15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 15:26–44

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے انسان کو کھٹکھٹاتے ہوئے سڑے ہوئے گارے سے پیدا فرمایا

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے پہلے آگ کی لو سے پیدا فرمایا

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ بیشک میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے آدمی کو پیدا کرنے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

پھر جب میں اس کو (انسانی صورت میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

سو سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا اے ابلیس ! تجھے کیا ہوا (کس چیز نے تجھے روکا) کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

اس نے کہا میں ایسا نہیں کہ آدمی کو جس کو آپ کھنکھناتے ہوئے سڑے ہوئے گارے سے پیدا فرمایا ہے ، سجدہ کروں

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

ارشاد ہوا پس یہاں سے نکل جا ، سو بیشک تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت برسے گی

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے پروردگار ! پس مجھ کو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دیجئے

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

ارشاد ہوا سو بیشک تجھے مہلت دی جاتی

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

مقررہ وقت کے دن تک

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

کہنے لگا اے میرے پروردگار ! جیسا کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا میں ان کو دنیا میں ضرور (گناہ) مرغوب کرکے دکھاؤں گا اور ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں سوائے تیرے مخلص بندوں کے (کہ وہ میرے فریب میں نہ آئیں گے)

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا بیشک مجھ سے پہنچنے کا یہی سیدھا راستہ ہے

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

واقعی میرے ان بندوں پر تیرا بس نہ چل سکے گا سوائے ان گمراہوں کے جنہوں نے تیری پیروی کی

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور بیشک ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

