8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsانوار البیان

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول ﷺ کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مٹھ بھیڑ ہوگئی اپنے بندے (محمد ﷺ پر نازل فرمائی اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(8:41) انما۔ ان اور ما سے مرکب ہے ان حرف مشبہ بالفعل بمعنی بیشک تحقیق۔ بجز اس کے نہیں۔ ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ جو چیز ۔ جو مال۔ غنمتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ (باب سمع) غنم اور غنیمۃ۔ مصدر۔ الغنم۔ بکریاں۔ ومن البقر والغنم (6:6) اور گائیوں اور بکریوں میں سے ۔ الخ۔ الغنم کہیں سے بکریوں کا ہاتھ لگنا۔ ان کو حاصل کرنا۔ پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا جو دشمن یا غیر دشمن سے حاصل ہو۔ خاص طور پر فتح کے بعد دشمن سے چھینا ہوا مال۔ غنمتم۔ تم نے دشمن سے پایا۔ یا چھپنا۔ لیکن غیر دشمن سے حاصل شدہ مال بھی غنیمت میں شمار ہے۔ قرآن میں ہے فعند اللہ مغانم کثیرۃ (4:94) سو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ من شیٔ۔ من بیانیہ ہے۔ انما غنمتم من شیٔ۔ جو کوئی چیز بھی تم مال غنیمت میں حاصل کرو۔ ذی القربی۔ القربی۔ اسم مصدر ہے بمعنی قرابت ۔ رشتہ داری۔ ذی بمعنی ذو۔ بحالر جر ہے۔ والا۔ صاحب ۔ ذی القربی۔ قرابت۔ رشتہ دار۔ قرابت دار۔ ابن السبیل۔ مسافر۔ راہ نورد۔ وما انزلنا۔ باللہ پر معطوف ہے۔ اور ما انزلنا سے مراد وہ آیات جو جنگ بدر کے دوران نازل ہوئیں۔ الملئکۃ جو مسلمانوں کی امداد کو بحکم ایزدی اتر کر شامل ہوئے اور فتح جو نتیجۃً حاصل ہوئی۔ یوم الفرقان۔ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا دن۔ مراد یہاں یوم بدر ہے۔ التقی۔ آمنے سامنے ہوئے۔ بالمقابل ہوئے۔ ان کی مڈبھیڑ ہوئی۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ التقاء مصدر (افتعال) لقی مادہ الجمعن۔ دو گروہ۔ دو فوجیں۔ جمع کا تثنیہ ہے مراد یہاں مسلمانوں کی فوج اور کفار کی فوج ہے۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا اور اگر تم (جنگ کے لئے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم و تاخیر ہوجاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے ہی کر ڈالے۔ تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

