر الہی ہے جس سے عبادات کا اعلی درجہ بھی نصیب ہوتا ہے اور انسان کلی طور پر ادھر متوجہ رہتا ہے سورة حجر تمام ہوئی ۔