جس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔ (جنات کو پہلے پیدا کیا گیا) قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔ پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے سامنے سجدہ میں گر جانا ، (روح اور نفخ روح) روح کی تحقیق میں اہل علم میں بڑی لمبی بحث ہے اور اسی موضوع پر دونوں طرف ہزاروں دلائل موجود ہیں کہ روح کوئی جسم ہے یا مجرد جوہر ہے صاحب معارف القرآن کے مطابق جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ روح ایک جسم لطیف ہے اور یہی حق ہے جوہر مجرد فلاسفہ کا قول ہے جس کو بعض صوفیہ نے بھی قبول کیا ہے مگر اس موضوع پر سب سے خوبصورت تحقیق صاحب تفسیر مظہری حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) کی ہے فرماتے ہیں روح دو قسم کی ہے علوی اور سفلی ، روح علوی مادہ سے پاک اللہ جل جلالہ کی ایک مخلوق ہے جس کی حقیقت کا ادراک ممکن نہیں اور اہل کشف کو اس کا مقام عرش کے اوپر نظر آتا ہے کہ عرش سے زیادہ لطیف ہے اور بنظر کشفی اوپر نیچے پانچ درجات میں محسوس کی جاتی ہے جو یہ ہیں قلب ، روح ، سرخفی ، اخفی اور یہ سب عالم امر کے لطائف ہیں جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ (آیت) ” قل الروح من امر ربی “۔ یہاں تک کہ قاضی صاحب (رح) کی بات تھی اس کی تھوڑی سی وضاحت یہ ہے کہ عرش نو ہیں جن کی وسعتوں کا اندازہ انسان کے لیے ممکن نہیں کہ زمین خلا اور ساتھ آسمانوں تک کا سارا جہان مل کر پہلے عرش کے مقابل اتنا سا ہے جیسے کسی صحرا میں ایک معمولی انگشتری پڑی ہو جس ارض وسما اور ما بینھما کے فاصلے ماپنا اور ستاروں اور سیاروں کے حجم انسانی علم سے بہت آگے ہیں تو پھر عرش کی عظمت کا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ دوسرا عرش پہلے سے بزرگ تر اور تیسرا اس سے بڑا ہے حتی کہ اسی طرح (9) نو عرش ہیں جب ان کی انتہا آتی ہے تو عالم خلق ختم ہوجاتا ہے اور عالم امر شروع ہوتا ہے جہاں مادہ مادی وجود تو کیا دائرہ تخلیق ہی ختم ہوگیا اور عالم امر کا پہلا دائرہ ہی اتنا وسیع ہے کہ (9) عرشوں تک کی ساری کائنات اس ایک دائرے کے مقابل ایسی ہی ہے جیسے کسی صحرا کے اندر انگشتری اور حجابات الہیہ تک ایسے ہی بیالیس 42 دائرے ہیں جو سب ایک دوسرے سے ایسے ہی بڑے ہیں اور اسی عالم امر سے روح جسد انسانی میں وارد ہو کر اسے زندگی کی حرارت عطا کرتی ہے جو براہ راست قلب میں آتی ہے جہاں سب سے پہلے حیات پیدا ہوتی ہے اور پھر پانچوں لطائف روشن کرتی ہے ۔ قاضی صاحب (رح) کے مطابق (روح سفلی اور بخار لطیف ہے جو عناصر اربعہ یعنی آگ مٹی ہوا اور پانی کے ملنے اور ان میں روح کی حرارت سے پیدا ہو کر نس نس میں پھیل جاتی ہے اس کا یہ سرایت کرنا ہی پھونکنے اور نفخ سے تعبیر کیا گیا ہے) یہ روح سفلی ہی ہے جو خواہشات اور جسمانی ضروریات کا احساس اور ضرورت پیدا کرتی ہے اور روح علوی اگر غالب رہے تو ان امور میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے جس سے روح علوی مزید قوت حاصل کرتی ہے اور عالم امر سے اس کا تعلق مضبوط تر ہوتا جاتا ہے لیکن اگر روح سفلی یا جسے نفس بھی کہا گیا یہ غالب ہوجائے تو انسان محض خواہشات کا بندہ بن کر گناہ اور نافرمانی میں غرق ہوجاتا ہے اور روح علوی کی تجلی جو روح سفلی پر تھی اور جس نے اسے شرف انسانیت بخشا تھا کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے اور کفر پر بالکل منقطع ہوجاتی ہے اسی لیے کفار کو کتاب اللہ میں کالانعام یعنی چوپاؤں اور حیوانات کی مثل قرار دیا گیا کہ ان میں صرف روح سفلی ہی ہوتی ہے اور عالم امر کی اس لطیف تر تجلی سے ان کے قلوب کا تعلق نہیں ہوتا اسی لیے کفار کو آخرت میں انسانی چہرہ بی نصیب نہ ہوگا اور جانوروں ہی کی طرح جہنم میں چلائینگے انبیاء جب مبعوث ہوتے ہیں تو اسی روح علوی کو حیات نو عطا کرتے ہیں اور ایمان لانے والوں کو نبی کی ایک نگاہ مقام