(8:42) اذ یا تو یوم الفرقان سے بدل ہے یا اس کی تقدیر یوں ہے اذکروا اذ انتم۔ العدوۃ۔ جانب ، وادی، کنارہ ۔ اس کی جمع عدی ہے اس کو عین کی کسر کے ساتھ عدوۃ بھی پڑھا جاتا ہے اس صورت میں اس کی جمع عدی ہوگی۔ بدر کے اطراف و جوانب میں جو پہاڑ ہیں ان کے مختلف حصے مختلف ناموں سے موسوم ہیں ان میں سے دو پہاڑیاں جو دور سے ریت کے دو سفید تودوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔ اب بھی ان میں سے جو پہاڑی مدینہ منورہ کی جانب ہے اس کا نام العدوۃ الدنیا ہے اور دوسری جو مکہ کی طرف ہے العدوۃ القصویٰ سے موسوم ہے اور جو بہت اونچا سا پہاڑ ان دونوں کے درمیان ہے وہ آجکل جبل اسفل کہلاتا ہے کیونکہ اس کے نیچے نیچے ابو سفیان اپنے تجارتی قافلہ کا راستہ کاٹ کر سمندر کے کنارے کنارے گزر گیا تھا جو بدر سے تین میل کے فاصلہ پر ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں بایں الفاظ آیا ہے والرکب اسفل منکم (اور کارواں تم سے نیچے تھا) الدنیا۔ ادنی کی مؤنث ہے جو دنی یدنو (قریب ہونا) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے مراد وادی بدر کی وہ سمت جو مدینہ منورہ سے قریب تر تھی۔ القصوی۔ اقصی سے مؤنث ہے جو قصی یقصو سے اسم تفضیل ہے اور یہاں العدوۃ القصویٰ سے مراد بدر کی وادی کی وہ جانب جو مدینہ منورہ سے دور والی جانب واقع تھی۔ الرکب۔ کارواں۔ قافلہ سوار۔ راکب کی جمع جس کے معنی سوار کے ہیں۔ تواعدتم۔ تم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تواعد (تفاعل) سے ماضی جمع مذکر حاضر ہے۔ لاختلفتم۔ اختلاف سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ لام تاکید کے لئے ۔ تم ضرور آپس میں اختلاف کرتے۔ المعیاد۔ ظرف زمان۔ وعدہ کا وقت۔ ولو تواعدتم لاختلفتم فی المیعاد۔ اور اگر تم ہر دو فریق یعنی مسلمان ایک طرف اور کفار دوسری طرف ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کا وعدہ کرتے تو تم دونوں وقت وعدہ کی خلاف ورزی کرتے اور تقدیم و تاخیر سے کام لیتے ۔ یعنی تم اس واسطے باز رہتے کہ تمہارے مقابلہ میں ان کی تعداد کثیر تھی اور وہ باقاعدہ مسلح تھے اور وہ اس واسطے کترا جاتے کہ ان کے دلوں میں رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کی ہیبت تھی۔ اس طرح تم ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہ آتے۔ الکن۔ ای ولکن اللہ جمعکم علی غیر میعاد۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم ہر دو فریق کو نکلے تھے اور کفار مکہ کے بغیر ہی آپس میں ٹکرا دیا۔ (کیونکہ مسلمان مدینہ سے قافلہ کے لئے نکلے تھے اور کفار مکہ سے قافلہ کی حفاظت کے لئے نکلے تھے۔ لیکن بعد میں حالات نے مشیت ایزدی کے تحت ان کو جنگ بدر میں باہم ٹکرا دیا) ۔ لیقضی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ (باب ضرب) قضی یقضی کہ وہ پورا کر دے۔ لیقضی اللہ امرا کان مفعولا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس نے ہونا ہی تھا۔ (یعنی جس کے ظہور میں آجانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرچکا تھا) ۔ لیہلک من ہلک عن بینۃ۔ جو ہلاک ہوتا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو۔ یعنی دلیل روشن ظاہر ہوگئی۔ حق و باطل کی تمیز کھلم کھلا سامنے آگئی۔ حق کی فتح اور باطل کی شکست نے ہر دو کی حقیقت کو واضح کردیا۔ اچھا اور برا راستہ معلوم ہوگیا۔ اب اگر کوئی جان بوجھ کر باطل اختیار کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دینا چاہتا ہے تو ڈال دے (کیونکہ کفر ہلاکت ہے) ویحیی من حی عن بینۃ۔ اور جسے زندہ رہنا ہے تو وہ اب حق کی فتح کو دیکھ کر یقین محکم سے حق پر زندہ رہے (حق زندگی ہے)
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے۔ لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچالیا۔ بیشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔

(8:43) اذ یریکہم اللہ۔ ای واذکر یا محمد ﷺ نعمۃ اللہ علیک اذ یریکہم۔ اے محمد ﷺ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم کو (خواب میں دشمن قلیل تعداد میں) دکھائے تھے۔ ارکہم۔ یریکہم۔ اراء ۃ (باب افعال) سے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول شانی۔ جمع مذکر غائب۔ اس نے تم کو وہ دکھائے ۔ وہ تم کو وہ (دشمن) دکھائیگا رای مادہ۔ لفشلتم۔ لام تاکید۔ ماضی مذکر حاضر۔ فشل (باب سمع) سے مصدر۔ فشل کے معنی ہیں کم ہمت ہوجانا۔ بزدلی کے ساتھ کمزور ہوجانا۔ تم پست ہمت ہوگئے یا ہوجاؤ گے۔ تم ہمت ہار دیتے۔ لتنازعتم۔ تم ضرور ایک دوسرے کے ساتھ تنازعہ کرتے۔ جھگڑتے۔ تنازع (تفاعل) سے باہم کشاکشی اور جھگڑا کرنا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ سلم۔ (باب تفعیل) تسلیم سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے بچا لیا۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام کرنا منظور تھا اسے کر ڈالے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔

