80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsانوار البیان

Ayah 80:41

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ Open ayah 80:41 in the Quran reader

(اور) سیاہی چڑھ رہی ہوگی

(80:41) ترھقھا قترۃ : یہ وجوہ آیت نمبر 40 مبتدا کی خبر ثانی ہے۔ ترھق : رھق (باب سمع) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث کا مرجع وجوہ ہے۔ وہ خاک ان (چہروں) پر چھا رہی ہوگی۔ چڑھی آرہی ہوگی۔ رھق کے معنی کسی چیز کے دوسری چیز پر زبردستی چھا جانے کے ہیں اور پالینے کے ہیں۔ قترۃ : غبار۔ دھویں کی طرح غبار نما بد رونقی جو چہرے پر چھا جاتی ہے۔ اس کے اصل معنی ہیں کسی لکڑی کا اٹھتا ہوا دھواں۔ کنجوس آدمی گویا کہ دھواں دے کر دوسرے کو بہلا دیتا ہے اس لئے کنجوس اور بخیل کو بھی قاتر کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا (25:27) اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں۔
Ayah 80:42

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠ Open ayah 80:42 in the Quran reader

یہ کفار بدکردار ہیں

(80:42) اولئک ہم الکفرۃ الفجرۃ : اولئک مبتداء ۔ ہم الکفرۃ الفجرۃ خبر، وہی لوگ منکر و بدکار ہوں گے۔ کفرۃ کافر کی جمع اور فجرۃ فاجر کی جمع ہے۔ فجور کا معنی ہے چھاڑ دینا۔ یعنی دین اور دیانت کو پھاڑ دینا۔ فجور پر لے درجے کا کفر ہے۔ الکفرۃ موصوف ہے اور الفجرۃ اس کی صفت ہے۔ موصوف اور صفت مل کر خبر ہے اپنے مبتداء کی۔