صحابیت یعنی روح علوی کا روشن ترین حال عطا کرتی ہے اور یہی نعمت حاصل کرنے کیلئے صحبت شیخ کی ضرورت بھی ہے ورنہ روح سفلی اپنا کام طبعی طور پر کرتی رہتی ہے روح علوی مادہ سے بالاتر محض امر الہی سے پیدا ہونے والی ایک لطیف تر شے ہے اسی لیے تجلیات باری کو قبول کرنے کی استعداد رکھتی ہے جو انسان کے علاوہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں نیز قاضی صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں کہ انسان وجود میں غالب عنصر اگرچہ مٹی ہے لہذا اسی سے تعبیر فرمایا گیا ورنہ درحقیقت دس چیزوں سے مرکب تھے جن میں پانچ عالم خلق کی مٹی ، آگ ہوا ، پانی اور ان سے پیدا ہونے والا بخار لطیف جو روح سفلی یا نفس کہلاتا ہے اور پانچ عالم امر کی ہیں یعنی قلب ، ، روح ، سر ، خفی اور اخفی اسی جامعیت کے سبب نور معرفت اور نار عشق و محبت کا متحمل ہوا جس کا نتیجہ بےکیف معیت الہی کا حصول ہے اور اسی عظمت کے باعث ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ، واللہ اعلم بالثواب۔ (ابلیس اور اس کے حوالے سے ایک مسئلہ) لہذا سب فرشتے مل کر سجدے میں چلے گئے سوائے ابلیس کے جس نے انکار کردیا اور سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا یہ اگرچہ جنات میں سے تھا مگر عبادات وریاضات سے ترقی کرتا ہوا فرشتوں میں جا شامل ہوا اور اس وقت وہیں موجود تھا لہذا اسی حکم میں شامل تھا ، لیکن اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ارشادہ ہوا کہ اے ابلیس تجھے سجدہ کرنے سے کس بات نے روکا تو کہنے لگا میں کوئی ایسا ویسا نہیں ہوں کہ اس کیچڑ اور گارے سے بنے انسان کو سجدہ کروں تو ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا اور تو مردود ہوا اور تجھے تا قیامت اللہ جل جلالہ کی رحمت سے محروم کردیا گیا یعنی ہمیشہ کے لیے کہ بعد قیامت تو پھر امید ہی نہ رہی تو یہ مسئلہ یہاں ثابت ہوگیا کہ جس طرح شیطان اپنی بڑائی کو دل میں رکھ کر مجاہدہ کرتا رہا اور فرشتوں تک میں شامل ہوگیا ایسے ہی کوئی طالب اپنی شہرت اور بڑائی کے لیے مجاہدہ کرکے شیخ کی صحبت میں منازل سلوک حاصل کرسکتا ہے مگر آکار شیطان کا بھانڈھا پھوٹا اور مردود ہوا ایسے ہی یہ شخص بھی ایک روز سب کچھ کھو کر محروم ہوجاتا ہے اور اس نعمت سے محروم ہو کر مرتا ہے ، تو ابلیس کہنے لگا کہ پروردگار عالم مجھے مہلت و فرصت عطا کر اور اس روز تک مجھے رہنے دے جس روز مردے زندہ ہوں گے کہ میں انسان سے مقابلہ کروں گا فرمایا تجھے ایک معلوم وقت تک یعنی فناء دنیا تک مہلت دی جاتی ہے کہ فناء عالم کے وقت اسے بھی موت کی وادی سے گزرنا ہوگا تو کہنے لگا پروردگار جیسے تو نے تکوینی طور پر مجھے گمراہ کردیا اپنی غلطی کا اعتراف پھر بھی نہ کیا بلکہ اسے اللہ جل جلالہ کی طرف منسوب کردیا جو تکبر اور گمراہی کا نتیجہ تھا تو میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ انسانوں کو گناہ بڑے سجا کر دکھاؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا سوائے تیرے خاص بندوں کے جنہیں تو نے اپنے لیے چن لیا ان پر میرا داؤ نہ چلے گا یعنی وہ گمراہ نہ ہوں گے غلطی کا صدور ناممکن نہیں کہ بھول چوک ہو سکتی ہے مگر اللہ جل جلالہ کے بندے اس پر قائم نہیں رہتے توبہ کرکے رحمت باری کو پا لیتے ہیں ، فرمایا یہی خلوص اور صرف میرے اور میری رضا مندی کے لیے اپنے کو مخصوص کردینا ہی تو مجھ تک سیدھا راستہ ہے ، اور بیشک جو میرے بندے ہوں گے ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا زور بھی انہی پر چلے گا جو میری راہ ترک کر کے تیری پیروی اختیار کریں گے اور تیرے بہکاوے میں آجائیں گے مگر یاد رکھ ایسے سب لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس کے سات دروازے یا سات درجے ہیں اور جیسا کوئی کرے اسی کے مطابق ہر درجے کے لوگ بانٹ دیئے جائیں گے اور الگ الگ کردیئے جائیں گے ۔
Ayahs 15:45–60