(8:44) یریکموہم۔ اس نے تمہاری نظروں میں ان کو دکھایا۔ کموا اصل میں کم ہے۔ واؤ اشباع کا ہے اور دو ضمیروں کے درمیان فرق کرنے کو لایا گیا ہے۔ التقیتم۔ تم ملے۔ تمہارا آمنا سامنا ہوا۔ التقاء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ یقللکم فی اعینھم۔ وہ ان کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھا رہا تھا۔ یا کم محسوس کرا رہا تھا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نیز ملاحظہ ہو 3:13 ۔ لیقضی اللہ امرا کان مفعولا۔ اوپر ملاحظہ ہو 8:42 ۔
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مومنو ! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

(8:45) فاثبتوا۔ ثبات سے (باب نصر) امر جمع مذکر حاضر۔ تم ثابت قدم رہو۔
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے۔

(8:46) فتفشلوا۔ ورنہ تم ہمت ہار دو گے۔ وتذھب ریحکم۔ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لئے) اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

(8:47) بطرا۔ مصدر۔ اترانا۔ اشارہ ہے لشکر کفار کی طرف جو قافلہ کی حمایت میں مکہ سے بڑے طمطراق سے نکلا تھا۔ بطر (سمع) بطرا زیادہ نعمت میں پڑکر اترانا یا بہک جانا۔ بطرالحق۔ تکبر سے حق کے قبول کرنے سے انکار کرنا۔ محیط اسم فاعل۔ واحد مذکر قیاسی احاطۃ مصدر (باب افعال) حوطمادہ۔ ہر طرف سے گھیر لینے والا۔ یہاں بمعنی عالم کل ہے
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کو دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل (صف آرا) ہوگئیں تو پسپا ہو کر چل دیا۔ اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا سخت عذاب کرنیوالا ہے۔

(8:48) جار پڑوسی۔ ہمسایہ۔ مجازا حمایتی۔ مددگار۔ رفیق۔ تراءت وہ سامنے ہوئی۔ وہ روبرو ہوئی۔ وہ دیکھنے لگی۔ تراء ی (تفاعل) سے ماضی واحد مؤنث غائب۔ تراء ی۔ ایک دوسرے کے باہم اس طرح مقابل اور قریب ہونا کہ یہ اس کو اور وہ اس کو دیکھ سکے۔ رای۔ مادہ ۔ مہموز العین و ناقص یائی۔ رأی یری رأیا و رؤیۃ۔ اس کا امر رہے۔ تراءت الفئتین ای تلافی الفریقان۔ جب دونوں فریق بالمقابل ہوئے۔ نکص۔ نکص و نکوص۔ مصدر۔ (باب ضرب و نصر) الٹے پاؤں بھاگنا۔ بددل ہونا۔ نکص وہ الٹے پاؤں بھاگا۔ نکص کے اصل معنی ہیں جس کام کے درپے ہو اس سے لوٹ جانا۔ پلٹ جانا۔ عقبیہ۔ اس کی دونوں ایڑیاں۔ عقب۔ واحد ۔ اعقاب جمع۔ شدید العقاب۔ سخت سزا دینے والا۔ واللہ شدید العقاب۔ یہ جملہ شیطان کا کلام بھی ہوسکتا ہے جو کہ قال انی بری منکم سے شروع ہوا تھا۔ یا یہ جمسلہ مستانفہ ہے۔
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے۔

(8:49) غر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے فریب دیا۔ دھوکہ دیا۔ غرور مصدر (باب نصر) ۔ ھؤلائ۔ ای المسلمین۔
Ayahs 8:50–51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں۔ ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (اب) عذاب آتش (کامزہ) چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا (بندوں پر) ظلم نہیں کرتا

(8:50) لو تری۔ اگر تو دیکھے۔ کاش تو دیکھتا یا دیکھ سکتا۔ یتوفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ توفی (تفعل) مصدر وہ جان نکالتا ہے۔ یہاں الملئکۃ (جمع) کے لئے استعمال ہوا۔ وہ جان نکالتے ہیں۔ توفی۔ کے اصل معنی کسی چیز کو پورا لینا اور اس پر پورے طور پر قبضہ کرلینے کے ہیں۔ موت کے وقت بھی روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔ ذوقوا۔ ای ویقولون ذوقوقا۔ تم چکھو۔ ذوق سے امر ۔ جمع مذکر حاضر ۔ (باب نصر) ذو۔ تو چکھ۔ عذاب الحریق۔ جلا دینے والا عذاب۔ آگ کا عذاب۔ حرق سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی انکا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بیشک خدا زبردست (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔

(8:52) کداب۔ ک حرف تشبیہ داب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں جیسے داب فی السیر۔ وہ مسلسل چلا۔ اور قرآن حکیم میں ہے : وسخر الشمس والقمر دائبین (14:33) اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا رکھا ہے کہ دونوں دن رات ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ داب۔ عادت مستمرہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ آیۃ ہذا ۔ ونیز آیہ (3:11) یعنی آل فرعون کی سی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں۔ کذاب ال فرعون۔ ای داب ھؤلاء مثل داب آل فرعون۔ ان کی عادت مستمرہ بھی وہی ہے جو آل عمران کی تھی۔ اور وہ عادت مستمرہ کیا تھی۔ کفروا بایت اللہ۔ اللہ تعالٰٰ کی آیات کا انکار۔
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لئے کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

(8:53) ذلک۔ ای ذلک العذاب۔ لم یک۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ کون سے اصل میں کان سے مضارع تکون تھا۔ لم کے آنے سے ن پر جزم آئی۔ ن اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا۔ واؤ حرف علت ہونے کی وجہ سے ساقط ہوئی۔ لم یک رہ گیا۔ یہاں بمعنی فعل استمراری ہے۔ یعنی نہیں ہے۔ نہیں تھا۔ نہیں ہوگا۔ مغیرا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ تغیر (باب تفعیل) بدلنے والا۔ لم یک مغیرا۔ وہ (اللہ تعالیٰ ) کبھی نہیں ہوا بدلنے والا۔ اور نہ ہی ہوگا۔ یغیروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ تغیر مصدر (یہاں تک) کہ وہ بدل ڈالیں ۔ (بھلائی کو برائی سے۔ خوشحالی کو بدحالی سے) ۔ ما بانفسھم۔ ای ما بھم۔ یعنی یہاں تک کہ وہ خود بدل ڈالیں ان نعمتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی ہوئی تھیں۔
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کی جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے۔

(8:54) کداب ۔۔ قبلہم۔ یہ تکریر تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے۔

(8:55) شرالدواب۔ بدترین جانور۔ ملاحظہ ہو 8:22 ۔ الذین کفروا فہم لا یؤمنون۔۔ ای اصروا علی الکفر والجوافیہ فلا یتوقع منھم الایمان۔ وہ لوگ جو کفر پر مصر رہے ان سے ایمان کی توقع نہیں کی جاسکتی (یہ بنو قریظہ تھے)
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے۔

(8:56) الذین عاھدت منھم۔ بدل ہے الذین کفروا کا یہ لوگ ہیں جن سے (جب بھی) آپ نے معاہدہ کیا۔ ینفقون۔ مضارع جمع مذکر غائب نقض مصدر (باب نصر) وہ توڑتے ہیں۔ فی کل مرۃ۔ ہربار۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم انکو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہوں وہ انکو دیکھ کر بھاگ جائیں۔ عجب نہیں کہ انکو (اس سے) عبرت ہو۔