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہوں گے

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) میں سلامتی اور امن سے داخل ہوجاؤ

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی وہ سب دور کردیں گے سب بھائیوں کی طرح تختوں پہ آمنے سامنے بیٹھا کریں گے

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

ان کو نہ وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں بڑا بخشش والا رحمت والا ہوں

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ میری سزا بھی دردناک سزا ہے

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال سنائیے

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا (ابراہیم علیہ السلام) نے فرمایا بیشک ہم تم سے ڈر لگ رہا ہے

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا ڈرئیے مت یقینا ہم آپ کو ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جو بڑے علم والے ہوں گے

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ مجھ کو کس چیز کی بشارت دیتے ہو کہ میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں پس اب کس بات کی خوشخبری ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں سو آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اور بھلا اپنے پروردگار کی رحمت سے کون مایوس ہوتا ہے سوائے گمراہ لوگوں کے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

فرمانے لگے اے بھیجے ہوؤ (فرشتو) ! تمہیں اور کیا کام ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے کہا بیشک ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

سوائے لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے کہ یقینا ہم ان سب کو بچالیں گے

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے ان کی بیوی کے کہ (اس کے لئے) ہم نے تجویز کررکھا ہے کہ وہ ضرور پیچھے رہ جانے والوں میں رہ جائے گی

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود رہتے ہیں اور واقعات جو ان کا باعث بنے یاد رہتے ہیں مگر جنت میں داخلے کے وقت یہ سب چیزیں اس لیے صاف کردی جائیں گی کہ یہ بھی ایک قسم کا رنج ہے اور جنت ایسی حسین سرزمین کا نام ہے جہاں رنج کو دخل نہیں لہذا بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تخت بچھا کر بیٹھے ہوں گے نہ تو انہیں وہاں کسی بھی طرح کا کوئی دکھ ہوگا اور نہ ہی وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے لہذا آپ اے نبی ﷺ میرے بندوں کو خبر کر دیجئے کہ ان انمول نعمتوں کا حصول کوئی مشکل نہیں کہ میں معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں لہذا توبہ کرکے معافی حاصل کریں اور اطاعت کرکے رحمت کو پائیں کہ ان انعامات کو پالیں اور یہ بھی واضح کر دیجئے کہ جس نے نافرمانی کی راہ ہی اپنائی تو میرا عذاب بھی بہت ہی دردناک عذاب ہے اس کی جھلک اگر وہ دنیا میں بھی دیکھنا چاہیں تو انہیں ان ملائکہ کے حالات سنائیے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس انسانی شکل میں مہمان بن کر وارد ہوئے اور جب انہوں نے کھانا پیش کیا تو انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ ہمیں تو آپ لوگوں سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ عربوں میں دستور تھا کہ دشمن کے گھر کا نہ کھاتے تھے تو انہوں نے کہا ہمارے نہ کھانے کا سبب دشمنی نہیں بلکہ ہم اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور آپ کو ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری سنانے حاضر ہوئے ہیں جو بہت بڑے علم کا مالک ہوگا فرمایا بھلا یہ خوشخبری سنانے کا کونسا وقت ہے جب بڑھاپے نے میری قوی مضمحل کردیئے ہیں تو کہنے لگے ہم تو حق کی بات عرض کر رہے ہیں جس کا رب کریم نے حکم دیا ہے لہذا ناامیدی کی کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہر طرح سے قادر ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک اس کی رحمت سے تو صرف راہ گم کردہ لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں لیکن کی تمہارے آنے کا باعث صرف یہی خبر سنانا ہے یا اور بھی کوئی اہم کام درپیش ہے تب انہوں نے بتایا کہ ہمیں ایک ایسی قوم کو تباہ کرنا ہے جو بہت بڑی مجرم ہے یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم جس میں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کا اتباع کرنے والوں کے علاوہ کوئی نہ بچ سکے گا اور عین تباہی کے وقت وہ سب لوگ امن میں رہیں گے جو ان کی اطاعت کرنے والے ہیں سوائے ان کی اہلیہ کے کہ وہ بھی عملا زندگی ان کے گھر گزارنے کے باوجود عقیدۃ کفار کے ساتھ ہے لہذا ۔ (نجات کا مدار) انہی کے ساتھ ہوگی گویا کا مدار عقیدہ پر ہے اگر عقیدہ درست نہ ہو تو دنیا کا بہت قریبی رشتہ بھی کسی کام کا نہیں ہاں عقیدہ درست ہو اور صالحین سے نسبی رشتہ بھی تو نور علی نور ہے ۔