(8:57) اما۔ اگر۔ تثقفنھم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ۔ (باب سمع) تو ان کو پائے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اصل میں ثقف کے معنی کسی چیز کے ادراک کرنے اور اس کے سرانجام دینے میں حذاقت (کام کو اچھی طرح کرنا) اور مہارت کے ہیں۔ لیکن بعد میں صرف ادراک کرنے اور پانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا اگرچہ حذاقت نہ ہو۔ قرآن میں ہے وافتلوہم حیث ثقفتموھم (2:191) اور قتل کر ڈالو انہیں جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ۔ فشردبھم۔ شرر البعیر۔ کے معنی ہیں اونٹ بدک کر بھاگ نکلا اور شررت بہ میں نے اس سے ایسا برتاؤ کیا کہ اسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس جیسا کام نہ کریں۔ جیسے نکلت بہ کے مطلب ہے کہ میں نے اسے دوسروں کے لئے عبرت بنادیا۔ فشردبھم۔ تو ان کو ایسی سخت سزا دے کہ دوسرے دیکھ کر بھاگ جائیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین کفروا (آیہ 55) کی طرف راجع ہے۔ من خلفہم۔ جو ان کے پیچھے ہیں۔ یعنی تو ان کو ایسی سخت سزا دے کہ جو ان کے پیچھے ہیں وہ یہ دیکھ منتشر ہوجائیں۔ لعلہم یذکرون۔ شاید وہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی بداعمالیوں سے باز آجائیں۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو ) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(8:58) تخافن۔ خوف سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ ۔ تو ڈرے۔ تجھ کو ڈر ہو۔ فانبذ الیہم۔ ای اطرح الیہم العھد تو تو اس عہد کو (جو تو نے انکے ساتھ کیا ہے) ان کی طرف پھینک مار۔ یعنی منسوخ کردو۔ علی سوائ۔ واضح طور پر ۔ یعنی ان کو اس منسوخی کا علم ہوجائے اور وہ نتائج کی ذمہ داری کا احساس کرنے لگیں (یعنی دونوں فریقوں کو مساوی طور پر معلوم ہوجائے کہ اب عہد منسوخ ہوچکا ہے۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔

(8:59) لایحسبن۔ نہی غائب واحد مذکر غائب۔ بانون ثقیلہ (باب سمع) وہ ہرگز خیال نہ کرے۔ سبقوا۔ انہوں نے سبقت کی۔ وہ آگے نکل گئے۔ سبق سے ماضی جمع مذکر غائب وہ بازی لے گئے۔ لایحسبن الذین کفروا سبقوا۔ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی وہ خیال نہ کریں کہ وہ بازی لے گئے۔ انھم لا یعجزون۔ یقینا وہ (پیروان حق کو ) درماندہ نہیں کرسکتے۔ یقینا وہ (اللہ تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ ہرا نہیں سکتے۔
Ayahs 8:60–61

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائیگا۔ اور تمہارا ذرا نقصان نہ کیا جائیگا۔

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔

(8:60) اعدوا۔ تم تیار کر رکھو۔ اعداد سے امر جمع مذکر حاضر۔ الاعداد بمعنی تیار کر نا۔ مہیا کرنا۔ یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعدوت ھذا لک کے معنی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو۔ رباط۔ باندھنا۔ سرحد پر چوکی دینا۔ باب مفاعلہ سے مصدر ہے ثلاثی مجرد میں ربط کا بھی مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں مضبوط اور مستحکم باندھنا۔ نیز اسم بھی آتا ہے۔ جس چیز کے ساتھ گھوڑے باندھے جائیں اس کو بھی رباط کہتے ہیں اور جس جگہ دشمن کے دفاع کے لئے گھوڑے باندھے جائیں مثلاً پڑاؤ۔ چھاؤنی اس کو بھی رباط کہتے ہیں۔ یہاں بطور مصدر ہی استعمال ہوا ہے۔ بمعنی گھوڑے باندھنا۔ یعنی گھوڑوں کو دشمن سے دفاع کی خاطر چاک و چوبند باندھے رکھنے کہ جب ضرورت پڑے استعمال میں لائے جاسکیں۔ ترھبون۔ تم ڈراؤ۔ تم ڈرا سکو۔ تم ڈراتے ہو۔ تم ڈراؤگے۔ ارھاب (افعال) سے جس کا معنی خوف زدہ کرنے کے ہیں۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بہ ضمیر ہ کا مرجع ما استطعتم ہے۔ واخرین من دونہم۔ اور دوسرے (دشمن ) جو ان (کھلے دشمنوں) کے علاوہ ہیں۔ یعنی جن کا مسلمانوں کو علم نہیں ہے لیکن ان کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یوف۔ مضارع مجہول ۔ واحد مذکر غائب۔ توفیہ (تفعل) مصدر۔ وہ پورا پورا نہیں واپس دیا جائے گا۔
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔

(8:62) یخدعون۔ وہ تجھے دھوکہ دیں۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر غائب ل ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ حسبک۔ حسب اسم فعل ہے بمعنی کافی۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ تیرے لئے کافی ہے۔ حسب یحسب (باب نصر) کا مصدر بھی ہے۔
Ayahs 8:63–64

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

(8:63) والف۔ اس نے الفت دی۔ اس نے محبت ڈال دی۔ تالیف (باب تفعیل) سے جس کے معنی جمع کرنے اور الفت پیدا کرنے کے ہیں۔ صیغہ ماضی واحد مذکر غائب۔ قلوبھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مؤمنین کی طرف راجع ہے۔ عرب کے سارے جزیرہ میں ہر طرف عداوت و نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی مزاج اتنے آوارہ اور جذبات اتنے مشتعل تھے کہ ذرا ذرا سی بات پر لڑائی شروع ہوجاتی ۔ اور برسوں جاری رہتی۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بعد نقشہ ہی بدل گیا۔ خدا نے ایسی تالیف القلوب کی کہ اسلام کے دائرہ میں آتے ہی وہ حقیقی بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ اوس اور خزرج کے قبائل ایک بین مثال تھے۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے اس لئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔

(8:65) حرض۔ تحریض (باب تفعیل) سے امر۔ واحد مذکر حاضر۔ تو رغبت دلا۔ تو ابھار۔ تو تاکید کر۔ تو آمادہ کر۔ الحرص۔ اس چیز کو کہتے ہیں جو نکمی ہوجائے اور درخوار اعتناء نہ رہے۔ اس لئے جو چیز قریب بہ ہلاکت ہوجائے اس کے متعلق حرض کہا جاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے حتی تکون حرضا (12:85) یا تو قریب بہ ہلاکت ہوجاؤ گے۔ التحریض (باب تفعیل سے) کے معنی ازالۂ حرض کے ہیں۔ یعنی کسی چیز سے بگاڑ اور خرابی دور کردینا۔ جیسے مرضتہ میں نے اس کے مرض کو دور کردیا۔ تحریض کے معنی کسی کو مزین کرکے اور اسے آسان صورت میں پیش کرکے اس پر برانگیختہ کرنے کے ہیں۔ حرض المؤمنین علی القتال۔ مومنوں کو جہاد پر برانگیختہ کر ۔
Ayahs 8:66–67

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

(8:66) الئن۔ اب ظرف زمان ہے اور مبنی برفتح۔ الف لام اس پر بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے خفف۔ اس نے تخفیف کی۔ اس نے ہلکا کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعیل) ضعفا۔ سستی ۔ کمزوری۔ ضعف یضعف (باب کرم) کا مصدر ہے سست ہونا ۔
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔

(8:68) کتب من اللہ۔ اللہ کا فرمان۔ اشارہ ہے ارشاد الٰہی کی طرف فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا (47:4) پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ تم خوب ان کو تہ و تیغ کرکے کچل دو ۔ تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرو تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ سبق۔ وہ پہلے گزر چکا ۔ وہ پہلے ہوچکا۔ اس نے سبقت کی۔ لمسکم۔ تم کو ضرور پہنچتا۔ (عذاب عظیم) لام تاکید کا ہے۔ مس ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ مس (باب نصر) کا معنی ہے چھو دینا۔ دکھ پہنچانا۔ لاحق ہونا لگ جانا۔ (باب نصر اور سمع) سے یہ بمعنی جماع بھی آتا ہے۔ انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر (3:47) میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا حالانکہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ لگایا نہیں۔ اور ان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دیدو۔ مجازا مس کا اطلاق جنوں پر بھی ہوتا ہے مثلاً کالذی یتخبطہ الشیطن من المس (2:275) جیسا کہ جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو۔ تکلیف کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً مسی الشیطن (38:41) شیطان نے مجھ کو اذیت دے رکھی ہے۔ فیما اخذتم۔ اس بارے میں جو تم نے لیا۔ بوجہ اس کے جو تم نے لیا ہے یعنی جو مال غنیمت تم نے لیا ہے (اس میں قیدیوں کا فدیہ لینا بھی شامل ہے) بعض نے اس سے قیدی مراد لئے ہیں۔ لولا ۔۔ عذاب عظیم۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھ نہ دیا ہوتا۔ کہ مال غنیمت تمہارے لئے حلال ہے اور اگر اس کا یہ دستور نہ ہوتا کہ جب تک وہ بیان کھول کر نہ کردے تب تک وہ عذاب کسی کو نہیں دیا کرتا۔ تو جو مال غنیمت اور جو مال فدیہ تم نے لیا ہے اس پر بھاری عذاب ہوتا۔ (یہ حکم جو لوح محفوظ میں لکھا جا چکا تھا لیکن ابھی نازل نہیں ہوا تھا سورة محمد میں آیۃ 4 میں نازل ہوا۔ اوپر ملاحظہ ہو کتب من اللہ کے محاذ) ۔ الخازن۔ بیضاوی۔ زمخشری نے اس آیۃ کا مطلب ان ہی معنوں میں لیا ہے۔ لیکن مودودی صاحب نے تفہیم القرآن میں آیہ 47:4 سورة محمد کا نزول سورة انفال کی آیۃ ہذا کے نزول سے قبل کا تصور کیا ہے ۔ وہ رقمطراز ہیں :۔ اس عبارت (یعنی سورة انفال کی آیہ ہذا) پر غور کرنے سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس موقعہ پر عتاب جس بات پر ہوا تھا وہ یہ تھی کہ جنگ بدر میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل دینے سے پہلے مسلمان دشمن کے آدمیوں کو قید کرنے میں لگ گئے تھے۔ حالانکہ جنگ سے پہلے جو ہدایت سورة محمد میں ان کو دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ :۔ ” جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو “۔ تاہم سورة محمد میں مسلمانوں کو قیدیوں سے فدیہ لینے کی اجازت فی الجملہ دی جاچکی تھی اس لئے جنگ بدر کے قیدیوں سے جو مال لیا گیا اس اللہ نے حلال قرار دیا اور مسلمانوں کو اس کے لینے پر سزا نہ دی۔ اگر اللہ کو نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا۔ ” لولا کتب من اللہ سبق “ کے الفاظ اس امر کی طرف صاف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس واقعہ سے پہلے فدیہ لینے کی اجازت کا فرمان قرآن میں آچکا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن کے اندر سورة محمد کی اس آیت کے سوا کوئی دوسری آیت ایسی نہیں ہے جس میں یہ فرمان پایا جاتا ہو۔ اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ آیت (سورۃ محمد آیت 4) سورة انفال کی آیت (آیۃ ہذا) سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ مگر یہ یاد رہے کہ ترتیب نزول کے مطابق سورة انفال 88 نمبر پر ہے اور سورة محمد نمبر شمار 95 پر ہے۔ اس میں دیگر اقوال یہ بھی ہیں کہ :۔ (1) خدا پہلے سے طے کرچکا ہے کہ بدوی صحابی کو عذاب نہیں کرے گا۔ ان کیلئے مغفرت تحریر ہوچکی ہے (الحسن۔ مجاہد۔ سعید بن جبیر) (2) اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کے بعد کسی قوم کو گمراہ نہیں کرتا۔ تاآنکہ واضح نہ کر دے ان پر کہ کس چیز سے بچنا لازمی ہے اور یہ کہ بھول اور غفلت کی وجہ سے کسی فعل کا ارتکاب موجب سرزنش نہ ہوگا۔ (ابن جریج)
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

تو جو مال غنیمت تم کو ملا ہے سے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لئے) حلال (طیب) ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(8:69) فکلوا۔ میںتسبیب کی ہے اس سے قبل سبب محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے قد ابحث لکم الغنائم فکلوا۔ (میں نے تمہارے لئے مال غنیمت حلال کردیا۔ پس اسے کھاؤ استعمال کرو) ۔ حلال طیبا۔ یہ یا تو مصدر محذوف اکلا کی صفت ہے یعنی حلال اور طیب کے طور پر استعمال میں لاؤ۔ یا یہ مما غنمتم کا حال ہے کہ مال غنیمت سے حلال اور طیب مال کھاؤ۔ استعمال کرو۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان کے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(8:70) من فی ایدیکم من الاسری۔ قیدی جو تمہارے قبضہ میں ہیں۔ مما اخذ منکم۔ ای الفدیۃ۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضہ میں کردیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔

(8:71) امکن منھم۔ اس نے قابو کر وایا۔ اس نے پکڑوایا۔ متعدی بدو مفعول۔ امکان (افعال) سے واحد مذکر غائب امکنت فلانا من فلان۔ میں نے فلاں کو فلاں پر قدرت دی اصل میں امکنک منھم (اس نے تم کو ان پر قدرت دی۔ اس میں ک ضمیر مفعول اول اور ہم ضمیر مفعول ثانی ہے۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہئے) اور خدا تمہارے (سب) کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

(8:72) او وا۔ ابواء (افعال) سے۔ ماضی۔ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے جگہ دی۔ انہوں نے پناہ دی۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے اذاوی الفتیۃ الی الکھف (18:10) جب چند نوجوانوں نے غار میں پناہ لی۔ اور وتووی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس جگہ دو یا ٹھکانا دو ۔ مالکم من ولایتھم من شیٔ۔ تو تمہارا ان سے دلایت کا کوئی تعلق نہیں ہے تم کو ان کی رفاقت سے کوئی سروکار نہیں۔ ولایت وسیع المعانی لفظ ہے اور عربی میں حمایت نصرت۔ مددگاری۔ پشتیبانی۔ دوستی۔ قرابت۔ سرپرستی اور اس سے ملتے جلتے مفہومات کے لئے بولا جاتا ہے۔ بعض نے ولایت سے وراثت مفہوم لیا ہے۔ یعنی تمہارے لئے ان کی وراثت سے کوئی چیز نہیں ہے۔ استنصروکم۔ وہ تم سے مدد چاہیں۔ استنصار (استفعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ فعلیکم۔ تم پر فرض ہے۔ تمہارے ذمہ ہے۔ جیسے کہ دوسری جگہ قرآن میں ہے۔ ثم ان علینا حسابہم (88:26) بیشک پھر ہمارا ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔ علی قوم۔ کسی قوم کے خلاف۔ قرآن میں آیا ہے : لہا ما کسبت وعلیہا ماکتسبت (2:286) ہر نفس جو نیکی کماتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے۔ اور جو بدی کماتا ہے وبال اسی کے خلاف ہے۔ اسی پر ہے۔ میثاق۔ معاہدہ ۔ عہدوپیمان۔
Ayahs 8:73–74

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

(7:73) الا تفعلوہ۔ الا اور لا سے مرکب ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ ای الا تفعلوا ما امرتکم من تو اصل المسلمین وتولی بعضہم بعضا حتی فی التوارث تفضیلا لنبۃ الاسلام علی نسبۃ القرابۃ ولم تقطعوا العلائق بینکم وبین الکفار۔ اے مسلمانو ! اگر تم باہمی مقاربت ومواصلت نہ رکھو گے اور ایک دوسرے کی مددگاری نہیں کرو گے اور دین اسلام کو نسبت کو رشتہ داری کی نسبت پر فضیلت نہ دو گے۔ اور اپنے اور کفار کے درمیان تعلقات کو منقطع نہیں کروگے تو ۔۔ الخ۔ تکن اصل میں تکون تھا۔ جواب شرط کی وجہ سے حرف آخرت پر جزم آگئی واؤ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی۔ تکن ہوگا۔ مضارع مجزوم واحد مؤنث غائب۔ کون مصدر ۔ (فتنہ برپا) ہوجائے گا۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے۔ وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کے رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

(8:75) اولو الارحام۔ اہل قرابت رشتہ دار۔ ارحام جمع رحم کی بے ۔ شکمی رشتہ دار وہ رشتے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے ساتھ متعلق ہوں۔